Baaghi TV

Author: +9251

  • نیشنل بینک آف پاکستان کے ذریعے تمام تر حکومتی ادائیگیاں آن لائن ہو سکیں،سلمان صوفی

    نیشنل بینک آف پاکستان کے ذریعے تمام تر حکومتی ادائیگیاں آن لائن ہو سکیں،سلمان صوفی

    وزیرِاعظم محمد شہباز شریف نے شہریوں کی جانب سے حکومت کی ادائیگیوں کا نظام آسان اور موثر بنانے کے لیے اقدامات کرنے کی ہدایت کر دی.

    بجلی کے نرخوں میں اضافے کی سفارش کابینہ نے مسترد کی،وفاقی وزیر

    سربراہ وزیرِاعظم اسٹریٹجک ریفارمز یونٹ سلمان صوفی نے کہا کہ نیشنل بینک آف پاکستان میں شہریوں کی طرف سے حکومت کی زیادہ تر ادائیگیاں جلد ہی بغیر کسی اضافی چارجز کے آن لائن ادا کی جا سکے گیں.

    وزیرِاعظم محمد شہباز شریف نے شہریوں کی جانب سے حکومتی کی ادائیگیوں کا نظام آسان اور موثر بنانے کے لیے اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے تا کہ شہری گھر بیٹھے یہ ادائیگیاں آن لائن سسٹم کے ذریعے آسانی کے ساتھ کر سکیں.

    پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے حکومت کوپٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کم کرنے کی سفارش کردی

     

    اس سلسلے میں وزیرِاعظم اسٹریٹجک ریفارمز یونٹ کے سربراہ سلمان صوفی کا کہنا ہے کہ وزیرِاعظم کی ہدایت پر نیشنل بینک آف پاکستان کے ذریعے شہریوں کی طرف سے حکومت کی زیادہ تر ادائیگیاں جلد ہی بغیر کسی اضافی چارجز کے آن لائن ادا کی جا سکے گیں، اس کا آغاز عید الاضحی کے فوری بعد کر دیا جاےگا اور کوشش یہ کی جائے گی کہ اگلے چھ ماہ کے اندر نیشنل بینک آف پاکستان کے ذریعے تمام تر حکومتی ادائیگیاں آن لائن طریقہ کار سے ہو سکیں .

    وزیرِاعظم اسٹریٹجک ریفارمز یونٹ کے سربراہ سلمان صوفی نے بتایا کہ اس سسلے میں صدر، نیشنل بینک آف پاکستان کو ضروری ہدایت دے دی گئی ہیں . سلمان صوفی کا مزید کہنا ہے کہ کیش لیس معیشت کے لیے مضبوط آن لائن ادائیگی کے نظام کی ضرورت ہوتی ہے جس میں شہری پر کم سے کم یا کوئی چارج نہیں ہوتا. موجودہ حکومت کا یہ اقدام کیش لیس معیشت کی جانب ایک مثبت پیش رفت ہے.

  • پی پی 83خوشاب:10امیدوارمد مقابل:تحریک انصاف اور ن لیگ دو: دو دھڑوں میں تقسیم

    پی پی 83خوشاب:10امیدوارمد مقابل:تحریک انصاف اور ن لیگ دو: دو دھڑوں میں تقسیم

    کراچی:پنجاب کے ضمنی انتخابات میں خوشاب کے حلقے پی پی 83 نے خاص اہمیت حاصل کر لی ہے۔پاکستان تحریک انصاف کے ناراض کارکن ملک حامدمحمود ڈھل ٹوانہ جبکہ مسلم لیگ ن کے سابقہ ممبر صوبائی اسمبلی ملک محمد آصف بھاءاپنی اپنی پارٹیوں کی جانب سے ٹکٹ جاری نہ کیے جانے پر آزاد حیثیت سے میدان میں اتر رہے ہیں۔

    حلقہ پی پی 83 خوشاب میں ووٹوں کی کل ووٹوں کی تعداد 3 لاکھ 22 ہزار 428 ہے۔ جس میں مرد ووٹروں کی تعداد ایک لاکھ 68 ہزار 279 ہے جبکہ اس حلقہ میں خواتین ووٹرز کی تعداد ایک لاکھ 54 ہزار149 ہے۔ اس حلقے میں ٹوٹل پولنگ اسٹیشنز کی تعداد 215 ہےجس میں53 خواتین کے پولنگ اسٹیشنز ہیں اور53 ہی مردوں کے لیے واقف کیے گئے ہیں اور 109 مشترکہ پولنگ اسٹیشنز ہیں۔

    الیکشن کمیشن کی جانب سے حلقے میں قائم کیے جانے والے پولنگ بوتھ کی کل تعداد 626 ہے جن میں سے 328 مردوں کیلئے اور 298 خواتین کیلئے مختص کیے گئے ہیں۔ خوشاب کے حلقے پی پی 83 میں سات آزاد امیدواروں سمیت 10 امیدوار انتخابی میدان میں مدِ مقابل ہوں گے۔حلقہ پی پی 83 سے کسی بھی خاتون امیدوار نے انتخابی میدان میں حصہ نہیں لیا۔

