Baaghi TV

Author: +9251

  • جڑواں شہروں میں بارش: نشیبی علاقوں والے محتاط رہیں. محمکہ موسمیات

    جڑواں شہروں میں بارش: نشیبی علاقوں والے محتاط رہیں. محمکہ موسمیات

    محمکہ موسمیات والوں نے عوام کو خبردار کیاہے کہ مسلسل ہورہی بارش کے پیش نظر جڑواں شہروں اسلام آباد اور راولپنڈی کے وہ رہائشی جو نشیبی علاقوں میں رہتے ہیں محتاط رہیں.


    محکمہ موسمیات‏ کے مطابق: شمس آباد 11 اور چکلالہ میں 36 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوچکی جبکہ ‏سید پور ویلج 55 ملی میٹر، گولڑہ شریف میں 54، بوکھڑا میں 20 ملی میٹر بارش ریکارڈ‏ اور راولپنڈی، نالہ لئی کے قریب اب تک 39 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی ہے.

    (راولپنڈی میں بارش کے دوران رکشہ روڈ سے گزرتے ہوئے)

    دوسری جانب این ایچ ایم پی نے بھی خبردار کیا ہے کہ بارش کے سبب روڈ پر پھسنل ہے لہذا گاڑیوں کی رفتار میں خود کو محتاط رکھیں.

  • ملک بھر میں کورونا کے 600 سے زائد نئے کیسز رپورٹ

    ملک بھر میں کورونا کے 600 سے زائد نئے کیسز رپورٹ

    گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران پاکستان میں کورونا وائرس کے مثبت کیسز کی شرح 3.45 فیصد ریکارڈ کی گئی۔

    قومی ادارہ برائے صحت کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق 24 گھنٹوں میں 18 ہزار 950 کووڈ کے ٹیسٹ کیے گئے جن میں سے 653 افراد میں وائرس کی تشخیص ہوئی۔

    این آئی ایچ کے مطابق کئی روز بعد کورونا میں مبتلا کسی مریض کا انتقال نہیں ہوا جب کہ اب بھی 162 مریضوں کی حالت تشویشناک بتائی جارہی ہے۔

    واضح رہے کہ ملک بھر میں یومیہ رپورٹ ہونے والےکورونا کیسز میں صوبہ سندھ سب سے آگے ہے۔

  • کراچی یونیورسٹی حملہ کیس میں ملوث اہم دہشت گرد  گرفتار

    کراچی یونیورسٹی حملہ کیس میں ملوث اہم دہشت گرد گرفتار

    سی ٹی ڈی نے کراچی یونیورسٹی حملہ کیس میں ملوث اہم دہشت گرد کو گرفتار کرلیا ہے،ذرائع کے مطابق کراچی یونیورسٹی حملہ کیس میں بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے کراچی یونیورسٹی حملے میں ملوث دہشت گرد کو ٹیکنیکل اور دیگر شواہد کی مدد سے گرفتار کیا گیا ہے۔ذرائع کے مطابق گرفتار دہشت گرد سے ابتدائی تفتیش مکمل کرلی گئی، ممکنہ طور پر جلد ملزم کو سامنے لایا جائے گا۔

    زرائع کے مطابق دہشت گرد کا کراچی یونیورسٹی حملے کی خودکش بمبار کے شوہر سے تعلق تھا،دہشت گرد کو کشن اقبال کے علاقے سے حراست میں لیا گیا، دہشت کرد دو چینی انجنیئرز کے قتل میں بھی ملوث ہے، دہشت گرد کا تعلق قوم پرست جماعت سے ہے جو قانون نافذ کرنے والے ادارون کو مطلوب تھا. زرائع کے مطابق دہشت گرد کئی تخریب کاری کی وارداتون میں ملوث ہے،گرفتار دہشت گرد کو کراچی یونیورسٹی دھماکے سے قبل افغانستان بلوایا گیا تھا اور اسے وہاں دھماکہ خیز مواد تیار کرنے کی تعبیت بھی دی گئی تھی ،زرائع کے مطابق دہشت گرد کو افغانستان سے رقم بھی دی گئی تھی.

