Baaghi TV

Author: +9251

  • امریکی اہلکار سے معذرت ،دوغلی پارٹی کا مکروہ چہرہ سامنے آ گیا،حسن مرتضیٰ

    امریکی اہلکار سے معذرت ،دوغلی پارٹی کا مکروہ چہرہ سامنے آ گیا،حسن مرتضیٰ

    لاہور:پیپلزپارٹی کے پنجاب میں سیئر صوبائی وزیر سید حسن مرتضیٰ کا کہنا ہے کہ امریکی اہلکار سے معذرت ،دوغلی پارٹی کا مکروہ چہرہ سامنے آ گیا. سید حسن مرتضیٰ نے سماجی رابظے کی ویب سایئٹ ٹویٹر پر اپنے پیغام میں تحریک انصاف کو تیقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ یہ تو ہم کوئی امریکہ کے غلام ہیں کہتے نہیں تھکتے تھے۔ ڈونلڈ لو کو دوستی کی پیشکش کرنیوالے خود کو میر جعفر کہیں گے یا میر صادق، سیئر صوبائی وزیر نے کہا کہ کپتان اور پیرنی کے کرتوت پوری قوم پر واضح ہو رھے ہیں.

    سیئر صوبائی وزیر سید حسن مرتضیٰ کا کہنا ہے کہ توشہ خانے کا چور اپنے مخالفین پر گند اچھال کر سرخرو نہیں ہو سکتا،امپائرز پر جانبداری کا الزام لگانیوالے کو اپنے دور حکومت میں بھی شکست ہوئی تھی۔ تم مانو نہ مانو ،اتحادی حکومت کو اپنا مینڈیٹ منوانا آتا ہے۔ تحریک انتشار کو تباہ حال معیشت میں بہتری پسند نہیں ہے.انہوں نے کہا آئی ایم ایف کا اصل پٹے دار نیازی ہے جسکی سزا ساری قوم بھگت رہی ہے۔

    علاوہ ازیں سینئر صوبائی وزیر سید حسن مرتضی کی قیادت میں پیپلز پارٹی پنجاب کی پارلیمانی پارٹی نے چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری سے ملاقات کی اور ان کی دادی کے ایصال ثواب کے لئے فاتحہ خوانی کی،

    مزید برآں پاکستان پیپلز پارٹی وسطی پنجاب کے زیر اھتمام پانچ جولائی کے یوم سیاہ پر ملک بھر کی طرح وسطی پنجاب کے چھ ڈویژنوں اور 24اضلاع میں پارٹی تنظیموں کے زیر اہتمام سیمنار،ریلیوں اور جلسوں کا اہتمام کیا گیا ہے جس میں ڈکٹیٹر ضیاء الحق کی طرف سے ذوالفقار علی بھٹو کی جمہوری حکومت پر شب خون مارنے کیخلاف احتجاج کیا جائیگا۔

    اس سلسلے میں پیپلز لائرز فورم کے زیر اہتمام 4جولائی بروز پیر 11بجے ڈاکٹر جاوید اقبال آڈیٹوریم لاہور ہائیکورٹ بار میں ہونے والے یوم سیاہ کے سیمنار سے سینئر صوبائی وزیر سید حسن مرتضی بطور مہمان خصوصی خطاب کرینگےجبکہ چیئر مین اینٹی کرپشن کمیٹی پنجاب بار کونسل راحیل کامران چیمہ نے5جولائی کے سقوط جمہوریت پر 5جولائی بروز منگل 12:00 بجے دن ڈاکٹر جاوید اقبال آڈیٹوریم لاھور ھائیکورٹ میں ایک سیمینار کا اہتمام کیا ہےجسمیں پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر نفیسہ شاہ،سابق صدر سپریم کورٹ بارعلی احمد کرد،سینئر تجزیہ کار،ایاز امیر،امجد اقبال خان ، چوہدری مبشر رحمان اور ذوہیب بٹ خطاب کرینگے. ۔

  • ہندوستان:اودے پور میں کرفیو میں نرمی

    ہندوستان:اودے پور میں کرفیو میں نرمی

    راجستھان:ہندوستان کے شہر اودے پور میں کرفیو میں نرمی ،اطلاعات کے مطابق ہندوستان کی ریاست راجستھا ن کے شہر اودے پور میں جاری کرفیو میں اتوار کو دس گھنٹے کی نرمی کی گئی ۔

