Baaghi TV

Author: +9251

  • حکومت نے نئی کمیٹی تشکیل دیکر سابقہ انسداد ریپ کمیٹی تحلیل کردی

    حکومت نے نئی کمیٹی تشکیل دیکر سابقہ انسداد ریپ کمیٹی تحلیل کردی

    وفاقی حکومت نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی سابقہ ​​حکومت کی جانب سے بنائی گئی انسداد ریپ کی خصوصی کمیٹی کو تحلیل کرتے ہوئے قانون سازوں، قانونی ماہرین، بیوروکریٹس، وکلا اور طبی ماہرین پر مشتمل 26 رکنی خصوصی کمیٹی کا نوٹیفکیشن جاری کردیا۔

    ڈان کے مطابق: نوٹیفکیشن کے مطابق انسداد ریپ (تحقیقات اور ٹرائل) ایکٹ 2021 کے سیکشن 15 کی ذیلی دفعہ (1) کی پیروی کرتے ہوئے وزارت قانون و انصاف ایک خصوصی کمیٹی کی تشکیل پر خوش ہے۔

    نوٹیفکیشن کے مطابق اراکین عوامی فلاح یا اعزازی بنیادوں پر خدمات انجام دیں گے۔

    اس سے قبل پی ٹی آئی حکومت کی جانب سے گزشتہ سال دسمبر میں بنائی گئی 40 رکنی خصوصی کمیٹی کی سربراہی اس وقت کی پارلیمانی سیکریٹری برائے قانون بیرسٹر ملائکہ علی بخاری نے کی تھی۔

    نئے نوٹیفکیشن کے مطابق سابق سینیٹر عائشہ رضا فاروق کمیٹی کی سربراہ ہوں گی جس میں مہناز اکبر عزیز، پنجاب، خیبرپختونخوا، بلوچستان اور سندھ کے چیف سیکریٹریز، نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) پاکستان کے نمائندے بھی شامل ہوں گے.

    الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) اور وزارت قانون، سابق پراسیکیوٹر جنرل پنجاب احتشام قادر، سابق ایڈیشنل انسپکٹر جنرل کمال الدین ٹیپو، تیمور علی خان، ایڈووکیٹ عصمت مہدی، خالد پروین، عنبرین قریشی، غزالہ یاسمین، ندا علی اور شرافت علی، ڈیولپمنٹ کنسلٹنٹ والیری خان، محمد علی نیکوکارہ، زینب مصطفیٰ، اینکر ماریہ میمن، پولیس سرجن سمیہ سید اور فرانزک ماہر عائشہ سرور شامل ہیں۔

    انسداد ریپ (تحقیقات اور ٹرائل) ایکٹ 2021، جسے حال ہی میں پارلیمنٹ نے منظور کیا ہے، اس کا مقصد خصوصی عدالتوں کا قیام اور ریپ کے مقدمات کی تفتیش اور ٹرائل کے دوران جدید آلات کے استعمال کی کوشش کرنا ہے، خصوصی کمیٹی وقتاً فوقتاً نادرا کو جنسی استحصال کے مجرموں کا رجسٹر تیار کرنے کے لیے مناسب ہدایات بھی جاری کر سکتی ہے جس کی تفصیلات صرف عدالت یا قانون نافذ کرنے والے ادارے کو فراہم کی جائیں گی۔

    قانون کے تحت ملک بھر میں خصوصی عدالتیں چیف جسٹس آف پاکستان کی مشاورت سے قائم کی گئی ہیں اور وہ کسی بھی ایسے شخص کو خصوصی عدالت کا جج مقرر کر سکتی ہے جو کم از کم 10سال تک سیشن جج یا ایڈیشنل سیشن جج ہو یا اتنی مدت کے لیے وکیل رہا ہو اور تقرری کے وقت اس فرد کی عمر 70 سال سے زیادہ نہ ہو۔

    خصوصی عدالت کے جج کے پاس وہی اختیارات اور دائرہ اختیار ہے جو سیشن عدالت کے ہوتے ہیں اور اس کی تقرری تین سال کی مدت کے لیے کی جائے گی لیکن اسے صوبے کے اندر کسی اور خصوصی عدالت کو منتقل کیا جا سکتا ہے۔

