Baaghi TV

Author: +9251

  • یہ پہلی حکومت ہے جس نے قبائلی اضلاع کا ترقیاتی بجٹ کم کیا، تیمور سلیم جھگڑا

    یہ پہلی حکومت ہے جس نے قبائلی اضلاع کا ترقیاتی بجٹ کم کیا، تیمور سلیم جھگڑا

    پشاور:تیمور سلیم جھگڑا نے کہا ہے کہ یہ پہلی وفاقی حکومت ہے جس نے قبائلی اضلاع کا ترقیاتی بجٹ کم کیا۔

    خیبرپختونخوا کے صوبائی وزیر تیمور سلیم جھگڑا نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ قبائلی اضلاع کے لوگوں کو صحت کارڈ کے پینل سے نکال دیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ اب تک این ایف سی کے ذریعے ہمیں قبائلی اضلاع کا پیسہ نہیں ملتا ہے۔

    تیمور سلیم جھگڑا نے یہ بھی کہا کہ ہماری حکومت نے سب سے زیادہ قبائلی اضلاع کو سنبھالنے کے لیے کوشش کی، یہ لوگ 785 ارب روپے سے 954 ارب روپے تک وفاقی تنخواہ لے کر گئے۔ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کی جانب سے گزشتہ 3 سال میں قبائلی اضلاع کا بجٹ بڑھایا گیا، یہ پہلی حکومت ہے جس نے قبائلی اضلاع کا ترقیاتی بجٹ کم کیا۔

    خیبرپختونخوا کے صوبائی وزیر تیمور سلیم جھگڑا کا مزید کہنا تھا کہ بجٹ سے پہلے بھی ہم نے مفتاح اسماعیل سے بات کی، ہم چاہتے ہیں کہ ایم او یو سائن کرنے کی پوزیشن میں آئیں۔

  • کرپشن کےپیسےکا70فیصدعمران،بشری اور30 فیصدفرح کوجاتارہا۔عظمی کاردارکا انکشاف

    کرپشن کےپیسےکا70فیصدعمران،بشری اور30 فیصدفرح کوجاتارہا۔عظمی کاردارکا انکشاف

    لاہور:کرپشن کےپیسےکا70فیصدعمران،بشری اور30 فیصدفرح کوجاتارہا،اطلاعات کے مطابق سابق رکن اسمبلی تحریک انصاف عظمیٰ کاردار کا کہنا ہے کہ عمران خان نے وائٹ کالر کرائم کا پیسہ منی لانڈرنگ سے بیرون ملک بھجوایا۔

    عظمیٰ کاردار نے الزام لگایا کہ عمران خان ہنس ہنس کر بشریٰ بی بی کی فائلز پر دستخط کرتے رہے، کرپشن کا70فیصد عمران خان،بشریٰ بی بی اور 30 فیصد فرح گوگی کوجاتا رہا۔

     

    سابق رکن پنجاب اسمبلی کا کہنا تھا کہ بشریٰ بی بی فیصلہ کرتی عمران خان سے کس نے ملنا اور کس نے نہیں، عمران خان کا موبائل بھی بشریٰ بی بی کےپاس ہوتاہے۔انہوں نے مزید کہا کہ علیم خان بشریٰ بی بی،فرح خان کی کرپشن کی راہ میں رکاوٹ بنتے اسلئے ان کو وزیراعلیٰ نہیں بننے دیاگیا۔

    عظمیٰ کاردار کا کہنا تھا کہ عمران خان کی جہانگیرترین سے دوری کی وجہ بھی بشریٰ بی بی تھیں۔

    سابق رکن اسمبلی کا مزید کہنا تھا کہ عثمان بزدارکٹھ پتلی تھے،وزیراعلیٰ ہاؤس کرپشن کا گڑھ تھا، فرح گوگی، طاہرخورشید بشریٰ بی بی کی کرپشن کے وعدہ معاف گواہ بنیں گے۔

  • بشریٰ بی بی کی مبینہ آڈیوجعلی ہے،شہباز گل

    بشریٰ بی بی کی مبینہ آڈیوجعلی ہے،شہباز گل

    چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان کے چیف آف اسٹاف شہباز گل نے بشریٰ بی بی کی مبینہ آڈیو لیک کوجعلی قرار دیتے ہوئے کہا کہ بشریٰ بی بی کی آڈیو لیک گھریلو خواتین کو بدنام کرنے کے لیے چھوڑی گئی ہے۔

    مخالفین کے خلاف غداری کا بیانیہ بنایا جائے، بشریٰ بی بی کی مبینہ آڈیو لیک

    شہباز گل نے فرح گوگی کے پلاٹ اسکینڈلز پر نات کرتے ہوئےکہا کہ جو پلاٹ انہوں نے حاصل کیا، اُسے 80 کروڑ کا بتایا جارہا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ پلاٹ تو سستا ہے، اُس کی قیمت 75 سے 85 لاکھ روپے ایکڑ ہے۔عمران خان کے چیف آف اسٹاف نے دوران پریس کانفرنس حکومت کے کئی ارکان پر غیر اخلاقی حملے بھی کیے اور ساتھ ہی حکومت سے فرمائش کردی کہ وہ اپوزیشن پر بھی اسی طرح کے غیر اخلاقی حملے کرے۔

     

    کیابشریٰ‌ بی بی کا سیاست سے واقعی تعلق نہیں؟آڈیولیک ہونےکےبعد ماضی کےکچھ حقائق آگئے

     

