Baaghi TV

Author: +9251

  • نیا پاکستان،پرانی کرپشن۔۔|| بشریٰ بی بی اور خاور مانیکا نےملک کیسے لوٹا۔خوفناک حقائق

    نیا پاکستان،پرانی کرپشن۔۔|| بشریٰ بی بی اور خاور مانیکا نےملک کیسے لوٹا۔خوفناک حقائق

    لاہور:سابق خاتون اول بشرہ بی بی، ان کے سابق خاوند خاور مانیکا، اس کے بچے، اس کے بھائی اس کے رشتہ دارکیسے ریاست کو لوٹتے رہے۔ اس حوالے سے سنیئرصحافی مبشرلقمان نے اپنے یوٹیوب چینل پرانکشافات کرکے بہت سی چیزیں صارفین کے سامنےرکھ دی ہیں‌، وہ کہتے ہیں کس سے کتنی رقم لی، کس کی کتنی زمین پر قبضہ کیا، کس سے کتنے تحائف لیے، کہاں کہاں زمین خریدی اور کہاں کہاں انویسٹمنٹ کی۔ ایک ایک چیز آپ کے سامنے رکھوں گا اور یہ کہانی کروڑوں کے نہیں بلکے اربوں کے ہیں، پانچ قیراط کی انگوٹی صرف والدہ نے نہیں لی بلکہ سوا ارب روپے کی کک بیکس صرف بیٹے نے اسی پارٹی سے وصول کی۔

    مبشرلقمان کا کہنا تھا کہ میاں خاور مانیکا ولد میاں غلام فرید مانیکا کا تعلق ضلع پاکپتن کے معروف مانیکا وٹو خاندان سے ہے۔ ان کے دادا خان بہادر نور خان ایک زمیندار تھے اور تقریباً 3700 ایکڑ زرعی زمین کے مالک تھے۔خاور مانیکا کے والد میاں غلام فرید مانیکا بھی ضلع پاکپتن کے معروف زمیندار تھے۔ خاور مانیکا کو تقریباً400 ایکڑ زرعی زمین اپنے والد سے وراثت میں ملی۔ اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد انھوں نے سی ایس ایس کا امتحان پاس کیا اور پاکستان کسٹم کو 1983میں جوائن کیا اور 2018 میں ریٹائر ہوئے۔

     

    سنیئرصحافی نے اس حوالے سے مزید انکشافات کرتے ہوئے کہا کہ بنیادی طور پر اس کی شادی اپنے چچا مظہر فرید مانیکا کی بیٹی محترمہ روبینہ سے ہوئی جو دیپالپور ،ضلع اوکاڑہ کی رہائشی تھی۔ یہ شادی زیادہ عرصہ نہ چل سکی اورپھربشریٰ بی بی سے دوسری شادی کر لی جس سے ان کے دو بیٹے اور تین بیٹیاں ہیں۔ آخر میں بشریٰ بی بی کو طلاق دینے کے بعد، اس نے دس اگست 2018 کو اپنی بیٹی کی دوست سمیرا جاوید، آغا جاوید اختر کی بیٹی کے ساتھ تیسری شادی کی، جس سے خاورمانیکا کی صرف ایک بیٹی ہے۔ نکاح کا سرٹیفکیٹ آپ سکرین پر دیکھ سکتے ہیں۔خاور مانیکا پر الزام ہے کہ وہ ایک روائیتی بدعنوان بیو روکریٹ کی عظیم مثال ہیں جو فرنٹ مین کے ایک باضابطہ نیٹ ورک کے ذریعے منظم بدعنوانی میں ماسٹر بن گئے۔ اس کے کچھ فرنٹ مینوں اور سماجی روابط کی تفصیلات میں آگے چل کر بتاوں گا جسے سن کر اپ کے اوسان خطا ہو جائین گے۔۔ بدعنوانی کی کچھ جھلکیاں میں آپ کو دیکھا دیتا ہون۔۔ خاور مانیکا نے اپنے ایک فرنٹ مین کے ذریعے چک بیدی،ڈسٹرکٹ عارف والا میں مرحوم چوہدری عبدالغفور جن کی وفات 2017 میں ہوئی کی چھوڑی ہوئی تقریباً چار سو ایکڑ زرعی زمین پر قبضہ کر لیا۔ خاور مانیکا نے روبینہ نامی خاتون جو خاور مانیکا کے فرنٹ مین محمد رفیق کی بہن ہےکا جعلی شناختی کارڈ تیار کرکے اور اس کا نام عائشہ رکھ کر مذکورہ زمین پر قبضہ کرنے کی کوشش کی اور تو اور جعلی شادی کا سرٹیفکیٹ بھی تیار کیا گیا جس میں اسے مرنے والے کی بیوی ظاہر کیا گیا ۔

    ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ یہ جعلی نکاہ نامہ اور شناختی کارڈ کی کاپی آپ اپنی سکرین پر دیکھ سکتے ہیں۔تاہم، جانچ پڑتال کے بعد مذکورہ گاؤں میں شادی کا کوئی ریکارڈ نہ ملا۔خاور مانیکا اور اس کے بیٹے ابراہیم مانیکانے اپنے مقامی فرنٹ مین محمد رفیق کے ساتھ مل کر موضع میر خان میں 45 ایکڑ اراضی دھوکہ دہی سے مقتول کی جعلی بیوہ پیش کر کے ہتھیا لی۔کیونکہ مقتول مقبول کا کوئی قانونی وارث نہیں تھا۔ اور یہ کارنامہ سر انجام دینے کے عوض خاور ما نیکا نے اپنے فرنٹ مین رفیق عرفPhikki کو 12 ایکڑ زمین تحفے میں دی۔خاور مانیکا اور ابراہیم مانیکا جوبشریٰ بی بی کا بیٹاہے، نے خاتون اول کی صورت میں حاصل ہونے والی شہرت کا استعمال کرتے ہوئے اور خاتون اول کی مبینہ حمایت کا استعمال کرتے ہوئے تقریباً دس لاکھ روپے روزانہ کی بنیاد پروزیر اعلی، آئی جی، اور چیف سیکرٹری آفس کے ذریعے سرکاری افسران کے تبادلوں، پوسٹنگ کا انتظام کر کے کماتے رہے ، یعنی تین کروڑ روپے ماہانہ۔ لیکن یہ تو مونگ پھلی کا ایک دانہ ہے ، آپ آگے تفصیل سنیں گے تو آپ کے ہوش اڑ جائیں گے کہ یہ تو ڈرائی فروٹ کے پورے پورے ٹوکرے ہضم کر گئے اور ڈکار بھی نہیں ماری۔ آپ سنتے جائیں اور شرماتے جائیں۔

     

    https://youtu.be/3FLEnsydJ_4

    ٹرانسفر پوسٹنگ کی رقم کی دھوکہ دہی مسٹر سرفراز کے ذریعے کی جاتی تھی جو لاہور میں خاور مانیکا کے اہم فرنٹ مین ہیں اور اہم کام انجام دیتے ہیں۔ اس کے علاوہ ، خاور مانیکا کے لاہور میں کئی ججوں کے ساتھ بھی خوشگوار تعلقات اور قریبی روابط ہیں۔سروس کے دوران، خاور مانیکا نے گاؤں موضع 22/K میں 135 ایکڑ زرعی زمین خریدی اور اسے بشریٰ بی بی خاتون اول کے نام کر دیا۔ ان کی طلاق کے بعد، مسٹر مانیکا اب بھی اپنے فرنٹ مین عامر نامی شخص کے ذریعے زمین کا سالانہ ٹھیکہ وصول کر رہے ہیں۔ یہ حقیقت محترمہ بشریٰ بی بی کے ساتھ ان کے مسلسل مالی روابط کی تصدیق کرتی ہے۔ اب یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا عمران خان نے اپنی بیوی کے اثاثے اپنے گوشوارون میں ظاہر کیئے ہیں اور اگر نہیں کیئے تو یہ کتنا بڑا جرم ہے۔ کیونکہ اس ملک میں اکاموں پر نا اہل کرنے کی روائیت تو پہلے ہی پڑ چکی ہے۔

