Baaghi TV

Author: +9251

  • ختم نبوت, مہر نبوت اور صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کی جماعت!!! — بلال شوکت آزاد

    ختم نبوت, مہر نبوت اور صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کی جماعت!!! — بلال شوکت آزاد

    میرا مشاہدہ اور قیاس ہے کہ جیسی صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کی جماعت آنحضرت محمد صل اللہ علیہ والہ وسلم کو میسر تھی اس کا چوتھا حصہ بھی اگر حضرت عیسی علیہ السلام کو میسر ہوتا تو شاید وہ ہی آخری نبی ہوتے۔

    لیکن ان کو محض چند ہی صحابی میسر ہوئے جو کافی کمزور اور بے بس بھی تھے اسی لیے حضرت عیسی علیہ السلام پر نبوت ختم نہ ہوئی جبکہ بہت سی آفاقی و الہامی باتوں و پیش گوئیوں کے ساتھ ساتھ حضرت محمد صل اللہ علیہ والہ وسلم کو صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کی ایسی جماعت میسر ہونا جو ان کی زندگی اور بعد از زندگی اسلام کی ترویج, ترغیب اور تبلیغ کے ساتھ ساتھ اسلام کی حفاظت کا ذمہ بھرپور انداز میں لے سکیں, بھی ختم نبوت کی ایک بڑی اور عظیم نشانی ہے۔ ۔ ۔

    مزید یہ کہ حضرت آدم علیہ السلام سے لیکر حضرت عیسی علیہ السلام تک کسی نبی کو صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین جیسی جماعت میسر نا ہونا بھی مشیت ایزدی اور نبی حضرت محمد صل اللہ علیہ والہ وسلم کی ختم نبوت کی عظیم نشانی اور گواہی ہے۔

    ایک اور بات کہ چلو بہت بڑی جماعت نہ بھی میسر ہوتی چلو عشرہ مبشرہ جیسے صحابی رضوان اللہ علیہم اجمعین ہی میسر ہوتے یا یہ بھی نہ صحیح تو چلو خلفائے راشدین سے چار صحابی رضوان اللہ علیہم اجمعین ہی میسر ہوتے تو منظر قدرے مختلف ہوتا حضرت عیسی علیہ السلام کی نبوت, شریعت اور امت کا۔

    لیکن اللہ نے جو جو اور جیسا جیسا لکھا تھا ویسا ہی ہونا تھا سو ہوا اور دنیا کو حضرت محمد صل اللہ علیہ والہ وسلم تو ملے ہی ملے لیکن ان کے ساتھ بونس میں صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین بلخصوص حصرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ, حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ, حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ اور حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ بھی ملے اور یہ سلسلہ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ تعالی عنہ, حضرت ابو عبیدہ بن الجراح رضی اللہ تعالی عنہ, حضرت عمیر بن عوف رضی اللہ تعالی عنہ, حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالی عنہ, حضرت بلال رضی اللہ تعالی عنہ, حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ تعالی عنہ, حضرت ابو سفیان رضی اللہ تعالی عنہ, حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ, حضرت زید ابن الخطاب رضی اللہ تعالی عنہ, حضرت حسن رضی اللہ تعالی عنہ, حضرت حسین رضی اللہ تعالی عنہ, حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالی عنہ اور حضرت عمرو ابن عاس رض اللہ تعالی عنہ وغیرہ سے دراز اور چمکدار ہوگیا۔

    صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کے فضائل بزبان نبی صل اللہ علیہ والہ وسلم اور مہر بجانب اللہ کہ

    "میں ان سے راضی ہوگیا”,

    میری بات یا قیاس کو تقویت دیتے ہیں کہ بیشک صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین ختم نبوت, مہر نبوت اور دین محمدی کی تکمیل کا ایک اہم اور لازمی جزو اور باب ہیں۔

    یعنی قصہ مختصر یہ کہ میرے نبی صل اللہ علیہ والہ وسلم کا ہر صحابی رضی اللہ تعالی عنہ دراصل ختم نبوت پر مہر تصدیق اور قیامت تک پہریدار ہے۔

  • ‏عدالتی اصلاحات کے بغیر جمہوریت کا سفر نا مکمل ہوگا،ایک پاکستان میں 2 آئین نہیں چلیں گے۔ بلاول

    ‏عدالتی اصلاحات کے بغیر جمہوریت کا سفر نا مکمل ہوگا،ایک پاکستان میں 2 آئین نہیں چلیں گے۔ بلاول

    اسلام آباد:پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئر مین اور وفاقی وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے کہاہے کہ ایسے نہیں ہوسکتا ہمارے لیے ایک اورلاڈلے کے لیے دوسرا آئین ہو، ہمارا کام آئین بنانا اورعدلیہ کا کام تشریح کرنا ہے، خود ترمیم لانا نہیں، ایسا نہیں ہوسکتا تین جج آئین تبدیل کردیں۔ مشترکہ پارلیمانی کمیٹی بنادی جائے جس میں ہم قانون سازی کریں گے، ہم فیصلہ کریں گے کتنے ججز کو بنچ میں بیٹھنا چاہیے، اگراسپیکرکی رولنگ پرفیصلہ سنانا چاہتے ہیں تو سو بسم اللہ مگر پورے ججز کو بٹھانا ہو گا۔

    قومی اسمبلی کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر خارجہ نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتوں کا ایک ہی مطالبہ تھا، ہم کسی ادارے کو دباؤ میں ڈالنے کی کوشش نہیں کر رہے تھے، صرف یہ گزارش کی تھی فل کورٹ بیٹھ کر فیصلہ سنا دے، ہم نے کہا تھا فل کورٹ کا جو بھی فیصلہ ہوا ہم مانیں گے، یہ مطالبہ صرف وزیراعلیٰ پنجاب کے معاملے پر نہیں تھا، ڈپٹی سپیکررولنگ کے حوالے سے ہمارا فل کورٹ کا مطالبہ تھا۔

