Baaghi TV

Author: +9251

  • کریمنل جسٹس سسٹم میں ریفامز کی ضرورت ہے، اعظم نذیر تارڑ

    کریمنل جسٹس سسٹم میں ریفامز کی ضرورت ہے، اعظم نذیر تارڑ

    وفاقی وزیر قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ کریمنل جسٹس سسٹم میں ریفامز کی ضرورت ہے، حکومت تمام سہولیات دے گی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جسٹس ریفارمز پراجیکٹ سے متعلق تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
    قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی استحقاق نےعمران خان اور شیخ رشید کوطلب کرلیا

    چیف جسٹس ہائیکورٹ جسٹس اطہر من اﷲ نے بھی تقریب سے خطاب کیا۔ اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ میں چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ کو مبارکباد پیش کرتا ہوں کہ درست قدم اٹھایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ علامہ اقبال نے فرمایا کہ عمارتیں بنانے سے تو نظام آگے نہیں بڑھتا کام کرنے سے خرابیاں دور ہوتی ہیں جب تک سوچ کو حقائق میں نہیں ڈھالتے تب تک خرابیاں بھی ٹھیک نہیں ہوتیں ۔

     

    شیریں مزاری کی گرفتاری،کمیشن نے 14 جولائی کو آئی جی اسلام آبادکو طلب کر لیا

     

    انہوں نے کہا کہ پورا سسٹم سائلین کو سہولت فراہم کرنے کے لئے ہےہمارآئین دنیا کے بہترین آئینوں میں سے ہے، کاش ہم اس پر عملی طور پر عمل کرتے۔وزیر قانون نے کہا کہ ریاست ایک خاندان ہے ہم سب اس کا حصہ ہیں، اب زمانہ بدل گیا جدت آ چکی ہے، سائلین کا بھی حق ہے ان کو بھی سہولت فراہم کی جائے، یہ موضوع میرے دل کے بہت قریب ہے، کریمنل جسٹس سسٹم میں ریفامز کی ضرورت ہے۔

    عمران خان کے خلاف غداری کا مقدمی درج کیا جائے،عائشہ گلالئی تھانہ پہنچ گئی

     

     

    انہوں نے کہا کہ بار کے دوستو کو کہوں گا اس پراجیکٹ کو مثبت طریقے سے دیکھیں، جو بند دروازے ہیں انہیں کھولیں، ذہنوں کی کھڑکیاں بھی کھولیں اور سائلین کو بروقت انصاف فراہم کرنے کیلئے مشاورت کے ساتھ قانون سازی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے نمائندے کے طور پر بتانا چاہتا ہوں کہ وزیراعظم شہباز شریف نے ہدایت کی ہے کہ فوری انصاف کے حصول کیلئے آسانیاں پیدا کریں۔

    انہوں نے کہا کہ جیل ریفارمز کو بھی مدنظر رکھنا چاہئے۔ وفاقی وزیر قانون نے کہا کہ جسٹس ریفارمز پراجیکٹ عدالتی نظام میں عوامی اعتماد کی بحالی کا منصوبہ ہے۔

    انہوں نے کہا کہ اس منصوبہ کیلئے حکومت ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ اطہر من اﷲ نے کہا کہ جلد انصاف کے حصول کیلئے یہ پراجیکٹ لانچ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک شخص 12 سال پہلے جیل گیا اور 12 سال بعد اس کی درخواست سماعت کیلئے مقرر ہوئی، عدالت نے اسے بری کر دیا، اس کے جیل میں گزرے ہوئے 12 سال کون واپس کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ انصاف صرف عدالتیں ہی نہیں دیگر اداروں کا بھی کام انصاف فراہم کرنا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ جن کے ساتھ ناانصافی ہوتی ہے وہی عدالت کا دروازہ کھٹکھٹاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میرے پاس ایک کیس آیا اس کیس کو 50 سال ہو چکے ہیں، ان 50 سالوں میں 6 بار کیس سپریم کورٹ گیا۔ انہوں نے کہا کہ آج سے 50 سال پہلے اسلام آباد بنایا گیا اور جن لوگوں سے زمینیں لی گئیں وہ آج بھی سی ڈی اے کے چکر لگا رہے ہیں، ان کے ساتھ انصاف نہیں کیا گیا۔

    انہوں نے کہا کہ پٹوار اور تھانے سے ناانصافی شروع ہوتی ہے پھر عوام کی امید عدالتیں ہوتی ہیں، ہماری جیلوں میں بھی جگہ سے زائد قیدی رکھے ہوئے ہیں، جن کی زمینوں پر اسلام آباد میں بڑے بڑے محل بن گئے ان متاثرین کو آج تک معاوضہ نہیں مل سکا۔ انہوں نے کہا کہ ڈسٹرکٹ کورٹس دکانوں میں کمرشل ایریاز میں بنائی گئی تھیں، وکیل جج اور سائلین کے حقوق بھی پامال ہو رہے ہیں، خوشی سے کہہ سکتا ہوں سابقہ حکومت نے ہماری درخواست پر ڈسٹرکٹ کورٹس کمپلیکس کی بنیاد رکھی، ان عدالتوں میں جانے والے سائلین ہی نہیں بلکہ ججز کے بھی حقوق پامال ہوتے ہیں، گزشتہ حکومت نے ہماری بات سمجھی اور اب وہ کمپلیکس تیار ہونے کے قریب ہے۔

    انہوں نے کہا کہ کیا ہر سائل کو ایک مقرر مدت میں انصاف مل سکتا ہے یہ پراجیکٹ اس کے لئے ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس ملک کے اکثر لوگ عدالت جا ہی نہیں سکتے، اس بات سے انکار نہیں کہ عدلیہ میں بھی ناانصافی موجود ہے لیکن عدلیہ ریاست کی کبھی ترجیح ہی نہیں رہی۔