    مبشرلقمان کہتے ہیں کہ بھائی احمد مجتبی کے کارناموں پر ایک نظر :احمد مجتبیٰ ولد سردار ریاض خان (مرحوم) کا تعلق ضلع اوکاڑہ کے معروف وٹو خاندان سے ہے۔ وہ خاتون اول بشریٰ بی بی کے بھائی ہیں۔ ان کے والد، سردار ریاض خان ضلع اوکاڑہ کے معروف زمیندار تھے۔احمد مجتبیٰ کو تقریباً 60 ایکڑ زرعی زمین اپنے والد سے وراثت میں ملی تھی۔ ان کا مستقل پتہ Koaky Bahawalتحصیل دیپالپور ضلع اوکاڑہ ہے۔ ان کی شادی سردار لطف اللہ خان کی بیٹی محترمہ مہرالنساء سے ہوئی جس سے ان کے 2 بیٹے اور 1 بیٹی ہے۔ وہ مستقل طور پر لاہور میں آباد ہیں۔ وزیر اعظم عمران خان کے ساتھ اپنی بہن کی شادی کے بعد
    احمد مجتبی علاقے کی ایک بااثر شخصیت بن گئے ہیں۔ اپنے ساتھیوں، فرنٹ مینو اور دیگر لوگوں کی مد د سے ایک منظم گروپ بنایا جس میں
    وسیم رسول مانیکا ، حماد احمد مانیکا اور دیگر شامل ہیں،احمد مجتبی تحصیل دیپالپور میں زمینوں پر قبضے سمیت ہر طرح کی منفی سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔جب عمران خان کی حکومت آئی تو خاتون اول کے بھائی احمد اپنے بھانجے ابراہیم مانیکا کے ساتھ سرکاری افسران کی تقرریوں،تبادلوں کا انتظام کر تے رہے ۔ کئی فرنٹ مینوں کے ذریعے روزانہ ضرورت مندوں سے پانچ لاکھ سے دس لاکھ روپے تک کی رقم چھین لی جاتی۔احمد مجتبی کے فرنٹ مین وسیم رسول نے ان کے کہنے پر 2017 میں موضع بونگہ صالح رفیع آباد، کھمبیا والی، تحصیل دیپالپور، ضلع اوکاڑہ میں561 کنال اراضی ایک کروڑ چودہ لاکھ روپے کے ٹھیکے پر ہتھیا لی۔ یہ زمین دراصل دوبہنوں کی ہے جن کا نام بشریٰ بیگم اور عارفہ فخر حیات مانیکا ہے جو میاں فخر محمد مانیکا کی بیٹیاں ہیں۔ مقامی حکومت کے دباؤ سے کیس ابھی بھی زیر التوا ہے۔ملک حسین ولد برکت علی نے حماد احمد مانیکا اور وسیم رسول جو بشرہ بی بی کے بھائی احمد کا فرنٹ میں ہے کے ساتھ مل کر طاہر خورد، بصیر پور، تحصیل دیپالپور، ضلع اوکاڑہ میں مسٹر دین محمد کی 70 ایکڑ اراضی پر قبضہ کر لیا ،زمین کی قیمت تقریباً 21 کروڑ روپے ہے۔ایف آئی آر نمبر 17/22 مورخہ گیارہ جنوری 2022 مسٹر ملک حسین اور حماد احمد کے خلاف تھانہ بصیر پور، ضلع اوکاڑہ میں درج کی گئی ہے۔

    سینئرصحافی کا کہنا ہے کہ حماد احمد مانیکا جو بشرہ بی بی کے بھائی احمد مجتبی کا فرنٹ مین ہے نے احمد کے کہنے پر بونگہ صالح، بصیر پور، تحصیل دیپالپور، ضلع اوکاڑہ میں 17 ایکڑ اراضی پر ناجائز قبضہ کیا۔ یہ زمین دراصل بریگیڈیئر (ر) شاہد جمیل کی تھی ،زمین کی قیمت تقریباً پانچ کروڑ روپے ہے۔حماد احمد مانیکا نےجعلی دستاویزات کے ذریعے 2.5 ایکڑ اراضی بھی ہتھیا لی جسے اس کے قانونی ورثاء نے ہاؤسنگ سوسائٹی کی تعمیر کے لیے کسی دوسری پارٹی کو فروخت کیا تھا۔ گفت و شنید کے بعد انہوں نے بڑا حصہ واپس کر دیا لیکن پھر بھی سوسائٹی میں 72 مرلہ کمرشل اراضی پر قابض ہیں۔ احمد مجتبی کے فرنٹ مین حماد احمد مانیکا نے پٹواری ٹھوکر نیاز بیگ کی تقرری کے لیے اسی لاکھ روپے لیے، اور پھر اگلے ہی دن نوٹیفکیشن میں ترمیم کر دی گئی اورحکام کی جانب سےایک اور شخص کو تعینات کر دیا گیا جس کی وجہ سے پٹواری اپنے پیسے واپس مانگتا رہ گیا۔ایک تخمینہ کے مطابق خاور مانیکا اور اس کے بیٹو ں نے ایک ارب 34کروڑ کی گاڑیاں، کاریں اور کیش کی صورت میں بنایا جبکہ زمین اور گھروں کی صورت میں تقریباایک ارب تین کروڑ روپے کے اثاثے ہیں۔احمد مجتبی کے پاس زمین اور کیش کی صورت میں تقریبا 520 millionروپے ہیں۔

