Baaghi TV

Author: +9251

  • امریکہ نے جرمنی کوساڑھے8 ارب ڈالرزکے جنگی ہتھیارفروخت کرنے کی منظوری دے دی

    امریکہ نے جرمنی کوساڑھے8 ارب ڈالرزکے جنگی ہتھیارفروخت کرنے کی منظوری دے دی

    واشنگٹن:امریکہ نے جرمنی کوساڑھے8 ارب ڈالرزکے جنگی ہتھیارفروخت کرنے کی منظوری دے دی ،اطلاعات کے مطابق جو بائیڈن انتظامیہ نے جرمنی کو F-35 لڑاکا طیاروں، جنگی ساز و سامان اور متعلقہ آلات کی فروخت کی منظوری دے دی جس کی مالیت 8.4 بلین ڈالر کی متوقع ہے۔

    جوبائیڈن سعودی ولی عہد سے براہ راست ملاقات نہیں چاہتے: حکام کا دعویٰ‌

    امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق تقریباً تین درجن F-35 جوائنٹ اسٹرائیک فائٹر کنونشنل ٹیک آف اینڈ لینڈنگ (CTOL) طیاروں کے علاوہ ہے ، اس معاہدے میں 37 پراٹ اینڈ وٹنی F135-PW-100 انجن، سیکڑوں میزائل اور بم، سمیلیٹر اور کنٹریکٹر سپورٹ شامل ہیں۔

    ترک نیوز ایجنسی نے بھی دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ کا خیال ہےکہ ، "یہ مجوزہ فروخت نیٹو کے اتحادی کی سلامتی کو بہتر بنا کر امریکہ کی خارجہ پالیسی اور قومی سلامتی کو سپورٹ کرے گی جو کہ یورپ میں سیاسی اور اقتصادی استحکام کے لیے ایک اہم قوت ہے۔”

     

    یہ بھی کہا گیا ہے کہ "یہ نیٹو کے نیوکلیئر شیئرنگ مشن کی حمایت میں جرمنی کے ریٹائر ہونے والے ٹورنیڈو طیاروں کے بیڑے کے لیے مناسب متبادل فراہم کر کے موجودہ اور مستقبل کے خطرات سے نمٹنے کے لیے جرمنی کی صلاحیت کو بھی بہتر بنائے گا، جو یورپ میں ڈیٹرنس کا مرکز ہے”۔

    اس حوالے سے کانگریس کو جمعرات کو ممکنہ فروخت کے بارے میں مطلع کیا گیا تھا۔

    امریکی صدرجوبائیڈن سائیکل سے گرگئے

    یاد رہے کہ امریکہ میں قانون سازوں کے لئے نوٹیفکیشن 30 دن کی قانون سازی کے جائزے کی مدت کا تعین کرتا ہے جس میں کانگریس فروخت کو نامنظور کرنے والی مشترکہ قرارداد پاس کرسکتی ہے، لیکن کانگریس کی ریسرچ سروس کے مطابق، وہ کبھی بھی کسی لین دین کو نہیں روک سکی

  • محبت پر شنیرا اکرم کا تبصرہ

    محبت پر شنیرا اکرم کا تبصرہ

    عید الاضحی کے موقع پر ہمایوں سعید کی فلم لندن نہیں‌جائونگا ریلیز ہوئی ہے اس فلم کو عوامی سطح پر بہت پسند کیا جا رہا ہے.شائقین کی ایک بڑی تعداد اس فلم کو تازہ ہوا کا جھونکا قرار دے رہی ہے لیکن اداکارہ نور بخاری جنہوں نے شوبز کو خیرباد کہہ دیا ہوا ہے انہوں نے لندن نہیں جائونگا دیکھی اور اداکار و پرڈیوسر ہمایوں سعید پر برسا دئیے تنقید کے نشتر. انہوں نے ہمایوں سعید کو مشورہ دیا کہ اپنی عمر کے حساب سے کردار کریں اس عمر میں اس طرح کے

