Baaghi TV

Author: +9251

  • لندن نہیں جائونگا اور قائداعظم زندہ باد کی امریکہ میں‌سکریننگ

    لندن نہیں جائونگا اور قائداعظم زندہ باد کی امریکہ میں‌سکریننگ

    عید الاضحی پر دو بڑی فلمیں لندن نہیں جائونگا اور قائداعظم زندہ باد ریلیز ہوئی ہیں پاکستان میں یہ فلمیں کامیابی سے جاری ہیں، لندن نہیں جائونگا اور قائداعظم زندہ باد کے مجموعی طور پر بزنس کو دیکھیں تو پتہ چلتا ہے کہ لندن نہیں جائونگا قائداعظم زندہ باد سے آگے ہے. لوگوں کی ایک بڑی تعداد دونوں فلموں‌کو دیکھنے جا رہی ہے یہاں تک کہ ہالی وڈ فلم تھور کی موجودگی میں یہ دونوں فلمیں بزنس کررہی ہیں. لندن نہیں جائونگا نے تو لندن اور دبئی میں ریکارڈ توڑ بزنس کیا ہے اسی طرح سے قائداعظم بھی باہر کے ملکوں میں اچھا بزنس کررہی ہے. لندن نہیں جائونگا کی سب سے پہلے سکریننگ دبئی میں کی گئی جبکہ قائداعظم زندہ باد کی سکریننگ سب سے پہلے لاہور میں کی گئی. اب ان دونوں فلموں کی امریکہ میں

    سکریننگ کی جا رہی ہے. دونوں فلموں کے ایکٹرز،پرڈیوسر اور ڈائریکٹر امریکہ میں موجود ہیں . لندن نہیں جائونگا اور قائداعظم زندہ باد کی گزشتہ روز ہیوسٹن میں سکریننگ کی گئی جہاں اپنے پسندیدہ فنکاروں‌کو ملنے کےلئے پاکستانیوں اور پاکستانی فلموں کو پسند کرنے والے بڑے تعداد میں پہنچے جنہوں نے نہ صرف فلمیں دیکھی ہیں بلکہ سراہ بھی رہے ہیں. اب دونوں فلموں کی ٹیمیں ڈیلیس میں موجود ہیں اسی طرح سے امریکہ کی مختلف ریاستوں میں فلم کی سکریننگ کی جائیں گی. دونوں فلموں کو بڑی تعداد میں لوگوں کی ہر اس جگہ پر سپورٹ مل رہی ہے جہاں یہ ریلیز کی گئی ہے اور جہاں جہاں اردو فلموں‌کو پسند کرنے والے لوگ پائے جاتے ہیں .