    ہندوستانی میڈیا رپورٹوں کے مطابق ریاست راجستھان کے شہراودے پورمیں کنہیا لال قتل کیس کے بعد مختلف تھانہ حدود میں نافذ کرفیو میں اتوار کو چھٹے دن دس گھنٹے کی نرمی کی گئی۔

    اس رپورٹ کے مطابق اتوار کو کرفیو میں صبح آٹھ بجے سے چھے بجے تک نرمی کی گئی۔
    اس دوران لوگوں کو ان علاقوں میں کھلی دکانوں پر اپنی ضرورت کے سامان کی خریداری کرتے دیکھا گیا۔

    کرفیو میں نرمی کے دوران بازار کھلنے کی وجہ سے کافی چہل پہل نظر آئی۔

    واضح رہے کہ اٹھائیس جون کو ہندوستان کے شہراودے پور میں خود کو مسلمان کہنے والے دو انتہا پسندوں نے تیز دھار اسلحے سے کنہیا لال نامی ایک ہندو درزی کا بہیمانہ انداز میں قتل کیا تھا۔ مذکورہ انتہا پسندوں کے اس انسانیت سوز اقدام کی ویڈیو بنا کے وائرل کی تھی ۔ اس واقعے کے بعد شہر اودے پور میں کشیدگی پھیل گئی تھی جس کے پیش نظر حکومت نے متاثرہ تھانہ کے علاقوں میں کرفیو لگادیا تھا۔

    اس وحشیانہ تشدد کی ہندوستانی مسلمانوں کے سبھی طبقات ، مسلم دانشوروں ، سیاستدانوں اور مذہبی رہنماؤں نے سخت ترین الفاظ میں مذمت اور ملزمین کو قانون کے مطابق سخت ترین سزا دیئے جانے کا مطالبہ کیا تھا۔

  • کابل:طالبان نے اپنی حکومت کو تسلیم کرنے کا مطالبہ دہرایا

    کابل:طالبان نے اپنی حکومت کو تسلیم کرنے کا مطالبہ دہرایا

    کابل :طالبان حکام نے علما کے اجتماع میں دنیا کے دیگر ممالک سے اپنی حکومت کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنے کا مطالبہ کیا لیکن لڑکیوں کے اسکول کھولنے جیسے مطالبات پورے کرنے کے بارے میں کوئی عندیہ نہیں دیا۔

    رائٹرز کے مطابق افغانستان میں طالبان حکام اور علماء، عمائدین اور قومی سرکردہ شخصیتوں کے اجتماع کے بعد جاری اعلامیے میں کہا کہ ہم علاقائی، بین الاقوامی اور خاص طور پر اسلامی ممالک سے کہتے ہیں کہ وہ ‘امارت اسلامی افغانستان’ کو تسلیم کرکے تمام پابندیاں ختم اور مرکزی بینک کے منجمد اثاثے جاری کریں اور افغانستان کی ترقی میں مدد کریں۔ امارات اسلامی افغانستان سے موسوم طالبان حکومت کو اب تک باضابطہ طور پر کسی بھی ملک نے تسلیم نہیں کیا ہے۔

    طالبان اپنے اعلان سے پیچھے ہٹ گئے ہیں جس میں انہوں نے کہا کیا تھا کہ تمام اسکول مارچ میں کھل جائیں گے، جس کے بعد ہائی اسکولوں کی کافی لڑکیوں کی آنکھوں میں آنسو آگئے تھے جبکہ اس فیصلے کو مغربی ممالک نے تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

    طالبان کے سربراہ ہیبت اللہ اخوندزادہ جو عام طور پر قندھار میں رہتے ہیں اور عوامی مقامات پر کم ہی نظر آتے ہیں تاہم وہ کابل میں منعقدہ اس اجتماع میں شریک ہوئے اور کہا کہ غیرملکیوں کو احکامات نہیں دینا چاہئیں۔

    واضح رہے کہ مغربی ممالک کی جانب سے فنڈنگ روکنے اور سخت پابندیوں کے نفاذ سے افغانستان کی معیشت بحران کا شکار ہے، ان ممالک کا کہنا ہے کہ طالبان حکومت کو انسانی حقوق، خاص طور پر خواتین کے حقوق کے بارے میں اپنی پالیسیوں کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے اور ساتھ ہی تمام اقوام می شرکت سے جامع اور وسیع البنیاد حکومت کا قیام ایک لازمی امر ہے۔
    حادثے میں تین افراد جاں بحق ہوئے جبکہ زخمی ہونے والوں میں پائلٹ سمیت سات افراد شامل ہیں۔اطلاعات کے مطابق افغانستان کے صوبے جوزجان میں طالبان کا ہیلی کاپٹر گر کر تباہ ہو گیا، حادثے میں تین افراد جاں بحق، سات زخمی ہو گئے۔

