Baaghi TV

Author: +9251

  • یوم شہداء پولیس: جانیں قربان کرنے والے پولیس  کے نوجوانوں کو خراج عقیدت پیش کرتا ہوں. صدر پاکستان

    یوم شہداء پولیس: جانیں قربان کرنے والے پولیس کے نوجوانوں کو خراج عقیدت پیش کرتا ہوں. صدر پاکستان

    صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کا یومِ شہدائے پولیس کے موقع پر پیغاممیں کہنا تھا کہ ملک کی داخلی سلامتی کی خاطر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے پاکستان پولیس کے بہادر جوانوں اور افسران کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں.

    صدر پاکستان عارف علوی نے کہا: پاکستان پولیس نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہراول دستے کا کردار ادا کیا، فرض کی ادائیگی کے دوران پاکستان پولیس کے بےشمار جوانوں نے جام شہادت نوش کیا.
    انہوں نے مزید کہا: آج کے دن ہم پولیس کے تمام شہداء کو سلام پیش کرتے ہیں اور اس عزم کا اظہار کرتے ہیں کہ قوم اپنے ان محسنوں کی لازوال قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھے گی.

    صدر پاکستان نے کہا: پولیس کے جوان محدود وسائل اور نامساعد حالات کے باوجود قوم کی خدمت میں مصروف عمل رہتے ہیں، پولیس جوان جرائم پیشہ افراد کی سرکوبی کیلئے ہمہ وقت کوشاں رہتے ہیں.

    صدر مملکت کے مطابق: ملک کی اندرونی سلامتی، امن و امان یقینی بنانے اور سماج دشمن عناصر کی روک تھام میں پولیس کا کلیدی کردار ہے، پاکستان کو مثالی اسلامی فلاحی ریاست بنانے کیلئے ہمیں ملک بھر میں امن و امان، انسانی حقوق کی فراہمی کو یقینی بنانا ہوگا، ولیس کے جوان دیانت داری ، فرض شناسی ، عوامی خدمت اور انسانی وقار کے اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ملک و قوم کی خدمت جاری رکھیں.

    دوسری جانب وزیراعلی پنجاب چودھری پرویز الٰہی نے یوم شہدائے پولیس بارے اپنے پیغام میں کہا: وطن عزیز پر اپنی قیمتی جانیں نچھاور کرنے والے پولیس شہداء کو سلام پیش کرتے ہیں.

    انہوں نے کہا: پنجاب پولیس کے شہداء نے عوام کے جان و مال کے تحفظ کیلئے اپنی زندگیوں کی قربانی دیکر ایک تاریخ رقم کی ہے، پولیس شہداء کے اہل خانہ کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں.

    الہی نے مزید کہا: پولیس شہداء کے اہل خانہ کی دیکھ بھال ہماری ذمہ داری بھی ہے اور فرض بھی، پنجاب حکومت شہداء کے خاندانوں کی ویلفیئر کے لیے تمام تر وسائل بروئے کار لا تی رہے گی۔

    وزیر اعلی نےکہا: شہدائے پولیس کے خاندانوں کے ساتھ ہر موقع پر کھڑے رہیں گے، یوم شہدائے پولیس بہادر سپوتوں کی عظیم قربانیوں کو یاد کرنے کا دن ہے.

    وزیر اعلی پرویز الہی نے کہا: شہید ہونے والے پولیس افسروں اورجوانوں کی عظیم قربانی کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں، پولیس کے شہداء ہمیشہ ہمارے دلوں میں زندہ رہیں گے۔

