Baaghi TV

Author: +9251

  • احساس ایمرجنسی کیش پروگرام کے پہلےفیزمیں 15 ملین خاندانوں کو 180 ارب روپے تقسیم

    احساس ایمرجنسی کیش پروگرام کے پہلےفیزمیں 15 ملین خاندانوں کو 180 ارب روپے تقسیم

    ایوان بالاء کی قائمہ کمیٹی برائے تخفیف غربت و سماجی تحفظ کااجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر نصیب اللہ بازئی کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا۔ قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں احساس ایمرجنسی کیش پروگرام کے بجٹ، صوبہ اور ضلع وار نقد رقوم کی تقسیم اور مستقبل کے پروگرام، سینیٹر مشتاق احمد خان کے پاکستان پوورٹی ایلیوی ایشن فنڈ(Pakistan Poverty Alleviation Fund) کی کارکردگی کے حوالے سے 12 نومبر 2021کو سینیٹ اجلاس میں اٹھائے گئے عوامی اہمیت کے معاملے کے علاوہ رقیہ بی بی کی بسپ (BISP ) سے مالی امدادکی عدم فراہمی کے حوالے سے عوامی عرضداشت کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔
    پیپلز بس سروس کے نئے روٹ کے آغاز کا اعلان

    قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں چیئرمین و اراکین کمیٹی نے ورکنگ پیپر کی تاخیر سے فراہمی پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ہدایت کی کہ آئندہ اجلاس میں ورکنگ پیپر رولز کے مطابق 48 گھنٹے پہلے فراہم کیے جائیں تاکہ اراکین کمیٹی ان کا جائزہ لے کر معاملات پر بحث کر سکیں۔

    قائمہ کمیٹی کو سیکرٹری وزارت غربت میں کمی وسماجی تحفظ اور سیکرٹری بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام نے احساس ایمرجنسی کیش پروگرام کے بجٹ، صوبہ اور ضلع وار نقد رقوم کی تقسیم اور مستقبل کے پروگرام کے بارے تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایاکہ ایمرجنسی کیش پروگرام کا پہلا مرحلہ اپریل سے ستمبر2020 کو منعقد ہوا تھا جس کیلئے 16.9 ملین مالی معاونت حاصل کرنے والے خاندانوں کی شناخت کی گئی تھی اور اس کیلئے 203 ارب روپے کابجٹ مختص کیا گیا تھا۔

     

    یو ایس ایڈ، پاکستان میں ویکسی نیشن کیلئے20ملین ڈالرفراہم کریگا،عبدالقادر پٹیل

     

    ایک خاندان کو 12 ہزار روپے ایمرجنسی کیش امداد فراہم کرنی تھی۔ اس پروگرام کے تحت 15 ملین خاندانوں کو 180 ارب روپے تقسیم کیے گئے۔نادرا سے بائیومیٹرک تصدیق کے بعد لوگوں کو امداد فراہم کی گئی اور اس کیلئے سرکاری عمارتوں میں صوبائی حکومتوں اور ضلعی انتظامیہ کی مدد سے امدادی کارروائی عمل میں لائی گئی۔امداد کیلئے دو بینکوں سے مدد حاصل کی گئی اور پوائنٹ آف سیل پر بائیو میٹرک کی ڈوائس بھی فراہم کی گئی تاکہ لو گ آسانی سے امداد حاصل کر سکیں۔

     

    ادویات کی مصنوعی قلت پیدا کرنے والوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹنے کا فیصلہ

     

    کمیٹی کو بتایا گیا کہ وہ افراد جن کے فنگر پرنٹس کے مسائل تھے انہیں بینکوں سے امداد فراہم کی گئی۔ایمرجنسی کیش پروگرام فیز II- کے تحت 4 ملین لوگوں کو ٹارگٹ کیا گیا جس کیلئے 48 ارب روپے مختص کیے گئے۔فیز II- کے تحت31.75 ارب روپے 2.53 ملین خاندانوں میں تقسیم کیے گئے۔اس کا طریقہ کار بھی فیزI- کی طرح تھا اور پی ایم ٹی سکور 29.01 سے37 والوں کو اہل قرار دیا گیا تھا۔ یہ پروگرام اپریل 2022 میں ختم کیا گیا۔ قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ کرونا وباکی وجہ سے لوگوں کو بے شمار روزگار کے مسائل تھے مارکیٹیں بند کر دی گئی تھیں جس کی وجہ سے لوگوں کی مالی حالت انتہائی خراب ہو گئی تھی۔

