Baaghi TV

Author: +9251

  • لاہور سے ڈرامہ  کراچی منتقل ہوجانا  تشویشناک  ہے مدیحہ شاہ

    لاہور سے ڈرامہ کراچی منتقل ہوجانا تشویشناک ہے مدیحہ شاہ

    سٹیج کی معروف اداکارہ مدیحہ شاہ نے حال ہی میں ایک انٹرویو دیا ہے اس میں انہوں نے لاہور سے کراچی ڈرامہ منتقل ہونے پر تشویش کا اظہار کیا ہے. مدیحہ شاہ نے کہا کہ ایک وقت تھا لاہور میں ڈراموں اور فلموں کی سرگرمیاں ہوتی تھیں لیکن اب یہ ساری رونقیں کراچی منتقل ہو گئی ہیں.ہمیں ایک دوسرے سے لڑنے جھگڑنے اور ایک دوسرے پر تنقید کرنے کی بجائے بیٹھ کر یہ سوچنا چاہیے کہ آخر ایسا کیوں ہوا؟ کام سارا کا سارا کراچی منتقل ہو چکا ہے اور جو لوگ آرٹسٹ لاہور رہتے تھے وہ تقریبا کراچی منتقل ہو چکے ہیں جو تھوڑے رہ گئے ہیں وہ بھی وہاں جانے کی تیاریوں‌میں‌ہیں. مدیحہ شاہ نے اس انٹرویو

    میں‌یہ بھی واضح کیا ہے مجھے بالکل بھی اعتراض نہیں کہ کراچی میں ڈرامہ کیوں بن رہا ہے اچھی بات ہے کام ہونا چاہیے اور فنکاروں کو کام ملنا چاہیے پھر وہ چاہے کراچی ہو یا لاہور. لیکن میں صرف اتنا کہہ رہی ہوں کہ ایک دوسرے سے لڑنے کی بجائے یہ سوچیں کہ دوبارہ لاہور کو ڈراموں اور فلموں کا گڑھ کیسے بنایا جا سکتا ہے. مدیحہ شاہ نے یہ بھی کہا کہ ہمیں‌وہ تمام وجوہات پہ غور کرنے کی ضرورت ہے کہ جس کی وجہ سے لاہور ڈرامہ کراچی منتقل ہوا. انہوں نے مزید یہ بھی کہا کہ کام اچھا ہو رہا ہے کوئی شک نہیں لیکن ہمارے ہاں جو پہلے کام ہو رہا تھا ہمیں وہی رونقیں یہاں‌دوبارہ دیکھنی ہیں اس کے لئے ہم سب کو مل بیٹھ کر کوشش کرنی ہو گی.

  • مس مارول پر تنقید کے نشتر

    مس مارول پر تنقید کے نشتر

    ویب سیریز مس مارول میں فواد خان کی اینٹری کے لئے ان کے مداح منتظر تھے مس ماورل کی پانچویں قسط میں فواد خان کی اینٹری ہو گئی ہے اور ان کا کردار تحریک آزادی کے ایک متحرک رکن کے طور پر دکھایا گیا ہے، اگرچہ انہیں مسلمان کردار میں دکھایا گیا ہے، تاہم انہیں تحریک آزادی سے متعلق لوگوں میں شعور بیدار کرتے وقت بانی پاکستان قائد اعظم کی جدوجہد کے بجائے گاندھی کی جدوجہد کی پرچار کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔فواد خان کو قائد اعظم کی جانب سے دیئے گئے دو قومی نظریئے کے بجائے صرف گاندھی کی جانب سے آزادی کے نظریئے کو آگے بڑھاتے ہوئے دکھایا گیا جس پر کئی شائقین نالاں دکھائی دیئے . کہا جا رہا ہے کہ اس میں کیوں دو قومی نظریے کو گاندھی کی طرف آگے