  • کرن جو ہر نے عامر خان کو بورنگ کیوں کہا؟‌

    کرن جو ہر نے عامر خان کو بورنگ کیوں کہا؟‌

    عامر خان اور کرینہ کپور نے حال ہی میں‌ کافی ود کرن میں شرکت کی ہے اس شو میں عامر خان نے کافی سوالوں‌ کے جوابات دئیے. اس شو میں کرن جوہر نے عامر خان کو بورنگ اور پارٹی پوپر کہہ دیا دیا لیکن عامر خان نے اس کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ میں بالکل بورنگ نہیں‌ہوں نہ ہی پارٹی پوپر ہوں. عامر خان نے کرن جوہر کی 50 ویں سالگرہ کی بات کی اور شکایت کی کہ پارٹیوں میں اونچی آواز میں‌میوزک لگاہوتا ہے اتنے اونچے میوزک میں‌نہ کوئی بات کر سکتا ہے نہ ہی کسی کی سنی جا سکتی ہے. مسٹر پرفیکشنسٹ نے مزید کہا کہ کرن جوہر کی سالگرہ کی تقریب میں ڈانس فلور پر بمشکل 10 لوگ موجود تھے جب کہ باقی سب ایک دوسرے سے باتوں میں مصروف تھے۔ کرینہ عامر خان کی اس بات پر بولیں اور کہا

    کہ پارٹیوں میں ڈانس عام طور پر 2 بجے کے بعد شروع ہوتا ہے لیکن عامر خان پھر بھی اپنی بات پر ڈٹے رہے اور کہا کہ پارٹیوں میں اس طرح کے اونچی آواز میں موسیقی کی ضرورت نہیں ہے. یاد رہے کہ عامر خان کی فلم لال سنگھ چڈھا 11 اگست کو ریلیز ہونے جا رہی ہے اس سلسلے میں‌کرینہ کپور اور عامر خان پرموشنز کررہے ہیں. فلم دیکھنے کےلئے عامر خان نے ٹام ہینکس کو ایک خط بھی لکھا ہے ابھی تک ٹام ہینکس کی طرف فلم دیکھنے کی بات نہیں‌کی گئی.

  • شجاعت گروپ نے پی ٹی آئی کا ساتھ دینے والے ق لیگی اراکین سے رابطے شروع کردئیے

    شجاعت گروپ نے پی ٹی آئی کا ساتھ دینے والے ق لیگی اراکین سے رابطے شروع کردئیے

    چوہدری شجاعت گروپ نے عمران خان کی جماعت تحریک انصاف کا ساتھ دینے والے ق لیگ کے اراکین اسمبلی سے رابطے شروع کردئیے ہیں۔

    نجی ٹی وی کے مطابق چیئرمین عمران خان نے پنجاب میں 18 رکنی کابینہ کی منظوری دی تھی جس میں حیرت انگیز طور پر ایک بھی رکن ق لیگ کا شامل نہیں تھا۔

    اس سے قبل عثمان بزدار کی کابینہ میں ق لیگ کے دو اراکین شامل تھے لیکن موجودہ کابینہ میں صرف پی ٹی آئی کے اراکین اسمبلی شامل ہیں۔

    کابینہ کی تشکیل کے بعد چوہدری شجاعت کیمپ نے عمران خان کا ساتھ دینے والے ق لیگ کے دس اراکین صوبائی اسمبلی سے رابطہ کرکے انہیں واپس آنے کا پیغام دیا ہے۔

    چوہدری شجاعت کیمپ نے پیغام دیا کہ آصف علی زرداری اور ن لیگ کیساتھ اب بھی بیٹھا جاسکتا ہے، اور ناصرف حکومت بنے گی بلکہ وزارتیں بھی ملیں گی۔

    واضح رہے کہ چوہدری شجاعت نے حمزہ شہباز کو ووٹ دینے کا حکم دیا تھا تاہم ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی دوست محمد مزاری نے مسلم لیگ (ق) کے 10 اراکین اسمبلی کے ووٹ مسترد کر دیے تھے۔

    گنتی کا عمل مکمل ہونے کے بعد دوست محمد مزاری نے چوہدری شجاعت حسین کا خط پڑھ کر سنایا جس میں مسلم لیگ (ق) کے صدر نے پارٹی اراکین کو حمزہ شہباز کو ووٹ کاسٹ کرنے کا حکم دیا تھا۔

    ڈپٹی اسپیکر نے موقف اختیار کیا تھا کہ آئین کے آرٹیکل تریسٹھ اور سپریم کورٹ کے احکامات کے بعد مسلم لیگ (ق) کے اراکین کے ووٹ شمار نہیں کیے جائیں گے۔

    تاہم یہ معاملہ عدالت چلا گیا جس کے بعد عدالت نے چودھری پرویز الہی کے حق میں فیصلہ دیتے ہوئے انہیں وزارت اعلی چارج لینے کا حکم دیا تھا جس کے بعد چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے پنجاب میں 18 رکنی کابینہ کی منظوری دی تھی جس میں حیرت انگیز طور پر ق لیگ کا کوئی رکن اسمبلی شامل نہیں ہے.