  • افغان مہاجرین نے اسلام آباد کے چلڈرن پارک میں  خیمے لگا لیے

    افغان مہاجرین نے اسلام آباد کے چلڈرن پارک میں خیمے لگا لیے

    افغان مہاجرین نے اسلام آباد کے چلڈرن پارک میں خیمے لگا کر ڈیرے ڈال لیے ہیں۔

    متعلقہ حکام کی عدم توجہی کے باعث افغان مہاجرین نے اسلام آباد میں چلڈرن پارک پر قبضہ کر لیا ہے اور وہاں خیمے لگا کر رہائش پذیر ہیں۔
    ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق اسلام آباد کے سیکٹر ایف-6 کا نیا تعمیر شدہ چلڈرن پارک ان افغان مہاجرین کے لیے ایک عارضی کیمپ گراؤنڈ بن گیا ہے جن کا تعلق زیادہ تر ہزارہ برادری سے ہے، جو طالبان کے کابل پر قبضے کے بعد اپنے ملک سے فرار ہو گئے تھے۔
    شروع میں مہاجرین نے نیشنل پریس کلب کے باہر ڈیرے ڈالے اور بعد میں پارلیمنٹ ہاؤس کے قریب ریڈ زون میں رہنے لگے، تاہم پولیس اور انتظامیہ انہیں ہائی سکیورٹی زون سے ہٹانے میں کامیاب ہو گئی۔
    مہاجرین نے پھر پریس کلب کے باہر اپنے کیمپ قائم کر لیے، تاہم ہزارہ برادری سے تعلق رکھنے والوں نے سڑک کے اس پار چلڈرن پارک میں اپنے ڈیرے لگا لیے ہیں۔
    تقریباً 700 افغان مہاجرین، جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے شامل ہیں، گزشتہ چند ہفتوں سے پارک میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔
    ہرات سے یونیورسٹی سے فارغ التحصیل سوریا موسوی نے کہا کہ ہم ایک عوامی پارک میں رہ رہے ہیں لیکن ہم بے بس اور بے پناہ ہیں اور ہمیں نہیں معلوم کہ ہمیں کہاں جانا چاہیے؟۔
    انہوں نے کہا کہ مہاجرین کو بہت سی مشکلات کا سامنا ہے لیکن ترقی یافتہ ممالک اور انسانی حقوق کے دیگر چیمپئن سمیت کوئی بھی ان کے مسائل پر توجہ نہیں دے رہا۔
    ان کا کہنا تھا کہ کیا آپ کو لگتا ہے کہ ہم اس پارک میں اپنی مرضی سے رہ رہے ہیں؟ نہیں، ہم یہاں رہنا نہیں چاہتے لیکن ہمارے پاس کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے، ہم عالمی برادری اور امریکا سمیت ترقی یافتہ ممالک سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ہمیں شہریت فراہم کی جائے کیونکہ ہم طالبان کی وجہ سے اپنے ملک واپس نہیں جا سکتے۔
    انہوں نے کہا کہ اگر ترقی یافتہ ممالک انہیں قبول کرنے کو تیار نہیں تو پاکستان انہیں پناہ دے۔
    واضح رہے کہ پاکستان کئی دہائیوں سے 13 لاکھ سے زائد افغان مہاجرین کو پہلے ہی پناہ گاہیں فراہم کر رہا ہے۔
    ایک اور پناہ گزین نجمہ نوروزی نے کہا کہ کیمپ کی زندگی انتہائی سخت ہے کیونکہ پناہ گزینوں کو واش رومز استعمال کرنے کے لیے قریبی مساجد میں جانا پڑتا تھا۔
    انہوں نے مزید کہا کہ یہاں تک کہ ہمیں پانی کی کمی کا سامنا ہے، کچھ خوشحال مقامی لوگوں نے پانی ذخیرہ کرنے کے لیے پلاسٹک کے دو ٹینک فراہم کیے تھے جو ہمارے لیے ایک نعمت ہے لیکن پانی ناکافی ہے، بے بس اور ناامید ہیں۔
    کچھ پناہ گزینوں کا کہنا تھا کہ ان کے کیمپوں کے قریب ایک عوامی بیت الخلا ہے لیکن انہیں اس کے استعمال کے لیے بیت الخلا کے آپریٹر کو ادائیگی کرنی پڑتی ہے، اسی طرح اپنے موبائل فون چارج کرنے کے لیے بھی دکانداروں کو ادائیگی کرنی پڑتی ہے۔
    خیال رہے کہ حال ہی میں کیپٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) نے کروڑوں روپے خرچ کر کے اس پارک کی تزئین و آرائش کی تھی، تاہم ادارے کی لاپرواہی کی وجہ سے اسےd پناہ گزینوں نے اپنے قبضے میں لے لیا ہے۔
    ایک مقامی لیاقت خان نے کہا کہ ہم پناہ گزینوں کے خلاف نہیں ہیں، وہ ہمارے بھائی ہیں لیکن ہم پبلک پارک میں کیمپ لگانے کے خلاف ہیں، سی ڈی اے اور پولیس کو انہیں پارک سے ہٹا دینا چاہیے۔
    ایک اور مقامی رہائشی شبیر علی نے کہا کہ غیر منظم کیمپوں نے مقامی لوگوں کی سیکیورٹی کو خطرہ لاحق ہے، انہوں نے سی ڈی اے کی کارکردگی پر سوالات اٹھائے جو کہ پبلک پارکس کا نگراں ہے۔
    انہوں نے کہا کہ ان کیمپوں کو کسی اور جگہ منتقل کیا جانا چاہیے کیونکہ علاقے کے لوگوں کو پارک جانے کے حق سے محروم کر دیا گیا ہے کیونکہ اس پر مہاجرین نے اپنا قبضہ کرلیا ہے۔
    رابطہ کرنے پر سی ڈی اے کے ڈائریکٹر جنرل ماحولیات عرفان نیازی نے ڈان کو بتایا کہ وہ پارک کو خالی کرانے کا معاملہ دارالحکومت کی انتظامیہ اور پولیس کے ساتھ اٹھائیں گے۔
    انہوں نے اس بات سے اتفاق کیا کہ پارک کی حال ہی میں تزئین و آرائش کی گئی ہے اور جلد ہی اسے عوام کے لیے خالی کر دیا جائے گا۔

