Baaghi TV

Author: +9251

  • پاکستان میں کورونا سے مزید 4 افراد جان کی بازی ہارگئے

    پاکستان میں کورونا سے مزید 4 افراد جان کی بازی ہارگئے

    گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران پاکستان میں کورونا وائرس کے مثبت کیسز کی شرح ساڑھے تین فیصد سے زائد ریکارڈ کی گئی جبکہ 4 مریض انتقال کرگئے۔


    قومی ادارہ برائے صحت کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق 24 گھنٹوں میں 16ہزار 704کووڈ کے ٹیسٹ کیے گئے جن میں سے620 افراد میں وائرس کی تشخیص ہوئی۔

    این آئی ایچ کے مطابق اس دوران کورونا میں مبتلا4 مریض انتقال کرگئے جب کہ اب بھی 191مریضوں کی حالت تشویشناک بتائی جارہی ہے۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز کورونا مثبت کیسز کی شرح2 فیصد سے زائد تھی۔
    پس منظر:
    پاکستان میں کورونا وائرس کا پہلا کیس 26 فروری 2020 کو ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی میں سامنے آیا۔

    26 فروری کو ہی اس وقت کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے ملک میں مجموعی طور پر 2 کیسز کی تصدیق کی تھی۔

    بعد ازاں 29 فروری کو ڈاکٹر ظفر مرزا نے ملک میں مزید 2 کیسز کی تصدیق کی، جس سے اس وائرس کے کیسز کی تعداد 4 ہوگئی تھی۔

  • ایوان صدرمیں تقریب حلف برداری:چوہدری پرویزالٰہی وزیراعلیٰ پنجاب:صدرنے حلف لیا

    ایوان صدرمیں تقریب حلف برداری:چوہدری پرویزالٰہی وزیراعلیٰ پنجاب:صدرنے حلف لیا

    لاہور: سپریم کورٹ آف پاکستان کے حکم پرچوہدری پرویزالٰہی نے حلف اٹھا لیا ہے ،حلف برداری کی یہ تقریب ایوان صدر اسلام آباد میں ہوئی ، اس سے پہلے سپریم کورٹ کے حکم پر چیف سیکرٹری پنجاب نے چوہدری پرویز الٰہی کا بطور وزیراعلیٰ پنجاب نوٹی فکیشن جاری کردیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق چیف سیکریٹری پنجاب نے چوہدری پرویزالٰہی کا بطور وزیراعلیٰ پنجاب نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے، نوٹیفیکیشن کے مطابق چوہدری پرویز الہیٰ اب پنجاب کے وزیراعلیٰ ہیں

     

    خیال رہے کہ سپریم کورٹ نے ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کو کالعدم قرار دے کر چوہدری پرویز الہٰی کو وزیراعلیٰ پنجاب قرار دیا ہے اور گورنر پنجاب کو آج رات ساڑھے گیارہ بجے ان سے حلف لینے کا حکم دیا ہے۔

    گورنر پنجاب بلیغ الرحمان نے چوہدری پرویز الہی سے حلف لینے سے انکار کردیاتھا، جس کے بعد وزیراعلیٰ پنجاب کی حلف برداری تقریب اسلام آباد میں کرنے کا فیصلہ کیا گیا، صدر مملکت عارف علوی ایوان صدر میں ان سے حلف لیا،حلف برداری کی تقریب میں  چوہدری مونس الٰہی ، چوہدری وجاہت حسین،مراد راس سمیت ق لیگ اورپی ٹی آئی کی کئی اہم شخصیات موجود تھیں

     

     

    یاد رہے کہ گورنرپنجاب بلیغ الرحمن کی طرف سے حلف لینے کے انکار کے بعد پہلے ویڈیو لنک کےذریعے حلف لینے کا فیصلہ کیاگیا لیکن بعد میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ چوہدری پرویز الٰہی ذاتی حیثیت میں ایوان صدر اسلام آباد پہنچیں گے اورحلف لیں گے

    یہ بھی یاد رہے کہ سپریم کورٹ نے وزیراعلیٰ پنجاب کے انتخاب کے حوالے سے ڈپٹی سپیکر دوست محمد مزاری کی جانب سے مسلم لیگ(ق) کے 10 ووٹ مسترد کرنے کی رولنگ رد کرتے ہوئے تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے امیدوار چودھری پرویز الہٰی کو نیا وزیراعلیٰ قرار دے دیا جبکہ حمزہ شہباز کی کابینہ تحلیل کر دی۔

    فل کورٹ بنچ کے لیے اتحادی حکومت کی درخواست مسترد کرنے کے بعد سپریم کورٹ میں وزیراعلیٰ پنجاب کے دوبارہ انتخاب سے متعلق درخواستوں کی سماعت ہوئی۔ چیف جسٹس جسٹس عمر عطا بندیال، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منیب اختر پر مشتمل 3 رکنی بنچ نے ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی کے فیصلے پر دلائل سنے۔

