Baaghi TV

Author: +9251

  • بلوچستان:بارشوں کے بعد امراض پھوٹ پڑے، 7 افراد ہلاک اور 1300 سے زائد متاثر

    بلوچستان:بارشوں کے بعد امراض پھوٹ پڑے، 7 افراد ہلاک اور 1300 سے زائد متاثر

    کوئٹہ :بلوچستان میں بارشوں کے بعد امراض پھوٹ پڑے جس سے 10 روز میں 7 ہلاکتیں رپورٹ ہوئیں۔محکمہ صحت بلوچستان کے مطابق بلوچستان میں مون سون سے متاثرہ علاقوں میں پیٹ اور آنتوں کی بیماریاں پھیل گئی ہیں، بلوچستان کے 16 اضلاع میں اکیوٹ واٹری ڈائریا کی وبا پھیلی ہوئی ہے۔

    محکمہ صحت کا کہنا ہے کہ ژوب میں گزشتہ دس دنوں میں سات افراد ڈائریا سے ہلاک اور 1300 سے زائد متاثر ہو چکے ہیں ، پری مون سون بارشوں کا سلسلہ شروع ہونے کے بعد ان بیماریوں کا دائرہ 16 اضلاع تک پھیل گیا ہے اور صرف ایک ماہ میں 6312 کیسز رپورٹ ہوئے۔

    ماہرین صحت نے بتایا کہ کئی اضلاع میں ڈائریاکی خطرناک شکل کالرا (ہیضہ) پہلے سے پھیلی ہوئی تھی ، بارشوں اور سیلابوں کے بعد ان بیماریوں کے پھیلاؤ میں اضافہ ہوا ہے، جب کہ بیماری میں ماہانہ 70 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

    دوسری جانب حکومت بلوچستان نے حالیہ بارشوں کے بعد صوبے کے 10 اضلاع کو آفت زدہ قرار دے دیا ، ان اضلاع میں لورالائی، قلات، مستونگ، کچھی، سبی ، قلعہ سیف اللہ، بارکھان، دکی، پنجگور اور لسبیلہ شامل ہیں ، حکومت بلوچستان نے نوٹیفکیشن جاری کردیا۔

    ادھر نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی اسلام آباد نے بتایا کہ بلوچستان کے سیلاب زدگان کیلئے این ڈی ایم اے اور کے ایس ریلیف کی جانب سے امدادی کھیپ روانہ کردی گئی ہے۔

    نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) اور کنگ سلمان امدادی ریلیف سنٹر(کے ایس ریلیف) کے تعاون سے بلوچستان کے سیلاب زدگان کیلئے ہنگامی امدادی کھیپ آج اسلام آباد سے روانہ کی گئی ہے۔

    امدادی کھیپ 3000 بنیادی اشیائے خورونوش کے راشن پیکس پر مشتمل ہے ، مذکورہ کھیپ 30 ٹرکوں کے قافلے کے ذریعے روانہ کی گئی ، اس موقع پر سعودی سفارتخانے کے ناظم الامور نے کہا کہ سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان گہرے تعلقات ہیں اور سعودیہ نے ہمیشہ قدرتی آفات کے دوران پاکستان کا ساتھ دیا ہے۔

    این ڈی ایم اے کے ممبر ادریس محسود نے سعودی حکومت اور ایمبیسی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ بنیادی اشیائے خورونوش پر مشتمل راشن بیگز کی یہ امداد بلوچستان کے سیلاب زدگان کی سپورٹ کیلئے آفت کی اس گھڑی میں انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔

    اس موقع پر این ڈی ایم اے اور کے ایس ریلیف کے حکام نے شرکت کی ، مذکورہ امداد پی ڈی ایم اے بلوچستان کے ذریعے سیلاب زدگان میں تقسیم کی جائے گی۔

  • ضمنی الیکشن، انتخابی مہم کا وقت ختم،لاہور، بھکراورملتان میں رینجرز تعینات کرنے کا فیصلہ

    ضمنی الیکشن، انتخابی مہم کا وقت ختم،لاہور، بھکراورملتان میں رینجرز تعینات کرنے کا فیصلہ

    پنجاب اسمبلی کے 20 حلقوں میں ضمنی الیکشن کیلئے انتخابی مہم کا وقت ختم ہو گیا، انتخابی مہم ختم ہونے سے قبل مسلم لیگ ن اور پاکستان تحریک انصاف نے بھرپور انتخابی مہم چلائی، پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان نے انتخابی مہم کے آخری روز فیصل آباد اور لاہور میں انتخابی جلسوں سے خطاب کیا جبکہ مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے لاہور اور ملتان میں انتخابی جلسوں سے خطاب کیا۔الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ تمام جماعتیں اور امیدوار 15 جولائی کی رات انتخابی مہم ختم کردیں، مقررہ وقت کے بعد جلسہ جلوس کارنر میٹنگز پر پابندی ہوگی۔الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ پابندی کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی ہوگی۔پنجاب اسمبلی ضمنی انتخابات کے سلسلے میں جاری انتخابی مہم ختم ہو گئی.

     

    لاہورنواز شریف کا تھا،ہے اور رہے گا،مریم نواز

     

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پنجاب اسمبلی کی 20 نشستوں پر ضمنی انتخاب 17 جولائی کو ہوگا۔ پی پی 7راولپنڈی، پی پی83 خوشاب،پی پی90 بھکر ، فیصل آباد کے حلقہ پی پی 97 ، جھنگ میں حلقہ پی پی125 ،127 اور شیخوپورہ میں پی پی 140 پر ضمنی انتخاب ہوگا۔اس کے علاوہ لاہور کی نشست پی پی 158، 167، 168 اور پی پی 170 پر ضمنی انتخاب ہوگا جبکہ ساہیوال میں پی پی202 ، پی پی217 ملتان، لودھراں کے حلقہ پی پی 224 اور 228 پر ضمنی الیکشن ہوگا۔بہاولنگر میں پی پی 237 اور مظفر گڑھ کے 3 حلقوں پی پی 237، 272، 273 پرضمنی انتخاب ہوگا۔ لیہ کے حلقہ پی پی 282 اور ڈیرہ غازی میں پی پی 288 پر بھی ضمنی انتخاب کا میدان سجے گا۔

    17 جولائی کا الیکشن نہیں جہاد ہے،عمران خان

    پنجاب میں 20 سیٹوں پر ضمنی الیکشن کے لیے امیدواروں کی جانب سے جوڑ توڑ کا سلسلہ جاری ہے۔پنجاب کے 20 حلقوں میں ضمنی انتخاب کے لیے امیدوار ووٹروں کو منانے کے لیے آخری جتن کر رہے ہیں اور وعدے قسموں کا کھلا استعمال کیا جا رہا ہے۔

    دوسری جانب ضمنی انتخابات کے دوران ماحول سازگار رکھنے کے لیے چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ نے چیف سیکرٹری، آئی جی پنجاب اور متعلقہ اداروں کو ضمنی انتخابات کے دوران پر امن ماحول کو یقینی بنانے کے احکامات جاری کیے ہیں۔ چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی زیر صدارت اجلاس میں کہا گیا کہ الیکشن کے دوران اسلحہ بردار اکٹھے کرنے والے امیدوار کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائےگی۔ پولنگ کے دوران شر پسند عناصر سے متعلق قانون نافذ کرنے والے اداروں کو تحریری طور پر آگاہ کرنےکی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔

    صوبائی وزیر داخلہ عطا اللہ تارڑ کی زیر صدارت امن و امان اور ضمنی الیکشن کے دوران سکیورٹی صورتحال کے حوالے سے اجلاس منوقد ہوا. ئی وزیر داخلہ عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ اسلحہ رکھنا اور اس کی نمائش پر دفعہ 144 کا نفاذ عمل میں لایا جا چکا ہے،الیکشن کے دوران کسی کو اسلحہ رکھنے کی اجازت نہ ہوگیی،اسلحہ سے پاک کمپین کے دوران پولیس نے بھاری مقدار میں اسلحہ برآمد کیا ،دھاندلی کا الزام لگانے والے اب افسران کو دھمکیاں دینے پر اتر آئے ہیں، تحریک انصاف یقینی شکست دیکھ کر لوگوں کو بدامنی پر اکسا رہی ہے ،امن و امان کی صورتحال کو یقینی بنانے کے لیے علی امین گنڈا پور اور مقبول گجر کے پنجاب داخلے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے ۔پنجاب حکومت کی اطلاعات تھیں اور الیکشن کمیشن کی طرف سے بھی خط موصول ہوا ہے کہ علی امین گنڈا پور اور مقبول گجر پنجاب میں پرتشدد کاروائیاں کرنا چاہتے ہیں،پنجاب میں پرامن ،صاف اور شفاف انتخابات کو یقینی بنایا جائے گا.اسلحہ کے خلاف مکمل کریک ڈاؤن کیا جائے گا ، بد امنی پھیلانے والے عناصر سے قانون آہنی ہاتھوں سے نمٹے گا ۔ تحریک انصاف کے مسلح جتھے اپنی سازش میں ناکام ہوں گے ۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پنجاب اسمبلی کے 20 حلقوں میں 17 جولائی کو ہونے والے ضمنی الیکشن کی تیاریاں آخری مرحلے میں داخل ہو گئی ہیں۔ذرائع کا بتانا ہے کہ الیکشن کمیشن نے 20 حلقوں کے لیے 47 لاکھ 30 ہزار 600 بیلٹ پیپرز چھاپے گئے ہیں جبکہ ایک لاکھ 53 ہزار657 اضافی بیلٹ پیپرز بھی چھاپے گئےہیں۔

    ذرائع الیکشن کمیشن کے مطابق ضمنی الیکشن کے لیے بیلٹ پیپرز اور فارمز کی ریٹرننگ افسران کو ترسیل شروع کر دی گئی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن نے آر اوز کے مجاز نمائندوں کو بیلٹ پیپرز وصولی کے لیے طلب کیا ہوا ہے، تمام بیلٹ پیپرز کی چھپائی اسلام آباد میں ہوئی، تمام بیلٹ پیپرز سخت سکیورٹی میں متعلقہ حلقوں میں پہنچائے جائیں گے۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق 17 جولائی کو ہونے والے ضمنی انتخابات کے لئے لاہور کے 4 حلقوں سمیت بھکراورملتان میں رینجرز تعینات کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا۔وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ کے مطابق یہ تمام حلقے انتہائی حساس ہیں اس لئے سکیورٹی میں رینجرز کو ڈالا گیا ہے، پاک فوج کو 4 حساس حلقوں میں تعینات کرنے کی درخواست دی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملتان، بھکر اور لاہور کے حلقے انتہائی حساس ہیں، تمام انتخابی حلقوں میں پولیس کے ساتھ رینجرز بھی تعینات ہو گی۔

    دوسری جانب رپورٹ کے مطابق ضمنی انتخاب کے محاذ پر پی پی 158 کا حلقہ سیاسی طورپر انتہائی متحرک نظر آرہا ہے، تحریک انصاف اور مسلم لیگ ن کے امیدواروں کے درمیان کانٹے دار مقابلہ متوقع ہے، سیاسی جماعتوں کے ووٹ بینک کے ساتھ ساتھ امیدواروں کا اپنا اثرو رسوخ اہم کردار ادا کرے گا۔

    پی پی 158 واحد حلقہ ہے جہاں ڈی سیٹ ہونے والے سابق صوبائی وزیر علیم خان مقابلے میں نہیں، تحریک انصاف نے میاں اکرم عثمان اور مسلم لیگ ن نے رانا احسن شرافت کو انتخابی اکھاڑے میں اتار دیا.پی پی 158 کے حلقے میں ٹوٹل آباد ی تین لاکھ 64 ہزار 205 ہے، کل ووٹر ایک لاکھ 95 ہزار 777 ہیں، مرد ووٹرز ایک لاکھ پانچ ہزار دو سو انہتر جبکہ خواتین ووٹرز نوے ہزار پانچ سو آٹھ ہیں، پی پی 158 میں گلبر گ ، گلدشت کالونی، اپرمال، شاد مان ،شاہ جمال، دھر م پورہ ،گڑھی شاہو اورصدر کے علاقے شامل ہیں،اس حلقہ کے عوام مسائل بارے شکایات کرتے نظر آتے ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق تحریک انصاف کی انتخابی مہم کے سلسلے میں اس حلقے میں پارٹی چیئرمین عمران خان بھی ایک ورکر کنونشن سے خطاب کرچکےہیں جبکہ مسلم لیگ ن کے امیدار رانا احسن شرافت کی مہم میں لیگی رہنما بھی پیش پیش ہیں۔ سابق صوبائی وزیرعلیم خان ڈی سیٹ ہونے کے بعد الیکشن تو نہیں لڑ رہے لیکن رانا احسن کے ساتھ مکمل تعاون ضرور کر رہے ہیں۔لاہور ہی کے حلقہ پی پی 167 میں مسلم لیگ ن اور تحریک انصاف کے درمیان کانٹے کا مقابلہ متوقع ہے.