    کرار اچھے نہیں‌لگتے جو آپ نے لندن نہیں‌جائونگا میں‌کیا ہے. اداکارہ نور بخاری کے اس قسم کے مشورے پر رد عمل دیتے ہوئے وسیم اکرم کی اہلیہ شنیرا اکرم نے کہا ہے کہ میں نہیں جانتی کہ نور کیا کہنا چاہ رہی ہیں لیکن میرے حساب سے محبت تو کسی بھی عمر میں‌ہوجاتی ہے، اور بعض لوگوں‌کو تو محبت بڑی عمر میں جا کر ملتی ہے.انہوں نے کہا کہ دنیا میں بہت سارے لوگ طلاق یافتہ ہیں، غیر شادی شدہ ، بیوائیں ہیں ان کو نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے. محبت کرنے کےلئے کوئی خاص عمر نہیں‌ہے. میرے تجربے کے مطابق زندگی کے دوسرے حصے میں ناقابلِ یقین محبت کی کہانیاں بہت زیادہ ہوتی ہیں۔

  • سیلاب نے تباہی مچادی "این ڈی ایم اے” اور "پی ڈی ایم اے” کہاں ہیں؟

    سیلاب نے تباہی مچادی "این ڈی ایم اے” اور "پی ڈی ایم اے” کہاں ہیں؟

    عام طور پر بارش کو باعثِ رحمت سمجھا جاتا ہے کیونکہ اس کے ہونے سے موسم کافی سہانا ہوجاتا ہے چاہے گرمیاں ہوں یا سردیاں رومانوی شخصیت کے حامل افراد بارش کیلئے دعا ضرور کرتے ہیں، اور اگر آپ گرم علاقے میں رہ رہے ہیں اور اوپر سے موسم بھی گرمیوں کا ہے تو پھر آپ میں سے ہر شخص کی خواہش ہوتی ہے کہ بارش ہوجائے تاکہ کم از کم گرمی کا زور ٹوٹ جائے۔

    بارش کی خواہش محض گرمی بھگانے یا موسم کو سہانا بنانے کیلئے نہیں کی جاتی بلکہ اس کے علاوہ ایسے علاقے جو نہری نہیں اور وہاں کے کسانوں کی فصل اگنے کا انحصار بارش پر ہوتا وہ بھی خواہش رکھتے ہیں کہ بارش ہو تاکہ فصل کاشت کرسکیں۔

    لیکن اگر بارشیں حد سے زیادہ ہونا شروع ہوجائیں اور پھر موسمیاتی تبدیلیوں کے مسائل بھی ہوں تو یہ رحمت پھر زحمت میں تبدیل ہوجاتی ہے۔


    حالیہ دنوں ہونے والی بارشوں نے بلوچستان اور جنوبی پنجاب میں تباہی مچادی ہے اس تباہی کی ایک ویڈیو شیئر کرتے ہوئے علی سلمان علوی نے مطالبہ کیا ہے کہ: ‏طوفانی بارشوں اور سیلاب نے بلوچستان اور جنوبی پنجاب کے سرائیکی علاقوں میں تباہی مچا دی جس میں ڈیرہ غازی خان، اتھل، جھل مگسی اور لسبيلہ شديد تباہی کی زد ميں ہيں.


    انہوں نے مزید کہا: بلوچستان اور پنجاب کے سرائیکی علاقوں ميں ہنگامی بنیادوں پر ہيلی کاپٹرز، کشتیوں اور امدادی سامان کا بندوبست کيا جائے۔
    ایک صارف حسن ریاض کہتے ہیں: امپورٹڈ حکومت اپنے زاتی مفادات میں مصروف عمل ہے جبکہ سیلاب سے بلوچستان ڈوب رہا ہے.


    انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ: سیلاب زدگان کیلئے جلد از جلد ریلیف کا بندوبست کیا جائے.

