Baaghi TV

Author: +9251

  • شہروز سبزواری اپنے گھر بے بی کی آمد کے منتظر

    شہروز سبزواری اپنے گھر بے بی کی آمد کے منتظر

    اداکار شہروز سبزواری آج کل بہت خوش ہیں ان کی خوشی کا ٹھکانہ ہی نہیں ہے انہوں نے اپنے مداحوں سے اہلیہ صدف کے لئے دعائوں کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم بہت جلد والدین بننے والے ہیں اور میں بہت خوش ہوں کہ میں پاپا بننے جا رہا
    ہوں. شہروز سبزواری کہتے ہیں کہ وہ دن جلدی آئے جب میں کہوں کہ میں پاپا بن گیا ہوں اور بچے کی دیکھ بھال کے لئے مجھے کچھ چھٹیاں کرنی ہیں. اداکار نے خواہش ظاہر کی کہ انہیں کام سے پندرہ بیس کی چھٹیاں مل جائیں لیکن ساتھ ہی

    یہ بھی کہا کہ پرڈیوسرز وغیرہ شاید چار پانچ دن کی چھٹیاں دیں. اداکار نے کہا کہ میری اہلیہ چاہتی ہیں کہ میں پورا مہینہ کام سے چھٹی لیکر ان کو اور بے بی کو وقت دوں. شہروز سبزواری کا کہنا ہے کہ میں اپنی خوشی کا اظہار لفظوں میں نہیں‌کر سکتا کہ میں کس قدر خوش ہوں کہ ہم والدین بننے جا رہے ہیں. انہوں نے یہ بھی کہا کہ اہلیہ صدف بالکل ٹھیک ہے اور گھر پر آرام کررہی ہیں. یاد رہے کہ شہروز سبزواری کی صدف کنول کے ساتھ دوسری شادی ہے اور ان کی پہلی شادی سائرہ یوسف کے ساتھ ہوئی سائرہ اور شہروز کی ایک بیٹی بھی ہے. یوں شہروز دوسری بار پاپا بننے جا رہے ہیں. شہروز نے صدف سے محبت کی شادی کی اور ان کا ماننا ہے کہ میں خوش نصیب ہوں کہ مجھے صدف جیسی جیون ساتھی ملی.

  • چین کے صدر سے ایرانی صدر کی ٹیلیفونک گفتگو،باہمی اورعالمی معاملات پرگفتگو،مشاورت

    چین کے صدر سے ایرانی صدر کی ٹیلیفونک گفتگو،باہمی اورعالمی معاملات پرگفتگو،مشاورت

    تہران :اسلامی جمہوریہ ایران صدر سید ابراہیم رئیسی نے اپنے چینی ہم منصب شی جین پینگ کے ساتھ ایک گھنٹے تک ٹیلی فونی گفتگو کے دوران تازہ ترین بین الاقوامی اور علاقائی صورتحال اور دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مزید مضبوط بنانے پر تبادلہ خیال کیا۔ ایران اور چین کے صدور نے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مزید مضبوط بنانے پر زور دیا ہے۔

    صدر رئیسی نے کہا کہ ملکوں کے اندرونی معاملات میں امریکی مداخلت واشنگٹن کی تباہ کن یکطرفہ پالیسی کا تسلسل ہے، جو اب عالمی امن و سلامتی کے لیے خطرہ بنتی جا رہی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ قومی خودمختاری کا احترام اور ممالک کی علاقائی سالمیت کا تحفظ اسلامی جمہوریہ ایران کی خارجہ پالیسی کے بنیادی اصولوں میں شامل ہے اور اس سلسلے میں ایران چین کی اصولی اور واحد پالیسی کی بھرپور حمایت کرتا ہے۔

    سید ابراہیم رئیسی نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران بین الاقوامی واقعات سے قطع نظر، تمام شعبوں میں چین کے ساتھ تعلقات کو فروغ دینے کے لیے پرعزم ہے اور امریکہ کی طرف سے سرد جنگ کی طرز کو دہرانے کی پالیسی کو اس کی کمزوری اور زوال کا سبب سمجھتا ہے۔

    ایران کے صدر نے پابندیوں کے مقصد سے ہونے والے مذاکرات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ معاہدے کی خلاف ورزی کرنے والے فریق کی حیثیت سے امریکہ کو سیاسی فیصلہ کرنا چاہیے اور ایران اور تیسرے فریق کے خلاف غیر قانونی پابندیاں ہٹانے کے لیے تمام ضروری اقدامات اٹھانے چاہییں۔