    سپریم کورٹ نے وزیر اعلیٰ پنجاب کے انتخاب کے حوالے سے ڈپٹی سپیکر دوست محمد مزاری کی رولنگ کے خلاف دائر درخواست پر فیصلہ محفوظ کیا۔

    سپریم کورٹ نے گیارہ صفحات پر مشتمل مختصر حکم نامہ جاری کیا جس میں پرویز الہیٰ کی درخواست منظور کرتے ہوئے ق لیگ کے مسترد شدہ دس ووٹ درست قرار دے دئیے گئے ۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں کہاکہ پرویز الہی کو منتخب وزیر اعلی قرار دیا جاتا ہے، حمزہ شہباز منتخب وزیر اعلیٰ نہیں اور ان کا بطور وزیر اعلیٰ اٹھایا گیا حلف غیر آئینی ہے، ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کی کوئی قانونی حیثیت نہیں۔ پنجاب میں آئین کے مطابق گورننس کی نفی اور عوام کے بنیادی حقوق کی صریحاً خلاف ورزی کی گئی۔ ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی نے سپریم کورٹ کے حکم کو غلط سمجھا اور رولنگ دیتے ہوئے ق لیگ کے درست ووٹوں کو مسترد کیا۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ پنجاب اسمبلی میں حمزہ شہباز نے 179 ووٹ جبکہ پرویز الہیٰ نے 186 ووٹ حاصل کیے، اس اعتبار سے پرویز الہی ٰ ہی وزیراعلیٰ پنجاب ہیں۔

    سپریم کورٹ نے پرویز الہیٰ کو رات ہی حلف اٹھانے کا حکم دیتے ہوئے ہدایت کی کہ اگر گورنر پنجاب دستیاب نہ ہوں تو صدر عارف علوی پرویز الہیٰ سے حلف لیں۔ عدالت نے حکم کی کاپی فریقین کو فوری فراہم کرنے کی ہدایت کی اور حمزہ شہباز سمیت پوری کابینہ کو فوری دفاتر خالی کرنے کا حکم دیا۔

  • آئین اورپارلیمنٹ کی بالادستی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے: وزیراعظم

    آئین اورپارلیمنٹ کی بالادستی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے: وزیراعظم

    اسلام آباد:وزیراعظم شہباز شریف نے سپریم کورٹ کے فیصلے پر ردعمل میں کہا ہے کہ آئین اورپارلیمنٹ کی بالادستی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔

    اپنی ٹوئٹ میں شہباز شریف کا کہنا تھاکہ آئین نے ریاستی اختیار پارلیمنٹ، انتظامیہ اور عدلیہ کو تفویض کیے ہیں اور آئین نے سب اداروں کو متعین حدود میں کام کرنے کا پابند کیا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ کوئی ادارہ کسی دوسرے کے اختیار میں مداخلت نہیں کرسکتا، آئین اورپارلیمنٹ کی بالادستی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔

    وزیراعظم کا کہنا تھاکہ عدلیہ کی ساکھ کا تقاضا اور قرین انصاف یہی تھا کہ فل کورٹ تشکیل دیا جاتا، انصاف نہ صرف ہوتا بلکہ ہوتا ہوا نظر بھی آتا۔

     

    ان کا کہنا تھاکہ عدالتی فیصلے سے قانون دانوں، سائلین، میڈیا اور عوام کی حصول انصاف کیلئے توقعات کو دھچکا لگا ہے۔

     

     

    دوسری طرف وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سپریم کورت کے فیصلے کو ناپسند کرتے ہوئے کچھ اہم پیغامات بھی شیئرکیئے ہیں ، جن میں کہا گیا ہے کہ دو دن سے میڈیا پر پاکستان تحریک انصاف کی نوٹنکی جاری ہے،

    ’شکریہ اللہ، شکریہ عوام:عمران خان کا سپریم کورٹ کے فیصلے کا خیر مقدم

    ہماری فل کورٹ کی اپیل کو مسترد کرنے کے فیصلے نے آج کے فیصلے کو پہلے ہی متنازعہ بنا دیا تھا، سول سوسائٹی، وکلاء برادری، باری ایسوسی ایشن کے نمائندوں، وکلائ، قانونی ماہرین نے کل کے فیصلے کو تسلیم نہیں کیا، فل کورٹ آئینی مسئلہ کی تشریح کے لئے بنا دیا جاتا تو آج کا فیصلہ متنازعہ نہ ہوتا، مریم اورنگزیب