    ایک شہری نزر شاہ نے گھروں کی تباہ شدہ تصاویر شیئر کرتے ہوئے لکھا: اپر کوہستان تحصیل داسو اچھار نالہ اور تحصیل کندیا کے دیگر علاقے سیلاب کی لپیٹ میں ہیں جس سے متعدد گھر اجڑ گئے جبکہ گاڑیاں اور فصلیں سیلاب کی موجوں کی نظر ہوگئی ہیں.


    ان کا کہنا تھا کہ: عوام شدید مشکلات میں ہیں اور لوگ گھنٹوں پیدل دشوار راستوں پر سفر کرنے پر مجبورلیکن دوسری جانب صوبائی و وفاقی حکومت تماشائی بنائی ہوئی ہے.

    شہری لیاقت بلوچ نے کہا: تاریخ میں لکھا جائے گا کہ ایک وقت ایسا بھی تھا جب ایک صوبہ موسلا دھار بارشوں سے بہت زیادہ متاثر ہوا ہوگیا تھا اور سیلاب سے لوگ مررہے تھے جبکہ املاک، مال مویشی اور زراعت سب سیلاب کی نظر ہوگئے لیکن ریاست اور اسکی تمام تر مشینری تخت لاہور کو بچانے گئے ہوئے تھے۔
    دوسری جانب جھل مگسی کے ایک سردار جس کا نام میر طارق خان بتایا جارہا ہے کی ایک ویڈیو بھی وائرل ہے جس میں وہ کسی سیلاب والے پانی کو دیکھ رہے ہیں اور اس موقع پر جب ان سے کچھ افراد ہاتھ ملانا چاہتے ہیں تو وہ انہیں ہاتھ نہیں ملاتا.


    ایک ویڈیو پر تبصرہ کرتے ہوئے فہمیدہ یوسف نے لکھا: "سردار صاحب! ہاتھ ملانے کے لئے ایک بندہ رکھ لیں بلوچستان کے عام لوگوں کو ویسے بھی آپ سرداروں نے بھیڑ بکریاں سمجھا ہوا ہے”

    ایک صارف نے سوال کیا کہ: "سیلاب نے تباہی مچادی "این ڈی ایم اے” اور "پی ڈی ایم اے” کہاں ہیں؟

  • ریمبو کو کس چیز سے ملتی ہے خوشی ؟

    ریمبو کو کس چیز سے ملتی ہے خوشی ؟

    پاکستان ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والے ڈرامہ گیسٹ ہائوس نے بہت سارے آرٹسٹوں کو راتوں رات سٹار بنا دیا تھا اور افضل خان عرف جان ریمبو کا شمار بھی انہی آرٹسٹوں میں‌ہوتا ہے جو رات رات سٹار بن گئے. جان ریمبو کہتے ہیں کہ مجھے بہت خوشی ہوتی ہے جب میں کہیں جائوں اور کوئی مجھے کہے کہ گیسٹ ہائوس کا فلاں ڈائیلاگ سنائیں. اس دور میں کیا جانے والا کام ایسا تھا کہ جو لوگوں کو آج تک یاد ہے. میرا اصل نام افضل خان ہے لیکن جان ریمبو نام میرے زندگی سے جڑ چکا ہے یہ میرا اثاثہ ہے.

    جان ریمبو نے اپنے حالیہ ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ ہمارے ملک میں بہت زیادہ ٹیلنٹ ہے لیکن اس ٹیلنٹ کو ضائع کیا جا رہا ہے مجھے اس چیز کا بہت افسوس ہے. بہت سارے ملکوں میں ٹی وی کواصلاح کا زریعہ سمجھا جاتا ہے اور وہ اس پلیٹ فارم سے اسی قسم کا کام لے رہے ہیں لیکن ہم ایسا نہیں‌کررہے . ٹی وی ہر گھر میں دیکھا جاتا ہے اور اس میڈیم سے جو فائدے اٹھانے چاہیں تھے ان فوائد کو نظر انداز کیا جا رہا ہے. ہمارے لکھاریوں‌کو چاہیے کہ وہ نوجوان نسل کی راہنمائی کرے. رائٹرز معاشرے میں‌تبدیلی لانے کا باعث بھی بنتے ہیں اور ہمارے ہاں بہت اچھے رائٹرز ہر دور میں ہی رہے ہیں