    دو روز قبل سی ٹی ڈی نے پنجاب میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کارروائیوں کے دوران 9 دہشت گرد گرفتاروں کو ھراست میں لیا تھا.ترجمان سی ٹی ڈی کے مطابق دہشت گردوں کے قبضے سے بارودی مواد ، اسلحہ ، خودکش جیکٹس برآمد ہوئی ہیں۔ سی ٹٰی ڈی ترجمان کے مطابق کارروائیاں گوجرانوالہ، لاہور، سرگودھا، ملتان، راولپنڈی میں کی گئی ہیں، گرفتار دہشت گردوں کے خلاف 7 مقدمات درج کر لیے گئے ہیں۔

    گرفتار دہشت گردوں میں یعقوب، عبدالصمد، بلال، عارف، امین ، فاروق اور آصف شامل ہیں اور ان میں سے 2 کا تعلق لاہور سے ہے۔ترجمان سی ٹی ڈی نے کہا ہے کہ ملزمان سے تفتیش جاری ہے، اہم انکشافات متوقع ہیں۔

  • بلوچستان میں طوفانی بارشیں،3 خواتین سمیت 6 افراد جاں بحق ،متعلقہ ادارے الرٹ

    بلوچستان میں طوفانی بارشیں،3 خواتین سمیت 6 افراد جاں بحق ،متعلقہ ادارے الرٹ

    بلوچستان بھر میں بارشوں کا سلسلہ جاری ہے، کوئٹہ میں چھتیں اور دیواریں گرنے سے3 خواتین سمیت 6 افراد جاں بحق اور 20 سے زاید زخمی ہوئے ہو گئے۔ مشرقی بائی پاس کے علاقے میں ڈیم کے قریب دو پچیاں برساتی پانی میں بہہ گئیں۔

    باغی ٹی وی کے مطابق کوئٹہ سمیت بلوچستان کے بیشتر اضلاع میں وقفے وقفے سے بارش کا سلسلہ جاری ہے، کوئٹہ میں طوفانی بارش سے نشیبی علاقے زیر آب آگئے، نواحی علاقوں میں درجنوں کچے مکانات کو نقصان پہنچا ہے.کوئٹہ کے علاقے سریاب میں چھت اور دیواریں گرنے سے 3 خواتین سمیت 6 افراد جاں بحق ہوئے، مشرقی بائی پاس کے علاقے میں ڈیم کے قریب دو پچیاں برساتی پانی میں بہہ گئیں جن کی تلاش جاری ہے،، شہر کے مختلف علاقوں میں 20 سے زاید افراد زخمی بھی ہوئے۔ ضلعی انتظامیہ اور ریسکیو ٹیموں کی جانب سے متاثرہ علاقوں میں امدادی کاروائیاں جاری ہیں۔

    کیسکو حکام کے مطابق شہر میں بجلی مرحلہ وار بحال کی جا رہی ہے جبکہ شہر کا بڑا حصہ صبح سے بجلی سے محروم ہے۔ مشیر داخلہ و پی ڈی ایم اے میرضیا لانگو نے حالیہ بارشوں سے پیدا ہونیوالی صورتحال پر کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں مون سون کی بارشیں گزشتہ روز سے شروع ہوچکی ہیں، بارشوں سےاب تک کوئٹہ میں 6 افراد جاں بحق ہوئے ہیں۔ ضرورت کے مطابق پی ڈی ایم اے کی جانب سے بارشوں سے متاثر ہونیوالے اضلاع میں امدادی سامان بھجوایا جا رہا ہے۔

    مشیر داخلہ نے بتایا کہ بارشوں کے بعد حکومت بلوچستان، پی ڈی ایم اے اور تمام متعلقہ ادارے الرٹ ہیں جہاں جس چیز کی ضرورت ہوگی وہاں پہنچائی جائے گی تاہم ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے بلوچستان کے تمام ڈویژنل اور ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر میں پی ڈی ایم اے کے آفس بنائے جائیں گے۔