    انہوں نے کہا کہ وزیرقانون نے درست کہا کہ صرف بڑی بڑی عمارتیں بنانے سے انصاف نہیں ملتا، ہمیں مسائل کا ادراک تھا لیکن ہم ادارہ جاتی اصلاحات کے ماہر نہیں، ہمیں اندازہ تھا کہ ملک کے ایک بڑے طبقے کی انصاف تک رسائی نہیں ہے، جو لوگ ہائیکورٹ تک رسائی کی استطاعت نہیں رکھتے یہ پراجیکٹ ان کیلئے ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے بہت سوچا کہ کیا کیا جائے تو لیکن ہمیں کچھ سمجھ نہیں آ رہی تھی، یہ پراجیکٹ اصل سٹیک ہولڈرز سائلین کیلئے ہے جس کا تصور ہمیں آئین نے دیا ہے ۔

  • وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز شریف کا عیدالاضحیٰ پر بڑا فیصلہ

    وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز شریف کا عیدالاضحیٰ پر بڑا فیصلہ

    وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز شریف کا عیدالاضحیٰ پر بڑا فیصلہ.

    صوبے کی جیلوں میں معمولی جرائم میں بند قیدیوں کی سزائیں ایک ماہ کم کردیں۔سزا میں معافی پانے والے قیدی اپنے گھروں میں اپنے پیاروں کے ساتھ عید منا سکیں گے۔وزیراعلیٰ حمزہ شہباز نے سزاؤں میں کمی کی منظوری دیتے ہوئے کہا جیلوں کو اصلاح گھر ہونا چاہئے۔معمولی جرائم میں لائے گئے قیدیوں کو سدھارنا مقصد ہونا چاہئے۔یہ نہ ہو کہ معمولی جرم میں آنے والے قیدی عملے اور دیگر جرائم پیشہ افراد کے رویئے کی وجہ سے بڑئے مجرم بن کر نکلیں۔

    اسٹینڈنگ کمیٹیوں کی کارروائی بھی ٹی وی پرعوام تک پہنچانے کا فیصلہ

    وزیر اعلی پنجاب حمزہ شہباز شریف سے ترکی کی وزارت صحت کے ڈائریکٹر جنرل برائے یورپی یونین و فارن افیئرز سیلامی کیلک(Mr. Selami Kilic) کی سربراہی میں وفد نے ملاقات کی. ترکی کے قونصل جنرل امیر اوزبے (Mr. Emir Ozbay) بھی اس موقع پر موجود تھے ،ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور اور شعبہ صحت میں تعاون بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا،فیملی میڈیسن سسٹم،نرسنگ،ویکسینیشن اور ہیلتھ کیئر کی معیاری سہولتیں
    کی فراہمی کے لئے تعاون کو فروغ دینے پر اتفاق کیا گیا.

    عید الاضحی،سکیورٹی پلان فائنل،صفائی کے لیے کنٹرول روم قائم

     

    وزیر اعلی پنجاب حمزہ شہباز شریف نے کہا کہ ترک بھائیوں سے ملاقات میرے لئے باعث مسرت ہے۔پاکستان اورترکی ہر موسم کے حقیقی دوست ممالک ہیں۔ ترکی کے ساتھ تعلقات ایک بار پھر بلندیوں پر لے جانا چاہتے ہیں۔پنجاب کے عوام کو صحت کی معیاری سہولتیں فراہم کرنا ہمارا مشن ہے۔ معیاری ہیلتھ کیئر سسٹم کے لیے ترکی کے تجربے سے مزید استفادہ کرنا چاہتے ہیں۔وزیر اعظم شہباز شریف کے دور وزارت اعلی میں ترک وزارت صحت نے شعبہ صحت میں پنجاب حکومت کی بھرپور معاونت کی۔

    ترکی کی وزارت صحت کے ڈائریکٹر جنرل برائے یورپی یونین و فارن افیئرز سیلامی کیلک(Mr. Selami Kilic) نےوزیراعلیٰ حمزہ شہبازشریف کو ترکی کے دورے کی دعوت دی

    سیلامی کیلک شعبہ صحت کی بہتری کے لئے پنجاب حکومت کے ساتھ پہلے بھی تعاون کیا، آئندہ کریں گے،
    صوبائی وزیر خواجہ سلمان رفیق، خواجہ احمد حسان ، لیگل ایڈوائزر علی رضا، چیئرمین منصوبہ بندیوترقیات،سیکرٹری صحت اور اعلی افسران بھی اس موقع پر موجود تھے

  • گلگت ائیرپورٹ پر پرندوں کے خطرے سے آگاہی مہم کا آغاز

    گلگت ائیرپورٹ پر پرندوں کے خطرے سے آگاہی مہم کا آغاز

    کراچی: گلگت ائیرپورٹ پر پرندوں کے خطرے سے آگاہی مہم کا آغازوقت کی ضرورت بن کررہ گیاہے ، ادھر اطلاعات کے مطابق اس شعبے سے منسلک افراد اورتنظیموں نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ ایئرپورٹس پرپرندوں کے خطرات کے حوالے سے جب تک آگاہی مہم نہیں چلائے جائے گی اس وقت تک اس سےمتعلق اقدامات بھی بے معنی ہوں گے، اس لیے کراچی سے لیکرگلگت تک یہ مہم چلائی جارہی ہے

    اس حوالے سے کراچی میں مہم کا آغاز کرتے ہوئےلوگوں کا کہنا تھا کہ عوام کی آگاہی کے لیے نمایاں مقامات پر پینافلیکس کی نمائش سے بھی اچھے اثرات مرتب ہوں گے ، یہ پینا فلیکس شہرکی بڑی شاہرات پرلٹکائے گئے ہیں‌

    اس کے علاوہ اے پی ایم کے ذریعے ہوائی اڈے کی قریبی مسجد میں مقامی لوگوں کے لیے آگاہی سیشنز کا بھی انعقاد کیا گیا ہے،کراچی سے ذرائع کےمطابق اس مقصد کے تحت ملحقہ مقامی مارکیٹ میں شہریوں میں فلائیرز کی بھی تقسیم کیئے گئے