  • امریکی عوام  جوبائیڈن کواگلےصدرکےطورپرنہیں دیکھنا چاہتے:سروے رپورٹ

    امریکی عوام جوبائیڈن کواگلےصدرکےطورپرنہیں دیکھنا چاہتے:سروے رپورٹ

    نیویارک:امریکی عوام صدر جوبائیڈن کواگلے صدر کے طورپرنہیں دیکھنا چاہتے:سروے رپورٹ میں انکشاف ،اطلاعات کے مطابق امریکی عوام نے 2024 کےلیے جوبائیڈن کی بجائے اپنے اگلے صدر کے طور پر جوبائیڈن کی بجائے کسی اور پرامیدیں لگا لی ہیں، جمعرات کو جاری ہونے والے تازہ ترین نیوز نیشن/ڈیسیژن ڈیسک ہیڈکوارٹر پول کے مطابق ووٹرز نہیں چاہتے کہ صدر جو بائیڈن دوبارہ الیکشن لڑیں، لیکن وہ سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ٹکٹ پر بھی نہیں دیکھنا چاہتے۔

    سروے میں شامل تمام ووٹروں میں سے 60 فیصد سے زیادہ نے کہا کہ بائیڈن کو صدر کے لیے انتخاب نہیں لڑنا چاہیے۔ دی ہل نے رپورٹ کیا کہ ڈیموکریٹس میں سے 30 فیصد نے کہا کہ انہیں 2024 سے باہر بیٹھنا چاہیے۔اسی طرح کل ووٹروں میں سے تقریباً 57 فیصد نے کہا کہ ٹرمپ کو صدر کے لیے انتخاب نہیں لڑنا چاہیے۔ چھبیس فیصد رائے دہندگان ریپبلکن کسی اور کو بطور امیدوار چاہتے ہیں۔

    ہل وائٹ ہاؤس کے کالم نگار نیل سٹینج نے کہا کہ یہ 2020 کے متنازعہ صدارتی انتخابات کی یادیں ہو سکتی ہیں جنہوں نے ووٹرز کو موجودہ اور سابق صدر دونوں سے دور کر دیا۔

    کالم نگار کا کہنا ہے کہ "اس کا ایک حصہ، ایمانداری سے، مجھے لگتا ہے کہ اس انتخاب کی تلخی اور دشمنی کا تعلق ہے،” سٹینج نے مزید کہا، "مجھے شک ہے کہ وہاں بہت سارے ووٹرز ہیں، خاص طور پر درمیانی میدان میں یا زیادہ اعتدال پسند ووٹرز۔ ہر پارٹی، جو صرف یہ نہیں چاہتی کہ اس سارے عمل پر دوبارہ مقدمہ چلایا جائے کیونکہ یہ اتنا منقسم الیکشن تھا۔

    ڈیموکریٹک اور ریپبلکن امیدواروں میں اگلے سب سے زیادہ مقبول نائب صدر ہیرس تھے، بالترتیب 16 فیصد، اور فلوریڈا کے گورنر رون ڈی سینٹیس، بالترتیب 23 فیصد تک رہی ہے

    ڈیسک ہیڈکوارٹر کے سینئر ڈیٹا سائنسدان کیل ولیمز نے کہا، تاہم یہ بتانا بہت جلد ہے کہ انتخابات کیسے ہو سکتے ہیں۔ ولیمز نے کہا کہ یہ بھی ممکن ہے کہ وسط مدتی انتخابات سے چار ماہ بعد، بہت سے ممکنہ امیدوار ابھی تک گھریلو نام نہیں بن پائے ہیں۔ولیمز نے کہا ، "میرے خیال میں اس میں سے زیادہ تر رائے دہندگان میں صرف نام کی شناخت کی کمی ہے۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ امریکی عوام اب جوبائیڈن کو صدر کے طورپرنہیں دیکھنا چاہتے

