Baaghi TV

Author: +9251

  • پیٹرول کی قیمتوں میں 11 روپے کمی جبکہ ڈیزل 8 روپے مہنگا ہونے کا امکان

    پیٹرول کی قیمتوں میں 11 روپے کمی جبکہ ڈیزل 8 روپے مہنگا ہونے کا امکان

    پیٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی (پی ڈی ایل) میں اضافے کے لیے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی بقایا پیشگی شرط کی وجہ سے ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت رواں ہفتے کے آخر میں تقریباً 8 روپے فی لیٹر بڑھنے جبکہ پیٹرول تقریباً 11 روپے فی لیٹر سستا ہونے کا امکان ہے۔

    ڈان کے مطابق: اس سے 24 اگست کو آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ کی جانب سے پاکستان کے لیے ایک ارب 18 کروڑ ڈالر کے اجرا کے معاملے کو تقویت ملے گی۔

    سینیئر حکومتی عہدیداروں نے بتایا کہ دونوں اہم پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں یکم اگست سے نمایاں طور پر کمی آنے والی تھی لیکن روپے کی قدر میں کمی اور پی ڈی ایل اور ڈیلر کمیشن میں اضافے جیسے عوامل نے صارفین کو بین الاقوامی سطح پر قیمتوں میں کمی کے فائدے سے محروم کردیا۔

    ان عہدیداروں نے کہا کہ حکومت نے آئی ایم ایف کے ساتھ ہائی اسپیڈ ڈیزل، مٹی کے تیل اور لائٹ ڈیزل آئل پر لیوی میں 10 روپے فی لیٹر اور پیٹرول پر 5 روپے فی لیٹر اضافے کے لیے آئی ایم ایف کے ساتھ پیشگی کارروائی کا عہد کیا تھا تاکہ اگست کے آغاز میں تمام مصنوعات پر 15 روپے فی لیٹر کی یکساں شرح کو یقینی بنایا جا سکے، اس وقت پیٹرول پر لیوی 10 روپے فی لیٹر اور ہائی اسپیڈ ڈیزل، مٹی کے تیل اور لائٹ ڈیزل آئل پر 5 روپے فی لیٹر ہے۔

    اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے پہلے ہی پیٹرول پر ڈیلرز کے کمیشن میں تقریباً 43 فیصد اور ہائی اسپیڈ ڈیزل پر 70 روپے فی لیٹر اضافے کی منظوری دے دی ہے جس سے پٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل پر بالترتیب 2.10 روپے اور 2.87 روپے فی لیٹر کا اضافی اثر پڑے گا۔

    روپے کی قدر میں کمی نے بھی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں عالمی سطح پر کمی سے صارفین کو ملنے والے ریلیف پر منفی اثر ڈالا۔

    بین الاقوامی درآمدی قیمت اور شرح مبادلہ کے اثرات کی بنیاد پر ہائی اسپی ڈیزل کی قیمت میں تقریباً 3.30 روپے فی لیٹر اور پیٹرول کی قیمت میں تقریباً 19 روپے فی لیٹر کمی کا تخمینہ لگایا گیا تھا تاہم لیوی میں 10 روپے فی لیٹر اضافے اور ڈیلر کمیشن میں 2.87 روپے فی لیٹر اضافے کی وجہ سے ہائی اسپیڈ ڈیزل کی شرح اس کے بجائے تقریباً 8 روپے فی لیٹر بڑھے گی۔

    دوسری جانب لیوی میں 5 روپے فی لیٹر اضافے اور 2 روپے 10 پیسے فی لیٹر کی منفی ایڈجسٹمنٹ کے بعد پیٹرول کی قیمت اب بھی تقریباً 11 روپے فی لیٹر کم ہوگی۔

    اس طرح ہائی اسپیڈ ڈیزل کی ایکس ڈپو سیل قیمت اس وقت 236 روپے فی لیٹر کے بجائے اگست کے پہلے 15 روزکے لیے 244 روپے کے قریب ہونے کا امکان ہے جبکہ پیٹرول کی قیمت 230 روپے سے بڑھنے کی بجائے تقریباً 219 روپے فی لیٹر ہوگی۔

