Baaghi TV

Author: +9251

  • چاند پرقبضہ نہیں کررہے:ناسا امریکی آلہ کارنہ بنے:چین

    چاند پرقبضہ نہیں کررہے:ناسا امریکی آلہ کارنہ بنے:چین

    بیجنگ : چین نے پیر کو ناسا کے سربراہ بل نیلسن کے اس انتباہ کو ایک غیر ذمہ دارانہ بیان کے طور پر مسترد کر دیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ بیجنگ فوجی پروگرام کے ایک حصے کے طور پر چاند پر ’قبضہ‘ کر سکتا ہے۔ روئٹرز کی ایک رپورٹ کے مطابق چین کا کہنا ہے کہ اس نے ہمیشہ خلا میں قوموں کی برادری کی تعمیر پر زور دیا ہے۔ چین نے گذشتہ دہائی میں اپنے خلائی پروگرام کی رفتار تیز کرتے ہوئے چاند پر سائنسی تحقیق پر توجہ مرکوز کی ہے۔ چین نے 2013 میں اپنی پہلی چاند پر بغیر عملے کے لینڈنگ کی تھی اور توقع ہے کہ اس دہائی کے آخر تک خلابازوں کو چاند پر بھیجنے کے لیے طاقت ور راکٹ لانچ کیے جائیں گے۔

    ایسےآثارمل رہےہیں کہ چین پہلےچاند پرقبضہ کرے گاپھردنیا پرحکمرانی:ناسا سربراہ

    نیلسن نے ہفتے کو جرمن اخبار بِلڈ میں شائع ہونے والے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ’ہمیں بہت فکر مند ہونا چاہیے کہ چین چاند پر اتر رہا ہے اور کہہ رہا ہے اب یہ ہمارا ہے اور تم اس سے دور رہو۔

    امریکی خلائی ایجنسی کے سربراہ نے چین کے خلائی پروگرام کو ایک فوجی پروگرام قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس نے دوسروں سے آئیڈیاز اور ٹیکنالوجی چرائی۔ تاہم چینی وزارت خارجہ کے ترجمان ژاؤ لیجیان نے کہا کہ یہ پہلا موقع نہیں کہ امریکی نیشنل ایروناٹکس اینڈ سپیس ایڈمنسٹریشن کے سربراہ نے حقائق کو نظر انداز کیا ہو اور چین کے بارے میں غیر ذمہ دارانہ بات کی ہو

     

    ناسا کی ہبل اسپیس ٹیلی اسکوپ کی اب تک کی سب سے بڑی لی گئی تصویر

    انہوں نے چین کی عام اور معقول بیرونی خلا کی کوششوں کے خلاف مسلسل ایک مہم چلائی اور چین اس طرح کے غیر ذمہ دارانہ تبصروں کی سختی سے مخالفت کرتا ہے۔‘

    انہوں نے کہا کہ چین نے ہمیشہ خلا میں انسانیت کے مشترکہ مستقبل کی تعمیر کو فروغ دیا اور اس کے ہتھیار بنانے اور خلا میں کسی بھی ہتھیار کی دوڑ کی مخالفت کی ہے۔ ناسا اپنے آرٹیمس پروگرام کے تحت 2024 میں چاند کے گرد چکر لگانے اور 2025 تک قمری جنوبی قطب کے قریب عملے کے ساتھ لینڈنگ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

    ناسا نے مریخ پر سورج گرہن کی ویڈیو جاری کردی

    چین اس دہائی میں کسی وقت چاند کے قطب جنوبی پر بغیر عملے کے مشن بھیجنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔

  • مسلسل بارش سے نالہ لئی کی سطح خطرناک حد تک بڑھ گئی

    مسلسل بارش سے نالہ لئی کی سطح خطرناک حد تک بڑھ گئی

    اسلام آباد اور راولپنڈی میں پیر کی رات سے شروع ہونے والی طوفانی بارش کی وجہ سے نالہ لئی کی سطح میں خطرناک حد تک اضافہ ہوگیا ہے جبکہ نالہ لئی پر خطرے کے سائرن بھی بجا دیئے گئے ہیں۔

    سماء کے مطابق: پانی کی سطح 15 فٹ تک پہنچ گئی ہے، پاک فوج کے دستے کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کےلیے نالہ لئی پرموجود ہیں، ریسکیو 1122 کا عملہ بھی گوالمنڈی کے مقام پر نالہ لئی پر موجود ہے۔