  • پی ٹی وی سے نشر ہونے والا مہنگا ترین مارننگ شو جگن کاظم کریں گی

    پی ٹی وی سے نشر ہونے والا مہنگا ترین مارننگ شو جگن کاظم کریں گی

    پاکستان ٹیلی ویژن کی تاریخ کا مہنگا ترین مارننگ شو شائستہ واحدی کی بجائے جگن کاظم کریں گی. کہا جا رہا ہے کہ مارننگ شو کا سیٹ پچیس لاکھ میں تیار کروایا گیا ہے اور ہوسٹ جگن کاظم کو ماہانہ تئیس لاکھ پچھتر ہزار دیا جائیگا. نیوز ایجنسی کی ایک رپورٹ کے مطابق پی ٹی وی کی تاریخ میں اتنا مہنگا شو کبھی نہیں ہوا یہ اپنی نوعیت کا پہلا شو ہے جو اتنا مہنگا کیا جا رہا ہے اس شو کے شیف اور اس سے جڑے لوگوں‌کو بھاری معاوضے ادا کیے جا رہے ہیں. اس شو کے پرڈیوسر عمر جاوید اور سدرہ طارق ہیں. کہا جا رہا ہے کہ پہلے اس شوکی میزبان شائستہ واحدی تھیں لیکن جب معاملات طے ہو کر سامنے آئے ہیں تو تب پتہ چلا ہے کہ جگن کاظم کو ہوسٹ فائنل کر لیا گیا ہے.

    شوکی تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں، پی ٹی سے جڑے بہت سارے لوگ اس قسم کے مہنگے شو پر تنقید کررہے ہیں اس حوالے سے جب پی ٹی وی لاہور کے ایم ڈی سے بات کی گئی تو انہوں نے کہا کہ جگن کتنے پیسے لے رہی ہیں اس شو کے لئے یا کتنے نہیں میں اس حوالے سے کچھ نہیں بتائوں گا لیکن میں اتنا ضرور کہوں گا کہ جگن کاظم یقینا ایک قابل ہوسٹ ہیں.

  • قیصر نظامانی نے کس سیاسی جماعت کے پلیٹ فارم سے الیکشن لڑا

    قیصر نظامانی نے کس سیاسی جماعت کے پلیٹ فارم سے الیکشن لڑا

    فضیلہ قاضی اور قیصر نظامانی نے پی ٹی سے ڈراموں کا آغاز کیا، ان دونوں‌ کو بہت پسند کیا جاتا ہے. فضیلہ آج بھی ٹی وی ڈراموں‌ میں نظر آجاتی ہیں لیکن قیصر خان بہت کم , یوں کہیے کہ سال میں مشکل سے ایک ڈرامے میں نظر آتے ہیں. قیصر نظامانی نے حال ہی میں‌ایک انٹرویو دیا ہے اس میں‌انہوں‌نے کہا کہ مجھے اداکاری میں جتنی دلچپسی رہی ہے اتنی ہی سیاست میں بھی رہی ہے. یہی وجہ ہے کہ میں نے پاکستان پیپلز پارٹی کے پلیٹ فارم سے الیکشن بھی لڑا.اداکاری اور سیاست دونوں ایسے شعبے میں ہیں کہ دونوں سے ہی عوام کی خدمت کی جا سکتی ہے.