    حکومت کے احسن اقدام کی وجہ سے بے شمار لوگوں کو ریلیف ملا۔اراکین کمیٹی نے ایجنٹوں کے ذریعے خواتین کو پورے پیسے نہ ملنے کے معاملات بھی اٹھائے جس پر سیکرٹری بسپ نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ پولیس اور ایف آئی اے کے ساتھ مل کر کارروائی عمل میں لائی گئی اور لوگوں کو پیسے بھی واپس دلوائے۔ انہوں نے کہاکہ امداد کا کام پوسٹ آفس سے شروع ہوا تھا وہاں سے بھی یہ شکایات ملی تھیں پھر ٹیکنالوجی کی طرف گئے اور اب بائیومیٹرک پر آ گئے ہیں اس میں مسائل کی وجہ سے اب ایک نئے میکنزم کی طرف جا رہے ہیں جس سے لوگوں کو بغیر مسائل کے آسانی سے امداد میسر ہو سکے گئی۔

    کمیٹی کو بتایا گیا کہ وہ لوگ جو سروے میں شامل نہیں ہو سکے وہ نادرا میں قائم دفاتر میں اپنی رجسٹریشن کرائی شامل کر لئے جائیں گے۔سینیٹر ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے کہا کہ احساس راشن رعائت پروگرام کیلئے دن رات محنت کر کے 12 ملین غریب ترین لوگوں کو ٹارگٹ کیا گیا تھا جن کو کریانہ اور فیول کیلئے بھی سبسڈی فراہم کی جا سکتی تھی۔ اس پروگرام کا ڈیٹا مرتب کرنے کیلئے دن رات میٹنگز کر کے سروے مکمل کرایا تھا اس کی پیش رفت بارے آگاہ کریں جس پر کمیٹی کو آگاہ کیا گیا کہ اس پروگرام کے تحت صوبہ پنجاب اور کے پی کے میں کام ہوا تھا مگرصوبہ خیبر پختونخوا نے پروگرام کے نام کی وجہ سے اس کو واپس لے لیا۔ جس پر چیئرمین و اراکین کمیٹی نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ کچھ معاملات ایسے ہوتے ہیں جو سیاسی وابستگی سے بالاتر ہو کر سرانجام دینے چاہیں اور اس ایسے معاملات کے حوالے سے تمام سیاسی جماعتوں کی یکساں پالیسی اور موقف ہونا چاہیے یہ غریب خاندانوں کی مالی، معاشی اور معاشرتی مسائل کے متعلق ہے۔ہم سب کو مل کر اس پر کام کرنا چاہیے۔

    سینیٹر مشتاق احمد خان نے کہاکہ ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے جو کام کیے تھے وہ لائق تحسین ہیں اس معاملے کو ایوان بالاء کے اجلاس میں اٹھایا جائے۔چیئرمین کمیٹی سینیٹر نصیب اللہ بازئی چیئرمین سینیٹ کے ساتھ یہ معاملہ اٹھائیں اور ان سے اجازت لے کر صوبائی حکومت اور متعلقہ وزیرکے ساتھ مشاورت کر کے معاملے کو آگے بڑھائیں۔چیئر مین کمیٹی نے کہا کہ یہ معاملہ غریب عوام سے متعلق ہے اور ملک میں جس قدر مہنگائی ہو چکی ہے غریب عوام کے مسائل سن کر خوف طاری ہو جاتا ہے لوگوں کو ریلیف فراہم کر کے ان کی زندگیاں آسان بنائی جائیں۔

    سینیٹر مشتاق احمد خان کے ایجنڈے کے حوالے سے سینیٹر مشتاق احمد خان نے کہاکہ چونکہ ورکنگ پیپر آج صبح ملے ہیں انہیں پڑھ نہیں سکا تو معاملے پر بات نہیں ہو سکتی بہتر یہی ہے کہ آئندہ اجلاس تک یہ ایجنڈا موخر کیا جائے اور ورکنگ پیپر کی بروقت فراہمی یقینی بنائی جائے۔

    رقیہ بی بی کی عوامی عرضداشت کے حوالے سے کمیٹی کو بتایا گیاکہ کہ انہیں امداد فراہم کی گئی مگر آخری سروے کے مطابق ان کا پی ایم ٹی سکور 42.51 ہے جس کے تحت رقیہ کو اگلی مالی امداد نہیں دی گئی البتہ وسیلہ تعلیم پروگرام کے تحت انہیں 7 ہزار روپے کی امداد فراہم کر دی گئی ہے۔سینیٹر ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے کہاکہ یونیورسٹیوں میں طلبہ کو وظائف کیلئے امداد کی تقسیم کے حوالے سے آئندہ اجلاس میں تفصیلی بریفنگ فراہم کی جائے۔

    قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں سینیٹرز سیمی ایزدی، کیشو بائی، مولوی فیض محمد، ڈاکٹر ثانیہ نشتر، مشتاق احمد خان کے علاوہ سیکرٹری وزارت تخفیف غربت و سماجی تحفظ،ایڈیشنل سیکرٹری وزارت تخفیف غربت وسماجی تحفظ،سیکرٹری بسپ اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

