Baaghi TV

Author: +9251

  • الیکشن کمیشن نے عمران خان کے الزامات مسترد کر دیئے

    الیکشن کمیشن نے عمران خان کے الزامات مسترد کر دیئے

    الیکشن کمیشن نے چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کے لگائےگئے الزامات مسترد کر دیے۔

    چیف الیکشن کمشنر استعفیٰ دیں،فی الفورالیکشن کرائے جائیں،عمران خان

    ترجمان الیکشن کمیشن کا کہنا ہےکہ عمران خان کے لگائے تمام الزامات یکسر مسترد کرتے ہیں، عمران خان کے ان تمام الزامات کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ترجمان کا کہنا ہےکہ الیکشن کمیشن آئین اور قانون کے مطابق اپنے فرائض ادا کرتا رہے گا۔

    خیال رہےکہ عوام سے اپنے خطاب میں عمران خان نے الزام لگایا تھا کہ ہمیں پنجاب کے ضمنی الیکشن ہرانےکے لیے تمام حربے استعمال کیےگئے، اس الیکشن کمشنرکے نیچے صاف اور شفاف الیکشن نہیں ہوسکتے، چیف الیکشن کمشنر فوری استعفیٰ دیں ہمیں ان پر اعتماد نہیں۔

     

    این اے 245 کا ضمنی الیکشن،فاروق ستار بھی میدان میں آگئے

     

    عمران خان کا کہنا تھا کہ پنجاب میں جیسا الیکشن کرایا ایسے ہی الیکشن کرانے ہیں تو بحران بڑھےگا، سپریم کورٹ کا حکم تھا ریاستی مشینری کی مداخلت نہیں ہوگی، انہوں نے ایف آئی آر کاٹیں، ریاستی مشینری استعمال کی، سب سے زیادہ افسوس چیف الیکشن کمشنرپر ہے جس نے بد دیانتی کی اور ن لیگ کو جتوانے کی پوری کوشش کی۔

  • آئندہ الیکشن میں بہترامیدواروں کا انتخاب کریں گے،رانا ثناء اللہ

    آئندہ الیکشن میں بہترامیدواروں کا انتخاب کریں گے،رانا ثناء اللہ

    وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے اعتراف کرتے ہوئے کہا ہےکہ پنجاب میں ضمنی الیکشن کے دوران مسلم لیگ ن جن امیدواروں کونامزدکیا ان پرگزشتہ حکومت کی کارکردگی کابوجھ تھا۔ پارٹی کے ووٹرز سے بھی امیدواروں کو مکمل سپورٹ نہ مل سکی، ن لیگ کے لوگوں نے بھی ان کا دفاع نہیں کیا، آئندہ الیکشن میں بہترامیدواروں کا انتخاب کریں گے۔

    لاہور میں وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے کہا کہ ایک پاگل شخص جیت کربھی کہہ رہا ہے دھاندلی ہوئی، کیا 20کی 20سیٹیں جیتوگے توپھرشفاف الیکشن ہوں گے؟ اپنا گھٹیا پن اس سے چھپائے نہیں چھپتا، جب تم حکومت میں تھے تو تم نے الیکشن میں دھاندلی کروائی، جب تم حکومت میں تھے توتم نے الیکشن کا عملہ اغوا کروایا، ضمنی الیکشن میں کسی بھی الیکشن عملے کواغوا نہیں کیا گیا، اس کے باوجود تم الیکشن کمشنرکی ذات کونشانہ بنارہے ہو۔

    انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) اس مہم جوئی کی بھرپور الفاظ میں مذمت کرتی ہے، تم اداروں سے دھونس، بلیک میلنگ کرکے اپنی بات نہیں منوا سکتے۔ اداروں کے خلاف گھٹیا گفتگو کی جا رہی ہے، ہم اس حوالے سے بھرپورجواب دیں گے، چیف الیکشن کمشنراوران کے تمام ممبران پر پوری قوم کو اعتماد اور انکے ساتھ کھڑے ہیں، ہم توہارنے کے باوجود الیکشن کمیشن پر اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں، یہ تو جیت کر بھی کہہ رہا ہے دھاندلی ہوئی ہے، فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ محفوظ ہوا ہے، اس لیے ایسی گفتگو کر رہا ہے، آج اس نے بے معنی اورآوارہ قسم کی گفتگوکی گئی۔ یہ آدمی ہروقت اداروں کے خلاف الزام لگاتا ہے، اداروں کواس کی بلیک میلنگ میں نہیں آنا چاہیے، یہ تاریخ کا پہلا الیکشن ہے جس میں کوئی جانی ومالی نقصان نہیں ہوا۔ہم اس کی بلیک میلنگ میں نہیں آئیں گے، ادارے جھوٹے بدمعاش کے چکروں میں نہ آئیں، جب اس کوسختی سے ہینڈل کیا گیا تو پھر ڈی چوک سے ہی تقریر کر کے چلا گیا تھا۔

    عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ آج سے 15 دن پہلے ایک خاتون کے خلاف ہم نے شواہد پیش کیے تھے، القادرٹرسٹ کی زمین پر50ارب کی رشوت وصول کی گئی، آپ کوتویہ بھی نہیں پتا آپ کے کتنے بچے کہاں،کہاں ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ دعوے سے کہتا ہوں عمران خان نے چیف الیکشن کمشنرسے چور دروازے سے ملاقات کرنے کی کوشش کی، جب چیف الیکشن کمشنرنے ملاقات سے انکار کیا تو اس طرح کی گفتگو شروع کر دی۔ صاف شفاف ضمنی انتخابات قوم کے سامنے ہے، بیس حلقوں میں جن کوامیدوارنامزد کیا تھا ساڑھے تین سالوں کابوجھ ان کے سر پر تھا، پارٹی کے ووٹرزسے بھی امیدواروں کومکمل سپورٹ نہ مل سکی، مسلم لیگ(ن) کے لوگوں نے بھی ان کا دفاع نہیں کیا، آئندہ الیکشن میں بہترامیدواروں کا انتخاب کریں گے، پنجاب میاں نوازشریف کا تھا اوراگلے الیکشن میں ثابت کریں گے، نوازشریف نے ملک کوایٹمی قوت بنایا۔

    اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ جو بھی اتحادی جماعتیں فیصلہ کریں گی وہی فیصلہ ہو گا، بعض دوستوں کی رائے تھی بدبخت، پاگل شخص کو بھی مبارکباد دی جائے، جس طرح آج گفتگوکی گئی اس کے بعد مناسب نہیں سمجھا، شہبازشریف نے ہمیشہ نوازشریف کواپنا قائد سمجھا، اگرعمران خان الیکشن کے لیے مخلص ہوتا تو پہلے وفاق، پنجاب، خیبرپختونخوا کی حکومت چھوڑتے، اگرہم کل کو الیکشن کا اعلان کردیتے ہیں تو پھریہ کہے گا پہلے چیف الیکشن کمشنر کو تبدیل کرو، یہ نوجوانوں کو گمراہ اورقوم کوتقسیم کرنا چاہتا ہے۔

    پریس کانفرنس کے دوران میاں جاوید لطیف کی پریس کانفرنس کے دوران رانا ثناء اللہ نے جواب دینے سے گریز کیا اور اتنا کہہ دیا چھوڑو یار کوئی اور بات کرو۔

    انہوں نے کہا کہ فری اینڈ فیئرالیکشن کرانا (ن) لیگ کی جیت ہے، آئندہ بھی الیکشن شفاف ہوگا، کوئی مداخلت نہیں ہوگی۔

  • ریونیو سپرنٹینڈنٹ گوادر دلجم بلوچ کے اعزاز میں الوداعی تقریب

    ضلعی انتظامیہ کے زیر اہتمام ریٹائرڈ ہونے والے ریونیو سپرنٹینڈنٹ دلجم بلوچ کے اعزاز میں الوداعی تقریب کا اہتمام کیا گیا۔ الوداعی تقریب میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل ذاکر علی بلوچ اسسٹنٹ کمشنر گوادر کپٹن ریٹائرڈ راجہ طہر عباس سمیت دیگر آفیسراں اور اہلکاروں نے شرکت کی

    اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل اور اسسٹنٹ کمشنر گوادر ویگر نے ریٹائرڈ ہونے والے افسر رینویو سپرٹنڈنٹ دلجم بلوچ کو خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ محکمہ کیلئے ان کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائیگا۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ریٹائرڈ رینویو سپرٹنڈنٹ دلجم بلوچ نے دوران ملازمت محکمہ کے افسران اور اہلکاروں کے تعاون کو سراہا اور کہا کہ آج ہم خوشگوار یادیں لیکر جارہے ہیں۔ تقریب کے اختتام پر ریٹائرڈ افسران میں تحائف تقسیم کئے گئے اور ان کی زندگی میں برکت اور خوشحالی کیلئے اجتماعی دعا کی گئی

  • لوگوں کو صحت عامہ کی فراہمی محکمہ صحت کی ذمہ داری ہے،عبدالواحد بلوچ

    لوگوں کو صحت عامہ کی فراہمی محکمہ صحت کی ذمہ داری ہے،عبدالواحد بلوچ

    ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر گوادر ڈاکٹر عبدالواحد بلوچ نے کہاھےکہ لوگوں کو صحت عامہ کی فراہمی محکمہ صحت کی ذمہ داری ھےاس سلسلے میں ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکل اسٹاف دلجمی اور احسن طریقے سے اپنا فرض منصبی انجام دیں تاکہ لوگوں کو فوری اور بروقت طبی سہولتوں کی فراہمی ممکن ان خیالات کا اظہار انہوں مختلف مراکز صحت کے دورہ کے دوران ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکل اسٹاف نرسز سے بات چیت کرتے ہوئے کیا ھے.

    ضلعی افسر صحت نے جن مراکز کا دورہ کیا ان میں بنیادی مراکز صحت شادوبند ، سی ڈی شمبے اسماعیل ، بی ایچ یو گھٹی ڈور اور آر ایچ سی سر بندن شامل ہیں دورہ کے دوران انہوں نے مراکز صحت کے اسٹاف کی حاضریاں چیک کرنے کے ساتھ ساتھ اور دوسرے شعبہ جات کا بھی دورہ کیا اس کے علاؤہ ای پی سینٹر کے شعبے کو چیک کیا انہوں نے محدود اسٹاف کے ساتھ ان سینٹروں کی کارکردگی کو سراہا اور اس بات پر زور دیا مراکز صحت کو مذید بہتر کیا جائےساتھ میں اسٹاف کو بھی تنبیہ کیا کہ وہ اپنی حاضری کو ہر صورت یقینی بنائیں اور اپنے محدود وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے لوگوں کو بہتر سے بہتر صحت کی سہولیات فراہم کریں اور ای پی آئی انچارج کو ہدایت کی کہ اپنی آؤٹ ریچ سیشن کو اور بہتر طریقے سے موثر بنائیں تاکہ ڈسٹرکٹ کے اندر کوئی بھی بچہ بغیر ویکسینیشن کے نہ رہے جو کہ بچوں میں سب سے بہتر اور موثر طریقے سے خطرناک بیماریوں سے محفوظ رہنے کا بہترین ذریعہ ہے .

    ضلعی افسر صحت نے سینٹروں میں نیوٹریشن پروگرام کی ریکارڈ کو چیک کیا اور اس سلسلے میں ایک بریفنگ میں بھی شرکت کی اور تاکید کی کہ اپنے اپنے کیچمنٹ ایریا پاپولیشن میں کمزور اور خوراک میں کمی کے شکار ہونے والے بچوں کو زیادہ سے زیادہ ڈھونڈیں اور ان کو UNICEF کی طرف سے دیئے گئے مفت اور صحت مند خوراک کو انہی کمزور بچوں تک پہنچائیں۔ اس انہوں نےکہا کہ ہیسپتال بیلانگ، اسٹاف کوارٹرز اور اسٹاف کی کمی کا ایک جامع رپورٹ بنا کر سیکٹری ہیلتھ کو ارسال کیا گیا ہے اور ساتھ میں مطالبہ کیا کہ ڈسٹرکٹ کے اندر خالی پوسٹوں کو جلد سے جلد پر کیا جائے تاکہ ہیلتھ سینٹرز کو اسٹاف کی کمی کا سامنا نہ کرنا پڑے جو اس وقت بہت بڑا مسلہ ہے اور خاص طور پر آر ایچ سی سر بندن جہاں اس وقت کوئی ڈاکٹر پوسٹ نہیں ہے اور آر ایچ سی کو اسٹاف کی بھی کمی کا سامنا ہے ۔

