Baaghi TV

Author: +9251

  • پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے اعلیٰ‌سطحی وفد کی گورنرپنجاب سے ملاقات

    پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے اعلیٰ‌سطحی وفد کی گورنرپنجاب سے ملاقات

    لاہور:پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (پی ایف یوجے)کے سیکرٹری جنرل ارشد انصاری اورپنجاب یونین آف جرنلسٹس (پی یوجے )کے صدرابراہیم لکی کی قیاد ت میں14رکنی وفد کی گورنرپنجاب محمدبلیغ الرحمن سے تفصیلی ملاقات میں آزادی اظہاررائے ،آزادی صحافت کے تحفظ اورمیڈیاورکرزکے حقوق کے تحفظ وحل کیلئے تفصیلی تبادلہ خیال ہوا،وفدنے گورنرپنجاب کو11نکاتی چارٹرآف ڈیمانڈ بھی حوالے کیاجس پرگورنرپنجاب نے وفاقی حکومت کیساتھ ملکرصحافیوں کودرپیش پیشہ وارانہ مسائل سمیت مختلف امورکوحل کرنے کی یقین دہانی کرائی۔اس موقعہ سیکرٹری جنرل ارشد انصاری نے صحافیوں(میڈیاورکرز)کی ادارو ں سے چھانٹیوں،تنخواہوں میںکٹوتی سمیت مختلف امورپرتبادلہ خیال کیا،اورآئی ٹی این ای کے چیئرمین کی عدم تقرری سمیت جملہ مسائل پرگورنرپنجاب کوبریف کیا۔

     

    اس موقعہ پرگورنرپنجاب محمدبلیغ الرحمن کاکہناتھاکہ مسلم لیگ (ن)نے حکومت سنبھالتے ہی پیکاآرڈیننس اورپاکستان میڈیاڈیویلپمنٹ اتھارٹی(پی ایم ڈی اے)جیسے کالے قوانین کوختم کردیا کیونکہ ہم سمجھتے ہیں کہ ایسے قوانین میں جن میں حقیقی سٹیک ہولڈرزکے ساتھ مشاورت نہیں کی جاسکتی اس وقت تک ایسے قوانین نہیں بنائے جاسکتے ،اس لئے ہم نے ان قوانین کوفوری ختم کیا جن کے خلاف میڈیا(آپ لوگ)سٹرکوں پراحتجاج کررہے تھے،مسلم لیگ ن اوراتحادی میڈیا کے حوالے سے قوانین آ پ سے مشاورت کے بعد بنائے گی ،کیونکہ ہم میڈیا اورآزادی صحافت پرمکمل یقین رکھتے ہیںاورکامل یقین ہے کہ ریاست کے اس اہم ستون کی آزادی اظہاررائے کی آزادی کے بغیرجمہوریت نہیں پنپ سکتی ،انہوں نے اس بات کی یقین دہانی بھی کرائی کہ بہت جلد آئی ٹی این ای کے چیئرمین کاتقررعمل میں لایاجارہاہے جس پروفاقی حکومت نے کام شروع کردیاہواہے ۔

    وفد میں نعیم حنیف (نائب صدرپی ایف یوجے / بیوروچیف سماءنیوز)،ارسلان رفیق( بیوروچیف /جی ٹی وی )خواجہ نصیر(اے آروائی نیوز)،سینئرکارسپانڈنٹ کاشف سلیمان(نیونیوز)،اخلاق احمدباجوہ(دنیانیوز/صدرپنجاب اسمبلی پریس گیلری کمیٹی)،سینئرصحافی جاوید فاروقی(سابق سینئرنائب صدرلاہورپریس کلب/جی این این )،افضال طالب(ایکسپریس نیوز/سابق صدرپنجاب اسمبلی پریس گیلری کمیٹی)،سالک نواز(جوائنٹ سیکرٹری لاہورپریس کلب/نیوزون)،پرویزالطاف (سینئرفوٹوجرنلسٹ)،عمران شیخ(نئی بات میڈیا گروپ /سینئرفوٹوگرافر)،وحید بٹ(صدرپاکستان الیکٹرانک کیمرہ مین ایسوسی ایشن)،خاوربیگ (جنرل سیکرٹری پی یوجے/پنجاب ٹی وی) شامل تھے۔ملاقات کے آخرمیں پنجاب یونین آف جرنلسٹس کے صدرابراہیم لکی اورجنرل سیکرٹری خاورنے گورنرپنجاب کوصحافیوں کے مسائل کے حل کے حوالے سے گیارہ نکاتی چارٹرآف ڈیمانڈ حوالے کیا۔جس پرانہوں نے ہمدردانہ غورکرکے وفاق کوبجھوانے اوراس کا فالواپ رکھنے کی یقین دہانی کرائی۔