    وہ کہتے ہیں کہ بشریٰ بی بی کے بیٹے مسٹر ابراہیم کو حال ہی میں لاہور میں چار کروڑ روپے کی ایک لینڈ کروزرگاڑی تحفہ میں ملی ہے جو تحفہ فراہم کرنے والے کے ایک مخصوص کام کو پورا کرنے اور اسے سنبھالنے کی صورت میں ملی ہے۔ اس الزام کے ثبوت۔ اس بندے کا نام اور کس کام کے عوض یہ دی گئی بہت جلد ایک اور پروگرام میں آپ کے سامنے لاوں گا۔مبینہ طور پر، بشرہ بی بی کے بیٹے ابراہیم مانیکا نے پنجاب حکومت کے ذریعے لاہور میں شاہقام چوک اوور ہیڈ برج کی تعمیر میں سہولت فراہم کرنے کے لیے بحریہ ٹاؤن کے سی ای او ملک ریاض سے کک بیک کی صورت میں 80 کروڑ روپے بھی وصول کیے ۔ جبکہ ایک اور ڈیل میں پچیس کروڑ روپے الگ سے لیے۔خاور مانیکا کے چچا نے عرصہ دراز پہلے آٹھ کنال قیمتی جگہ جو287 Ferozpur lahore کے نام سے تھی کو تیس لاکھ روپے میں فروخت کیا تھا۔ خاور مانیکا نے ہیرا پھیری کر کے ، حال ہی میں اپنے دادا کے نام کروانے میں کامیاب ہو گئے ۔اب اس جگہ کی مالیت اربوں میں ہے، خاور مانیکا نے محکمہ لینڈ ریکارڈ کو خصوصی طور پر زمین کا ریکارڈ شیئر نہ کرنے کی ہدایت کی ۔اب یہ پاکپتن میں کس قسم کی بدمعاشی کرتے ہیں زرا یہ بھی سن لیں۔۔بھروان بی بی جو7-SPضلع پاکپتن کی رہائشی ہے نے SP صدر کو درخواست دی ، کہ اس کے بیٹے سہیل منظور ولد منظور جس کی عمردس سال تھی سے ذاکر حسین نامی شخص نے شدید جسمانی زیادتی کی ہے۔ جب وہ دوکان پر سودا لینے جا رہا تھا۔اور اس پر ایک ایف آئی آر بھی درج کی گئی۔اور بعد میں پولیس نے ملزم کو گرفتار کر لیا۔ ملزم خاور مانیکا کے منیجر جاوید کا قریبی رشتہ دار نکلا۔

    مبشرلقمان کا کہنا تھا کہ خاور مانیکا کے مینجر جاوید نے بھروان بی بی پر اپنی ایف آئی آر واپس لینے کے لیے دباؤ ڈالا، لیکن اس کے باوجود، نابالغ سہیل منظور نے صلح کرنے سے انکار کردیا۔ جس کے بعد موسیٰ مانیکا سرگرم ہو گئے ۔موسی بشریٰ بی بی کا چھوٹا بیٹا ہے ، اس نے اپنے ڈیرہ میں پنچایت بلائی۔ متاثرہ کے رشتہ داروں کو بے جا دباؤ کا نشانہ بنایا گیا اور پولیس نے جھوٹے مقدمات بنا کرانہیں غیر قانونی حراست میں رکھا۔ ابھی تک، مصالحت زیر التواء ہے اور متاثرین کو اب بھی مسٹر خاور مانیکا مقامی پولیس کے ذریعے مجبور کر رہے ہیں۔ان لوگوں کے کام دیکھیں اور ان کے عزائم دیکھیں۔۔ اب ان کی نظر
    دربار بابا فرید پاکپتن کی گدی پرہے۔خاور مانیکا دربار حضرت بابا فرید، پاکپتن کی گدی لینے کے خواہشمند ہیں کیونکہ وہ دربار حضرت بابا فرید کے معاملات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں خاص طور پر دربار کے سالانہ عرس کے موقع پرحال ہی میں دیوان مودود جودربار کے موجودہ نگران ہیں اور ان کے دو بھائیوں کے درمیان تنازعہ ہوا تھا۔ دیوان فیملی کے ممبر ہونے کے ناطے خاور مانیکا نے ‏محکمہ اوقاف کے ذریعہ ساز باز کر کے اس صورٹھال سے فائدہ اٹھایا اور عرس کے پہلے دو دن کا نظام سنبھال لیا۔ دس دسمبر دوہزار اکیس کو جاری کیا گیا چیف ایڈمنسٹریٹر اوقاف کا یہ نوٹیفیکیشن آپ اپنی سکرین پر دیکھ سکتے ہیں جس میں ڈپٹی کمشنر پاکپتن کے بعد خاور مانیکا کا نام درج ہے۔جس نے دربار کی رسومات ادا کرنے میں ہیرا پھیری کرکے مزید اختلافات پیدا کیے ۔