    عہدیدار نے کہا کہ حکومت ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں اضافے کو پیٹرول کی قیمتوں میں منتقل کر کے اگلے 15 روز تک پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کسی تبدیلی کو روک سکتی تھی لیکن غالباً آئی ایم ایف کی طے شدہ حدود کی وجہ سے ایسا ممکن نہیں تھا۔

    آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے کے تحت حکومت کو رواں مالی سال کے دوران 855 ارب روپے جمع کرنے کے لیے پیٹرولیم مصنوعات پر لیوی کو بتدریج 50 روپے فی لیٹر تک بڑھانا ہے۔

  • لتا اور رفیع نے پانچ سال تک ایکساتھ کیوں  نہیں گایا؟‌

    لتا اور رفیع نے پانچ سال تک ایکساتھ کیوں نہیں گایا؟‌

    رفیع اور لتا منگیشکر کی ایک ساتھ جوڑی کو بہت زیادہ پسند کیا جانے لگا. ان دونوں کی آواز میں ریکارڈ ہوا گیت کسی بھی فلم کی کامیابی کی ضمانت سمجھا جاتا تھا. ہر موسیقار کی کوشش ہوتی تھی کہ وہ ان کے ساتھ گیت ریکارڈ کرے. دونوں اعلی درجے کے گائیک تھے لیکن اپنی اپنی ذات میں شاید سٹارز بھی تھے.محمد رفیع نہایت ہی سادہ طبیعت کے مالک تھے جبکہ لتا جب کسی بات پہ اکڑ جاتی تھیں تو پھر آسانی سے پیچھے نہیں ہٹتی تھیں. ایک بار ایسا ہوا کہ رائلٹی کی بات چھڑ گئی لتا منگیشکر نے اپنے ساتھ کچھ گلوکاروں‌کو ملا لیا اور ڈیمانڈ کی کہ ہمیں گیتوں کی رائلٹی ملنی چاہیے لیکن محمد رفیع

    نے ان کا ساتھ نہ دیا اور وہ اس معاملے میں بہت واضح موقف اپنائے ہوئے تھے کہ جب ہم گانا گانے کا معاوضہ لے لیتے ہیں تو پھر رائلٹی کے چکر میں‌کیوں‌پڑیں، ادھر لتامنگیشکر پوری مہم چلا رہی تھیں. ایک دن مکیش لتا اور رفیع ایک ساتھ بیٹھے ہوئے تھے گلوکار مکیش نے رفیع سے پوچھا کہ یہ رائلٹی کا سین کب تک چلے گا تو رفیع بولے اس مہارانی سے پوچھو جو بیٹھی ہوئی ہے لتا کو رفیع کی یہ بات بہت بری لگی انہوں نے کہا کہ یہ کس طرح بات کررہے ہیں، رفیع نے کہا لتا دیکھو اگر یہی سب چلتا رہا تو ہم دونوں ایکساتھ نہیں گا سکیں گے لتا نے کہا کہ آپ کیوں تکلیف کریں گے میں خود ہی آپ کے ساتھ نہ گانے کا اعلان کر دیتی ہوں لہذا اسی شام لتا نے سب موسیقاروں کو کال کرکے کہا کہ میں رفیع ایک ساتھ نہیں‌گائیں گے یوں پانچ سال تک ان دونوں‌ نے ایک دوسرے کے ساتھ نہیں گایا اس کے بعد انڈسٹری کے کچھ لوگوں نے بیچ میں‌پڑ کے دونوں کی صلح کروانے کے ساتھ ساتھ ایک ساتھ گانے کی راہ کو بھی ہموار کیا.