    شہباز گل نے پنجاب حکومت کے وزراء کے الزامات کا جواب دینے کے بجائے اُن سے متعلق انتہائی غیر اخلاقی نوعیت کے ذاتی حملے کیے۔عمران خان کے چیف آف اسٹاف نے بشریٰ بی بی کی سہلیوں کا نام بھی لیا، انہوں نے ایک موقع پر سینئر صحافی فہد حسین کو دھمکی تک دے ڈالی ۔ شہباز گل کو خود بھی اندازہ تھا کہ اس قدر غیر اخلاقی باتوں پر خود اُن کی پارٹی کے اندر بھی تنقید ہوگی۔

     

    فرح گوگی کو ریڈ وارنٹ کے ذریعے لائیں گے،صوبائی وزراء

    انہوں نے پی ٹی آئی کی پڑھی لکھی قیادت سے معافی مانگی اور کہا کہ مجھے لوگ کہتے ہیں گل صاحب آپ امریکا میں پروفیسر ہیں۔آخر میں شہباز گل نے حکومت سے بھی فرمائش کی کہ خود ان پر بھی اسی نوعیت کی غیر اخلاقی تنقید کی جائے اور کہا کہ ’ ہمارے کپڑے بھی اتاریں.

  • الوداع الوداع؛سداخوش رہوپاکستانیو:پاکستان میں جرمن سفیرکےآخری الفاظ

    الوداع الوداع؛سداخوش رہوپاکستانیو:پاکستان میں جرمن سفیرکےآخری الفاظ

    اسلام آباد:الوداع الوداع؛سداخوش رہوپاکستانیو:پاکستان میں جرمن سفیرکےآخری الفاظ ،یادوں کا دریچہ بن گئے ، بہت ہی پیارے اورپیاربھرے انداز سے پاکستان میں سبکدوش ہونے والے جرمن سفیر برن ہارڈ شلاگیک نے ملک کو الوداع کرتے ہوئے پاکستان کے لیے اپنے دلی جذبات کا اظہار کیا۔

    سبکدوش ہونے والے جرمن سفیر برن ہارڈ شلاگیک کہتے ہیں کہ "اگر میں کل صبح اسلام آباد اور اس کے ریڈ زون کا یہ نظارہ نہیں کروں گا تو بھی یقین دلاتا ہوں کہ … پاکستان اور اس کے لوگ میرے ذہن پر مضبوطی سے قائم رہیں گے،” انہوں نے اپنے وطن واپسی کے سفر سے قبل اپنے پیغام میں کہا۔

    جمعرات کو جرمن سفارت خانے کی جانب سے فیس بک پر پوسٹ کی گئی ایک ویڈیو میں سبکدوش ہونے والے سفیر کو اپنی روانگی کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کرنے سے قبل سائیکل پر سوار ہوتے دیکھا گیا۔

    "یہ ایک بہت ہی خاص صبح ہے جیسا کہ آپ اس حقیقت سے دیکھ رہے ہیں کہ میں صبح سویرے یہاں ہوں،” انہوں نے کہا۔سبکدوش ہونے والے جرمن سفیر برن ہارڈ شلاگیک نے مزید کہا کہ اسلام آباد میں ان کا آخری دن تھا کیونکہ ان کی مدت ملازمت ختم ہو رہی ہے اور آج رات ان کا وطن واپسی کا سفر ہے۔

    "انہوں نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ "اگر یہ کہا جائے کہ ان تین سالوں میں پاکستان میں جو سب سے قیمتی چیز آئی ہے وہ کون سی ہے، میں بلا جھجک کہوں گا کہ یہ پاکستانی ہیں… وہ لوگ… جن کی سخاوت، مہمان نوازی اور مہربانی کسی سے پیچھے نہیں رہی،

    میں کہوں گا، اس نے مزید کہا، یہی وہ چیز ہے جس سے حقیقی دوستی بنتی ہے… جس سے بنی ہے۔شلاگیک نے دونوں ممالک اور اس کے عوام کے درمیان تعلقات کے تئیں اعتماد، اعتماد اور عزم پر پاکستان کا شکریہ ادا کیا۔

    میری دعائیں‌آپ کے ساتھ ہیں کہ سدا خوش رہیں آباد رہیں شاد رہیں پاکستانیو۔۔۔۔۔

  • 17 جولائی کوعوام لوٹوں کو منطقی انجام تک پہنچائیں گے،یاسمین راشد

    17 جولائی کوعوام لوٹوں کو منطقی انجام تک پہنچائیں گے،یاسمین راشد

    پاکستان تحریک انصاف سینٹرل پنجاب کی صدر ڈاکٹر یاسمین راشد کا گرین ٹاؤن پہنچنے پر شاندار استقبال کیا گیا۔
    ڈاکٹر یاسمین نے پی پی 167کی الیکشن کمپین کے حوالے سے گرین ٹاؤن کی یوسی 237 میں میں ڈاکٹر نوشین حامد معراج ۔ امیدوار پی پی 167 کے شبیر گجر ۔ڈاکٹر انیسہ فاطمہ ۔ ڈاکٹر ندیم احمد۔ ڈاکٹر ذکاء غنی۔ عدنان جمیل سمیت دیگر کے ہمراہ ڈور ٹو ڈور کیمپین کی۔

    امپورٹڈ حکومت تباہی سے بچنے کے لئے فوری آزادانہ انتخابات کا اعلان کرے:عمران خان

    ڈاکٹر یاسمین راشد گرین ٹاؤن کے مین دکانوں پر پیدل چل کر گئی اور ان میں پمفلٹ تقسیم کئے اور فرداً فرداً ان سے پی ٹی آئی کو ووٹ دینے کی درخواست کی۔ گرین ٹاؤن مین بازار کے دکانداروں نے کہا کہ امپورٹڈ حکومت نے عوام پر مہنگائی کے بم گرائے ہیں اور ہم نے پی ٹی آئی کا ساتھ دینے کا فیصلہ لیا ھے۔