    اے پی ایم کا کہنا تھا کہ تعلیم اور آگاہی کی غرض سے ملحقہ علاقوں میں تعینات ٹیم کی طرف سے فلائر تقسیم کرنے کی سرگرمی عید تک جاری رہے گی۔

     

     ادھر اسی حوالے سے ایک رپورٹ سامنے آئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ سول ایوی ایشن اتھارٹی کی ناقص حکمت عملی کے باعث بڑے ایئر پورٹس پر طیاروں سے پرندے ٹکرانے کے واقعات میں اضافہ ہو گیا ہے۔

    اے آر وائی نیوز کے مطابق سی اے اے نے طیاروں سے پرندے ٹکرانے سے متعلق اعداد و شمار جاری کر دیے، جنوری 2018 سے مئی 2022 تک کی رپورٹ کے مطابق لاہور ایئر پورٹ پر طیاروں سے پرندے ٹکرانے کے سب سے زیادہ واقعات رپورٹ ہوئے۔

    ساڑھے 4 سالوں میں ایئر پورٹ پر پرندے ٹکرانے کے 662 واقعات رونما ہوئے، ملکی و غیر ملکی ایئر لائنز دونوں کے طیاروں سے پرندے ٹکرانے کے واقعات رپورٹ ہوئے۔

    لاہور ایئر پورٹ پر سب سے زیادہ 198 واقعات رپورٹ کیے گئے، دوسرے نمبر پر کراچی ایئر پورٹ پر 192 واقعات رپورٹ ہوئے، اسلام آباد ایئر پورٹ پر 100 واقعات رپورٹ ہوئے۔

    سیالکوٹ ایئر پورٹ پر 53، پشاور ایئر پورٹ پر 40، ملتان ایئر پورٹ پر 26 حادثات، فیصل آباد ایئر پورٹ پر 22 اور کوئٹہ ایئر پورٹ پر 17 حادثات رپورٹ ہوئے۔

    اعداد و شمار کے مطابق مجموعی طور پر 60 فی صد حادثات مون سون کے سیزن میں رپورٹ ہوئے، جون، جولائی، اگست اور ستمبر کے مہینوں میں حادثات میں اضافہ دیکھا گیا۔

    گزشتہ سال 2021 میں 142 حادثات رپورٹ ہوئے، جنوری 2022 سے مئی 2022 تک 48 حادثات رپورٹ ہو چکے ہیں، سی اے اے کے مطابق حادثات کے باعث ملکی و غیر ملکی ایئر لائنز کو کروڑوں روپے کا مالی نقصان برداشت کرنا پڑا۔

  • عید الاضحی،سکیورٹی پلان فائنل،صفائی کے لیے کنٹرول روم قائم

    عید الاضحی،سکیورٹی پلان فائنل،صفائی کے لیے کنٹرول روم قائم

    آئی جی پنجاب راؤ سردار علی خان کی ہدایت پر پنجاب پولیس نے عید الاضحی کے موقع پر صوبہ بھر میں سکیورٹی پلان فائنل کر لیا۔پنجاب بھر میں 27645نمازعید اجتماعات کی سکیورٹی کے لیے 35 ہزار سے زائد اہلکاران و افسران ڈیوٹی کے فرائض سر انجام دیں گے۔

    ڈیلی ویجزملازمیں عید پربھی تنخواہیں نہ مل سکیں

    لاہور میں نماز عید کے5278 اجتماعات کی سکیورٹی کے فرائض آٹھ ہزار سے زائد اہلکاران و افسران سر انجام دیں گے۔آئی جی پنجاب راؤ سردار علی خان نے کہا کہ نماز عید سے قبل تمام مساجد، امام بارگاہوں اور عید گاہوں کی مکمل چیکنگ اور کلیرینس کو ہرصورت یقینی بنایا جائے۔ اے کیٹیگری مساجداور امام بارگاہوں کی چھتوں پر سنائپرز اورعید اجتماعات کے اندر سادہ لباس میں کمانڈوز کو تعینات کیا جائے۔ حساس مقامات پرسی سی ٹی وی مانیٹرنگ کے ساتھ واک تھرو گیٹس اور میٹل ڈٹیکٹرز کے ذریعے چیکنگ کو یقینی بنایا جائے۔

    محرم الحرام کے دوران امن وامان یقینی بنانے کیلئے تمام مذہبی رہنماؤں سے مشاورت کی جائیگی ، رانا ثناء اللہ

     

     

    آئی جی پنجاب کا کہنا تھا کہ تمام اضلاع میں روزانہ کی بنیاد پر سرچ، سویپ، کومبنگ اور انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز جاری رکھے جائیں۔ عید کی چھٹیوں پر پارکوں اور دیگر پبلک مقامات کی سکیورٹی پر خصوصی توجہ دی جائے۔ اہم شاہراہوں پرڈولفن،پیرو اور کیو آر ایف جبکہ ہائی ویز پر پٹرولنگ فورس کے گشت کے دورانئے میں اضافہ کیا جائے۔ تمام اضلاع کے ڈی پی اوز، آر پی اوز سکیورٹی کے فول پروف انتظامات یقینی بنانے کے لیے خود فیلڈ میں نظر آئیں۔ مویشی منڈیوں کے گردونواح میں شہریوں کی سہولت کیلئے اضافی ٹیموں کو تعینات کیا جائے۔ ڈی آئی جی ٹریفک عید الاضحی کے موقع پر صوبہ بھر میں ٹریفک کے ہموار بہاؤ کو یقینی بنانے کیلئے ایکشن پلان کی خود نگرانی کریں۔

    آئی جی پنجاب نے کہا کہ قربانی کی کھالیں اکٹھی کرنے کے حوالے سے محکمہ داخلہ کے ایس او پیز پر عمل درآمد ہر صورت یقینی بنایا جائے۔ کالعدم تنظیموں کے قربانی کی کھالیں اکٹھی کرنے پرعائد پابندی پر سختی سے عمل درآمد کرایا جائے۔