    انہوں نے کہا کہ سابقہ حکومت نے آئین توڑا میرا تب بھی یہی مطالبہ تھا، آئین پاکستان کی تشکیل کے لیے 30 سال کا عرصہ لگا، شہید بے نظیربھٹونے آئین کی بحالی کے لیے جدوجہد کی، آئین میں ترمیم کے لیے دوتہائی اکثریت درکارہوتی ہے۔ صوبوں کوحقوق دینے کے لیے اٹھارویں ترمیم لائے، ہردن عوام کے مینڈیٹ اور جمہوریت پرحملے ہوتے رہے، عدلیہ بحالی تحریک، کراچی کے جیالوں کو گولیاں ماری گئیں، سابق چیف جسٹس افتخارچودھری ایسے فیصلے دیتے تھے جو آئین وقانون کے مطابق نہیں ہوتے تھے، ہم اپنا کام کرتے رہے اور جمہوریت کو بحال کیا، کبھی ٹماٹر، کبھی آلوؤں کی قیمت پر سوموٹولیتے تھے، ہم نے ملک اورقوم کے ساتھ جوڈیشل ریفارمز کا وعدہ کیا تھا۔ جوڈیشل ریفارمزیہ ہاؤس کرے گی۔

    پیپلز پارٹی کے چیئر مین کا کہنا تھا کہ مانتا ہوں دھمکی میں آکر19ویں ترمیم پاس کی، ہمیں آئین کوتبدیل نہیں کرنا چاہیے تھا، اس وقت کی اپوزیشن شائد اس قسم کی جوڈیشل ایکٹوزم سے خوش تھی، ٹوتھرٖڈ میجورٹی رکھنے والے وزیراعظم کو گھر بھیج دیا گیا، 2018ء کے الیکشن میں چند ججز کا رول تھا، صاف نظر آرہا تھا چند ججزالیکشن کمپین میں حصہ لے رہے تھے، ثاقب نثارہمارے خلاف الیکشن مہم چلارہا تھا، پولنگ والے دن فیصل صالح حیات الیکشن جیت رہا تھا، ثاقب نثارنے ری پولنگ کی مخالفت کی تھی، یہ جناب سپیکرمتنازع کردارہے۔

    بلاول بھٹو نے کہا کہ سلیکٹڈ نظام بٹھانے کے لیے کردار آئینی نہیں متنازع کردارادا کررہے تھے، ہم چاہتے ہیں وہ متنازع نہیں آئینی کردارادا کریں، اسٹیبلشمنٹ،عدلیہ کا کردارمتنازع نہیں ہونا چاہیے، یہی وجہ تھی ہم نے فل کورٹ کا مطالبہ کیا تھا، ایسے نہیں ہوسکتا ایک آئین نہیں، دوآئین اوردوپاکستان ہو، مجھے فرق نہیں پڑتا پرویزالہیٰ یا حمزہ شہبازوزیراعلیٰ پنجاب ہو، ایسے نہیں ہوسکتا ہمارے لیے ایک اورلاڈلے کے لیے دوسرا آئین ہو، ہمارا کام آئین بنانا اورعدلیہ کا کام تشریح کرنا ہے، خود ترمیم لانا نہیں، ایسا نہیں ہوسکتا کہ تین جج آئین تبدیل کردیں، جوڈیشل ریفارمزکرنے تک جمہوریت کا سفرنامکمل ہوگا۔

    اُنہوں نے مزید کہا کہ 2018ء کے انتخابات کے دوران ایسا لگتا تھا کہ کئی ججز انتخابی مہم میں حصہ لے رہے ہیں ، سابق چیف جسٹس ثاقب نثار ہمارے خلاف مہم چلا رہے تھے، 2018 سے اپریل 2022 تک سلیکٹڈ حکومت کو بچانے کے لیے اداروں نے متنازعہ کردار ادا کیا، عدلیہ اور سٹیبلشمنٹ کا کردار غیر متنازعہ ہونا چاہیے، اسی لیے ہم نے فل کورٹ کا مطالبہ کیا تھا، ایسا نہیں ہو سکتا دو آئین پاکستان ہوں، ایک فیصلے کے مطابق پارٹی سربراہ کی ہدایات ضروری ہے، دوسرے فیصلے کے مطابق پارلیمانی پارٹی کی ہدایات ضروری ہیں، عدالتی اصلاحات کے بغیر جمہوریت کا سفر نا مکمل ہوگا، سپریم کورٹ کا مطلب صرف چیف جسٹس نہیں ہے، سپیکر صاحب میرا مطالبہ ہے مشترکہ پارلیمانی کمیٹی بنائی جائے، یہ ہم طے کریں گے پارلیمان سے متعلق کیسز میں کتنے ججز کو بیٹھنا چاہئیے، پارلیمان سے متعلق کیس میں تمام ججز کو بٹھا کر فیصلہ کرنا ہوگا۔

    وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ مشترکہ پارلیمانی کمیٹی بنادی جائے جس میں ہم قانون سازی کریں گے، ہم فیصلہ کریں گے کتنے ججز کو بنچ میں بیٹھنا چاہیے، اگراسپیکرکی رولنگ پرفیصلہ سنانا چاہتے ہیں تو سو بسم اللہ مگر پورے ججز کو بٹھانا ہو گا، جناب سپیکر آپ قدم بڑھائیں، پیپلزپارٹی جوڈیشل ریفارمزکے لیے تیارہے، ایک رات کی نیوٹریلٹی سے 70سال کے گناہ معاف نہیں ہوسکتے، شہبازشریف کے پاس مسائل کوحل کرنے کے لیے جادوکا چراغ نہیں، عوام کوپتا ہے خان صاحب نے تاریخی قرض لیے، ماننے کوتیارنہیں عوام اس قسم کے لوگ کومعاف کرنے کو تیارہوں گے، ہم تگڑے، ڈٹ کراس مسئلے کوحل کرنا ہوگا، آئین شکنی، جمہوریت کے خلاف کام بنی گالہ سے ہویا کسی اورجگہ سے انصاف کرنا ہوگا، اگرہم یہ کام نہیں کرسکتے تو پھر اسمبلی کوتالا لگادیں ہم کیوں خوارہوتے ہیں، وقت آگیا ہے جمہوریت کا نعرہ نہیں قانون سازی کریں، پارلیمان میں وہ طاقت ہے ہر مسئلہ حل کرسکتے ہیں۔

    بلاول نے کہا کہ جناب سپیکر آج ہی مشترکہ پارلیمانی کمیٹی بنائیں، سپریم کورٹ صرف چیف جسٹس نہیں تمام ججزپرمشتمل ہے، آئین سازی پارلیمنٹ کا اختیارہے۔

  • ہاؤس بزنس ایڈوائزری کمیٹی کااجلاس:ملک بھرمیں ہونےوالےجانی و مالی نقصان پراظہار افسوس

    ہاؤس بزنس ایڈوائزری کمیٹی کااجلاس:ملک بھرمیں ہونےوالےجانی و مالی نقصان پراظہار افسوس

    اسلام آباد:قومی اسمبلی کی ہاؤس بزنس ایڈوائزری کمیٹی کا اجلاس اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف کی صدارت میں منعقد ہوا۔اجلاس میں حالیہ مون سون بارشوں کے نتیجے میں ملک بھر میں ہونے والے جانی و مالی نقصان پر افسوس کا اظہار کیا گیا،

    بلوچستان اور کراچی سمیت دیگر علاقوں میں بارشوں اور سیلاب سے متاثرہ علاقوں کے عوام سے دلی ہمدردی کا اظہار کیا گیا۔ اجلاس میں قومی اسمبلی کے رواں اجلاس کے ایجنڈے، دورانیے اور قانون سازی پر مشاورت کی گئی۔

    اس اہم اجلاس میں قومی اسمبلی کی 75 سالہ تقریبات کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا ، اس حوالے سے یہ معلوم ہوا ہے کہ 75 سالہ تقریبات 11 اگست سے 14 اگست تک منائی جائیں گی۔

    یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اس اہم اجلاس میں قومی اسمبلی کے رواں اجلاس کو بروز بدھ 3 اگست 2022 تک جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے

    رواں اجلاس میں وقفہ سوالات، قانون سازی ، توجہ دلاو نوٹس اور عوامی اہمیت کے حامل موضوعات کو زیر بحث لائے جائے گا۔

    اجلاس میں وفاقی وزرا، مرتضیٰ جاوید عباسی، خالد حسین مگسی، ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی زاہد اکرم درانی نے شرکت کی۔اجلاس میں تمام جماعتوں سے تعلق رکھنے والے بزنس ایڈوائزری کمیٹی کے ممبران نے شرکت کی۔

  • وفاقی وزیرمحمد اسرار ترین کا نیشنل ریڈیو ٹیلی کمیونیکیشن کارپوریشن (NRTC) ہری پور کا دورہ

    وفاقی وزیرمحمد اسرار ترین کا نیشنل ریڈیو ٹیلی کمیونیکیشن کارپوریشن (NRTC) ہری پور کا دورہ

    اسلام آباد:وفاقی وزیرمحمد اسرار ترین کا نیشنل ریڈیو ٹیلی کمیونیکیشن کارپوریشن (NRTC) ہری پور کا دورہ،اطلاعات کے مطابق وفاقی وزیر برائے دفاعی پیداوار جناب محمد اسرار ترین نے نیشنل ریڈیو ٹیلی کمیونیکیشن کارپوریشن (NRTC) ہری پور کا دورہ کیا۔

    نیشنل ریڈیو ٹیلی کمیونیکیشن کارپوریشن (NRTC) ایک عالمی معیار کی انفارمیشن کمیونیکیشن ٹیکنالوجی (ICT) اور الیکٹرانک آلات بنانے والا اور عوامی اور نجی دونوں شعبوں میں حل فراہم کرنے والا ہے۔

    دورے کے دوران، NRTC کے منیجنگ ڈائریکٹر بریگیڈیئر محمد عاصم اسحاق نےنیشنل ریڈیو ٹیلی کمیونیکیشن کارپوریشن (NRTC) میں مقامی طور پر تیار کیے جانے والے بڑے مواصلاتی اور حفاظتی آلات کے بارے میں بتایا جو کہ پاکستان کی مسلح افواج، قانون نافذ کرنے والے اداروں، وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے ساتھ ساتھ بہت سے دوست ممالک کو برآمد کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر استعمال کر رہے ہیں۔

    اس موقع پر وفاقی وزیر کو محفوظ اور سمارٹ سٹی منصوبوں کے لیے تیار کی جانے والی جدید ترین ٹیکنالوجیز کے بارے میں مزید بریفنگ دی گئی۔

    اس موقع پر وفاقی وزیر برائے دفاعی پیداوار نے کمرشل اور ملٹری الیکٹرانک/مواصلاتی آلات کو معیاری بنانے کے لیے سٹیٹ آف دی آرٹ ٹیسٹنگ لیبز کا افتتاح کیا۔ وزیر نے اپنے تاثرات کا اظہار کیا اور الیکٹرانک آلات کی مقامی تیاری کے لیے ٹیکنالوجی میں ترقی، اختراعات اور NRTC کی صلاحیتوں میں توسیع کے لیے NRTC انجینئرز کے کردار اور بھرپور کوششوں کی ستائش کی۔