    مسلم لیگ ن نے ملک امیر حیدر سنگھا کو میدان میں اتارا ہے۔ ملک امیر حیدر سنگھا منحرف سابق ایم پی اے ملک غلام رسول سنگھا کے بھائی ہیں۔ جنہیں الیکشن کمیشن کی جانب سے ڈی سیٹ کیا گیا جس کے بعد مسلم لیگ ن نے ان کے بھائی ملک امیر حیدر سنگھا کو ٹکٹ جاری کرنے کا فیصلہ کیا۔

    ملک امیر حیدر سنگھا کی فیملی سیاسی بیگ گراؤنڈ رکھتی ہے۔ وہ خود بھی ماضی میں چیئرمین ضلع کونسل خوشاب بھی رہ چکے ہیں۔ ان کے بڑے بھائی ملک امیر مختار سنگھا بھی چیئرمین ضلع کونسل خوشاب رہ چکے ہیں۔اس حلقے میں تحریک انصاف نے ملک حسن اسلم اعوان کو مقابلے کے لیے میدان میں اتارا ہے، جن کا بطور امیدوار یہ پہلا الیکشن ہے۔ملک حسن اسلم خان خوشاب سابق وفاقی وزیر تجارت و سائنس اینڈ ٹیکنالوجی ملک نعیم خان اعوان مرحوم کے بھانجے ہیں اور پی ٹی آئی کے موجودہ مستعفی ایم این اے ملک اعوان کے چھوٹے بھائی ہیں۔

    ملک حسن اسلم اعوان کی الیکشن مہم میں پی ٹی آئی کے علی محمد خان اور زرتاج گل پیش پیش دکھائی دے رہی ہیں۔ اس حلقے میں آزاد امیدوار بھی اپنی جیت کے لیے پرعزم ہیں۔ ان آزاد امیدواروں میں ملک محمد آصف قابل ذکر ہیں۔ ان کا انتخابی نشان مٹکا ہے۔ملک محمد آصف بھاء تین بار صوبائی اسمبلی کے رُکن رہ چکے ہیں۔ ملک محمد آصف نے 2013ء میں مسلم لیگ ن کے ٹکٹ پر کامیاب ہو کر مسلم لیگ ن کے دورِ اقتدار میں مختلف صوبائی وزارتوں کا قلمبند سنبھالے رکھا، البتہ 2018ء کے انتخابات میں ان کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

    ملک محمد آصف نے اس حلقے سے شیر کے نشان کے ساتھ انتخابی میدان میں اترنے کی خواہش ظاہر کی تاہم مسلم لیگ ن کی جانب سے منحرف ایم پی اے کے بھائی غلام رسول سنگھا کو ٹکٹ ملنے کے بعد ملک محمد آصف بھاء نے آزاد حیثیت سے الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا جس کی وجہ سے ضلع خوشاب میں مسلم لیگ ن کے ووٹرز کی بھی ان کو سپورٹ حاصل ہے۔ ایک اور آزاد امیدوار ملک حامد محمود ڈھل کا شمار حلقے کے بااثر سیاسی گھرانے اور بڑے زمینداروں میں ہوتا ہے۔ ملک حامدمحمود ڈھل ٹوانہ پی ٹی آئی ضلع خوشاب کے اہم کارکن تھے، اور بلے کے نشان پر انتخابات میں حصہ لینے کے خواہشمند تھے، تاہم پارٹی کی جانب سے ٹکٹ جاری نہ کیے جانے پر انہوں نے آزاد حیثیت سے انتخابی میدان میں اترنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    تحریک لبیک پاکستان نے اپنے فعال کارکن زمرد عباس خان کو ٹکٹ جاری کیا ہے۔ پی ٹی آئی کے ناراض کارکن ملک حامد محمود ڈھل کے آزاد حیثیت سے انتخابات میں حصہ لینے کے باعث حلقہ پی پی 83 خوشاب میں اب پی ٹی آئی دو حصوں میں تقسیم ہے، جس کا فائدہ دیگر امیدواراں کو ہونے کے قوی امکانات ہیں۔ 17 جولائی کو ہونے والے ضمنی انتخابات میں موجودہ حکومت کے لیے سب سے بڑا چیلنج ملک میں جاری مہنگائی کی لہر ہے جو آئندہ انتخابات پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔

    2018ء کے عام انتخابات میں اس حلقے سےگیارہ امیدواروں نے حصہ لیا۔ پی ٹی آئی کاٹکٹ ملک گل اصغر کو دیا گیا، البتہ وہ قومی اسمبلی کا الیکشن لڑنا چاہتےتھے اس لئے وہ ٹکٹ لینے کے بعد عین اس وقت الیکشن لڑنے سے انکاری ہو گئے جب نشانات بھی الاٹ ہو چکےتھے،جس کی بنا پر پاکستان تحریک انصاف نے معروف بزنس مین ملک امیر مختار سنگھاا عوان کے بھائی اور سابق تحصیل ناظم ملک غلام رسول سنگھا اعوان کی سپورٹ کی جس کے باعث وہ بھاری مارجن سےجیت گئے۔ انہوں نے 68 ہزار 959 ووٹ لیکر پہلی پوزیشن حاصل کی جبکہ ان کےمدمقابل ملک محمدآصف بھا جن کاتعلق پاکستان مسلم لیگ ن سےتھااوروہ صوبائی وزیربھی رہے47 ہزار 684 ووٹ لیکر رنراپ رہے۔
    اس حلقے سے تحریک لبیک پاکستان کےامیدوار دلدار حسین رضوی نے9 ہزار 563 اور ایک آزادامیدوارملک ظفرا للہ خان بگٹی نے 10 ہزار 863 ووٹ لئے۔ پی پی کےٹکٹ پر نثار احمد خان نے ایک ہزار 899 ووٹ لئے۔ اس حلقہ میں ہڈالی، مٹھہ ٹونہ،بوتالہ و دیگر علاقے شامل ہیں،

    2013تک مسلم لیگ ن کا ڈنکا بجتا رہا لیکن عمران خان نے بالآخر 2018 میں یہ نشست ایک آزاد امیدوار کی حمایت کرکےجیتی ن لیگ نےسنگھاگروپ کوٹکٹ کنفرم کردیاہےتووہیں ملک آصف بھاءنےآزادالیکشنلڑنےکااعلان کردیاہے،جبکہ پاکستان تحریک انصاف ملک حسن اسلم اعوان پر اعتماد کا اظہار کیا ہے۔

    حلقہ 83 پی پی کے مسائل کی بات کی جائے تو اس حلقے میں سب سے بڑا مسئلہ پانی کا ہے۔ حلقے کی عوام کو پینے کے پانی سے لیکر اراضی سیراب کرنے مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ یہاں صحت کے حوالے سے بنیادی صحت کے مراکز میں زچہ و بچہ کیلئے کوئی خاطر خواہ انتظام موجود نہیں ہے۔سابقہ دور حکومت میں پی پی 83 میں تعلیمی اداروں کی اپ گریڈیشن کی گئی اور یہاں ایک بڑی بین الصوبائی شاہرہ کی بھی تعمیر کی گئی جو حلقہ پی پی 83 سے گزرتی ہے۔

    گزشتہ انتخابات میں مسلم لیگ ن کی اس حلقے میں کارکردگی زیادہ متاثر کن نہیں تھی اور وہ یہاں سے قومی اسمبلی کی دونوں نشستیں ہار بیٹھی تھی۔ حلقہ پی پی 83 خوشاب میں قومی اسمبلی کا حلقہ این اے 93 اور این اے 94 آتا ہے۔ حلقہ این اے 93 میں پاکستان تحریک انصاف کے عمر اسلم خان ایم این اے ہیں، جن کے بھائی ملک حسن اسلم اعوان پی پی 83 خوشاب سے پی ٹی آئی کے امیدوار ہیں جبکہ حلقہ این اے 94 سے پی ٹی آئی کے ملک محمد احسان اللہ ٹوانہ ایم این اے ہیں ۔

    سندھ میں سینیٹ کی ٹیکنوکریٹ کی نشست پیپلزپارٹی کی خالدہ سکندر میندھرو نے اپنے نام کرلی ۔

     

     

    ڈاکٹر سکندر میندھرو کے انتقال کے باعث خالی ہونے والی سندھ میں سینیٹ کی ٹیکنوکریٹ کی نشست پر پولنگ سندھ اسمبلی میں ہوئی، مرحوم ڈاکٹر سکندر میندھرو کی اہلیہ خالد ہ سکندر میندھرو پیپلزپارٹی کی جانب سے امیدوار تھیں اور مقابل میں پی ٹی آئی کے نور الحق قریشی میدان میں تھے البتہ پاکستان تحریک انصاف کے ارکان نے ووٹنگ کے عمل کا بائیکاٹ کیا جبکہ ایم کیوایم پاکستان اور دیگر جماعتوں نے بھی ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔

     

     

    پیپلزپارٹی کی جانب سے 99 میں سے 94 ارکان بشمول وزیر اعلیٰ سندھ مرادعلی شاہ سمیت پی ٹی آئی کے تین منحرف ارکان اسلم ابڑو، شہریار شر اور کریم بخش گبول نے بھی ووٹ کاسٹ کیا ۔ذاتی مصروفیات کے باعث پیپلزپارٹی کے پانچ ارکان شرمیلا فاروقی،اعجاز شاہ بخاری، عذرا پیچوہو، اسماعیل راہو اور علی نواز مہر نے ووٹ کاسٹ نہیں کیا۔

  • پاکستان میں ہالینڈ کے سفیرکا نیشنل ہاکی اسٹیڈیم کا دورہ،قومی ٹیم کے ساتھ ہاکی بھی کھیلی

    پاکستان میں ہالینڈ کے سفیرکا نیشنل ہاکی اسٹیڈیم کا دورہ،قومی ٹیم کے ساتھ ہاکی بھی کھیلی