    بعدازاں پی ٹی آئی سینٹرل پنجاب کے ڈپٹی سیکرٹری اطلاعات سید عدنان جمیل کی جانب سے گرین ٹاؤن کی یوسی 237 میں منعقدہ ورکرز کنونشن میں پہنچنے پر ڈاکٹر یاسمین راشد کا شاندار استقبال کیا اور ان پر پھولوں کی پتیاں بھی نچھاور کیں ۔ ورکرز کنونشن میں شرکاء نے حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی ۔

    کچھ چیزیں سامنےرکھنا چاہتےہیں مگرعمران خان سے ہمیں ملنے نہیں دیا جاتا:حامد خان

     

    ورکرز کنونشن سے ڈاکٹر یاسمین راشد نے خطاب کرتے ھوئے کہاکہ پی ٹی آئی کی حکومت میں ملکی معیشت بہتری کی جانب گامزن تھی ۔ صنعتیں ترقی کر رہی تھیں۔ فیصل آباد کی بند پاور لومز چلنے سے مزدور کی زندگی میں بہتری آئی اور ان کا بند چولہا جلنا شروع ھو گیا تھا ۔ سخت کورونا میں بھی عمران خان سخت لاک ڈاؤن کی بجائے سمارٹ لگا کر غریب کو بھوکا رہنے سے بچایا۔

    ڈاکٹر یاسمین راشد کاکہنا تھا کہ ملک میں سازش کے ذریعے عمران خان کی حکومت کو ختم کرکے ملک پر امپورٹڈ حکومت مسلط کی گئی۔ پی ٹی آئی کی حکومت میں پٹرول چار روپے بڑھنے پر احتجاج کرنے والے بلاول زرداری کہاں ہیں ۔امپورٹڈ حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 99 روپے اضافہ کر عوام کی چیخیں نکال دی ہیں۔

    حکومت ٹرانسفر، پوسٹنگ پرعدالتی فیصلے پر سختی سے عملدرآمد کروائے،پرویزالہیٰ

     

    انہوں نے کہا کہ امپورٹڈ حکومت نے آتے ہی صحت کارڈ۔احساس پروگرام ۔لنگرخانے ۔پناہ گاہیں سمیت تمام عوامی فلاح کے پروگراموں کو ختم کر دیا ھے۔ لوڈشیڈنگ نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ھے۔ فیصل آباد کی پاورلومز بند ہونے سے مزدور بے روزگار ھو رہے ھیں۔ انہوں نے کہا کہ 17 جولائی کو آپ نے گھروں سے نکلنا ہے اور بلے پر مہر لگا کر عمران خان اور پی ٹی آئی کے امیدوار شبیر احمد گجر کو کامیاب کروانا ھے اور لوٹوں کو منطقی انجام تک پہنچانا ہے ۔اس موقع سید عدنان جمیل۔ ڈاکٹر نوشین حامد معراج ۔ڈاکٹر انیسہ فاطمہ ۔ ڈاکٹر ذکاء غنی ۔ ڈاکٹر ندیم ۔ اور 237 سے عوام کی بڑی تعداد میں شرکت کی۔

  • اچھا وقت آنے والا ہے، عوام کو تکلیفوں سے نجات دلائیں گے،مریم نواز

    اچھا وقت آنے والا ہے، عوام کو تکلیفوں سے نجات دلائیں گے،مریم نواز

    پکستان مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے کہا ہے کہ گو نیازی ہوگیا، اب نیازی رو رہا ہے، آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ تحریک انصاف نے کیا، انہوں نے پاکستان کو گروی رکھ دیا ، ملک دیوالیہ ہونے کا خطرہ نہ ہوتا تو ہم مرجا تے لیکن پٹرول کی قیمتیں نہ بڑھاتے، اچھا وقت آنے والا ہے، عوام کو تکلیفوں سے نجات دلائیں گے، عمران خان پنجاب کی ترقی کے دشمن، حمزہ شہباز صوبے کے عوام کو بڑا پیکج دینے جارہے ہیں، 17 جولائی کو کٹھ پتلیوں کو ہرائیں گے۔

    ضمنی الیکشن کے سلسلہ میں مریم نواز نےلاہور کے حلقہ پی پی 158 دھرم پورہ میں جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ مجھے دھرم پورہ کا نہیں پورے لاہور کا جلسہ لگ رہا ہے، دھرم پورہ کا جلسہ دیکھ کر لگ رہا ہے کہ اللہ نے فتح عطا فرما دی ہے، نواز شریف لندن سے یہ جلسہ لائیو دیکھ رہے ہیں۔

    مریم نواز کا کہنا تھا کہ ہم نے پٹرول، ڈیزل کی قیمتیں دل پر پتھر رکھ کر بڑھائیں، قیمتیں بڑھانے پر ہم گھر میں چھپ کر نہیں بیٹھے، آئی ایم ایف معاہدے کی وجہ سے قیمتیں بڑھانا پڑیں، آئی ایم ایف معاہدہ پی ٹی آئی حکومت نے کیا تھا، پاکستانی عوام جانتے ہیں کہ ہم نے قیمتیں کیوں بڑھائیں، گو نیازی گو تو ہوگیا اب روتا پھر رہا ہے ہر جگہ، عمران خان پاکستان کو آئی ایم ایف کے ہاتھوں گروی رکھ کر گیا، ملک دیوالیہ ہونے کا خطرہ نہ ہوتا تو ہم مر جاتے لیکن قیمتیں نہ بڑھاتے۔