    دوسری طرف محکمہ موسمیات کے مطابق بحیرہ عرب اور خلیج بنگال سے مرطوب ہوائیں داخل ہونے کے نتیجے میں ملک میں گزشتہ کئی دنوں سے مون سون کی بارشوں کا سلسلہ جاری ہے،پیر کو سندھ، کشمیر اور بلوچستان سمیت ملک کے مختلف حصوں میں بارشیں ہوئیں۔ سب سے زیادہ بارش بالا کوٹ میں40 ملی میٹر ہوئی۔ سرجانی کراچیاور سکھر میں 23 جبکہ جیکب آباد میں 19ملی میٹر بارش ہوئی۔ بلوچستان میں سب سے زیادہ بارش لسبیلہ میں 33 ملی میٹر، جبکہ کوئٹہ اور پنجگور میں 22 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔محکمہ موسمیات نے خبردار کیا کہ آئندہ دو دنوں تک بلوچستان، پنجاب، سندھ اور کشمیر میں بارشوں کا سلسلہ جاری رہنے کا امکان ہے۔

  • آصف علی زرداری سے بلوچستان کے وزیراعلیٰ کی ملاقات،اہم معاملات پر مشاورت

    آصف علی زرداری سے بلوچستان کے وزیراعلیٰ کی ملاقات،اہم معاملات پر مشاورت

    پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین اور سابق صدر آصف علی زرداری سے بلوچستان کے وزیراعلیٰ عبدالقدوس بزنجو نے ملاقات کی ہے۔ بلاول ہاؤس کراچی میں ہونے والی ملاقات میں صوبائی وزیر آبپاشی محمد خان لہری بھی موجود تھے۔

    پیپلز پارٹی کے مطابق عبدالقدوس بزنجو کے ساتھ آئے وفد نے آصف علی زرداری سے بلوچستان میں پانی کی قلت کے مسائل سے آگاہ کیا۔سابق صدر آصف زرداری نے بلوچستان میں پانی کے بحران پر تشویش ظاہر کی اور وفد کو مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ ذرائع کے مطابق اصف زرداری اورعبدالقدوس بزنجو کے درمیان ملاقات میں سیاسی معاملات پر بھی کفتگو ہوئی. دونوں رہنماوں نے اہم معاملات پر مشاورت بھی کی.

    سابق صدر نے کہا کہ پیپلز پارٹی بلوچستان کے مسائل کے حل کے لیے مثبت کردار ادا کرتی رہے گی، ہم نے ہمیشہ بلوچستان کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا ہے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ بلوچستان کے عوام کو ہم کسی صورت تنہا نہیں چھوڑیں گے۔

    دوسری طرف مشیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگونے بلوچستان میں بارشوں کے پیش نظر محکمہ پی ڈی ایم اےاور ضلعی انتظامیہ کے متعلقہ اداروں کو الرٹ رہنے کا حکم دیا ہے.کوئٹہ سمیت بلوچستان کے مختلف شہروں میں بارشوں کا سلسلہ جاری ہے ،محکمہ مومسیات کی جانب سے صوبہ بلوچستان میں مون سون بارشوں کے غیر معمولی ہونے کی وجہ سے تباہی کا خدشہ ہے۔ مشیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو  نے ،  ریسکیو 1122، پی ڈی ایم اے اور متعلقہ اداروں کو الرٹ رہنے کا حکم دیا ہے۔

    مشیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو کا کہنا ہے کہ نشیبی علاقوں سے نکاسی آب مقرر کردہ وقت میں مکمل کیا جائے،افسران خود فیلڈ میں نکلیں اور نکاسی آب کے کام کی نگرانی کریں۔ ٹریفک کو رواں دواں رکھنے کے لیے موثر ٹریفک منیجمنٹ کو یقینی بنایا جائے۔کسی بھی ناخوشگوار واقعہ کی صورت میں متعلقہ ادارے بروقت موقع پر پہنچیں اور فی الفور امدادی سرگرمیاں شروع کی جائیں۔

  • ایشیائی ترقیاتی بینک کے تعاون سے جاری منصوبوں کو بروقت مکمل کریں گے،مفتاح اسماعیل

    ایشیائی ترقیاتی بینک کے تعاون سے جاری منصوبوں کو بروقت مکمل کریں گے،مفتاح اسماعیل