  • صدیوں کے گلوکار محمد رفیع کی آج 42 برسی

    صدیوں کے گلوکار محمد رفیع کی آج 42 برسی

    ہر دلعزیز گلوکار محمد رفیع کی آج 42 ویں برسی منائی جا رہی ہے. ان کا انتقال یقینا موسیقی کو ایک بڑا دھچکہ تھا آج تک ان جیسا کوئی دوسرا گلوکار پیدا نہیں ہو سکا. محمد رفیع نے بالی وڈ کے تمام بڑے ہیروز کو اپنی آواز دی.محمد رفیع 24دسمبر 1924کو امرتسر کے کوٹلہ سلطان گاﺅں میں پیدا ہوئے ۔انہوں نے لاہور ایک مجعمے میں پرفارم کیا وہاں موسیقار شیام سندر موجود تھے انہوں نے اس انمول ہیرے کی صلاحیتوں کو بھانپ لیا اور انہیں ممبئی آنے کی دعوت دی، محمد رفیع کا گائیکی کا کیرئیر یہیں سے شروع ہوا اور اس کے بعد انہوں نے بڑے سے بڑے موسیقار کے ساتھ کام کیا ایسے ایسے لازوال گیت گائے کہ جن کو آج بھی سنا جاتا ہے اور شاید رہتی دنیا تک رفیع کا نام اور ان کی گائیکی رہے گی. صدیوں کے اس فنکار کی آواز کے انہی کے دور کے ہیروز دیوانے تھے.ہر کسی کی خواہش ہوتی کہ رفیع کا گایا ہوا گیت اس پر پکچرائز ہو. رفیع نے ہزاروں کے حساب سے گیت گائے.

    واضح رہے کہ محمد رفیع کے والد ان کی گائیکی کے بہت خلاف تھے وہ کبھی نہیں چاہتے تھےکہ ان کا بیٹا گلوکار بنے لیکن محمد رفیع کے بڑے بھائی نے رفیع کا ساتھ دیا اور وہی ان کو لیکر ممبئی بھی گئے 1980 میں 31 جولائی کا دن تھا جب صدیوں کے اس گلوکار کو صبح سوا دس بجے دل کا دورہ پڑا اور اسی رات کو وہ دنیا چھوڑ گئے.

  • سیلاب ریلوے ٹریک بہا لے گیا، پاک ایران ٹرین سروس معطل

    سیلاب ریلوے ٹریک بہا لے گیا، پاک ایران ٹرین سروس معطل

    شدید اور مسلسل بارشوں کے نتیجے میں آنے والے سیلاب میں ریلوے ٹریک کا کئی فٹ حصہ پانی میں بہہ گیا، جس کے بعد پاک ایران ٹرین سروس معطل ہوگئی۔

    ایکسپریس نیوز کے مطابق دالبندین کے قریب آنے والا سیلاب ٹریک کو اپنے ساتھ بہا لے گیا، جس کے باعث 2 مال بردار ٹرینیں دالبندین اسٹیشن پر کھڑی ہیں۔واضح رہے کہ حالیہ دنوں میں ہونے والی شدید اور موسلادھار بارش کے بعد آنے والے سیلاب نے احمد وال، دالبندین، یک مچ اور دیگر کئی مقامات سے ریلوے ٹریک کو نقصان پہنچایا ہے۔

    ٹرین سروس معطل ہونے کے بعد ریلوے حکام کا کہنا ہے کہ چاغی ٹریک کی بحالی میں کئی دن لگ سکتے ہیں۔ سیلابی ریلا رُک جانے کے بعد مرمت کا کام ممکن ہو سکے گا۔

    دوسری جانب چمن میں پاک افغان سرحد پر ’’باب دوستی‘‘پیدل آمدورفت کے لیے آج صبح سے بحال کردیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق دونوں طرف سے مسافروں کی آمدورفت جاری ہے، اس موقع پر سکیورٹی کے سخت اقدامات کیے گئے ہیں۔

    واضح رہے کہ پاک افغان سرحد پر واقع گزرگاہ 2 روز قبل سیلابی صورت حال اور پانی کا ریلہ چیکنگ نظام میں داخل ہونے کے باعث بند کردی گئی تھے، جس کے بعد تجارتی گاڑیوں کی آمد و رفت گزشتہ روز اور پیدل چلنے والوں کے لیے گزر گاہ آج بحال کردی گئی ہے۔ حکام کیے مطابق کئی مقامات پر پانی تاحال جمع ہے۔

  • چیف جسٹس جوڈیشل کمیشن اجلاس کے درست منٹس جاری کریں تاکہ افواہوں کا خاتمہ ہوگا۔ جسٹس طارق مسعود