  • سشمیتا سین نے کس طرح سے ناقدین کا کیا منہ بند

    سشمیتا سین نے کس طرح سے ناقدین کا کیا منہ بند

    سابقہ مس یونیورس سشمیتا سین اپنے رشتوں‌کو لیکر ہمیشہ ہی خبروں میں‌رہتی ہیں. آج کل وہ للت مودی کے ساتھ اپنے رشتے کو لیکر ہیں‌کافی خبروں میں. للت مودی کروڑ پتی بزنس مین ہیں لہذا سوشل میڈیا پر کوئی سشمیتا کے اس نئے رشتے پر تبصرے کررہا ہے، کوئی ہے اس رشتے پر خوش تو کوئی سشمیتا کو پیسے کے پیچھے بھاگنے والی خاتون قرار دے رہا ہے، شمیتا کو اپنی خاموشی توڑنی پڑ گئی ہے انہوں نے کہا ہے کہ میں‌پیسے کے پیچھے بھاگنے والی خاتون نہیں‌ہوں اور میں سونے پر ہیرے کو ترجیح دیتی ہوں. میں ہیرے پسند کرتی ہوں اور ان کو اپنے پیسوں سے خریدنا پسند کرتی ہوں. سشمیتا سین نے جس لمحے ناقدین کو دیا جواب اسی لمحے بالی

    وڈ شخصیات ان کے حق میں‌کھڑی ہو گئیں پریانکا چوپڑہ نے کہا کہ ان سے کہیں کہ میں ملکہ ہوں، رنویر سنگھ نے دل والے ایمو جیز بنائے ، جبکہ نیہا دھوپیا نے ہارٹ اور فائر کا ایموجی بنایا ، اسی طرح سے دیا مرزا نے بھی سشمیتا کے حق کی بات کی اور انہیں ٹرول کئے جانے کو ناپسند کیا. سشمیتا سین نے مزید یہ بھی کہا کہ میں اپنے مداحوں اور محبت کرنے والوں کی شکر گزار ہوں اور میں ان کو بتانا چاہتی ہوں کہ میں خوش ہوں اور ٹھیک ہوں. یاد رہے کہ للت مودی نے جب سشمیتا سین کے ساتھ اپنے رشتے کے بارے میں سوشل میڈیا پر لکھا تو لوگوں کی طرف سے جب مختلف قسم کے تبصرے ہوئے تو انہوں نے کہا کہ ہم ابھی صرف ایک دوسرے کے ساتھ اچھا وقت گزار رہے ہیں شادی نہیں‌کی، اُدھر سشمیتا سین کو بھی اس رشتے کے حوالے سے وضاحتیں دینی پڑرہی ہیں.

  • عفت عمر کو تحریک انصاف کی جیت کا اعتراف کرنا پڑ گیا

    عفت عمر کو تحریک انصاف کی جیت کا اعتراف کرنا پڑ گیا

    اداکارہ و ماڈل عفت عمر جو کسی وقت میں پاکستان تحریک انصاف کے حق میں تھیں اب وہ پی ٹی آئی کے خلاف نظر آتی ہیں اسکی وجہ وہ یہ بتاتی ہیں کہ پی ٹی آئی کے سربراہ وہ نہیں ہیں جو وہ تقاریر میں خود کے بارے میں بتاتے رہے.عفت عمر کو عمران خان کی پالیسیوں اور یوٹرنز پر تنقید کی وجہ سے سوشل میڈیا پر آڑھے ہاتھوں لیا جاتا ہے. گزشتہ روز ہوئے ضمنی انتخابات ان کے نتائج نے سب کو حیران پریشان کر دیا پاکستان تحریک انصاف نے کلین سویپ کر دیا اس جیت پر عمران خان کے مخالفین نے جہاں ان کو مبارکباد دی وہیں عفت عمر جو ان کی اس وقت سخت ترین ناقد ہیں انہوں نے بھی ان کی جیت کا