     

    سید ابراہیم رئیسی نے شنگہائی تعاون تنظیم اور بریکس گروپ جیسے علاقائی اور غیر علاقائی ممالک کے مابین کثیر الجہتی اقتصادی تعاون کے فروغ کا خیرمقدم کیا۔

     

    پاکستان، ایران، چین اور روس طالبان سے معاہدے پر کام کر رہے ہیں امریکی صدر

    سید ابراہیم رئیسی اور شی جین پنگ نے گزشتہ سال کے دوران باہمی تعلقات اور تجارتی تبادلوں میں اضافے کو سراہا اور تہران اور بیجنگ کے درمیان جامع تعاون کے لیے 25 سالہ اسٹریٹیجک تعاون منصوبے پر عمل درآمد کو تیز کرنے کے طریقوں پر اتفاق کیا۔

    چین کے صدر نے بھی اس ٹیلی فونی گفتگو میں اس بات پر زور دیا کہ ایران خطے میں امن و استحکام کی برقراری کیلئے تعمیری کردار ادا کر رہا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے چین کی جانب سے دباؤ اور یکطرفہ پالیسی کی مخالفت کا اظہار کیا۔

    انہوں نے علاقائی اور بین الاقوامی پلیٹ فارمز پر ایک دوسرے کے موقف کی حمایت پر تہران و بیجنگ کے مابین پائے جانے والے گرم رشتوں کو سراہا۔

    شی جین پینگ نے تہران اور بیجنگ کے اسٹریٹیجک تعلقات کی اہمیت کا ذکر کرتے ہوئے دونوں ممالک کے مابین مختلف شعبوں، منجملہ سکیورٹی، تجارتی، توانائی اور بنیادی تنصیبات میں باہمی تعاون کے فروغ پر زور دیا اور کہا کہ اس ہدف کو عملی جامہ پہنانے کے لئے پچیس سالہ جامع تعاون کی دستاویز پر عمل درآمد ایک بڑا قدم ہے۔

  • کرن جوہر کو کیوں‌ لگتا ہے کہ کبھی خوشی کبھی غم آج کے دور میں بننا ناممکن ہے؟

    کرن جوہر کو کیوں‌ لگتا ہے کہ کبھی خوشی کبھی غم آج کے دور میں بننا ناممکن ہے؟

    بالی وڈ کے بڑے فلم میکر کرن جوہر جنہوں نے 2001 میں کبھی خوشی کبھی غم بنائی تھی اس کی کاسٹ کافی ہیوی تھی ،کاسٹ میں شاہ رخ خان، کاجول ، کرینہ کپور ، ہرتیک روشن ، جیا بچن اور امیتابھ بچن شامل تھے. اس فلم کے حوالے سے کرن جوہر کا کہنا ہے کہ آج ایسی فلم بنانا ناممکن ہے. اس کی وجوہات پر بات کرتے ہوئے کرن جوہر نے کہا کہ آج وقت بدل گیا ہے انڈسٹری کے طور اطوار بدل چکے ہیں اور اتنی بڑی سٹار کاسٹ کو ایک ساتھ اکٹھا کرنا ممکن نہیں رہا. کرن جوہر نے باقاعدہ یہ بھی کہا کہ آج کوئی بھی ‘کبھی خوشی کبھی غم’ جیسی فلم کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ ایک اداکار کو ایک فریم میں لینا اتنا مہنگا ہے

    تو چھ بڑے فنکاروں کو کیسے اکٹھا کیا جائے فلم کی لاگت تو بہت بڑھ جائیگی، معاشی طور پر ایسی فلم بنانا ایک امتحان ہو گا.انہوں یہ بھی کہا کہ یقینا شائقین ایسے فنکاروں کو ایکساتھ دیکھنا چاہتے ہں لیکن یہ فی الحال ممکن نظر نہیں آتا لیکن میری دعا ہے کہ شائقین ایک سے زیادہ سٹارز کو ایک فریم میں دیکھ سکیں.
    یاد رہے کہ فلم کبھی خوشی کبھی غم تین گھنٹے کے دورا نیے کی فلم تھی اس فلم میں ایکساتھ چھ چھ سٹارز دیکھنے کو ملے تھے فلم کا میوزک اور کہانی شائقین کو بہت پسند آئی تھی اس فلم کو کافی ایوارڈز بھی ملے تھے.