    چیف جسٹس جوڈیشل کمیشن اجلاس کے درست منٹس جاری کریں تاکہ افواہوں کا خاتمہ ہوگا۔ جسٹس طارق مسعود

    سپریم کورٹ کے جج جسٹس طارق مسعود نے جوڈیشل کمیشن کے اجلاس پر ارکان کو خط لکھ دیا جس میں انہوں ںے چیف جسٹس کے رویے کو غیر جمہوری عمل قرار دے دیا۔

    جسٹس سردار طارق مسعود نے چیف جسٹس اور جوڈیشل کمیشن کے ارکان کو خط لکھتے ہوئے کہا کہ جوڈیشل کمیشن کا اجلاس شروع ہوا تو چیف جسٹس نے اپنے نامزد ججز کے کوائف کے بارے میں بتایا، پھر جسٹس ریٹائرڈ سرمد جلال عثمانی نے چار ججز کی تقرری کے حق میں جب کہ ایک جج کی تقرری کے خلاف رائے دی۔

    جسٹس سردار طارق مسعود نے خط میں کہا کہ میں نے بھی اپنی باری پر رائے دی اور چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس اطہر من اللہ کی سپریم کورٹ میں تقرری کی رائے دی، کیونکہ چیف جسٹسز ہائی کورٹس میں جسٹس اطہر من اللہ سینئر ترین جج ہیں۔

    نجی ٹی وی کے مطابق: جسٹس طارق مسعود نے کہا کہ جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس سجاد علی شاہ نے چیف جسٹس کے دیے گئے ناموں کی منظوری دی، میں نے بھی سندھ ہائی کورٹ کے تین اور لاہور ہائی کورٹ کے ایک جج کی نامزدگی کو نامنظور کیا، پھر اٹارنی جنرل ، وزیر قانون اور بار کونسل کے نمائندوں نے مجھ سے اتفاق کرتے ہوئے چار نامزد ججز کی تقرری کو نامنظور کیا۔

    خط میں کہا گیا کہ جسٹس قاضی فائز عیسی نے چیف جسٹس کے نامزد ججوں کو نامنظور کرنے کے حوالے سے میری رائے سے اتفاق کیا، پھر جب جسٹس قاضی فائز عیسی چیف جسٹس کے ناموں کو نامنظور کرنے کی وجوہات بتا رہے تھے تو جسٹس قاضی فائز عیسی کی رائے کے دوران ہی چیف جسٹس غیر معمولی اور غیر جمہوری عمل کرتے ہوئے کمیشن کا فیصلہ لکھوائے بغیر اجلاس سے اٹھ کر چلے گئے۔

    جسٹس طارق مسعود نے کہا کہ معاملہ واضح ہوگیا تھا کہ کمیشن کے پانچ ارکان نے نامزدگیوں کو نامنظور کر دیا تھا، تو چیف جسٹس عمر عطا بندیال رائے سننے کے بعد فیصلہ سنانے کی بجائے اچانک میٹنگ سے اٹھ گئے۔

    جسٹس طارق مسعود نے کہا کہ سپریم کورٹ ترجمان کی طرف سے جاری کردہ اعلامیہ حقائق کے برعکس ہے، سپریم کورٹ ترجمان جوڈیشل کمیشن کا ممبر ہے نہ سیکریٹری، سپریم کورٹ کے اعلامیے میں کہا گیا کہ اجلاس موخر کردیا گیا مگر فیصلہ جاری کردیا گیا۔

    جسٹس سردار طارق مسعود نے مزید کہا کہ اجلاس میں ارکان نے پانچ اور چار کے تناسب سے پانچوں نام مسترد کیے، چیف جسٹس صاحب فوری طور پر جوڈیشل کمیشن اجلاس کے درست منٹس جاری کریں کیوں کہ جوڈیشل کمیشن کے تفصیلی منٹس پبلک کرنے سے افواہوں کا خاتمہ ہوگا۔

  • عمران نے امریکا سے تعلقات بہتر کرنے کی ناکام کوشش کی. بلاول بھٹو زرداری

    عمران نے امریکا سے تعلقات بہتر کرنے کی ناکام کوشش کی. بلاول بھٹو زرداری

    وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے خارجہ پالیسی سے متعلق سابق وزیراعظم عمران خان کے دعوے مسترد کر دیے۔

    شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس میں شرکت کے لیے تاشقند میں موجود وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری سے صحافی نے پوچھا کہ عمران خان اتحادی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ امریکا سے خارجہ پالیسی کمزور ہوئی ہے، آپ کیا جواب دیں گے؟

    صحافی کے سوال پر بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ عمران خان کے دعوؤں میں کوئی صداقت نہیں ہے، اپنے لوگوں کے لیے اقتصادی مواقع تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، امریکا سمیت تمام ممالک کے ساتھ معاشی تعلقات کے فروغ کے لیے کام کر رہے ہیں۔

    انہوں نے مزید کہا کہ عمران خان حکومت میں تھے تو انہوں نے امریکا سے تعلقات بنانے کی کوشش کی، عمران خان تعلقات بہتر بنانے میں ناکام رہے تو اس میں ہمارا کیا قصور ہے۔

  • الیکشن کمیشن فارن فنڈنگ کیس کا محفوظ فیصلہ جلد از جلد سنائے. زبیر عمر

    الیکشن کمیشن فارن فنڈنگ کیس کا محفوظ فیصلہ جلد از جلد سنائے. زبیر عمر

    مسلم لیگ ن کے رینماء نے اسلام آباد م میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہماری جماعت کے رہنماؤں، مریم نواز شریف اور موجودہ وزیر اعظم شہباز پر جھوٹے کیس بنائے گئے جس کا جواب ہم نے ہر جگہ دیا ہے.

    انہوں کہاکہ: میں الیکشن کمیشن سے پوچھتا ہو عمران خان فارن فنڈنگ کیس میں 8 سال سے تاخیر کی کیوں کی جارہی ہے؟

    ان کا کہنا تھا: عمران خان حضرت عمر رضی اللہُ تعالیٰ عنہ’ کی مثالیں دیتیں وہ مثالیں ٹھیک ہیں لیکن عمران خان سے جب پوچھا جائے تو جواب نہیں دیتے ہیں.

    زبیر عمر کا کہنا تھا: اگرعمران خان سچے ہیں تو حساب کتاب کا جواب دیں ورنہ قوم کو جھوٹے لیکچر دینا بند کردیں.

    زبیر عمر نے کہا: ہمیں کہا جاتا تھا کہ آپ شہباز شریف کے بارے ڈیلی میل پر جو اسٹوی شائع ہوئی تھی اس پر کیس کریں لہذا ہم نے تو ڈیلی میل پر کیس کیا تھا اب عمران بھی جرآت دیکھا کر فنانشل ٹائمز پر کیس کریں.

    انہوں نے الیکشن کمیشن سے مطالبہ کیا کہ: آپ جلد از جلد فارن فنڈنگ کیس کا محفوظ فیصلہ سنائیں.

    انہوں نے کہا کہ: اگر ہم سارے حساب کتاب کا جواب دیتے ہیں تو عمران خان جواب کیوں نہیں دیتے اور الیکشن کمیشن عمران خان کو بلا کر ان سے اس سب کا جواب کیوں نہیں مانگتا.

    زبیر عمر نے دعوی کیا کہ تحریک انصاف فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ رکوانے کیلئے ایڑی چھوٹی کا زور لگوا رہی ہے۔

    ان کے مطابق: مسلم لیگ ن نے جیلیں بھگتی ہیں، عدالتوں میں پیش بھی ہوئے ہیں، اور اثاثوں کے جواب دیئے ہیں.