    وفاقی وزیرخزانہ ومحصولات ڈاکٹرمفتاح اسماعیل نے کہاہے کہ ایشیائی ترقیاتی بینک پاکستان کی اقتصادی اورسماجی ترقی میں اہم کرداراداکررہاہے۔انہوں نے یہ بات پاکستان میں ایشیائی ترقیاتی بینک کے کنٹری ڈائریکٹرینگ یی کی قیادت میں وفدسے ملاقات میں گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ اس موقع پرپاکستان میں ایشیائی ترقیاتی بینک کے دوسرے اہلکار اوروزارت خزانہ کے سینئرحکام بھی موجودتھے۔

    سابقہ حکومت نے بجلی کی پیداوار نہ بڑھا کر مجرمانہ غفلت کی،وفاقی وزراء

    وزیرخزانہ نے وفد کا پرتپاک خیرمقدم کیا اورپاکستان میں پائیداربڑھوتری کیلئے اصلاحات کے عمل میں بینک کے کردارکی تعریف کی۔وزیرخزانہ نے وفد کوپاکستان کی اقتصادی صورتحال اورملک میں پائیداراقتصادی نموکیلئے حکومت کی جانب سے بجٹ اوردیگراقدامات کے بارے میں تفصیلی طورپرآگاہ کیا۔انہوں نے وفد کو ریونیو اوردیگرشعبوں کیلئے مقررکردہ اہداف کے بارے میں بھی بتایا۔وزیرخزانہ نے کہاکہ حکومت نے جامع اورپائیداراقتصادی ترقی کیلئے موثراصلاحات پرتوجہ موکوزکررکھی ہے۔

     

    100 یونٹ استعمال کرنے والےگھریلو صارفین کی بجلی مفت،حمزہ شہباز کا بڑا اعلان

    ایشیائی ترقیاتی بینک کے صدرنے وزیرخزانہ کوپاکستان میں توانائی اورسماجی تحفظ کے شعبہ جات میں بینک کی معاونت اوراس حوالہ سے پیش رفت سے آگاہ کیا۔انہوں نے بتایا کہ بینک نے پاکستان کیلئے پانچ سال کنٹری پارٹنرشپ سٹریٹجی بنائی ہے جو حکومت پاکستان کی ترقیاتی ترجیحات کے عین مطابق ہے۔وزیرخزانہ نے ملک کی سماجی اوراقتصادی ترقی میں بینک کے کردارکی تعریف وتائیدکی۔

    انہوں نے وفد کویقین دلایا کہ بینک کے تعاون سے جاری منصوبوں کی بروقت تکمیل کویقینی بنانے میں حکومت مکمل معاونت فراہم کرے گی۔دریں اثنا وزیرخزانہ سے سیکورٹیز اینڈایکسچینج کمیشن آف پاکستان کے چئیرمین عامرخان نے ملاقات کی۔ملاقات میں سیکورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن سے متعلق امورزیربحث آئے۔

  • ایم کیو ایم رہنما بابر غوری وطن واپسی پرکراچی ایئر پورٹ سےگرفتار

    ایم کیو ایم رہنما بابر غوری وطن واپسی پرکراچی ایئر پورٹ سےگرفتار

    متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے رہنما بابر خان غوری کو کراچی ایئرپورٹ سے گرفتار کرلیا گیا۔

    ذرائع کے مطابق بابر غوری کے خلاف کرپشن اور دہشت گردی کے مقدمات درج ہیں۔ تاہم پولیس حکام کے مطابق بابر غوری کو کل عدالت میں پیش کیا جائیگا۔حکام کے مطابق بابر غوری کی وطن واپسی سے متعلق پولیس کو الرٹ کیا ہوا تھا۔بابر خان غوری رات پونے 10 بجے امارات ایئر لائن کی پرواز ای کے 602 سے کراچی پہنچے۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ایم کیو ایم کے سینئر رہنما بابر غوری کو وطن واپسی پر گرفتار کر لیا گیا، بابر غوری کو ایئر پورٹ سے گرفتار کیا گیا، وہ کرپشن مقدمات میں نیب کو مطلوب ہیں۔ جیسے ہی بابر غوری کراچی پہنچے تو انہیں پولیس نے ائیرپورٹ کے احاطے سے گرفتار کرلیا۔ مختلف تھانوں میں بابر غوری کےخلاف دہشت گردی کے مقدمات ہیں، بابر غوری کو کل عدالت میں پیش کیا جائےگا۔