  • شمعون عباسی نے خلیل الرحمان قمر کی فلم کس کردار کی وجہ سے رد کی؟

    شمعون عباسی نے خلیل الرحمان قمر کی فلم کس کردار کی وجہ سے رد کی؟

    اداکارشمعون عباسی جو من موجی اداکار ہیں دل کرے تو کام کر لیتے ہیں نہ دل کرے تو مہینوں ایسے ہی بیٹھے رہتے ہیں. شمعون عباسی زیادہ شوبز پارٹیوں میں‌نظر نہیں‌آتے نہ ہی وہ اب زیادہ سوشل ہیں‌یہاں‌تک کہ ڈراموں‌میں بھی کم ہی نظر آرہے ہیں. انہو‌ں‌نے حال ہی میں دئیے گئے ایک انٹرویو میں‌بتایا کہ کیوں‌انہیں‌خلیل الرحمان قمر کی فلم چھوڑنا پڑی. انہوں‌نے کہا کہ مجھے جو اس فلم میں‌کردار دیا جا رہا تھا وہ بھارتی پائلٹ ابھینندن کا تھا جسے میں‌کسی صورت نہیں‌کرنا چاہتا تھا اس لئے میں‌نے معذرت کر لی. یاد رہے کہ شمعون عباسی نہ صرف اداکار ہیں بلکہ ڈائریکٹر بھی ہیں انہوں‌نے درج کے نام سے ایک فلم بنائی جو بعض وجوہات کی بنا پر

    ریلیز کے حوالے سے تاخیر کا شکار رہی. شمعون عباسی آج کل ڈرامہ سیریل بختاور کی شوٹنگ میں‌ مصروف ہیں.شمعون کافی عرصے کے بعد کسی ڈرامے میں‌نظر آرہے ہیں. شمعون عباسی کے ساتھ اس ڈرامے میں‌ اداکار قیصر نظامانی بھی ہیں. کہا جا رہا ہے کہ شمعون عباسی کی فلم درج کو گندھارا انٹرنیشنل فلم فیسٹیول 2022 کے لئے سلیکٹ کر لیا گیا ہے اس پر اداکار کافی خوش ہیں. یاد رہے کہ شمعون عباسی ایک بہترین اداکار ہیں انہوں‌ نے زیادہ تر سنجیدہ کردار کئے ہیں‌ کامیڈی بھی کئے ہیں لیکن ان کی تعداد آٹے میں‌نمک کے برابر ہے.

  • صبا فیصل نے کِیا ایسا اعتراف جو دوسری اداکارائیں نہیں‌ کرتیں

    صبا فیصل نے کِیا ایسا اعتراف جو دوسری اداکارائیں نہیں‌ کرتیں

    پاکستان ٹیلی ویژن پر خبریں‌ پڑھتے پڑھتے اداکارہ بننے والی صبا فیصل نے حال ہی میں اداکار ساجد حسن کے شو میں شرکت کی ہے.اس میں انہوں نے کیا ہے ایک ایسا اعتراف جو دوسری ہیروینز کسی صورت نہیں‌کرتیں. اس شو میں میزبان ساجد حسن کے ایک سوال کے جواب میں اداکارہ نے کہا ہے کہ میں اپنے چہرے کو خوبصورت رکھنے کےلئے بوٹوکس سمیت جو بھی ٹریمٹنٹ لینے پڑیں لیتی ہوں اور یہ چھپانے والی بات نہیں‌ہے کیونکہ خوبصورت نظر آنا ہر کسی کا حق ہے اور اگر آپ اپنے چہرے کی خوبصورتی کے لئے ٹریٹمنٹ لیتی ہیں تو چھپانا نہیں چاہیے. ہمیں‌یہ زندگی ایک بار ملی ہے اور ہمیں‌اسے بھرپور انداز میں جیناچاہیے. صبا فیصل نے کہا کہ میں