  • پاکستان اور بھارتی وزرائے خارجہ کا شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس میں ملاقات سے گریز

    پاکستان اور بھارتی وزرائے خارجہ کا شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس میں ملاقات سے گریز

    پاکستانی اور بھارتی وزرائے خارجہ نے شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے وزرائے خارجہ کے اجلاس اور اس کی دیگر تقریبات میں ایک ساتھ شرکت کی لیکن ایک دوسرے سے بات چیت سے گریز کیا۔

    ڈان کے مطابق: "اپریل میں پاکستان میں حکومت کی تبدیلی کے بعد شنگھائی تعاون تنظیم کا اجلاس پہلی کثیرالجہتی تقریب ہے جہاں وزیر خارجہ بننے کے بعد بلاول بھٹو زرداری اور بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے ایک ساتھ شرکت کی ہے۔

    ایک موقع پر دونوں وزرائے خارجہ ازبکستان کے صدر شوکت مرزیوئیف کی مشترکہ ملاقات کا انتظار کر رہے تھے، اس غیر رسمی ماحول میں بھی دونوں وزرائے خارجہ ایک دوسرے سے دور بیٹھ گئے۔

    وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے گزشتہ ماہ اسلام آباد میں ایک حکومتی تھنک ٹینک سے خطاب کرتے ہوئے بھارت کے ساتھ تعلقات کی بحالی کی ضرورت پر زور دیا تھا۔

    انہوں نے اس وقت دلیل دی تھی کہ جنگ اور تنازعات کی ایک طویل تاریخ اور مقبوضہ کشمیر میں بھارتی حکومت کے اقدامات اور اس کے مسلم مخالف ایجنڈے کے باوجود بھارت کے ساتھ تعلقات سے احتراز برتنا پاکستان کے مفاد میں نہیں ہے۔

    لیکن اس کے فوراً بعد دفتر خارجہ نے وضاحت جاری کی کہ بھارت کے بارے میں پاکستان کی اس پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی جس پر قومی اتفاق رائے ہے۔

    تاہم بلاول بھٹو زرداری اور ایس جے شنکر نے شنگھائی تعاون تنظیم کے قوانین اور چارٹر کی پاسداری کرتے ہوئے دو طرفہ تنازعات کا تذکرہ نہیں کیا اور نہ ہی ایک دوسرے پر الزامات لگائے۔

    شنگھائی تعاون تنظیم کے چارٹر میں ایک شق موجود ہے جو رکن ممالک کو تنظیم کے اجلاسوں میں دو طرفہ تنازعات کو موضوع سے روکتی ہے۔

    پاکستانی وزیر خارجہ نے وزرائے خارجہ کی کونسل کے اجلاس میں اپنی تقریر میں شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کے لیے باعث تشویش اہم علاقائی اور بین الاقوامی مسائل پر پاکستان کے نقطہ نظر کو اجاگر کیا۔

    انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مشترکہ خوشحالی شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک اور عالمی سطح پر امن، استحکام اور ترقی کے لیے ضروری ہے۔

    وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ملکوں کی ترقی و خوشحالی کا انحصار ای کامرس، کاروبار کو ڈیجیٹل کرنے، جدت اور ترسیل کے بین الاقوامی سلسلے کے تحفظ جیسے اہم شعبوں پر ہے۔

    انہوں نے کہا کہ پاکستان ازبکستان اور افغانستان کے ساتھ ٹرانز افغان ریل منصوبے پر تیزی سے کام کر رہا ہے، یہ منصوبہ وسطی ایشیائی ممالک کو پاکستان کی بندرگاہوں تک ایک اہم رسائی فراہم کر سکتا ہے اور شنگھائی تعاون تنظیم میں شامل ممالک کے درمیان ٹرانسپورٹ سسٹم کا ایک اہم جزو بن جائے گا۔

    وزیر خارجہ نے کہا کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری پہلے ہی علاقائی رابطے اور خوشحالی کے فروغ میں مدد دینے کیلئے ایک کلیدی پلیٹ فارم کے طور پر کام کر رہی ہے۔

    وزیر خارجہ نے افغانستان میں انسانی بحران کے بارے میں بھی بات کی اور رکن ممالک کو جنگ سے تباہ حال ملک کی مدد کے لیے ان کی ذمہ داری کا احساس دلایا۔

    دریں اثنا بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر نے خطے کو درپیش چیلنجز اور شنگھائی تعاون تنظیم کی توسیع پر بات کی۔