    خیال رہے کہ بابر غوری 2008 میں بننے والی پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی حکومت کا حصہ تھے اور انہوں نے حکومت کی اتحادی جماعت کے سینیٹر کی حیثیت سے وفاقی وزیر کا قلم دان سنبھالا تھا۔

    بابر غوری کو وفاقی وزیر پورٹس اینڈ شپنگ بنایا گیا تھا تاہم 2013 میں مرکز میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حکومت بنی اور کراچی میں رینجرز نے آپریشن شروع کیا اور بعد ازاں بابرغوری ملک سے باہر چلے گئے تھے، جس کے بعد وہ لوٹ کر دوبارہ پاکستان نہیں آئے تھے۔واضح رہے کہ چند سال قبل قومی احتساب بیورو نے متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے رہنما بابر غوری سمیت 3 افراد کو مفرور قرار دینے کے لیے اشتہارات دیے تھے۔

    گزشتہ ماہ نجی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے بابر غوری نے کہا تھا کہ پاکستان واپسی کا ارادہ مؤخر نہیں کیا جلد واپس آکر کیسز کا سامنا کروں گا۔ عدالت کی اجازت ملنے پر پہلی فلائٹ سے آجاؤں گا، وطن واپسی ميں کوئی رکاوٹ ہوئی تو سامناکروں گا۔ کيا ميرا قصور یہ ہے کہ میں اپنے وطن واپس آناچاہتاہوں؟ کیا عدلیہ کے آگے سرنڈر کرکے اپنے بے گناہی ثابت کرنا میرا قصور ہے۔ ميرے دور ميں اتنا کام ہوا جتنا75سال ميں نہيں ہوا جہاں تک کیسز کا تعلق ہے جے آئی ٹی نے 2016 ميں مجھےکلين چٹ دی تھی۔

    سابق وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ میں تو وطن آرہا ہوں جتنا پوچھ گچھ کرنا ہے کرلیں، یہ عجیب بات ہے کہ جس وقت بیرون ملک گیا تو کہا گیا کہ بھاگ گیا ہوں اب جب واپس آرہاہوں تو مجھے روکا جارہا ہے۔ مارچ2015 ميں پاکستان سے نکلا تو ميرے پيچھے کيسز بنے، میرا ضمیر مطمئن ہے اسلئے تو واپس آرہا ہوں۔

    بابر غوری کا کہنا تھا کہ میرا کسی سے کوئی سیاسی رابطہ نہیں ہے، فی الحال سياست ميں آنے کا کوئی ارادہ بھی نہيں مگر ایم کیو ایم یا پی ایس پی میں سے کسی پارٹی نے رابطہ کیا تو پھر سوچوں گا۔ سابق گورنر سندھ عشرت العباد سے رابطہ ہوا ہے لیکن کوئی سياسی بات نہيں ہوئی، نہ انہوں نے کی نہ میں نے سیاسی بات کی۔

  • بلوچستان حکومت حادثے میں جاں بحق افراد کے لواحقین کی مالی معاونت کرے،مصطفیٰ کمال

    بلوچستان حکومت حادثے میں جاں بحق افراد کے لواحقین کی مالی معاونت کرے،مصطفیٰ کمال

    پاک سر زمین پارٹی کے چیئرمین سید مصطفیٰ کمال اور مرکزی وائس چیئرمین عطاء الله کرد نے راولپنڈی سے کوئٹہ جانے والی بس کے حادثے کے نتیجے میں طالب علموں سمیت متعدد افراد کے جاں بحق اور زخمی ہونے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔

    پاکستان ہاؤس سے جاری ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ بلوچستان بھر میں شاہراہیں خستہ حال اور یک رویہ ہونے کے باعث ٹریفک حادثات اور انکے باعث قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع معمول بن چکا ہے لیکن بے حس حکمرانوں کے جان پہ جوں تک نہیں رینگتی۔ جب تک شاہراہوں کی معیاری تعمیر اور ڈبل کیرج یقینی نہیں بنایا جاتا بلوچستان کے لوگ لاشیں اٹھاتے رہیں گے۔