    رہنما مسلم لیگ ن نے کہا کہ وعدہ کرتی ہوں کہ تکلیفوں سے عوام کو نجات دلائیں گے، فتنہ خان کی طرح نہیں کہوں گی کہ گھبرانا نہیں ہے، 2013 میں ن لیگ کی حکومت سے پہلے 20، 20 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ تھی، 2018 میں حکومت جانے سے پہلے لوڈشیڈنگ زیرو پر لاکر دکھائی، نواز شریف نے 2018 میں عوام کو لوڈ شیڈنگ فری پاکستان دیا تھا، ہم زیرو پر لوڈشیڈنگ لا کر دکھائیں گے، فتنہ خان کی حکومت کے بعد شہباز شریف کی حکومت کو 10 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ ملی۔

    مریم نواز نے مزید کہا کہ شہباز شریف کے سٹاف سے پوچھا شہباز شریف کب اٹھتے ہیں، سٹاف نے بتایا کہ شہباز شریف تہجد پڑھ کر ایکسرسائز کرتے ہیں، پھر فجر کے بعد کام شروع کر دیتے ہیں، عمران خان 12 بجے سے پہلے نہیں اٹھتا تھا، فتنہ خان پنجاب پر پھر نظر لگا کر بیٹھا ہے، 20 گھنٹے سے لوڈشیڈنگ صفر پر لایا کوئی پوچھے تو کہنا نواز شریف آیا تھا، زیرو سے 10 گھنٹے تک لوڈشیڈنگ لایا کوئی پوچھے تو کہنا فتنہ خان آیا تھا۔

    پاکستان مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر نے جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عالمی منڈی میں ایک ڈالر میں تیل سستا ہوا تو شہباز شریف عوام کو اسی وقت ریلیف دیں گے، کل پنجاب کی تاریخ کا ریلیف پیکج حمزہ شہباز دینے جا رہے ہیں، عمران خان کا چیلنج شہباز شریف نے قبول کیا ہے سب کچھ ٹھیک کرکے دکھائیں گے، فتنہ خان نے بار بار احتجاج کی کال دی لیکن کوئی احتجاج میں شامل نہیں ہوا۔

    انہوں نے کہا کہ قوم جانتی ہے کہ مہنگائی والے کا نام عمران خان ہے، کرسی کیا گئی دماغی توازن بگڑ گیا ہے، 75سال میں ایسا سیاستدان دیکھا ہے جو نیوٹرلز کو جلسوں میں کہتا ہے کہ مجھے اقتدار میں لے کر آؤ، عمران خان احسان فراموش آدمی ہے، عمران خان کو نیوٹرلز نے انگلی پکڑ کر چلایا،سابق وزیراعظم کو بیساکھیوں کی عادت پڑ گئی تھی، بیساکھیاں گئیں تو دھڑام سے نیچے گر گیا۔

    مریم نواز نے عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس کی بیوی کہتی ہے کہ پاکستان کے اداروں کے خلاف مہم چلاؤ، عوام غریب اور یہ لوگ امیر ہوگئے، عوام کو تکلیف خود کو ریلیف دیا، عمران خان سے بڑا پنجاب دشمن کوئی نہیں، سب سے بڑا ڈاکا فتنہ خان نے پنجاب کے وسائل پر ڈالا، پنجاب کو چلانے کیلئے کٹھ پتلیاں رکھی ہوئی تھیں، پنجاب کی ترقی کا دشمن فتنہ خان ہے، پنجاب کے عوام کے پیسے بنی گالا جاتے تھے، 17 جولائی کو لاہور سے شیر کی آواز آئے گی، توشہ خان پنجاب کے مینڈیٹ پر نظر لگا کر بیٹھا ہے، توشہ خان سن لو 17 جولائی کو پنجاب سے بھی تمہاری سیاست کا صفایا ہوجائے گا، عمران خان دور میں عوام غریب اور اس کے سوتیلے بچے امیر ہوگئے۔

  • چین کے خلاف نیٹو کا اقتصادی ورژن بنانا بہت خطرناک ہوگا، چینی وزارت خارجہ

    چین کے خلاف نیٹو کا اقتصادی ورژن بنانا بہت خطرناک ہوگا، چینی وزارت خارجہ

    بیجنگ:چینی وزارت خارجہ کے یورپی ڈویژن کے ڈائریکٹر وانگ لو تھونگ نے جی سیون اور نیٹو سمٹ میں چین سے متعلقہ امور کے حوالے سے چائنا میڈیا گروپ کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ چین کے خلاف نیٹو کا” اقتصادی ورژن بنانا بہت خطرناک ہوگا۔

    اتوار کے روز چینی میڈ یا کے مطا بق ” دی بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹیو” سے مقابلہ کرنے کے لیے جی 7 کے پیش کردہ ” عالمی انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ پارٹنرشپ” منصوبے کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ مختلف قسم کے منصوبے ایک دوسرے کے مقابل یا الگ نہیں ہوتے بلکہ انہیں ہم آہنگ بنایا جانا چاہیے۔ چین کا ماننا ہے کہ بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کو جغرافیائی سیاسی مفادات کے حصول کے بہانے کے طور پر استعمال نہیں کیا جانا چاہیے بلکہ لوگوں کو حقیقی فائدہ پہنچانے کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔

    وانگ لو تھونگ نے مزید کہا کہ حالیہ دنوں سننے میں آیا ہے کہ چین کے خلاف نیٹو کا ایک “اقتصادی ورژن” بنایا جائے گا ۔ یہ عالمی اقتصادی نظام اور بین الاقوامی تجارتی قوانین کو شدید نقصان پہنچائے گا، اور بہت خطرناک بھی ہو گا