    حمزہ شہباز شریف پنجاب کے وزیراعلیٰ نہیں ہوں گے تو اس سے مسلم لیگ (ن) کو کوئی فرق نہیں پڑے گا، وفاقی وزیر اطلاعات وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے سپریم کورٹ کی جانب سے پنجاب کے ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ مسترد کرنے کے فیصلے پر کہا ہے کہ عدلیہ کو ان جکڑی ہوئی چیزوں سے نکالنے کی جدوجہد کا آغاز ہوا ہے، پاکستان کے عوام کو آئین اور پارلیمان کی بالادستی واپس لے کر دیں گے۔

    اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ سابق وزیراعظم نوازشریف کی عدلیہ بحالی کی جدوجہد تھی، آج سے اس کا دوسرا باب شروع ہوا ہے۔

    مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ فل کورٹ کی تشکیل کے لیے دائر درخواست نے پہلے ہی اس تین رکنی بینچ پر عدم اعتماد کر دیا تھا، جب کل فل کورٹ کی درخواست مسترد ہوئی تو ہمارے وکلا نے آج سپریم کورٹ میں تین رکنی بینچ کی کارروائی کا بائیکاٹ کرکے بھی عدم اعتماد کا اظہار کیا تھا کہ آج جو فیصلہ آئے گا، وہ فیصلہ نہ عوام کو قابل قبول ہوگا، نہ فریقین کو قابل قبول ہوگا کیونکہ یہ نہیں ہوسکتا کہ پنجاب کے اوپر چوری کرکے آر ٹی ایس سٹم بیٹھا کر 2018 میں مسلط کیا تھا اس کو دوبارہ پنجاب پر مسلط کریں۔

    انہوں نے کہا کہ یہ مسئلہ آئینی، پارلیمانی اور دو خطوط کا ہے، ایک خط عمران خان نے لکھا تھا جس کی وجہ سے حمزہ شہباز کو ڈالے جانے ووٹوں میں سے 25 ووٹوں کو نکال دیا جاتا ہے، اور ووٹ ڈالنے والے اراکین کو ڈی سیٹ کر دیا جاتا ہے، عمران خان کا خط پارٹی سربراہ کی حیثیت سے لکھا جاتا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ چوہدری شجاعت حسین بطور پارٹی سربراہ اپنے اراکین اسمبلی کو ہدایات جاری کی تھی کہ وہ عمران خان کے امیدوار کو ووٹ نہ ڈالیں اور حمزہ شہباز کو ووٹ کاسٹ کریں، سپریم کورٹ کے اسی فیصلے کے مطابق ڈپٹی اسپیکر نے رولنگ دی کہ مسلم لیگ (ق) کے 10 اراکین کے ووٹوں کو مسترد کیا جاتا ہے۔

    وفاقی وزیر اطلاعات مریم نواز کا کہنا تھا کہ چوہدری شجاعت حسین کی جانب بطور پارٹی سربراہ لکھا جانے والا خط حرام ہے جبکہ عمران خان کا بطور پارٹی سربراہ لکھا جانے والے خط کی وجہ سے 25 ووٹوں کو شمار نہیں کیا جاتا جبکہ چوہدری شجاعت حسین کی جانب سے لکھے جانے والے خط کے باوجود پرویز الہیٰ کو ڈالے گئے ووٹوں کو شمار کیا جاتا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ اسی وجہ سے ہم نے فل کورٹ تشکیل دینے کا مطالبہ کیا تھا کیونکہ تین رکنی بینچ بننے سے لے کر اب تک انصاف ہوتا ہوا نظر نہیں آ رہا تھا، اسی لیے حکومتی اتحاد کے تمام سیاسی قائدین سمیت تمام اطراف سے یہی آوازیں آئیں کہ ہمیں فل کورٹ چاہیے، اگر فل کورٹ بن جاتا تو آج کا فیصلہ مختلف ہوتا، ایک شخص کی خاطر آئین کی تشریح میں فرق ڈالا جا رہا ہے، اپنی مرضی سے آئین کی تشریح کی جا رہی ہے۔

    مریم اورنگزیب نے کہا کہ آوازیں آ رہی تھیں کہ پانچ رکنی بینچ نے تین بار کے منتخب وزیراعظم نوازشریف کو نکالا تھا، اس دن کے فیصلے کے بعد سے آج تک ملک میں معاشی تباہی، بے روزگاری، افلاس، بھوک، افراتفری، فساد اور نفرت کے بیج بوئے گئے، آج کا فیصلہ اسی کا تسلسل ہے، اور اثرات بھی ویسے ہی ہوں گے۔

    ان کا کہنا تھا کہ آج کا فیصلہ ملک میں مزید تقسیم پیدا کرے گا، ملک میں مزید انتشار پیدا ہوگا اورانصاف پر زیادہ انگلیاں اٹھائی جائیں گی، اس لیے فل کورٹ بنانا چاہیے تھا۔