  • الیکشن کمیشن کا فیصلہ آنے کے بعد عمران خان کیخلاف کارروائی ہو گی. حنیف عباسی

    الیکشن کمیشن کا فیصلہ آنے کے بعد عمران خان کیخلاف کارروائی ہو گی. حنیف عباسی

    مسلم لیگ ن کے رہنما حنیف عباسی نے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن کا فیصلہ آنے کے بعد عمران خان کے خلاف کارروائی ہو گی۔

    مسلم لیگ ن کے رہنما حنیف عباسی نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان اوورسیز کے سامنے بے نقاب ہو گئے ہیں وہ کل رات بھولے بنے ہوئے تھے اور صدر مملکت عارف علوی فوری طور پر مستعفیٰ ہو جائیں۔

    انہوں نے کہا کہ وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کو پی ٹی آئی رہنما اسد عمر، پرویز خٹک اور دیگر کے خلاف تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ عمران خان نے خیرات کا پیسہ ذاتی مفاد کے لیے استعمال کیا وہ سب سے بڑا چور ڈاکو ثابت ہو چکا ہے۔

    حنیف عباسی نے کہا کہ عمران خان حکومت میں ہوں یا حکومت سے باہر ملک کے لیے زہر قاتل ہیں جبکہ حکومت نے تحریک انصاف کے 13 بے نامی اکاؤنٹس کی تحقیقات کا فیصلہ کیا ہے اور الیکشن کمیشن کا فیصلہ آنے کے بعد عمران خان کے خلاف کارروائی ہو گی۔

    انہوں ںے کہا کہ ہم نے 2017 میں کہا تھا کہ عمران خان جھوٹا ہے۔ عمران خان ملکی معیشت اور جغرافیہ کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے جبکہ عمران خان نعیم الحق اور ڈاکٹر قدیر خان جیسی شخصیات کے جنازے پر بھی نہیں گئے۔

    رہنما مسلم لیگ ن حنیف عباسی نے کہا کہ عمران خان سیلاب کے دوران شہید ہونے والے جوانوں کے جنازے پر بھی نہیں گئے جبکہ الیکشن کمیشن کا فیصلہ آنے کے بعد ثابت ہو گیا کہ عمران خان صادق اور امین نہیں ہیں۔

  • تھر:آسمانی بجلی گرنےسے100سےزائدبکریاں           ہلاک:وائٹ ہاوس پربھی آسمانی بجلی گرگئی

    تھر:آسمانی بجلی گرنےسے100سےزائدبکریاں ہلاک:وائٹ ہاوس پربھی آسمانی بجلی گرگئی

    تھر:ضلع تھر کی تحصیل اسلام کوٹ اورگردونواح میں گرج چمک کے ساتھ موسلادھار بارش کا سلسلہ جاری ہے۔ان علاقوں کے 2 گاؤں میں آسمانی بجلی گرنے سے100 سے زائد بکریاں ہلاک ہوگئیں۔

    علاقہ انتظامیہ کےمطابق سلام کوٹ کے نواہی گاؤں میہاری ہنگورجہ میں آسمانی بجلی گرنے سے 100 سے زائد بکریاں ہلاک ہوگئی۔

    بہن کو بجلی کا کرنٹ لگا کرہلاک کردیا:آسمانی بجلی گرنے سے دو افراد جاں بحق

    اسلام کوٹ کے نواہی گاؤں ہمیرجی ڈھانی میں آسمانی بجلی گرنے کے واقعے میں 6 بکریاں ہلاک ہوگئیں۔آسمانی بجلی گرنے کےدیگر واقعات میں نواہی گاؤں موڑانو سمیت دیگر دیہاتوں میں مالی نقصان کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں۔

    محکمہ موسمیات نے آج سے تھر میں مزید بارش کی پیشگوئی کی ہے۔

    ڈیرہ : کوہ سلیمان میں آسمانی بجلی گرنے سے ایک شخص جاں بحق 5افرادزخمی

     