    امریکی جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل مارک ملے نے کہا ہے کہ تائیوان تنازعے سے متعلق امریکا نے چین پر گہری نظر رکھی ہوئی ہے، مستقبل میں چین تائیوان پر حملہ کر سکتا ہے۔

    برطانوی نشریاتی ادارے سےگفتگو کرتے ہوئے جنرل مارک ملے کا کہنا تھا کہ تائیوان پر چین کے فوری حملے کا تو کوئی امکان نہیں ہے لیکن امریکا نے صورتحال پر گہری نظر رکھی ہوئی ہے۔

    جنرل مارک ملے کا کہنا تھا کہ چین، تائیوان پر حملے کے لیے اپنے دفاع کو مضبوط بنا رہا ہے اور مستقبل میں چین کی جانب سے تائیوان پر حملہ کیا جا سکتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ چین کا تائیوان پر حملہ کرنا ایک سیاسی نوعیت کا فیصلہ ہوگا۔

    خیال رہے کہ چین تائیوان کو اپنا حصہ تصور کرتا ہے جبکہ تائیوان خود کو ایک علیحدہ ریاست مانتا ہے اور اس معاملے پر دونوں ممالک کے درمیان طویل عرصے سے تنازع چلا آ رہا ہے۔

    ادھرہانگ کانگ کے قریب سمندری طوفان چابا کی زد میں آکر ایک بحری جہاز کے 2 ٹکڑے ہوگئے جس کے بعد سے عملے کے افراد کی تلاش کا کام جاری ہے۔

    یہ واقعہ 2 جولائی کو پیش آیا تھا اور ہانگ کانگ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ طوفانی لہروں کی وجہ سے عملے کے لاپتہ27 افراد کے بچنے کا امکان بہت کم رہ گیا ہے۔

    سمندری طوفان کے دوران 144 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلنے والی ہواؤں اور طوفانی لہروں کے نتیجے میں فوجنگ 001 نامی جہاز کے 2 ٹکڑے ہوگئے تھے۔واقعے کے بعد عملے کے 3 افراد کو بچا لیا گیا تھا مگر 27 افراد اب بھی گمشدہ ہیں۔

    ہانگ کانگ حکومت کی جانب سے عملے کو بچانے کے لیے 4 طیارے، 6 ہیلی کاپٹرز بھیجے گئے جبکہ 36 رکنی ریسکیو ٹیم سرچ آپریشن پر کام کر رہی ہے۔حکام نے بتایا کہ ان 27 افراد کی زندگی کا امکان نہ ہونے کے برابر رہ گیا ہے کیونکہ وقت بہت زیادہ ہوچکا ہے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ ہماری جانب سے لاپتہ افراد کی تلاش کے لیے ہر ممکن کوششیں کی جارہی ہیں مگر خراب موسم کی وجہ سے امدادی کام متاثر ہورہا ہے۔

  • ڈونلڈ لو سے پی ٹی آئی نے معافی مانگ لی، شواہد ہمارے پاس آچکے ہیں: خواجہ آصف

    ڈونلڈ لو سے پی ٹی آئی نے معافی مانگ لی، شواہد ہمارے پاس آچکے ہیں: خواجہ آصف

    سیالکوٹ:وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے بڑا انکشاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی اسسٹنٹ سیکرٹری آف اسٹیٹ ڈونلڈلو سے پی ٹی آئی نے معافی مانگ لی۔

    پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور وفاقی وزیر خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ ڈونلڈلو سے پی ٹی آئی کی معافی سے متعلق ہم نے تمام ریکارڈ حاصل کر لیا، تحریک اںصاف کے رہنما کی ملاقات اور معافی کے شواہد ہمارے پاس آچکے ہیں۔

    انہوں نے مزید کہا کہ امریکاکے خلاف نعرے لگانے والا امریکا کے پاؤں پکڑ رہا ہے،عمران خان نے پیغام دیا ہے کہ ہم سے غلطی ہوگئی ہے، سلسلہ وہیں سے شروع کیا جائے جہاں سے ٹوٹا تھا۔

    وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ مہنگائی میں اضافے کا ادراک ہے، آنے والے دنوں میں حالات بہتر ہوں گے، عمران خان کا ایجنڈا ملک میں انتشار اور فساد پھیلانا، ان کے گرد قانون کا گھیرا تنگ ہو رہا ہے، شفاف انتخابات پر یقین رکھتے ہیں۔

    سیالکوٹ سے جاری کردہ بیان کے مطابق خواجہ محمد آصف نے عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ شخص اپنے خون کا وفا دار نہیں، آج ادارے آئنی حدود میں رہ رہے ہیں تو یہ ان پر کیچڑ اچھالتا ہے، ہم تمام اداروں کا دفاع کریں گے، عمران خان کا ایک ہی مشن ہے کہ ہمارا ایٹمی ملک اندر سے کمزور ہو۔

    وفاقی وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ 2023 میں آئین کے مطابق شفاف انتخابات ہوں گے، شفاف انتخابات پر یقین رکھتے ہیں، ملک میں انتشار اور فساد پھیلانا عمران خان کا ایجنڈا ہے، ایسا دور شروع ہوگیا ہے کہ ملک میں آئین کی حکمرانی ہوگی۔