    مریم اورنگزیب نے کہا کہ آپ کو یاد ہوگا کہ سابق وزیراعظم نواز شریف کی عدلیہ بحالی کی جدوجہد تھی، آج سے اس کا دوسرا باب شروع ہوا ہے، آئین کی بالادستی، پارلیمان کی بالادستی اور عدلیہ کو ان جکڑی ہوئی چیزوں سے نکالنے کی جدوجہد کا آغاز ہوا ہے، پاکستان کے عوام کو آئین اور پارلیمان کی بالادستی واپس لے کر دیں گے۔

    ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے عوام کا اصل مینڈیٹ جو 2018 میں چوری ہوا، جو اس وقت کے عدالتی فیصلے نے چوری کیا جب نواز شریف کو اپنی کرسی سے ہٹایا گیا، آج کے فیصلے کو بھی آئین اور پارلیمان کی بالادستی میں تبدیل کریں گے۔

    پاکستان مسلم لیگ (ن کے رہنما قانون ملک احمد نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایک بحث کل سے چل رہی ہے کہ ڈائریکشن پارٹی سربراہ کی ہوگی یا پارلیمانی پارٹی کی، اس حوالے سے وکلا کا مؤقف تھا کہ فل کورٹ تشکیل دیں.

    ان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے اس فیصلے سے ایک انتہائی غیر مناسب صورتحال پیدا ہوئی ہے، اس سے پنجاب اسمبلی کی خودمختاری متاثر ہوئی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ ہم نے یہ تقاضہ کرتے ہوئے کہ انصاف کی توقع نہیں ہے، عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ کیا تھا، یہ معمولی واقعہ نہیں ہے اس کے دور رس اثرات مرتب ہوں گے۔

  • سپریم کورٹ کا فیصلہ، ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کا مستعفی ہونے کا فیصلہ

    سپریم کورٹ کا فیصلہ، ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کا مستعفی ہونے کا فیصلہ

    لاہور:سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ایڈووکیٹ جنرل پنجاب شہزاد شوکت نے مستعفی ہونے کا فیصلہ کرلیا۔سپریم کورٹ نے ڈپٹی اسپیکر رولنگ کیس میں پرویز الٰہی کی درخواست منظور کرتے ہوئے پنجاب اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر دوست مزاری کی رولنگ کالعدم قراردے دی۔

     

    ’شکریہ اللہ، شکریہ عوام:عمران خان کا سپریم کورٹ کے فیصلے کا خیر مقدم

    سپریم کورٹ نے ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی کی رولنگ کالعدم قرار دیدی، پرویز الٰہی وزیراعلیٰ ہوں گےسپریم کورٹ نے پرویز الٰہی کو وزیراعلیٰ پنجاب قرار دیا اور گورنر پنجاب کو حکم میں پابند کیا کہ ساڑھے 11 بجے تک پرویز الٰہی سے حلف لیں۔

    عدالت عظمیٰ کے فیصلے کے بعد ایڈووکیٹ جنرل پنجاب شہزاد شوکت نے مستعفی ہونے کا فیصلہ کرلیا۔ان کا کہنا تھاکہ کل صبح اپنا استفعیٰ گورنر پنجاب کو دوں گا۔

    سپریم کورٹ نے ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی کی رولنگ کالعدم قرار دے دی ہے جس کے بعد حمزہ شہباز وزیراعلیٰ نہیں رہے اور چوہدری پرویز الہٰی نئے وزیراعلیٰ پنجاب قرار پائے ہیں اور گورنر پنجاب کو آج رات ساڑھے گیارہ بجے پرویز الہٰی سے حلف لینے کا حکم دیا گیا ہے۔

    پرویز الہٰی وزیراعلیٰ پنجاب، گورنر حلف لیں، سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ

    سپریم کورٹ نے ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کے خلاف پرویزالٰہی کی درخواست منظور کرتے ہوئے اپنے حکمنامے میں کہا ہے کہ ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے۔ چوہدری پرویز الہٰی وزیراعلیٰ پنجاب ہیں۔

    عدالت عظمیٰ نے اپنے حکم میں کہا ہے کہ چیف سیکریٹری پرویز الٰہی کا بطور وزیر اعلیٰ نوٹیفکیشن جاری کریں اور حمزہ شہباز اور ان کے وزرا کا اختیار فوری طور پر ختم کیا جائے اور حمزہ شہباز اپنا دفتر فوری طور پر خالی کردیں۔

    سپریم کورٹ نے اپنے حکمنامے میں یہ بھی کہا ہے کہ گورنر آج رات ساڑھے 11 بجے پرویز الٰہی سے حلف لیں اور اگر گورنر پنجاب حلف نہیں لے سکتے تو صدر مملکت پرویز الٰہی سے حلف لیں۔