  • وزیراعظم سیلاب زدہ علاقوں کا دورہ کرنے کیلئے بلوچستان روانہ

    وزیراعظم سیلاب زدہ علاقوں کا دورہ کرنے کیلئے بلوچستان روانہ

    وزیراعظم شہباز شریف کی سندھ، بلوچستان اور ملک کے دیگر شہروں میں سیلاب متاثرہ علاقوں کا دورہ کرنے کے لیے روانہ ہوگئے۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے طے شدہ شیڈول کے مطابق سندھ، بلوچستان، پنجاب سمیت بارش اور سیلاب سے متاثرہ دیگر علاقوں کا دورہ کریں گے، وزیراعظم نے سیلاب متاثرین سے ملاقات کے علاوہ ریسکیو اور ریلیف کے اقدامات کا جائزہ لینا ہے۔

    واضح رہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے 2 روز قبل سیلاب متاثرہ علاقوں میں ریسکیو، ریلیف اور بحالی سے متعلق اقدامات کے لیے تفصیلی اجلاس کی صدارت کی تھی، جس میں سیلاب متاثرین میں مالی امداد تقسیم کرنے اور بحالے کے دیگر امور کا جائزہ لیا گیا تھا۔

    وزیرِ اعظم نے بارشوں اور سیلاب سے جاں بحق ہونے والے افراد کے اہلِ خانہ کے لیے 10 لاکھ روپے کی امداد فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے جب کہ زخمیوں کے علاوہ متاثرہ علاقوں میں کچے اور پکے متاثرہ گھروں کی امداد کو یکساں کرنے اور بڑھانے کی ہدایات بھی جاری کی تھیں۔

    وزیراعظم نے متاثرین اور زخمیوں کی امداد 50 ہزار سے بڑھا کر 2 لاکھ کرنے کی ہدایات جاری کی تھیں۔ اس کے علاوہ جزوی طور پر متاثرہ مکانات کی امداد 25 ہزار سے بڑھا کر ڈھائی لاکھ اور مکمل طور پر متاثرہ گھروں کے لیے امداد 50 ہزار سے بڑھا کر 5 لاکھ کرنے کی بھی ہدایات جاری کیں۔

    سیلاب متاثر ہ علاقوں میں ریلیف آپریشن اور بحالی کے اقدامات کے لیے وزیراعظم نے وزرا کی خصوصی کمیٹی تشکیل دی تھی تاکہ پورے آپریشن کی موثر نگرانی یقینی بنائی جا سکے۔

    واضح رہے کہ کچھ لمحہ پہلے خبر آئی تھی کہ وزیر اعظم کا دورہ بلوچستان موسمیاتی خرابی کے باعث منسوخ ہوگیاہے تاہم وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے کہا تھا کہ موسم کی صورت حال بہتر ہوتے ہی وزیراعظم شہباز شریف سیلاب متاثرہ علاقوں کے دورے پر روانہ ہو جائیں گے۔

  • اور جب رفیع نے اپنی ایک دن کی کمائی ایک سازندے کو دیدی

    اور جب رفیع نے اپنی ایک دن کی کمائی ایک سازندے کو دیدی

    محمد رفیع بہت ہی سادہ طبیعت کے مالک تھے ان کی طبیعت میں کسی قسم کی لالچ نہیں تھی ہوتی تو وہ لتا منگیشکر کے ساتھ رائلٹی کے حصول کے معاملے میں‌کھڑے ہوتے. اسی طرح سے کہا جاتا ہے کہ کانگریس سرکار کا رفیع کا بہت احترام کرتی تھی اور اس کی وجہ پنڈت جواہر لال نہرو سے رفیع صاحب کا پیار اور احترام کا رشتہ تھا، ایک بار جواہر لال نہر و نے کہا کہ رفیع صاھب بتائیے میں آپ کے لئے کیا کر سکتا ہوں تو رفیع نے کسی مالی فائدے کی بات کرنے کی بجائے کہا کہ ریڈیو پر میرا نام رفیع بلایا جاتا ہے برائے مہربانی مجھے محمد رفیع بلایا جائے بس اتنی پابندی کروا دیجیے. پھر ایک بار یوں ہوا کہ رفیع ایک گانے کی ریکارڈنگ کے لئے کسی سٹوڈیو پہچنے وہاں دیکھا کہ ایک سازندہ باہر کھڑا ہے رفیع نے اس سے پوچھا بھئی