     

    لاہور،کراچی اوراسلام آباد میں گرج چمک کے ساتھ مزید بارش کا امکان ہے

     

     

    مزید برآں محکمہ لوکل گورنمنٹ اینڈ کمیونٹی ڈویلپمنٹ حکومت پنجاب نےعید الاضحی پر صفائی کے انتظامات کی مانیٹرنگ کے لیے کنٹرول روم قائم کیا جائے گا ،محکمہ بلدیات نے کنٹرول روم کے لیے 103افسران اور ملازمین کی ڈیوٹیاں لگا دیں ،سیکرٹری لوکل گورنمنٹ بورڈ کنٹرول روم کی سربراہی کریں گے، کنٹرول روم لوکل گورنمنٹ بورڈ آفس عاطف چوک ساندہ روڈ پر قائم کیا جائے گا، 13افسران کنٹرول روم میں بحیثیت انچارج ڈیوٹی سر انجام دیں گے،سیکرٹری بلدیات عمران سکندرنے کہا عید سے ایک روز قبل کنٹرول روم مکمل طور پر فعال کر دیا جائے گا،
    کنٹرول روم 24گھنٹے فعال رہے گا۔ عید کے تینوں روز کنٹرول روم تین شفٹوں میں کام کرے گا۔ پہلے شفٹ صبح 9 سے شام 5بجے تک کام کرے گی۔دوسری شفٹ 5سے رات 9تک جبکہ تیسری شفٹ رات 1سے صبح 9تک کام کرے گی۔ صوبائی کنٹرول روم صوبہ بھر میں جاری صفائی مہم کی نگرانی کرے گا۔ شکایات درج کروانے کے لیے کنٹرول روم کے نمبرز جاری کر دیے گئے ہیں۔مرکزی کنٹرول روم کے نمبر 042- 99214834,99214838,99214840 پر شکایات درج کروئی جا سکتی ہیں.عمران سکندر بلوچ کا کہنا ہے کہ
    شہری شکایات کی صورت میں متعلقہ ویسٹ مینجمنٹ کمپنی کی ہیلپ لائن 1139 پر بھی رابطہ کر سکتے ہیں۔لوکل گورنمنٹس کی جانب سے ڈسٹرکٹ لیول پر کنٹرول روم بھی 24 گھنٹے کام کریں گے۔

    علاوہ ازیں چیف ایگزیکٹو چوہدری محمد امین نے کہا کہ لیسکو ریجن بھر میں عید الاضحی کے دوران بجلی کی بلا تعطل سپلائی فراہم کرئے گا۔ لیسکو کے سرکلز اور سب ڈویژنز میں تمام افسران اور عملہ ہائی الرٹ رہیگا، لیسکو کی تمام ڈویثزنز کو اضافی میٹیریل فراہم کردیا گیا ہے۔ صارفین سے گزارش ہے کہ بجلی کے غیر ضروری استعمال سے گریزکریں۔ صارفین سے التماس ہے کہ اپنے قربانی کے جانور بجلی کے کھمبوں اور تاروں کے ساتھ نہ باندھیں۔ قربانی کے جانوروں کی آلائشوں کو بجلی کے کھمبوں، اور ٹرانسفارمروں کے نیچے رکھنے سے گریز کریں۔ لیسکو ریجن میں مون سون کے پیش نظر بجلی معطل ہونے کی صورت میں بجلی کی تنصیبات سے دور رہیں۔ تمام صارفین سے اپیل ہے کہ وہ عید کی تعطیلات کے دوران کسی بھی ناگہانی صورتحال میں اپنے علاقے کی شکایات دفاتر اور 118 کے علاوہ مندرجہ ذیل نمبروں پر بھی رابطہ کر سکتے ہیں۔042-99205461، 042-99205464،
    0320-0520888

  • محرم الحرام کے دوران امن وامان یقینی بنانے کیلئے تمام مذہبی رہنماؤں سے مشاورت کی جائیگی ، رانا ثناء اللہ

    محرم الحرام کے دوران امن وامان یقینی بنانے کیلئے تمام مذہبی رہنماؤں سے مشاورت کی جائیگی ، رانا ثناء اللہ

    وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ محرم الحرام کے دوران امن وامان یقینی بنانے کیلئے تمام مذہبی رہنماؤں سے مشاورت کی جائیگی ، آئین پاکستان ملک میں تمام مذاہب اور مکاتب فکر کو مذہبی رسومات ادا کرنے کی مکمل آزادی دیتا ہے،بین المکاتب فکر مذہبی ہم آہنگی کیلئے اسلامی تحریک پاکستان کی کاوشیں قابل ستائیش ہیں۔اسلامی تحریک پاکستان کے وفد سے ملاقات کے دوران گفتگو کر رہے تھے ۔

    شیریں مزاری کی گرفتاری،کمیشن نے 14 جولائی کو آئی جی اسلام آبادکو طلب کر لیا

    مرکزی سیکرٹری جنرل اسلامی تحریک پاکستان علامہ ڈاکٹر شبیر حسن میسمی کی قیادت میں ملاقات کرنے والے وفد میں سلامی تحریک پاکستان کے سینئر وائس صدر علامہ عارف حسین واحدی، مرکزی ایڈیشنل سیکرٹری جنرل علامہ سید نذیر حسن عباس،سیکٹری اطلاعات زاہدعلی اخوندزادہ، سمیت سید حسن ترمذی، قاسم علی قاسمی اور علامہ اسد نقوی شامل تھے جبکبہ سابق اراکین اسمبلی ملک ابرار، انجم عقیل، سابق ڈپٹی میئراسلام آباد ذیشان نقوی سمیت دیگر معززین بھی ملاقات میں موجودتھے ۔

    رانا ثناءاللہ کیخلاف ہیروئین کا کیس جھوٹ تھا۔ فواد چودھری

     