    وفاقی وزیردفاعی پیدوار نے اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا کہ دفاعی صنعتوں کا مقامی اور برآمدی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے کم لاگت اور اعلیٰ ٹیکنالوجی کا سامان تیار کرنا فخر کی بات ہے۔

  • گال ٹیسٹ کا چوتھا روز:کم روشنی کے باعث کھیل روک دیا گیا

    گال ٹیسٹ کا چوتھا روز:کم روشنی کے باعث کھیل روک دیا گیا

    کولمبو: گال ٹیسٹ کا چوتھا روز:کم روشنی کے باعث کھیل روک دیا گیا ،کولمبو سے اطلاعات کے مطابق دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز کے دوسرے میچ میں سری لنکا کی جانب سے دیے گئے 508 رنز کے ہدف کے تعاقب میں پاکستان نے ایک وکٹ کے نقصان پر 89 رنز بنا لیے۔

    چوتھےدن کا کھیل ختم ہوا تو پاکستان نے ایک وکٹ کے نقصان پر 89 رنز بنائے تھے، بابر اعظم 26 اور امام الحق 46 رنز بناکر کریز پر موجود تھے۔ پاکستان کو پانچویں اور آخری روز میچ جیتنے کیلئے مزید 419 رنز جبکہ سری لنکا کو 9 وکٹیں درکار ہوں گی۔

    پاکستان کی جانب سے دوسری اننگز کا آغاز عبد اللہ شفیق اور امام الحق نے کیا تاہم عبد اللہ شفیق 16 رنز بنا کر 42 کے مجموعے پر جے سوریا کی گیند پر کیچ آؤٹ ہو گئے۔

    پاکستان نے 28 اوورز میں ایک وکٹ کے نقصان پر 89 رنز بنائے تھے کہ خراب روشنی کے باعث کھیل روک دیا گیا اور پھر چوتھے دن کا کھیل ختم کردیا گیا، کھیل ختم ہوا تو امام الحق 46 اور بابر اعظم 26 رنز کے ساتھ وکٹ پر موجود تھے۔پاکستان کو سری لنکا کی جانب سے دیے گئے 508 رنز کے حصول کے لیے مزید 419 رنز درکار ہیں۔

    قبل ازیں سری لنکا نے دوسرے اور آخری ٹیسٹ کی دوسری اننگز 360 رنز 8 کھلاڑی آؤٹ پر ڈکلیئر کر کے پاکستان کو جیت کے لیے 508 رنز کا پہاڑ جیسا دیا تھا۔

    گال ٹیسٹ کے چوتھے روز سری لنکا نے اپنی دوسری نامکمل اننگز 176 رنز 5 کھلاڑی آؤٹ پر شروع کی تو دمتھ کرونا رتنے 27 اور دننجیا ڈی سلوا 30 رنز کے ساتھ وکٹ پر موجود تھے۔

    دونوں بلے بازوں نے اپنی ٹیم کا اسکور آگے بڑھایا اور کرونا رتنے 61 رنز بنا کر نعمان علی کی گیند پر عبد اللہ شفیق کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہو گئے جبکہ ڈونتھ ویلا لگے 18 رنز بنا کر محمد نواز کاشکار بنے۔

    دوسری جانب ڈی سلوا نے شاندار بلے بازی کا سلسلہ جاری رکھا اور شاندار سنچری مکمل کی، ڈی سلوا 109 رنز بنا کر رن آؤٹ ہوئے تو کپتان کرونا رتنے نے 360 رنز 8 کھلاڑی آؤٹ پر اننگز ڈکلیئر کردی اور پاکستان کو جیت کے لیے 508 رنز کا ہدف دے دیا۔

    یاد رہے کہ سری لنکا نے پہلی اننگز میں 378 رنز بنائےتھے جس کے جواب میں پاکستانی ٹیم پہلی اننگز میں 231 رنز پر ڈھیر ہو گئی تھی۔پاکستان کو دو میچز کی سیریز میں ایک صفر کی برتری حاصل ہے۔

  • امید ہے پرویز الٰہی سانحہ ماڈل ٹاؤن کے انصاف کے لیے اقدامات کریں گے،خرم نواز گنڈاپور

    امید ہے پرویز الٰہی سانحہ ماڈل ٹاؤن کے انصاف کے لیے اقدامات کریں گے،خرم نواز گنڈاپور

    پاکستان عوامی تحریک کی سنٹرل ورکنگ کونسل کے اجلاس میں سیکرٹری جنرل خرم نواز گنڈاپور نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ امید ہے تحریک انصاف پنجاب کا اقتدار ملنے پر سانحہ ماڈل ٹاؤن کے شہدا کے ورثا کے ساتھ ہونے والی نا انصافی کے ازالے کیلئے اپنا کردار ادا کرے گی اور وزیر اعلیٰ چودھری پرویز الٰہی سانحہ ماڈل ٹاؤن کے انصاف کے لیے اقدامات کریں گے۔

    بیلنس کرنے کے نام پر عدالتی فیصلے ہوں گے تو نظام کیسے چلے گا؟عطاء اللہ تارڑ

    سانحہ ماڈل ٹاؤن میں ملوث پولیس افسران اور سول بیوروکریٹس کو عہدوں سے ہٹایا جائے اورشریف برادران کے دور حکومت میں پاکستان عوامی تحریک کے کارکنان پر درج کی جانے والی جھوٹی ایف آئی آرز ختم کی جائیں۔

     

    دفتر پہنچنے سے پہلے ہی پرویز الہیٰ نے گوگی بچاؤ مہم شروع کر دی

     