    بشریٰ بی بی، خاور مانیکا، ان کے بیٹے ابراہیم اور بھائی احمد مجتبیٰ نے روابط کا استعمال کرتے ہوئے اپنے آپ کو اس مقام پر پہنچا دیا جہاں وہ خاتون اول کی ملی بھگت سے ریاست کے کسی بھی فرد یا ادارے کو متاثر کرسکتے تھے۔ انہوں نےبیوروکریسی پولیس میں اثر و رسوخ کا اپنا کلب سرکل بنا لیا تھا۔

     

    https://youtu.be/3FLEnsydJ_4

    فرح شہزادی اور احسن جمیل گجرکےساتھ خاور مانیکا پنجاب بھر میں خاص طور پر ساہیوال ڈویژن کی مقامی انتظامیہ میں منافع بخش تقرریوں پر اپنے قریبی ساتھیوں اور دوستوں کو تعینات کرنے میں کامیاب رہی ۔خاتون اول نے اپنے کلب کے ساتھ Graana.com میں سرمایہ کاری کی ہے، جو کہ فرنٹ مین کے ذریعے چلایا جا رہا ہے۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ گالف فلورس گارڈن سٹی اسلام آباد (عمران گروپ آف کمپنیز)۔عمارات رہائش گاہیں (ایکسپریس وے اسلام آباد)۔ایمیزون آؤٹ لیٹ (جی ٹی روڈ اسلام آباد)۔امارت مال (جی ٹی روڈ اسلام آباد)۔مال آف عربیہ (ایکسپریس وے اسلام آباد)۔فلورنس گیلیریا (ڈی ایچ اے فیز 2 اسلام آباد)۔Taj Residensia i-14
    اسلام آبادپارک ویو سٹی (ملت روڈ اسلام آباد)۔خاور مانیکا اور احمد مجتبیٰ بشریٰ بی بی کے ساتھ مل کر لاہور,اوکاڑہ اور پاکپتن میں متعدد منصوبے شروع کیئے ۔ مزید یہ کہ انہیں مختلف منصوبوں کی منظوری میں سہولت کے لیے نقد رقم اور مہنگے تحائف کی مد میں بھاری کک بیکس بھی ملے۔

    سینئرصحافی کا کہنا ہے کہ خاتون اول کے حمایت یافتہ کلب نے راولپنڈی کے مجوزہ رنگ روڈ منصوبے سے متعلقہ نووا ہاؤسنگ اور دیگر ہاؤسنگ سکیموں میں بھی نمایاں سرمایہ کاری کی ہے۔چکری انٹرچینج M2 کے قریب کنگڈم ویلی اسلام آباد کنگڈم گروپ کا ایک فلاپ/ڈیڈ پروجیکٹ تھا۔ بشریٰ بی بی کے بیٹے ابراہیم مانیکا نے، جسے اس کی والدہ کی حمایت حاصل ہے اوراثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئےنیا پاکستان ہاؤسنگ اسکیم کے ساتھ تعاون کرکے اس منصوبے کو تبدیل کیا ۔
    دو سو کنال زمین کا ایک پورا بلاک بلیو ورلڈ سٹی میں خریدا گیا۔ اس کی ڈویلپمنٹ ابراہیم مانیکا کی طرف سے منتخب کنسٹرکشن کمپنی نے کرنا تھی۔
    ان لوگوں کی ہوس کی انتہا دیکھیں کہ ابراہیم مانیکا کسٹم ڈیپارٹمنٹ میں اپنےوالد خاورمانیکا کے تعلقات استعمال کرتے ہوئے ہیوی بائیکس درآمد کرتے رہے اور کسٹم میں اچھی خاصی چھوٹ اور ٹیکس چوری تک کرتے رہے۔