     

    ادھرامریکی حکام کا کہنا ہے کہ وائٹ ہاؤس کے قریب بجلی گرنے سے چار افراد کی حالت کی تشویشناک ہے۔
    فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق جمعرات کو واشنگٹن کے فائر اینڈ ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ وائٹ ہاؤس کے ایک قریبی پارک میں آسمانی بجلی گرنے سے دو مرد اور دو خواتین شدید زخمی ہوئے ہیں۔

    سوشل میڈیا پر شیئر ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ جائے وقوعہ پر متعدد ایمبولینسز اور ایک فائر بریگیڈ کی ایک گاڑی موجود تھی۔جمعرات کی شام کو واشنگٹن میں گرج چمک کے ساتھ شدید طوفانی بارشیں ہوئیں۔

    واشنگٹن کے فائر اینڈ ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ کے ترجمان ویتو میگیئلو نے کہا ہے کہ وائٹ ہاؤس کے سیکرٹ سروس کے افسران اور پارک پولیس نے ان کو طبی امداد فراہم کرنے کے لیے ایمرجنسی سروس سے رابطہ کیا۔’ان کو فوراً طبی امداد فراہم کی گئی اور قریبی ہسپتال پہنچایا گیا۔‘

    آسمانی بجلی گرنے سے 34 افراد ہلاک

    انہوں نے کہا کہ یہ واضح نہیں کہ آیا یہ چاروں افراد ایک دوسرے کو جانتے تھے یا نہیں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ جب آسمانی بجلی گری تو یہ چار افراد ایک درخت کے قریب کھڑے تھے۔’جب بادل اور آسمانی بجلی گرج رہے ہوں تو بہتر یہی ہوتا ہے درختوں سے دور رہیں اور گھر کے اندر رہیں۔ اور یہ ہی اصول ہے۔‘

  • انٹر بنک میں ڈالر  مزید دو روپے سستا ہوگیا

    انٹر بنک میں ڈالر مزید دو روپے سستا ہوگیا

    ڈالر کی قدر میں کمی کا رجحان برقرار ہے، آج انٹربینک میں ڈالر کی قیمت مزید دو روپے کمی کے ساتھ 224 روپے کی سطح پر آگئی۔

    ڈالر کی قدر میں گراوٹ کا تسلسل کئی روز سے برقرار ہے، آج بھی ڈالر کی قدر میں مزید کمی ہوئی اور اس کے مقابلے میں روپے کی قدر مضبوط ہوئی۔

    جمعہ کو انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر کی قدر دو روپے 11 پیسے کی کمی سے 224 روپے چار پیسے کی سطح پر بند ہوئی، اسی طرح اوپن مارکیٹ نرخ بھی کم ہوئے۔

    انٹربینک مارکیٹ میں کاروباری دورانیے میں ڈالر کی قدر اتار چڑھاؤ کا شکار رہی اور ایک موقع پر 2 روپے 80 پیسے کی کمی سے 226 روپے کی سطح پر بھی آگئی تھی تاہم اختتامی لمحات میں ڈیمانڈ قدرے بڑھنے ڈالر کے انٹربینک ریٹ 2.65 روپے کی کمی سے 226.15 روپے کی سطح پر بند ہوئے۔

    اسی طرح اوپن کرنسی مارکیٹ میں بھی ڈیمانڈ نہ ہونے کے سبب ڈالر کی قدر 3 روپے کی کمی سے 226 روپے پر بند ہوئی۔


    ڈالر کی قدر میں کمی کی وجوہات

    واضح رہے کہ بحیثیت ریگولیٹر مرکزی بینک نے ایکس چینج کمپنیوں اور بینکوں کی زرمبادلہ کی سرگرمیوں کی نگرانی سخت کردی ہے اور متعدد ایکس چینج کمپنیوں و بینکوں کے فارن ایکس چینج آپریشنز کا معائنہ کرکے خلاف ورزی کے مرتکب شاخوں کی سرگرمیاں بھی معطل کی ہیں جس کے سبب زرمبادلہ کی دونوں مارکیٹوں میں منفی افواہیں پھیلا کر کی جانے والی سٹہ بازی رک گئی اور ڈالر کے مقابلے میں روپیہ مزید تگڑا ہوگیا۔