    اعتراف کیا اور انہوں نے کہا کہ اکثریت کی جیت ہو گئی ہے.ا ن کا سوشل میڈیا پر کہنا تھا کہ عوامی رائے اہمیت کی حامل ہوتی ہے اور اگر اکثریت اس وقت پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ ہے تو پھر یہی کہوں گی کہ اکثریت کی جیت ہو گئی ہے. یاد رہے کہ عفت عمر نے اداکاری کو خیرباد کہہ دیا ہے ان کا کہنا ہےکہ جس طرح کے ڈرامے بن رہے ہیں یا کام ہو رہا ہے وہ نہیں کر سکتیں.عفت عمر حال ہی میں فلم لندن نہیں‌ جائونگا میں کبری خان کی ماں کا کردار نبھاتے ہوئے نظر آئی ہیں.انہوں نے اداکاری کو مکمل طور پر چھوڑنے کا اعلان کرنے کے بعد اپنا فوکس سیاسی تبصروں پر کر دیا ہے چند روز پہلے وہ تجزیہ کار کے طور پر معروف اینکر عاصمہ شیرازی کے پروگرا م میں‌شرکت کرتی بھی دکھائی دیں.

  • ایشوریا رائے کی منی رتنم کی فلم سے سلور سکرین پر واپسی

    ایشوریا رائے کی منی رتنم کی فلم سے سلور سکرین پر واپسی

    بالی وڈ کی خوبصورت اور باصلاحیت اداکارہ ایشوریا رائے بچن منی رتنم کی فلم سے سلور سکرین پر واپسی کررہی ہیں. تامل اس فلم کا نام پونین سیلون ہے جس کی کہانی حقیقی واقعات پر مبنی ہے. فلم رواں برس تیس ستمبر کو ریلیز ہونے جا رہی ہے.اس فلم کی شوٹنگ مکمل کر لی گئی ہے، کاسٹ میں وکرم، جیام روی، کارتی، تریشا، جیارام، سوبھیتا دھولیپالا و دیگرشامل ہیں .گزشتہ دنوں ایشوریا رائے نے اپنی اس فلم میں اپنے کردار کی ایک جھلک بھی مداحوں کے ساتھ انسٹاگرام پر تصویر لگا کر شئیر کی.ان کی تصویر دیکھ کر ان کے کردار کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے. کلاسک اس فلم میں ایشوریا رائے

    بچن ہیوی جیولری اور ساڑھی زیب تن کئے ہوئے نظر آرہی ہیں.ایکشن ڈرامہ اس فلم کا ایشوریا رائے کے مداح بے چینی سے انتظار کررہے ہیں..یاد رہے کہ منی رتنم کا شمار بہترین ڈائریکٹروں میں ہوتا ہے ان کے کریڈٹ پر جتنا بھی کام ہے معیاری اور بہترین ہے.منی رتنم کلاسک کام کرنے کے عادی ہیں بڑے بڑے اداکاروں کی خواہش ہوتی ہے کہ ان کے ساتھ کام کریں. ایشوریا رائے بچن پہلے بھی منی رتنم کے ساتھ گرو فلم میں کام کر چکی ہیں اس میں ان کے ساتھ مرکزی کردار ان کے شوہر ابھیشیک نے نبھایا تھا.منی رتنم نے زیادہ تامل اور ہندی فلمیں بنائی ہیں شائقین ایک بار پھر سے منی رتنم اور ایشورائے کی جوڑی سے کسی اچھے کام کی توقع کررہے ہیں.جیسا کہ فلم کے پوسٹر سے ہی محسوس ہو رہا ہےکہ فلم یقینا کلاسک ہو گی.

  • برطانیہ میں شدید گرمی، شہریوں کو گھر سے کام کرنے کی ہدایت

    برطانیہ میں شدید گرمی، شہریوں کو گھر سے کام کرنے کی ہدایت

    برطانیہ ان دنوں شدید گرمی کی لہر کی زد میں ہے، لندن سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق برطانیہ میں شدید گرمی کے باعث شہریوں کو گھر سے کام کرنے اور گھروں میں رہنے کی ہدایت کردی گئی ہے.

    درجہ حرارت 41 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچنے کے سبب گرم ترین دن کے طور پر اسکول بند جبکہ لندن والوں کو گھر پر کام کرنے کی تاکید کی گئی ہے.