    غیرملکی میڈیا کے مطابق طالبان نے واقعہ کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ جمعرات کی شام کو ہیلی کاپٹر جس میں دس افراد سوار تھے، تکنیکی خرابی کے باعث جوزجان کے مرکز شبرغان شہر میں گر کر تباہ ہو گیا۔

  • این ایچ اے کے متوفی ملازم کی بیوہ کو وقت ضائع کیے بغیرملازمت دی جائے،صدر عارف علوی

    این ایچ اے کے متوفی ملازم کی بیوہ کو وقت ضائع کیے بغیرملازمت دی جائے،صدر عارف علوی

    صدر عارف علوی نے نیشنل ہائی وے اتھارٹی کو متوفی ملازم کی بیوہ کو ملازمت دینے کے وفاقی محتسب کے احکامات برقرار رکھنے کی ہدایت کی ہے.

    صدرمملکت ڈاکٹر عارف علوی نے نیشنل ہائی وے اتھارٹی کو متوفی ملازم کی بیوہ کو ملازمت دینے کے وفاقی محتسب کے احکامات برقرار رکھتے ہوئے کہا ہے کہ نیشنل ہائی وے اتھارٹی متوفی ملازم کی بیوہ کو وزیر اعظم کے امدادی پیکیج کے تحت مزید وقت ضائع کیے بغیر تعینات کرے۔

    اتوار کو ایوانِ صدر پریس ونگ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق صدر مملکت نے کہا کہ نیشنل ہائی وے اتھارٹی تعمیل کی رپورٹ 30 دنوں کے اندر وفاقی محتسب کو جمع کرائے، افسوس کہ پانچ نابالغ بچوں پر مشتمل متاثرہ خاندان کے چار سال ضائع کئے گئے۔

    صدر مملکت نے کہا کہ بیوہ نے شوہر کی وفات کے بعد ایک سال کا مقررہ وقت گزر جانے کے بعد ملازمت کے لیے درخواست دی جسے مسترد کیا گیا تھا،بیوہ نے انصاف کیلئے وفاقی محتسب کے پاس درخواست جمع کرائی جس نے نوکری دینے کے احکامات جاری کئے،نیشنل ہائی وے اتھارٹی نے وفاقی محتسب کے فیصلے کے خلاف صدر مملکت کو اپیل دائر کی تھی،صدر مملکت نے وفاقی محتسب کا بیوہ کو نوکری دینے کا فیصلہ برقرار رکھا اور اتھارٹی کی درخواست مسترد کر دی۔

    انہوں نے کہا کہ اگرچہ بیوہ نے شوہر کی وفات کے دو سال آٹھ ماہ سے زائد عرصہ بعد درخواست دی مگر سماعت کے دوران اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کا آفس میمورنڈم پیش کیا، میمو کے مطابق ایک سال کے اندر ملازمت کے لیے درخواست دینے کی شرط میں ترمیم کی گئی ، نیشنل ہائی وے اتھارٹی نے عمر کی حد میں نرمی کو نظر انداز کیا۔صدر مملکت نے نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے موقف کو غلط قرار دیا اور بیوہ کی تقرری پر کارروائی کرنے کی ہدایت کی۔

  • وزیراعظم  نے بند پاور پلانٹس  کی فوری بحالی کا حکم  دے دیا

    وزیراعظم نے بند پاور پلانٹس کی فوری بحالی کا حکم دے دیا

    وزیر اعظم محمّد شہباز شریف کی زیر صدارت بجلی کی لوڈ شیڈنگ اور توانائی کے بحران پر قابو پانے سے متعلق ایک اہم اجلاس آج لاہور میں منعقد ہوا ۔ اجلاس میں وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال, وزیر مملکت براے پیٹرولیم مصدق ملک , جب کہ وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل ,وفاقی وزیر براے توانائی انجنئیر خرّم دستگیر, وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب, رکن قومی اسمبلی شاہد خاقان عباسی اور وزیر اعظم کے معاون خصوصی براے پبلک پالیسی/اسٹریٹجک کمیونیکیشنز فہد حسین نے بذریعہ ویڈیو لنک اجلاس میں شرکت کی، متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران بھی اجلاس میں موجود تھے .اجلاس ملک میں جاری بجلی کے بحران کو حل کرنے پر تبادلہ خیال کیا گیا.