    لاہور:پاکستان میں ہالینڈ کے سفیر مسٹر ووٹر پلمپ نے نیشنل ہاکی سٹیڈیم اور ایس بی پی ای لائبریری کا دورہ کیا۔اطلاعات کے مطابق اپنے دورے کے دوران ہالینڈ کے سفیر مسٹر ووٹر پلمپ نے کمشنر لاہور کیپٹن (ر) ایم عثمان اور ڈائریکٹر جنرل سپورٹس پنجاب محمد طارق قریشی سے ملاقاتیں کیں اور پاکستان میں ہاکی کے فروغ کے لیے مختلف اقدامات پر تبادلہ خیال کیا۔

     

     

    اس موقع پر ڈپٹی کمشنر لاہور عمر شیر چٹھہ، ڈائریکٹر سپورٹس ندیم قیصر، ڈائریکٹر یوتھ افیئرز سید عمیر حسن، اولمپیئن خواجہ جنید، اولمپیئن توقیر ڈار، بلال اکرم، ہاکی آرگنائزر جنید چٹھہ اور سپورٹس بورڈ پنجاب کے افسران بھی موجود تھے۔
    اس موقع پر کمشنر لاہور کیپٹن (ر) ایم عثمان اور ڈائریکٹر جنرل سپورٹس پنجاب محمد طارق قریشی نے معزز مہمان کو سووینئر بھی پیش کئے۔

     

     

    ڈچ سفیر مسٹر ووٹر پلمپ نے نیشنل ہاکی سٹیڈیم میں خ جنید/ایس بی پی اکیڈمی کے نوجوان کھلاڑیوں کے ساتھ ہاکی بھی کھیلی اور ابھرتے ہوئے کھلاڑیوں کے جوش و جذبے اور کھیل کی مہارت کو سراہا۔ بعد ازاں اس نے نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کے ساتھ گروپ فوٹو بھی بنوایا۔

     

     

    اس موقع پرگفتگو کرتے ہوئے ہالینڈ کے سفیر مسٹر ووٹر پلمپ نے کمشنر لاہور پنجاب حکومت کی جانب سے انڈر 13 ہاکی ٹورنامنٹ کے انعقاد کو سراہا۔ ’’یہ ٹورنامنٹ پاکستان میں ہاکی کی حقیقی بحالی میں کلیدی کردار ادا کرے گا‘‘۔ انہوں نے نوجوان نسل میں ہاکی کے کھیل کے فروغ کے لیے خواجہ جنید ہاکی اکیڈمی کی کاوشوں کو بھی سراہا۔

     

    ہالینڈ کے سفیر مسٹر ووٹر پلمپ نے کہا کہ نیشنل ہاکی سٹیڈیم ایک تاریخی گراؤنڈ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مجھے یہاں دنیا کے سب سے بڑے اور شاندار ہاکی اسٹیڈیم میں آکر بہت اچھا لگ رہا ہے جہاں ہالینڈ نے 1990 میں پاکستان کو فائنل میں شکست دے کر ہاکی ورلڈ کپ جیتا تھا۔

     

     

    یاد رہے کہ کل پاکستان میں ہالینڈ کے سفیرووٹر پولمپ نے منگل کو پی سی بی ہیڈ کوارٹرز میں چیئرمین رمیز راجا سے ملاقات کی۔آئندہ ماہ پاکستانی کرکٹ ٹیم ہالینڈ کا دورہ کرے گی اور تین ون ڈے انٹر نیشنل کی سیریز میں حصہ لے گی۔

  • اداکارہ صائمہ نور بھی انسٹاگرام پر آگئیں

    اداکارہ صائمہ نور بھی انسٹاگرام پر آگئیں

    پنجابی فلموں کی ہٹ‌اداکارہ صائمہ نور جو بہت کم انٹرویوز دیتی ہیں بہت کم بات کرتی ہیں ان کے پرستاروں کے لئے خوشخبری ہے کیونکہ اب انہوں نے انسٹاگرام پر اپنا اکائونٹ بنا لیا ہے. اب اس کے زریعے وہ اپنے مداحوں کے ساتھ رابطے میں رہیں گی. صائمہ نور نے اس اکائونٹ پر ایک وڈیو لگائی ہے جس میں وہ بتا رہی ہیں کہ کیوں وہ انسٹاگرام اکائونٹ پر آئی ہیں ان کا کہنا ہے کہ میرے مداح نے مجھے بہت کہا کہ مجھے انسٹاگرام پر آنا چاہیے اسلئے سوچا کہ مجھے بھی اب اکائونٹ بنا ہی لینا چاہیے. انہوں نے مزید یہ بھی کہا کہ میں اپنا انسٹاگرام اکائونٹ خود ہی چلائوں گی اور خود ہی اسکو دیکھوں

    گی. صائمہ نور کی انسٹاگرام پر آمد سے ان کے مداح خاصے خوش ہیں. یاد رہے کہ کچھ دن پہلے ماضی کی ہی پنجابی فلموں کی اداکارہ انجمن انسٹاگرام پر آئیں انہوں نے بھی کہا کہ میرے مداحوں کی بھرپور فرمائش پر میں نے یہ اکائونٹ بنایا ہے. دونوں پنجانی اداکارائیں ایک ہی وقت میں انسٹاگرام پر آئی ہیں اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ اکائونٹ کتنے متحرک ہوں گے. یاد رہے کہ ہماری بہت ساری سینئیر اداکارائیں اور اداکار سوشل میڈیا خصوصی طور پر انسٹاگرام پر نہیں ہیں. جبکہ پوری دنیا میں آج سلیبرٹیز انسٹاگرام پر موجود ہیں اور لمحہ بہ لمحہ اپنی سرگرمیوں کے بارے میں اپنے مداحوں کو آگاہ رکھتے ہیں.