    کیوں کھڑے ہو تو وہ بولا سر مجھے رات کو کہا گیا صبح تم آجانا میں آگیا ہوں تو اب کہا جا رہا ہے کہ ہمارے سازندے پورے ہو چکے ہیں میں اب کیا کروں. رفیع نے کہا کہ جب تک میں باہر نہ آجائوں تم کہیں نہ جانا وہ کھڑا رفیع کا انتظار کرتا رہا جب رفیع باہر آئے تو اپنے مینجر سے کہا اس کو آج کی ساری کمائی دیدو، مینجر نے دے تو دییے پیسے لیکن گاڑی میں جا کر کہا کہ رفیع صاحب یہ کیا کیا تو رفیع بولے جب وہ گھر سے نکلا ہو گا بیوی بچوں‌نے فرمائش کی ہوگی کہ یہ لیکر آنا وہ لیکر آنا، اگر یہ نہیں‌لیکر جا پائے گا تو وہ اداس ہوں گے، بیچارا بہت آس سے آیا تھا ہم نے مدد کر دی تو کیا فرق پڑتا ہے کوئی بات نہیں اور اس بات کو بھول جاو اب. رفیع کی سادگی اور انکی صلاحتیوں کے معترف ان کے حریف بھی تھے، کہا جاتا ہے کہ گلوکار طلعت محمود، محمد رفیع کے سینیئر تھے۔ لیکن محمد رفیع کے انتقال کے وقت وہ ان کے جسد خاکی سے لپٹ کر بین کر رہے تھے کہ پہلے تم نے میرا کریئر چھینا، اور پھر میرے حصے کی موت بھی چھین لی۔

  • بجلی کی قیمت میں 50 پیسے فی یونٹ اضافہ کردیا گیا

    بجلی کی قیمت میں 50 پیسے فی یونٹ اضافہ کردیا گیا

    نیپرا نے بجلی کی قیمت میں 50 پیسے فی یونٹ اضافہ کردیا ہے۔

    نیپرا نے بجلی کی قیمت میں اضافے کا فیصلہ جاری کردیا۔ بجلی کی فی یونٹ قیمت میں 50 پیسے کا اضافہ کردیا گیا ہے۔

    بجلی کی قیمت میں اضافہ سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کی مد میں کیا گیا ہے جس کا اطلاق یکم ستمبر سے 3 ماہ کے لئے ہوگا۔بجلی کی قیمت میں اضافے کا اطلاق لائف لائن صارفین پر نہیں ہوگا جبکہ ریلیف پیکج لینے والے صنعتی صارفین بھی اضافے سے مستثنیٰ ہوں گے۔

    واضح ریے کہ: سنٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی نے ماہانہ فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی کی قیمتوں میں7 روپے 96 پیسے فی یونٹ اضافہ کی درخواست دے دی تھی جس کی بعدزاں منظوری دے دی گئی.

    سی پی اے نے مئی کی ماہانہ فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی مد میں درخواست کی تھی جس پر سماعت 27 جون کو ہوئی تھی ،درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ مئی میں فرنس آئل سے 8.80 فیصد بجلی پیدا کی گئی اور فرنس آئل سے 33 روپے 67 پیسے فی یونٹ بجلی پیدا ہوئی.

    مقامی گیس سے 10 فیصد، درآمدی ایل این جی سے22.89 فیصد اور پانی سے 24.50 فیصد بجلی پیدا کی گئی تھی۔

  • دعا زہرہ کیس: منجمد بینک اکاؤنٹس بحال کرنے کا حکم

    دعا زہرہ کیس: منجمد بینک اکاؤنٹس بحال کرنے کا حکم

    سندھ ہائی کورٹ نے حکام کو دعا زہرہ کے مبینہ شوہر ظہیر احمد کے اہلخانہ کے بلاک کیے گئے کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈز کو بحال اور بینک اکاؤنٹس کو غیرمنجمد کرنے کی ہدایت کی۔

    جسٹس محمد اقبال کلہوڑو کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے ظہیر کی جانب سے تحفظ کے لیے دائر کی گئی ایک اور درخواست کو بھی نمٹا دیا کیونکہ پولیس نے کہا کہ انہیں ہراساں نہیں کیا جائے گا بلکہ قانون کے مطابق ان سے نمٹا جائے گا۔