    ملک کی اعلیٰ ترین عدالت نے حمزہ شہباز کی اب تک کی جانے والی تمام تقرریاں بھی کالعدم قرار دے دی ہیں اور 11 صفحات پر مشتمل اپنے مختصر حکمنامے میں کہا ہے کہ ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی کو فوری فیصلے کی کاپی پہنچائیں اور عدالتی کے فیصلے پرعملدرآمد کیلیے اسے تمام متعلقہ اداروں کو فوری ارسال کیا جائے۔

    ‏چودھری پرویز الہٰی کی تقریب حلف برداری ایوانِ صدر میں رات 2 بجے ہوگی:ترجمان

  • ’شکریہ اللہ، شکریہ عوام:عمران خان کا سپریم کورٹ کے فیصلے کا خیر مقدم

    ’شکریہ اللہ، شکریہ عوام:عمران خان کا سپریم کورٹ کے فیصلے کا خیر مقدم

    چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے ڈپٹی اسپکر پنجاب اسمبلی رولنگ کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔

    ٹویٹر پیغام میں سابق وزیراعظم نے سپریم کورٹ کے ججز کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے عدالت عظمیٰ کے فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔

    دوسری طرف سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے ایک بیان میں سابق وزیراعظم نے لکھا کہ میں سپریم کورٹ کے ججوں کی ہر طرح کی دھمکیوں کے خلاف ثابت قدم رہنے اور آئین اور قانون کی حکمرانی بحال کرنے پر میں ججز کو سراہتا ہوں

     

     

    سابق وزیراعظم نے پنجاب ضمنی الیکشن میں اپنا حق رائے دہی استعمال کرنے کے لیے بڑی تعداد میں گھروں سے نکلنے پر پنجاب کے عوام کا بھی شکریہ ادا کیا ہے جبکہ مزید لکھا ہے کہ میں بیرسٹر علی ظفر اور ان کی ٹیم کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں۔

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے وزیراعلیٰ پنجاب کے انتخاب میں ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کالعدم قرار دیتے ہوئے چوہدری پرویز الٰہی کو وزیراعلیٰ پنجاب مقرر کردیا۔

     

     

    سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے وزیراعلیٰ پنجاب کے انتخاب کے دوران اسپیکر پنجاب اسمبلی کی ق لیگ کے 10 ووٹ مسترد کرنے کی رولنگ کو کالعدم قرار دے دیا۔چیف جسٹس عمر عطاء بندیال نے 11 صفحات پر مشتمل فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ حمزہ شہباز شریف کا وزیراعلیٰ پنجاب کی حیثیت سے حلف غیر آئینی تھا۔

  • وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی ہیں:نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا گیا

    وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی ہیں:نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا گیا

    لاہور:سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلے کے ساتھ ہی پنجاب کے وزیراعلیٰ کے لیے چوہدری پرویزالٰہی کے نام کی منظوری دے دی گئی ہےاور اس سلسلے میں چیف سیکرٹری پنجاب کی طرف سے نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا گیا ہے

    اس نوٹیفکیشن میں کہا گیاہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے حکم کےمطابق چوہدری پرویزالٰہی پنجاب کے وزیراعلیٰ‌ بن چکے ہیں اوران صوبے کے وہ وزیراعلیٰ ہیں جو حکم کے مطابق سپریم کورٹ کے حکم کے ساتھ ہی موثر ہیں‌

    وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویزالٰہی اسلام آباد کیلئے روانہ ہوچکے ہیں جہاں رات دو بجے ایوان صدر میں صدرمملک عارف علوی ان سے حلف لیں گے ،

    ذرائع کے مطابق چوہدری پرویزالٰہی کے ساتھ اسلام آباد جانے والوں میں چودھری وجاہت حسین، موسیٰ الٰہی، میاں محمودالرشید،زین قریشی، مراد راس بھی شامل ہیں ، ادھر اسلام اباد سے ملنے والی اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ چوہدری پرویز الٰہی سے حلف لینے کےلیے تمام انتظامات کرلیئے گئے ہیں ، پہلے ویڈیو کے ذریعے حلف لینے کا پروگرام تھا مگربعد میں ویڈیو کی بجائے اسلام آباد میں جاکرذاتی حیثیت میں حلف لینے کافیصلہ ہوا جس کے نتیجے میں چوہدری پرویز الٰہی نے اپنے ساتھیوں سمیت اسلام آباد جانے کا فیصلہ کیا

     

     

     

     

    گورنر پنجاب نے سپریم کورٹ کے حکم کے باوجود پرویزالٰہی سےوزارت اعلیٰ کا حلف لینے سے انکار سے انکار کے بعد ‏چودھری پرویز الہٰی کی تقریب حلف برداری ایوانِ صدر میں رات 2 بجے ہوگی،اس حوالے سے ترجمان کی طرف سے یہ پیغآم جاری کردیا گیا ہے کہ چوہدری پرویز الٰہی سے حلف کے لیے انتظامات کیے جارہےہیں ،