  • فلم لفنگےپر پابندی عائد کرنا باہر بیٹھے پرڈیوسرز کی حوصلہ شکنی ہے

    فلم لفنگےپر پابندی عائد کرنا باہر بیٹھے پرڈیوسرز کی حوصلہ شکنی ہے

    فلم ”لفنگے” میں مرکزی کردار کرنے والے اداکار مانی سنسر بورڈ سے ہیں سخت نالاں ان کا کہنا ہے کہ ہمیں سندھ سنسر بورڈ نے جس طرح سے کہا اسی طرح‌ سے اور اتنے ہی سین اور ڈائیلاگ فلم سے نکال دئیے اس کے باوجود پنجاب سنسر بورڈ کی طرف سے فلم کو بین کر دینا سمجھ سے باہر ہے. پنجاب سنسر بورڈ نے فلم ٹھیک طرح‌ سے دیکھی بھی نہیں ہے اور پابندی عائد کر دی ہے.مانی نے شدید غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سنسر بورڈ میں ان لوگوں کو ہونا چاہیے جن کو کام آتا ہے بلکہ وہ لوگ

    ہونے چاہین‌جن کا تعلق فلمی صنعت سے ہو. فلم اور ٹی وی کے لوگ ان چیزوں کو زیادہ سمجھتے ہیں. مانی نے مزید خفگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں سینما مر رہا ہے اور جو لوگ اس کو بچانے کےلئے سرمایہ کاری کررہے ہیں وہ مزید ایسا نہیں کریں گے اگر انہوں نے ایسا کرنا بھی ہوا تو اپنی فلمیں پھر کہیں اور لے جائیں گے. مانی نے کہا کہ لفنگے فلم کا پرڈیوسر بیرون ملک میں رہتا ہے اگر اس کی فلم کے ساتھ ایسا کیا جائے گا تو کون دوبارہ پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے کےلئے آئیگا؟ یہ تو ان لوگوں‌کی حوصلہ شکنی ہے جو اس مشکل وقت میں پاکستان فلم انڈسٹری کو سہارا دینے کے خواہشمند ہیں.یاد رہے کہ فلم لفنگے کے بارے میں‌کہا جا رہا ہے کہ اس میں کچھ ڈائیلاگز ایسے ہیں جو نہایت ذو معنی ہیںفیملی کے ساتھ بیٹھ کر دیکھے سنے نہیں جا سکتے.

  • برطانوی وزیراعظم کا 17 ارکان پارلیمنٹ کے استعفے کے باوجود کام جاری رکھنے کاعہد

    برطانوی وزیراعظم کا 17 ارکان پارلیمنٹ کے استعفے کے باوجود کام جاری رکھنے کاعہد

    لندن:برطانوی وزیراعظم بورس جانسن نے اپنی حکومت سے 17 ارکان پارلیمنٹ کے مستعفی ہونے کے باوجود بطور وزیر اعظم "جاری رکھنے” کا عہد کیا ہے۔

    بورس جانسن نےاپنے ساتھیون کو حوصلہ دیتے ہوئے کہاکہ ایسی کوئی پریشانی کی بات نہیں جب تک سمجھتا ہوں کہ امورمملکت اچھے انداز سےچل رہے ہیں تو مستعفیی نہیں ہوں اور حکومت کرتے رہیں‌ گے ،

    بورس جانسن نے ایک موقع پر کہا ک "مشکل حالات میں وزیر اعظم کوجب ساتھیون کی طرف سے حوصلہ دیا جائے اورپھرا سکے ساتھ ساتھ زبردست مینڈیٹ دیا جاتا ہے تو اسے جاری رکھنا ہی بہتر ہے اور میں حکومت کا معاملات جو احسن انداز سے جاری رکھوں‌ گا

    برطانوی کابینہ کے دو سینیئر وزرا ساجد جاوید اور رشی سونک کے مستعفی ہونے کے بعد دیگر وزرا بھی بورس جانسن کی حکومت کے خلاف ہوگئے۔

    مستعفی وزرا کے استعفے وزیرِاعظم کی جانب سے ایم پی کرس پنچر کو ایک حکومتی عہدے پر لگانے پر معافی مانگنے کے چند منٹ بعد سامنے آئے۔

    یاد رہے کہ برطانوی وزیراعظم بورس جانسن اس وقت مشکل میں گھرے نظرآئے جب کل برطانوی وزیرصحت ساجد جاوید اور وزیرخزانہ رِشی سوناک نے گزشتہ روز وزیراعظم بورس جانسن کی کابینہ سے استعفیٰ دیا ۔جبکہ پاکستانی نژاد ساجدجاوید نے اپنا استعفی ٹویٹر پر شیئر کرتے ہوئے کہا کہ ‘‘میں نے وزیر اعظم سے بات کی ہے کہ میں وزیرصحت اور سماجی نگہداشت کی حیثیت سے اپنے عہدے سے مستعفی ہورہا ہوں’’۔