  • پیپلز بس سروس کے نئے روٹ کے آغاز کا اعلان

    پیپلز بس سروس کے نئے روٹ کے آغاز کا اعلان

    سندھ کے صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن نے پیپلز بس سروس کے نئے روٹ کے آغاز کا اعلان کردیا۔ اعلان صوبائی وزیر ٹرانسپورٹ و اطلاعات شرجیل انعام میمن کی زیر صدارت پیپلز بس سروس سے متعلق اجلاس کے دوران کیا گیا۔

    پیپلز بس سروس کا روٹ 5 اسٹار چورنگی سے شروع ہو کر کے ڈی اے چورنگی، ناظم آباد عید گاہ، لیاقت آباد 10 نمبر، عیسیٰ نگری، سوک سینٹر، نیشنل اسٹیڈیم، کارساز، نرسری کورنگی روڈ سے کے پی ٹی انٹرچینج اور شان چورنگی پر اختتام پذیر ہوگا۔

    اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ بوٹ بیسن، امریکن قونصلیٹ، ماڑی پور، کیماڑی اور لیاری کے علاقوں پر مشتمل روٹ نمبر 11 کے لیے سروے کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔اجلاس کے دوران شرجیل انعام میمن نے نئے روٹ کے آغاز کا بھی اعلان کیا جبکہ ہدایت کی کہ ایک دو روز میں نئے روٹس پر مجھے پروگریس چاہیے۔

    ان کا کہنا تھا کہ پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کراچی میں پبلک ٹرانسپورٹ کے نظام کو جدید کرنے کے لیے کوشاں ہے۔

    انہوں نے کہا کہ بی آر ٹیز اور پیپلز انٹرا ڈسٹرکٹ بس سروس پروجیکٹ مکمل ہونے کے بعد کراچی کے شہریوں کا ٹرانسپورٹ کا دیرینہ مسئلہ حل ہو جائے گا۔

    اس اجلاس میں سیکریٹری ٹرانسپورٹ عبدالحلیم شیخ، پروجیکٹ ڈائریکٹر این آر ٹی سی صہیب شفیق، اسسٹنٹ ڈائریکٹر لیگل ایس ایم ٹی اے بشیر حسین و دیگر بھی موجود تھے۔

  • آرمی چیف کی زیرصدارت پروموش بورڈکااجلاس    :32بریگیڈیئرزکی میجرجنرل کےعہدے پر ترقی

    آرمی چیف کی زیرصدارت پروموش بورڈکااجلاس :32بریگیڈیئرزکی میجرجنرل کےعہدے پر ترقی

    راولپنڈی :آرمی چیف کی زیرصدارت پروموش بورڈ کا اجلاس:32 بریگیڈیئرزکی میجرجنرل کےعہدے پر ترقی ،پاک فوج کے ترجمان ادارے کے مطابق بریگیڈیئر سے میجر جنرل تک پروموشن بورڈ کا اجلاس آج جنرل ہیڈ کوارٹرز میں ہوا۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے صدارت کی۔

    پاک فوج کے ترجمان ادارے آئی ایس پی آر کے مطابق میجر جنرل کے عہدے میں ترقی پانے والوں میں بریگیڈیئر عمر نسیم بریگیڈیئر محمد عباس، بریگیڈیئر محمد شاہد ابڑو، بریگیڈیئر لقمان حفیظ، بریگیڈیئر یاسر الٰہی، بریگیڈیئر عدیل حیدر منہاس، بریگیڈیئر سید علی رضا، بریگیڈیئر شاہد پرویز، بریگیڈیئر شاہد پرویز شامل ہیں۔

    دیگر ترقی پانے والوں میں بریگیڈیئر احسن وقاص کیانی، بریگیڈیئر اظہر یاسین، بریگیڈیئر قیصر سلیمان، بریگیڈیئر ہارون اسحاق راجہ، بریگیڈیئر عامر امین، بریگیڈیئر ہارون حمید چودھری، بریگیڈیئر وسیم افتخار چیمہ، بریگیڈیئر محمد حسین، بریگیڈیئر شعیب بن اکرم، بریگیڈیئر کاشف خلیل، بریگیڈیئر کاشف عبداللہ، بریگیڈیئر امجد حنیف، بریگیڈیئر فیصل نصیر، بریگیڈیئر احمد کمال، بریگیڈیئر سعید الرحمان سرور شامل ہیں۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی میڈیکل کور سے بریگیڈیئر طفیل احمد، بریگیڈیئر رضوان صادق، بریگیڈیئر اعجاز احمد، بریگیڈیئر ندیم فضل، بریگیڈیئر شعیب احمد، بریگیڈیئر طاہر مسعود احمد، بریگیڈیئر وسیم احمد خان اور بریگیڈیئر سہیل صابر ترقی پانے والوں میں شامل ہیں۔