    انہوں نے کہا کہ ادارے ساتھ نہ دیں تو عمران خان انکے خلاف مہم شروع کر دیتے ہیں، عمران خان چھپ کر خیبر پختونخوا میں بیٹھا رہا، سابق وزیراعظم کے گرد قانون کا دائرہ تنگ ہو رہا ہے، مہنگائی کے عذاب میں سابق حکومت نے ڈالا، ہم آئین و قانون کی حکمرانی کے داعی ہیں، اداروں کا احترام کرتے ہیں، مضبوطی کے خواہاں ہیں۔

    واضح رہے کہ:
    سابق وزیر اعظم عمران خان نے 27 مارچ کو اپنے خلاف عدم اعتماد ووٹ لائے جانے کے دوران اسلام آباد میں ایک جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے ایک دھمکی آمیز خط لہرا کر الزام عائد کیا تھا کہ ایک امریکی سفیر (ڈونلڈ لو) نے ہمارے پاکستانی سفیر کو کہا تھا کہ اگر عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کامیاب ہوگئی تو پاکستان کو بہت فائدہ ہوگا.انہوں نے مزید دعوی کیا تھا کہ ان کی حکومت کو ختم کرنے کیلئے ساری سازش امریکہ نے کی ہے.

    بعدازاں پاکستان کی اعلیٰ ترین پالیسی ساز نیشنل سکیورٹی کمیٹی کے اجلاس نے عمران خان کے امریکی سازش والے دعوے کو مسترد کر دیا تھا کہ انھیں اقتدار سے نکالنے کے لیے کوئی سازش ہوئی

  • باپ پارٹی کی ”ن لیگ” سےگرما گرمی۔۔| بلوچستان کے مسائل کی اصل جڑ کون ؟

    باپ پارٹی کی ”ن لیگ” سےگرما گرمی۔۔| بلوچستان کے مسائل کی اصل جڑ کون ؟

    لاہور:باپ پارٹی کی ”ن لیگ” سے گرما گرمی۔۔| بلوچستان کے مسائل کی اصل جڑ کون ؟اس حوالے سے بلوچستان کے سابق وزیراعلیٰ علاؤالدین مری جو کہ آج کل باغی ٹی وی سے منسلک ہیں اوربلوچستان کے مسائل کے حوالے سے ایک ماہرانہ تجزیہ اورتبصرہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں آج انہوں نے بلوچستان کےمسائل کے حل نہ ہونے کا ذمہ دارقوتوں اورافراد کی نشاندہی کی ہے

    علاوالدین مری نے بلوچستان کے حوالے سے گفتگو کرتےہوئے کہا ہے کہ بلوچستان پاکستان کا وہ صوبہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے تمام موسم اور دنیا کی قیمتی ترین معدنیات سے مالا مال کررکھا ہے لیکن اس کے باوجود یہ صوبہ ابھی بھی پسماندگی کا شکار ہے ،

    علاوالدین مری کہتے ہیں کہ اس ساری صورت حال کے ذمہ داربلوچستان کی سیاسی قوتیں بھی ہیں اور وفاق بھی اس کاذمہ دار ہے، عفیفہ راو کے ایک سوال کے جواب میں علاوالدین مری نے کہا کہ شہبازشریف کا صوبے کا تھوڑے ہی عرصے میں تین مرتبہ دورہ ایک اچھی بات ہے لیکن صرف دورے ہی کافی نہیں ، سابق حکومت کے دور میں بھی بلوچستان کی ترقی کے لیے بہت زیادہ فنڈز رکھے گئے لیکن اس کے باوجود کوئی خاص ترقی دیکھنے کو نہیں ملی

    علاوالدین مری کہتےہیں کہ بلوچستان عوامی پارٹی کے قائدین اسلم بھوتانی ,خالد مگسی اور دیگررہنماوں کا یہ کہنا ہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان کے دور میں بلوچستان کو اربوں روپے کے خصوصی فنڈزدیئے گئے لیکن ہمیں عزت نہیں دی گئی ، اوراگرموجودہ حکومت کو دیکھا جائے توہمیں اگرعزت دیتے ہیں تو بلوچستان کے لیے اس قدرفنڈز نہیں دے رہے ہیں بلوچستان ہردوراورہرحکومت میں ایسے ہی پسماندہ رہا ہے ، گوادر کے حالات سب کے سامنے ہیں ، چین کے بھی کچھ ایسے ہی کنسرن ہیں

     

     

    علاوالدین مری کہتےہیں کہ بلوچستان کی ترقی کےلیے ضروری ہے کہ بلوچستان بھرمیں ترقیاتی کاموں کے جال بچھائے جائیں ، صنعتوں کو فروغ دیا جائے ،اعلیٰ تعلیم کا بندوبست کیا جائے ، نوجوان طبقے کوفنی تعلیم دلوا کرمعاشی سرگرمیوں کے لیےتیار کیا جائے نہ کہ گورنمنٹ جاب کی طرف دھکیل دیا جائے جس میں کم تنخواہوں سے کیسے گزارہ ہوسکتا ہے

    علاوالدین مری کہتے ہیں کہ صوبے میں انڈسٹریل اسٹیٹس بنائی جائیں‌، ٹیکس فری زون بنائیں جائیں تاکہ لوگ معاشی سرگرمیوں کی طرف لوٹیں اورصوبے میں ایک بہتردور کاآغاز ہوسکے ، ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس کے لیے ضروری ہےکہ بلوچستان کے ہرعلاقے میں ترقیاتی کام کیے جائیں ، لوگوں‌کوتعلیم صحت اورروزگار فراہم کیا جائے تاکہ نوجوانوں کو اپنے ہی علاقوں میں روزگارمل سکے