    بڑھاتے ہوئے دکھایا گیا حقیقت اس کے برعکس ہے. دو قومی نظریہ قائداعظم کی طرف سے دیا گیا تھا. ماورل کو جو لوگ بہت زیادہ فالو کررہے ہیں وہ مس ماورل کی حالیہ قسطوں کو لیکر نالاں ہیں اور ہدایتکارہ شرمین عبید چنائے پر تنقید کے نشتر برسائے جا رہے ہیں ان پر طرح طرح‌کے الزامات لگائے جا رہے ہیں. سوشل میڈیا پر کچھ صارفین کا کہنا ہے کہ شرمین بھارتی ایجنڈے کو پرموٹ کررہی ہیں یا اپنے بھارتی پرستاروں کو خوش کررہی ہیں. قیام پاکستان کی تحریک اور دو قومی نظریے کا سہرا قائداعظم کے سر ہے ان کا زکر کم کیوں ہے.یاد رہے کہ مس مارول کو لوگوں کی بڑی تعداد دیکھ رہی ہے اور اس میں‌پاکستانی فنکاروں کی موجودگی کو سراہ بھی رہی ہے.

  • چھتیں گرنے اور مختلف حادثات میں 6 افراد جاں بحق، 14 زخمی

    چھتیں گرنے اور مختلف حادثات میں 6 افراد جاں بحق، 14 زخمی

    خیبر پختون خوا، راولپنڈی، ملتان، لاہور اور کراچی میں مون سون بارشوں نے تباہی مچادی، مختلف حادثات اور چھتیں گرنے کے واقعات میں 6 افراد جاں بحق جبکہ 14 سے زائد زخمی ہوگئے۔

    خیبر پختون خوا کے ضلع صوابی میں مکان کی چھت گرنے سے مفرق خان نامی شخص کی ماں اور بیوی سمیت 3 بچے دب گئے، بیوی اور ایک بیٹی موقع پر جاں بحق جبکہ دو بیٹے اور ماں شدید زخمی ہوگئی۔

    ریسکیو 1122 ٹیموں نے موقع پر پہنچ کر امدادی کارروائیاں شروع کردی ہیں، امدادی سرگرمیوں کے دوران ملبے میں دبے جاں بحق اور زخمیوں کو نکال لیا گیا ہے۔ میڈیکل ٹیم نے زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد فراہم کرنے کے بعد ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر صوابی اسپتال منتقل کر دیا۔

    نجی ٹی وی کے مطابق: زخمیوں میں مفرق خان کی ماں اور دو بیٹے ایان (عمر) 8 سال، صفیان عمر (1) سال شدید زخمی جبکہ مفرق خان کی بیوی اور 6 سالہ بیٹی موقع پر جاں بحق ہوگئے۔

    کراچی کے علاقے کورنگی مہران ٹاؤن میں کرنٹ لگنے سے ایک نوجوان جاں بحق ہوگیا، دکان میں کام کے دوران بجلی کی تار سے کرنٹ لگا جس کے باعث نوجوان موقع پر دم توڑ گیا، جس کی شناخت 25 سالہ عبدالخالق ولد عبدالماجد کے نام سے ہوئی ہے۔

    دوسری جانب بدین میں آسمانی بجلی گرنے سے 2 افراد جاں بحق ہوگئے۔

    راولپنڈی میں جھنگی سیداں کے علاقے میں بارش سے بوسیدہ کمرے کی چھت گرگئی، جس کے ملبے تلے دب کر ایک شخص جاں بحق ہوگیا جبکہ دوسرے کو بچالیا گیا۔

    شجاع آباد میں فوجی گراؤنڈ کے قریب گھر کی بوسیدہ دیوار گرگئی جس کے ملبے تلے دب کر خواتین اور بچوں سمیت 7 افراد شدید زخمی ہوگئے۔ ریسکیو کی امدادی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں ملبے تلے دبے تمام افراد کو نکال لیا گیا جبکہ زخمیوں کو تشویشناک حالت میں سول اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔

    لاہور میں بھاٹی گیٹ میں شیش محل گھاٹی کے قریب کمرے کی چھت گرگئی، جس سے دو افراد ملبے تلے دب گئے، جنہیں فوری امدادی کارروائی کرکے زندہ نکال کر طبی امداد کے لئے میو اسپتال منتقل کردیا گیا۔