  • جماعت اسلامی نےحکومت اور اپوزیشن میں ثالثی کی پیش کش کر دی

    جماعت اسلامی نےحکومت اور اپوزیشن میں ثالثی کی پیش کش کر دی

    جماعت اسلامی پاکستان نے سیاسی بحران ختم کرنے کے لیے حکومت اور اپوزیشن میں ثالثی کی پیش کش کر دی۔

    عمران خان کے خط کی تشریح اور چودھری شجاعت کے خط کی تشریح میں فرق کیوں ؟ وزیر اطلاعات

    لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا کہ جماعت اسلامی اس وقت حکومت اور اپوزیشن میں بات چیت کے لیے میزبان بننے کو تیار ہے۔انہوں نے کہا کہ ملک میں اس وقت شدید لوڈ شیڈنگ اور معاشی بدحالی ہے لیکن حکومت و اپوزیشن دھینگا مشتی میں لگے ہیں جبکہ پی ڈی ایم اور پی ٹی آئی کو ان مسائل کا کوئی ادراک نہیں ہے۔

     

    مسلم لیگ نواز الیکشن سے بھاگ رہی ہے. شیخ رشید

     

    سراج الحق نے کہا کہ پی ڈی ایم، پیپلزپارٹی اور پی ٹی آئی نے باہمی لڑائی خود حل کرنے کے بجائے ہمیشہ راولپنڈی کی طرف دیکھا، کبھی پی ڈی ایم نے فوج پر الزامات لگا کر اسے متنازع بنایا تو کبھی پی آٹی آئی کی طرف سے یہ کیا گیا، نیوٹرلز سے بھی کہتا ہوں سیاسی جماعتوں کو اپنے فیصلے خود کرنے دیں۔

     

     

    امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ اب عدالتوں کو متنازعہ بنا دیا گیا جبکہ سوشل میڈیا پر عدلیہ کیخلاف باتیں ہو رہی ہیں، وزیراعلیٰ پنجاب کے انتخاب کے تنازعہ پر پھر پی ڈی ایم اور پی ٹی آئی عدالت میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عدلیہ جیسا مقدس ادارہ بھی بے توقیر ہوگیا، عدلیہ میں بھی تقسیم کا تاثر پیدا ہوگیا ہے اور اداروں کو تقسیم کیا جارہا ہے۔

    سراج الحق کا کہنا تھا کہ 2018 کا الیکشن متنازعہ تھا اور اس وقت سے ابتک حالات خراب ہیں جبکہ عوامی مفاد میں کوئی قانون سازی نہیں ہوئی البتہ آئی ایم ایف کے مطالبے پر جو قانون سازی ہوئی اس پر پی ڈی ایم اور پی ٹی آئی اکٹھے نظر آتی ہیں۔

  • ہنڈائی کمپنی نے اپنی کاروں کی قیمتیں 830,010 روپے تک بڑھا دیں

    ہنڈائی کمپنی نے اپنی کاروں کی قیمتیں 830,010 روپے تک بڑھا دیں

    کراچی :ہنڈائی نے اپنی کاروں کی قیمتیں 830,010 روپے تک بڑھا دی ہیں۔اطلاعات کے مطابق کار ساز کمپنی نے ایلینٹرا 1.6 کی قیمت 4.341 ملین روپے سے بڑھا کر 5.099 ملین روپے کر دی۔ اس نے ایلینٹرا 2.0 کی قیمت 500,510 روپے کے اضافے کے بعد 5.499 ملین روپے تک بڑھا دی۔

    کمپنی کا سوناٹا 2.0 830,010 روپے سے 7.899 ملین روپے مہنگا ہو گیا۔ اس نے سوناٹا 2.5 کی قیمت 7.927 ملین روپے سے بڑھا کر 8.499 ملین روپے کردی، جو کہ 571,510 روپے کا فرق ہے۔

    ٹویوٹا اور ہنڈئی نے گاڑیوں کی پروڈکشن روک دی…. جانیے کس ملک میں

    آٹو تجزیہ کار ارسلان حنیف نے کہا کہ آٹوموبائل اسمبلرز روپے کی قدر میں کمی کے مطابق گاڑیوں کی قیمتوں میں اضافہ کر رہے ہیں کیونکہ قیمتوں میں کوئی تبدیلی نہ ہونے سے ان کی آمدنی پر منفی اثر پڑے گا۔

    پچھلے ہفتے ہیونڈائی نشاط نے Tucson FWD اور Tucson AWD گاڑیوں کی قیمتوں میں 1.1 ملین روپے کا اضافہ کیا۔