    سر بندن دورے کے دوران انہوں نے ملیریا اسپرے کی دوائیاں سر بندن کے کونسلر کے حوالے کیے اور ہر طرح کی تعاون کی یقین دہائی کرائی اور حالیہ بارشوں کے بعد شہر کے اندر غیر استعمال جمع شدہ پانی کا جائزہ لیا تاکہ ان جگہوں میں جلد سے ملیریا اور ڈینگی مچھر کی افزائش کو کنٹرول کرنے کے لیے larvaeciding کی جائے ۔

  • عوام کے پاس پی ایس پی کے علاؤہ کوئی دوسرا آپشن نہیں،مصطفیٰ کمال

    عوام کے پاس پی ایس پی کے علاؤہ کوئی دوسرا آپشن نہیں،مصطفیٰ کمال

    پاک سرزمین پارٹی کے چیئرمین سید مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی اپنی سابقہ روایت کو برقرار رکھتے ہوئے اس ملک کو دوبارہ توڑنے کی سازش کر رہی ہے پاکستان پیپلزپارٹی کے خمیر میں پاکستان کو ٹکڑے ٹکڑے کرنا ہے، ان کے بڑوں نے بھی یہی کیا تھا اور اب ان کی نئی نسل بھی اسی راستے پر گامزن ہے۔

    انہوں نے کہا کہ ظلم کی انتہا ہے کہ انسانوں سے جینے کا حق چھین لیا گیا ہے اور تمام ظلم اور بربریت کے سامنے ریاست کا کوئی بھی ادارہ کردار ادا کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ پاکستان کے ریاستی ادارے اور سربراہ چیف جسٹس آف پاکستان، وزیراعظم شہباز شریف اور نہ کوئی اور ادارہ پیپلز پارٹی کی دہشت گردی کو روکنے کیلئے تیار ہے۔ شہباز شریف کی حکومت دو سیٹوں کی مرہون منت ہے۔ اس صورتحال کا بھرپور فائدہ اٹھا رہی ہے۔ جس کا خمیازہ کراچی حیدر آباد اور شہری سندھ کی عوام بھگت رہی ہے۔

    مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے 14 سالہ حکمرانی میں پاکستان کے معاشی حب کراچی کو پینے کا ایک اضافی قطرہ پانی نہیں دیا گیا بلکہ جو پانی آتا تھا وہ بھی ہائیڈرنٹس بنا کر چوری کر کے عوام کو ہی اربوں روپے ک فروخت کیا جا رہا ہے۔

    پاکستان ہاؤس میں بلدیاتی امیدوران کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سید مصطفیٰ کمال نے مزید کہا کہ اپنی نسلوں کو خاموشی سے دفنانے کے بجائے پاک سرزمین پارٹی نے پیپلز پارٹی کی جمہوری دہشتگردی کے خلاف سیسہ پلائی ہوئی دیوار بننے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ سندھ کے بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے میں دنیا نے دیکھا کہ ڈاکو، پولیس اور صوبائی الیکشن کمیشن کے اہلکار مل کر پیپلز پارٹی کے لیے ٹھپے لگاتے رہے۔ ریاست کو اگر ہماری فکر نہیں ہے تو خود اپنے حقوق کی جدوجہد کریں گے۔ اگر عوام پیپلز پارٹی کے ظلم کے سامنے کھڑے ہوگئے تو پھر جو کچھ ہوگا ریاست اور ریاستی ادارے اسکے زمہ دار ہونگے۔ کراچی اور حیدرآباد کی عوام کے پاس پی ایس پی کے علاؤہ کوئی دوسرا آپشن نہیں۔

  • پاکستان کو آگے لیجانے کیلئے  شفاف انتخابات ہی واحد آئینی حل ہے،سپریم کورٹ بار

    پاکستان کو آگے لیجانے کیلئے شفاف انتخابات ہی واحد آئینی حل ہے،سپریم کورٹ بار

    سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے ایڈیشنل سیکریٹری چوہدری ریاست علی گوندل نے کہا ہے کہ بقول تھامس جیفرسن کسی بھی حکومت کی قانونی مضبوطی کا انحصار عوام کی رائے پر ہوتا ہے.