    انھوں نے کہا کہ ‘‘برطانیہ کے وزیرصحت کی حیثیت خدمات انجام دینا میرے لیے ایک بڑا اعزازرہا ہے لیکن مجھے افسوس ہے کہ میں اب اپنے ضمیر کے ساتھ اس کردارکو جاری نہیں رکھ سکتا’’۔رشی سونک نے اپنے استعفے میں لکھا کہ ’میں آپ کا وفادار رہا ہوں۔ میں نے آپ کی پارٹی کا سربراہ بننے میں حمایت کی اور دوسروں کو بھی اس طرف مائل کیا۔

    ٹوری وائس چیئر بیم افولامی نے ٹی وی پر لائیو استعفیٰ دیا۔ انہوں نے کہا کہ میں نہیں سمجھتا کہ انہیں وزیراعظم کو سپورٹ کرنا چاہیے برطانوی رکن پارلیمنٹ نے مطالبہ کیا کہ بورس جانسن کو اپنے عہدے مستعفی ہو جانا چاہیے۔جبکہ سولیکٹر جنرل انگلیڈ اینڈ ویلز ایلکس چاک ، ثاقب بھٹی ، جوناتھن گولیز، سمیت مزید پالیمانی رکن نے بھی استعفیٰ دیا۔اس طرح مستعفی ہونے والے کل ممبرپارلیمان کی تعداد 17 تک جاپہنچی ہے

    ایک کے بعد ایک استعفیٰ سے برطانوی سیاست میں ہلچل ہے ۔ ان استعفوں سے وزیر اعظم بورس جانسن کا مستقبل مشکوک ہو گیا ہے۔ تاہم اب بھی بورس جانسن کے پاس سیکریٹری خارجہ، داخلہ، دفاع اور سیکریٹری کاروباری امور کی حمایت موجود ہے۔شاید یہی وجہ ہے کہ ان مضبوط وزارتوں کی بنیاد پر بورس جانسن نے مستعفی نہ ہونے اور حکومت جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے

    ادھردوسری طرف بورس جانسن پر مسلسل بڑھتا سیاسی دباؤ لیبر پارٹی کے سربراہ سر کیئرسٹارمر کا کہنا تھا کہ وہ ملک میں فوری انتخابات کو خوش آمدید کہیں گے اور یہ کہ ملک میں حکومت کی تبدیلی بہت ضروری ہے۔

    لبرل ڈیموکریٹس پارٹی کے سربراہ سر ایڈ ڈیوی بھی بورس جانسن کے خلاف کہتے ہیں کہ انہیں کو فوری مستعفی ہونا چاہیے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ وزیرِ اعظم کی بے ہنگم حکومت نے ملک کو ناکام کر دیا ہے۔

    سکاٹ لینڈ کے فرسٹ منسٹر اور ایس این پی رہنما نکولا سٹرجن نے بھی بورس جانسن کے استعفیٰ کا مطالبہ کیا نکولا سٹرجن نے الزام لگایا کہ بورس جانسن نے وزرا پر عوام سے جھوٹ بولنے کے لئے دباؤ ڈالا۔

  • پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے حکومت کوپٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کم کرنے کی سفارش کردی

    پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے حکومت کوپٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کم کرنے کی سفارش کردی

    اسلام آباد میں چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نور عالم خان کی زیر صدارت میں پی اے سی کا اجلاس منعقد ہوا جس میں چیئرمین سمیت متعلقہ افراد نے شرکت کی۔

    نور عالم خان نے کمیٹی ممبران سے کہا عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں دو بار کمی آ چکی ہے لہذا پی اے سی حکومت سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کی سفارش کرتی ہے۔

    اسپیشل سیکریٹری وزارت خزانہ کی عدم موجودگی پر چیئرمین کمیٹی برہم ہو گئے تاہم بعد میں ان کو بتایا گیا کہ وہ وزیراعظم کے ساتھ ایک میٹنگ میں ہیں اس پر چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے کہا کہ مجھے پہلے اطلاع کیوں نہیں دی گئی کہ وہ وزیراعظم کے ساتھ میٹنگ میں ہے۔

    نور عالم نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جب تک سیکریٹری نہیں آئیں گے تب تک یہ اجلاس نہیں ہوگا اور اس ایجنڈے کو ملتوی کردیئے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ جو کچھ معیشت اور عوام کے ساتھ کیا گیا وہی کمیٹی کے ساتھ کیا جارہا ہے۔

    نور عالم نے نے مزید بتایا کہ: ایک محکمے نے کہا ہے کہ کل عید ہے لہذا اب وہ نہیں آ سکتے لیکن عید تو دس جولائی کو ہے۔


    چیئرمین کمیٹی نے گورنر اسٹیٹ بینک کی عدم موجودگی پر بھی برہمی کا اظہار کیا تو ان کو ڈپٹی گورنر نے بتایا کہ گورنر سٹیٹ بینک مانیٹری پالیسی اجلاس کی وجہ سے کراچی میں ہیں۔