    پنجاب کے ضمنی انتخابات میں خوشاب کے حلقے پی پی 83 نے خاص اہمیت حاصل کر لی ہے۔پاکستان تحریک انصاف کے ناراض کارکن ملک حامدمحمود ڈھل ٹوانہ جبکہ مسلم لیگ ن کے سابقہ ممبر صوبائی اسمبلی ملک محمد آصف بھاءاپنی اپنی پارٹیوں کی جانب سے ٹکٹ جاری نہ کیے جانے پر آزاد حیثیت سے میدان میں اتر رہے ہیں۔حلقہ پی پی 83 خوشاب میں ووٹوں کی کل ووٹوں کی تعداد 3 لاکھ 22 ہزار 428 ہے۔ جس میں مرد ووٹروں کی تعداد ایک لاکھ 68 ہزار 279 ہے جبکہ اس حلقہ میں خواتین ووٹرز کی تعداد ایک لاکھ 54 ہزار149 ہے۔ اس حلقے میں ٹوٹل پولنگ اسٹیشنز کی تعداد 215 ہےجس میں53 خواتین کے پولنگ اسٹیشنز ہیں اور53 ہی مردوں کے لیے وقف کیے گئے ہیں اور 109 مشترکہ پولنگ اسٹیشنز ہیں۔

    الیکشن کمیشن کی جانب سے حلقے میں قائم کیے جانے والے پولنگ بوتھ کی کل تعداد 626 ہے جن میں سے 328 مردوں کیلئے اور 298 خواتین کیلئے مختص کیے گئے ہیں۔ خوشاب کے حلقے پی پی 83 میں سات آزاد امیدواروں سمیت 10 امیدوار انتخابی میدان میں مدِ مقابل ہوں گے۔حلقہ پی پی 83 سے کسی بھی خاتون امیدوار نے انتخابی میدان میں حصہ نہیں لیا۔

    مسلم لیگ ن نے ملک امیر حیدر سنگھا کو میدان میں اتارا ہے۔ ملک امیر حیدر سنگھا منحرف سابق ایم پی اے ملک غلام رسول سنگھا کے بھائی ہیں۔ اس حلقے میں تحریک انصاف نے ملک حسن اسلم اعوان کو مقابلے کے لیے میدان میں اتارا ہے، جن کا بطور امیدوار یہ پہلا الیکشن ہے۔ملک حسن اسلم خان خوشاب سابق وفاقی وزیر تجارت و سائنس اینڈ ٹیکنالوجی ملک نعیم خان اعوان مرحوم کے بھانجے ہیں اور پی ٹی آئی کے موجودہ مستعفی ایم این اے ملک اعوان کے چھوٹے بھائی ہیں۔تحریک لبیک پاکستان نے اپنے فعال کارکن زمرد عباس خان کو ٹکٹ جاری کیا ہے۔

    پاکستان تحریک انصاف کو جھنگ میں بڑا دھچکا لگ گیا، مخدوم فیصل صالح حیات نے مسلم لیگ ن کے امیدواروں کی حمایت کا اعلان کر دیا۔ مخدوم فیصل صالح حیات نے جھنگ آمد پر پی پی 125 فیصل حیات جبوانہ اور پی پی 127 مہر اسلم بھروانہ کی بھرپور حمایت کا اعلان کیا اور الیکشن مہم میں بھرپور کردار ادا کرنے کا عزم بھی کیا۔

    واضح رہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز کو ووٹ دینے والے تحریک انصاف کے 25 منحرف اراکین کو الیکشن کمیشن کی جانب سے ڈی سیٹ کیے جانے کے بعد 20 حلقہ میں ضمنی انتخاب 17 جولائی کو ہوگا جب کہ 5 مخصوص نشستوں پر الیکشن کمیشن نوٹیفکیشن جاری کر چکا ہے۔

    زرائع کے مطابق پنجاب میں عام انتخابات سے قبل 17 جولائی کو صوبائی اسمبلی کی 20 نشستوں پر سیاسی جماعتوں میں ایک ایسا سیاسی معرکہ ہونے جا رہا ہے جو کہ ناصرف پنجاب میں سیاسی بحران کو ختم کرے گا بلکہ اگلے وزیراعلیٰ کا انتخاب بھی انہی سیٹوں پر منحصر ہے۔ ان ضمنی انتخابات میں ملک کی دو بڑی جماعتوں مسلم لیگ ن اور پاکستان تحریک انصاف کے درمیان کانٹے دار مقابلہ متوقع ہے۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق راولپنڈی جو کہ ماضی میں مسلم لیگ ن کا مضبوط قلعہ سمجھا جاتا تھا، مگر گزشتہ انتخابات میں مسلم لیگ کو اصل ضرب اسی ضلع سے پڑی تھی اور مسلم لیگ ن کو اپنے سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی شکست سمیت بڑے بڑے اپ سیٹ کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اس مرتبہ راولپنڈی کے حلقہ پی پی 7 سے چھ امیدواران انتخابی میدان میں اتر رہے ہیں۔ حلقہ پی پی 7 میں کل 3 لاکھ 35 ہزار 295 ووٹ رجسٹرڈ ہیں، جن میں سے ایک لاکھ 71 ہزار 464 مرد ووٹرز جبکہ ایک لاکھ 63 ہزار 831 خواتین ووٹرز حق رائے دہی استعمال کریں گے۔ حلقہ پی پی 7 راولپنڈی کے اہم علاقوں کہوٹہ،کلرسیداں، مٹور ، نرڑ، بیور، نارہ، کلر سیداں شہر، چوآخالصہ اور دوبیرن کلاں پر مشتمل ہے۔ پی پی 7 میں دو بڑی برادریوں راجپوت اور اعوان کا اثر رسوخ ہے

    اس حلقے میں قومی اسمبلی کا حلقہ این اے 57آتا ہے جس میں صداقت علی عباسی ایم این اے ہیں جبکہ مسلم لیگ ن کے مرکزی رہنما شاہد خاقان عباسی کا تعلق بھی اسی حلقے سے ہے اور وہ کھل کر راجہ صغیر کی حمایت اور مہم چلا رہے ہیں۔ گزشتہ ا لیکشن میں مسلم لیگ ن کی اس حلقے میں کاررکردگی زیادہ متاثر کن نہیں تھی اور وہ یہاں سے قومی اور صوبائی اسمبلی کی سیٹیں ہار گئی تھیں۔

    الیکشن کمیشن کی جانب سے حلقے میں کل 266 پولنگ اسٹیشن قائم کیے گئے ہیں، جن میں سے 36 مردوں، 35 خواتین اور195 مشترکہ پولنگ اسٹیشن ہیں، جبکہ قائم کیے جانے والے پولنگ بوتھ کی تعداد 789 ہے ، جن میں سے 396 مردوں اور 393 خواتین کے لیے مختص ہیں۔

    پاکستان مسلم لیگ ن نے راجہ صغیر احمد کو انتخابی میدان میں اتارا ہے، جو دوسری مرتبہ انتخابی عمل میں قسمت آزمانے جارہے ہیں۔ راجہ صغیر احمد نے 2018ء کے عام انتخابات میں اس حلقے سے آزاد حیثیت سے کامیابی حاصل کی تھی، جس کے بعد انہوں نے پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کر لی، ان کے مقابلے میں تحریک انصاف نے تجربہ کار سیاست دان کرنل (ر) محمد شبیر اعوان پر انحصار کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
    دیگر جماعتوں کی بات کی جائے تو جماعت اسلامی پاکستان نے تنویر احمد جبکہ تحریک لبیک پاکستان نے منصور ظہور کو ایک بار پھر آزمانے کا فیصلہ کیا ہے۔ تحریک لبیک کے امیدوار کو تحصیل کلرسیداں اور کہوٹہ میں کافی پزیرائی مل رہی ہے۔ اس حلقے میں لوگ ووٹ برادری اور شخصیت کو دیکھ کر ڈالتے ہیں۔