    زخمی ہونے والوں میں ایک مرد اور خاتون شامل ہیں، جن کی شناخت 64 سالہ غزالہ اور 30 سالہ عمر کے نام سے ہوئی ہے، زخمیوں کی حالت خطرے سے باہر ہے۔

    بلوچستان کے علاقے ہوشاب میں شدید بارشوں کے بعد برساتی نالے میں طغیانی آنے سے 4 افراد پھنس گئے، جنہیں ہیلی کاپٹر کی مدد سے نکال کر محفوظ مقام پر منتقل کردیا گیا۔

  • پاکستانی صحافت پروفیسر وارث میر جیسوں کی  بہادری کے سبب  زندہ ہے

    پاکستانی صحافت پروفیسر وارث میر جیسوں کی بہادری کے سبب زندہ ہے

    آج صحافت کے عظیم استاد پروفیسر وارث میر کی پینتیس ویں برسی منائی جارہی ہے۔ پروفیسر وارث میر بائیس نومبر 1934 کو پیدا ہوئے اور نو جولائی 1987 کو ان کا 48 سال کی عمر میں انتقال ہوا۔

    وارث میر نے اپنی سیکنڈری اسکول کی تعلیم پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر سیالکوٹ کے مرے کالج میں مکمل کی جبکہ 1964 میں پنجاب یونیورسٹی لاہور سے صحافت اور ابلاغ عامہ میں ماسٹر کی ڈگری حاصل کی اور 1965 میں اسی شعبہ میں بطور لیکچرار جامع میں درس وتدریس سے وابستہ ہوگئے۔

    بعد ازاں وہ پنجاب یونیورسٹی میں شعبہ ابلاغ عامہ کے سربراہ مقرر ہوگئے جہاں کئی سال تک اپنی زمہ داریاں خوب نبھائیں اور ساتھ ہی ساتھ انہوں نے ملک کے نامور اردو اخبارات میں مضامین لکھنا بھی شروع کردیا۔ وہ قومی اور بین الاقوامی مسائل پر زیادہ تر لکھتے تھے تاہم وہ اپنے قارئین میں خاص طور پر جنرل ضیاء الحق کے مارشل لاء کے دوران مقبول ہوئے تھے۔ جب انہوں نے جنرل ضیاء کی آمریت کے خلاف اپنی قلم کے ذریعے آواز حق بلند کیا تھا۔

    آج اگر صحافت پاکستان میں زندہ ہے تو وہ پروفیسر وارث میر جیسے بہادر اور عظیم صحافیوں کی بدولت ہے۔ لیکن کاش کہ کچھ بدنصیبوں کو ایسے سچے اور کھرے صحافیوں کی قدر ہوتی، وہ ان کےحق سچ کی مخالفت کرنے کے بجائے حقیقت پسندی پر خراج عقیدت پیش کرتے۔ 

    اگرچہ ایسے عظیم لوگوں کو اس کی ضرورت نہیں لیکن قومی اسمبلی سمیت باقی تمام صوبائی اسمبلیوں میں بھی وارث میر کی بے پناہ خدمات کے پیش نظر قراردادوں کے ذریعے انہیں خراج تحسین پیش کیا جانا چاہیے۔ 

    پروفیسر وارث میر نے آمرانہ ادوار میں جمہوریت کے لئے جو جدوجہد کی اور اپنی جرات مندانہ تحریروں کے ذریعے جو کلمہ حق بلند کیا۔ اسے ہمیشہ پاکستان کی صحافت کی تاریخ میں زندہ رکھا جائے گا۔

    حبیب جالب اپنی ایک نظم بعنوان ’’وارث میر کے نام‘‘ لکھتے ہیں۔

    حق پرست و صاحب کردار وارث میر تھا

    آمروں سے برسر پیکار وارث میر تھا

    لفظ اس کا تیر تھا باطل کے سینے کے لئے

    اہل حق کا قافلہ سالار وارث میر تھا!

    ظلم سہتا تھا، کہتا نہیں تھا ظلمت کو ضیاء

    آنسوئوں کو پی کے نغمہ بار وارث میر تھا!