    علاوالدین مری کہتےہیں‌کہ اس سلسلے میں حکومتوں کوعملی اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے نہ کہ بیانات کے ذریعے سہارا لیکرعوام کو دھوکہ دینے کی کوشش کی جائے ،وفاقی حکومت کو چاہیے کہ وہ صوبے کی خوشحالی کے لیے عملی اقدامات اٹھائے اور احساس محرومی ختم کرنے کےلیے کوشش کرے

  • لوڈ شیڈنگ کی وجوہات سامنے آگئیں،سابق حکومت نے پاور پلانٹس کیلئے بروقت فیول کا انتظام نہیں کیا

    لوڈ شیڈنگ کی وجوہات سامنے آگئیں،سابق حکومت نے پاور پلانٹس کیلئے بروقت فیول کا انتظام نہیں کیا

    سابق حکومت کی نااہلی کی وجہ سے پاکستان کے عوام اور ملک کو شدید گرمی میں بجلی کی لوڈشیڈنگ کا سامنا ہے، سابق حکومت نے پاور پلانٹس کیلئے بروقت فیول کا انتظام نہیں کیا، سستے اور مقامی بجلی گھروں پر کام میں دانستہ تاخیر کی، عالمی سطح پر ایل این جی کی کم قیمتوں کے وقت طویل المدتی معاہدے نہ کرنے، ڈالر کی قدر میں اضافہ اور سرکلر ڈیٹ بھی لوڈشیڈنگ کی وجوہات ہیں، موجودہ حکومت نے بروقت اقدامات اٹھاتے ہوئے اگست 2022 تک 70 ملین کیوبک فٹ یومیہ آر ایل این جی کا بندوبست کیا ہے،سابق حکومت کی سستی کی وجہ سے کروٹ ہائیڈرو، شنگھائی الیکٹرک اور پنجاب تھرل آر ایل این جی کے 3197 میگاواٹ کے منصوبے اپنی معین مدت میں مکمل نہ ہوسکے۔

    دستیاب اعدادوشمار کے مطابق اس وقت ملک بھر میں لوڈشیڈنگ کی زیادہ تر وجوہات سابقہ حکومت کی 2018 سے 2022 کے دوران غفلت اور کمیشن ہے، بین الاقوامی مارکیٹ میں بڑھتی ہوئی توانائی کی قیمتوں کے باعث پاکستان کے پاور سیکٹر کو شدید مشکلات کا سامنا ہے، مالیاتی بندش میں تاخیر بھی سابق حکومت کی نااہلی تھی، حکومت پاکستان کی جانب سے ساہیوال کول اور حب جیسے مکمل شدہ منصوبوں کیلئے ریوالونگ اکائونٹ کھولنے میں ناکامی کا نتیجہ یہ نکلا کہ سی پیک کے تحت بجلی کی تیاری کے سلسلہ میں توانائی کے شعبہ کیلئے مزید فنانسنگ نہیں ہے۔

    سابق حکومت یا تو سی پیک کے توانائی کے فریم ورک کو سمجھ نہیں سکی یا یہ فریم ورک اس کی سمجھ سے باہر تھا۔ اس سستی کی وجہ سے بجلی کی لوڈشیڈنگ کا مکمل خاتمہ نہیں ہوسکا اور اس شعبہ کاگلہ گھونٹا گیا۔ 720 میگاواٹ کا حامل کروٹ ہائیڈرو پراجیکٹ فروری 2022ء میں مکمل ہونا تھا تاہم یہ منصوبہ اب جولائی میں مکمل ہوا ہے۔ 1214 میگاواٹ کا تھرکول بلاک اور معدنیاتی شنگھائی الیکٹرک منصوبہ کی تکمیل مئی 2022ء میں ہونا تھی تاہم اب یہ مئی 2023ء میں مکمل ہونا ہے۔

    اسی طرح اعلیٰ کارکردگی کا حامل 1263 میگاواٹ کا پنجاب تھرمل آر ایل این جی پاور پلانٹ جھنگ پی ٹی آئی کی حکومت کی وجہ سے تین سال سے زیادہ تاخیرکا شکار رہا۔ دستیاب اعدادوشمار کے مطابق فیول مکس کی عدم دستیابی کی وجوہات میں آر ایف او کی عدم دستیابی ہے۔ 30 جون 2022 تک آئل انڈسٹری (او ایم سیز اور ریفائنریز) کے پاس دستیاب آر ایف او کے موجودہ ذخائر دو لاکھ 77 ہزار میٹرک ٹن ہیں جبکہ ایک لاکھ 30 ہزار میٹرک ٹن آر ایف او کے دو کارگو اس وقت بندرگاہ سے باہر ہیں ۔

    جولائی 2022 کیلئے تقریبا ایک لاکھ 80 ہزار میٹرک ٹن کی درآمد کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ یہ انتظامات جولائی 2022 کے دوران پاور ڈویژن کی طرف سے رکھی گئی چار لاکھ 36 ہزار میٹرک ٹن کی طلب کو پورا کرنے کیلئے کافی ہیں۔ اس کے علاوہ تیل کی صنعت نے پراڈکٹ کا بندوبست کیا ہے لیکن پاور پلانٹس کی طرف سے پاور ڈویژن کے کم آرڈرز اور ادائیگیوں کے مسائل کی وجہ سے اس کی حقیقی اپ لفٹمنٹ کم رہی۔ پٹرولیم ڈویژن پاور سیکٹر کیلئے مطلوبہ آر ایف او انتظام کرنے کیلئے تمام کوششیں کر رہا ہے اور متعلقہ پاور پلانٹس کی جانب سے بروقت آرڈر دینے اور پیشگی ادائیگیوں سے مشروط آر ایف او کی ضروریات کو آرام سے پورا کرسکتا ہے۔