    ملاقات کے دوران آمدمحرم الحرام اور مکتب ِتشیع کو درپیش مسائل کے حوالے سے بات چیت کی گئی ۔وزیر داخلہ رانا ثناءاللہ کی جانب سے محرم الحرام کے دوران ملک میں امن امان کو یقینی بنانے اور مسائل کے حل کے حوالے سے مثبت پیش رفت کی یقین دہانی کرائی گئی ۔ایام عزائے سفیرحسینیت کے دوران لاہور میں واقع دربار بی بی پاک دامن کوزائرین کیلئے کھولنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ،زائرین کیلئے مزار بی بی پاک دامن کو 8 جولائی سے 15 جولائی کیلئے کھولا جائیگا۔

    وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے کہا کہ علامہ سیدساجد علی نقوی نے ہمیشہ پاکستان میں امن اوراسلامی بھائی چارے کے لئے تعمیری کردار ادا کیاہے،تمام مذاہب اور مکاتب فکر کا دلی احترام کرتا ہوں، اکابرین سے رابطے میں رہتا ہوں۔علامہ ڈاکٹر شبیر حسن میسمی بی بی پاک دامن کے ایام سفیر حسینت کیلئے کھولنے پر بہت مشکور ہیں ، یہ ایک دیرینہ مطالبہ تھا،مزار بند ہونے س ے زائرین کو مذہبی رسومات ادا کرنے میں بہت دقّت تھی،تمام مکاتب فکر کے حقوق کی یکساں طور پر ادائیگی کیلئے حکومت عملی اقدامات بہت قابل تعریف ہیں۔

    لاہور میں واقع مزار بی بی پاک دامن تعمیرات کی وجہ سے گذشتہ دو سال سے بند تھا۔ اسلامی تحریک پاکستان سمیت مکاتب اہل تشیع ایام عزائے حسینت کے دوران مزار بی بی پاک دامن کو زائرین کیلئے کھولنے کا مطالبہ کررہے تھے۔

  • ضمانت کیلئے بابر غوری نے انسداد دہشت گردی عدالت سے رجوع کرلیا

    ضمانت کیلئے بابر غوری نے انسداد دہشت گردی عدالت سے رجوع کرلیا

    کراچی: متحد قومی موومنٹ کے رہنما بابر غوری نے ضانت کیلئے انسداد دہشت گردی عدالت سے رجوع کرلیا ہے۔

    میڈیا رپورٹ کے مطابق بابر غوری نے ضمانت کیلئے انسداد دہشت گردی کی عدالت سے رجوع کرلیا ہے، عدالت نے تفتیشی افسر کے پیش نہ ہوئے، عدالت نے بابر غوری کی درخواست ضمانت پر تفتیشی افسر سے جواب طلب کرتے ہوئے بابر غوری کے طبی معائنے سے متعلق رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔

    عدالت نے بابر غوری کا آئندہ سماعت تک طبی معائنہ نہ کرانے کی صورت میں وجوہات سے متعلق آگاہ کرنے کی ہدایت کی ہے۔ انسداد دہشت گردی عدالت نے بابر غوری کی درخواست ضمانت پر سماعت 13 جولائی تک ملتوی کردی ہے۔

    خیال رہے کہ بابر غوری کو پولیس نے 4 جولائی کو امریکہ سے واپسی پر کراچی ایئرپورٹ سے گرفتار کیا تھا، بابر غوری کے خلاف سائٹ سپر ہائی وے تھانے میں مقدمہ درج ہے، بابر غوری پر ملک مخالف اور اشتعال انگیز تقریر میں سہولت کاری کا الزام ہے۔ عدالت نے بابر غوری کو 12 جولائی تک جسمانی ریمانڈ پر پولیس تحویل میں دیا ہے۔

  • ڈیلی ویجزملازمیں عید پربھی تنخواہیں نہ مل سکیں

    ڈیلی ویجزملازمیں عید پربھی تنخواہیں نہ مل سکیں

    راولپنڈی محکمہ سوئی گیس کے ڈیلی ویجز ملازمین کو عید پر بھی تنخواہیں نہ مل سکیں،اطلاعات کے مطابق ڈیلی ویجز ملازمین کو تنخواہیں نہ ملنے کی وجہ سے ملازمین پریشانی کا شکار ہوگئے، ملازمین کی عید کی خوشیاں بھی خاک میں مل گئیں

    ذرائع کے مطابق اس محکمہ سوئی گیس میں 60 سے زائد ملازمین ڈیلی ویجز طور پر کام کر رہے ہیں،ملازمین کا کہنا ہے کہ اس مہنگائی کے دور میں تنخواہ سرکاری مقرر کردہ مقدار سے بھی کم ہے، ملازمین کاکہنا ہے کہ 18 سے 22 ہزار روپے تنخواہوں میں گزارہ مشکل ہے وہ بھی عید جیسے موقع پر نہیں دی جا رہی،

    ادھر اس حوالے سے مزید معلوم ہوا ہے کہ انتظامیہ فنڈ نہ ہونے کا بہانہ کر کے تنخواہیں دینے سے انکاری ہے، ملازمین کا کہنا ہے کہ جو کوئی اس معاملے پر آواز اٹھاتا ہے اس کو نوکری سے فارغ کی دھمکیاں دی جاتی ہیں،

    ملازمین نے کہا ہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف ہمارے حال پر رحم کھا کر محکمے کو تنخواہیں ادا کرنے کا حکم دیں،

    ادھر ملتان میں واسا ملتان کے مالی بحران نے ملازمین کی عید کی خوشیاں ماند کردی ہیں، جولائی کے6 روز گزرنے کے باوجود بھی سیکڑوں ریگولر اور ڈیلی ویجز ملازمین تنخواہوں سے محروم ہیں،محکمہ واسا کی واٹر سپلائی اور سیوریج کے بلوں کی ریکوری نہ بڑھنے کی وجہ سے مالی بحران بھی سنگین ہوتا جا رہا ہے،