    ظہیر کے بھائی شبیر احمد نے بھی درخواست گزار اور خاندان کے دیگر افراد کے بینک اکاؤنٹس منجمد اور شناختی کارڈ اور سم کارڈ بلاک کرنے کے خلاف سندھ ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی تھی۔

    بینچ نے اپنے حکم میں کہا کہ دعا کے والد مہدی کاظمی کے وکیل کی درخواست پر سندھ ہائی کورٹ نے 3 جون کو دعا کی بازیابی تک ظہیر کے خاندان کے افراد کے شناختی کارڈ اور بینک اکاؤنٹس کو بلاک اور منجمد کرنے کا حکم دیا تھا۔

    اس میں مزید کہا گیا ہے کہ چونکہ لڑکی بازیاب ہو چکی تھی اس لیے درخواست گزار کی درخواست کو مسترد کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔

    تحفظ کے لیے ظہیر کی درخواست کے بارے میں بینچ نے نوٹ کیا کہ درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ نے پہلے ہی ضمانت دے دی تھی جبکہ پولیس حکام اور ریاست کے وکیل نے کہا کہ اس کے ساتھ قانون کے مطابق سلوک کیا جائے گا جس میں ہراساں کرنے کا کوئی عنصر نہیں ہے، بینچ نے جمعہ کے روز صوبائی ہوم سیکریٹری، پولیس، شکایت کنندہ اور دیگر مدعا علیہان کو ظہیر کی درخواست پر نوٹس جاری کیا جس میں دعا زہرہ کے مبینہ اغوا سے متعلق کیس کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

    بینچ نے پراسیکیوٹر جنرل کو بھی نوٹس جاری کیا اور 18 اگست تک جواب طلب کر لیا۔

    شکایت کنندہ کے وکیل نے اپنے مؤکل کی جانب سے کچھ دستاویزات جمع کرائے جو ریکارڈ پر لیے گئے تھے اور ایک کاپی درخواست گزار کے وکیل کو فراہم کی گئی۔

    توہین عدالت کی درخواست چیف جسٹس کو بھیج دی گئی

    دعا کے والد نے جمعہ کو سندھ ہائی کورٹ میں ایک درخواست دائر کی جس میں کچھ افراد کے خلاف یوٹیوب چینل کے ٹاک شو میں مبینہ طور پر سندھ ہائی کورٹ کے جج کے خلاف توہین آمیز ریمارکس دینے پر توہین عدالت کی کارروائی کا مطالبہ کیا گیا۔

    بینچ نے اپنے حکم میں کہا کہ چونکہ ریمارکس اس بینچ کے ایک رکن کے خلاف تھے اس لیے اس کے لیے اس درخواست کی سماعت کرنا یا اس پر کوئی حکم دینا مناسب نہیں ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ یہ معاملہ چیف جسٹس کے سامنے رکھا جا سکتا ہے کہ وہ یا تو اس درخواست کو کسی اور بینچ کے پاس بھیجیں یا کوئی مناسب حکم صادر کریں۔

    آرڈر آج کے لیے محفوظ

    جوڈیشل مجسٹریٹ (شرقی) آفتاب احمد بگھیو نے تفتیشی افسر کی جانب سے دعا کے طبی معائنے کی اجازت کے لیے دائر درخواست پر فیصلہ (آج) ہفتہ تک محفوظ کر لیا۔

    تفتیشی افسر سعید رند نے درخواست میں کہا کہ نابالغ کا طبی معائنہ کرانا ضروری ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ وہ مبینہ طور پر بچپن کی شادی کے دران اپنے مبینہ شوہر کے ساتھ گزارے ایام میں کسی جنسی عمل سے تو نہیں گزری۔

    انہوں نے کہا کہ چونکہ موجودہ عدالت نے نابالغ/متاثرہ کو شیلٹر ہوم بھیج دیا تھا اس لیے اس کے طبی معائنے کے لیے ہسپتال منتقل کرنے کے سلسلے میں اجازت درکار ہے۔

    لہٰذا تفتیشی افسر نے مجسٹریٹ سے درخواست کی کہ وہ لڑکی کو شیلٹر ہوم سے طبی معائنے کے لیے طبی سہولت میں منتقل کرنے کی اجازت دے۔