    ملک بھر میں انسداد ریپ کے کرائسس سیل قائم کیے گئے، ان سیلوں کی سربراہی متعلقہ علاقے کے کمشنر یا ڈپٹی کمشنر کرتے ہیں اور اس میں سرکاری ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ اور ضلعی پولیس افسر یا ڈویژن کی سربراہی کرنے والا ایک پولیس افسر بھی شامل ہو گا۔

  • وینا ملک نے عمران خان کو صدر پاکستان کہہ دیا

    وینا ملک نے عمران خان کو صدر پاکستان کہہ دیا

    وینا ملک جن کا ٹویٹر اکائونٹ متنازعہ ہے اس کے بارے میں کہا جا تا ہے اداکارہ اس اکائونٹ کو نہیں‌چلاتیں لیکن اداکارہ کا کہنا ہے کہ وہ ہی اس اکائونٹ کو چلاتی ہیں. پیشے کے لحاظ سے وہ اداکارہ ہیں لیکن پچھلے کچھ عرصے سے وہ بالکل سیاسی بن چکی ہیں. وہ تمام دن سیاست پر ٹویٹس کرتی رہتی ہیں اور عمران خان کے علاوہ دیگر سیاسی جماعتوں کے لیڈر کے الٹے سیدھے نام رکھنے کےلئے ساتھ ان کے لئے غلیظ زبان استمعال کرتی رہتی ہیں. وینا ملک نے پنجاب اسمبلی میں ہونے والے انتخاب کے بعد خفگی کا اظہار تو کیا ہی ہے لیکن ساتھ ہی ساتھ ٹویٹ کیا
    ‏جنگ کبھی ھم نے جیتی نہیں الیکشن ھم کبھی ھارے نہیں
    اس دفعہ عوام تمھارے اندر گُھس کے پھٹے گی
    اور الیکشن بھی جیتے گی۰۰۰انشاءاللہ
    صدرِپاکستان ۰۰۰۰عمران خان✌️
    لکھ کر خط سنبھال کر رکھنا ✌️
    اس کے علاوہ بھی وینا ملک نے اپنے اکائونٹ پر انتخاب کے نتائج کے خلاف احتجاج کرنے والوں کی وڈیوز شئیر کی ہیں.انہوں نے ابھی یہ بھی ٹویٹ کیا
    وینا ملک اداکاری کے پراجیکٹس میں تو نظر نہیں آرہیں، نہ ہی وہ پی ٹی آئی کے کسی احتجاج میں شریک ہوتی ہیں لیکن ٹویٹر پر تمام دن پی ٹی آئی کے حق میں ٹویٹس ضرور کرتی رہتی ہیں جس پر انہیں کافی زیادہ تنقید کا نشانہ بھی بنایا جاتا ہے.

  • عمران سپریم کورٹ کو اپنی شکست فتح میں بدلنے کے لئے ملوث کرنے کی کوشش کرتا. احسن اقبال

    عمران سپریم کورٹ کو اپنی شکست فتح میں بدلنے کے لئے ملوث کرنے کی کوشش کرتا. احسن اقبال

    وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال نے کہا ہے کہ عمران نیازی جب بھی سیاست میں مات کھاتا ہے تو سپریم کورٹ کو اپنی سیاسی شکست کو فتح میں بدلنے کے لئے سیاسی تنازعات میں ملوث کرنے کی کوشش کرتا ہے۔


    احسن اقبال نے ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا کہ عمران نیازی جب بھی سیاست میں مات کھاتا ہے تو سپریم کورٹ کو اپنی سیاسی شکست کو فتح میں بدلنے کے لئے سیاسی تنازعات میں ملوث کرنے کی کوشش کرتا ہے۔پانامہ سے لیکر پنجاب کی وزارت اعلی تک یہی کھیل کھیل رہا ہے۔ پہلے اداروں پہ حملہ آور ہو کر پریشر ڈالتا ہے پھر ریلیف لینے کی کوشش کرتا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ ملک جن مخدوش معاشی چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے ان سے نمٹنے کے لئے گرینڈ نیشنل ریکوری کی ضرورت ہے جو سیاسی استحکام کے بغیر ممکن نہیں۔عمران نیازی ممنوعہ فنڈنگ کے ذریعہ گرینڈ نیشنل انارکی پیدا کر رہا ہے۔ یہ وقت جاگتے رہنے کا اور ملک کو انتشار میں دھکیلنے کی سازش کو ناکام بنانے کا ہے۔