    جولائی کے6روز گزرنے کے باوجود واسا کے سیکڑوں ملازمین تنخواہوں سے محروم ہیں جبکہ عید الاضحیٰ میں صرف4 روز باقی ہیں تاہم تنخواہیں تاخیر کا شکار ہونے سے ملازمین کو گھر چلانے میں مشکلات کا سامنا ہے جو بچوں کیلئے عید کی شاپنگ سے بھی محروم ہیں بلکہ ان کے لئے سنت ابراہیمی کی ادائیگی بھی انتہائی مشکل ہو گئی ہے، واسا ملازمین کا کہنا ہے کہ چھوٹے ملازمین ہر ماہ تنخواہ کے انتظار میں رہتے ہیں تاہم تنخواہ گزشتہ کچھ ماہ سے مسلسل تاخیر کا شکار ہو رہی ہے ، ملازمین نے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر تنخواہیں جاری کی جائیں۔

  • عمران خان کے خلاف غداری کا مقدمی درج کیا جائے،عائشہ گلالئی تھانہ پہنچ گئی

    عمران خان کے خلاف غداری کا مقدمی درج کیا جائے،عائشہ گلالئی تھانہ پہنچ گئی

    سیاسی جماعت پاکستان تحریک انصاف (گلالئئ) کی چیئرپرسن عائشہ گلالئی نے چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان خلاف ریاست کے خلاف تقاریر/بیانات پر غداری کا مقدمہ درج کروانے تھانہ سیکرٹیریٹ اسلام آباد میں درخواست دے دی۔

    باغی ٹی وی کے مطابق عائشہ گلالئی نے درخواست میں موقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایس ایچ او تھانہ تھانہ سیکرٹیریٹ اسلام آباد میں آپ کی توجہ نہایے سنگین مسلہ کی طرف مبزول کرانا چاہےی ہوں اور وہ یہ ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کا چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان نیاری بیرونی فنڈنگ اور بیرونی ایجنڈے پر کام کرتے ہوئے پاکستان کی جغرافیائی اور نظریاتی سرحدوں کی محافظ پاک فوج پر گھٹیا اور بیہودہ الزامات لگا کر پاکستان کو کمزور کرنے کی سازش کر رہا ہے.

    عائشہ گلالئی کا مزید کہنا تھا کہ پاک فوج روزانہ اپنی جانوں کی قربانیاں دیکر اس ملک کی اندرونی اور بیرونی سازشوں سے حفاظت کر رہی ہے اور دہشت گردی کے خلاف لڑ رہی ہے،اس ملک اور قوم پر پاک فوج کے شہداء اور غازیوں کے جو احسانات ہیں ،وہ بطور قوم ہم فراموش نہیں کر سکتے.ہم انہیں سلام پیش کرتے ہیں.

    عائشہ گلالئی نے کہا کہ نہ صرف یہ بلکہ قدرتی آفات ،زلزلہ،سیلاب میں بھی پاک فوج کے جوان ریسکیو آپریشن کیلئے پہلے پہنچ جاتے ہیں اور قوم کو سیاسی جماعتوں کے نمائیندے اور زمی داران نظر نہیں آتے.انہوں نے درخواست میں مزید کہا کہ پی ٹی آئی چیئرمین عمران نیازی عوام میں پاک گوج کا امیج خراب کرنے اورعوام کو پاک فوج کو لڑانے کیلئے سازش کر رہا ہے اور منظم تحریک چلا رہا ہے.عمران خان ملک کے تین ٹکرے کرنے کی بات بھی کر چکا ہے.بلکی سوشل میڈیا پر اداروں کے خلاف بیانات دے رہا ہے.

    عائشہ گلالئی نے کہا کہ پی ٹی آئی چیئرمین عمران نیازی فوج کو غیر جانبدار رہنے پر ٹارگٹ کر رہا ہے اور فوج کو زبردستی سیاست میں گھسیٹ رپا ہے،انہوں نے کہا خدانخواستہ اگر فوج کمزور ہوئی تو پاکستان کو ٹوٹنے سے کوئی نہیں بچا سکے گا.اور پاکستان کے عوام بھی افغانستان اور شام کی طرح مہاجرین بن جائیں گے.عائشہ گلالائی نے کہا کہ قانون چھوٹے اور بڑے سب کیلئے برابر ہونا چاہیئے.جو قانون علی وزیر کیلئے ہے جو کھبی بھی اس حد تک نہیں گیا کو جیل ڈال سکتا ہے،جو الطاف حسین پر پانبدی اور سزا دے سکتا ہے وہ قانون طاقت ور کیلئے کیوں نہیں ہے ؟.

    درخواست میں کہا گیا کہ مندرجہ بالا حقائق یعنی پاک فوج کو کمزور کرنے کی سازش کرنا،ریاست مخالف بیانات،اور فوج کو سیاست میں گھسیٹںآ آئین پاکستان کی کھلی خلاف ورزی اور غداری کے زمرے میں آتا ہے.لہزا پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران نیازی پر غداری متعلقہ دفعات کے تحت درج کیا جائے اور اسے گرفتار کیا جائے.

  • قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی استحقاق نےعمران خان اور شیخ رشید کوطلب کرلیا

    قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی استحقاق نےعمران خان اور شیخ رشید کوطلب کرلیا

    اسلام آباد:قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی استحقاق نے عمران خان اور شیخ رشید کو طلب کرلیا،اطلاعات کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے استحقاق نے سابق وزیراعظم عمران خان اور سابق وزیر داخلہ شیخ رشید کو آئندہ اجلاس میں طلب کرلیا۔

     

     

    سابق وزیراعظم اور وزیرداخلہ کو پارلیمنٹ لاجز میں جے یو آئی کے ایم این اے کے فلیٹ پر پولیس چھاپے کے معاملے پر طلب کرلیا۔سابق وزیراعظم اور وزیر داخلہ کے خلاف تحریک استحقاق رکن قومی اسمبلی صلاح الدین نے جمع کرائی تھی۔

     

    چیئرمین کمیٹی رانا قاسم نون کا کہنا تھا کہ تمام افراد کمیٹی کے آئندہ اجلاس میں حاضری یقینی بنائیں جبکہ آئی جی اسلام آباد اور ایس ایس پی کو بھی متعلقہ ریکارڈ کے ساتھ پیش ہونے کی ہدایت کی گئی ہے۔

     

     

    خیال رہے کہ 11 مارچ کو سابق وزیر اعظم عمران خان کے خلاف اپوزیشن کی جانب سے عدم اعتماد کی قرارداد جمع کرائے جانے کے بعد جب اپوزیشن کے قانون سازوں کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے مدعو کی گئی تو جمعیت علمائے اسلام کی رضاکار فورس کے ارکان کو نکالنے کے لیے پولیس کی بھاری نفری نے پارلیمنٹ لاجز پر چھاپہ مارا تھا۔

     

     

    سابق وزیر اعظم اور وزیر داخلہ کو پارلیمنٹ لاجز میں جمعیت علامہ اسلام ف کے ممبر قومی اسمبلی صلاح الدین ایوبی کے فلیٹ پر پولیس کے چھاپے کے خلاف جمع تحریک استحقاق کے سلسلے میں طلب کیا گیا ہے۔آپریشن کے دوران پولیس نے کم از کم اراکین اسمبلی سمیت انصار الاسلام کے 2 درجن رضا کاروں کو گرفتار کیا گیا تھا جنہیں بعد میں رہا کردیا گیا تھا۔

  • چین خلا کا پرامن استعمال کرتا آرہا ہے،وزارت خارجہ

    چین خلا کا پرامن استعمال کرتا آرہا ہے،وزارت خارجہ

    بیجنگ :امریکی خلائی ادارے ناسا کے چیف آف اسٹاف بل نیلسن نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ چین کے خلائی منصوبے فوجی آپریشن کے تحت جاری ہیں جب کہ امریکہ پرامن،غیر فوجی خلائی منصوبے پر کام کر رہا ہے۔جمعرات کے روز چینی میڈ یا کے مطا بق اس بیان کے حوالے سے چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان چاؤ لی جیان نے منعقدہ پریس کانفرنس میں کہا کہ بل نیلسن کا بیان حقائق کے منافی ہے۔خلا میں فوجی مشق امریکہ کرتا ہے جب کہ چین خلا کا پرامن استعمال کر رہا ہے اور اس میں عالمی تعاون کو بھی مثبت انداز میں فروغ دے رہا ہے۔

    ایک اور سوال کے جواب میں چاؤ لی جیان نے کہا کہ تین مشترکہ اعلامیے، چین -امریکہ تعلقات کا ” حفاظتی حصار” ہیں اور ان کی پاسداری کی جانی چاہیئے۔

    اس سے پہلے چائنا سینٹر فار انٹرنیشنل اکنامک ایکسچینج کے زیر اہتمام 7 ویں عالمی تھنک ٹینک سمٹ میں کئی سیمینار منعقد ہوئے۔ “عالمی معیشت کی متوازن بحالی” کے موضوع پر منعقدہ سمپوزیم میں شریک ملکی اور غیر ملکی ماہرین اور اسکالرز کا خیال تھا کہ اس حقیقت کے پیش نظر کہ عالمی اقتصادی بحالی کی بنیاد کمزور ہے اور ترقیاتی عدم توازن بڑھ رہا ہے، بین الاقوامی برادری کو عالمی معیشت کی متوازن بحالی کو فروغ دینے کے لیے اتفاق رائے کو بڑھانا چاہیے، تعاون کو مضبوط بنانا چاہیے اور عملی اقدامات کرنے چاہییں۔

    جمعرات کے روز چینی میڈ یا کےمطا بق کوریا انسٹی ٹیوٹ فار فارن اکنامک پالیسی کے ڈائریکٹر کم ہیونگ جونگ نے کہا کہ ہم نے دیکھا ہے کہ چین کی جدت طرازی کی قیادت میں پیداوری قوت میں خوب اضافہ ہو رہا ہے۔ افراطِ زر کے دور میں، تخلیقی ٹیکنالوجیز کی زیادہ ضرورت ہے، اور بین الاقوامی تعاون اس طرح کی تکنیکی کامیابیاں حاصل کرنے میں مدد کر سکتا ہے۔

    اس کے علاوہ گزشتہ روز ایک سمپوزیم بعنوان ’’عالمی تجارت کے لیے نئے قوانین بنانے کے لیے گفت و شنید کریں‘‘ کا انعقاد کیا گیا۔ اجلاس میں ماہرین کا خیال تھا کہ بین الاقوامی تجارت میں نئے حالات کے پیشِ نظر، موجودہ عالمی اقتصادی اور تجارتی ترقی کو درپیش چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے کثیر الجہتی تجارتی نظام کے قوانین میں بہتری کا عمل جاری رکھنا ضروری ہے۔

    چین کی ریاستی کونسل کے ترقیاتی تحقیقی مرکز کے ڈپٹی ڈائریکٹر لونگ گو چھیانگ نے کہا کہ چین کاربن میں کمی اور کم کاربن کی تبدیلی کو مؤثر طریقے سے فروغ دے گا، جو عالمی سبز اور کم کاربن کی تبدیلی کے لیے ایک اہم محرک ہوگا۔ ہم دیکھیں گے کہ سبز ترقی کا تصور بین الاقوامی تجارت پر زیادہ اثرات ڈالے گا۔
    آبنائے تائیوان کے دونوں کناروں سے تعلق رکھنے والے صحافیوں نے اپنے دورہ سنکیانگ میں ای لی قازق خوداختیار پریفیکچر کا دورہ کیا جو قدیم شاہراہ ریشم کے شمالی حصے کا اہم گڑھ تھا۔ای لی اپنے خوبصورت مناظر اور مختلف قومیتوں کی رنگا رنگ ثقافت کی بدولت سیاحوں کے لیے بے حد کشش رکھتا ہے۔