    سستی بجلی کی جانب بڑا قدم:نیپرا کے مقابلے میں سیپرا کے قیام کا مسودہ تیار

    وزیراعظم نے بند پاور پلانٹس کی فوری بحالی کا حکم دیا. مزید براں وزیر اعظم نے ہدایت کی کہ
    انھیں بجلی کی لوڈ شیڈنگ کے حوالے رپورٹ فوری پیش کی جائے جس میں لوڈشیڈنگ کو وجوہات واضح طور پر بتائی جایئں. علاوہ ازیں وزیراعظم نے مزید ہدایت کی کہ صوبوں کو پینے کے پانی اور زرعی سہولیات کی فراہمی سے متعلق معاملات کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے اور اس سلسلے میں ارسا صوبوں کے ساتھ باہمی مشاورت اور آزادی کے ساتھ فیصلہ کرے.

    دوسری طرف کراچی میں بجلی بحران نے شہریوں کا جینا محال کر دیا، بجلی کی لوڈشیڈنگ کا دورانیہ 12 گھنٹے سے بھی تجاوز کر گیا۔کراچی میں بجلی کی لوڈشیڈنگ نے شہریوں سے دن کا سکون، رات کا چین چھین لیا۔ بیشتر علاقوں میں بجلی بندش کا عذاب شہروں کے گلے کا پھندا بن گیا۔ شہر میں بجلی کی لوڈشیڈنگ کا دورانیہ 10 سے 12 گھنٹے سے تجاوز کر گیا۔ اورنگی، لیاقت آباد، انچولی سوسائٹی، ملیر کے مختلف علاقے بجلی بحران کی لپٹ میں ہیں۔ پی آئی بی، لائنزایریا اور سرجانی ٹاون میں بجلی کی لوڈشیڈنگ معمول بن گئی۔

    کے الیکٹرک نے بجلی کے نرخوں میں تبدیلی کی خبر کی تردید کر دی۔ ترجمان کے الیکٹرک کا کہنا ہے کہ صارفین کے لیے بجلی کے نرخوں میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی، ٹیرف میں تبدیلی نیپرا اورحکومت سے منظوری سے مشروط ہے۔ ٹیرف کو کے الیکٹرک کی ویب سائٹ پر شیئر کیا جاتا ہے۔

  • کیا ہم غلام ہیں،عمران خان کے جعلی بیانیے کی حقیقت مسلسل آشکار ہونے لگی

    کیا ہم غلام ہیں،عمران خان کے جعلی بیانیے کی حقیقت مسلسل آشکار ہونے لگی

    لاہور:کیا ہم غلام ہیں، عمران خان کے جعلی بیانیے کی حقیقت مسلسل آشکار ہونے لگی، ہر طرف سے کچھ ایسی ہی آوازیں آنا شروع ہوگئی ہیں ، یہ بھی کہا جارہا ہے کہ عمران خان کوملک حالات کا بھی ادراک نہیں ، بس وہ اپنے ہی بیانیئے پرڈٹا ہوا ہے

    ایک طرف عوام کے سامنے ڈٹ جانے کا راگ، تو دوسری طرف امریکیوں کے سامنے سرتسلیم خم کیا یہ کُھلا تضاد نہیں ہے

    یہ کوئی جھوٹ نہیں بلکہ حقیقت ہے کہ پہلے تحریک انصاف اوورسیز رہنما کے ذریعے عمران کی ڈونلڈ لو سے رجوع کی خبر آئی ، اب یہ قوتیں امریکی سفیر ڈونلڈ بلوم کے آگے پیچھے ہیں یہ کیا ہورہا ہے ، ان حالات کوہرکوئی دیکھ رہا ہے

    حکومت ملک نہیں چلا سکتی،عمران خان عوام کی آواز ہے،شیخ رشید

    اسلام آباد سے یہ بھی خبریں‌ آرہیں‌ کہ سابق وزیراعظم عمران خان کے انتہائی قریبی صدر عارف علوی کی جانب سے امریکی سفیر کی آؤ بھگت کی گئی ہے ، یہ کیا ہے اگراتنی ہی غلامی سے نفرت ہے توعارف علوی سے کہتے کہ سب سفارتی اداب چھوڑ کراورغیرملکی سفیروں کے لیے طئے شدہ پروٹوکول چھوڑتے ہوئے امریکی سفیر کو خوش آمدید نہ کہتے