    پروفیسر وارث میر کے بیٹے اور سینئر صحافی حامد میر اپنی ایک تحریر میں لکھتے ہیں کہ: "جنرل ضیاء الحق نے 1977میں مارشل لاء لگایا اور صحافت پر پابندیاں لگ گئیں تو پروفیسر وارث میر اعلیٰ تعلیم کے لئے برطانیہ چلے گئے۔ وہ سٹی یونیورسٹی لندن میں دورانِ تعلیم بیمار پڑ گئے۔ 

    ایک اسپتال میں ان کا ہرنیا کا آپریشن ہوا جو بگڑ گیا اور حالت مزید خراب ہو گئی۔ 

    لہذا ڈاکٹروں نے انہیں کہا کہ اپنی وصیت لکھ دیں۔ پروفیسر وارث میر نے ایک مختصر وصیت تحریر کی جو کچھ یوں تھی ’’میں اپنی تمام منقولہ اور غیرمنقولہ جائیداد اپنی اہلیہ ممتاز میر کے نام منتقل کرتا ہوں اور اپنے بچوں کو تاکید کرتا ہوں کہ وہ اسلام اور پاکستان کی جنگ جاری رکھیں‘‘۔

    حامد میر کہتے ہیں کہ: یہ وصیت 1978میں لکھی گئی اور اُس وقت مجھ سمیت اُن کے تمام بچے اسکول میں پڑھتے تھے لیکن وہ اپنے بچوں سے اسلام اور پاکستان کی جنگ جاری رکھنے کی توقع رکھتے تھے۔

    میر کے مطابق: اس وصیت کا اسپتال کے ڈاکٹروں، نرسوں اور مریضوں نے بڑا مذاق اڑایا اور پروفیسر وارث میر کو ’’مسٹر میر! سولجر آف اسلام، اللہ اکبر‘‘ کہا جاتا۔ مذاق کے اس ماحول میں اُنہوں نے خواب میں خانہ کعبہ کی زیارت کی اور کچھ دنوں بعد پروفیسر وارث میر لندن کے اسپتال میں اپنا مضحکہ اڑواتے ہوئے مکہ جا پہنچے اور خانہ کعبہ کی زیارت کی تھی۔

    پروفیسر وارث میر کی تصانیف میں "فلسفہ خوشآمد پاکستان کی سیاست و صحافت، کیا عورت آدھی ہے؟ اور فوج کی سیاست نمایاں کتب ہیں۔ لہذا ہماری آج کل کی اس نوجوان نسل اور بالخصوص صحافت کے طالب علموں کو بجائے اینکروں کے پیچھے پڑنے اور ان کی مداح سرائی کرنے کے پروفیسر وارث میر جیسے بہادر صحافی کی تحاریر کا مطالعہ ضرور کرنا چاہئے۔

  • کورکمانڈرکوئٹہ بلوچستان میں‌ سیلاب اوربارشوں سے متاثرین کی مدد کوپہنچ گئے،پی ڈی ایم اے کا بھی دورہ

    کورکمانڈرکوئٹہ بلوچستان میں‌ سیلاب اوربارشوں سے متاثرین کی مدد کوپہنچ گئے،پی ڈی ایم اے کا بھی دورہ

    کوئٹہ :کورکمانڈرکوئٹہ بلوچستان میں‌ سیلاب کی صورتحال کومسلسل مانیٹرکررہےہیں،پی ڈی ایم اے کا بھی دورہ ،اطلاعات کے مطابق بلوچستان میں‌ طوفانی بارشوں اور سیلابی ریلوں کے نتیجے میں ہونے والی تباہی کا جائزہ لینے کیے لیے کور کمانڈر کوئٹہ لیفٹیننٹ جنرل سرفراز علی نے آج PDMA بلوچستان کا دورہ کیا۔

    ذرائع کے مطابق کور کمانڈر کو صوبے میں سیلاب کی صورتحال اور مختلف اداروں کی جانب سے جاری امدادی سرگرمیوں کے بارے میں تفصیلی آگاہ کیاگیا ۔

    اس موقع پر وزیر داخلہ/پی ڈی ایم اے، چیف سیکرٹری بلوچستان اور ڈی جی پی ڈی ایم اے نے سیلاب سے متاثرہ علاقوں اور آبادی کو زیادہ سے زیادہ اور بروقت ریلیف فراہم کرنے پر سول انتظامیہ کو سیکورٹی فورسز کی مدد کو سراہا۔