    یاد رہے کہ سپریم کورٹ کی ہدایات کے باوجود گورنرپنجاب نے چوہدری پرویز الٰہی سے حلف لینے سے انکار کردیا ہے ،یہ بھی خبریں‌ آرہی ہیں کہ گورنرہاوس کی طرف سے یہ جواب دیا گیا ہےکہ ابھی تک اس حوالے سے کوئی حکم موصول نہیں ہوا

    دوسری طرف یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ سپریم کورٹ کی طرف سے جاری ہدایات کی روشنی میں جس طرح صدرمملکت کو ہدایات جاری کی گئی تھیں اس کے مطابق اب ویڈیو لنک کےذریعے حلف کے انتظامات کیےجارہےہیں

    ادھر گورنرہاوس سے ملنے والی اطلاعات میں کہا گیا ہے کہ گورنر ہاؤس کے دروازے مہمانوں کے لئے بند کردیئے گئے ہیں ،چودھری پرویزالہٰی حلف لینےکیلئےگورنرہاؤس پہنچ گئے ہیں اور کسی کو گورنرہاوس کے اندر نہیں جانے دیا جارہا ہے، یہ بھی کہا جارہا ہےکہ گورنرہاوس کی انتظامیہ نے گورنرہاوس کے دروازے کھولنے سے انکارکردیا ہے،

    ذرائع کے مطابق گورنرکی طرف سے انکار کے بعد اب صدر مملکت عارف علوی ویڈیولنک پرحلف لیں‌گے جس کے لیے انتظامات کیے جارہے ہیں

    یاد رہےکہ آج سپریم کورٹ نے وزیراعلیٰ پنجاب کے انتخاب میں ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کالعدم قرار دیتے ہوئے چوہدری پرویز الٰہی کو وزیراعلیٰ پنجاب مقرر کردیا۔

    سپریم کورٹ آف پاکستان کے تین رکنی بینچ نے وزیراعلیٰ پنجاب کے انتخاب کے دوران اسپیکر پنجاب اسمبلی کی ق لیگ کے 10 ووٹ مسترد کرنے کی رولنگ کو کالعدم قرار دے دیا۔

    چیف جسٹس عمر عطاء بندیال نے 11 صفحات پر مشتمل فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ حمزہ شہباز شریف کا وزیراعلیٰ پنجاب کی حیثیت سے حلف غیر آئینی تھا۔

    عدالت نے فیصلے میں کہا کہ چوہدری پرویز الٰہی ساڑھے 11 بجے تک حلف اٹھائیں، گورنر پنجاب کو بھی ان سے حلف لینے کی ہدایت کردی گئی، اگر گورنر پنجاب حلف نہ لیں تو صدر مملکت وزیراعلیٰ پنجاب سے آج ہی حلف لیں۔

    سپریم کورٹ نے فیصلوں پر عملدرآمد کی ذمہ داری چیف سیکریٹری پنجاب کے سپرد کردیں۔

    سپریم کورٹ چوہدری پرویز الٰہی کو ملنے والے 186 ووٹ بحال کرتے ہوئے حمزہ شہباز کو فوری طور پر عہدہ چھوڑنے کی ہدایت کردی، ساتھ ہی پنجاب کابینہ کو بھی غیر قانونی قرار دیتے ہوئے تحلیل کرنے کا حکم دیدیا۔

    سپریم کورٹ نے اپنے تحریری فیصلے میں مزید کہا کہ پنجاب کے عوام کے بنیادی حقوق کی صریحاً خلاف ورزی کی گئی، ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کی کوئی قانونی حیثیت نہیں، حمزہ شہباز منتخب وزیراعلیٰ نہیں ہیں۔

    عدالت نے کہا کہ 2015ء کے جسٹس عظمت سعید فیصلے سے متعلق دلائل یہاں قابل قبول نہیں، جسٹس عظمت کے فیصلے میں پارٹی سربراہ سے متعلق پاسنگ ریمارکس تھے، فیصلے میں پارٹی سربراہ سے متعلق ریمارکس کی آئین سے مطابقت نہیں۔

    فیصلے میں یہ بھی کہا گیا کہ جسٹس عمر عطاء بندیال نے الگ تحریری نوٹ میں آرٹیکل 63 اے کا ذکر نہیں کیا تھا۔

    تحریری فیصلے میں عدالت عظمیٰ کا کہنا ہے کہ حمزہ شہباز حکومت کے تمام قانونی اقدامات برقرار رہیں گے، نئے وزیراعلیٰ اور کابینہ چاہے تو ان اقدامات کو واپس یا ترمیم کرسکتی ہے۔