    اس پر نور عالم خان نے ان سے مخاطب ہوکر کہا کہ ایسی روایت قائم نہ کریں کہ کسی ادارے کے سربراہ کے بجائے کوئی اور آ جائے۔

    ان کا مزید کہنا تھا: ہم سربراہ کے علاوہ کسی کو اجازت نہیں دیں گے لہذا یہاں سربراہ کا آنا لازمی ہے اور جس ادارے کا سربراہ نہ آئے اجلاس کے اخراجات اس کی تنخواہ سے کاٹے جانے چاہیں۔

    چئیرمین نے کہا: اجلاس کے اخراجات اسپیشل سیکریٹری فنانس اور گورنر اسٹیٹ بنک کی تنخواہ سے کاٹے جائیں۔

    کمیٹی نے ایجنڈا پر کارروائی کیئے بغیر ہی اجلاس ملتوی کر دیا۔

  • فلم اشتہاری ڈوگر شائقین کو اپنے سحر میں جکڑ لے گی حیدر سلطان

    فلم اشتہاری ڈوگر شائقین کو اپنے سحر میں جکڑ لے گی حیدر سلطان

    سلطان راہی کے صاحبرادے حیدر سلطان کی فلم اشتہاری ڈوگرعید الاضحی پر ریلیز ہونے جا رہی ہے اس فلم میں ان کے ساتھ مہر خان ہیروئین ہیں . اس فلم کے حوالے سے بات کرتے ہوئے حیدر سلطان نے کہا کہ یہ فلم تازہ ہوا کا جھونکا ثابت ہو گی اور دیکھنے والوں کو اپنے سحر میں جکڑ لے گی انہوں نے دعوی کیا کہ ان کے پرستارں کو یہ فلم دیکھ کر مایوسی نہیں ہوگی.حیدر سلطان نے اپنے پرستاروں سے درخواست کی کہ وہ اس فلم کو سینما میں جا کر ضرور دیکھیں اوراپنی فلموں‌کو

    سپورٹ کریں. حیدر سلطان راہی نے کہا کہ ہم پنجابی سینما کو بچانے کی کوشش کررہے ہیں اس میں شائقین ان کا ساتھ دیں.حیدر سلطان نے کہا کہ اگر ہم نے فلم انڈسٹری کو دوبارہ اوپر لیکر جانا ہے تو ہمیں پھر اردو اور پنجابی فلموں میں توازن قائم کرنا ہو گا. یاد رہے کہ حیدر سلطان نے جب سے کیرئیر کی شروعات کی ہے زیادہ تر پنجابی فلمیں ہی کی ہیں وہ خود کو پنجابی فلموں کے لئے موزوں ترین سمجھتے ہیں.گزشتہ دنوں نے حیدر سلطان راہی او معمر رانا کی آپس میں جھگڑے باتیں سامنے آئیں حیدر سلطان نے معمر رانا اور ہدایتکار مسعود بٹ کو آڑھے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا تھا کہ فلاپ فلموں کو ہٹ ظاہر کرنے سے فرق نہیں پڑتا جس پر معمر رانا اور مسعود بٹ نے ایک پریس کانفرنس کرکے حیدر سلطان کو اس رویے پر معافی مانگنے کا کہا.

  • کوہ سلیمان سے آنے والے سیلابی ریلے نے تباہی پھیلادی:ٹرینوں کا نظام درہم برہم

    کوہ سلیمان سے آنے والے سیلابی ریلے نے تباہی پھیلادی:ٹرینوں کا نظام درہم برہم

    کراچی:کوہ سلیمان سے آنے والے سیلابی ریلے نے تباہی پھیلادی،اطلاعات کےمطابق جھمپیر اور کوٹری کے ریلوے ٹریک کو 17 گھنٹے بعد بھی مکمل فعال نہ کیا جاسکا، کینٹ اسٹیشن پر ٹرینوں کا نظام درہم برہم ہوگیا۔

    اے آر وائی نیوز کے مطابق گذشتہ روز بلوچستان کے پہاڑی سلسلے کوہ سلیمان سے آنے والے سیلابی ریلے کے باعث کوٹری اور جھمپیر کے درمیان واقع ریلوے ٹریک کو شدید نقصان پہنچا تھا، سیلابی ریلہ ریلوے ٹریک پر بچھے پتھروں کو بہاکر لے گیا تھا جس کے باعث ڈاؤن ٹریک پر ٹرینوں کی آمدورفت معطل ہوگئی تھی۔

    ریلوے ذرائع کے مطابق سیلابی ریلے کے باعث اپ ٹریک پر پڑنے والے شگاف کو رات گئے ہی بھر دیا گیا تھا، تاہم ڈاؤن ٹریک پر کوئی خاطر خواہ کامیابی نہ مل سکی، یہی وجہ ہے کہ سترہ گھنٹے گزرنے کے بعد بھی ابھی تک ٹریک کو مکمل فعال نہیں کیا جاسکا۔