    کور کمانڈرجنرل سرفراز علی نےاس موقع پر قیمتی جانوں کے ضیاع پر دکھ کا اظہار کیا اور جاری امدادی کارروائیوں میں صوبائی انتظامیہ اور پی ڈی ایم اے کو سیکیورٹی فورسز کی جانب سے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی۔

    انہوں نے صوبے بھر میں ریلیف آپریشن کرنے والے تمام محکموں کی کوششوں کو بھی سراہا اور حوصلہ افزائی کی۔

     

    یاد رہےپی ڈی ایم اے کی رپورٹ کے مطابق حالیہ بارشوں سے اب تک 60 سے زائد افراد جاں بحق، 78 افراد زخمی، 676مکانات اور 5 برج تباہ ہوئے۔بلوچستان سے ملنے والی اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ اس کے علاوہ 400 سولر پلیٹس، الیکٹرک پول اور زرعی اراضی کو نقصان ہوا جبکہ برساتی نالوں، کاریزات اور آبی گزرگاہوں پر آباد کاری نقصان کی بڑی وجہ ہیں۔

    شہریوں کا کہنا ہے کہ حالیہ بارشوں سے ہونے والے نقصانات اور متاثرین حکومتی امدادی سرگرمیوں سے مطمئن نہیں، اقدامات کے حوالے سے صرف بلند وبانگ اعلانات ہی ہورہے ہیں۔

    کراچی میں 24گھنٹوں میں کہاں کتنےبادل برسے؟تازہ ترین اعدادوشمارجاری

    دوسری جانب شمالی بلوچستان میں طوفانی بارش کا سلسلہ جاری ہے، کوژک ٹاپ اور شیلا باغ میں موسلادھار بارش ہوئی جبکہ کوئٹہ چمن شاہراہ سیلابی ریلے اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث بند ہوگئی اور چمن کا ملک کے دیگر علاقوں سے زمینی رابطہ منقطع ہوگیا۔

    کشمور،گڈو بیراج کے مقام پر پانی کی سطح میں اضافہ

    توبہ اچکزئی میں سیلابی ریلے تین ڈیم بہا لے گئے جبکہ قلعہ عبداللّٰہ کے چار چھوٹے ڈیمز میں بھی شگاف پڑگئے جس کے باعث پانی مکانوں میں داخل ہوگیا اور فصلوں اور باغات کو شدید نقصان پہنچا۔

  • کامیڈی اور رومینس کا حسین امتزاج لندن نہیں‌جائونگا

    کامیڈی اور رومینس کا حسین امتزاج لندن نہیں‌جائونگا

    گزشتہ شب لاہور میں لندن نہیں جائونگا کی سکریننگ ہوئی، فلم کی مرکزی کاسٹ جس میں ہمایوں سعید ، مہوش حیات ، کبری خان بھی موجود تھے ، ہدایتکار ندیم بیگ کے علاوہ سکریننگ میں اداکار فواد خان نے اپنی اہلیہ کے ساتھ خصوصی شرکت کی. اداکارہ صبا قمر اور فرحان سعید بھی اپنے ساتھیوں کی حوصلہ افزائی کے لئے تشرئف لائے. سیدنور نے فلم کی بہت تعریف کی اور خصوصی طور پر خلیل الرحمان قمر کے ڈائیلاگز کو سراہا.سید نور نے کہا کہ جسے فلم کہتے ہیں نا یہ وہ ہے. فلم دیکھ کر نکلنے والے خاصے خوش تھے زیادہ تر کا یہی کہنا تھا کہ فلم بہت اچھی ہے مزاح بھی ہے ایکشن بھی اور

    کامیڈی بھی. فلم میں غیرت کے نام پر قتل جیسے موضوع کو چھیڑا گیا ہے اور پاور فل جملوں کے ساتھ اس کو پیش کیا گیا ہے.اداکار سہیل احمد اور صبا قمر کی جاندار اداکاری نے ان کے کرداروں میں جان بھر دی.فلم میں گوہر خان اور واسع چوہدری کے کردار بہت اچھے ہیں ان دونوں نے ڈائیلاگز تو بولے ہی ہیں لیکن چہرے کے تاثرات ایسے زبردست دئیے ہیں کہ دیکھنے والوں کو بے ساختہ ہنسی آجاتی ہے. یاد رہے کہ عید کے موقع پر ریلیز ہونے والی یہ فلم پنجاب نہیں جائونگی کا ری بوٹ ہے.