    پی پی 7 میں تحریک لبیک پاکستان جو کہ اپنی انتخابی مہم بھی زور و شور سے چلا رہی ہے اس حلقے میں حیران کن نتائج دینے کی صلاحیت رکھتی ہے اور اس کے امیدوار منصور ظہور نے 2018 کے عام انتخابات میں 15 ہزار 68 ووٹ حاصل کیے تھے۔ پی پی 7 سے کسی بھی خاتون امیدوار نے انتخابی میدان میں حصہ نہیں لیا۔

    کل مسالک کے علماء بورڈ کے مرکزی قائدین نے پنجاب کے ضمنی الیکشن میں پی ٹی آئی کے امیدواروں کی حمایت کا اعلان کر دیا۔

    پاکستان تحریک انصاف سینٹرل پنجاب کے جنرل سیکرٹری حماد اظہر نے سیکرٹری اطلاعات سینٹرل پنجاب عندلیب عباس اور کل مسالک علماء بورڈ کے چیئرمین مولانا مخدوم عاصم محمود کے ہمراہ پارٹی دفتر جیل روڈ میں پریس کانفرنس کرتے ھوئےکہاکہ میں شکریہ ادا کرتا ہوں علما کرام کا جنہوں نے ہماری حمایت کا علان کیا۔

    پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنما اسد عمر نے کہا ہے کہ صوبائی مشینری استعمال کر کے الیکشن میں دھاندلی کی کوشش کی جارہی ہے، حمزہ شہباز پہلے دن سے غیر آئینی وزیراعلیٰ ہیں ،ہمارے امیدواروں کو نامعلوم نمبرز سے فون کالز آرہی ہیں۔

    سابق وفاقی وزیر اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما اسد عمر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حمزہ شہباز پہلے دن سے غیر قانونی وزیر اعلیٰ ہے لیکن ہم نے ضمنی الیکشن کے نتائج آنے تک انہیں وزیراعلیٰ مان لیا۔ سپریم کورٹ نے کہا تھا حمزہ شہباز نے کسی طور پر انتظامی طور پر اثر انداز نہیں ہونا ہے۔انہوں نے کہا کہ حمزہ شہباز کی حیثیت نگراں وزیراعلیٰ سے زیادہ نہیں ہے جبکہ ڈپٹی کمشنرز اور اسسٹنٹ کمشنرز کی جانب سے پٹواریوں کے پاس کالیں جا رہی ہیں، ڈی پی او جھنگ کے خلاف پہلے ہی تحریک جمع تھی کیونکہ ضمنی الیکشن شیڈول کے بعد انہیں خلاف قانون ڈی پی او جھنگ لگا دیا گیا۔

    اسد عمر نے کہا کہ پولیس ہمارے لوگوں کے خلاف پرچے کاٹ رہی ہے جبکہ ڈپٹی کمشنر، ڈی سی او لیہ اور ایس ایچ او چیچہ وطنی کے خلاف بھی شکایات آ رہی ہیں، یہ لوگ جو کام کر رہے ہیں وہ قانون اور الیکشن قواعد کی خلاف ورزی ہے۔انہوں نے کہا کہ ضمنی الیکشن میں دھاندلی کی پوری کوشش کی جا رہی ہے، غیر قانونی کام کرنے والے افسروں کو اس کی قیمت چکانی پڑے گی۔

  • ریحام خان تیسری شادی کس سے کرنے جارہی ہیں؟خبریں وائرل ہونا شروع ہوگئیں

    ریحام خان تیسری شادی کس سے کرنے جارہی ہیں؟خبریں وائرل ہونا شروع ہوگئیں

    اسلام آباد:ریحام خان تیسری شادی کس سے کرنے جارہی ہیں؟خبریں وائرل ہونا شروع ہوگئیں ،اطلاعات کے مطابق ریحام خان کا میڈیا میں طویل کیریئر رہا ہے، انہوں نے بی بی سی کے ساتھ کام کرنا شروع کیا اور بعد میں پاکستان چلی گئیں جہاں وہ ایک معروف نیوز اینکر بن گئیں۔

    ریحام خان پاکستان کے سابق وزیر اعظم عمران خان سے شادی کے بعد ایک مشہور خاتون بن گئیں، یہ دونوں کی دوسری شادی تھی جو ایک سال سے کم عرصے میں ختم ہوئی۔

    ریحام خان نے حال ہی میں ایک ٹی وی شو میں شرکت کی جس میں ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ دوبارہ شادی کرنے کے بارے میں سوچیں گی؟جس پر انہوں نے کہا کہ خاندان کے ایک فرد نے میرا ہاتھ دیکھا اور کہا کہ درحقیقت میں تیسری شادی کرکے رہوں‌ گی۔

    انہوں نے ایک قصہ سنایا کہ میرے بھانجے اپنی شادی کے لئے رضا مند نہیں تھے تو ان کے والد نے ان سے کہا کہ خدا کے لئے شادی کر لو ورنہ تمھاری خالہ تیسری شادی کرلیں گی جس پر انہوں نے کہا کہ اب تو میں ضرور کروں گی۔

    ریحام کی پیدائش ایک پاکستانی ڈاکٹر نیئر رمضان کے گھر ہوئی۔ ان کا تعلق سواتی قبیلے کی ذیلی شاخ لغمانی قبیلے سے ہے اور یہ نسلا پشتون ہیں۔ یہ چار زبانیں روانی سے بول سکتی ہیں ، جس میں شامل ہے انگریزی، اردو، پشتو اور ان کی آبائی زبان ہندکو۔ ان کے خاندان کا تعلق بفہ کے علاقے سے ہے جو مانسہرہ ، خیبر پختونخوا سے پندرہ کلومیٹر مغرب میں واقع ہے۔ ان کے والدین 1960 کے اواخر میں لیبیا چلے گئے تھے جہاں 1973 میں اجداییا میں ریحام کی ولادت ہوئی۔ ان کا ایک بھائی اور بہن ہے۔

    ریحام عبدالحکیم خان کی بھانجی ہیں جو خیبر پختونخوا صوبے کے گورنر رہے ہیں اور پشاور ہائی کورٹ کےچیف جسٹس بھی۔ ریحام نے جناح کالج برائے خواتین ، پشاور سے بی اے کیا ہے۔

    پہلی شادی اور طلاق
    ان کا پہلا نکاح 23 جولائی 1992ء کو ایبٹ آباد میں اعجاز ولد فضل الرحمان کے ساتھ ہوا۔ ان کے پہلے شوہر اعجاز رحمان ماہر نفسیات ہیں ، صحافت کے شعبہ میں آنے کی وجہ سے دونوں میں اختلافات پیدا ہوئے۔پندرہ سال کی شادی کے بعد طلاق ہوئی۔ اس شادی سے ریحام کے تین بچے ہیں ساحررحمان ، ردھا رحمان اور عنایہ رحمان ہیں جبکہ دوسری شادی سابق وزیراعظم عمران خان سے ہوئی تھی