    ان کا کہنا تھا کہ عمران نیازی حکومت میں بھی انتشار کی سیاست کر رہا تھا اب اپوزیشن میں ہے تو بھی سیاسی انتشار پیدا کر رہا ہے۔اس سے پہلے بھی سازشی دھرنوں کی سیاست کا موجد تھا۔کروڑوں ڈالر کی ممنوعہ فنڈنگ آخر مفت میں تو نہیں ملتی۔سوشل میڈیا کے ذریعہ 2016امریکی صدارتی الیکشن ہائی جیک ہوا۔ ویسا ہی کھیل!

  • لٹیرے لیڈرز نہیں‌ ہو سکتے مایا علی

    لٹیرے لیڈرز نہیں‌ ہو سکتے مایا علی

    چھوٹی اور بڑی سکرین کی بہت ہی پیاری اداکارہ مایا علی بھی گزشتہ روز ہونے والے پنجاب اسمبلی کے انتخاب کے نتائج سے ہیں خفا، انہوں نے بھی سوشل میڈیا پر اپنے غصے کا اظہارکیا. اداکارہ نے کہاکہ لیٹرے ہمارے لیڈرز نہیں‌ہو سکتے. اپنے انسٹاگرام اکائونٹ پر انہوں نے ایک سٹوری لگائی اس میں لکھا کہ میرا دل انصاف اور سسٹم سے اٹھ گیا ہے. اسی طرح سے اداکارہ منال خان نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ کا یہ مایوس کن دن ہے. اداکار احسن محسن اکرم نے بھی کہا کہ برائے

    مہربانی سپریم کورٹ کے دروازے بھی اسی طرح سے کھولے جائیں جس طرح سے آپ نے عدم اعتماد کی ووٹنگ کے دوران کھولے تھے.آج سپریم کورٹ دیکھے گی کہ عدالتیں نیوٹرل ہیں یا نہیں.پنجاب اسمبلی میں کل ہونے والے انتخاب پر پورے پاکستان کی نظریں تھیں جس جس کی جس جس سیاسی جماعت سے وابستگی تھی انہوں نے اس حساب سے نتائج کو دیکھا.اس وقت ق لیگ اور پی ٹی آئی کے سپورٹرز نہایت ہی غم و غصہ میں ہیں یہاں تک کہ گزشتہ رات ق لیگ کے سپورٹرز نے چوہدری شجاعت کے گھر کا گھیرائو کر کے ان کے خلاف نعرے بازی کی. اسی طرح سے پی ٹی آئی کے سپورٹرز کی بڑی تعداد سپریم کورٹ کے باہر جا کر نعرے بازی کرتی رہی.اب دیکھنا یہ ہے کہ اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے اور عدالت ان نتائج پر کیا فیصلہ دیتی ہے.

  • سپریم کورٹ آخری امید ہے، پھر مرکز میں عدم اعتماد لانا ہوگا۔ شیخ رشید

    سپریم کورٹ آخری امید ہے، پھر مرکز میں عدم اعتماد لانا ہوگا۔ شیخ رشید

    عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد نے وزیراعلیٰ پنجاب کے الیکشن میں پی ٹی آئی کی شکست پر کہا ہے کہ سپریم کورٹ آخری امید ہے،اس کے بعد مرکز اور صوبے میں عدم اعتماد لانا ہوگا۔

    شیخ رشید نے ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا کہ ضمیر کے سوداگر آصف زرداری نے سیاسی اور معاشی بحران خطرناک بنا دیا ہے۔ لوگوں کو ایسی سیاست سے نفرت ہے جہاں ممبروں کی خرید وفروخت کی منڈی لگتی ہے۔


    انہوں نے مزید کہا کہ سپریم کورٹ آخری امید ہے،اس کے بعد مرکز اور صوبے میں عدم اعتماد لانا ہوگا۔ڈالر 250کا ہو گیا تو 10 کروڑ پاکستانی غربت کی لپیٹ میں آجائیں گے۔