  • پرویزالٰہی سےکوئی اختلاف نہیں،نمازعید ساتھ پڑھیں گے:چوہدری شجاعت

    پرویزالٰہی سےکوئی اختلاف نہیں،نمازعید ساتھ پڑھیں گے:چوہدری شجاعت

    اسلام آباد:سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ ق کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین سے صدر آزاد کشمیر بیرسٹر سلطان محمود نے ملاقات کی۔

     

    ملاقات اسلام آباد میں چوہدری شجاعت حسین کے گھر پر ہوئی، بیرسٹر سلطان محمود نے چوہدری شجاعت سے خیریت دریافت کی ، اور ملک کی سیاسی صورتحال پر بھی گفتگو کی گئی۔ملاقات کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے بیرسٹرسلطان محمود کا کہنا تھا کہ چودھری شجاعت دور اندیش آدمی ہیں، کشمیر کے مسائل پر ان سے رہنمائی لیتا ہوں۔

     

     

    بیرسٹر سلطان محمود کا کہنا تھا کہ بھارت کی طرف سے جو اقدامات اٹھائے گئے اس حوالے سے بھی شجاعت حسین سے رہنمائی لیتا ہوں، پاکستان میں جب بھی مشکل حالات آئے انہوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا اور چودھری شجاعت اور ان کے والد کی کشمیر اور پاکستان کے لیے قربانیاں ہیں۔

     

     

    صدر آزاد کشمیر نے کہا کہ کشمیر میں بھارت کی جانب سے جو ظلم وبربریت کی جا رہی ہے، یسین ملک کو عمر قید کی سزا دی گئی، کشمیر کی جغرافیائی طور پر تبدیلی ہو رہی ہے آئے روز وہاں نوجوانوں کا قتل عام کیا جارہا ہے۔

     

     

    ق لیگ کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین کا کہنا تھا کہ میرا سلطان محمود سے پرانا تعلق ہے، کشمیر کے لیے سب کو مل کر کام کرنا ہو گا، اس وقت ہماری سیاست میں عجیب صورت حال ہے، آئے روز ویڈیو چلائی جاتی ہیں، بیرون ملک دنیا ہماری سیاست کو کیسے دیکھتی ہے۔

    شریف فمیلی کی چوہدریوں کے خلاف سازشیں دم توڑنے لگیں:چیھنہ گروپ کی حمایت:پرویزالٰہی…

    چوہدری شجاعت کا کہنا تھا کہ ق لیگ میں کوئی اختلاف نہیں ہے، کیا میں نے اور پرویز الٰہی نے کبھی ایک دوسرے کے خلاف کوئی بیان دیا ہے۔سربراہ ق لیگ نے کہا کہ میرے اور پرویز الہیٰ کے درمیان اختلافات نہیں ہیں، ان سے روز ملاقات ہوتی ہے، عید کی نماز بھی مل کر پڑھیں گے۔

    چوہدری پرویزالٰہی حمزہ شہباز کوبیٹاجبکہ حمزہ شہبازچوہدری پرویزالٰہی کوپرویزالٰہی…

    چوہدری شجاعت نے کہا کہ ہاں نظریاتی اختلافات ہوتے رہتے ہیں، باپ بیٹے میں بھی نظریاتی اختلاف ہو سکتا ہے، لیکن سیاسی مخالفت کو ذاتی مخالفت میں نہیں بدلنا چائیے، نئی نسل کے خیالات کا احترام کرنا چائیے۔

    چودھری پرویزالٰہی سے اسد عمر کی ملاقات،ضمنی انتخابات میں حکومت کی مداخلت پر تشویش