    نے ایک ہی ڈاکٹر رکھا ہوا ہے جو لاہور میں‌ہوتا ہے مین‌چھ سات ماہ کے بعد اسکے پاس چلی جاتی ہوں اور کہتی ہوں‌ کہ جو بھی چہرے پر کرنا ہے کردیں. انہوں‌نے سننے والوں‌کو یہ بھی کہا کہ خدا کے لئے اچھے ڈاکٹرز کے پاس جائیں ورنہ معاملات خراب ہو سکتے ہیں. اداکاہ صبا فیصل نے اسی انٹرویو میں یہ بھی کہا کہ کوئی شادی ایسی نہیں ہے جس میں‌ مسائل نہ ہوں، میری شادی بھی بہت اچھی جا رہی ہے لیکن یقینا مسائل ہو ہی جاتے ہیں کبھی شوہر کو چپ کرنا پڑتا ہے اور کبھی مجھے. انہوں‌نے کہا کہ سخت ماں کا کردار کرکے میرا امیج ایسا بن گیا ہے کہ لوگ سمجھتے ہیں‌کہ میں کوئی گھر توڑنے والی ماں ہوں لیکن خیر ہے کوئی نہیں. یاد رہے کہ صبا فیصل کا بیٹا اور انکی بیٹی سعدیہ فیصل بھی شوبز میں ہیں.

  • راولپنڈی: میڑو بس میں اچانک آگ بھڑک اٹھی

    راولپنڈی: میڑو بس میں اچانک آگ بھڑک اٹھی

    راولپنڈی میں رحمان آباد اسٹیشن کے قریب میڑو بس میں اچانک آگ بھڑک اٹھی۔

    ترجمان ریسکیو اہلکاروں کے مطابق 7 فائر ٹینڈرز نے موقع پر پہنچ کر آگ بجھائی اور امدادی سرگرمیوں میں حصہ لیا، بس میں آگ لگنے کے باعث مسافر بمشکل اپنی جان بچانے میں کامیاب ہوسکے۔


    حادثے کی وجہ تاحال معلوم نہیں چل سکی ہے البتہ واقعے کے فوری بعد اسلام آباد اور راولپنڈی میں بس سروس معطل کردی گئی ہے۔

    ریسکیو اہلکاروں کا کہنا ہے کہ کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تاہم بس مکمل طور پر تباہ ہوگئی ہے۔

    میٹرو اسٹیشن پر تعینات ایک سیکورٹی اہلکار نے باغی ٹی وی کو بتایا کہ تاحال کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تاہم اس وقت مسافر انتہائی خوف زدہ ہوگئے تھے.

    انہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ فلحال بس سروس آپریشن معطل کردیا گیا ہے.

  • راکھی ساونت میڈیا کے سامنے کیوں روئیں؟

    راکھی ساونت میڈیا کے سامنے کیوں روئیں؟

    ڈرامہ کوئین راکھی ساونت ڈرامہ کرنے کا کوئی بھی موقع ہاتھ سے جانے کو جیسے کوئی گناہ سمجھتی ہیں. حال ہی میں ایک وڈیو وائرل ہو رہی ہے جس میں وہ اپنے فلیٹ سے باہر نکل رہی ہیں اور نہایت ہی افسردہ ہیں. میڈیا ان سے پوچھتا ہے کہ کیا ہوا؟ عادل آپ کے ساتھ فلرٹ کر رہا ہے تو ایسے میں راکھی ساونت رونا شروع کر دیتی ہیں اور کہتی ہیں کہ مجھے میرے بوائے فرینڈ عادل خان کی گرل فرینڈ نے کال کرکے کہا ہے کہ عادل میرے ساتھ فلرٹ‌کررہا ہے اور یہ سن کر میں کافی دکھی ہوں اور آج کا دن بہت پریشان کن ہے.یہ میرے ساتھ پہلی بار نہیں ہوا ایسا پہلے بھی کئی بار ہو چکا ہے. میں جینے کی کوشش کررہی ہوں مجھے جینے نہیں دیا جارہا . کیوں‌میرے ساتھ ہر بار ایسا ہوتا ہے. مجھے جینا ہے مجھے نہیں‌مرنا میں اپنی زندگی