    واسا کا عملہ متحرک ہوگیا ہے، ایم ڈی واسا کا کہنا ہے کہ جڑواں شہروں میں 60 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی جا چکی ہے، نالہ لئی میں کٹاریاں کے مقام پر پانی کا بہائو 12 فٹ جبکہ گوالمنڈی پل پر 9 فٹ ہے، شہر میں نشیبی علاقوں میں ہیوی مشینری پہنچا دی گئی ہے۔

    محکمہ موسمیات نے آئندہ 24 گھنٹوں میں مزید بارش کی پیشگوئی کی ہے۔

    قبل ازیں اسلام آباد، راول پنڈی سمیت ملک کے بیشتر علاقوں میں تیز ہواؤں کے ساتھ موسلادھار بارش سے جل تھل ایک ہوگیا۔ مری، وزیرآباد، گجرات سیالکوٹ اور دیگرشہروں میں بادل برس پڑے۔

    محکمہ موسمیات نے آج بھی ملک کے اکثر علاقوں میں بادل برسنے کی پیشگوئی کی ہے، بارشوں کا سلسلہ مزید چند روز تک جاری رہنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔

  • فلم قائداعظم زندہ باد کا پریمئیر آج لاہور میں ہوگا

    فلم قائداعظم زندہ باد کا پریمئیر آج لاہور میں ہوگا

    فضا علی مرزا اور نبیل قریشی کی فلم قائداعظم زندہ باد کا پریمئیر آج لاہور میں ہوگا پریمئیر میں فلم کی مرکزی کاسٹ کے علاوہ شوبز سے جڑی دیگر شخصیات بھی ہوں گی. فلم کے پریمئیر پر بہت کم لوگوں کو مدعو کیا گیا ہے.مخصوص نشستیں رکھی گئی ہیں اور مخصوص لوگوں تک دعوت نامے پہنچ چکے ہیں. ماہرہ خان اور فہد مصطفی سمیت فضا علی مرزا اور نبیل لاہور میں ہی موجود ہیں. فلم کی لاہور میں پچھلے ایک ہفتے سے پرموشن جاری ہے کاسٹ مختلف شاپنگ مالز سمیت دیگر

    جگہوں پر جاتی رہی اور وہاں جا کر اپنے پرستاروں سے ملتی رہی ان کو قائداعظم زندہ باد دیکھنے کےلئے پر جوش کرتی رہی.فلم کی پریس میٹ بھی ہو چکی ہے اور پرموشنز لاہور میں‌تقریبا آج ختم ہو چکی ہیں. بس اب اگر تیاریاں کی جا رہی ہیں تو وہ ہے جی فلم کا پریمئیر جس پر بہت کم لوگوں کو مدعو کیا گیا ہے.فلم کی پرموشنز جم کر کی گئیں ہیں اس میں کسی قسم کی کمی نہیں چھوڑی گئی.اب دیکھنا یہ ہے کہ فلم شائقین کو کتنی پسند آتی ہے.فلم کی کاسٹ ڈائریکٹر اور رائٹر کافی پرجوش ہیں ان کا کہنا ہے کہ ان کی فلم لوگوں کو سینما گھروں میں‌بار بار آنے پر مجبور کریگی.یاد رہے کہ فلم کی مرکزی کاسٹ میں ماہرہ خان اور فہد مصطفی ہیں دونوں پہلی بار ایک دوسرے کے ساتھ کام کررہے ہیں.

  • جب تک لوگ ٹکٹ خرید کر میرے لئے سینما جائیں گے کام کرتا رہوں گا ہمایوں سعید

    جب تک لوگ ٹکٹ خرید کر میرے لئے سینما جائیں گے کام کرتا رہوں گا ہمایوں سعید

    اداکار و پرڈیوسر ہمایوں سعید نے اپنے ایک حالیہ انٹرویو میں کہا ہے کہ جب تک میرے پرستار میرے لئے ٹکٹ خرید کر سینما کا رخ کرتے رہیں گے میں کام کرتا رہوں گا جس دن انہوں نے میرے لئے ٹکٹ خریدنا چھوڑ دی یا میرے لئے سینما گھر آنا چھوڑ دیا اس دن میں خود پیچھے ہٹ جائوں گا اور کام نہیں‌کروں گا. میرے پرستار چاہتے ہیں‌کہ میں‌ کام کروں اس لئے کام کررہا ہوں.ہمایوں سعید نے اپنی فلم لندن نہیں‌جائونگا کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ فلم دل سے بنائی ہے اس کی ساری کاسٹ نے بہت محنت کی ہے اور خلیل الرحمان قمر نے بہت خوبصورت انداز میں کہانی لکھی ہے یقینا شائقین کو