    ریاستی پراسیکیوٹر کے ساتھ ساتھ لڑکی کے والدین اور اس کے مبینہ شوہر کی نمائندگی کرنے والے وکیل نے بھی اس درخواست کی حمایت کی۔

    فریقین کے دلائل سننے کے بعد مجسٹریٹ نے درخواست پر حکم امتناع کے لیے 30 جولائی (آج) کو فیصلہ کیا ہے۔

    پیش رفت رپورٹ جمع

    اس دوران تفتیشی افسر سعید رند نے تعزیرات پاکستان کی دفعات 363، 368 اور 375(v) کے تحت پیش رفت رپورٹ جمع کرائی۔

    رپورٹ میں تفتیشی افسر کو بتایا گیا کہ زیر حراست ملزم شبیر احمد نے دوران تفتیش انکشاف کیا کہ وہ 16 اپریل کو اپنے بھائی ظہیر احمد کے ساتھ کراچی میں موجود تھا جب وہ دعا کو مبینہ طور پر اغوا کر کے پنجاب لے گئے تھے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ ظہیر ایک سم کارڈ استعمال کر رہا تھا جو اس کی والدہ کے نام پر رجسٹرڈ تھا جس نے وقوع کے روز شہر میں اپنی موجودگی ظاہر کی، انہوں نے مزید کہا کہ ملزم نے نوری آباد کے علاقے میں اپنا فون بند کر دیا تھا۔

    مقدمے کی سماعت یکم اگست کو پہلے سے طے ہے۔

  • دھرمیندر اور شمی کپور کے محمد رفیع بارے خیالات

    دھرمیندر اور شمی کپور کے محمد رفیع بارے خیالات

    بھارتی اداکار دھرمیندر اور شمی کپور جو اپنے وقتوں میں سپر ہٹ ہیروز تھے ان دونوں پر زیادہ تر محمد رفیع کے گانے ہی پکچرائز ہوئے اور ہر دوسرا گانا ہٹ ہوا. رفیع کی آواز اور دھرمیندر اور شمی کپور کی اداکاری گانے کی خوبصورتی کو مزید بڑھا دیتی اور دیکھنے والوں کو یوں گماں ہوتا کہ یہ رفیع نہیں بلکہ دھرمیندر یا شمی کپور خود گا رہے ہیں. یہ دونوں اداکار
    بہت زیادہ اس چیز کا خیال رکھتے تھے کہ ان پر گانا رفیع کے علاوہ کسی اور سنگر کا پکچرائز نہ ہو. ایک بار دھرمیندر نے کہا کہ رفیع کے گیتوں کا میرے کیریر کو اوپر لیجانے میں بہت بڑا ہاتھ ہے ، میں باقاعدہ فلم سازوں سے کہا کرتے تھا کہ محمد

    رفیع کا گانا ہی مجھ پر پکچرائز ہو. جس دن ان کا انتقال ہوا اس روز مجھے ایسا لگا کہ جیسے میرے جسم سے جان نکل گئی ہو. اداکار شمی کپورکے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ایک آدھ بار ایسا ہوا کہ محمد رفیع کی مصروفیت کی وجہ سے کسی دوسرے گلوکار سے گانا گوا لیا، تو شمی کپور کو جب پتہ چلا تو وہ زیادہ برہم ہوئے اور کہا کہ محمع رفیع کی فراغت کا انتظار کیوں نہ کیا گیا میں کسی دوسرے گلوکار کا گانا خود پر پکچرائز نہیں ہونے دوں گا. یوں فلمساز نے رفیع کی فراغت کا انتظار کیا اور گانا انہی سے گوایا تو شمی کپور نے پکچرائز کروایا اور تنبیہ کی کہ آئندہ ایسا نہ ہو.

  • آٹو اسمبلرز نے گاڑیوں کی قیمتوں میں بڑا اضافہ کردیا

    آٹو اسمبلرز نے گاڑیوں کی قیمتوں میں بڑا اضافہ کردیا

    حکومت اس وقت ملک میں سیاسی اور معاشی بحرانوں سے نمٹنے کی کوششیں کررہی ہے جبکہ آٹو اسمبلرز گاڑیوں کی قیمتوں میں اضافہ کر کے اس صورتحال سے پوری طرح فائدہ اٹھانے میں مصروف ہیں۔