    سے لطف اندوز ہونا چاہتی ہوں. لیکن عادل کی گرل فرینڈ نے جو کچھ بھی کہا ہے میں اسے سن کر بہت پریشان ہوں.میڈیا نے جب ان سے سوال کیا کہ عادل ہیں کہاں‌تو بولیں بس وہ لفٹ سے میچے ہی آرہے ہیں، عادل خان جب آئے تو راکھی کو روتا دیکھ کر پوچھا کیا ہوا تو راکھی کہنے لگیں‌کہ تمہاری گرل فرینڈ نے کہا ہے کہ تم میرے ساتھ فلرٹ کررہے ہو تو عادل بولے تم اس لڑکی سے بات ہی کیوں‌کرتی ہو ، تمہارا شوہر بھی مجھے روزانہ تمہارے خلاف بیسیوں میسج بھیجتا ہے کیا میں‌لڑنا شروع کر دوں ؟دوسروں کی خاطر اپنا رشتہ خراب نہ کرو.میں تمہارے ساتھ ہوں.

  • ارجن رامپال کے بالی وڈ انڈسٹری میں 21 سال مکمل

    ارجن رامپال کے بالی وڈ انڈسٹری میں 21 سال مکمل

    ارجن رامپال کے بالی وڈ انڈسٹری میں 21 سال مکمل ہو گئے ہیں، ورسٹائل اس اداکار نے فلم پیار عشق اور محبت سے اپنے فلمی کیرئیر کا سفر 2001 میں شروع کیا.ارجن نے آنکھیں، دل ہے تمہارا، ہاؤس فل، راج نیتی جیسی دیگر سپر ہٹ فلموں‌میں کام کیا. فلم راک آن کے لیے انہیں نیشنل ایوارڈ بھی ملا.ارجن رامپال نے صرف مثبت ہی نہیں‌منفی کردار بھی کیا شاہ رخ‌خان اور دیپیکا پاڈوکون کی فلم اوم شانتی میں انہوں‌نے منفی کردار کیا جسے بہت زیادہ سراہا گیا. اوم شانتی اوم سے لے کر را ون اور دھڑک تک، ارجن نے اپنے مداحوں کو متاثر کرنے کا کوئی موقع نہیں گنوایا۔
    بالی وڈ انڈسٹری میں 21 سال مکمل ہونے کی خوشی میں ارجن رامپال نے انسٹاگرام پر لکھا، میں اپنے پیارے بھائی اور دوست راجیو رائے کا بہت شکر گزار ہوں کہ انہوں‌نے اُس وقت مجھ

    پہ اعتماد کیا میری صلاحیتوں پر اعتماد کیا،مجھے نہیں‌معلوم کہ اگر انہوں‌نے یہ بریک نہ دیا ہوتا تو کیا ہوتا.
    اداکار نے پیار عشق اور محبت کی پوری ٹیم کو مبارکباد دی.
    یاد رہے کہ اداکاری سے پہلے ارجن رامپال ماڈلنگ کی دنیا میں دھوم مچائے ہوئے تھے وہ سپر ماڈل کہلائے جاتے تھے ایشوریا رائے بچن اور ارجن رامپال کا ایک شوٹ بہت مشہور ہے جسے ان کے مداحوں کی جانب سے بہت پذیرائی ملی یہ شوٹ اُن وقتوں میں ہوا جب دونوں اداکاری میں ابھی نہیں‌ آئے تھے. ارجن رامپال نے بعد ازاں ایشورائے کے ساتھ فلم میں کام بھی کیا.

  • 4 اگست: یومِ شہدائے پولیس کا مقصد کیا ہے؟

    4 اگست: یومِ شہدائے پولیس کا مقصد کیا ہے؟

    محافظ ہمہ وقت موت اور بے یقینی کے دروازے پر کھڑے ہوکر زندگیوں پر پہرہ دیتے ہیں۔ اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرکے وہ ملت کی تعمیر کرتے ہیں۔ ان کی قربانیوں سے عام افراد بھی روشنی لیتے ہیں۔ خدمت کا جذبہ اور دوسروں کا خیال رکھنے کا احساس پیدا ہوتا ہے۔