    شیخ رشید نے دعوی کیا: ‏لاہور میں سارا کام پلاننگ کے تحت ہوا ہے ۔ ان کی جیت بھی انکی ہار ہے۔ 2 خاندانوں میں لڑائی نواز شریف خاندان کے لیے بھی پیغام ہے۔


    ان کا کہنا تھا: اقتدار کے بھوکوں کا جمعہ بازار صرف اپنے کیسوں سے بچنے کے لیے ہے۔قوم دیکھ لے کہ نواز شریف اور آصف زرداری ایک ہیں اور فضل الرحمن خانہ جنگی کے بیان دے رہا ہے

  • پاکستانی عوام تمہارے ووٹ کی دو ٹکے کی اہمیت نہیں خلیل الرحمان قمر

    پاکستانی عوام تمہارے ووٹ کی دو ٹکے کی اہمیت نہیں خلیل الرحمان قمر

    تیکھا بولنے والے خلیل الرحمان قمر جن کی لکھی ہوئی کہانیاں سب کو ہی بہت پسند ہیں لیکن وہ روٹین میں جو باتیں کرتے ہیں ان سے بہت سارے لوگ اختلاف بھی رکھتے ہیں. ان کی حال ہی میں لکھی ہوئی فلم لندن نہیں جائونگا نے عوام میں کامیابی حاصل کی ہے. فلم میں ایک سوشل ایشو کو ہائی لائٹ کیا گیاہے. جہاں ہر کوئی کل کے پنجاب اسمبلی میں‌ہونے والے انتخابات پر بات کر رہا ہے وہیں خلیل الرحمان قمر بھی پیچھے نہیں رہے انہوں نے انتخاب نے نتائج کے بعد ایک ٹویٹ کیا اور اس میں لکھا کہ پاکستانی عوام تمہارے ووٹ کی دو ٹکے کی اہمیت نہیں ہے. خلیل الرحمان قمر کہتے ہیں کہ میں سیاسی

    آدمی نہیں‌ہوں نہ ہی میری کوئی سیاسی وابستگی ہے، میں کسی سیاسی لیڈر کا مداح نہیں ہوں میں‌پاکستان سے محبت کرنے والا انسان ہوں. پاکستان ہی میرے لئے سب کچھ ہے اس کے ساتھ کچھ غلط ہوگا تو میں بولوں گا. اور کل جو کچھ ہو اہے کہ وہ جمہوریت کے خلاف ہے پاکستانی عوام کے ووٹ اور مینڈیٹ کے خلاف ہے. جو کچھ پاکستان میں ہورہا ہے میں نہایت ہی افسردہ ہوں. یاد رہے کہ خلیل الرحمان قمر کے بیانات اکثر و بیش تر متنازعہ بن جات ہیں وہ عورتوں کی حمایت بھی بہت کرتے ہیں لیکن ماہرہ خان ہو یا کوئی اور جب کسی خاتون پر غصہ ہوتے ہیں تو وہ کچھ بول جاتے ہیں جو شاید انہیں‌ نہیں بولنا چاہیے.

  • ابرارالحق پنجاب اسمبلی کے نتائج کے خلاف احتجاج کے لئےبخار کی حالت میں گھر سے نکل آئے

    ابرارالحق پنجاب اسمبلی کے نتائج کے خلاف احتجاج کے لئےبخار کی حالت میں گھر سے نکل آئے

    گلوکار و سیاستدان ابرار الحق پنجاب اسمبلی کے الیکشن کے نتائج کے بعد کافی غصے میں نظر آرہے ہیں وہ بخار کی حالت میں پنجاب اسمبلی کے نتائج کے خلاف احتجاج میں شرکت کرنے کےلئے گھر سے نکل آئے. اس موقع پر انہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حضرت علی کا قول ہے کہ کفر کا نظام چل سکتا ہے لیکن ناانصافی کا نظام نہیں چل سکتا. اور یہ ہم سب کے لئے لمحہ فکریہ ہے. پوری قوم کو پتہ ہے کہ مینڈیٹ چوری کیا گیا ہے گھس بیٹھیے یہ چاہتے ہیں کہ عوام ان کو گھسیٹ کر باہر نکالیں؟ . اس وقت سپریم کورٹ ،اداروں اور سیاستدانوں کا امتحان ہے . گزرنے والا ایک ایک لمحہ تاریخ بن