    اعداد وشمار کے مطابق 21 اپریل 2022 کو مئی اور جون کیلئے تین کارگو کے ٹینڈر دیئے گئے تاہم جون کے کارگو کیلئے کوئی بڈ موصول نہیں ہوئی جبکہ مارکیٹ کی قیمت سے زائد قیمت کی وجہ سے دو کارگو ایوارڈ نہیں کئے گئے۔3 جون 2022 کو جولائی 2022 کیلئے ایک کارگو کے ٹینڈر کی آخری تاریخ تھی۔ تاہم ایل سی کنفرمیشن مسائل کی وجہ سے اس میں شرکت کم رہی۔10 جون کو جولائی کے ماہ کیلئے ایک کارگو، اور 23 جون 2022 کو چار کارگو کے ٹینڈر کی آخری تاریخ تھی اس میں بھی یہی مسائل رہے۔ 16 سے 30 اپریل 2022 کے دوران ایک لاکھ 39 ہزار میٹرک ٹن کی ڈیمانڈ دی گئی جبکہ ایک لاکھ 68 ہزار میٹرک ٹن آر ایف او اپ لفٹ کیا گیا۔ مئی 2022 میں تین لاکھ چار ہزار میٹرک ٹن کی ڈیمانڈ کے مقابلہ میں دو لاکھ 58 ہزار میٹرک ٹن اپ لفٹ کیا گیا جبکہ جون 2022 کیلئے چار لاکھ 42 ہزار میٹرک ٹن ڈیمانڈ کے مقابلہ میں تین لاکھ چھ ہزار میٹرک ٹن اپ لفٹ کیا گیا۔

    موجودہ حکومت نے اپریل میں 8 ملین ، مئی میں 12ملین، جون میں 12 ملین، جولائی میں 8 ملین اور اگست 2022 میں 7 ملین کیوبک فٹ یومیہ آر ایل این جی کا انتظام کیا ہے۔ موجودہ حکومت نے اپریل سے جون 2022 کے دوران ایل این جی کی سپاٹ خریداری شروع کی۔ اس دوان 573 ملین ڈالر کی ایل این جی کی خریداری کی گئی۔ گوکہ پی ایس او اور پی ایل ایل کے ایس این جی پی ایل اور پاور سیکٹر کی طرف بڑی مقدار میں بقایا جات ہیں لیکن اس کے باوجود بجلی کیلئے سپلائی جاری رکھی گئی۔ جون میں ایل این جی کی ادائیگی میں پی ایس او کا شارٹ فال 285 ارب جبکہ پی پی ایل کا 119 ارب قابل وصول ہے۔ پی ایس او اور پی ایل ایل، ایل این جی درآمد کیلئے مصروف عمل ہیں۔

    سابق حکومت کی جانب سے ایل این جی کی عالمی مارکیٹ میں قیمت کم ہونے پر طویل المدتی کنٹریکٹ نہیں کئے گئے جس کی وجہ سے اب زائد قیمت پر ایل این جی مل رہی ہے جوکہ آر ایل این جی کی خریداری کے طویل المدتی معاہدوں میں کمی ہے۔ 2020 کے وسط میں آر ایل این جی 3 سے 5 ڈالر ایم ایم بی ٹی یو دستیاب تھی تاہم اس موقع سے فائدہ نہیں اٹھایا گیا اگر اس وقت یہ معاہدہ کرلیا جاتا تو آج صارفین کو بجلی کے بل کم ملتے۔2018 سے 2022 کے دوران مسلم لیگ ن کی گزشتہ حکومت کے معاہدہ کی وجہ سے ایل این جی 8 ڈالر پر دستیاب تھی جبکہ اس وقت اس کی قیمت 9 ڈالر 44 سینٹ تھی جبکہ حالیہ مہینوں میں آر ایل این جی 38 ڈالر ایم ایم بی ٹی یو سے تجاوز کرچکی ہے۔

    دستاویز کے مطابق جو 2018 میں سرکلر ڈیٹ 1152 ارب روپے تھا جبکہ مارچ 2022 میں اس میں 114 فیصد اضافہ کے ساتھ 2467 ارب تک پہنچ گیا۔ سرکلر ڈیٹ بڑھنے کی ایک بڑی وجہ پی ٹی آئی کے دور میں ڈالر کی قدر 115 کے مقابلہ میں 191 روپے تک بڑھ جانا بھی ہے۔ اس کے علاوہ بڑھتے ہوئے سرکلر ڈیٹ نے پرائیویٹ پاور پلانٹس کو حکومتی ادائیگیوں کو بھی متاثر کیا۔ 3900 میگاواٹ کے کوئلہ کے تین بڑے پاور پلانٹس کوئلہ کی عدم دستیابی کی وجہ سے اپنی استعداد کے مطابق نہیں چل رہے۔

    ایک کول پاور پلانٹ کا کوئلہ پیسے نہ ہونے کی وجہ سے کراچی پورٹ سے واگزار نہیں ہوسکا۔عالمی مارکیٹ میں توانائی کی قیمتوں میں گزشتہ 18 ماہ میں 300 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا ہے۔ 2018 میں آر ایف او فی میٹرک ٹن 58 ہزار 85 روپے سے تھی جو اپریل 2022 میں ایک لاکھ 28 ہزار 210 میٹرک ٹن ہوگئی اسی طرح آر ایل این جی 1250 ایم ایم بی ٹی یو دستیاب تھی جو اپریل 2022 میں 2671 روپے تک پہنچ گئی۔2018 میں کول 18107 روپے ٹن تھا جو اپریل 2022 میں 63775 روپے ہوگیا۔