    انہوں نے کہاکہ ہم توقع رکھتے ہیں کہ جے آئی ٹی پر سٹے آرڈر ختم کروانے کیلئے قانونی محاذ پرپنجاب حکومت شہدائے ماڈل ٹاؤن کے ورثا کے شانہ بشانہ کھڑی ہو گی اورماضی کی غلطیوں کا ازالہ کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے سے ملک کا سب سے بڑا صوبہ آئینی و سیاسی بحران سے باہر نکلے گا اور عوام کوریلیف ملے گا۔

    انہوں نے مزید کہاکہ سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے معاشی بحران سنگین ہو چکا ہے۔مہنگائی،بے روزگاری کی وجہ سے عوام بہت پریشان ہیں۔اجلاس میں بریگیڈیئر (ر) اقبال احمد خاں،راجہ زاہد محمود،نوراللہ صدیقی،جواد حامد، رانا محمد ادریس،شہزاد رسول،عرفان یوسف، حاجی اسحاق،شہزاد رسول،منصور قاسم اعوان،الطاف رندھاوا،سردار عمر دراز، رانا نفیس حسین سدرہ کرامت،عائشہ شبیر نے شرکت کی۔

  • عمران نیازی نے پاکستان کی عزت داؤ پر لگانے کیلئے کوئی کسر نہیں چھوڑی،وزیراعظم

    عمران نیازی نے پاکستان کی عزت داؤ پر لگانے کیلئے کوئی کسر نہیں چھوڑی،وزیراعظم

    اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ 22 کروڑعوام نے منتخب نمائندوں کو اختیاردیا ہے، قومی اسمبلی میں گفتگو کرتے ہوئے شہبازشریف کا کہنا تھا کہ آئین میں مقننہ،عدلیہ،انتظامیہ کے اختیارات متعین کردیئے ہیں۔ آئین کے اندر رہ کر سب کو اپنا اپنا کردار ادا کرنا ہو گا،

    وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ہم سب دن رات ایک کر کے اسے ٹھیک کرنے کی کوشش کر رہے ہیں چار سالوں کے دوران معیشت ڈبو دی گئی، لاڈلے کو 15 سال تک دن رات دودھ پلایا گیا کس طر ح رات کے اندھیرے میں آر ٹی ایس بند ہوا، 2018 کے انتخابات پاکستان کی تاریخ کے بدترین انتخابات ہوئے،2018میں دھاندلی کی پیداوار حکومت کو ہم پر مسلط کر دیا گیا،ووٹوں کی گنتی کو ایک سابق چیف جسٹس کے حکم پر رکوایا گیا دیہاتوں میں نتائج شہروں کی نسبت پہلے آ گئے، پاکستان کی معیشت کا جنازہ نکل رہا تھا،متحدہ اپوزیشن اس وقت سیاست کو مقدم رکھتی تو ریاست کوخطرہ تھا،ہم جانتے تھے کہ پاکستان ڈیفالٹ کے قریب تھا، کیا ہم چور دروازے سے آئے ہیں؟لاکھوں لوگ بے روزگار اور بے گھر ہو گئے، اگر متحدہ اپوزیشن سیاست کو مقدم رکھتی تو پھر ریاست کا خدا حافظ تھا، ہم سب نے فیصلہ کیا کہ ریاست کو بچانا ہے،جانتے تھے تباہ حال معیشت کو دوبارہ زندگی دلوانا کوئی آسان کام نہیں، تمام جماعتوں نے مل کر مجھے وزارت عظمیٰ کیلئے منتخب کیامجھے وزیراعظم بننے کا لالچ نہیں تھا ، ماضی میں بھی پیشکش ہو چکی، وزیراعظم بننے کا ایک نہیں کئی مواقع ملے، جب نواز شریف کو سزا ہوئی تو اس وقت بھی مجھے وزیراعظم نامزد کیا گیا، میں نے پنجاب کی ذمہ داریاں پوری کرنے کیلئے وزارت عظمیٰ لینے سے انکار کر دیا،

    وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ میرے سینے میں بہت سے راز دفن ہیں اور وہ قبر تک دفن رہیں گے،پرویز مشرف نے بھی مجھے وزیراعظم بننے کی پیش کش کی تھی سب کے ساتھ انہوں نے تعلقات خراب کیے،جب ٹرمپ کو مل کر آئے تھے تو کس نے کہا تھا میں ورلڈ کپ جیت کر آیا ہوں روس نے تردید کی کہ انہوں نے سستا تیل دینے کی کوئی پیشکش نہیں کی،فارن فنڈنگ کیس کا الیکشن کمیشن کیوں فیصلہ نہیں کررہا اسرائیل اور ہندوستان سے پیسہ میں نے نہیں عمران خان نے لیا، میں اگر وہ راز کھول دوں تو یہ ایوان حیرت میں مبتلا ہو جائے گاچار سال تک یہ چور ڈاکو کا راگ الاپتا رہا،یہ ایک دھیلے کی بھی کرپشن ثابت نہیں کر سکے، ان کے زمانے میں چینی ایکسپورٹ ہوئی تو اس وقت اس کی قیمت 52 روپے کلو تھی، چینی کی ایکسپورٹ پر اربوں روپے سبسڈی دی گئی،گیس جب 3 ڈالر کے ریٹ پر بک رہی تھی تو یہ ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر بیٹھے تھے، آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ کیااور خود ہی نےاس کی دھجیاں اڑائیں ان کی اس غفلت پر کسی نے ازخود نوٹس نہیں لیا،ہیلی کاپٹر کیس میں کوئی نوٹس نہیں لیا گیا، مالم جبہ کیس کو نیب نے جپھہ ڈال لیا، کسی نے نوٹس نہیں لیا عمران خان کی بہن کو ایف بی آر سے خاموشی کے ساتھ این آر او دلوایا گیا،

    وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ بشیر میمن نے بطور ڈی جی ایف آئی اے بتایا کہ عمران نیازی نے اسے ہم پر کیسز بنانے کا کہا،ہماری ضمانتیں عمران نیازی کے دور میں ہوئیں،شہزاد اکبر نے این سی اے کو خط لکھا جس پر پونے دو سال انکوائری ہوئی، انہوں نے پاکستان کی عزت داؤ پر لگانے کیلئے کوئی کسر نہیں چھوڑی عمران خان کی کابینہ میں بند لفافوں پراراکین سے دستخط لئے جاتے رہے، تفصیلات اور بھی ہیں بتاؤں تو سب کے رونگٹے کھڑے ہو جائیں گے اراکین کے پوچھنے پر عمران خان نے کہا یہ سیکرٹ ڈاکومنٹ ہے آپ سب دستخط کریں،میں وہی خادم ہوں جس نے پنجاب کے کسانوں کو سستی کھاد دی،میں وہی شہباز شریف ہوں جس نے اعلیٰ کوالٹی کی مفت ادویات فراہم کیں،

    انہوں نے کہا کہ انسانی فطرت ہے بچے کو تکلیف ہو تو بچہ فوری ماں کے پاس جاتا ہے، یہ معزز ایوان ماں ہے، 1973ء کے آئین کو اسی ایوان نے تشکیل کی تھی، آئین پاکستان کی وحدت کی بہت بڑی نشانی ہے، آئین میں لکھا ہے حاکمیت اللہ تعالیٰ کی ہے، 22 کروڑعوام نے منتخب نمائندوں کو اختیاردیا ہے، آئین میں مقننہ،عدلیہ،انتظامیہ کے اختیارات متعین کردیئے ہیں۔ آئین کے اندر رہ کر سب کو اپنا اپنا کردار ادا کرنا ہو گا.

    پرویز الہیٰ کی عمران خان سے ملاقات، سپیکر کون بنے گا نام پر ہوا اتفاق

    شہبازشریف نے قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 75سالوں کے دوران آئین کے ساتھ کھلواڑ ہوتا رہا، مارشل لا کئی دہائیوں تک مسلط رہے اورپاکستان دولخت بھی ہوا، جمہوریت کا پودا اتنا طاقت ورنہ ہوسکا جتنا ہونا چاہیے تھا، جوممالک ہم سے بہت پیچھے تھے آج ترقی کی دوڑمیں آگے نکل چکے ہیں، اغیار نے کئی سال پہلے آئی ایم ایف کو خیرآباد کہہ دیا، بزرگ، مائیں، بیٹیاں پوچھتی ہیں ملک کے اندر کب مہنگائی،غربت، قرضوں کا خاتمہ ہوگا،وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سب جانتے ہیں 2018ء کے الیکشن میں بدترین جھرلو الیکشن تھے، دھاندلی کی پیداوار حکومت کو مسلط کر دیا گیا، رات کے اندھیرے میں آر ٹی ایس بند ہوگیا تھا، دیہات میں پہلے اور شہروں میں نتائج بعد میں آئے تھے، سابق چیف جسٹس کے حکم پر گنتی کو رکوایا گیا تھا، گزشتہ پونے چار سالوں میں مسلط کردہ حکومت کی کارکردگی سب کے سامنے ہے، 20 ہزار ارب سے زائد کے قرضے لیے گئے،

    قومی اسمبلی کے اجلاس میں سیلاب سے متعلق خطاب کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ طوفانی بارشوں نے ہرجگہ تباہی پھیلائی، بلوچستان،پنجاب،خیبرپختونخوا،سندھ میں بے پناہ تباہی ہوئی، پاکستان بھر میں طوفانی بارشوں سے نقصانات ہوئے، اتحادی حکومت پوری طرح آگاہ اورچوکس ہے، اس حوالے سے چاروں صوبوں کے ساتھ میٹنگ کرچکا ہوں.

    وزیراعظم کا کہنا تھا کہ متاثرہ علاقوں میں بلوچستان، سندھ، خیبرپختونخوا، پنجاب حکومت دن رات کام کررہی ہے، این ڈی ایم اے بھی اس حوالے سے بھرپورکام کررہی ہے، یقین دلاتا ہوں امدادی پیکج میں مزید اضافہ کریں گے۔ معززممبران کی سفارشات کے پیش نظر کل مزید فیصلے کریں گے، صوبائی حکومتوں کی ہرممکن مدد کریں گے، کسانوں کے نقصانات کو پورا کرنے کے لیے وفاقی حکومت بھرپورتعاون کرے گی، چترال سمیت جہاں بھی نقصانات ہوئے ازالہ کریں گے،

  • مسائل کے حل کے لئے سب کو قدم سے قدم ملاکرچلنا ہو گا،راجہ پرویز اشرف

    مسائل کے حل کے لئے سب کو قدم سے قدم ملاکرچلنا ہو گا،راجہ پرویز اشرف

    سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے کہا ہے کہ پائیدارترقیاتی اہداف کاحصول قومی ترجیح ہے، ملک کو اس وقت، موسمیاتی تبدیلیوں، صحت، تعلیم ،معیشت،صنفی عدم مساوات اور سماجی ترقی کے شعبوں میں چیلنجزکا سامناہے ، ان مسائل کے حل کے لئے ہم سب کو ایک دوسرے کے ساتھ قدم سے قدم ملاکرچلناہوگا،قومی احتساب اور بہتر طرز حکمرانی تمام عالمی اہداف کو حاصل کرنے میں مدد گار ثابت ہوسکتی ہے۔