  • بیلٹ اینڈ روڈکی تعمیر سےسنکیانگ ایک کلیدی علاقہ بن چکا ہے:چینی صدر

    بیلٹ اینڈ روڈکی تعمیر سےسنکیانگ ایک کلیدی علاقہ بن چکا ہے:چینی صدر

    چین کے صدر شی جن پھنگ نے اُرمچی انٹرنیشنل لینڈ پورٹ ایریا کا دورہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ “دی بیلٹ اینڈ روڈ”کی تعمیر سےسنکیانگ ایک دور دراز علاقے کی بجائے ایک کلیدی علاقہ بن چکا ہے۔سنکیانگ میں تاریخی اہمیت کے کام ہو رہے ہیں جن میں اہم پیش رفت بھی ہوئی ہے۔انہوں نے کہا کہ سنکیانگ کا مستقبل روشن ہے،”ترقی، سنکیانگ میں طویل مدتی امن و تحفظ کی اہم بنیاد ہے ” ،سنکیانگ کو کھلے پن کا مرکز بنانے سے سنکیانگ کے عوام کی خوشحالی اور سنکیانگ کی ترقی کے لیے مزید سازگار ماحول فراہم کیا جائے گا۔

    جمعہ کے روز چینی میڈیا کےمطابق چینی صدر شی جن پھنگ نے 12 سے 13 جولائی تک سنکیانگ کے شہر اُرمچی کا دورہ کیا۔ اس دوران انہوں نے سنکیانگ یونیورسٹی ،اُرمچی انٹرنیشنل لینڈ پورٹ ایریا،تھیان شان ڈسٹرکٹ کی گو ایوان شیانگ رہائشی کمیونٹی اورسنکیانگ ویغور خود اختیار علاقے کے میوزیم کا دورہ کیا ۔اس موقع پر شی جن پھنگ نے سنکیانگ میں باصلاحیت افراد کی تربیت ، کووڈ۔19 کے انسداد کے لیے کیے جانے والے اقدامات ،اقتصادی و سماجی ترقی اورقومیتوں کے درمیان اتحاد کے فروغ کا جائزہ لیا ۔

    واضح رہے کہ گزشتہ صدی میں 1980 کے عشرے میں بھی انہوں نے سنکیانگ کا دورہ کیا تھا اور رواں صدی میں حالیہ دورے سے قبل انہوں نے 2003 ،2009 اور 2014 میں بھی سنکیانگ کا دورہ کیا تھا ۔گو ایوان شیانگ رہائشی کمیونٹی کا دورہ کرنے کے موقع پر ان کا کہنا تھا کہ وہ کمیونٹی کے کام کو بہت اہمیت دیتے ہیں اور ہمیں عوام کی خواہشات اور عوام کی ضروریات کے مطابق بہتر کام کرنا چاہیئے۔

    سنکیانگ ویغور خود اختیار علاقے کے میوزیم کا دورہ کرتے ہوئے شی جن پھنگ نے چینی قوم کے ثقافتی ورثے کے تحفظ اور وراثت کے فروغ پر زور دیا۔

    دو سال قبل سی پی سی کی مرکزی کمیٹی میں سنکیانگ سے متعلقہ امور پر منعقد کیے جانے والے ایک اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا تھا کہ سنکیانگ کا انتظام قانون کے مطابق کیا جائے گا،اتحاد سے استحکام کو برقرار رکھا جائے گا،ثقافت کو فروغ دیا جائے گا ، عوام کی خوشحالی کو یقینی بنایا جائے گا اور طویل مدتی نقط نظر سے سنکیانگ کی تعمیر کی جائے گی۔ارمچی میں چینی صدر کا موجودہ دورہ اس حکمت عملی کا واضح عکاس ہے۔

  • امریکی صدر جو بائیڈن سعودی عرب پہنچ گئے: شاہ سلمان اور ولی عہد سے ملاقات

    امریکی صدر جو بائیڈن سعودی عرب پہنچ گئے: شاہ سلمان اور ولی عہد سے ملاقات

    ریاض:امریکی صدر جو بائیڈن جمعے کی شام سعودی عرب پہنچ گئے ہیں جہاں انہوں نے جدہ میں السلام شاہی محل میں سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز سے ملاقات کی ہے۔

    شاہ سلمان اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے براہ راست ملاقات کے بعد امریکی صدر کل ہفتے کے روز جدہ میں خلیجی ممالک کی قیادت، عراق، اردن اور مصر کے رہ نماؤں پر مشتمل’خلیجی پلس 3‘ سربراہ کانفرنس سے خطاب کریں گے۔

    دوسری طرف امریکی حکام نے کہا ہے کہ وہ سعودی عرب اور دیگر خلیجی رہ نماؤں کے ساتھ توانائی کے تحفظ سمیت متعدد امور پر بات چیت کریں گے۔

    سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی دعوت پر امریکی صدر کا طیارہ اسرائیل سے براہ راست جدہ کے شاہ عبدالعزیز ایئرپورٹ پر اترا جہاں مکہ کے گورنر شہزادہ خالد الفیصل اور امریکا میں مملکت کی سفیر شہزادی ریما بنت بندر بن سلطان سمیت دیگر اعلیٰ حکام نے استقبال کیا۔

    وائٹ ہاؤس کے مطابق صدربائیڈن سعودی قیادت سے یمن کے بحران، ایران کے جوہری پروگرام اور توانائی کی قیمتوں کے معاملے پر بات کریں گے۔

    امریکی صدر کا طیارہ کچھ دیر قبل سرکاری دورے پر تل ابیب سے مغربی سعودی عرب کے شہر جدہ کے لیے روانہ ہوا جہاں وہ سعودی فرمانروا اور ولی عہد محمد بن سلمان سے بات چیت کریں گے۔

    سعودی عرب ۔ امریکا مذاکرات میں دونوں ممالک کے درمیان تعاون کے پہلوؤں پر بات کی جائے گی اور خطے اور دنیا کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

    سعودی عرب کے دورے کے دوسرے روز صدر بائیڈن جدہ میں علاقائی کانفرنس میں شرکت کریں گے جہاں وہ مصر، اردن اور عراق سمیت خلیجی ممالک کی قیادت سے موجودہ حالات کے تناظر میں علاقائی اور بین الاقوامی پیش رفت،خطے کے شراکت داروں کے ساتھ تعاون اور مسلسل ہم آہنگی کی کوششوں کی حمایت کو فروغ دینے پر بات کریں گے۔

    وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ صدر بائیڈن سعودی ولی عہد سے دو طرفہ اجلاس میں ملاقات کریں گے۔ مملکت میں صدر بائیڈن کی بات چیت میں دونوں ممالک کے درمیان تعاون کے پہلوؤں پر بات کی جائے گی اور خطے اور دنیا کو درپیش چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

    اس تناظر میں صدر بائیڈن نے کل جمعرات کو کہا تھا کہ ان کے سعودی عرب کے دورے کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان مشترکہ تعلقات کو مضبوط بنانا ہے۔

    مشرق وسطیٰ کے دورے پر آئے امریکی صدر نے مزید کہا کہ ان کے مملکت کے دورے کی وجہ امریکی مفادات سے بڑھ کر ہے۔ یہ دورہ خطے سے انخلاء کر کے سابقہ غلطیوں کو درست کرنے کا ایک موقع ہے۔