    ڈان کے مطابق: انڈس موٹر کمپنی (آئی ایم سی) اب ایسی تیسری کمپنی بن گئی ہے جس نے روپے کی قدر میں کمی، خام مال کی قیمتوں میں اضافے، نقل و حمل کی لاگت اور کیپٹل ویلیو ٹیکس (سی وی ٹی) سمیت دیگر ٹیکس اور ڈیوٹیوں بڑھنے کا حوالہ دیتے ہوئے صارفین کو گاڑیوں کے مختلف ماڈلز میں 5 لاکھ 90 ہزار سے 30 لاکھ 16 ہزار روپے اضافے کا بڑا جھٹکا دیا۔

    لیٹر آف کریڈٹس (ایل سیز) کھولنے پر پابندی، غیر مستحکم شرح تبادلہ اور گاڑیوں کی بروقت فراہمی میں ناکامی کے سبب گاڑیوں کی تیاری کے لیے درکار پرزوں کی کمی کی وجہ سے 18 مئی سے گاڑیوں کی بکنگ پہلے ہی معطل کر دی گئی ہے، کمپنی نے بتایا کہ نیا نوٹیفکیشن جاری ہونے تک آڈر لینے کا سلسلہ معطل رہے گا۔

    اطلاعات تھیں کہ اقتصادی رابطہ کمیٹی کے حالیہ اجلاس میں ایل سیز پر موجود شرائط کو مکمل طور پر ختم کر دیا گیا تھا لیکن آٹو اسمبلرز کا کہنا ہے کہ یہ پابندی اب بھی موجود ہے اور اسٹیٹ بینک اسمبلنگ کا سلسلہ برقرار رکھنے کے لیے پرزوں اور کٹس کی درآمد کا مخصوص کوٹہ جاری کر رہا ہے۔

    کرولا 1.6 ایم ٹی، اے ٹی اور اے ٹی اپ اسپیک ماڈلز کی نئی قیمت بالترتیب 48 لاکھ 99 ہزار روپے، 51 لاکھ 39 ہزار روپے اور 56 لاکھ 39 ہزار روپے ہے جبکہ سی وی ٹی 1.8، سی وی ٹی ایس آر اور سی وی ٹی ایس آر بلیک ماڈلز کی نئی قیمت بالترتیب 66 لاکھ 79 ہزار روپے، 61 لاکھ 49 ہزار روپے اور 61 لاکھ 89 ہزار روپے ہوگی۔

    یارس 13 ایم ٹی، سی وی ٹی، ایچ ایم ٹی اور ایچ سی وی ٹی کی نئی قیمتیں 37 لاکھ 99 ہزار روپے، 40 لاکھ 39 ہزار روپے، 39 لاکھ 99 ہزار روپے اور 42 لاکھ 9 ہزار روپے ہیں، یارس 1.5 ایم ٹی اور 1.5 سی وی ٹی کی قیمت 43 لاکھ 9 ہزار اور 45 لاکھ 69 ہزار ہوگی، ریوو، جی ایم ٹی، جی اے ٹی، وی اے ٹی اور وی اے ٹی روکو کی قیمت بالترتیب 98 لاکھ 19 ہزار، ایک کروڑ 3 لاکھ، ایک کروڑ 13 لاکھ اور ایک کروڑ 20 لاکھ روپے ہوگی۔

    فارچیونر ایل او پیٹرول، ہائی پیٹرول، ڈیزل اور ڈیزل لیجینڈر کے نئے نرخ بالترتیب ایک کروڑ 25 لاکھ روپے، ایک کروڑ 43 لاکھ روپے، ایک کروڑ 51 لاکھ روپے اور ایک کروڑ 58 لاکھ روپے ہیں۔

    آئی ایم سی نے اپنے ڈیلرز کو بتایا کہ یہ قیمتیں خالصتاً علامتی اور عارضی ہیں جو تبدیل ہو سکتی ہیں لہذا انہیں حتمی نہیں سمجھا جائے۔

    آٹو ذرائع نے بتایا کہ ہونڈا اٹلس کارز لمیٹڈ (ایچ اے سی ایل) نے اپنے ڈیلرز کو ہونڈا سٹی، سوک اور بی آر-وی کی قیمتوں میں 30 جولائی سے 7 لاکھ 85 ہزار سے 14 لاکھ 50 ہزار روپے تک ممکنہ اضافہ لاگو ہونے کے بارے میں مطلع کیا ہے۔