    پسند آئیگی. ہمایوں سعید نے کہا کہ میں نے کبھی اپنی کسی فلم کے بارے میں‌بڑے بڑے دعوے نہیں‌کئے میں تو بہت نروس ہوتا ہے کہ پتہ نہیں‌فلم لوگوں کو پسند آئیگی یا نہیں. ہمایوں سعید نے مزید یہ بھی کہا میں‌تین سال میں اداکاری کا ایک پراجیکٹ کرتا ہوں بطور پرڈیوسر مجھے سال کے دس گیاراں ڈرامے بنانے ہوتے ہیں یہ ذمہ داری کافی بڑی ہے اس لئے اداکاری کم کم کرتا ہوں وقت ہی نہیں‌ہوتا،. بھارت میں جا کر مہیش بھٹ کی دوستی میں ایک فلم میں‌کردار کیا تھا لیکن اس کے بعد ابھی تک جو بھی آفر آئی مصروفیت کی وجہ سے قبول نہیں‌کی. ہمارے اپنے ملک میں ہی اتنا کام اور مصروفیت ہے کسی دوسرے ملک جا کر کیا کام کریں .

  • آج بھی فلم ریلیز ہونی ہو تو نروس ہوتی ہوں مہوش حیات

    آج بھی فلم ریلیز ہونی ہو تو نروس ہوتی ہوں مہوش حیات

    اداکارہ مہوش حیات نے اپنے ایک حالیہ انٹرویو میں کہا ہے کہ آج بھی کوئی فلم ریلیز ہونی ہو تو بہت زیادہ نروس ہوتی ہوں. ابھی میری فلم لندن نہیں‌جائونگا ریلیز نہیں ہوئی لیکن مجھے ابھی سے سوچ کر بھی پسینے آجاتے ہیں کہ فلم کو دیکھ کر لوگوں‌کا ریسپانس کیسا ہوگا. اس انٹرویو میں مہوش حیات نے یہ بھی کہا کہ مجھ پہ جو بھی تنقید ہوتی ہے اس پہ میں‌ پریشان نہیں ہوتی بس اپنے کام سے کام رکھتی ہوں اور ویسے بھی مجھ سے محبت والے بھی مجھے یہی کہتےہیں کہ میں ایسی باتوں پر دھیان نہ دوں.مہوش حیات نے کہا کہ میں نمبر ون ہوں یا نہیں لیکن مجھے اتنا پتہ ہے کہ میں نے کام اچھا کرنا ہے.لندن نہیں

    جائونگا کے لئے ہم سب نے مل کر بہت محنت کی ہے یقینا لوگوں‌کو پسند آئیگی.ہمایوں سعید کے ساتھ کام کرنا ہمیشہ ہی بہت اچھا لگتاہے. مہوش حیات نے کہا کہ ہر عروج کو زوال ہے یہ چیز ہم سب کو سمجھنے کی ضرورت ہے اگر آج ہم مشہور ہیں کل کو ہو سکتا ہے کہ کل ہم مشہور نہ ہوں اسلئے بہت ضروری ہے کہ ہم اپنی شہرت کو سر پر سوار نہ کریں ایک نہ ایک دن تو شہرت کا سورج ڈھلتا ہی ہے.بس انسان کو کوشش کرنی چاہیے کہ وہ ایسے کام کرکے جائے ایسا اخلاق رکھے کہ کل کو آپ کے اخلاق اور کردار کی وجہ سے آپ کو یاد کیا جائے.یہ نہ دیکھا جائے کہ کام کتنا کیا ہے.