    تاہم واضح رہے کہ:گزشتہ دنوں محکمہ موسمیات نے برطانیہ کے بیشتر حصوں کیلئے ایمبر الرٹ جاری کیا تھا۔ ایمبر الرٹ کا مطلب ایسا گرم موسم ہے جس کے سبب شدید بیمار ہونے اور جان کو خطرہ ہو سکتا ہے۔

    علاوہ ازیں حکام نے ہیلتھ اینڈ سوشل ورکرز کو معمر اور کمزور افراد کا خیال رکھنے کی ہدایت کی تھی۔ لندن ایمبولینس سروس نے کہا تھا کہ صرف جان کے خطرے پر 999 پر کال کریں تاکہ مریض کو فوری طبعی امداد فراہم کی جاسکے.

    ایمبولینس سروس نے لوگوں کو پانی پیتے رہنے اور سورج کی کرنوں سے بچنے کی بھی ہدایت کر رکھی ہے.

  • میڈیا کی آزادی سے متعلق عمران خان کے بیان کو پی ایف یو جے نے حقائق کے منافی قرار دے دیا

    میڈیا کی آزادی سے متعلق عمران خان کے بیان کو پی ایف یو جے نے حقائق کے منافی قرار دے دیا

    پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (پی ایف یو جے) نے سابق وزیراعظم عمران خان کے میڈیا کو دبانے میں ان کا کوئی کردار نہ ہونے کے بیان کو حقائق و واقعات کے منافی قرار دیا ہے۔

    ڈان کے مطابق: تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز جاری ہونے والے ایک بیان میں پی ایف یو جے کے صدر شہزادہ ذوالفقار اور سیکریٹری جنرل ناصر زیدی کا کہنا تھا کہ عمران خان کا دور پاکستانی میڈیا کی تاریخ میں سیاہ ترین دور کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔

    صحافتی تنیظم کے دونوں رہنماؤں نے کہا کہ عمران خان کے دور میں صحافیوں پر تشدد کیا گیا، تنقید کرنے والے صحافیوں پر قاتلانہ حملے کیے گئے اور کئی اینکرز کو صرف حکومت پر تنقید کرنے کی وجہ سے نوکریوں سے نکلوادیا گیا۔

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ سابق وزیراعظم کے دور میں حکومت نے نے اشتہارات روک کر اور اشتہاری واجبات کو روک کر میڈیا انڈسٹری کا معاشی طور پر گلا گھونٹ دیا تھا۔

    شہزادہ ذوالفقار اور ناصر زیدی نے کہا کہ میڈیا میں کام کرنے والے افراد کو جھوٹے مقدمات میں بھی پھنسایا گیا اور جنگ گروپ کے چیف ایڈیٹر میر شکیل الرحمٰن کو جھوٹے الزامات کے تحت کئی ماہ تک جیل میں رکھا گیا۔

    صحافی رہنماؤں کا اپنے بیان میں مزید کہنا تھا کہ اگر سابق وزیر اعظم کی یادداشت اتنی اچھی نہیں کہ وہ اپنے دور میں ہونے والے واقعات کو یاد کر سکیں تو ہم انہیں یاد دہائی کرادیتے ہیں کہ ان کے دور حکومت میں مطیع اللہ جان کو دن دیہاڑے اغوا کر لیا گیا تھا۔

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ عمران خان کے دور میں سینئر صحافی ابصار عالم کو نامعلوم حملہ آوروں نے قاتلانہ حملے میں گولی مار کر شدید زخمی کر دیا، اسد طور کی رہائش گاہ میں گھس کر انہیں بے دردی سے مارا پیٹا گیا اور انہیں دھمکیاں بھی دی گئیں۔

    بیان میں ان کا مزید کہنا تھا کہ کہ عمران خان کے دور حکومت میں اینکر عاصمہ شیرازی، غریدہ فاروقی اور دیگر خواتین میڈیا پرسنز کی کردار کشی کی مہم چلانا بھی ایک معمول تھا۔

    اپنے بیان میں انہوں نے یہ بھی کہا کہ سابق وزیراعظم کے دور میں صرف صحافیوں پر حملے ہی نہیں ہوئے بلکہ عمران خان کی حکومت نے پاکستان الیکٹرانک کرائمز ایکٹ میں ترمیم کی کوشش بھی کی جسے عدالت میں چیلنج کیا گیا جہاں ان کی حکومت کو شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا۔