    ’آئی ایم سی‘ اور ’ایچ اے سی ایل‘ سے پہلے ’کیا لکی موٹر کارپوریشن‘ پہلی اور ’ہنڈائے نشاط موٹرز‘ دوسری کمپنی تھی جس نے شرح مبادلہ اور بھاری ٹیکسوں اور ڈیوٹیوں کے اثرات کو صارفین تک منتقل کیا اور قیمتوں میں 11 لاکھ روپے تک کا اضافہ کیا۔
    موٹرسائیکلیں مزید مہنگی

    این جی آٹو انڈسٹریز نے اپنے ڈیلرز کو خام مال کی مسلسل بڑھتی ہوئی قیمتوں اور یوٹیلیٹی چارجز کی وجہ سے 5 اگست سے لاگو ہونے والے سپر پاور موٹر سائیکل کے 70 سی سی سے 250 سی سی ماڈلز کی قیمتوں میں 5 ہزار سے 20 ہزار روپے کے اضافے کے بارے میں مطلع کیا۔

    کمپنی نے 27 جولائی سے سپر پاور 100 سی سی موٹر سائیکل کی قیمت میں بھی 5 ہزار روپے کا اضافہ کردیا۔

    ڈی ایس موٹرز پرائیویٹ لمیٹڈ نے 5 اگست سے 70 سی سی سے 100 سی سی موٹر سائیکلوں کی قیمتوں میں 5 ہزار روپے کا اضافہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

  • محمد رفیع نے کیسے کشور کمار کے کیرئیر کو بچایا؟

    محمد رفیع نے کیسے کشور کمار کے کیرئیر کو بچایا؟

    محمد رفیع اور کشور کمار اپنی اپنی جگہ منفرد گلوکار تھے محمد رفیع کی آواز نہایت ہی سافٹ تھی یہی وجہ تھی کہ ہر دوسرے ہیرو کی خواہش ہوتی تھی کہ ان کی آواز میں گائے گیت ان پر فلمائے جائیں،. دوسری طرف کشور کمار بھی کم نہیں تھے ان کی بھی فین فالونگ تھی لیکن ظاہر ہے کہ اُن وقتوں میں محمد رفیع کا ڈنکا بج رہا تھا.کشور کمار فلموں میں اداکاری کے ساتھ گلوکاری کرتے تھے. پھر ایک وقت ایسا بھی آیا کہ محمد رفیع کے گیت کم اور کشور کے زیادہ ہونے لگے لیکن رفیع کی مقبولیت مرتے دم تک قائم رہی وہ نمبر ون کی پوزیشن پر پہ رہے. اُس دور کے میڈیا نے بڑی کوشش کی کہ چوٹی کے ان دونوں

    گلوکاروں کے درمیان مقابلے کی فضا قائم کی جائے لیکن ایسا ہو نہ سکا. محمد رفیع کسی کے بھی ٹیلنٹ کو کھلے دل سے تسلم کرتے تھے. وہ کشور کمار کی گائیکی کی بھی تعریف کیا کرتے تھے.یہاں تک کہ جب کشور کمار پر برا وقت آیا تو محمد رفیع نے ان کا کیرئیر بچایا. ہوا یوں کہ 1975 میں جب کانگریس سرکار نے کشور کمار اور ان کے گیتوں پر آل انڈیا ریڈیو اور دور درشن پر چلنے پر پابندی عائد کر دی تھی۔ اس کا پس منظر یہ تھا کہ کانگریس سرکار اس وقت کی پرائم منسٹر اندرا گاندھی کی پالیسیوں کی تشہیر کے لیے جلسے اور ریلیاں منعقد کر رہی تھی جس کے لیے کشورکمار نے زیادہ پیسے مانگ لیے تھے۔جب یہ معاملہ بگڑا تو کشور کمار پر پابندی لگا دی گئی جس سے وہ بہت پریشان تھے۔ کانگریس میں چونکہ محمد رفیع کی سنی جاتی تھی انہوں نے رفیع کا مان رکھتے ہوئے کشور کمار پر سے پابندی اٹھا لی.محمد رفیع چاہتے تو موقع کا فائدہ اٹھا سکتے تھے کشور کمار کے کیرئیر کو اچھی خاصی بریک لگ سکتی تھی لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا. کہا جاتا ہے کہ محمد رفیع انتقال پر کشور کمار ان کے پائوں پر سر رکھ کر کئی گھنٹے روتے رہے.