    اںتقامی کارروائیوں سے ڈرنے والے نہیں،چٹان کی طرح عمران خان کےساتھ ہیں،راجہ بشارت

    عارف علوی کی طرف سے امریکی سفیر کوگارڈ آف آنر پیش کرنے سے اسناد کی وصولی کی ویڈیوسے ایسے محسوس ہورہا تھا جیسے امریکی سفیر نہیں، وائسرائے آیا ہو

    یہ بھی تو حقیقت ہے کہ صدرعارف علوی کا ایک معمول کے عمل کو غیرمعمولی بنا کر پیش کرنا کیا ثابت کرتا ، ہرکوئی سوال پوچھنے پرمجبور ہے ، ہرکوئی کہہ رہاہے کہ کیا یہ ثابت کیا جا رہا کہ امریکہ سے شرف قبولیت مل رہا

    دوسری طرف بشری بی بی کی لیک آڈیو نے بھی حقیقت آشکار کرنے میں اہم کردار ادا کیا، اس کے ساتھ ساتھ پردے کے پیچھے کیسے حکومتی وسائل سے ملک دشمنی کا بیانیہ گھڑا جاتا رہا

    یہ بھی تو حقیقت ہے کہ سب نے جان لیا ارسلان خالد کے پیچھے اصل پراپیگنڈہ مشین ماسٹر کون تھا، واضح ہو چکا سازش کا بیانیہ محض عوام کو چکر دینے کے لیے گھڑا گیا

    ضمنی الیکشن،عمران خان کاحکومت کو ٹف ٹائم دینے کا فیصلہ ،اتوار کو دورہ لاہور

    ثابت ہو چکا اپبے کرتوتوں سے توجہ ہٹانے کے لیے امریکی سازش کا بیانیہ گھڑا گیا، سازشی بیانیہ گھڑ کر پاکستان کی دنیا بھر میں جگ ہنسائی کی گئی، اب وقت آ گیا جھوٹوں کو گھر تک پہنچایا جائے ، اب تو یہ بھی لگ رہا جھوٹوں کا اب ہر جھوٹ بے نقاب ہو گا

  • گوادر پورٹ پرکوئی بڑا بحری جہاز لنگر انداز نہیں ہو سکے گا، احسن اقبال کا تہلکہ خیز انکشاف

    گوادر پورٹ پرکوئی بڑا بحری جہاز لنگر انداز نہیں ہو سکے گا، احسن اقبال کا تہلکہ خیز انکشاف

    وفاقی وزیر پلاننگ و منصوبہ بندی احسن اقبال کا تہلکہ خیز انکشاف کر دیا ،کہتے ہيں گوادر پورٹ اب گہرا سمندر نہیں رہا ۔ جس کے باعث کوئی بڑا بحری جہاز لنگر انداز نہیں ہو سکے گا ۔ سابق حکومت نے جان بوجھ کر سی پیک منصوبے کے گیٹ وے گوادر پورٹ کو تباہ کيا ۔ احسن اقبال نے نجی ٹی وی چینل کے رپورٹر عاصم نصیرسے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نون لیگ اب ترقی اور ڈويپلمنٹ کے بیانیے سے الیکشن لڑے گی، آرمی چیف کي مدت ملازمت میں توسیع یا نئے آرمی چیف کے حوالے سے ابھی کوئي فیصلہ نہيں ہوا،

    وفاقی وزیرپلاننگ ومنصوبہ بندی احسن اقبال کا کہنا تھا کہ عمران خان نےسی پیک منصوبےکوتباہ کرنےکی ہرممکن کوشش کی،چارسالوں میں سی پیک پرسابق حکومت نےایک ڈالرکامنصوبہ نہیں لگایا،گوادرکےڈیپ سی کالیول14میٹرسےکم ہوکر11میٹررہ گیاہے،کوئی بڑابحری جہازگواردرپورٹ پرلنگراندازنہیں ہوسکتا

    احسن اقبال کا کہنا تھا کہ پاک نیوی کوسروےاورصفائی کےلیےٹاسک دے ديا،123ملین ڈالرپورٹ کي گہرائي کوصاف رکھنےکےلیےپڑےرہے،نون لیگ کاالیکشن میں بیانیہ کیاہوگا؟ کے سوال پے احسن اقبال نے کہا کہ نون لیگ ترقی اورڈويپلمنٹ کےبیانیےسےمیدان میں اترےگی،عمران خان کاویثرن اینگری مین سےزیادہ نہیں،عمران خان کامقدرسڑکوں پردھکےکھانارہ گیاہے،عمران خان اداروں کواپنی سیاست بچانےکےلیےمتنازع بنارہا، آرمی چیف کےعہدےمیں توسیع يانئےآرمي چيف کامعاملہ زیرغورنہیں،