    قابل ذکر ہے کہ سعودی عرب اور امریکا خطے اور دنیا کی سلامتی اور استحکام کے لیے ایران کے غیر مستحکم رویے کا مقابلہ کرنے اور تہران کی حمایت یافتہ ملیشیاؤں کے خطرے کو بے اثر کرنے کی اہمیت پر متفق ہیں۔ امریکا نے یمن میں ایک جامع سیاسی حل تلاش کرنے کے لیے سعودی عرب کی کوششوں کی بھی حمایت کی اور ان کوششوں کو یمن کی سلامتی اور استحکام کے حصول کی ضمانت قرار دیا ہے۔

    انتہا پسندی اور دہشت گردی کے خلاف جنگ سعودی عرب اور امریکا کے درمیان سٹریٹجک پارٹنرشپ کے اہم ترین پہلوؤں میں سے ایک ہے اور اس میدان میں دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعاون نے انتہا پسند تنظیموں کے خلاف کھڑے ہونے اور ان کے خطرے کو بے اثر کرنے میں کئی اہم کامیابیاں حاصل کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

  • الیکشن کمیشن اور پنجاب حکومت کیخلاف عدالت جاؤں گا:علی امین گنڈاپور

    الیکشن کمیشن اور پنجاب حکومت کیخلاف عدالت جاؤں گا:علی امین گنڈاپور

    لاہور:جیسے جیسے انتخابات قریب آرہے ہیں تلخیاں بھی بڑھتی جارہی ہیں اور مخالفین نے ایک دوسرے کے خلاف الزام تراشیوں کا بازار بھی گرم کررکھا ہے ، اس حوالے سے کچھ زیادہ تلخی اس وقت سامنے آئی جب پنجاب کے وزیرداخلہ عطااللہ تارڈ نے یہ خبر وائرل کی کہ پاکستان تحریک انصاف کے رہنماوں کے پنجاب داخلے پرپابندی لگا دی ہے ،

    عطااللہ تارڑ کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے تحریک انصاف کے رہنما علی امین گنڈاپور نے پنجاب میں داخلےپرپابندی عائد کیےجانےپر قانونی راستہ اختیار کرنے کا اعلان کرتے ہوئےکہا ہے کہ الیکشن کمیشن اور پنجاب حکومت کیخلاف عدالت جاؤں گا۔

    اس حوالے سے اپنا ردعمل دیتے ہوئے علی امین گنڈاپور نے کہا کہ امپورٹڈ حکومت نے پہلےجعلی ایف آئی آرز کاٹیں ان لوگوں نے پھر ہمارےکارکنوں کو بےبنیاد گرفتار کیا ان لوگوں کو اپنی شکست نظرآرہی ہے اس لیےایسی حرکتیں کررہےہیں۔

    پنجاب حکومت کے اس اعلان کے ساتھ ہی علی امین گنڈاپور نے کہا کہ الیکشن کمیشن اور پنجاب حکومت کیخلاف عدالت جاؤں گا الیکشن کمیشن کیسےکہہ سکتا ہےکہ میں پنجاب میں کچھ کرنے لگا تھا پنجاب حکومت کیسےکہہ سکتی ہےکہ میں پنجاب میں کچھ کروں گا۔

    پنجاب میں داخلے پر پابندی کے خلاف اپنا نقطہ اعتراض دیتے ہوئے علی امین گنڈاپور کا کہنا تھا کہ پاکستان کاشہری ہوں مجھےپنجاب میں جانےسےکیسے روکا جاسکتا ہے سابق وفاقی وزیر ہوں میرے کو پنجاب جانے سے کیسے روکا جا سکتاہے یہ لوگ سری لنکاجیسےحالات پاکستان میں چاہتےہیں۔

    علی امین گنڈا پور نے پنجاب میں کشمیری رہنما کے داخلے پرپابندی پر بھی سخت ردعمل دیا ،علی امین گنڈاپور نے کہا کہ مقبول گجر کشمیری ہیں ان پر کیسے پنجاب میں جانےپرپابندی لگائی گئی؟ مقبول گجر جیسے کشمیری پر پابندی لگا کر کیا پیغام دیا جا رہا ہے۔

    یاد رہے کہ اس سے پہلے صوبائی حکومت پنجاب نے پی ٹی آئی رہنما علی امین گنڈاپور اور مقبول گجر کے پنجاب میں داخلے پر پابندی لگانے کا اعلان کیا تھا ،، وزیر داخلہ پنجاب عطا تارڑ نے کہا ہے کہ امن وامان کو یقینی بنانےکیلئے علی امین گنڈاپور اور مقبول گجر پر پنجاب میں پابندی لگا دی گئی ہے۔

    تفصیلات کے مطابق ضمنی الیکشن کےدوران سیکیورٹی صورتحال سے متعلق اجلاس ہوا جس کی صدارت وزیرداخلہ پنجاب عطاتارڑ نے کی۔وزیرداخلہ نے کہا کہ اسلحہ رکھنا اور نمائش پر دفعہ 144 کا نفاذ عمل میں لایا جا چکا ہے الیکشن کے دوران کسی کو اسلحہ رکھنےکی اجازت نہیں ہوگی اسلحےسےپاک مہم میں پولیس نےبھاری مقدار میں اسلحہ برآمد کیا۔

    عطاتارڑ نے کہا کہ دھاندلی کا الزام لگانے والے اب افسران کودھمکیاں دینے پر آگئے ہیں تحریک انصاف یقینی شکست دیکھ کرلوگوں کوبدامنی پراکسارہی ہے امن وامان کویقینی بنانےکیلئے مقبول گجر بھی پابندی لگائی گئی ہے اطلاعات تھیں علی گنڈاپور، مقبول گجر پرُتشدد کاروائیاں کرنا چاہتے ہیں۔4 روزہ پابندی کے حوالے سے ایڈیشنل چیف سیکرٹری ہوم نے نوٹیفکیشن جاری کیا

  • 17 جولائی کا الیکشن نہیں جہاد ہے،عمران خان

    17 جولائی کا الیکشن نہیں جہاد ہے،عمران خان

    تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے پی پی 168دائم مارکی آشیانہ روڈ پر جلسے سے خطاب کرتے ھوئے کہاکہ جذبہ اور جنوں دونوں پی پی 168 میں نظرآرہی ہے۔ نواز اعوان اور ان کی ٹیم کو مبارک دیتا ہوں۔ آخری سروے کے مطابق آپ اس حلقے میں لوٹوں سے آگے نکل گئے ہیں ۔ پہلے 130 روپے ڈیزل بڑھایا پھر 35 روپے کم کی۔ بڑی دھاندلی کی کوشش کی جا رہی ہے