    ریلوے حکام کا کہنا ہے کہ ڈاؤن ٹریک پر شگاف کو مکمل طور پر بھرنے کے لئے کوٹری سے مال گاڑی کی مدد سے پتھر لائے جارہے ہیں، جسے بھرنے مزید ایک سے دو گھنٹے درکار ہیں۔

    حکام نے مزید بتایا کہ گذشتہ روز تاخیر کا شکار ہونے والی تمام گاڑیوں کو سات سے دس گھنٹے تاخیر کے بعد اپ ٹریک کے ذریعے اندرون ملک روانہ کیا گیا تاہم اندرون ملک سے آنیوالی تمام گاڑیوں کو مختلف اسٹیشنز پر روکا ہوا ہے۔

    خیبر میل،ہزارہ ایکسپریس،سکھرایکسپریس،قراقرم اور کراچی ایکسپریس اسٹیشنز کینٹ اسٹیشن پر رکی ہے جبکہ بزنس ایکسپریس، شاہ حسین ایکسپریس، ذکریا،علامہ اقبال،پاکستان ایکسپریس بھی کراچی کینٹ پر موجود ہیں۔

    اسی طرح ملت ایکسپریس،سرسید،گرین لائن،تیزگام،بولان میل،رحمان بابا،فریدایکسپریس اسٹیشنز پر موجود ہیں۔ریلوے ذرائع کا کہنا ہے کہ ٹریک بحال ہوتے ہی تیرہ گھنٹے تاخیر کا شکار عوام ایکسپریس کو پہلے روانہ کیا جائے گا۔

    ادھرلاہور سے ریلوے ذرائع کا کہنا ہے کہ بارشوں کی وجہ سے ہونے والے نقصان اورخراب صورتحال کی وجہ سے ٹرینوں کی آمدورفت متاثرہورہی ہے ، شدید بارشوں کے نتیجے میں لاہور سے اندرون ملک جانے والی کئی مسافر ٹرینیں تاخیر کا شکار ہیں۔

    ریلوے ترجمان کے مطابق قراقرم ایکسپریس 3بجےکے بجائے رات12بجےروانہ ہوگی۔

    پاک بزنس ایکسپریس شام4بجےکےبجائےرات3بجکر30منٹ پرروانہ ہوگی۔جبکہ شاہ حسین ایکسپریس7بجکر30منٹ کےبجائےصبح5بجکر30منٹ روانہ ہوگی۔

    ایسے ہی کراچی ایکسپریس5بجےکےبجائےرات1بجکر30پرروانہ ہوگی۔جبکہ ملت ایکسپریس شام3بجکر50منٹ کےبجائےرات3بجےروانہ ہوگی۔ریلوے حکام کے مطابق میانوالی ایکسپریس9بجےکےبجائےرات12بجکر30منٹ پرروانہ ہوگی۔

  • کملی ہٹ ہوئی تو شکرانے کے دو نفل پڑھے عمیر رانا

    کملی ہٹ ہوئی تو شکرانے کے دو نفل پڑھے عمیر رانا

    ہمیشہ ہی تنازعات کی زد میں رہنے والے عمیر رانا نے اپنے حال ہی میں ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ فلم کملی کی ریلیز سے پہلے میں بہت زیاد نروس تھا میں کیا پوری ٹیم ہی نروس تھی. ہمیں اتنا یقین تھا کہ ہم نے اچھا کام کیا ہے بہت محنت کی ہے لیکن لوگوں کا کچھ پتہ نہیں لگتا وہ کس چیز کو کب کتنا پسند کریں. جب فلم لگی اور لوگوں نے بے حد سراہی تو میں نے شکرانے کے نفل ادا کئے تھے. جس روز فلم لگی اس روز بس دھڑکن تمام دن تیز رہی کہ پتہ نہیں‌کیسی لگتی شائقین کو فلم.

    عمیر رانا نے کہا کہ ابھی تو فی الحال کملی کی کامیابی سے ہی لطف اندوز ہو رہا ہوں.ابھی کسی پراجیکٹ پر کام نہیں کررہا لیکن یقینا پائپ لائن میں‌کچھ پراجیکٹس تو ہیں.عمیر رانا نے کہا کہ اداکار کا کام اداکاری کرنا ہے لہذا مجھے ڈرامے اور فلم کے کام میں تو کوئی فرق نہیں لگتا بس ٹیکنیک کا فرق ہے.آرٹسٹ دونوں جگہ جم کر محنت کرتا ہے.آرٹسٹ صرف محنت کرتا صلہ خدا کی زات نے دینا ہوتا ہے. میں بہت خوش ہوں کہ چھوٹی عید پر فلمیں ریلیز ہوئیں اور اس عید پر بھی ریلیز ہونے جا رہی ہیں.یہ سلسلہ اسی طرح‌سے چلتے رہنا چاہیے.ابھی جو بھی فلمیں بن رہی ہیں سب دیکھی ہیں اچھی ہیں.اس وقت تعداد کی بجائے یہ دیکھا جائے کہ جو فلمیں بن رہی ہیں ان میں ہونے والا کام کیساہے. تعداد آہستہ آہستہ کرکے زیادہ ہوتی جائیگی.