    کم کم ڈراموں میں اس لئے نظر آتا ہوں کیونکہ میں اپنے وکالت کے کام میں کافی مصروف ہوں. قیصر نظامانی نے کہا کہ میرا ریکارڈ ہے کہ میں نے ہمیشہ نئے چہروں کو متعارف کروایا . پاکستان ٹی وی کے بہت سارے فنکاروں‌ نے اپنے کیرئیر کی شروعات میں میرے ڈراموں سے شہرت حاصل کی. اس انٹرویو میں ایک سوال کے جواب میں قیصر نظامانی نے کہا کہ ڈائریکشن اداکاری سے کہیں زیادہ مشکل کام ہے. یہ میرا ذاتی تجربہ ہے کہ ڈائریکشن اداکاری سے زیادہ مشکل کام ہے. یاد رہے کہ قیصر نظامانی اداکار ہونے کے ساتھ ساتھ وکیل بھی ہیں وہ کیسز لڑتے ہیں عدالت جاتے ہیں انہوں نے اپنے وکالت کے کیرئیر پر بھی کافی توجہ دی ہے.

  • برطانیہ میں دولت مشترکہ کھیلوں کا آغاز،پاکستان 12 کھیلوں میں قسمت آزمائی کرےگا

    برطانیہ میں دولت مشترکہ کھیلوں کا آغاز،پاکستان 12 کھیلوں میں قسمت آزمائی کرےگا

    لندن:برطانیہ کے شہر برمنگھم میں رنگا رنگ تقریب کے ساتھ دولت مشترکہ کھیلوں کا آغآز ہوگیا ہے۔برمنگھم میں دولت مشترکہ کھیلوں کے افتتاح کےموقع پررنگا رنگ افتتاحی تقریب میں فن کاروں نےسماں باندھ دیا۔

    تقریب میں شہزادہ چارلس نے بطورمہمان خصوصی شرکت کی۔تقریب میں قومی دستے کی قیادت کرکٹر بسمہ معروف اور ریسلر انعام بٹ نے کی۔دولت مشترکہ کھیلوں میں پاکستان کا 103 رکنی دستہ شریک ہے۔ قومی کھلاڑی 12 مختلف کھیلوں میں حصہ لیں گے۔

    پاکستان ویمن کرکٹ ٹیم اپنا پہلا میچ آج بارباڈوس کےخلاف کھیلےگی جبکہ قومی ایتھلیٹس اوربیڈمنٹن ٹیم بھی اپنےمیچزآج کھیلیں گی۔ان کےعلاوہ جہاں آراء 200 میٹر اسٹائل اور بسمہ خان 100 میٹر بٹرفلائی کے مقابلوں میں حصہ لیں گی۔باکسنگ میں تیرسٹھ اعشاریہ پانچ کیٹیگری میں پاکستان کے سلمان بلوچ بھارت کے تھاپا شاوا کے مدمقابل ہوں گے۔

    پاکستان کی شاندانہ گلزار بھارت کی مخالفت کے باجود دولت مشترکہ خواتین پارلیمنٹیرینز

    دولت مشترکہ کی تنظیم کیا ہے اور پاکستان کا اس سے کیا تعلق ہے؟

    اقوام کی دولت مشترکہ ان ملکوں کی تنظیم ہے جو برطانیہ کی نو آبادیاتی رہے ہیں۔ یہ تنظیم 1926ء میں اس وقت قائم ہوئی جب سلطنت برطانیہ کا زوال شروع ہوا۔ اس تنظیم کے 53 رکن ممالک ہیں جن میں پاکستان ، بھارت اور دیگر ممالک بھی شامل ہیں۔ ان کے علاوہ دیگر دولت مشترکہ بھی موجود ہیں جن میں آسٹریلیا کی دولت مشترکہ اور آزاد ممالک کی دولت مشترکہ شامل ہیں لیکن اقوام کی دولت مشترکہ ایک الگ تنظیم ہے۔