    بارش کے بعد پھسلن کے باعث حادثات پیش آنا معمول بن چکا ہے حکومت اس پہاڑی علاقے میں سڑک کو سفر کے قابل بنانے کیلئے ہنگامی بنیادوں پر اقدمات کرے تاکہ مستقبل میں اس قسم کے دلخراش واقعات سے بچا جاسکے۔ وفاقی اور صوبائی حکمرانوں کی بلوچستان سے محبت اخباری بیانات تک محدود ہے۔ اس المناک حادثے میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر دلی دکھ ہے اور غم کی گھڑی میں سوگوار خاندانوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔

    مصطفی کمال نے بلوچستان کی صوبائی حکومت سے حادثے میں جاں بحق افراد کے لواحقین کے لیے مالی معاونت اور زخمیوں کے بہترین علاج معالجے کی سہولیات فراہم کر نے مطالبہ کیا ۔ سید مصطفی کمال اور عطاء الله کرد نے جاں بحق ہونے والے افراد کے لواحقین سے دلی تعزیت و ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے جاں بحق ہونے افراد کی مغفرت اور زخمی افراد کے لیے جلد و مکمل صحتیابی کے لئے دعا کی۔

  • نیشنل سکیورٹی کا اہم اجلاس، طاقت کا استعمال صرف ریاست کا اختیار ہے،اعلامیہ

    پارلیمانی کمیٹی برائے نیشنل سکیورٹی کا اہم اجلاس پارلیمنٹ ہاﺅس میں وزیراعظم شہبازشریف کی صدارت میں منعقد ہوا جس میں قومی پارلیمانی وسیاسی قیادت، چئیرمین سینٹ، پارلیمانی کمیٹی برائے قومی سلامتی ، دفاع سے متعلق قومی اسمبلی وسینٹ کی مجالس قائمہ کے اراکین، وفاقی وزرا، صوبائی وزرا اعلی کے علاوہ گلگت بلتستان کے وزیراعلی ، وزیراعظم آزاد ریاست جموں وکشمیر اور عسکری قیادت نے شرکت کی۔

    اجلاس کو قومی سلامتی کے امور اور کالعدم ٹی ٹی پی کے ساتھ ہونے والی حالیہ بات چیت سے متعلق آگاہ کیاگیا۔ شرکاءنے اعادہ کیا کہ دہشت گردی اور انتہاءپسندی کے خلاف پاکستان نے غیرمعمولی کامیابیاں حاصل کی ہیں جن کا عالمی سطح پر اعتراف کیاگیا ہے۔ اجلاس نے قوم اور سکیورٹی فورسز کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کیا جن کی وجہ سے ملک کے تمام حصوں میں ریاستی عمل داری یقینی ہوئی۔

    اجلاس نے اعادہ کیا کہ دستور پاکستان کے تحت طاقت کا استعمال صرف ریاست کا اختیار ہے۔ اجلاس نے سانحہ ’اے۔ پی۔ ایس‘ سمیت دہشت گردی کا نشانہ بننے اور اِس کے خلاف کارروائی کے دوران شہید ہونے والوں کی قربانیوں کا اعتراف کرتے ہوئے واضح کیا کہ ریاست پاکستان اپنے شہداءکی قربانیوں اور متاثرہ خاندانوں کی امین ومحافظ تھی، ہے اور رہے گی۔

    اجلاس نے بہادر قبائلی عوام کو بھی زبردست خراج تحسین پیش کرتے ہوئے اعتراف کیا کہ اُن کی قربانیوں اورکلیدی حمایت سے شدید مشکلات اور مصائب کے بعد امن واستحکام کی منزل حاصل ہوئی ۔ اجلاس کو بتایاگیا کہ سکیورٹی فورسز کی موثراور عملی کارروائیاں کلیر ،ھولڈ، تعمیر اور اختیارات کی سول انتظامیہ کو منتقلی*‘ کی حکمت عملی کا حصہ ہیں۔ اجلاس نے زور دے کر کہاکہ پاکستان کے عوام کی خواہشات کے مطابق ریاست ان علاقوں کو بااختیار بنانے اور اِن کی خوش حالی کے لئے پختہ عزم پر کاربند ہے۔