    ماریہ تیمور اسلام آباد میں اے آئی جی کے عہدے پر فائزہ ہیں اور وہ اپنے ایک مضمون میں لکھتی ہیں کہ نائن الیون کے بعد دہشت گردی کے خلاف جنگ کا آغاز ہوا تو اس کے اثرات پاکستانی سرحدوں سے لے کر شہری علاقوں تک پھیل گئے۔ پاکستانی قوم نے اس جنگ کے خون ریز نتائج کا سامنا کیا۔ اس جنگی صورتِ حال نے پولیس کےلیے معمول سے ہٹ کر کچھ ایسے چیلنجز پیدا کردیے جو سنگین نوعیت کے تھے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس طرح کے چیلنجز کا سامنا عام طور سے کسی بھی ملک کی پولیس کو نہیں ہوتا۔ پاکستانی پولیس افسران اور اہلکاروں نے وسائل اور تربیت کی کمی کے باوجود شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنایا۔ اس کوشش میں بے شمار پولیس افسران اور اہلکاروں کی شہادتیں ہوئی۔ ان کے اہل خانہ اور عزیز و اقارب کو بھی سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑا۔

    افغان بارڈر کے قریب ہونے کی وجہ سے اس جنگ کی سب سے بھاری قیمت خیبرپختونخوا پولیس ڈپارٹمنٹ کے سپاہیوں کو چکانی پڑی۔ عوامی اجتماعات، عبادت گاہوں، سرکاری املاک اور اداروں پر ڈیوٹی کے دوران پولیس اہلکار جانی اور مالی نقصان تو اٹھاتے ہی رہے ہیں، مگر پندرہ سال تک جاری رہنے والی اِس جنگ میں پولیس اہلکاروں اور ان کے عزیز و اقارب کو براہ راست نشانہ بنایا گیا۔ پولیس اسٹیشنوں پر بھاری اسلحے اور بارود کے ساتھ مسلسل حملے ہوئے، حفاظتی مراکز کا گھیراؤ کرکے پولیس اہلکاروں کو یرغمال بنایا گیا، مختلف ذمے داریوں پر متعین کئی پولیس افسران کا مسلسل تعاقب کیا گیا۔

    ماریہ رتیمور نے ایکسپریس میں شائع اپنے مضمون میں لکھا کہ: ایسا ہی ایک واقعہ 4 اگست 2010 کو پشاور میں ہوا، جب دہشت گردوں نے ڈیوٹی پر موجود انسپکٹر جنرل صفوت غیور کو قاتلانہ حملہ کرکے شہید کردیا۔ یہ سانحہ پولیس ڈپارٹمنٹ کےلیے غیر معمولی دھچکا ثابت ہوا۔ 2015 میں انسپکٹر جنرل خیبرپختونخوا ناصر درانی نے اسی شہادت کی مناسبت سے 4 اگست کو شہدائے پولیس کا قومی دن قرار دیا۔ اس اقدام کو پولیس کے تمام محکموں نے سراہا اور اپنے شہید ساتھیوں کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرنے کی روایت ڈالی۔

    یوم شہدائے پولیس کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ پولیس افسران اور اہلکاروں کے عزم، ارادے اور قربانیوں کو سراہا جاسکے۔ کیونکہ پولیس افسران کو روزمرہ کی ڈیوٹی میں داخلی اور بیرونی خطرات کا براہ راست سامنا رہتا ہے۔ تحقیق بتاتی ہے کہ پولیس ڈپارٹمنٹ کے ہر محکمے کو منفرد انداز کے چیلنجز کا سامنا ہے۔ انہی چیلنجز کا مقابلہ کرتے ہوئے کئی افسران کو جان سے گزرنا پڑا۔ دوسرا مقصد یہ ہے کہ قربانی دینے والے پولیس افسران اور اہلکاروں کے اہل خانہ کی عملی طور پر مدد کی جاسکے۔ اس سلسلے میں نہ صرف یہ کہ حکام کو متوجہ کیا گیا بلکہ پولیس ڈپارٹمنٹ کی اپنی تنظیموں نے بھرپور کردار ادا کرتے ہوئے شہدا کے بچوں کے سر پر محبت، شفقت اور تعاون کا ہاتھ رکھا۔