    پرویز الہیٰ کے وزیراعلیٰ پنجاب بننے کے بعد شجاعت حسین کا بیان بھی آگیا

    ان خیالات کااظہارانہوں نے ایس ڈی جیز کے زیر اہتمام منعقدہ دو روزہ کانفرنس کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتےہوئے کیا۔ سپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ پاکستان نے پائیدار ترقیاتی اہداف کے حصول کے لئے 2030 تک کے ایجنڈے کے لئے عزم کا اعادہ کیا۔ 2016 میں متفقہ قرارداد کے ذریعے اپنے قومی ترقی کے ایجنڈے کے طور پر اہداف طے کیے تھے تاہم کووڈ۔19 عالمی معیشت اور ہماری ترقی اور خوشحالی کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے۔

     

    بیلنس کرنے کے نام پر عدالتی فیصلے ہوں گے تو نظام کیسے چلے گا؟عطاء اللہ تارڑ

     

    پائیدار ترقی کے نفاذ کو متاثر کرنے والے کئی عوامل ہیں جن میں موسمیاتی تبدیلی، صحت، اقتصادی ترقی، غربت، صنفی عدم مساوات اور سماجی و اقتصادی چیلنجز شامل ہیں۔انہوں نے کہاکہ ایس ڈی جیز کی تکمیل کے لیے کام کرنا اور ایجنڈا 2030 کی دیانتدارانہ عکاسی ضروری ہے۔ 2021 کی پائیدار ترقی کے اہداف کے انڈیکس کی درجہ بندی کے مطابق پاکستان 165 ممالک میں 129 ویں نمبر پر ہے جس کا مجموعی اسکور 58 فیصد ہے، بنیادی طور پر 17 اہداف میں سے ایک پر اس کی پیشرفت ہے۔ انہوں نے کہاکہ ایس ڈی جیز کے لیے قومی گورننس تب ہی موثر ہو سکتی ہے جب عالمی گورننس کے مطابق ہم لائحہ عمل اختیار کریں گے۔

    راجہ پرویز اشرف نے کہاکہ پاکستان ایک ترقی پذیر ملک ہے جہاں لاکھوں لوگ بغیر کھانا کھائے سو جاتے ہیں۔ ہمیں اس بات کو بھی یقینی بنا ہو گا کہ ہمارے بچے ضروری غذائی اجزاء سے محروم نہ رہیں،بچوں کی غذائی اجزاء میں کمی ان کی نشوونما میں براہ راست رکاوٹ بن سکتی ہے۔ راجہ پرویز اشرف نے کہاکہ پاکستان میں عوام کو صحت کے شعبے میں مسائل کا سامنا ہے، صحت کے شعبے میں خدمات تک بہت کم رسائی ایک بڑا مسئلہ ہے۔

    بطور قانون ساز یہ ادارہ یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم سب کو یکساں اور معیاری صحت کی خدمات فراہمی کو یقینی بنائیں ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک ایسا ملک ہے جو کئی دہائیوں سے سیاسی اور معاشی بحرانوں کا شکار ہے۔ قدرتی آفات کے اثرات کے ساتھ ساتھ ان حالات نے ملک میں غذائیت کی کمی کو ایک بہت بڑی تشویش کا باعث بنا دیا ہے، گزشتہ کئی سالوں کے دوران ملک میں غذائی تحفظ کو بہتر بنانے کے لیے اقدامات کئے گئے ہیں۔

    اس شعبے میں موجود چیلنجزکا اب تک ازالہ نہیں کیاجاسکا۔ پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول سے معیشت، صحت، تعلیم، مساوات اور سماجی ترقی پر مثبت اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنی جغرافیائی محل وقوع کی وجہ سے موسمیاتی تبدیلیوں سے بہت زیادہ متاثر ہواہے، ہمیں مل کر آج اپنے ماحول کی حفاظت کا عہد کرنا ہو گا اور اپنی آنے والی نسلوں کے لیے ایک بہتر کل چھوڑنا ہو گا۔

    انہوں نے کہاکہ پائیدار ترقی کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات اولین ترجیح ہے، آب و ہوا کا تحفظ بھی ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہاکہ ایس ڈی جیزکے حصول کے لئے ایک قومی بجٹ مختص کر کے تمام 17 اہداف کو قابل حصول بنایا جاسکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ قومی احتساب اور بہتر طرز حکمرانی تمام عالمی اہداف کو حاصل کرنے میں مدد گار ثابت ہوسکتی ہے۔

  • جرمنی معاشی بحرانوں میں پھنس گیا:جرمن ایئرلائن لُفتھانسا کی 1000 ہزار سے زائد پروازیں منسوخ

    جرمنی معاشی بحرانوں میں پھنس گیا:جرمن ایئرلائن لُفتھانسا کی 1000 ہزار سے زائد پروازیں منسوخ

    لفتھانسا ایئرلائن کے جرمنی میں موجود زمینی عملے نے ایک روزہ ہڑتال کا اعلان کرتے ہوئے کام روک دیا ہے جس کی وجہ سے نہ صرف ہزاروں مسافروں کو مشکلات کا سامنا ہے بلکہ لفتھانسا ایئرلائن کی ایک ہزار سے زائد پروازیں بھی منسوخ ہو گئیں۔

    اس ہڑتال کے سبب 134,000 کے قریب مسافروں کو یا تو اپنا سفری پروگرام تبدیل کرنا پڑا یا پھر بالکل ہی منسوخ۔ جرمن خبر رساں ادارے ڈی پی اے کے مطابق 47 پروازیں تو منگل کو ہی منسوخ کر دی گئیں۔ لفتھانسا ایئرلائن کے بڑے مراکز فرینکفرٹ اور میونخ سب سے زیادہ متاثر ہیں جبکہ ڈوسلڈورف، ہیمبرگ برلن، بریمن، ہیننور، اشٹٹگارٹ اور کولون سے بھی پروازیں منسوخ کی گئی ہیں۔