    وفاقی وزیرپلاننگ ومنصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا کہ آرمی چیف کےمعاملےپرفیصلہ وزیراعظم اورعسکری قیادت نےملکرکرناہے،اسلم بھوتانئ کی شکایات مس انڈرسیٹندنگ پرمبنی تھی جودورہوگئیں.

  • ہندوستان ممکنہ تباہی کے راستے پر چل رہا ھے:ہندوستان کے دانشور بھی  بول اُٹھے

    ہندوستان ممکنہ تباہی کے راستے پر چل رہا ھے:ہندوستان کے دانشور بھی بول اُٹھے

    ملک کا موجودہ ماحول خوفناک ہے،اگریہی صورتحال رہی توملک کوٹوٹنے سے کوئی نہیں بچا سکے گا، اس وقت ملک کی سلامتی کےلیے تمام طبقات سے اتحاد کو برقرار رکھنے سے ہی ممکن ہے

    نوبل انعام یافتہ امرتیہ سین نے ملک کی موجودہ صورتحال پر بہت سخت تبصرہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں کو مذہبی خطوط پر تقسیم نہیں کرنا چاہیے بلکہ سب میں اتحاد قائم رکھنے کے لیے کام کرنا چاہیے۔ امرتیہ سین نے کہا، ’’مجھے لگتا ہے کہ اگر کوئی مجھ سے پوچھے کہ کیا میں کسی چیز سے ڈرتا ہوں؟ تومیں ہاں کہوں گا۔” ڈرنے کی ایک وجہ ہے۔ ملک کی موجودہ صورتحال خوف کا باعث بنی ہوئی ہے۔ امرتیہ سین نے یہ باتیں کولکتہ میں امرتیہ ریسرچ سینٹر کے افتتاح کے موقع پر کہیں۔

    امرتیہ سین نے مزید کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ ملک متحد رہے۔ میں ایسے ملک میں تقسیم نہیں چاہتا جو تاریخی طور پر سب کو ساتھ لے کر چلنا والا رہا ہے۔ ہمیں مل کر کام کرنا ہے۔ ہندوستان صرف ہندوؤں یا مسلمانوں کا نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے ملک کی روایات کی بنیاد پر متحد رہنے کی ضرورت پر زور دیا۔

    انہوں نے کہا، ‘ہندوستان صرف ہندوؤں کا ملک نہیں ہو سکتا۔ نیز مسلمان اکیلے ہندوستان کی تعمیر نہیں کر سکتے۔ سب کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ امرتیہ سین نے کہا کہ ہندوستان میں رواداری کی موروثی ثقافت ہے کیونکہ یہودی، عیسائی اور پارسی صدیوں سے ہمارے ساتھ رہے ہیں۔

    انڈیا کے ماہر اقتصادیات اور نوبل انعام یافتہ امرتیا سین کا کہنا ہے کہ ہندوستان کو ‘ممکنہ تباہی’ کا سامنا ہے۔

    امرتیا سین نے کولکتہ میں ھونے والی ایک تقریب میں کہا کہ ہندوستان آج جس بھیانک بحران کا سامنا کر رہا ہے وہ "ملک کا ممکنہ تباہی” ہے۔کولکتہ میں امرتیا ریسرچ سینٹر کے افتتاح کے موقع پر سین نے کہا، کہ”مجھے لگتا ہے کہ اگر کوئی مجھ سے پوچھے کہ کیا میں کسی چیز سے ڈرتا ہوں، تو میں کہوں گا ‘ہاں’۔ اب ڈرنے کی کوئی وجہ ہے۔ ملک کی موجودہ صورتحال خوف کا باعث بن گئی ہے”۔

     

     

    "’’ہندوستان صرف ہندوؤں کا ملک نہیں ہو سکتا۔ اور اکیلے مسلمان بھی ہندوستان کو نہیں بنا سکتے”۔اگرہندوستان کوبچانا ہے توسب سے پہلے ملک کے اندراقلیتوں کے ساتھ نفرتیں ختم کرنا ہوں گی ان کے حقوق ان کو دینے ہوں گے اورپھران کو عزت بھی دینا ہوگی تب جاکرہندوستان کی واپسی ممکن ہے