    اسٹیٹ بینک حکام کا یہ بھی کہنا ہے کہ تمام مطلوبہ شرائط پورے ہونے کے بعد رواں ماہ کے تیسرے ہفتے میں آئی ایم ایف کی جانب سے قرض پروگرام کی منظوری مل جائے گی اور جاری معاشی حکمت عملی کی بدولت آئندہ دو سے تین ماہ میں ڈالر کم ہوکر اپنے حقیقی قدر پر آجائے گا۔

    مارکیٹ ذرائع کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں ڈالر کی قدر میں مزید کمی کے خدشات کے پیش نظر وہ برآمد کنندگان جنہوں نے اپنی زرمبادلہ کی برآمدنی ہولڈ کی ہوئی تھیں وہ اب مارکیٹ میں بھنانے کو ترجیح دے رہے ہیں جس سے مارکیٹ میں زرمبادلہ کی سپلائی بڑھ گئی ہے اور روپیہ کی قدر مستحکم ہوتی جارہی ہے۔

    تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سیاسی ماحول اگر سازگار رہے اور عالمی مارکیٹ میں خام تیل سمیت دیگر کموڈٹیز کی قیمتوں میں کمی ہو تو ڈالر کی قدر مستقبل میں بھی قابو میں رہ سکتی ہے۔

    دوسری جانب ایکس چینج ایسوسی ایشن کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ حکومت پہلے عوام میں اپنا اعتماد پیدا کرے اور پھر ملک میں غیر دستاویزی ڈالر کو دستاویزی بنانے کے لیے روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ کی طرز پر 8 فیصد شرح منافع کے ساتھ لوگوں کو ڈالرز اپنے بینک کھاتوں میں جمع کرانے کی ترغیبی اسکیم متعارف کرائے تو اربوں ڈالرز بینکاری نظام میں داخل ہوسکتے ہیں جس سے سپلائی میں نمایاں اضافے سے ڈالر بڑی نوعیت کی قلابازیاں کھاسکتا ہے۔

  • کراچی سےاندرون ملک جانےوالی ٹرینوں کے    اوقات کارتبدیل:مزیدبارشوں کی خبربھی آگئی

    کراچی سےاندرون ملک جانےوالی ٹرینوں کے اوقات کارتبدیل:مزیدبارشوں کی خبربھی آگئی

    کراچی:کراچی سے اندرون ملک جانے والی ٹرینوں کےاوقات کار تبدیل:مزید بارشوں کی خبربھی آگئی ،اطلاعات کے مطابق بارشوں اور سیلاب کی وجہ سے پاکستان ریلوے نے جمعہ کو کراچی سے اندرون ملک جانے والی ٹرینوں کے اوقات کار تبدیل کردئیے۔

    یہ بھی معلوم ہواہے کہ کہ اسی حوالے سے پاکستان ریلوے کی جانب سے بتایا گیا کہ خراب موسم ٹرینوں کی آمدورفت میں تاخیر کا باعث ہے۔ترجمان پاکستان ریلوے کی جانب سے بتایا گیا کہ 33اپ پاک بزنس ایکسپریس شام 4 بجے کے بجائے شام 06:30 پر روانہ ہونگی۔

    کراچی میں بارشی پانی نکالنے کے لئے ٹریکٹر ٹرالی کا استعمال,ویڈیو وائرل

    کراچی سے 43اپ شاہ حسین ایکسپرس شام 07:00 بجے کے بجائے رات 11:30 بجے روانہ ہوگی۔ کراچی سے 145اپ سکھرایکسپریس رات 11:00 کے بجائے رات 12:30 پرروانہ ہوگی۔

    ترجمان کی جانب سے وضاحت کی گئی کہ کراچی سے بقیہ تمام ٹرینیں اپنے مقررہ وقت پرروانہ ہونگیں۔

    دوسری طرف ایک بار پھر کراچی میں بارشوں کی خبر نے کراچی والوں کےدل کرچی کرچی کردیئے ہیں ، لوگ خوفزدہ ہیں اور ان کو کچھ سمجھ نہیں آرہی کہ وہ اب کیا کریں گے

    محکمہ موسمیات کے مطابق اسلام آباد، پنجاب ، سندھ اور بلوچستان سمیت ملک بھر میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے۔ بارش کا یہ سلسلہ 13 اگست تک جاری رہے گا۔

    اس دوران سندھ اور بلوچستان کے نشیبی علاقے زیر آب آنے کا خدشہ ہے، جب کہ بارشوں سے دریائے جہلم اور ملحقہ نالوں میں بہاؤ تیز ہوگا۔