    سپریم کورٹ نے عدالتی فیصلے کی نقول فوری طور پر گورنر اور چیف سیکریٹری پنجاب کو پہنچانے کی بھی ہدایت کردی۔

  • امریکا اور افغانستان کے درمیان منجمد اثاثے جاری کرنے پر اہم پیش رفت

    امریکا اور افغانستان کے درمیان منجمد اثاثے جاری کرنے پر اہم پیش رفت

    بیرون ملک ٹرسٹ فنڈ میں منجمد افغان مرکزی بینک کے اربوں ڈالرز کے اثاثے جاری کرنے کے لیے امریکا اور طالبان حکام نے ایک دوسرے کو تجاویز پیش کی ہیں جو کہ افغانستان کو درپیش معاشی بحران سے نکالنے کی کوشش کی طرف اشارہ ہے۔

    غیر ملکی خبر رساں ایجنسی ’رائٹرز‘ کے مطابق مذاکرات میں شامل تین ذرائع نے اس بات کی تصدیق کی ہے دونوں فریقین کے درمیان اختلافات اپنی جگہ برقرار ہیں، جن میں طالبان کی جانب سے بینک کے اعلیٰ سیاسی تقرریوں کو تبدیل کرنے سے انکار بھی شامل ہے، جن میں سے ایک پر امریکی پابندیاں ہیں جیسا کہ تحریک کے کئی دیگر رہنماؤں پر ہیں۔

    کچھ ماہرین کا کہنا ہے کہ گزشتہ برس اقتدار پر قابض ہونے والے طالبان کی مداخلت سے بینک کو دور رکھنے جیسے اقدام سے ادارے میں اعتماد بحال ہوگا۔

    منجمد کی گئے اثاثے جاری کرنے سے افغانستان کے تمام معاشی مسائل تو حل نہیں ہو سکتے مگر بیرونی امداد منقطع ہونے کی وجہ سے متاثر، خشک سالی کا سامنا کرنے والے اور جون میں آنے والے خطرناک زلزلے کا شکار ہونے والے اس ملک کو کچھ حد تک ریلیف مل سکتا ہے، کیونکہ لاکھوں افغان باشندے کھانے کے لیے کچھ نہ ہونے کے بغیر دوسری مرتبہ موسم سرما کا سامنا کر رہے ہیں۔

    طالبان کے ایک حکومتی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اگرچہ طالبان، ٹرسٹ فنڈ کو مسترد نہیں کرتے مگر وہ اس فنڈ کو تیسرے فریق کے ماتحت دینے کی امریکی تجویز کی مخالفت کرتے ہیں جو کہ بحال کیے گئے اثاثے اپنے پاس رکھے گا اور تقسیم کرے گا۔

    نام ظاہر کرنے سے انکار کرتے ہوئے ایک امریکی عہدیدار نے کہا کہ امریکا، سوئٹزرلینڈ اور دیگر فریقیں کے ساتھ ایک مکانزم تشکیل دینے پر بات چیت کر رہا ہے جس میں ٹرسٹ فنڈ شامل ہوگا اور ادائیگیوں کا فیصلہ بین الاقوامی بورڈ کی مدد سے کیا جائے گا۔

    امریکی عہدیدار نے مزید کہا کہ ممکنہ تشکیل دیے جانے والا ماڈل عالمی بینک کے زیر انتظام افغانستان تعمیرنو ٹرسٹ فنڈ ہوسکتا ہے جو کابل کے لیے غیر ملکی ترقیاتی امداد کے عطیات حاصل کرے گا۔

  • چین میانمار کے خلاف اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے، امریکا

    چین میانمار کے خلاف اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے، امریکا

    امریکا نے میانمار میں فوجی حکومت کی جانب سے 4 جمہوریت پسند رہنماؤں کو پھانسی دینے کے معاملے پر چین سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ میانمار کے خلاف اپنا اثرو رسوخ استعمال کرے اور اس پر دباؤ ڈالے۔

    امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے کہا کہ چین کسی بھی دوسرے ملک سے زیادہ میانمار پر اثر انداز ہوسکتا ہے، انہوں نے کہا کہ ہم دنیا کے ممالک سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ میانمار کو فوجی سازوسامان کی فروخت پر پابندی لگائیں اور حکومت کو کسی بھی حد تک قرض دینے سے گریز کریں۔

    دریں اثناء میانمار کی حکومت نے چاروں سیاسی رہنماؤں کو پھانسی کا دفاع کرتے ہوئے کہا انہوں ایسے جرائم کیے تھے جن کے لیے انہیں کئی بار موت کی سزا دی جانی چاہیے تھی، جنتا کے ترجمان زو من تون نے پریس بریفنگ میں کہا ان چاروں افراد کی پھانسی سے قبل انکے خاندان کے افراد سے ویڈیو لنک کے ذریعے بات کرائی گئی تھی۔