  • عمران کسی سفیر سے ملے تو ٹھیک کوئی اور ملے تو غلط

    عمران کسی سفیر سے ملے تو ٹھیک کوئی اور ملے تو غلط

    حال ہی میں سابق وزیراعظم عمران خان برطانوی سفیر سے ملاقات کی ہے لیکن اس پر انہیں صحافتی اور سیاسی حلقوں میں کافی تنقید کا سامنا ہے۔

    صحافی کامران یوسف کہتے ہیں کہ: عمران خان کہتے تھے کہ حزب اختلاف کے رہنماوں کا کیا کام ہے کہ وہ مغربی سفارت کاروں سے ملاقات کریں۔


    صحافی نے مزید کہا کہ: ویسے سفارت کاروں کا کام ہی یہی ہوتا ہے کہ وہ جس ملک میں بطور سفیر بھیجے گئے ان کے سیاستدانوں اور لوگوں کے ساتھ اچھے روابط بنائیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ: وہ الگ بات ہے کہ عمران خان ملیں تو ٹھیک ہے لیکن اگر ان کے مخالفین ملیں کسی سفارت کاروں سے ملاقات کرلیں تو سازش ہوگئی۔

    پروفیسر طارق رحمانی کا خیال ہے کہ: ‏عمران خان ملک کی سب سے بڑی جماعت کے سربراہ اور ایک سابق وزیراعظم ہیں

    ان سے سفارت کار کا ملنا سمجھ آتا ہے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ: عدم اعتماد کے دنوں میں امریکی سفارت کاروں کا ملک کے چھوٹے بڑے سیاستدانوں اور سزا یافتہ مجرم،  ملزم اور اداروں کے لوگوں سے ملنا سفارتی پروٹوکول کے خلاف تھا۔

  • ڈیرہ اسماعیل خان؛ نامعلوم افراد کی فائرنگ سے دو پولیس اہلکار شہید

    ڈیرہ اسماعیل خان؛ نامعلوم افراد کی فائرنگ سے دو پولیس اہلکار شہید

    ڈیرہ اسماعیل خان میں نئی سبزی منڈی موڑ پر نامعلوم افراد کی فائرنگ سے دو ٹریفک پولیس اہلکار جاں بحق ہوگئے۔

    پولیس کے مطابق: ڈیرہ اسماعیل خان میں نئی سبزی منڈی کے مقام پر نامعلوم افراد نے دو ٹریفک پولیس اہلکاروں پر فائرنگ کردی جس سے وہ شدید زخمی ہوگئے۔

    واقعے کی اطلاع ملنے پر ریسکیو اہلکاروں نے دونوں زخمی پولیس اہلکاروں کو اسپتال منتقل کیا جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جاں بحق ہوگئے۔

    پولیس کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں ٹریفک آفیسر شوکت خان اورحبیب اللہ شامل ہیں۔

  • پی ٹی آئی رہنماؤں کی کچھ ایسی ویڈیوز جو ٹی وی پر نہیں چل سکتی ۔ حامد میر

    پی ٹی آئی رہنماؤں کی کچھ ایسی ویڈیوز جو ٹی وی پر نہیں چل سکتی ۔ حامد میر

    معروف صحافی اور ٹاک شوکیپٹل ٹاک کے میزبان حامد میرنے نجی ٹی وی جیو نیوزسے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ:تین چار سال پہلے جج ارشد ملک کی ایک ویڈیو ٹیپ آئی تھی جس پر ان کے خلاف کارروائی ہوئی اور انہیں نوکری سے فارغ کیاگیا، اس پر سپریم کورٹ نے بھی ایکشن لیا اوراس کیس میں عدالت کا فیصلہ بھی موجود ہے۔

    سینئر صحافی کا کہنا تھا کہ : سپریم کورٹ کے فیصلے میں کہا گیا کہ جو آڈیو یا ویڈیو ہے اس کو قابل قبول بنانے کے لیے کیا کیا شرائط ہونی چاہئیں، اس فیصلے میں 21 شرائط لکھی گئی ہیں، اس میں اہم ترین شرط ہے کہ آڈیو یا ویڈیو ٹیپ جس نے ریکارڈ کی اسے عدالت میں بتانا ہوگا کہ یہ میں نے ٹیپ کی اور کیوں کی ہے، عدالتی فیصلے کے مطابق کسی بھی ٹیپ کو قابل قبول بنانے کے لیے اس کا فارنزک بھی ضروری ہے، اس کی ٹرانسکرپشن کو عدالت میں پیش کرکے میچ کیا جائے گا۔

    انہوں نے کہا کہ :ٹیپس کے معاملے پر پی ٹی آئی کی لیڈر شپ کے مؤقف میں کافی تضاد ہے، شہباز گل ٹیپ کو جعلی قرار دے رہے ہیں جب کہ شیریں مزاری کہہ رہی ہیں کہ یہ ٹیپ سکیور لائن سے ریکارڈ کی گئی ہے مگر شیریں مزاری کا مطالبہ جائز ہےکہ بتایا جائے یہ کس نے ٹیپ کی ہے۔