    ٹویوٹا موٹرز نے ٹیسلا کا مقابلہ کرنے کیلئے کونسی ٹیکنالوجی متعارف کروائی ؟

    کمپنی ڈیلرشپ اور جے ایس کی تحقیق کے مطابق، کمپنی نے Tucson FWD کی قیمت کو 6.899 ملین روپے اور Tucson AWD کی قیمت کو 7.399 ملین روپے تک بڑھا دیا۔ روپے کی قدر میں کمی سے آٹو اسمبلرز سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں کیونکہ زیادہ تر آٹو پارٹس درآمد کیے جاتے ہیں۔

    ٹویوٹاانڈس نےپاکستان میں پیداواربندکرنےکا فیصلہ کرلیا

    ادھر دوسری طرف پاکستان میں گاڑیوں کے عالمی برانڈ ٹویوٹاانڈس نے پیداواربندکرنےکا فیصلہ کرلیا ہے ، اس حوالے سے پاکستان کے سنیئر تجزیہ نگارمبشرلقمان جو کہ معاشی اور اقتصادی صورت حال سے بخوبی واقف رہتے ہیں ، انہوں نے اہل وطن کوباخبررکھتے ہوئے کہاہے کہ ٹویوٹا انڈس جلد ہی اپنی پیداوار بند کردے گی۔

     

     

    مبشرلقمان کہتے ہیں کہ ٹویوٹا انڈس موٹرز کےاندرونی ذرائع نے اس صورت حال سے آگاہ کیا ہے اور کہا ہے کہ اس وقت معاشی گرداب میں پھنس جانے کی وجہ سے سرمایہ کار بھی پریشان ہیں، مبشرلقمان نے ٹویوٹا انڈس موٹرز کے ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے پاس کوئی زرمبادلہ نہیں ہے اور اسٹیٹ بینک نے کہا ہے کہ وہ مدد نہیں کر سکتے۔

    ٹویوٹا انڈس کی طرف سے یہ بھی فیصلہ متوقع ہے کہ اسٹیٹ بینک کی طرف سے انکار کے بعد جلد ہی انہیں ان کاروں کے لیے تمام ایڈوانسز واپس کرنا ہوں گے جو ان کے پاس ہیں اور اگر یہ حالت برقرار رہی تو تمام پروڈکشن بند کر دی جائے گی۔

     

     

    مبشرلقمان نے اس حوالے سے معاشی صورت حال پر دکھ کااظہارکرتے ہوئے کہا ہے کہ بہت سے درآمد کنندگان کو سنگین مسائل کا سامنا ہے کیونکہ بینک ان کے لیے L/Cs نہیں کھول رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ بینک 260 روپے فی ڈالر چاہتے ہیں کیونکہ پاکستانی روپے کا اتار چڑھاؤ نہیں رک رہا ہے۔ مبشرلقمان کا کہنا تھا کہ صورت حال اس قدر خراب ہوگئی ہےکہ ملک میں کاروبار ٹھپ ہونے والے ہیں کیونکہ ہم درآمدات پر منحصر معیشت ہیں۔

     

     

  • چوہدری شجاعت حسین سے مولانا فضل الرحمان کی ملاقات

    چوہدری شجاعت حسین سے مولانا فضل الرحمان کی ملاقات

    مسلم لیگ ق کے صدر چودھری شجاعت حسین سے جمعیت علما اسلام کے سربراہ اور پی ڈی ایم کے صدر مولانا فضل الرحمن نے ملاقات کی ہے،ملاقات کے موقع پر وفاقی وزیر چودھری سالک حسین بھی موجود تھے،مولانا فضل الرحمن نے چودھری شجاعت حسین کی خیریت دریافت کی،ملاقات میں موجودہ سیاسی صورتحال اور دیگر امور پرتبادلہ خیال کیا گیا .دونوں رہنماوں نے خوشگوار ماحول مٰیں گفتگو کی.

    زرائع کے مطابق مولانا فصل الرحمان نے مسلم لیگ ق کے صدر چوہدری شجاعت حسین کو اتحادی جماعتوں اور پی ڈی ایم کے حالیہ اجلاس کے فیصلوں کے حوالے سے اعتماد میں لیا. دونوں رہنماوں نے سپریم کورٹ کے فیصلے اور اس کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال پر مشاورت کی .