    بھارت کو ایک اور رسوائی کا سامنا،دولت مشترکہ کی خواتین پارلیمنٹیرینزتنظیم

    اقوام کی دولت مشترکہ کی اصطلاح 1884ء میں لارڈ روزبیری کے دورۂ آسٹریلیا کے موقع پر وجود میں آئی۔ دولت مشترکہ سیاسی تنظیم نہیں۔ ملکہ برطانیہ ایلزبتھ دوم دولت مشترکہ کی سربراہ ہیں جبکہ تنظیمی معاملات معتمد عام (سیکرٹری جنرل) دیکھتا ہے تاہم یہ واضح رہے کہ ملکہ برطانیہ یا معتمد عام کا کسی رکن ملک یا اس کی حکومت پر کوئی اختیار نہیں اور تمام 53 رکن ممالک آزاد ہیں۔ تنظیم کے قائم کرنے کا مقصد رکن ممالک میں اقتصادی تعاون کو فروغ دیناجمہوریت کو فروغ دینااور حقوق انسانی کی پاسداری ہے۔

    دولت مشترکہ کی پارلیمانی ایسوسی ایشن کی کانفرنس کا انعقاد خوش آئند ہے، اسد قیصر

    دولت مشترکہ کے تمام ممالک کی کل آبادی 1.975 ارب ہے جو دنیا کی کل آبادی کا 31 فیصد بنتا ہے۔دولت مشترکہ کے 4 بڑے ممالک بھارت (1،100 ملین)، پاکستان (200ملین)، بنگلہ دیش (141 ملین) اور نائیجیریا (137 ملین) ہیں۔ٹووالو بلحاظ آبادی سب سے چھوٹا رکن ہے جس کی آبادی صرف 11 ہزار افراد پر مشتمل ہے۔تمام 53 رکن ممالک کا کل رقبہ 12.1 ملین مربع میل ہے جو زمین کے کل رقبے کا 21 فیصد بنتا ہے۔رقبے کے لحاظ سے دولت مشترکہ کے تین بڑے ممالک کینیڈا (3.8 ملین مربع میل)، آسٹریلیا (3 ملین مربع میل) اور بھارت (714 ہزار مربع میل) ہیں۔

    تمام رکن ممالک کی معیشت عالمی اقتصادیات کا 16 فیصد بنتی ہے۔

    اس وقت دولت مشترکہ کے معتمد عام ڈون میک کینون ہیں جو 1999ء سے اس عہدے پر فائز ہیں جبکہ رینزفورڈ اسمتھ نائب سیکرٹری معتمد عام ہیں۔ تنظیم کا صدر دفتر برطانیہ کے دار الحکومت لندن میں واقع ہے۔

    ارکان میں سے 16 ممالک ملکہ برطانیہ کو سربراہ مملکت تسلیم کرتے ہیں جبکہ اکثر رکن ممالک کے اپنے سربراہان مملکت ہیں۔ہر 4 سال بعد اولمپک کھیلوں کی طرز پر دولت مشترکہ کھیل بھی منعقد ہوتے ہیں۔

     

    پاکستان نے 1972ء میں دولت مشترکہ کی جانب سے بنگلہ دیش کو تسلیم کیے جانے پر احتجاجا دولت مشترکہ کی رکنیت چھوڑ دی تھی تاہم 1989ء میں ایک مرتبہ پھر تنظیم میں شمولیت اختیار کرلی۔ 1999ء میں جمہوری حکومت کے خاتمے کے بعد دولت مشترکہ نے پاکستان کی رکنیت معطل کردی تھی تاہم 2004ء میں اسے بحال کر دیا گیا۔

    کرکٹ اور رگبی کے کھیل، سڑک اور پٹری کے بائیں جانب ڈرائیونگ کا نظام اور امریکی کی بجائے برطانوی انگریزی کا استعمال دولت مشترکہ کے رکن ممالک کی پہچان ہیں۔

  • یہ وقت سیاسی دکانداری کا نہیں. وزیر خارجہ

    یہ وقت سیاسی دکانداری کا نہیں. وزیر خارجہ

    وزیر خارجہ بلاول بھٹو زردای نے کہا ہے کہ یہ وقت سیاسی دکانداری چمکانے کا نہیں بلکہ ہم وطنوں کے ساتھ کھڑے ہونے کا ہے۔