     

    یاد رہے کہ نوبل انعام یافتہ ماہر معاشیات اور فلسفی امرتیا سین کو جرمن بُک انڈسٹری کے معتبر ترین امن انعام سے نوازا گیا ہے۔ 86سالہ پروفیسر کے مطالعے اور تجزیے دنیا بھر میں سماجی ناانصافی کی نشاندہی کرتے ہیں۔جرمن کتابی صنعت کے بورڈ نے اعلان کیا ہے کہ اس سال کے ’جرمن امن انعام‘ کے حقدار بھارتی معیشت دان اور فلسفی امرتیا سین قرار پائے ہیں۔ اس بورڈ کے بیان کے مطابق چھیاسی سالہ ہارورڈ یونیورسٹی کے پروفیسر اور نوبل انعام یافتہ امرتیا سین کو کئی دہائیوں تک ’عالمی انصاف‘ کے امور پر غور و فکر کرنے کے احترام میں امن انعام سے نوازا جا رہا ہے۔بورڈ نے کہا کہ پروفیسر سین کا مطالعہ دنیا بھر میں سماجی ناانصافی کے خلاف جنگ میں ماضی کے مقابلے میں آج کہیں زیادہ قابل اطلاق ہوتا ہے

  • بڑی عید پر پانچ چھٹیوں کا اعلان

    بڑی عید پر پانچ چھٹیوں کا اعلان

    بڑی عید پر بڑی چھٹیاں ،عید الضحیٰ کے موقر پر وزیراعظم نے پانچ چھٹیوں کا اعلان کر دیا ،وزیر اعظم آفس نے پانچ چھٹیوں کا نوٹی فکیشن جاری کردیا ،سرکاری تعطیلات جمعہ سے منگل تک ہوں گی ،نوٹی فکیشن کے مطابق عید کی چھٹیاں 8 جولائی سے 12 جولائی تک ہوں گی.

    قبل ازیں ڑی کابینہ ڈویژن نے وزیراعظم کو سمری بھجوا دی.سیکریٹری کابینہ ڈویژن سردار احمد نواز سکھیرا نے 10 سے 12 جولائی تک عید الاضحیٰ کی چھٹیوں کی منظوری کیلئے وزیراعظم شیباز شریف کو معاسلہ لکھ دیا ہے.

    کابینہ ڈویژن نے عید الاضحیٰ کیلئے تین چھٹیوں کی تجویز دی ہے جو 10 جولائی سے 12 جولائی 2022 تک ہوں گی ،تاہم وزیراعظم کی منظوری کے بعد عید کی چھٹیوں کا نوٹیفیکیشن جاری کر دیا جائے گا.

    دوسری طرف وزیر اعلی پنجاب حمزہ شہباز شریف کی زیرصدارت اجلاس منعقد کیا گیا اجلاس میں عید الاضحٰی پر لاہور سمیت صوبہ بھر میں صفائی پلان کا تفصیلی جائزہ لیاگیا .وزیر اعلی پنجاب حمزہ شہباز شریف نے عید الاضحٰی پر لاہور سمیت پنجاب کے شہروں میں صفائی کے بہترین انتظامات کے لئے ٹاسک سونپ دیئے جبکہ حمزہ شہباز نے کمشنر لاہورڈویژن، ڈپٹی کمشنر لاہور سمیت دیگر اضلاع کے انتظامی افسران کو عید الاضحٰی پر فیلڈ میں موجود رہنے کی ہدایت کر دی.

    وزیر اعلی پنجاب حمزہ شہباز شریف نے کہا کہ مخلوق خدا کو صاف ماحول فراہم کرنا ہمارا فرض ہے۔عوامی نمائندے بھی اپنے علاقوں میں صفائی کے انتظامات کی نگرانی کریں .وزیراعلیٰ نے یونین کونسل کی سطح پر عوامی نمائندوں کو صفائی کے عمل میں شریک کرنے اور کمیٹیاں تشکیل دیئے کی ہدایت کی.وزیر اعلی حمزہ شہبازنے صفائی کے انتظامات کی مانیٹرنگ کے لیے کنٹرول روم بنانے کا حکم بھی جاری کر دیا.