    میٹ آفس کی جانب سے گلگت بلتستان، خیبر پختونخوا اور کشمیر میں لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ بھی ظاہر کیا گیا ہے، جس کیلئے متعلقہ حکام کو الرٹ جاری کردیا۔

    کراچی / سندھ

    محکمہ موسمیات کی رپورٹ کے مطابق مون سون سسٹم آج بروز جمعہ 5 اگست سے سندھ پر اثرانداز ہو سکتا ہے، اس دوران ٹھٹھہ، بدین، سجاول، عمرکوٹ اور تھرپارکر میں تیز بارشوں کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ کراچی پر ایک نہیں دو سسٹم مزید بارشیں لارہے ہیں، ہفتے کو شروع ہونے والا نیا سلسلہ 9 اگست تک کہیں درمیانی کہیں تیز بارشوں کا باعث بنے گا، پھر 11سے 15اگست تک دوبارہ بارشوں کا سلسلہ شروع ہوگا۔

    کے الیکٹرک کا پاور پلانٹ بن قاسم تھری کا گیس ٹربائن دھماکے سے تباہ،

    محکمہ موسمیات کی جانب سے 6 اگست سے لے کر 10 اگست تک لسبیلہ کے مختلف مقامات پر بھی بارش کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ سیلاب متاثرین کو ندی نالوں سے دور منتقل ہونے کی ہدایت کی گئی ہے۔

     

    پنجاب

    دوسری جانب پنجاب میں خطہ پوٹھوہار، گوجرانوالہ، لاہور، سا ہیوال، اوکا ڑہ، سیالکوٹ، نارووال میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے۔ منڈی بہاؤالدین، میانوالی، سرگودھا، فیصل آباد، خوشاب، ملتان، رحیم یار خان، بہاولپور، بہاولنگر اور ڈیرہ غازی خان میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش متوقع ہے۔

    پنجاب، خیبرپختونخوا، کراچی سمیت مختلف علاقوں میں بارش کا امکان

    لاہور میں جمعہ 5 اگست کو موسلا دھار بارش نے جہاں گرمی کا زور توڑا، وہیں نشیبی علاقے زیر آب آگئے۔ مون سون کی بارشوں نے لاہور شہر کی اہم شاہراہ پر بڑا شگاف ڈال دیا۔

    اکبر چوک سے فیصل ٹاون تک جانے والی سڑک پر دس فٹ گہرا اور بارہ فٹ چوڑا شگاف تاحال بھرا نہ جا سکا۔ روڈ پر شگاف کے باعث ٹریفک کی روانی متاثر ہو رہی ہے۔

    بلوچستان

    بلوچستان میں ژوب، خضدار، بولان، کوہلو، قلات، لسبیلہ، آواران، زیارت، بارکھان اور اس سے ملحقہ علاقوں میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کی توقع ہے۔ بعض مقامات پر موسلادھار بارش کا امکان ہے۔ اسی طرح خیبرپختونخوا میں دیر، چترال، سوات، ایبٹ آباد، مانسہرہ، مردان، پشاور، کوہاٹ، بنوں، مالا کنڈ، خیبر اور کرم میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے۔

  • پائیدار اور بہترین معاشی ترقی کیلئے انتشار سے بچنا ہوگا. وفاقی وزیر احسن اقبال

    پائیدار اور بہترین معاشی ترقی کیلئے انتشار سے بچنا ہوگا. وفاقی وزیر احسن اقبال

    وفاقی وزیرترقی و منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت نے ملکی معیشت کو بحالی اور تعمیر کے راستے پر گامزن کر دیا ہے۔ پائیدار معاشی ترقی کیلئے انتشار سے بچنا ہوگا۔ جدید معیشت میں توانائی کا شعبہ پانی، ہوا اور خوراک کی طرح بنیادی اہمیت کا حامل ہے۔

    اسلام آباد میں وفاقی وزیرترقی ومنصوبہ بندی احسن اقبال نےمربوط انرجی پلاننگ اوریوایس ایڈ کے زیراہتمام منعقدہ تربیتی ورکشاپ سے خطاب کیا۔

    وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا کہ موجودہ مخلوط حکومت ملکی معیشت کو بحالی اور تعمیر کے راستے پر گامزن کرنے میں کامیاب ہوگئی ہے۔ معاشی ترقی کیلئے ہمیں انتشار اور عدم استحکام سے بچنا ہوگا۔