    انہوں نے کہا کہ عمران خان کی حکومت نے تمام تنقیدی آوازوں کو دبانے اور میڈیا انڈسٹری کے لیے مسائل پیدا کرنے کے لیے پاکستان میڈیا ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے قیام کی بھی کوشش کی لیکن صحافتی برادری کی بہادرانہ جدوجہد کی وجہ سے ان کی حکومت ان کوششوں میں کامیاب نہیں ہو سکی۔

    صحافی رہنماؤں نے کہا کہ ان تمام چیزوں کو مد ںظر رکھتے ہوئے عمران خان ان تمام سخت اقدامات سے خود کو بری نہیں کرسکتے جو میڈیا اور صحافیوں کے خلاف ان کی ناک کے نیچے کیے گئے تھے۔

    انہوں نے کہا کہ میڈیا کے خلاف ہونے والے یہ تمام اقدامات عمران خان اور ان کے وزرا کے علم میں تھے جنہوں نے میڈیا پر پابندیوں کا دفاع کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ میڈیا کو کنٹرول کرنا ضروری ہے۔

    پی ایف یو جے کے رہنماؤں نے کہا کہ عمران خان حقائق کو توڑ مروڑ کر اور حقیقت کو چھپا کر اپنی بے گناہی کا دعویٰ نہیں کر سکتے.
    صحافی رہنماؤں نے کہا کہ اس طرح کے بیانات دینے کے بجائے عمران خان صحافیوں کے ساتھ پی ٹی آئی کارکنوں کے رویے کا جائزہ لیں اور اپنے حامیوں کو لگام ڈالنے کی کوشش کریں جو اب بھی صحافیوں کے خلاف زہریلا پروپیگنڈا کرنے میں مصروف ہیں۔

  • ابھیشیک بچن نے بتا دیا ایشوریا رائے اور جیا بچن کے درمیان کیسا تعلق ہے

    ابھیشیک بچن نے بتا دیا ایشوریا رائے اور جیا بچن کے درمیان کیسا تعلق ہے

    ابھیشیک بچن کی اہلیہ اور سابقہ مس ورلڈ ایشوریا رائے بچن کے حوالے سے ابھیشیک بچن نے کہا ہے کہ ان کا میری والدہ جیا بچن کے ساتھ بہت اچھا رشتہ ہے.دونوں ایک دوسرے کے کافی قریب ہے اور ایک دوسرے کو سمجھتی ہیں ایک دوسرے سے بہت اچھے طریقے سے بات کرتی ہیں. ابھیشیک بچن اور ایشورائے بچن ایک ساتھ کافی ود کرن کے سیزن سیون کے پروگرام میں شریک تھے. اس پروگرام میں کرن جوہر نے ابھیشیک سے بہت سارے سوالات کئے. جب ان کی ماں بہن اور بیوی کے ھوالے سے سوال ہوا تو انہوں نے کہا کہ تینوں کا آپسی تعلق اچھا ہے.یاد رہے کہ ایشورائے رائے سوشل میڈیا پر اپنی فیملی

    کےساتھ اپنی تصاویر زیادہ اپلوڈ کرتی ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کا انکی فیملی کے ساتھ چاہے وہ ساس ہیں یا نند سب کے ساتھ اچھا تعلق ہے. ایشوریا رائے اپنی بیٹی ارادھیا کو تو بالکل بھی نظر انداز نہیں‌کرتی بلکہ وہ تو اس کواپنے ساتھ سیٹ پر بھی لیجایا کرتی تھیں.ایشوریا رائے اور ابھیشیک کی شادی 2007 میں ہوئی تھی دونوں کی ایک بیٹی بھی ہے.ابھیشیک ایشوریا کی طرح بہت کامیاب اداکار نہیں ہیں لیکن بڑے باپ کے بیٹے ہونے کی وجہ سے انہیں بالی وڈ میں ان کے کیرئیر کے شروع میں خاصی اہمیت ملی جبکہ ایشوریا رائے کے کریڈٹ پر بڑی اور کامیابی فلمیں‌ہیں.ان کے کیرئیر کی یادگار فلمیں دیوداس، ہم دل دے چکے صنم و دیگر فلمیں ہیں .