    مونس الہٰی نے مولانا فضل الرحمان اور چوہدری شجاعت حسین کی ملاقات پر تبصرہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان اب نجانے کیا مطالبہ لیے چوہدری شجاعت کے پاس گئے ہیں، شاید کوئی لیٹر ہی لکھوانے گئے ہوں پر اب فائدہ نہیں۔

  • ’بائیو نارڈوک‘ نےمنکی پاکس کی خصوصی ویکسین تیار کرلی

    ’بائیو نارڈوک‘ نےمنکی پاکس کی خصوصی ویکسین تیار کرلی

    یورپی ملک ڈنمارک کی بائیوٹیکنالوجی کمپنی ’بائیو نارڈوک‘ نے تیزی سے پھیلنے والی بیماری منکی پاکس کی خصوصی ویکسین تیار کرلی، جسے یورپین یونین (ای یو) نے استعمال کرنے کی اجازت بھی دے دی۔

    خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق ’بائیو نارڈوک‘ نے کچھ عرصہ قبل ہی (Imvanex) ’اموانیکس‘ نامی ویکسین تیار کی تھی، جسے ابتدائی طور پر امریکا اور کینیڈا کی حکومتوں نے استعمال کی اجازت دی تھی۔

    امریکی ممالک کے بعد یورپین یونین کی ہیلتھ ایجنسی نے بھی اسے استعمال کرنے کی اجازت دی تھی، جس کے بعد 26 جولائی کو یورپین یونین نے اس کے ہنگامی استعمال کی اجازت دی۔

    کمپنی نے تصدیق کی ہے کہ یونین کی جانب سے اجازت ملنے کے بعد ویکسین کے ڈوز تمام یورپی ممالک کو فراہم کیے جائیں گے جب کہ پہلے ہی امریکا اور کینیڈا کو اس کے ڈوز فراہم کیے جا چکے ہیں۔

    یورپین یونین کی جانب سے منظوری سے قبل ہی مذکورہ ویکسین کو متعدد یورپی ممالک میں تقسیم کیا گیا تھا اور اسے منکی پاکس سمیت سمال پاکس کے مریضوں پر استعمال کیا جا رہا تھا۔

    یورپین یونین نے مذکورہ ویکسین کو استعمال کی اجازت ایک ایسے وقت میں دی ہے جب کہ حال ہی میں عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے منکی پاکس کے پیش نظر عالمی سطح پر صحت کی ہنگامی صورت حال کا اعلان کیا ہے۔

    عالمی ادارہ صحت نے 24 جولائی کو ہنگامی صورت حال کا اعلان کیا تھا اور یورپین یونین نے 26 جولائی کو ویکسین کے استعمال کی اجازت دی۔

    ’اموانیکس‘ اب تک کی واحد ویکسین ہے، جسے خصوصی طور پر منکی پاکس اور اس سے ملتی جلتی بیماریوں کے لیے تیار کیا گیا ہے، تاہم اس سے قبل بھی اس بیماری کے لیے دیگر ویکسینز استعمال کی جا رہی تھیں۔

    منکی پاکس کے علاج کے لیے اب تک ماہرین خارش سمیت چکن پاکس کے علاج میں استعمال ہونے والی ویکسین کا استعمال کر رہے تھے۔

    ماہرین کے مطابق عام طور پر منکی پاکس کے مریض 4 سے 6 ہفتوں میں صحت یاب ہوجاتے ہیں، تاہم بعض مریضوں میں بیماری کئی ماہ تک چل سکتی ہے۔

    مذکورہ بیماری اگرچہ براعظم افریقہ میں عام وبا کی صورت میں پائی جاتی تھی، تاہم رواں برس مئی سے یورپ اور امریکا سمیت ایشیائی ممالک میں پائی جانے والی بیماری مختلف ہے، جو صرف قریبی جسمانی روابط یا پھر مریض کے استعمال شدہ کپڑوں پر لگے خون اور دیگر گندگی سے دوسرے شخص کو متاثر کر سکتی ہے۔

  • یوکرائنی فوج کے200سے زیادہ ارکان انسانی حقوق کےخلاف جرائم میں ملوث ہیں

    یوکرائنی فوج کے200سے زیادہ ارکان انسانی حقوق کےخلاف جرائم میں ملوث ہیں

    ماسکو:یوکرائنی فوج کے200سے زیادہ ارکان انسانی حقوق کےخلاف جرائم میں ملوث ہیں،اطلاعات کے مطابق روس کی تحقیقاتی کمیٹی کے سربراہ نے کہا ہے کہ ابتدائی تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ یوکرائنی فوج کے 200 سے زیادہ ارکان "انسانیت کے امن اور سلامتی کے خلاف جرائم” میں ملوث ہیں۔

    الیگزینڈر باسٹریکن نے اخبار روزیسکایا گزیٹہ کو بتایا کہ 24 فروری کو روس کے فوجی آپریشن کے آغاز کے بعد سے یوکرین کی جانب سے خلاف ورزیوں پر 400 سے زائد افراد پر مشتمل 1,300 سے زیادہ فوجداری مقدمات درج کیے گئے ہیں۔

    انہوں نے انکشاف کیا کہ کل 92 کمانڈروں اور ماتحتوں پر پہلے ہی جرائم کا الزام عائد کیا جا چکا ہے۔