    انہوں نے کہا کہ توانائی کے بحران سے نکلنے کیلئے مستبقل کے لائحہ عمل اور پالیسیوں کو سائنسی بنیادوں پر تیار کرنا ہوگا۔ توانائی کے شعبے میں مربوط پلاننگ کا یہ منصوبہ سال 2016 میں شروع کیا گیا تھا اور اس منصوبے کے تحت مستقبل میں توانائی کے بحرانوں سے بچنے میں کامیاب ہونگے۔

    ان کا کہنا تھا کہ دنیا میں مسابقت کی جنگ کیلئے سستی اورکلین انرجی کا انتظام ضروری ہے۔

    احسن اقبال نے کہا کہ جدید معیشت میں توانائی،پانی، ہوا اور خوراک کی طرح بنیادی ضرورت ہے۔ ویژن 2025 میں توانائی، خوراک اور پانی کی سیکیورٹی کومربوط کیا گیا ہے۔پانی کو پہلے بجلی پیدا کرنے اور پھر زرعی شعبے کیلئے استعمال کیا جانا چاہئے۔

  • جوڈیشل کمیشن کے رکن اختر  حسین نے بھی چیف جسٹس کو خط لکھ دیا

    جوڈیشل کمیشن کے رکن اختر حسین نے بھی چیف جسٹس کو خط لکھ دیا

    جسٹس قاضی فائز عیسی کے بعد جوڈیشل کمیشن کے رکن نے بھی چیف جسٹس کو خط لکھ دیا ہے۔

    سپریم کورٹ میں ججز تقرری سے متعلق جوڈیشل کمیشن اجلاس کے معاملے پر ممبر جوڈیشل کمیشن ایڈووکیٹ اختر حسین نے بھی چیف جسٹس کو خط لکھ دیا ہے۔

    ایڈووکیٹ اختر حسین نے خط میں لکھا کہ جوڈیشل کمیشن رولز میں ترمیم لازمی ہیں اور سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج کی سربراہی میں کمیٹی 4 ہفتے میں جوڈیشل کمیشن رولز میں ترمیم کرے۔

    انہوں نے لکھا کہ 28 جولائی کے اجلاس کی آڈیو ریکارڈنگ اور منٹس پبلک نہیں کیے جانے چاہیے تھے اور جوڈیشل کمیشن کے ممبران میں ذاتی اختلاف کی خبریں تشویشناک ہیں۔

    خط میں لکھا کہ چیف جسٹس کی ذمہ داری ہے کہ تمام ممبران کے تحفظات کو دور کریں۔ جسٹس قاضی فائز عیسٰی، جسٹس سردار طارق، جسٹس سجاد علی شاہ اور اٹارنی جنرل کے خطوط پڑھے، اقلیتی ممبران کے کہنے پر جوڈیشل کمیشن اجلاس ختم نہیں کرنا چاہیے۔

    اختر حسین ایڈووکیٹ نے کہا کہ جوڈیشل کمیشن کے تمام ممبران کی مشاورت سے اجلاس میں فیصلے ہونے چاہئیں۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے ججز تقرری سے متعلق جوڈیشل کمیشن کے اجلاس پر چیف جسٹس کو خط لکھا تھا۔

    جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے 28 جولائی کو ہونے والے جوڈیشل کمیشن اجلاس پر اعتراض اٹھایا تھا.

    جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے خط میں لکھا تھا کہ: بیرون ملک چھٹیوں پر ہوں،جوڈیشل کمیشن کا کوئی اجلاس شیڈول نہیں تھا،میرے بیرون ملک جانے کے بعد جوڈیشل کمیشن کے 2 اجلاس بلائے گئے،جبکہ میری غیر موجودگی میں جوڈیشل کمیشن کا تیسرا اجلاس 28 جولائی کو بلا لیا گیا۔

    خط میں لکھا گیا تھا کہ جوڈیشل کمیشن کا اجلاس موخر کیا جائے،سپریم کورٹ میں ججز کی تعیناتی سے پہلے مل بیٹھ کر طے کرنا ہوگا کہ آگے کیسے بڑھنا ہے۔

    جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے خط میں لکھا: ہائی کورٹ کے چیف جسٹس،ججز کو بائی پاس کرنے سے پہلے نامزدگی کے طریقہ کار کو زیر غور لایا جائے،سپریم کورٹ کا سینئر ترین جج ججز کی نامزدگی کا طریقہ کار طے کرنے میں ناکام رہا،چیف جسٹس کی طرف سے ججز کی تعیناتی کے معاملے پر جلد بازی سوالیہ نشان ہے۔ چیف جسٹس چاہتے ہیں2347 دستاویز کا ایک ہفتے میں جائزہ لیا جائے،

    جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے خط میں لکھا تھا کہ دستاویزات ابھی تک مجھے فراہم ہی نہیں کی گئیں،واٹس ایپ کے ذریعے یہ ہزاروں دستاویزات مجھے بھیجنے کی کوشش کی گئی۔ واٹس ایپ پر مجھے صرف 14 صفحات تک رسائی ملی جو پڑھے نہیں جا سکتے،یہ دستاویزات مجھے کورئیر کیے گئے نہ سفارتخانے کے ذریعے بھجوائے گئے۔

  • کراچی:گارڈن پولیس ہیڈ کوارٹرمیں مزید دستی بم برآمد

    کراچی:گارڈن پولیس ہیڈ کوارٹرمیں مزید دستی بم برآمد

    کراچی:گارڈن پولیس ہیڈ کوارٹر میں اسلحہ خانے کے باہر ہونے والے دھماکے پر نیارخ اختیار کرگیا ہے جبکہ تحقیقات کے دوران تفتیش کاروں کو وہاں مزید دستی بم ملے ہیں ،تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ اس ہیڈ کوارٹر سے پائے گئے تمام بم پاکستان آرڈیننس فیکٹری کے بنے ہوئے ہیں، ان بموں میں کوئی بھی روسی ساختہ نہیں ہے۔

    رپورٹ کے مطابق کراچی مین‌ بدھ کے روز گارڈن پولیس ہیڈ کوارٹر میں پولیس اسلحہ خانے کے باہر ہونے والے دستی بم کے دھماکا پر نیارخ اختیار کرگیا ہے جبکہ تحقیقات کے دوران تفتیش کاروں کو وہاں سے 68 مزید دستی بم ملے ہیں لیکن پائے گئے

    لاہورمجرموں کی آماجگاہ بن گیا:سنگین نوعیت کے جرائم کے اعداد و شمار

    دوسری طرف اس حوالے سے مزید معلوم ہوا ہے کہ پولیس نے دعویٰ کیا کہ اسلحہ خانے میں رکھے گئے دستی بم صوبے کے کچے کے علاقوں میں موجود دہشت گردوں، جرائم پیشہ افراد اور اغوا کاروں کے خلاف لڑنے کے لیے تھے لیکن اس بارے میں کوئی وضاحت نہیں کی گئی کہ روسی ساختہ 2 دستی بم وہاں کیسے پہنچے جن میں سے ایک بدھ کے روز پھٹ گیا تھا-

    لاہور جنسی جرائم کی آماجگاہ بن گیا، ایک اور خاتون کے ساتھ رکشہ ڈرائیور کی زیادتی

    بدھ کی صبح پولیس ہیڈکوارٹرز میں دستی بم پھٹنے کے نتیجے میں میں 2 پولیس اہلکار جاں بحق اور 2 شدید زخمی ہوگئے تھے۔دستی بم دھماکا اسلحہ خانے میں انسپیکشن کے دوران ہوا جس کے نتیجے میں پولیس کانسٹیبل شہزاد اور صابر شہد ہوگئے جبکہ سینیئر انسپکٹر سعید اور پولیس کانسٹیبل علی گوہر زخمی ہوئے تھے۔

    لاہور میں جرائم بڑھنے لگے، معروف تجارتی سنٹر میں چوری کی واردات

    ڈی آئی جی جنوبی شرجیل کھرل کا کہنا تھا کہ یہ جاننےکےلیےانکوائری جاری ہےکہ یہ واقعہ کیسے پیش آیا۔انہوں نے کہا کہ دھماکے کے حقائق جاننے اور معاملے کی انکوائری کرنے کے لیے خصوصی ٹیم تشکیل دی گئی ہے۔