    جمعرات کےروزچینی میڈ یا کےمطابق آبنائے تائیوان کے دونوں کناروں سے تعلق رکھنے والے تقریباً 50 صحافی سنکیانگ میں اقتصادی ترقی، قومی اتحاد،سماجی ہم آہنگی ، ماحولیاتی تحفظ،دیہی احیاء اور ثقافتی ترقی کے حوالے سے کی جانے والی تبدیلیوں اور حاصل کردہ کامیابیوں کی شاندار کہانیاں جاننے کے لیےتین جولائی سے سنکیانگ کے مشترکہ دورے پر ہیں ۔ 1992 میں شروع ہونے والی یہ سرگرمی اب آبنائے تائیوان کے دونوں کناروں کے درمیان صحافیوں کے تبادلوں کا ایک اہم حصہ بن چکی ہے۔

    85سال پہلے آج کے دن چینیوں کے جزبہ کوسلام پیش کرتے ہیں :چین حکومت کا پیغام ،اطلاعات کے مطابق چینی میڈ یا کے مطا بق 7 جولائی کے سانحے کی 85 ویں برسی جمعرات کے روز منا ئی گئی ۔ اسی روز 7 جولائی 1937 کو جاپانی عسکریت پسندوں نے چین کے خلاف جارحیت کی ہمہ جہت جنگ کا آغاز کیا تھا۔جاپان مخالف آٹھ سالہ سخت اور کٹھن جنگ کے دوران، چینی فوج اور عوام نے خونریز لڑائیاں لڑیں، عظیم قومی قربانی کے ساتھ فسطائیت مخالف جنگ میں حتمی فتح حاصل کی، اور اپنے خون سے چینی تہذیب اور عالمی امن کا دفاع کیا۔ اسی وجہ سے ہر سال 7 جولائی کو چینی عوام اس دن کو مختلف طریقوں سے مناتے ہیں، کیونکہ صرف تاریخ کو ذہن میں رکھ کر اور ایک مضبوط ملک بنا کر ہی تاریخی سانحات کو دوبارہ رونما ہونے سے روکا جا سکتا ہے، کیونکہ ہم اپنی قومی تذلیل کو نہیں بھولیں گے، اس لئے ہم امن کو زیادہ قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، یہ چینی عوام کی امن سے محبت اور دفاع کے عزم کا اظہار ہے .

     

    تاہم، چین کے پرامن ابھرنے کے پیشِ نظر، مغربی ممالک میں کچھ لوگ ہمیشہ چین کو سمجھنے کے لیے مغربی طرز فکر اور منطق کا استعمال کرتے چلے آ رہے ہیں۔ وہ چین کے پرامن ابھرنے کی حقیقت کو تسلیم نہیں کرتے اور چین کو ایک مغربی طرز کا تسلط پسند ملک سمجھتے ہیں جو موجودہ ورلڈ آرڈر پر حملہ کرنے والا ہے۔ نام نہاد “تھوسیڈائڈز ٹریپ”تھیوری سے لے کر مختلف “چین کے خطرے کے نظریات” تک، ان غلط فہمیوں نے چین کے ترقی کے رجحان اور مشرق اور مغرب کے درمیان معقول تبادلے اور تعلقات کے بارے میں لوگوں کی عقلی سمجھ کو شدید متاثر کیا ہے۔

     

     

     

    اس حوالے سے چین کے صدر شی جن پھنگ نے 2015 میں اپنے دورہ امریکہ کے دوران ایک تقریر میں نشاندہی کی تھی کہ دنیا میں کوئی “تھوسیڈائڈز ٹریپ” نہیں ہے، لیکن بڑی طاقتوں کے درمیان بار بار ہونے والی تزویراتی غلط فہمیاں اپنے لیے “تھوسیڈائڈز ٹریپ” پیدا کر سکتی ہیں۔ ” بعد میں ایک انٹرویو میں، صدر شی نے دوبارہ زور دیا “ہم سب کو “تھوسیڈائڈز ٹریپ” میں پھنسنے سے بچنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ یہ نظریہ کہ ایک طاقتور ملک ضرور تسلط حاصل کرنے کی کوشش کرےگا، چین پر لاگو نہیں ہوتا، اور چین کے پاس اس طرح کے اقدامات کرنے کے لئے جینز نہیں ہیں۔ ”

    غیر ملکیوں کے جارحیت کے تاریخی سانحے اور قومی مصائب کی دردناک یاد کے پیشِ نظر ،چینی عوام امن کی قدر کو اور بھی زیادہ عزیز رکھتے ہیں۔ 5000 سال سے زائد عرصے سے تہذیب کے عمل میں چینی قوم نے ہمیشہ امن اور ہم آہنگی کے تصور کی پیروی کی ہے ۔ چین کبھی تسلط کی کوشش نہیں کرے گا، چین کبھی توسیع میں مشغول نہیں ہو گا ، اور ہم کبھی بھی دوسرے لوگوں پر اس المناک تجربے کو مسلط نہیں کریں گے جس کا تجربہ ہم نے خود کیا ہے۔دوسری طرف ، بلاشبہ بالادست طاقتوں کی غنڈہ گردی کے سامنے چینی عوام کبھی سر نہیں جھکائیں گے، ہم قومی خودمختاری اور علاقائی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے سائنس اور ٹیکنالوجی اور جدیدیت پر انحصار کریں گے اور اس کے ساتھ ساتھ، ہم دنیا بھر کے امن پسند لوگوں کے ساتھ ہاتھ ملا کر عالمی امن اور استحکام کے لیے اپنا اپنا حصہ ڈالیں گے۔

     

     

    یہ لکھتے ہوئے مجھے ایک “موت کا جھنڈا” یاد آ رہا ہے جو میں نے جاپانی جارحیت کے خلاف چینی عوامی جنگ کے