    یہ دن جہاں پولیس اہلکاروں کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کرنے کا موقع دیتا ہے، وہاں یہ اپنی کارکردگی کا جائزہ لینے کا موقع بھی فراہم کرتا ہے۔ گزشتہ ایک عشرے سے پولیس ڈپارٹمنٹ نہ صرف انتظامی امور کی روشنی میں اپنی صلاحیتوں کا جائزہ لے رہا ہے بلکہ عالمی قوانین اور معیارات کے آئینے میں بھی اپنی کارکردگی کو دیکھ رہا ہے۔

    اپنی کارکردگی کو عالمی معیار سے ہم آہنگ کرنے کےلیے مسلسل تربیتی نشستوں، مطالعاتی دوروں، تجربات کے تبادلوں کا اہتمام کیا جارہا ہے۔ قانون کی عملداری، قیدیوں کے ساتھ سلوک کےلیے متوازن رویوں، حالات پر قابو پانے کےلیے طاقت کے متناسب استعمال کو یقینی بنانے کےلیے مقامی قوانین اور بین الاقوامی قانونِ انسانیت کے بیچ مطابقت پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ بہتری کے اس سفر کو پائیدار بنانے کےلیے بین الاقوامی قانونِ انسانیت کے نگہبان ادارے انٹرنیشنل کمیٹی آف دی ریڈ کراس کے ساتھ باہمی تعاون کی بنیاد پر شراکت کا عمل جاری ہے۔ اس شراکت کے نتیجے میں تربیتی نشستوں کا اہتمام، تحریری مواد کی فراہمی، عالمی قوانین کے ماہرین اور عالمی سطح کا تجربہ رکھنے والے سینئر پولیس افسران سے استفادے کو ممکن بنایا جارہا ہے۔

    ان سرگرمیوں کے نتیجے میں نہ صرف شہریوں اور محافظوں کے بیچ اعتماد کا فقدان کم ہورہا ہے، بلکہ پولیس ادارے میں داخلی طور پر بھی استحکام پیدا ہورہا ہے۔

  • ملک بھر میں ادویات کی کمی کا بحران شدت اختیار کرنے لگا

    ملک بھر میں ادویات کی کمی کا بحران شدت اختیار کرنے لگا

    ملک بھر میں ادویات کی کمی کا بحران شدت اختیار کرنے لگا ہے۔

    پی پی ایم اے کا کہنا ہے کہ ملک میں نہ ملنے والی ادویات ملٹی نیشنل کمپنیوں کی ہیں، تھیلیسیمیا،کینسر اور ٹرانسپلانٹ کے مریضوں کے لیے ملٹی نیشنل کمپنیوں کی ادویات آنا بند ہو گئی ہیں جبکہ بیرون ملک خام مال مہنگا ہونے اور ڈالر کی قیمت بڑھنے سے ادویات کا بحران بڑھتا جا رہا ہے۔

    حکام کا کہنا ہے کہ بیرون ملک بننے والی ادویات کی درآمد پر تین فیصد ٹیکس عائد کرنے سے درآمد کم ہونا شروع ہو گئی ہے۔
    محکمہ صحت پنجاب نے فارماسوٹیکل مینوفیکچررز ایسوسی ایشن سے مدد کی درخواست کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس وقت صوبے میں 53 ضروری ادویات میسر نہیں۔

    ایڈیشنل سیکرٹری محکمہ صحت پنجاب کی جانب سے کہا گیا ہے کہ پی پی ایم اے ناپید ادویات بنانے کے لیے اثر و رسوخ استعمال کرے۔

    دوسری جانب ڈاکٹرزاورفارماسسٹس نے دعویٰ کیا ہے کہ اس وقت پورے ملک میں تقریباً 100 سے زائد ضروری ادویات کی قلت ہے، ملک بھر میں خاص طور پر پنجاب میں انستھیزیا کی ضروری ادویات میسر نہیں ہیں۔

    پرائم منسٹر انسپکشن ٹیم نے بھی ادویات کی قلت کی انکوائری شروع کر دی ہے اور ادویات کی قلت پر بریفنگ کے لیے ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی، پی پی ایم اے اور دیگر حکام کو طلب کر لیا ہے۔