    حامد میر کا کہنا تھا کہ :اس کے علاوہ بھی ویڈیو ٹیپس کے بارے میں سن رہے ہیں، میرا خیال ہے وہ سامنے نہیں آئیں گی کیونکہ وہ سامنے لائی بھی جائیں تو آپ ان کو ٹی وی اسکرین پر پلے نہیں کرسکتے، جیسے جج ارشد ملک کی ویڈیو ٹیپ کے خلاف کارروائی ہوگئی لیکن وہ ٹی وی پر دکھانےقابل نہیں تھی۔

    انہوں نے مزید کہا کہ: اس طرح کی کچھ ٹیپس آسکتی ہیں، کچھ میں نے بھی دیکھی ہیں جو عمران خان کی نہیں پی ٹی آئی کے کچھ صاحبان کی تھیں، جب میں نے وہ دیکھیں تو افسوس ہوا اور میرا خیال ہے کہ وہ ٹی وی اسکرین پر نہیں چل سکتیں۔

    حامد میر کا جیو سے گفتگو میں کہنا تھا کہ: یہ ٹیپس آسکتی ہیں لیکن ان کی بنیاد پر کارروائی کا آگے بڑھنا کافی مشکل ہوگا۔

  • معاشی حالات بہتر ہوتے ہی عوام کو سہولیات دیں گے. وزیر اعظم

    معاشی حالات بہتر ہوتے ہی عوام کو سہولیات دیں گے. وزیر اعظم

    وزیراعظم شہباز شریف نے ایک بیان میں کہا ہے کہ معاشی حالات بہتر ہوتے ہی عوام کو مزید سہولیات فراہم کریں گے۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے سوشل میڈیا ہلیٹ فورم ٹوئٹر پر جاری کردہ ایک بیان میں کہا کہ: پہلے دن سےغریب ترین طبقے کو مشکل معاشی حالات کے اثر سےبچانا ہماری اولین ترجیح رہی ہے۔معاشی حالات بہتر ہوتے کے ساتھ ہی ہم عوام کومزیدسہولیات فراہم کریں گے۔

    پنجاب میں ماہانہ 100 یونٹس استعمال کرنے والوں کو مفت بجلی فراہم کرنے کے فیصلے سے متعلق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ وزیر اعلٰی پنجاب کا ماہانہ 100 یونٹس تک استعمال کرنے والےخاندانوں کے لیے بجلی کی مفت فراہمی کا اعلان نہایت خوش آئند ہے۔

    وزیر اعظم کے اس بیان کے بعد ایک شہری آصف نے سوال کیا کہ: یہ ریلیف حکومت پاکستان پورے پاکستان میں کیوں نہیں دیتی ہے؟ کیا بلوچستان،خیبر پختونخواہ، سندھ، آزاد کشمیر، گلگت بلتستان اور اسلام آباد میں پاکستانی نہیں بستے پنجاب کے جن حلقوں میں ضمنی الیکشن ہورہے ہیں وہاں لوڈشیڈنگ نہیں ہورہی کیا باقی پاکستانیوں کا یہ حق نہیں ہے؟


    ایک اور صارف گوہر علی نے کہا: بجائے یہ سیاسی سٹںنٹس کرنے کے بجلی پر سبسڈی دو جو دو ماہ میں بجلی کی قیمتیں بڑھائیں ہیں اسکو کم کرو.

  • 5 جولائی: جب بھٹو حکومت پر شب خون مارا گیا

    5 جولائی: جب بھٹو حکومت پر شب خون مارا گیا

    آج پانچ جولائی ہے اور یہ دن تاریخ کا وہ سیاح دن ہے جب ذولفقار علی بھٹو کی پہلی جمہوری حکومت پر رات کی تاریکی میں جنرل ضیاء الحق اور ان کے ہمنواؤں نے شب خوب مار کر مارشل لاء نافذ کردیا تھا.