    الیکشن کمیشن نے ہائی کورٹ میں کہا 40 لاکھ لوگ مردہ ہو گئے۔ انہی اسی بار پر استعفی دے دینا چاہیے
    نوجوان ایک ایک پولنگ سٹیشن کا پہرہ دیں گے۔شرم کی بات ہے اس ملک میں الیکشن ایمانداری سے نہیں کروا سکتے۔ سینیٹ کے الیکشن میں یوسف رضا گیلانی کا بیٹا رشوت دیتا پکڑا گیا مگر کچھ نہیں کیا گیا۔22کروڑ کی قوم ہے با شعور قوم ہے۔ گھر گھر جا کر اس کو 17 تاریخ کو شکت دیں گے اور حمزہ کو گھر بھیجیں گے۔ کرپشن سے قومیں تباہ ہو جاتی ہیں۔ کرپشن کی وجہ سے سری لنکا کا دیوالیہ نکل گیا ہے۔حمزہ نے کہا چوری ہوتی ہے تو ہونے دو۔ چوری اور کرپشن میں پھر کیا فرق ہے۔ مریم نے کہا میری لندن تو کیا پاکستان میں بھی کوئی پراپرٹی نہیں ۔اس نے جب یہ کہا تو اسے نہیں پتا تھا کہ سچ سامنے أ جائے گا۔جب پاناما کا انکشاف ہوا تو پتا چلا کہ مریم کے بھائی نے اسے مان لیا۔ سی سی پی او لاہور اور ڈی آئی جی آپریشنز آپ دونوں میری نظر پر ہو ۔آپ نے بہت ظلم کیا آپ کو ہم کٹگہرے میں لائیں گے۔ جذبہ اور جنون دونوں مجھے پی ہی 168 میں نظر آرہا ہے۔ تازہ سروے کے مطابق نواز اعوان کی جیت ہو گی۔

    چیف الیکشن کمشنر کو مستعفی ہونا چاہیے۔الیکشن کمیشن نے تسلیم کیا ہے کہ 40 لاکھ ووٹرز کو ماردیا ہے۔ہم 22 کروڑ کی قوم ہیں بھیڑ بکریاں نہیں۔ وزیر اعظم کا بیٹا مفرور۔وزیراعلی انڈر ٹرائیل 4 گواہ مرچکے ہیں.حمزہ شہباز پر 16 ارب روپے کی کرپشن میں ملوث ہے۔ مریم نواز سزایافتہ ہیں۔ انہوں نے کارکنوں کو کہا کہ جلدی پولنگ اسٹیشن پہنچنا ہے ۔پرسوں کا الیکشن نہیں جہاد ہے۔

    نواز اعوان نے پی پی 168 کا خوف توڑا ہے۔ دھاندلی کے باوجود ن لیگ کو شکست دیں گے۔ لاہور کے سی سی پی او اور آئی جی تم دونوں میری نظر میں ہو۔ 17 جولائی کو فتح کا جشن منائیں گے۔ حمزہ شہباز جائے گا تو ہم 17 جولائی کے بعد قانون کے کٹہرے میں لائیں گے.

    ڈاکٹر یاسمین راشد نے جلسے سے خطاب کرتے ھوئے کہاکہ مریم نواز کا پورا خاندان چور ہے۔ لوٹے منہ کے بل گریں گے ۔نوجوان عمران خان کے ساتھ ہیں۔ قوم کو امریکا کی غلامی قبول نیہں۔ عوام لوٹوں کو مسترد کریں گے۔ امریکہ نواز حکمران عوام کے سامنے بے نقاب ہو چکے ہے۔ن لیگ سب کو ساتھ ملا لے پھر بھی عوام ان کو شکست دیں گے۔ ضمنی انتخابات میں پی ٹی ائی کامیاب ہوگی۔

    آشیانہ روڈ پر منعقدہ جلسے سے عندلیب عباس نے خطاب کرتے ھوئے کہاکہ 17 جولائی کو عوام اپنے ووٹ کی طاقت سے لوٹوں کو پھینٹا لگائیں گے۔ تمام سروے میں پی ٹی آئی سب سے آگے ہے پی ٹی آئی کی مقبولیت آسمان کو چھو رہی ہے۔ پی ٹی آئی جہاد کر رہی ہے ۔ الیکشن ڈے پر پی ٹی آئی کے کارکنان چوکنا رہیں گے۔

  • ڈپٹی سپیکر رولنگ کیس:عمران خان اور پی ٹی آئی قیادت کیخلاف آرٹیکل 6 کی کارروائی کا آغاز

    ڈپٹی سپیکر رولنگ کیس:عمران خان اور پی ٹی آئی قیادت کیخلاف آرٹیکل 6 کی کارروائی کا آغاز

    اسلام آباد: ڈپٹی سپیکر رولنگ کیس میں عمران خان سمیت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) قیادت کے خلاف آرٹیکل 6 کے تحت کارروائی کا آغاز ہوگیا، وفاقی کابینہ نے تجاو یز کی تیاری کیلئے خصوصی کمیٹی تشکیل دے دی۔

    آرٹیکل 63 اے کی تشریح ،سپریم کورٹ نے بڑا فیصلہ سنا دیا

    وزیراعظم کے زیر صدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس کا انعقاد کیا گیا، وفاقی کابینہ نے ڈپٹی سپیکر کی رولنگ پر سپریم کورٹ کے فیصلے کو تاریخی قرار دے دیا اور کہا ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے سے آئین کا تحفظ یقینی ہوا۔

    وفاقی کابینہ کے اجلاس میں ملکی سیاسی صورتحال پر غور کیا گیا، کابینہ ارکان نے آئی ایم ایف کے ساتھ کامیاب مذاکرات پر مبارک باد دی تو وزیراعظم شہباز شریف نے ان سے کہا کہ اللہ کرے آئی ایم ایف کے ساتھ یہ آخری معاہدہ ہو، وفاقی کابینہ نے ای سی سی کے فیصلوں کی بھی توثیق کی۔

    اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ سابق حکومت کی بچھائی بارودی سرنگوں کو ناکارہ بنا رہے ہیں، مسائل حل ہونے سے عوام کو ریلیف ملے گا۔

    اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے کہا کہ کابینہ نے تحریک عدم اعتماد سے متعلق سپریم کورٹ کے از خود نوٹس کیس کے تفصیلی فیصلے میں اٹھائے گئے نکات پر عمل درآمد، آرٹیکل 6 کی کارروائی سمیت مستقبل کے اقدامات کے بارے میں تجاویز کی تیاری کے لئے کابینہ کی خصوصی کمیٹی تشکیل دے دی ہے، وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کمیٹی کے سربراہ ہونگے، اتحادی جماعتوں کو بھی نمائندگی دی جائے گی۔

    انہوں نے کہا کہ کابینہ نے سپریم کورٹ کے فیصلے پر اہم قرارداد منظور کی، سپریم کورٹ کے فیصلے سے ثابت ہو گیا ہے کہ سابق حکومت نے آئین شکنی کی، فیصلے کی روشنی میں کابینہ کی خصوصی کمیٹی اپنی سفارشات مرتب کر کے کابینہ کے آئندہ اجلاس میں پیش کرے گی، کابینہ نے عالمی منڈی میں گندم کی گرتی ہوئی قیمت کے مطابق تین ملین ٹن گندم درآمد کرنے کی منظوری دی، بندرگاہوں پر لگژری آئٹمز کی درآمد پر پابندی لگانے کے دو ہفتوں میں آنے والی لگژری اشیاء پر پانچ فیصد اور اس کے بعد آنے والی اشیاء پر 15 فیصد ڈیوٹی عائد ہوگی۔