  • صبا قمراور ہمایوں سعید میرے پسندیدہ فنکار ہیں عطااللہ تارڑ

    صبا قمراور ہمایوں سعید میرے پسندیدہ فنکار ہیں عطااللہ تارڑ

    مسلم لیگ ن کے رہنما عطا اللہ تارڑ‌ جنہوں نے گزشتہ روز لاہور میں لندن نہیں جائونگا اپنی فیملی کے ساتھ دیکھی ان کا کہنا ہے کہ ہمایوں سعید کا میں بہت بڑا مداح ہوں بہت اچھی اداکاری کرتے ہیں انہی کو دیکھنےکےلئے فلم دیکھنے آیا ہوں.میری فیملی بھی اس فلم کے تمام فنکاروں کو پسند کرتی ہے اسلئے ہم سب یہ فلم دیکھنے کےلئے آئے ہیں. عطااللہ تارڑ نے کہا کہ اس فلم سے پہلے میں نے فلم کملی دیکھی وہ بھی مجھے بہت پسند آئی تھی صبا قمر کی اداکاری کے کیا کہنے .ویسے تو پاکستان میں بہت ساری باصلاحیت اداکارائیں لیکن صبا قمر کی اداکاری کی کیا ہی بات ہے وہ میری پسندیدہ فنکارہ ہیں.

    ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہلکی پھلکی اینٹرٹینمنٹ انسان کو ریلیکس رکھتی ہے اس لئے ضروری ہے کہ کبھی کبھار اپنی مصروفیت سے وقت نکال کر سینما کا رخ کیاجائے. مجھے جتنا وقت ملے اس حساب سے فلمیں ڈرامے دیکھ لیتا ہوں.خوشی یہ ہے کہ اس وقت بہت اچھا کام ہو رہا ہے خصوصی طور پر سوشل ایشوز کو ہائی لائٹ کیا جا رہا ہے .لندن نہیں جائونگا میں آنر کلنگ کو ہائی لائٹ کیا گیا ہے اور ساتھ ہی ساتھ بہت سارے سوالات اٹھائے گئے ہیں جن پر یقینا ہمیں سوچنے کی ضرورت ہے.کملی فلم کا میسج بھی بہت اچھا ہے اگر ہم اسے سمجنھے کی کوشش کریں تو

  • پاکستانی سفیر مسعود خان کی امریکی صدر سے ملاقات، اہم امور پر تبادلہ خیال

    پاکستانی سفیر مسعود خان کی امریکی صدر سے ملاقات، اہم امور پر تبادلہ خیال

    واشنگٹن:امریکا میں پاکستانی سفیر مسعود خان کی امریکی صدر سے ملاقات ہوئی جس میں دوطرفہ تعلقات کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا۔

     

     

    واشنگٹن سے میڈیا ذرائع کے مطابق دونوں رہنماؤں کے درمیان ملاقات اوول آفس وائٹ ہاؤس میں ہوئی، اس موقع پر مسعود خان اور صدر جوبائیڈن نے دونوں ممالک کے سفارتی تعلقات کی 75 ویں سالگرہ پر تعلقات مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔

     

     

    ملاقات کے دوران پاکستانی سفیر مسعود خان کا کہنا تھا کہ صدر جوبائیڈن سے ملنا اعزاز کی بات ہے، صدر جوبائیڈن سے ملاقات خوشگوار ماحول میں ہوئی ہے۔

     

     

    یاد رہے کہ اس سے پہلے امریکہ میں تعینات پاکستان کے سفیر مسعود خان نے امریکی صدر جو بائیڈن کی سرکاری رہائش گاہ وائٹ ہاؤس کا دورہ کیا اور ان سے ملاقات کرچکے ہیں‌

     

     

    واشنگٹن میں پاکستانی سفارتخانے کی جانب سے ٹویٹس میں کہا گیا ہے تھا کہ مسعود خان نے صدر جو بائیڈن سے ملاقات اور ان کے ساتھ تصویر بنوانے کے لیے وائٹ ہاؤس کا دورہ کیا جو کہ واشنگٹن میں ایک روایت ہے۔

     

     