    5 جولائی کی مناسبت سے پیپلزپارٹی کی جانب سے جاری کردہ ایک اعلامیہ میں کہا گیا ہےکہ: 5 جولائی 1977 تاریک کا وہ دن ہے جب شہید ذوالفقار علی بھٹو کی پہلی جمہوری حکومت پر شب خون مار کر ملک کو بدترین آمریت کے اندھیروں میں دھکیل دیا گیا۔

    مزید کہا گیا کہ:پاکستان کی تاریخ میں 5 جولائی ہمیشہ ایک سیاہ دن کے طور پر منایا جائے گا۔

    وفاقی وزیر اور پیپلزپارٹی کی رہنماء شیری رحمان کہتی ہے کہ: شہید ذوالفقار علی بھٹو کی آئینی حکومت پر اگر شب خون نا مارا جاتا تو آج پاکستان کا دنیا میں ایک الگ مقام ہوتا، عوامی حکومت کا غیر آئینی طور پر خاتمہ نا ہوتا تو آج عوام کی تقدیر بدل چکی ہوتی۔۔ہمیں نہیں بھولنا چاہئے کہ پاکستان کی ترقی اور استحکام آئین اور جمہوریت میں ہے۔

    جنرل ضیاء الحق وزیر اعظم ذولفقار علی بھٹو کو جھک کر ہاتھ ملاتے ہوئے

    انہوں نے مزید کہا کہ: ‏آمریت کے وہ 11 سال ہماری تاریخ کا سیاہ ترین دور کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔ ملک میں تقسیم، نفرت اور انتہاپسندی کی ایسی بنیادیں رکھیں گئی جن سے پاکستان آج تک نہیں نکل سکا۔ 45 سال پہلے ہونے والے اس آئینی اور جمہوری سانحہ کے اثرات ہمارہ آج تک پیچھا کر رہے ہیں۔

    ‏شیری رحمان کے مطابق: 45 سال پہلے آج کے دن جنرل ضیاء الحق نے پاکستان کی پہلی جمہوری حکومت اور آئین پر شب خون مارا۔ شہید ذوالفقار علی بھٹو، کارکنان اور تمام جمہوریت پسند عوام کو خراج پیش کرتی ہوں جنہوں نے آمریت کا ڈٹ کر مقابلا کیا، ضیاء الحق نے 11 سال آئین معطل کر کے ملک میں مارشل لا نافذ کیا۔

    سیاسیات کے پروفیسر طاہر نعیم ملک جنرل ضیاء الحق کے بیٹے اعجاز الحق کے ایک مضمون کا حوالہ دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ: "موروثیت پر تنقید کے نشتر برسانے والے مسلم لیگ (ضیا) کے صدر اعجاز الحق نے آج پانچ جولائی جو تاریخ کا سیاح دن ہے کو ایک مضمون میں اپنے والد جنرل ضیاء الحق کے نفاذ آمریت کو جائز، آئینی اور قانونی قرار دیا.

    سابق گورنر پنجاب اور پیلزپارٹی کے رہنماء سلمان تاثیر کی بییٹی سارہ تاثیر نے اپنے والد کی جنرل ضیاء مارشل لاء کے خلاف مزحمت کی تصویر شیئر کرتے ہوئے کہاکہ: میں نے ضیاء دور کی خوفناک دہائی میں زندگی گزاری ہے لیکن اب مجھے خوشی ہے کہ ہم نے جمہوریت اور آزادی اظہار کے لیے فوجی حکمرانی کے خلاف جنگ لڑی تھی۔

    وہ مزید لکھتی ہیں: ضیاء نے میرے والد کو لاہور کے ایک قلعہ میں قید کر دیا تھا اور ہمیں معلوم تک نہ تھا کہ وہ مر چکے ہیں یا زندہ ہیں وہ مہینوں تک قید رہے لیکن ہم اس آمریت کے خلاف لڑے.


    جبکہ چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے ایک بیان میں کہا کہ: ضیاء الحق کی آمریت پاکستان میں انتہاپسندی اور کلاشنکوف کلچر کی ماں ہے۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ: 5 جولائی قومی تاریخ کا سیاہ ترین دن ہے.

    بلاول کے مطابق: معاشرتی بیماریوں کے تانے بانے آمریت کے دور سے ملتے ہیں اور ذوالفقار علی بھٹو کو سیاسی منظر سے ہٹانے کے لیے عدالتی قتل کا اسٹیج تیار کیا گیا تھا.

    بلاول بھٹو زردری کہتے ہیں کہ: پیپلز پارٹی کی قیادت اور کارکنان جیلوں میں بند رہے اورعوام نے آمر کی غاصبانہ حکومت کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