     

  • حکومت پنجاب نے پی ٹی آئی رہنماؤں کے پنجاب میں داخلے پر پابندی لگادی

    حکومت پنجاب نے پی ٹی آئی رہنماؤں کے پنجاب میں داخلے پر پابندی لگادی

    لاہور: صوبائی حکومت پنجاب نے پی ٹی آئی رہنما علی امین گنڈاپور اور مقبول گجر کے پنجاب میں داخلے پر پابندی لگا دی،اطلاعات کے مطابق وزیر داخلہ پنجاب عطا تارڑ نے کہا ہے کہ امن وامان کو یقینی بنانےکیلئے علی امین گنڈاپور اور مقبول گجر پر پنجاب میں پابندی لگا دی گئی ہے۔

    تفصیلات کے مطابق ضمنی الیکشن کےدوران سیکیورٹی صورتحال سے متعلق اجلاس ہوا جس کی صدارت وزیرداخلہ پنجاب عطاتارڑ نے کی۔وزیرداخلہ نے کہا کہ اسلحہ رکھنا اور نمائش پر دفعہ 144 کا نفاذ عمل میں لایا جا چکا ہے الیکشن کے دوران کسی کو اسلحہ رکھنےکی اجازت نہیں ہوگی اسلحےسےپاک مہم میں پولیس نےبھاری مقدار میں اسلحہ برآمد کیا۔

    عطاتارڑ نے کہا کہ دھاندلی کا الزام لگانے والے اب افسران کودھمکیاں دینے پر آگئے ہیں تحریک انصاف یقینی شکست دیکھ کرلوگوں کوبدامنی پراکسارہی ہے امن وامان کویقینی بنانےکیلئے مقبول گجر بھی پابندی لگائی گئی ہے اطلاعات تھیں علی گنڈاپور، مقبول گجر پرُتشدد کاروائیاں کرنا چاہتے ہیں۔4 روزہ پابندی کے حوالے سے ایڈیشنل چیف سیکرٹری ہوم نے نوٹیفکیشن جاری کیا ،دونوں شخصیات کے حوالے سے الیکشن کمیشن نے خدشات کا اظہار کیا تھا کہ یہ لاہور اور دیگر حلقوں میں پولنگ سٹاف اور دیگر لوگوں کو ہراساں کر سکتے ہیں،

    ان کا کہنا تھا کہ پنجاب میں پرامن، صاف اور شفاف انتخابات کو یقینی بنایاجائےگا اسلحےکےخلاف مکمل کریک ڈاؤن کیا جائےگا بدامنی پھیلانے والے عناصر سے قانون آہنی ہاتھوں سے نمٹے گا تحریک انصاف کے مسلح جتھے اپنی سازش میں ناکام ہوں گے۔

  • چین سری لنکا کی اقتصادی اور سماجی ترقی میں مدد جاری رکھے ہوئے ہے

    چین سری لنکا کی اقتصادی اور سماجی ترقی میں مدد جاری رکھے ہوئے ہے

    بیجنگ:چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان وانگ وین بین نے یومیہ نیوز بریفنگ کے دوران سری لنکا کے حوالے سے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ایک دوست پڑوسی کے طور پر، چین نے ہمیشہ سری لنکا کو درپیش مشکلات اور چیلنجوں پر توجہ دی ہے اور سری لنکا کی اقتصادی اور سماجی ترقی میں اپنی صلاحیت کے مطابق مدد فراہم کر رہا ہے۔ حال ہی میں چین نے سری لنکا کو 500 ملین یوان کی ہنگامی انسان دوست امداد فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اور چودہ تاریخ کو چین کی جانب سے فراہم کی جانے والی ہنگامی انسانی امداد کی دوسری کھیپ سری لنکا کے حوالے کر دی گئی۔

    جمعہ کے روز چینی میڈ یا کے مطا بق وانگ وین بین نے واضح کیا کہ چینی مالیاتی ادار ے سری لنکا کے ساتھ مشاورت سے قرضوں کے مناسب انتظام کے خواہاں ہیں تاکہ سر ی لنکا کو موجودہ مشکلات سے نمٹنے میں مدد فراہم کی جا سکے۔

    چین کی ریاستی کونسل کےدفترِاطلاعات کی پریس کانفرنس میں قومی شماریات بیوروکےترجمان اور محکمہِ قومی اقتصادی شماریات کےڈائریکٹر فولینگ ہوئی نے2022 کی پہلی ششماہی میں قومی معیشت کےعمل سے متعارف کروایا ہے۔

    جمعہ کےروزچینی میڈ یا نےبتایاکہ ابتدائی اعدادوشمارکےمطابق، سال کی پہلی ششماہی میں جی ڈی پی 562کھرب 64ارب 20 کروڑ چینی یوآن تھی، مستقل قیمتوں کےمطابق اس میں سال بہ سال 2.5 فیصد اضافہ ہواہے۔ سال کی پہلی ششماہی میں، قومی سی پی آئی میں سال بہ سال 1.7 فیصد اضافہ ہوا۔ ملک بھر میں صنعتی پروڈیوسرز کی ایکس فیکٹری پرائس میں سال بہ سال 7.7 فیصد اضافہ ہوا۔

    چین کی وزارت برائے انسانی وسائل و سماجی تحفظ کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، رواں سال کے آغاز سے ہی شدید مشکل بین الاقوامی صورتِ حال اور چین میں وبا کے اثرات کے پیش نظر، مختلف علاقوں اور محکموں نےسی پی سی کی مرکزی کمیٹی اور ریاستی کونسل کے فیصلوں اور انتظامات پر سختی سے عمل درآمد کیا، روزگار کے امور کو مستحکم اور یقینی بنانے کی ہر ممکن کوشش کی جس سے روزگار کی صورتحال عمومی طور پر مستحکم رہی۔

    اس حوالے سے کہا گیا ہے کہ جنوری سے جون تک، ملک بھر کے شہروں اور قصبوں میں پینسٹھ لاکھ چالیس ہزار نئی ملازمتیں پیدا ہوئیں، جس سے 59فی صد سالانہ اہداف اور کام مکمل ہوئے ، جو طے شدہ منصوبہ بندی کے مطابق ہے ۔

    جمعہ کے روز چینی میڈ یا کے مطا بق ملازمتوں کے زبردست دباؤ کے باوجود، طلب اور رسد کے نقطہ نظر سے، چینی منڈی میں ملازمتوں کی مانگ ہمیشہ ملازمت کی تلاش کرنے والوں کی تعداد سے زیادہ ہوتی ہے۔

    وزارتِ انسانی وسائل وسماجی تحفظ کا کہنا ہے کہ معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے پالیسیز اور اقدامات کے پیکج پر تیزی سے عمل درآمد، انسداد وبا اور اقتصادی وسماجی ترقی کے لیے موثر ہم آہنگی نیز تمام فرقوں کی جانب سے ملازمتوں کی فراہمی پر توجہ مرکوز کرنے کی بھرپور کوششوں کے باعث ، روزگار کی صورتحال میں بہتری متوقع ہے۔