    پاکستان سفارتخانے کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ’سفیر مسعود خان 25 مارچ 2022 کو واشنگٹن ڈی سی آئے تھے۔ اس دن ان کی سفارتی اسناد امریکہ کے چیف آف پروٹوکول نے موصول کی تھیں اور وہ باقاعدہ طور پر سفیر تعینات ہوگئے تھے۔‘

     

     

    یاد رہے کہ پچھلے ہفتے 2 جولائی کوامریکہ میں متعین پاکستانی سفیر مسعود خان نے گورنر ٹیکساس گریگ ایبٹ سے ان کے دفتر واقع آسٹن میں ملاقات کی تھی جس میں پاکستان اور ریاست ٹیکساس کے درمیان مربوط اقتصادی تعلقات اورباہمی سرمایہ کاری سمیت دیگر اہم امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

     

     

    گورنر ٹیکساس نے پاکستانی سفیر کا والہانہ خیر مقدم کیا۔ملاقات میں پاک امریکہ تعلقات کے استحکام کیلے ممتاز پاکستانی امریکی رہنما جاوید انور کی گراں قدر کاوشوں کو گورنر ٹیکساس نے شاندار الفاظ میں سراہا جبکہ دو شہروں کے کارپوریٹ لیڈرز کے درمیان باہمی رابطوں میں کلیدی کردار ادا کرنے پر مسعود خان نے ہیوسٹن کراچی سسٹر سٹی ایسوسی ایشن کو خراج تحسین پیش کیا۔ ریاست ٹیکساس کے چار روزہ دورے پر آئے ہوے پاکستانی سفیر نےباہمی تجارت اور سرمایہ کاری کے فروغ کیلے گورنر ٹیکساس کو پاکستان کے دورے کی بھی دعوت دی جو انہوں نے قبول کرلی۔

     

     

    مسعود خان کا اس موقع پر کہنا تھا کہ ٹیکساس میں رہنے والے ڈیڑھ لاکھ سے زائد پاکستانی امریکن دونوں ملکوں کیلے ایک پل کی مانند اور گراں قدر اثاثہ ہیں۔ ملاقات کے دوران پاکستانی سفیر نے پاکستان اور ریاست ٹیکساس کے درمیان مربوط اقتصادی تعلقات اورباہمی سرمایہ کاری سمیت دیگر اہم شعبوں بشمول زراعت، پیٹرولیم ،لائیو اسٹاک ،گرین انرجی،ماحولیات ،انفارمیشن ٹیکنالوجی اور دیگر پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔

     

  • سینیٹ قائمہ کمیٹیوں کی کارروائی بھی لائیو دکھائی جائے رضا ربانی کا وزیر اعظم کو خط

    سینیٹ قائمہ کمیٹیوں کی کارروائی بھی لائیو دکھائی جائے رضا ربانی کا وزیر اعظم کو خط

    چیئرمین قائمہ کمیٹی بین الصوبائی رابطہ سینیٹر میاں رضا ربانی نے وزیراعظم سے سینیٹ قائمہ کمیٹیوں کی کارروائی بھی براہ راست دکھانے کی درخواست کردی۔

    پیپلزپارٹی کے رہنما اور چیئرمین قائمہ کمیٹی بین الصوبائی رابطہ سینیٹر میاں رضا ربانی نے وزیراعظم شہباز شریف کو خط لکھا۔

    رضا ربانی نے خط میں لکھا کہ قائمہ کمیٹیوں کی براہ راست کوریج کے لیے آپ کا اسپیکر قومی اسمبلی کو خط خوش آئند ہے لیکن یہ پریشان کن ہے کہ اس کوریج کے لیے سینیٹ کو شامل نہیں کیا گیا۔

    رضا ربانی نے کہا کہ سینیٹ اور قائمہ کمیٹیوں کی کارروائی وفاق کے مسائل کو اجاگر کرتی ہے لہٰذا تجویز کرتا ہوں کہ چیئرمین سینیٹ سے مشاورت سے سینیٹ کی قائمہ کمیٹیوں کی بھی لائیو کوریج کی جائے، ایسے اقدامات سے پارلیمنٹ کا وقار اور مؤثر ہونے میں اضافہ ہوگا۔