  • انسٹاگرام پر عمران اشرف کے تین ملین فالورز

    انسٹاگرام پر عمران اشرف کے تین ملین فالورز

    ہمایوں سعید کے ساتھ ڈرامہ سیریل ”دل لگی” میں ایک چھوٹا مگر یاد رہ جانے والا کردار کرنے والے عمران اشرف کے بارے میں کون سوچ سکتا تھا کہ یہ لڑکا کل کو سپر سٹار بن جائیگا. ڈرامہ سیریل رانجھا رانجھا کردی میں بھولے کے کردار نے انہیں شہرت کی ایسی بلندیوں پر پہنچایا کہ جس کا صرف نئے آنے والے لوگ خواب ہی دیکھ سکتے ہیں. اس کے بعد ڈرامہ سیریل رقص بسمل نے بھی انہیں خوب شہرت دی عمران اشرف ہر کسی کے فیورٹ اداکار بن گئے. رواں برس ان کی پہلی فلم دم مستم بھی ریلیز ہوئی. عمران اشرف باصلاحیت اداکار ہونے کے ساتھ ساتھ ایک بہترین انسان بھی ہیں انہوں نے زیرو سے کام شروع کیا

    اور بغیر کسی سفارش کے اپنا نام بنایا. عمران اشرف سوشل میڈیا پر کافی متحرک رہتے ہیں اور اکثر کچھ نہ کچھ شاعری کے انداز میں لکھتے لکھاتے بھی رہتے ہیں. ٹویٹر پر بھی ان کے فالورز کی تعداد کافی زیادہ ہے اسی طرح‌سے ان کی انسٹاگرام پر بھی فالورز اور مداحوں کی تعداد تین ملین ہو گئی ہے اس موقع پر عمران اشرف نے ایک پوسٹ شئیر کرکے اپنے فالورز کا شکریہ ادا کیا اور لکھا کہ ” زیرو سے تین ملین تک ” .اداکار نے کہا کہ میں اپنے مداحوں کو کبھی بھی مایوس نہیں ہونے دوں گا اور ایسے کردار کروں گا جو ان کو یاد رہ جائیں.

  • افریقہ سے پاکستان   منتقل ہوئیں تو ماتھیرا کن حالات میں تھیں ؟

    افریقہ سے پاکستان منتقل ہوئیں تو ماتھیرا کن حالات میں تھیں ؟

    متھیرا کا شمار پاکستان کی بولڈ اداکارائوں اور ماڈلز میں ہوتا ہے. انہوں‌ نے بہت کم کام کیا ہے لیکن اسکے باوجود ان کے نام کے چرچے ہیں اور لوگ جانتے ہیں‌کہ متھیرا کون ہے. متھیرا کافی عرصے سے سکرین سے غائب رہی ہیں یہاں تک کہ وہ نہ کسی انٹرویو میں نظر آئیں نہ ہی کسی فلمی پارٹی میں دیکھی گئیں. متھیرا نے حال ہی میں ایک پروگرام میں بات کرتے ہوئے کہا کہ جب وہ زمبابوے سے پاکستان آئیں تھیں تو یہاں ان کے پاس کھانے پینے کے لئے کچھ نہیں تھا. انہوں نے بتایا کہ میں نے
    بہت مشکل وقت دیکھا، میرے پاس کچھ بھی نہیں تھا نہ ہی وسائل تھے. دور دور تک اندازہ نہیں تھا کہ آنے والا کل روشن ہو

    گا، مایوسیوں‌میں خوشی اور آس کی ایک کرن نظر آئی جب ایک نجی ٹی وی پر کام ملا وہاں سے اچھے دنوں‌کا آغاز ہوا اور دیکھتے ہی دیکھتے میں شہرت کی بلندیوں پر پہنچ گئی. متھیرا نے اس گفتگو میں پارٹیاں منعقد کئے جانے پر کھل کر تنقید کی انہوں نے کہا کہ نوجوان نسل کی تباہی کا باعث ہی یہ پارٹیاں ہیں ان پارٹیوں میں لوگ نشہ تک کرتے ہیں ان کو نہیں‌پتہ ہوتا کہ وہ کس سے کیا بات کررہے ہیں اور نوجوان نسل ایسی پارٹیوں سے برا اثر لے سکتی ہے لہذا نوجوان نسل کو ان پارٹیوں سے بالکل دور رہنا چاہیے.یاد رہے کہ متھیرا نے ہمایوں سعید کی فلم میں ہوں شاہد آفریدی میں ایک بولڈ آئٹم سانگ بھی کیا تھا.