    تحقیقاتی کمیٹی کے سربراہ کے مطابق 220 سے زائد مشتبہ افراد، جن میں یوکرین کی مسلح افواج کی اعلیٰ کمان کے نمائندے اور عام شہریوں پر گولیاں چلانے والے فوجی یونٹس کے کمانڈر بھی شامل تھے، امن و سلامتی کے خلاف جرائم میں ملوث تھے۔ بنی نوع انسان کا، جس کی کوئی پابندی نہیں ہے۔”

    انہوں نے مزید کہا کہ اب تک 92 یوکرائنی کمانڈروں اور ماتحتوں کے خلاف الزامات درج کیے گئے ہیں، جن میں سے 96 مشتبہ افراد کو مطلوبہ فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔

    "یوکرائنی قوم پرستوں کی طرف سے طاقت کے استعمال کا کوئی جواز نہیں ہو سکتا،” باسٹریکن نے اصرار کرتے ہوئے کہا، "وہ عوامی جمہوریہ ڈونیٹسک اور لوگانسک پر شدید گولہ باری کر رہے ہیں۔ وہ بے دردی سے پرامن شہریوں، سویلین انفراسٹرکچر بشمول بچوں کے اداروں کو نشانہ بناتے ہیں۔

    انہوں نے یوکرائنی افواج پر یہ بھی الزام لگایا کہ انہوں نے "اس کے لیے روسی فوج کو مورد الزام ٹھہرانے کے لیے” اپنی ہی سرزمین پر حملہ کیا۔

    تحقیقاتی کمیٹی کے سربراہ نے کہا کہ ماسکو نے اصرار کیا ہے کہ اس کی فوجیں کبھی بھی عام شہریوں کو نشانہ نہیں بناتے، صرف یوکرین کی افواج اور فوجی ڈھانچے کو نشانہ بناتے ہیں۔

    تحقیقاتی کمیٹی کے سربراہ نے کہا کہ یوکرائن کی جانب سے حملوں میں 7,000 سے زیادہ شہری تنصیبات کو تباہ کیا گیا ہے، جن میں گھر، اسکول اور کنڈرگارٹن شامل ہیں، 91،000 سے زائد افراد کو متاثرین کے طور پر نامزد کیا گیا ہے۔

    برطانیہ، امریکہ، کینیڈا، جارجیا اور ہالینڈ کے شہریوں کے خلاف بھی کرائے کے جنگجوؤں کے طور پر تنازعہ میں ملوث ہونے پر مجرمانہ مقدمات کا آغاز کیا گیا ہے، جبکہ یوکرائنی قوم پرست یونٹوں پر روسی جنگی قیدیوں کو تشدد کا نشانہ بنانے، بیرونی ممالک میں روسی سفارت خانوں پر حملے کرنے والوں کے خلاف بھی مقدمات قائم کیئے جائیں گے

  • یو ایس ایڈ، پاکستان میں ویکسی نیشن کیلئے20ملین ڈالرفراہم کریگا،عبدالقادر پٹیل

    یو ایس ایڈ، پاکستان میں ویکسی نیشن کیلئے20ملین ڈالرفراہم کریگا،عبدالقادر پٹیل

    وفاقی وزیر برائے قومی صحت عبدالقادر پٹیل نےکہا ہے کہ یو ایس ایڈ نے پاکستان میں ویکسی نیشن کیلئے اضافی طور پر 20ملین ڈالر کی فراہمی کا وعدہ کیا ہے،امریکی سنٹر فار ڈیزیز کنٹرول بھی پاکستان میں بیماریوں کے ڈیٹا سینٹر کی مضبوطی کیلئے ادارہ صحت کی معاونت کرے گا ۔

    ادویات کی مصنوعی قلت پیدا کرنے والوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹنے کا فیصلہ

    وزارت صحت سے جاری بیان کے مطابق ان خیالات کااظہارانہوں نے امریکامیں پاکستان اور امریکا کے درمیان ہیلتھ ڈائیلاگ کے موقع پر کیا۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان اور امریکا نے صحت کے شعبوں میں تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ وبائی امراض اور صحت کے تحفظ کےچیلنج سے نمٹنے کیلئے پاک امریکا اشتراک کار بہت اہم ہے۔امریکی فوڈ اینڈڈرگ ایڈمنسٹریشن اور ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان کے درمیان تعاون مستحکم کرنے کافیصلہ کیاہے۔

     

    پاکستان جیسے زرعی ملک میں گزشتہ حکومت میں غذائی بحران آئے۔ وزیر اعظم

     

    وفاقی وزیر نے کہاکہ یو ایس ایڈ نے پاکستان میں ویکسی نیشن کیلئے اضافی طور پر 20ملین ڈالر کی فراہمی کا وعدہ کیاہے،پاکستان اور امریکا حفاظتی ٹیکہ جات ،غذائیت ،زچہ بچہ کی صحت، نوزائیدہ بچوں کی زندگیاں بچانے اور سرحد پار صحت کے تحفظ بارے تعاون میں پیش رفت کریں گے، دونوں ممالک نے پاکستان میں بیماریوں پر قابو پانے کیلئے سینٹر کی تشکیلِ و ترقی کیلئے مشترکہ کوششیں شروع کر دی ہیں۔