    افغان حکومت کی معاونت اور سول و فوجی حکام کی قیادت میں حکومت پاکستان کی کمیٹی کالعدم ٹی ٹی پی کے ساتھ آئین پاکستان کے دائرہ کار کے اندر رہتے ہوئے بات چیت کررہی ہے تاکہ علاقائی اور داخلی امن کو استحکام مل سکے۔ اجلاس نے قرار دیا کہ حتمی نتائج پر عمل درآمددستور پاکستان کی حدود قیود کے اندر ضابطے کی کارروائی کی تکمیل اور حکومت پاکستان کی منظوری کے بعد ہوگا۔ پارلیمانی کمیٹی برائے قومی سلامتی نے بات چیت کے اس عمل کو آگے بڑھانے کی باضابطہ منظوری دے دی جبکہ ایک ’پارلیمانی اوورسائیٹ کمیٹی‘ تشکیل دینے کی بھی منظوری دی جوآئینی حدود میں اس عمل کی نگرانی کی ذمہ دار ہوگی۔اجلاس نے ’نیشنل ۔گرینڈ ۔ری کنسی لی۔ ایشن۔ ڈائیلاگ‘ کی اہمیت کی تائید کرتے ہوئے قرار دیا کہ آج کی نشست اس سمت میں پہلا قدم ہے۔

    سابقہ حکومت نے بجلی کی پیداوار نہ بڑھا کر مجرمانہ غفلت کی،وفاقی وزراء

    100 یونٹ استعمال کرنے والےگھریلو صارفین کی بجلی مفت،حمزہ شہباز کا بڑا اعلان

     

    قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس کے موقع پر پارلیمنٹ کے اندر اور باہر سکیورٹی کے خصوصی انتظامات کئے گئے ہیں۔ واضح رہے کہ قومی سلامتی کمیٹی کے اراکین کے ساتھ ساتھ دونوں ایوانوں کے 140 اراکین کو اجلاس میں شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔ قومی اسمبلی گذشتہ ماہ ایک قرارداد کے ذریعے قومی اسمبلی ہال کو قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس کے سلسلہ میں استعمال کرنے کی منظوری دے چکی ہے۔

  • نواز شریف نے سی پیک اور عمران نےجی پیک بنایا،مریم نواز

    نواز شریف نے سی پیک اور عمران نےجی پیک بنایا،مریم نواز

    مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کو پٹرول ڈیزل کی قیمتیں دل پر پتھر رکھ کر بڑھانی پڑی وہ معاہدہ کس نے کیا تھا،کس کے آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے پر ہمیں قیمتیں بڑھانی پڑی مجھے بتائیں؟،اگر قیمتیں نہ بڑھاتے تو ملک دیوالیہ ہوجاتا، نواز شریف نے کہا عوام میں جاؤ اور ان کو بتاؤ مشکل وقت میں ان کے ساتھ کھڑے ہیں،مگر اپ جانتے ہیں کہ ئی قیمتیں کس کی وجہ سے برھی ہیں.آج حمزہ شہباز نے اعلان کیا ہے کہ جو 100 پونٹ سے کم بجلی کے یونٹ استعمال کرے گا اس کو بل نہیں آئے گا، مسلم لیگ ن نے یہ فیصلہ اس وقت کیا جب ضزانہ خالی ہے مگر ہم عوام کو ریلیف دیں گے مریم نواز نے کہا کہ 75 سال میں کھبی ایسا ہوا کہ آپ بجلی استعمال کریں اور بل نہ ائے،انہوں نے کہا کہ میرا بس چلے تو سب کچھ آپ کیلئے لے آون،مشکل حالات میں بھی شہباز شریف نے یوٹیلیٹی سٹور پر قیمیتں نہیں بڑھائیں .ابھی ہمیں آئے ہوئے ڈھائی مہینے ہوئے ہیں انشاء اللہ وہ وقت دور نہیں جب غریب پیٹ بھر کر روٹی کہائے گ، پاکستان کا پالا ایک ایسے شخص سے پڑ گیا ہے جو سب سے بڑا فتنہ سب سے بڑا بہروپیا ہے.