    دفتر خارجہ کے مطابق شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ نے تنظیم کے قیام کے 20 سال بعد اسے درپیش اہم مسائل پر غور کیا جن میں اس کی رکنیت میں توسیع، ایس سی او سیکرٹریٹ کے میکانزم میں بہتری اور عالمی اقتصادی اور سیاسی پیش رفت اور رکن ممالک کے لیے چیلنجز شامل تھے۔

    وزرائے خارجہ نے سماجی و اقتصادی تعاون کے مختلف شعبوں سے متعلق تجاویز کی توثیق کرنے والے 16 فیصلوں پر دستخط کیے اور حیاتیاتی ہتھیاروں کے کنونشن کو مضبوط بنانے سے متعلق مشترکہ مؤقف اپنایا۔

    کانفرنس میں وزیر خارجہ بلاول بھٹو نے چین، قازقستان، کرغزستان، تاجکستان اور ازبکستان کے وزرائے خارجہ سے بھی ملاقات کی۔

    دفتر خارجہ نے کہا کہ ان دو طرفہ ملاقاتوں میں وزیر خارجہ نے مشترکہ دلچسپی کے امور کے ساتھ ساتھ دو طرفہ تعاون اور ان ممالک کے ساتھ سیاسی، اقتصادی اور تجارتی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا۔

  • پاکستان یورپی یونین کے ساتھ تجارتی تعلقات کو انتہائی اہمیت دیتا ہے. وزیر تجارت

    پاکستان یورپی یونین کے ساتھ تجارتی تعلقات کو انتہائی اہمیت دیتا ہے. وزیر تجارت

    یورپی یونین کی سفیر نے جی ایس پی مانیٹرنگ مشن کی جانب سے پاکستان کی عملدرآمدی پراگریس پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔

    وزیر تجارت نے یورپی یونین کی جانب سے دی جانے والی تجاویز پر مکمل تعاون کی یقین دہانی کے عزم کا اظہار کیا۔ وفاقی وزیر تجارت نوید قمر سے یورپی یونین کی سفیر نے ملاقات کی۔وزیر تجارت نے پاکستانی معیشت اور بالخصوص برآمدی شعبے کے لیے جی ایس پی پلس سکیم کی اہمیت کو اجاگر کیا۔

    نوید قمر نے کہا پاکستان یورپی یونین کے ساتھ تجارتی تعلقات کو انتہائی اہمیت دیتا ہے جو پاکستانی مصنوعات کی برآمدات کی سب سے بڑی منزل ہے،جی ایس پی اسکیم نے عالمی اقدار کو فروغ دینے میں مدد کی، انسانی حقوق کے حوالے سے رہ جانے والی قانون سازی جلد ازجلد کر لی جائے گی۔

    یورپی یونین کی سفیرنے جی ایس پی پلس میں وزارت تجارت کے رابطہ کاری کے کردار کو سراہا۔

  • 24 گھنٹوں میں کورونا وائرس سے مزید 3 افراد انتقال کر گئے

    24 گھنٹوں میں کورونا وائرس سے مزید 3 افراد انتقال کر گئے

    پاکستان بھر میں کورونا کی شرح میں مسلسل تیزی دیکھنے میں آ رہی ہے اور مزید تین افراد چل بسے.

    قومی ادارہ صحت کی تازہ رپورٹ کے مطابق: گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس سے مزید 3 افراد انتقال کر گئے۔

    جس کے بعد کورونا مثبت کیسز کی شرح 3.15 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے۔

    قومی ادارہ برائے صحت (این آئی ایچ) کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق ملک میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 19،236ٹیسٹ کیے گئے جن میں سے605 افراد میں وائرس کی تصدیق ہوئی۔

    این آئی ایچ کے مطابق پاکستان میں مثبت کیسز کی شرح تین اعشاریہ ایک پانچ فیصد ریکارڈ کی گئی

    تاہم 176 مریضوں کی حالت اب بھی تشویشناک ہے ۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز کورونا مثبت کیسز کی شرح 3.35 فیصد ریکارڈ کی گئی تھی۔

    کورونا وائرس سے محفوظ رہنے کے لیے احتیاطی تدابیر پر سختی سے عمل پیرا ہونے کے ساتھ ساتھ ماسک پہننا اور ویکسین لگوانا بھی ضروری ہے۔