    چوہدری ریاست علی گوندل کا کہنا ہے کہ حالیہ ضمنی انتخابات کے نتائج سے عیاں ہے کہ حکومت اپنی حیثیت کھو چکی ہے اور پاکستان کو آگے لیجانے کیلئے صاف اور شفاف انتخابات ہی واحد آئینی حل ہے. تمام اداروں کو پاکستان کے اس مشکل وقت میں اپنا کردار ادا کرنا ہو گا اور عوام کی رائے کا احترام کرنا ہوگا.

    چوہدری ریاست علی گوندل نے کہا کہ ابراہیم لنکن نے کہا تھا کہ عوامی حکومت ہی جمہوریت ہے جو عوام سے ہوتی ہے اور عوام کیلئے ہوتی ہے.

    انہوں نے کہا کہ اس مشکل وقت میں سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن آف پاکستان اپنا کردار ادا کرےگی.

  • پیپلز پارٹی کا اتحادی جماعتوں کے ساتھ کھڑا ہونےکا فیصلہ،زرداری لاہور پہنچ گئے

    پیپلز پارٹی کا اتحادی جماعتوں کے ساتھ کھڑا ہونےکا فیصلہ،زرداری لاہور پہنچ گئے

    پیپلز پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس کے بعد وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کے لیے آصف زرداری لاہور پہنچ گئے.پیپاپارٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ انتخابات اپنے مقررہ وقت پر ہونگے اور وفاقی حکومت اپنی مدت پوری کرے

    پاکستان پیپلز پارٹی نے اتحادی جماعتوں کے ساتھ کھڑا ہونےکا فیصلہ کیا ہے۔پنجاب میں ہونے والے ضمنی الیکشن کے بعد بلاول ہاؤس کراچی میں پیپلز پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کا ہنگامی اجلاس منعقد ہوا۔

    پیپلز پارٹی کے رہنما اور وزیر اطلاعات سندھ شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ سی ای سی کے اجلاس میں سیاسی صورت حال پر بات ہوئی، پارلیمنٹ اپنی مدت پوری کرےگی، سی ای سی نے اتحادی جماعتوں کے ساتھ کھڑا ہونےکا فیصلہ کیا ہے، قیادت آج لاہور میں اتحادیوں کے ساتھ اجلاس میں شرکت کرےگی۔ان کا کہنا تھا کہ کل لاہور میں ہونے والے اجلاس میں انتخابی اصلاحات پر مشاورت ہوگی، پیپلزپارٹی کی سی ای سی نے فیصلہ کیا ہے الیکشن اپنے وقت پر ہوں۔

    انہوں نےکہا کہ عمران خان مسٹر ایکس اور مسٹر وائی سے معافی مانگیں، پنجاب میں ضمنی الیکشن جیت کر بھی عمران ہارگیا۔ الیکشن میں عمران خان نے الیکشن کمیشن کو متنازع بنایا۔

    قبل ازیں پی ڈی ایم کے رہنماوں سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف، سابق صدر مملکت اور پیپلزپارتی کے شریک چیئرمین آصف زرداری اور جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے ٹیلی فونک گفتگو کی جس کے دوران تینوں رہنماؤں نے پنجاب کے ضمنی انتخابات میں ن لیگی امیدواروں کی شکست کا جائزہ لیا۔

    باغی ٹی ؤی کے مطابق ٹیلی فون پر رابطے میں تینوں رہنماوں نے پنجاب اور مرکز میں آئندہ کی حکمت عملی پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا ۔ تینوں نے موقف اختیار کیا کہ عوام نے بڑھتی مہنگائی اور تیل کی قیمتوں میں اضافے کا بدلہ لیا۔ ذرائع کے مطابق نوازشریف کا کہنا تھا کہ میں تو شروع دن سے ہی حکومت لینے کے حق میں نہیں تھا۔ تینوں رہنماؤں نے جلد عام انتخابات کروانے سے متعلق تجاویز پر غور کیا اور طے کیا کہ اتحادیوں کی مشاورت سے تفصیلی لائحہ عمل اختیار کیا جائے ۔

    دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف نے پنجاب کے ضمنی انتخابات میں شکست کے باوجود پارٹی رہنماؤں اور ورکرز کاشکریہ ادا کیا ہے،انہوں نے کہا کہ مریم نواز نے پارٹی کیلئے بہترین انتخابی مہم چلائی، پر امن انتخابات کے انعقاد پر وزیرِ اعلی حمزہ شہباز کی قیادت میں پنجاب حکومت مبارکباد کی مستحق ہے۔

    علاوہ ازیں مسلم لیگ (ن) کی قیادت کو ضمنی انتخابات میں شکست کی رپورٹ پیش کردی گئی، عوام نے منحرف ارکان کو قبول نہیں کیا، پیٹرولیم مصنوعات اور بجلی کی قیمتوں میں اضافے جیسی وجوہات شکست کا باعث بنیں۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پنجاب کے ضمنی انتخابات میں شکست کے بعد وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت پاکستان مسلم لیگ (ن) کی اعلیٰ قیادت کا اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز، وفاقی وزرا رانا ثناء اللہ، خواجہ آصف، مریم اورنگزیب اور اعظم نذیر تارڑ، سردار ایاز صادق، ملک احمد خان، عطاء اللہ تارڑ، سردار اویس لغاری، رانا مشہود و دیگر نے شرکت کی۔ اجلاس میں ضمنی انتخابات میں پارٹی کی شکست اور آئندہ کی سیاسی حکمت عملی پر غور کیا گیا۔

  • آصف زرداری،،فضل الرحمان اور نواز شریف میں رابطہ،جلد عام انتخابات پر غور

    آصف زرداری،،فضل الرحمان اور نواز شریف میں رابطہ،جلد عام انتخابات پر غور

    پی ڈی ایم کے رہنماوں سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف، سابق صدر مملکت اور پیپلزپارتی کے شریک چیئرمین آصف زرداری اور جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے ٹیلی فونک گفتگو کی جس کے دوران تینوں رہنماؤں نے پنجاب کے ضمنی انتخابات میں ن لیگی امیدواروں کی شکست کا جائزہ لیا۔

    باغی ٹی ؤی کے مطابق ٹیلی فون پر رابطے میں تینوں رہنماوں نے پنجاب اور مرکز میں آئندہ کی حکمت عملی پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا ۔ تینوں نے موقف اختیار کیا کہ عوام نے بڑھتی مہنگائی اور تیل کی قیمتوں میں اضافے کا بدلہ لیا۔ ذرائع کے مطابق نوازشریف کا کہنا تھا کہ میں تو شروع دن سے ہی حکومت لینے کے حق میں نہیں تھا۔ تینوں رہنماؤں نے جلد عام انتخابات کروانے سے متعلق تجاویز پر غور کیا اور طے کیا کہ اتحادیوں کی مشاورت سے تفصیلی لائحہ عمل اختیار کیا جائے ۔

    دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف نے پنجاب کے ضمنی انتخابات میں شکست کے باوجود پارٹی رہنماؤں اور ورکرز کاشکریہ ادا کیا ہے،انہوں نے کہا کہ مریم نواز نے پارٹی کیلئے بہترین انتخابی مہم چلائی، پر امن انتخابات کے انعقاد پر وزیرِ اعلی حمزہ شہباز کی قیادت میں پنجاب حکومت مبارکباد کی مستحق ہے۔

    علاوہ ازیں مسلم لیگ (ن) کی قیادت کو ضمنی انتخابات میں شکست کی رپورٹ پیش کردی گئی، عوام نے منحرف ارکان کو قبول نہیں کیا، پیٹرولیم مصنوعات اور بجلی کی قیمتوں میں اضافے جیسی وجوہات شکست کا باعث بنیں۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پنجاب کے ضمنی انتخابات میں شکست کے بعد وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت پاکستان مسلم لیگ (ن) کی اعلیٰ قیادت کا اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز، وفاقی وزرا رانا ثناء اللہ، خواجہ آصف، مریم اورنگزیب اور اعظم نذیر تارڑ، سردار ایاز صادق، ملک احمد خان، عطاء اللہ تارڑ، سردار اویس لغاری، رانا مشہود و دیگر نے شرکت کی۔ اجلاس میں ضمنی انتخابات میں پارٹی کی شکست اور آئندہ کی سیاسی حکمت عملی پر غور کیا گیا۔

    ذرائع کے مطابق پنجاب کے ضمنی انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کی شکست کے بعد وزیراعظم شہباز شریف نے پارٹی کی مرکزی قیادت کا اجلاس طلب کیا تھا۔ اجلاس میں ضمنی انتخابات میں شکست کی وجوہات اور آئندہ کی حکمت عملی اور حمزہ شہباز کی وزارت اعلیٰ بچانے کے لئے حکمت عملی پرمشاورت کی گئی.

    ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف حکومتی اتحادیوں سے بھی رابطے کریں گے اور آئندہ کی حکمت عملی کے لیے اتحادی جماعتوں کا اجلاس بھی طلب کیا جائے گا ،زرائع کے مطابق حکومتی اتحادی جماعتوں کا اجلاس کل اسالام آباد میں طلب کیا جائے گا۔

    ذرائع کے مطابق ضمنی انتخابات میں پارٹی کی شکست پروفاقی وزیر رانا ثناء اللہ نے اپنی تفصیلی تجزیاتی رپورٹ پیش کی۔ پارٹی رپورٹ میں ہر حلقے کے حوالے سے الگ الگ تجزیہ پیش کیا گیا۔رپورٹ کے مطابق حلقوں میں لیگی کارکنوں نے مخالف پارٹی سے منحرف ہو کر آنے والوں کو دل سے قبول نہیں کیا، پارٹی عہدیداروں، پرانے ٹکٹ ہولڈرز اور سابقہ بلدیاتی نمائندوں نے انتخابی مہم میں جان نہیں لڑائی، سخت معاشی فیصلوں کے نام پر پٹرولیم مصنوعات اور بجلی کے بلوں میں اضافے نے مہنگائی کی شرح میں اضافہ کیا۔

    رپورٹ میں کہا گیا کہ مہنگائی کی انتہائی شرح نے جلتی پر تیل کا کام کیا اور ہار میں بنیادی کردار ادا کیا، ضمنی انتخابات سے صرف دو روز قبل پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا کوئی فائدہ نہیں ہوا، عوام نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اس معمولی کمی کو رد کر کے مخالفت میں ووٹ دئیے۔

  • منحرف ارکان اور سخت معاشی فیصلے ناکامی کا سبب بنے،ن لیگ کے اجلاس میں رپورٹ

    منحرف ارکان اور سخت معاشی فیصلے ناکامی کا سبب بنے،ن لیگ کے اجلاس میں رپورٹ

    مسلم لیگ (ن) کی قیادت کو ضمنی انتخابات میں شکست کی رپورٹ پیش کردی گئی، عوام نے منحرف ارکان کو قبول نہیں کیا، پیٹرولیم مصنوعات اور بجلی کی قیمتوں میں اضافے جیسی وجوہات شکست کا باعث بنیں۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پنجاب کے ضمنی انتخابات میں شکست کے بعد وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت پاکستان مسلم لیگ (ن) کی اعلیٰ قیادت کا اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز، وفاقی وزرا رانا ثناء اللہ، خواجہ آصف، مریم اورنگزیب اور اعظم نذیر تارڑ، سردار ایاز صادق، ملک احمد خان، عطاء اللہ تارڑ، سردار اویس لغاری، رانا مشہود و دیگر نے شرکت کی۔ اجلاس میں ضمنی انتخابات میں پارٹی کی شکست اور آئندہ کی سیاسی حکمت عملی پر غور کیا گیا۔

    ذرائع کے مطابق پنجاب کے ضمنی انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کی شکست کے بعد وزیراعظم شہباز شریف نے پارٹی کی مرکزی قیادت کا اجلاس طلب کیا تھا۔ اجلاس میں ضمنی انتخابات میں شکست کی وجوہات اور آئندہ کی حکمت عملی اور حمزہ شہباز کی وزارت اعلیٰ بچانے کے لئے حکمت عملی پرمشاورت کی گئی.

    ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف حکومتی اتحادیوں سے بھی رابطے کریں گے اور آئندہ کی حکمت عملی کے لیے اتحادی جماعتوں کا اجلاس بھی طلب کیا جائے گا ،زرائع کے مطابق حکومتی اتحادی جماعتوں کا اجلاس کل لاہور میں طلب کیا جائے گا۔ وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف کی دعوت پر حکومت کی اتحادی جماعتوں اور پی ڈی ایم کے قائدین کا اہم اجلاس کل دوپہر کو ہو گا ،وزیراعظم نے حکومت کی اتحادی جماعتوں اور پی ڈی ایم کے قائدین کو لاہور میں اپنی رہائش گاہ پر دعوت دی ہے . 96 ایچ ماڈل ٹاؤن میں منعقدہ اجلاس میں حکومت کی اتحادی جماعتوں اور پی ڈی ایم کے قائدین مجموعی ملکی صورتحال کا جائزہ لیں گے ،حکومت کی اتحادی جماعتوں اور پی ڈی ایم کے قائدین کے اجلاس میں اہم امور پر مشاورت ہوگی

    ذرائع کے مطابق ضمنی انتخابات میں پارٹی کی شکست پروفاقی وزیر رانا ثناء اللہ نے اپنی تفصیلی تجزیاتی رپورٹ پیش کی۔ پارٹی رپورٹ میں ہر حلقے کے حوالے سے الگ الگ تجزیہ پیش کیا گیا۔رپورٹ کے مطابق حلقوں میں لیگی کارکنوں نے مخالف پارٹی سے منحرف ہو کر آنے والوں کو دل سے قبول نہیں کیا، پارٹی عہدیداروں، پرانے ٹکٹ ہولڈرز اور سابقہ بلدیاتی نمائندوں نے انتخابی مہم میں جان نہیں لڑائی، سخت معاشی فیصلوں کے نام پر پٹرولیم مصنوعات اور بجلی کے بلوں میں اضافے نے مہنگائی کی شرح میں اضافہ کیا۔

    رپورٹ میں کہا گیا کہ مہنگائی کی انتہائی شرح نے جلتی پر تیل کا کام کیا اور ہار میں بنیادی کردار ادا کیا، ضمنی انتخابات سے صرف دو روز قبل پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا کوئی فائدہ نہیں ہوا، عوام نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اس معمولی کمی کو رد کر کے مخالفت میں ووٹ دئیے۔

  • این اے 245 کا ضمنی الیکشن،فاروق ستار بھی میدان میں آگئے

    این اے 245 کا ضمنی الیکشن،فاروق ستار بھی میدان میں آگئے

    سربراہ ایم کیو ایم بحالی کمیٹی فاروق ستار نے این اے 245 کا ضمنی الیکشن تالے کے نشان پر لڑنے کا اعلان کردیا۔کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ مجھے ایم کیو ایم سے الگ کیا گیا لیکن میں نے ایم کیو ایم پاکستان میں جانے کا پکا ارادہ کیا تھا۔

    فاروق ستار نے کہا کہ خالد مقبول سے میری تین ملاقاتیں ہوئیں، نیک نیتی سے کوشش کی کہ میں اور خالد مقبول ساتھ کھڑے ہوں۔انہوں نے بتایا کہ این اے 245 کے ضمنی اور بلدیاتی الیکشن کے لیے انتخابی دفتر قائم کردیا ہے۔

    فاروق ستار نے آزاد حیثیت میں بلدیاتی الیکشن لڑنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ بلدیاتی انتخابات میں کراچی سے 75 اور 30 امیدوار حیدرآباد سے کھڑے کیے ہیں۔فاروق ستار کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر خالد مقبول میرے گھر آئے اورملاقات کی، 3 جولائی کو دودھ میں مینگنی ڈالنے کا سلسلہ شروع ہوا، میں نے کوئی ڈیمانڈ نہیں کی لیکن میرے باقی لوگوں کے ساتھ ناانصافی نہ ہو۔

    انہوں نے کہا کہ حمایت حاصل کرنے مصطفیٰ کمال اور آفاق احمد کے پاس جاؤں گا، کیا خالد مقبول صدیقی میری حمایت کریں گے؟فارو ق ستار نے کہا کہ خالد بھائی اب بھی وقت ہے، یہ الیکشن یکجہتی کا ہے، میرا ہاتھ تھامیں اور اس دلدل سے نکلیں۔