    مریم نواز نے پی پی 170 کے ضمنی الیکشن کے سلسلے میں وزکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہیمین تاریخ کے سب سے بڑے بہروپئے کا سامنا ہے،عون چوہدری ،علیم خان اور عظمی کارردار بنی گالہ سے طوبہ طوبہ کر کے نکلے،انہوں نے کہا کزشتہ 4 سالوں میں عمران خان نے دوستون کو بوازا،مریم نواز نے کہا فتنا خان پیجاب کے حق پر پھر داکہ ڈالنے کیلئے تیار ہے مگر پنجاب کے عوام جانے ہیں کہ تم کون ہو، فتنہ خان کی سیاست کا اب خاتمہ ہونے والا ہے .

    رہنما مسلم لیگ ن مریم نواز نے کہا کہ لوگوں کو کہتا تھا یہ امریکہ کے غلام ہیں ،لوگوں کو سازش اور خط کے پیچھے لگادیا، چار سال پاکستان آزاد تھا اور جب کرسی گئی تو سازش ہوگئی،کہتا تھا ڈونلڈ لو نے مجھے دھمکی دی تھی دو دن پہلے اپنا ایک بندہ ڈونلڈ لو کے پاس بھیجا ہمیں معاف کردو،لوگوں کو غدار کہتا رہا اللہ کا شکر ہے میرے حوالے سے کچھ ثابت نہ کرسکا ،اپنی پنکی پیرنی ثابت آگئی کہ مجھ پر یا فرح گوگی پر الزام لگائے تو غداری کا ٹرینڈ چلاؤ،مذہب کو دکھاوے، سیاست کے لئے استعمال کرنا اس سے بڑا جرم کوئی نہیں، فتنہ خان وہ شخص ہے مذہب کی آڑ میں گولیاں لگوائی، اپنی باری آئی تو پیچھے شخص نے کہا خان صاحب اسلامی ٹچ تو دیں، لوگوں کو چور اور ڈاکو کہنے والا پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا وارداتیہ نکلا.

    مریم نواز نے کہا کہ علیم خان صاحب ہوں ، جہانگیر ترین ، عون چوہدری یہ پارٹی سے توبہ توبہ کرکے نکلے کہ اتنا کرپٹ آدمی ہے.نواز شریف پر الزامات لگے ایک بھی ثابت نہ ہوسکا، نواز شریف کو کوئی کبھی کوئی چھوڑ کر نہیں گیا اگر گیا تو اس نے کہا میں نے نواز شریف کو کرپٹ نہیں دیکھا،جو بھی نواز شریف کو چھوڑ کر گیا باہر جا کر نواز شریف کی شرافت کی ضمانت دی،انہون نے کہا کہ ایک فتنہ جس کی نظر پھر پنجاب پر ہے وہ پنجاب پر پھر ڈاکہ ڈالنا چاہتا ہے،پنجاب اور لاہور شیر کو ووٹ دیتا ہے،پنجاب کے دشمن کا نام عمران خان ہے، پنجاب اور پورے پاکستان سے تمھاری سیاست کا صفایا ہونے جارہا ہے،بارہ کروڑ کے صوبے پر ایک گینگ حکومت کررہا تھا یہ بنی گالہ گینگ تھا.

    مریم نواز کا کہنا تھا کہ اس گینگ میں پنکی پیرنی، فرح گوگی، پنکی پیرنے کے بچے شامل تھے،شیر واپس آگیا ہے پنجاب دن دگنی رات چگنی ترقی کرے گا،بتاؤ سی پیک کس نے بنایا تھا، نواز شریف نے سی پیک بنایا اور پاکستان میں سڑکوں کے جال بنائے،مگرعمران خان نے گوگی پنکی اکنامک کوری ڈور بنایا ،عوام کا مال سیدھا بنی گالہ جاتا تھا، وعدہ کرو چوہدری امین کو الیکشن جتواؤ گے، یہ بازو آپ کے آزمائے ہوئے ہیں آپ کو مایوس نہیں کریں گے ، وعدہ کرو ن لیگ کا ساتھ دو گے، نواز شریف، شہباز شریف اپنی ترقی کا ساتھ دو گے،سترہ جولائی کو کوئی بھی گھر نہ بیٹھنا یہ پنجاب کی ترقی کی جنگ ہے..انہوں نے کہا کہ ہمارے دل پر بوجھ ہے ،ہمیں راتوں کو نیند نہیں اتی.