    ان کارکنوں کو گزشتہ سال ملک میں فوجی بغاوت کے بعد گرفتار کیا گیا تھا اور ان پر دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث ہونے کا الزام لگایا گیا تھا۔ انہیں بند کمرے کے مقدمے میں موت کی سزا سنائی گئی جس پر انسانی حقوق کے گروپوں نے تنقید کی ہے۔

    دوسری طرف چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان ژاؤ لیجیان نے امریکی بیان پر اپنے ردعمل میں کہا چین کسی بھی ملک کے اندرونی معاملات میں عدم مداخلت کے اصول پر کاربند ہے، ژاؤ نے کہا کہ میانمار میں تمام جماعتوں اور دھڑوں کو ملک کے مفادات کے لیے کام کرنا چاہیے اور آئین اور قوانین کے دائرے میں رہتے ہوئے اختلافات سے مناسب طریقے سے نمٹنا چاہیے۔

  • فرانس کے بیٹسمین نے ٹی ٹوئنٹی کا عالمی ریکارڈ توڑ دیا

    فرانس کے بیٹسمین نے ٹی ٹوئنٹی کا عالمی ریکارڈ توڑ دیا

    پیرس :فرانس کے اوپننگ بیٹسمین گسٹاؤ میک کیون نے ٹی ٹوئنٹی میں سنچری بنا کر سب سے کم عمر کھلاڑی کا عالمی ریکارڈ اپنے نام کر لیا۔تفصیلات کے مطابق تیسرے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2024 یورپ سب ریجنل کوالیفائر ٹورنامنٹ میں فرانس اور سوئزرلینڈ کی ٹیم کے درمیان ہونے والے میچ میں یہ عالمی ریکارڈ بنا۔

    فرانسیسی اوپنر گسٹاؤ میک کیون نے 18 سال اور 280 دن کی عمر میں یہ اعزاز اپنے نام کیا اس سے قبل یہ ریکارڈ افغانستان کے اوپنر حضرت اللہ زازئی کے نام تھا جنہوں نے 162 رنز کی ناقابل شکست اننگ کھیلی تھی۔افغانستان کے حضرت اللہ زازئی نے 2019 میں آئرلینڈ کے خلاف 62 گیندوں پر یہ کارنامہ انجام دیا تھا۔

    اوپنر میک کیون نے جمہوریہ چیک کے خلاف بھی 54 گیندوں پر 76 رنز بنائے تھے، اس ٹورنامنٹ میں میک کیون رنز میں سب سے آگے ہیں ، انہوں نے 161 کے اسٹرائیک ریٹ اور 92.50 کی اوسط سے 185 رنز بنائے ہیں۔

    میک کیون کی اننگز نے جمہوریہ چیک کے خلاف 54 گیندوں پر 76 رنز بنائے، اور نوجوان ٹورنامنٹ میں رنز کے لیے سب سے آگے ہے، اس کے 161 کے اسٹرائیک ریٹ اور 92.50 کی اوسط سے 185 رنز بنائے۔

    اتفاق ہے کہ گسٹاؤ میک کیون شاندار سنچری کے باوجود اپنی ٹیم کو شکست سے نہ بچا سکے، فرانس یہ میچ ایک سنسنی خیز مقابلے کے بعد آخری گیند پر میچ ہار گیا۔

  • نواز شریف کا وزیراعظم سے ٹیلیفونک رابطہ، سیاسی صورتحال پرتبادلہ خیال

    نواز شریف کا وزیراعظم سے ٹیلیفونک رابطہ، سیاسی صورتحال پرتبادلہ خیال

    اسلام آباد:قائد ن لیگ نوازشریف نے وزیراعظم شہبازشریف اور سربراہ پی ڈی ایم مولانا فضل الرحمان سے ٹیلیفونک رابطہ کیا ہے۔

    ترجمان کے مطابق نوازشریف نے وزیراعظم شہباز شریف کوپی ڈی ایم کا اتحاد مضبوط کرنے اور پی ڈی ایم رہنماؤں سے مشاورت جاری رکھنے کی ہدایت کی۔

    سابق وزیراعظم نے شہبازشریف کو پنجاب میں پارٹی رہنماؤں اور کارکنوں کو متحرک رکھنے کی بھی ہدایت کی ہے۔

    دوسری جانب نوازشریف نے پی ڈی ایم سربراہ مولانا فضل الرحمان سے ٹیلی فونک رابطہ کیا ہے، دونوں رہنماوں میں پنجاب کی سیاسی صورتحال پرتبادلہ خیال کیا گیا۔

    دونوں رہنماؤں نے پنجاب میں پی ڈی ایم کو مزید منظم کرنے اور عدالتی فیصلے کے بعد نیالائحہ عمل طے کرنے پر اتفاق کیا۔