    حمزہ شہباز کا کہنا تھا کہ صفائی پلان کی موثر مانیٹرنگ کا نظام وضع کیا جائے۔صفائی پلان کے تحت کئے جانے والے تمام انتظامات کا تھرڈ پارٹی آڈٹ کرایا جائے گا. گنجان آبادیوں میں صفائی کے انتظامات پر خصوصی فوکس کیا جائے۔وزیر اعلی حمزہ شہبازنےعید الاضحٰی پر بارش کے امکان کے پیش نظر واسا کو چوکس رہنے کی ہدایت بھی کی.

  • نظریہ ضرورت کی سیاست میں مسائل کیسے حل ہوں:تجزیہ:- شہزاد قریشی

    نظریہ ضرورت کی سیاست میں مسائل کیسے حل ہوں:تجزیہ:- شہزاد قریشی

    ملک اور عوام ایک نئے ہیجان خیز دور سے لرزتے ہوئے گزر رہے ہیں جو کسی آنے والے مارشل لاء سے بھی زیادہ خوفناک ہے۔ عوام غربت کی انتہا پر ہیں۔ ہمارے سیاستدان ، اعلی عہدوں پر تعینات سول وفوجی افسران امارت اور خوشحالی انتہا پر ہیں۔ عوام کو آڈیو اور ویڈیو کے پیچھے لگا دیا ہے یہ آڈیو اور ویڈیو کی ریکارڈنگ کون کر تا ہے ؟ عوام کو جن بنیادی مسائل کا سامنا ہے اس کی ذمہ داری کوئی نہیں لے رہا ۔

    عوام مہنگائی ،بے روزگارئی بدامنی سے ہلکان ہو رہے ہیں ۔ بجلی جیسی ہروقت کی ضرورت ختم ہو گئی چھوٹے بڑے کاروبار بجلی کے محتاج ہیں۔ جب سے جدید ٹیکنالوجی سوشل میڈیا نے ترقی کی ہے ہماری سیاسی جماعتوں نے بھی ترقی کے نام پر وہ گُل کھلانے شروع کردئیے ہیں کہ اب ان کی انچ سے کوئی بھی محفوظ نہیں۔ ملکی قومی اداروں کو گلی کوچوں چوراہوں جلسے جلوسوں میں تنقید کا نشانہ بنایا جار ہا ہے نہ پاک فوج محفوظ نہ عدلیہ محفوظ نہ غیر جانبدار صحافی محفوظ۔ سیاسی معیار بدل گئے سیاست کے آداب بدل گئے۔ سیاستدان بدل گئے۔ پارلیمنٹ تو موجودہے ۔

    پارلیمنٹ کی بالادستی نہیں رہی ۔ ارکان اسمبلی عوام کے لئے قانون سازی نہیں کرتے ۔ اپنی مراعات اپنی تنخواہ اور اپنی ضروریات کے لئے قانون سازی کی جاتی ہے ۔ پارلیمنٹ میں موجود قد آور سیاستدانوں کا فقدان ہے۔ کہا جاتا ہے کہ پنجاب میں ووٹ نواز شریرف کا ہے وہ پنجاب میں مقبول ترین ہیں لیکن لوگ اب سوال کرنا شروع ہو گئے ہیں کہ نواز شریف کی غیر ائینی سزائوں کے خلاف اپیل کب دائر ہوگی ؟ مریم نواز کو پاسپورٹ کب ملے گا؟ سینیٹر اسحاق ڈار وطن واپس کب آئیں گے؟ ان سوالوں کا جواب مسلم لیگ (ن) کے پاس ہے میرے جیسے عام آدمی کے پاس نہیں ؟ تاہم یہ بات طے ہے کہ نواز شریف ایک شریف نیک نیت انسان ہیں اور شرم وحیا والے انسان ہیں آج اگر مسلم لیگ(ن) کو پنجاب میں مقبولیت حاصل ہے تو وہ نواز شریف اور ان کی بیٹی مریم نواز کی وجہ سے ہے ۔

    سیاست آج کل نظریہ ضرورت کے تابع ہو چکی ہے جب تک نظریہ ضرورت دفن نہیں ہوتا نہ جمہوریت مستحکم ہوگی نہ پارلیمنٹ کی بالادستی اور نہ ہی ملک میں قانون کی حکمرانی ہوگی۔ آج کے اقتدار اور سیاستدانوں کی اکثریت سرمائے کی تابع ہے اور یہی آج کل جمہوریت کا مسکن ہے آج کی نظریہ ضرورت کی سیاست میں عوام کے بنیادی مسائل حل ہوں تو کیسے ہوں ؟