     

    درآمدی شعبے کے لیے گیس کے نرخوں میں 82فیصد تک اضافہ

     

    عبدالقادر پٹیل نے کہاکہ امریکی سنٹر فار ڈیزیز کنٹرول پاکستان میں بیماریوں کے ڈیٹا سینٹر کی مضبوطی کیلئے ادارہ صحت کی مدد کرے گا ۔ انہوں نے کہا کہ کووڈ ۔19 کی وبا کے دوران پاک امریکا تعاون سے صحت کے شعبے میں بڑھتے ہوئے تعاون کا پتہ چلتا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ صحت کے شعبے میں پاک امریکا تعاون ،بیماریوں اور وبا کے خلاف ڈھال سے قیمتی انسانی جانیں بچائی جاسکتی ہیں،بیماریوں کی کوئی سرحد نہ ہونے سے وبا کسی خاص ملک کیلئے نہیں بلکہ پورے خطے کیلئے چیلنج ہو گی۔وزیر صحت نے کہا کہ پولیو کے خاتمے میں کامیابی کیلئے ماں اور بچے کی غذائیت بہت اہم ہے، پاکستان عالمی صحت کے تحفظ بارے ایجنڈے کے تحت اپنی بارڈر ہیلتھ ایجنسی کو مضبوط کر رہا ہے۔

    انہوں نے کہاکہ طرفین نے معلومات، طبی مہارت اور امراض پر قابو پانے کیلئے بہترین عملی اقدامات کے تبادلے کے عزم کا بھی اظہار کیا ہے۔ وفاقی وزیر نے کہاکہ امریکا نے پاکستان کی کورونا وبا پر کامیابی پانے کے لیے کوششوں کو سراہا اور اس حوالے سے قریبی اشتراک کار جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں ملکوں کے درمیان صحت بارے آئندہ مذاکرات پاکستان میں ہوں گے ۔ عبدالقادر پٹیل نے امریکا کی جانب سے ویکسین کی چھ کروڑ پندرہ لاکھ خوراکیں اوربچوں کیلئے ایک کروڑ ساٹھ لاکھ ویکسین کی خوراکوں کی فراہمی پر شکریہ ادا کیا۔ وفاقی وزیر نے امریکا میں پاکستان کے سفیر مسعود خان کے تعاون کو بھی سراہا۔

  • ملک کا حل صدارتی نہیں بلکہ جمہوری نظام میں ہے. صدر عارف علوی

    ملک کا حل صدارتی نہیں بلکہ جمہوری نظام میں ہے. صدر عارف علوی

    صدر پاکستان عارف علوی نے میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو میں کہا کہ ملک کا حل صدارتی نہیں بلکہ جمہوری نظام میں ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ: وزیر اعظم کی جانب سے بھیجی جانے والی 74 میں سے 69 سمریاں فوری واپس بھجوائیں

    انہوں نے کہا: گورنر پنجاب والی سمری روکی اس میں گنجائش تھی۔

    صدر پاکستان کا مزید کہنا تھا کہ: اورسیز ووٹنگ، ای وی ایم اور نیب قوانین میں ترامیم کے بل واپس بھجوائے جبکہ فنانس بل پررات 11 بجے دستخط کئے۔

    جب صدر پاکستان عارف علوی سے سوال کیا گیا کہ کیا آپ کے خلاف بھی آرٹیکل 6 کی کاروائی ہونی چاہئے ؟

    تو انہوں نے جواب دیا کہ: اگر کوئی سمجھتا ہے میں نے پاکستان کے آئین کے ساتھ غداری کی ہے تو مجھ پر آرٹیکل چھ ضرور لگائیں لیکن میں نے نہ تو آئین توڑا ہے اور نہ ناہی اس کو معطل کیا ہے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ ملک میں پولرائزیشن بڑھ گئی ہے لہذا میں زاتی طور ڈائیلاگ کرانے کیلئے تیار ہوں۔

    صدر پاکستان کا کہنا تھا کہ: میں امریکہ کے ساتھ اچھے تعلقات کا حامی ہوں لیکن یہ تعلقات برابری کی سطح پر ہونے چاہئے۔

    عمران خان سے رابطہ کے بارے میں سوال پر ان کا کہنا تھا کہ میرا عمران خان سے رابطہ واٹس ایپ پر رہتا ہے لیکن انہوں نے مجھے میرے بطور صدر پاکستان فیصلوں کے بارے میں کبھی کوئی بات نہیں کی بلکہ یہ سارے فیصلے میں اپنی مرضی سے بطور صدر پاکستان کرتا ہوں.