  • سجل علی اور احد رضا میر نے انسٹاگرام پر ایک دوسرے کو ان فالو کر دیا

    سجل علی اور احد رضا میر نے انسٹاگرام پر ایک دوسرے کو ان فالو کر دیا

    سجل علی اور احد رضا میر جنہوں نے محبت کی شادی کی تھی وہ شادی تقریبا اب اختتام کو پہنچ چکی ہے دونوں میں غلط فہمیاں اس حد تک بڑھ چکی ہیں کہ ان کے رشتے میں بہتری کے امکانا ت نظر نہیں آرہے ہیں، جو صورتحال نظر آرہی ہے اس میں شاید یہ رشتہ ختم تو ہوسکتا ہے لیکن دوبارہ جڑنے کی طرف جاتا دکھائی نہیں دے رہا۔ کہا جا رہا ہے کہ دونوں نے ایک دوسرے کو انسٹاگرام سے ان افالو کر دیاہے۔ احد رضا میرجن کا نام آج کل رمشا خان کے ساتھ جوڑا جا رہا ہے کے ساتھ

    وقت گزارتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔ دونوں کے درمیان دوستی ”ہم تم “ کی شوٹنگ کے دوران شروع ہوئی ، کہا جا رہا ہے کہ یہ دوستی اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ اب یہ دونوں نوٹس کئے جا رہے ہیں۔ احد اور سجل علی کے درمیان تلخیوں کا سلسلہ کافی دیر سے چل رہا تھا۔ اس وقت سب کو حیرانی ہوئی تھی جب سجل کی بہن صبور علی کی شادی میں سجل اکیلی آئیں تھیں اور احد رضا میر اپنی فیملی کے ساتھ کسی اور تقریب میں موجود تھے۔سجل علی اور احد کا ایک دوسرے کو انسٹاگرام پر انفالو کرنے سے بہت سارے سوالوں کو جنم دیا ہے.سجل اور احد کافی عرصے سے خبروں میں ہیں لیکن دونوں نے اپنے رشتے کے حوالے سے کسی قسم کی تاحال کوئی وضاحت نہیں دی.

  • وفاقی حکومت نے قومی روزگار پروگرام شروع کرنے کا فیصلہ کرلیا

    وفاقی حکومت نے قومی روزگار پروگرام شروع کرنے کا فیصلہ کرلیا

    وفاقی حکومت کی جانب سے بے روزگار نوجوانوں کیلئے سرکاری اور نجی ملازمتیں پیدا کرنے کیلیے قومی روزگار پروگرام شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے،پروگرام کے تحت سالانہ 20لاکھ نئی ملازمتیں پیدا کی جائیں گی۔

    نجی ٹی وی کے مطابق: وزیراعظم نے روزگار پروگرام کو فعال بنانے کیلیے نیشنل یوتھ ٹاسک فورس تشکیل دیدی ہے جو روزگار کے مواقع پیدا کرنے کیلیے ہنگامی بنیادوں پر ملک بھر کے دورے کرے گی، وزیر اعظم شہباز شریف ٹاسک فورس کی کارکردگی خود مانیٹر کریں گے۔ٹاسک فورس وفاقی اور صوبائی وزارتوں، نجی کمپنیوں اور چیمبرز آف کامرس سے بھی رابطے کرے گی۔

    اس سلسلے میں وزیراعظم نیشنل یوتھ پروگرام بھی کاروبار کیلیے قرض اور تربیتی کام تیز کرے گا۔واضح رہے کہ قومی یوتھ پروگرام نے ایک لاکھ نوجوانوں کو ہائی ٹیک اور کنوینشنل ٹریننگ دینے کا ہدف مقرر کر رکھا ہے، جس کے تحت میٹرک اور انٹرمیڈیٹ کے طلبا کیلئے فنی تربیت، اورجدید آئی ٹی کورسز شروع کئے جائیں گے۔

    ٹاسک فورس بیرون ملک نوکریوں کے حصول کے لئے بھی مختلف ممالک سے رابطے شروع کرے گی۔ وزارت اوورسیز کے ذیلی اداروں کو ایشیائی و یورپی ممالک میں روزگار کے حصول کا ہدف دیا جائے گا۔