    رہا ہے ہمارے بچوں نے یہ تاریخ پڑھنی ہے خدا کے لئے ایسی تاریخ لکھیں کہ جس کو پڑھ کر ہمارے بچوں کے سر شرم سے نہ جھک جائیں. ایک سوال کے جواب میں ابرار الحق نے کہا کہ کپتان سیاسی کارکن ہے عالم اسلام کا لیڈر ہے وہ اس ظلم و زیادتی کے خلاف اھتجاج ہی کر سکتا ہے. یہ کیسی جمہوریت ہوئی کہ جس میں فرد واحد اہم ہوجاتا ہے. انتخابات کی سپرٹ تو دیکھیں کہ عوام نے محبت کیساتھ پی ٹی آئی کو ووٹ دیااور اس مینڈیٹ کو باہر اٹھا کر پھینک دیا گیا ہے شرم آنی چاہیے . ابرار نے مزید کہا کہ پوری قوم کی نظریں شرم سے جھک گئیں ہیں اور مسلم لیگ ن پیپیلز پارٹی اور گھس بیٹھیے خود کو بچانا چاہتے ہیں تو یہ آئیڈیل موقع ہے.

  • عمران خان کے حمایتی شان شاہد پنجاب اسمبلی کے الیکشن کے بعد تاحال خاموش

    عمران خان کے حمایتی شان شاہد پنجاب اسمبلی کے الیکشن کے بعد تاحال خاموش

    شان شاہد کی عمران خان کے لئے سپورٹ کسی سے بھی ڈھکی چھپی نہیں ہے وہ ضمنی انتخابات میں ووٹ کاسٹ نہ کر سکنے پر نہایت ہی سیخ پا تھے انہوں نے اس حوالے سے ٹویٹس بھی کئے. ہر دم ٹویٹر پر رہنے والے شان شاہد کل سے بالکل خاموش ہیں ان کے ٹویٹر اکائونٹ پر تاحال کل کے الیکشن کے حوالے سے کچھ لکھا نظر نہیں آرہا. اسی طرح سے پرڈیوسر و اداکار ہمایوں سعید بھی عمران خان کے بہت بڑے حامی ہیں ان کا ٹویٹر اکائونٹ بھی خاموش ہے. شان شاہد نے باقاعدہ جو ٹویٹ عمران خان کے حق میں کی وہ پانچ دن پہلے کی ہے جب عمران خان ضمنی انتخابات جیتے تھے اس وقت شان شاہد نے عمران

    خان کی تصویر لگا کر ٹویٹ کیا تھا لوگوں نے آپ پر یقین کا اظہار پاکستان کی بہتری کے لئے کیا ہے. لیکن جب سے وزیراعلی پنجاب کا الیکشن پی ٹی آئی کے ہاتھوں سے نکلا ہے بے شک انہوں نے سپریم کورٹ کا رخ کر لیا ہے شان شاہد بالکل خاموش ہیں انہوں نے کل تمام دن جب الیکشن کی ہر طرف ہلچل تھی خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں.شان شاہد بھی کوئی ایسا موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے جب وہ عمران خان کی تعریف نہ کریں اور دیگر جماعتوں کے حامیوں پر تنقید نہ کریں .

  • حصص کی فروخت پر کیپٹل گین ٹیکس کا پرانا نظام بحال کر دیا گیا

    حصص کی فروخت پر کیپٹل گین ٹیکس کا پرانا نظام بحال کر دیا گیا

    وفاقی حکومت نے پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے دیرینہ مطالبے کے پیش نظر حصص کی فروخت کے منافع پر کیپٹل گین ٹیکس کا پرانا نظام بحال کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے جس کا اطلاق یکم جولائی سے ہوگا۔