    وزیر خارجہ بلاول بھٹو زردای نے بلوچستان میں بارشوں کے باعث جانی و مالی نقصان پر اظہار افسوس کرتے ہوئے انتظامیہ کو متاثرین کی ہر ممکن امداد یقینی بنانے کی ہدایت کی۔

    انہوں نے کہا کہ بارشوں کے باعث بلوچستان سمیت ملک کے مختلف علاقے متاثر ہوئے ہیں اور بلوچستان کے متاثرہ لوگوں کو مشکل گھڑی میں اکیلا نہیں چھوڑیں گے۔ متاثرین کی امداد، بحالی اور موسمیاتی تبدیلوں پر قابو پانا ترجیحات میں شامل ہیں۔

    بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ یہ وقت سیاسی دکانداری چمکانے کا نہیں بلکہ ہم وطنوں کے ساتھ کھڑے ہونے کا ہے۔کارکنان ملک بھر میں جاری امدادی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر اپنا فرض نبھائیں۔

    واضح رہے کہ بلوچستان میں ہونے والی حالیہ بارشوں نے تباہی مچا دی ہے اور طوفانی بارشوں کے نتیجے میں 100 سے زائد گھر تباہ جبکہ 111 سے زائد افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔

    دوسری جانب وزیر خارجہ کی تاشقند میں ازبکستان کے صدر شوکت مرزایوف سے ملاقات ہوئی ہے.

    بلاول بھٹو زرداری کا دونوں ملکوں کے قریبی برادرانہ اور تاریخی تعلقات پر زور اور اچھے تعلقات پر خوشی کا اظہار

    وزیر خارجہ نے وزیراعظم محمد شہباز شریف کی جانب سے تہنیتی پیغام بھی پہنچایا۔

  • میرا ریکارڈ ہے میں نے کبھی ذومعنی جملہ نہیں بولا امانت چن

    میرا ریکارڈ ہے میں نے کبھی ذومعنی جملہ نہیں بولا امانت چن

    امانت چن کا شمار سٹیج کے ایسے فنکاروں میں ہوتا ہے جن کو لوگ دیکھنا سننا پسند کرتے ہیں. فیملیاں ان کا ڈرامہ دیکھنے کےلئے تھیٹر کا رخ کرتی رہی ہیں.حال ہی میں امانت چن نے ایک انٹرویو دیا ہے اس میں انہوں نے کہا ہے کہ میرا ریکارڈ ہے کہ میں نے کبھی زو معنی جملہ نہیں بولا نہ ہی میں ایسا کرکے داد وصول کرنے کے ھق میں ہوں. ضروری نہیں ہے کہ فحش جملے بول کر ہی سامنے والوں‌کی توجہ حآصل کی جائے. امانت چن نے کہا کہ میں جگت بازی کو پسند نہیں‌ کرتا ہے، ہمیشہ اپنے روز مرہ کے عام سٹائل کو سٹیج پر پیش کرتا ہوں. میں‌نے ہمیشہ وہ حرکت کی جو تہذیب کے دائرے میں‌ ہو. ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سٹیج کی جو صورتحال ہے وہ دیکھ کر افسوس ہوتا ہے بہت ضروری ہے کہ ہم سب ملک کر اس کی بحالی کے لئے کام کریں تاکہ فیملیز پھر سے بہترین اینٹرٹینمنٹ کے لئے سٹیج کا رخ کریں.

    امانت چن نے یہ بھی کہا کہ پاکستان میں بہت زیادہ ٹیلنٹ موجود ہے لیکن افسوس یہ ہے کہ ان کے پاس سیکھنے کے مواقع نہیں ہیں. امانت چن نے سٹیج کی صورتحال کو بہتر کرنے پر زور دیا اور کہا کہ انہوں نے جب سٹیج پر کام کرنا شروع کیا تو اس وقت فیملیاں‌جوک در جوک سٹیج کا رخ کرتی تھیں لیکن اب ایسا نہیں‌ہے.