    ایئرلائن نے متاثرہ مسافروں سے کہا ہے کہ وہ ایئرپورٹس پر نہ جائیں کیونکہ وہاں موجود زیادہ تر کاؤنٹرز پر عملہ موجود ہی نہیں ہے۔ لفتھانسا کے ترجمان مارٹن لوئٹکے نے اس ہڑتال پر تنقید کرتے ہوئے اسے نقصان دہ قرار دیا ہے۔ فرینکفرٹ ایئرپورٹ پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ لوگ جو سفر کرنا چاہتے ہیں جو طویل عرصہ قبل اپنی چھٹیاں ترتیب دے کر ان کا انتظار کر رہے تھے، ان کے چھٹیوں کے یہ خواب بدقسمتی سے مؤخر ہو گئے ہیں یا شاید اس ہڑتال کی وجہ سے بالکل ہی برباد ہو گئے ہیں۔ لوئٹکے کا مزید کہنا تھا کہ یہ ہڑتال قطعاً غیر ضروری ہے اور اسے مکمل طور پر بڑھایا چڑھایا گیا ہے۔

    جرمنی کے معاشی حب فرینکفرٹ کے ایئرپورٹ سے آج بدھ کے روز 1160 پروازیں شیڈول تھیں جن میں سے 725 کو منسوخ کر دیا گیا۔ ڈی پی اے کے مطابق دیگر ایسی ایئرلائنز کی پروازیں بھی متاثر ہوئی ہیں جو زمینی خدمات کے لیے لفتھانسا کے اسٹاف سے مدد لیتی ہیں۔ خود لفتھانسا کی طرف سے فرینکفرٹ ایئرپورٹ سے ہڑتال کے سبب پنی منسوخ ہونے والی پروازوں کی تعداد 646 بتائی گئی ہے۔

  • مستقل معاشی بحران جمہوریت کیلئے خطرہ :۔ تجزیہ:شہزاد قریشی

    مستقل معاشی بحران جمہوریت کیلئے خطرہ :۔ تجزیہ:شہزاد قریشی

    عدالتی فیصلے کے بعد ایک طبقہ اس صورتحال سے پریشان ہے اور دل برداشتہ ہے جبکہ دوسرا طبقہ اس کو آئین اور قانون کی فتح قرار دے رہا ہے ۔ تاہم تبصروں کا سلسلہ شروع ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ ملک کا اقتدار اور سیاست اتنا پرکشش نہیں رہا جتنا سمجھا جا رہا ہے موجودہ معاشی صورت کے پیش نظر حالات کا ادراک رکھنے والا کوئی بھی ذی شعور انسان کانٹوں کا یہ تاج سر پر سجانا نہیں چاہے گا۔ عوام کا استحصال اور معاشی قتل ہو رہا ہے اور یہ معاشی قتل عمران خان کے دور حکومت سے شروع ہوا اور تادم تحریر شہباز حکومت میں بھی جاری ہے۔

    تاہم بے حسی حکومت کرنے والوں کی وطن عزیز میں بنیادی شرط ہے تاہم موجودہ حالات کے پیش نظر ملک کے مقتدر حلقوں کی کوشش ہے کوئی ایسا درمیانی راستہ نکالا جائے ملک میں رواداری ،سیاسی انتشار کا خاتمہ کیا جائے اور مصالحت کروائی جائے تاکہ ملکی معیشت مستحکم ہو۔ درمیانی راستہ تو ملک میں انتخابات ہیں کیا پی ڈی ایم اور شہبازشریف اس پر آمادہ ہونگے؟ تاہم کچھ حلقوں کا خیال ہے کہ مختلف سیاسی دھڑوں کے درمیان تصادم جتنی شدت اختیار کر گیا ہے درمیانی راستہ نکالنا اتنا آسان نہیں۔ تاہم موجودہ سیاسی کامیڈی سرکس سے بیزار عوام سیاست سے نالاں عوام اپنے بنیادی مسائل کے عذابوں میں مبتلا ہیں۔ ملک کے سیاستدانوں کو ایک بات یاد رکھنی چاہئے جب معیشت کا مستقل بحران شدت اختیار کرنے لگتا ہے تو جمہوریت کو خطرہ لاحق ہوتا ہے بنیادی مسائل سے دوچار عوام بھی کسی اور کا ساتھ دیتے ہیں۔ ملک کی تاریخ گواہ ہے جنرل ایوب سے لے کر پرویز مشرف تک کے اقتدار کو انہی سیاستدانوں نے سہارا دیا اور عوام نے بھی۔

    ملک میں آئین، قانون اور پارلیمنٹ کی بالادستی کے ساتھ ساتھ جمہوریت مستحکم قرار دادیں پاس کرنے سے نہیں ہوتی۔ اس کے لئے جمہوری رویوں کو فروغ دینا ہوتا ہے۔ موجودہ سیاسی انتشار سے ثابت ہوتا ہے کہ ہماری سیاسی جماعتوںنے تاریخی سے سبق نہیں سیکھا۔ عمران خان سمیت ملک کی تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں کو جمہوری رویہ اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔ جمہوری رویوں کو فروغ دینے جمہوریت کو مستحکم کرنے ملک میں قانون، آئین پارلیمنٹ کی بالادستی کے لئے اپنا قبلہ درست کرنا ہوگا۔ ملک اور عوام کے مسائل کو حل کرنے کی طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ بقول ملک کے تین بار وزیراعظم نوازشریف کے ٹویٹ جو انہوں نے کیا کہ ملک کو تماشا بنا دیا گیا ہے خدارا اس ملک کو عالمی سطح پر تماشا نہ بنایا جائے۔

    وقت ہے، جمہوریت بچا لیں،تجزیہ ” شہزاد قریشی