    کپٹل گین ٹیکس کی شرح سرمایہ کار کی جانب سے حصص کو ایک مخصوص عرصے تک رکھنے سے منسلک کی گئی ہے یعنی حصص کی خرید کی مدت میں اضافے کے ساتھ ساتھ ٹیکس کی شرح میں کمی ہوتی جائے گی اور اگر حصص کا حامل سرمایہ کار اگر اسے خریدنے کے چھ سال بعد فروخت کرتا ہے تو اس صورت میں کوئی ٹیکس نافذ نہیں ہوگا تاہم حکومت نے یکم جولائی یا اس کے بعد خریدے جانے والے حصص کو ایک سال کے اندر فروخت کرنے کی صورت میں کیپٹل گین ٹیکس کی شرح کو 12 اعشاریہ 5 سے بڑھا کر 15 فیصد کردیا ہے۔

    دوسری جانب حکومت نے خاموشی سے یکم جولائی 2013 سے قبل خریدے جانے جانے والے حصص پر کیپٹل گین ٹیکس کے استثنیٰ کو بھی ختم کردیا ہے۔

    نجی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے پاکستان اسٹاک بروکرز ایسوسی ایشن کے سابق جنرل سیکریٹری عادل غفار کا کہنا تھا کہ حکومتی نوٹیفکیشن کے مطابق 30 جون 2022 یا اس سے قبل خریدے جانے والے حصص پر 12 اعشاریہ 5 فیصد سی جی ٹی لیا جائے گا جبکہ یکم جولائی 2013 سے قبل خریدے جانے والے حصص کی فروخت پر بھی اب سی جی ٹی لاگو ہوگا، اس طرح کیپٹل گین ٹیکس کی مد میں ریونیو میں کمی واقع نہیں ہوگی۔

  • مشی خان نے لیا عفت عمر ، سلیم صافی ، ثناء بچہ اور ریحام خان کو آڑھے ہاتھوں

    مشی خان نے لیا عفت عمر ، سلیم صافی ، ثناء بچہ اور ریحام خان کو آڑھے ہاتھوں

    سب جانتے ہیں کہ اداکارہ مشی خان عمران خان کی بہت بڑی مداح ہیں اور انہی کو پاکستان کا ایماندار لیڈر مانتی ہیں وہ صبح سے لیکر شام تک سوشل میڈیا پر انہی کے گن گاتی رہتی ہیں. گزشتہ روز چونکہ پنجاب اسمبلی میں پنجاب کے ویزاعلی کا چنائو تھا تو اس دوران جس جس نے پی ٹی آئی کے خلاف معمولی بات بھی کردی مشی خان اسکو آڑھے ہاتھوں لیتی رہیں. عفت عمر جو کہ ماضی میں خود پی ٹی آئی کی بہت بڑی سپورٹر رہی ہیں انہوں‌نے جب ٹویٹ کیا کہ ” سن رہے ہو نہ تم رو رہا ہے عمران” اس پر مشی خان کو غصہ آیا اور انہوں نے لکھاکہ رونے کے دن تو تمہارےبھی آنے والے ہیں سن رہی ہو خفت اوہ سوری عفت . اسی طرح سے سینئیر سحافی سلیم صافی نے عمران خان کا بولا ہوا ایک جملہ قوٹ کرکے لکھا کہ اخلاقیات اور عمران خان قیامت کی نشانی تو مشی خان نے لکھا ”قیامت کی نشانی تو تم جیسے منافق اور کریکٹر لیس انسان ہیں تمہاری شکل دیکھ کر قیامت سامنے نظر آتی ہے خوشامدی. اینکر و تجزیہ کار ثناء بچہ نے لکھا کہ کیا پنجاب کے سب سے بڑے ڈاکو کو ووٹ دینا ضمیر فروشی ہو گی یا ضمیر کا جاگنا تحریک انصاف کا کیا کہنا ہے اس پر مشی خان نے قوٹ ری ٹویٹ کرکے لکھا کہ سمجھ میں نہیں آتی کہ تمہیں Breath mint دوں یا ٹوئلٹ پیپر. ریحام خان نے ٹویٹ کیا کہ پاکستان اس وقت فتنہ خان اور اس کے سپورٹرز کے ہاتھوں یرغمال ہے ان کو لگام ڈالی جائے تو مشی خان نے قوٹ ری ٹویٹ کرکے لکھا تم ایسی عورت ہو جسکی کوئی عزت نہیں، لگام کی تمہیں ضرورت ہے.