  • پنجاب یونیورسٹی کی طرف سے طلبہ اورطالبات کیلئےخوشخبری۔

    پنجاب یونیورسٹی کی طرف سے طلبہ اورطالبات کیلئےخوشخبری۔

    پنجاب یونیورسٹی کی طرف۔سے طلبہ اور طالبات کیلئے خوشخبری۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد سلیم مظہر کی چیئرمین شپ میں سینڈیکیٹ کا1746واں اجلاس منعقد ہوا۔ یہ اجلاس خاص پنجاب یونیورسٹی کے مالی سال ٢٠٢٢-٢٠٢٣ کے بجٹ کی سفارشات کیلئے منعقد ہوا۔ جس میں سینڈیکیٹ نے سینیٹ کو 8۔13 ارب روپے کے بجٹ کی منظوری کیلئے سفارش کر دی۔ اس اجلاس میں وائس چانسلر کے ایمرجنسی اختیارات کے تحت ہونے والی تقرریوں کی منظوری سلیکشن بورڈ کی سفارشات کی روشنی میں دے دی۔

    مزید تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا جاتا ہے کہ اس اجلاس میں وائس چانسلر کے ایمرجنسی اختیارات کے تحت ہونے والی تقرریوں کی منظوری سلیکشن بورڈ کی سفارشات کی روشنی میں روک دی گئی۔
    اس اجلاس میں ایک انتہائی اہم فیصلہ کیا گیا۔ اس فیصلے میں طلبہ کیلئے یہ خوشخبری  ہے کہ پنجاب یونیورسٹی کے مالی سال کے بجٹ میں طلبہ اور طالبات کیلئے اسکالر شپس اور سبسڈی جاری کی جانے کا فیصلہ ہوا۔ اس فیصلے سے طلبہ کو اپنا مالی بوجھ کم کرنے میں بہت مدد ملے گی۔ اور طلبہ اور طالبات اپنی قابلیت کی بنیاد پر تعلیم حاصل کر سکیں گے۔ بہت سے زہین طلبہ اس وجہ سے تعلیم حاصل نہیں کر سکتے کیونکہ ان کے پاس تعلیم حاصل کرنے کے پیسے نہیں ہوتے۔ لیکن اب قابل طلبہ اور طالبات کو تعلیم حاصل کرنے کا موقع ملے گا۔
    مزید برآں یہ کہ اس حوالے سے طلبہ کو پنجاب یونیورسٹی نے اسکالر شپس 233 ملین روپے کی فراہم کی جانے کا فیصلہ کیا۔اور یہ بھی کہ ایچ ای سی کی طرف سے سے بھی 136 ملین کے اسکالر شپس اور پنجاب ایجوکیشن انڈومنٹ فنڈ کی طرف سے بھی پنجاب یونیورسٹی میں طلبہ اور طالبات کو اسکالر شپس دینے کا فیصلہ ہوا۔

  • لاہور:سسر کے ہاتھوں قتل ہونے والی بہو 26مقدمات میں اشتہاری نکلی

    لاہور:سسر کے ہاتھوں قتل ہونے والی بہو 26مقدمات میں اشتہاری نکلی

    لاہور: بہو 26مقدمات میں اشتہاری نکلی ،اطلاعات کے مطابق وحدت کالونی میں صلح کے دوران سسر کے ہاتھوں قتل ہونے والی بہو چوری اور لڑائی جھگڑوں کے 26مقدمات میں اشتہاری نکلی۔

    پولیس کے مطابق لاہوروحدت کالونی میں مقتولہ شبنم بی بی کو اس کے سسر خضر نے فائرنگ کر کے قتل کردیا، ملزم اور مقتولہ اہل خانہ سمیت ثالث ارشد کے گھر صلح کے لئے جمع تھے۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ صلح کے دوران دونوں پارٹیوں میں ہونے والے جھگڑے میں خضر کی فائرنگ سے شبنم کو لگنے والی گولی جان لیوا ثابت ہوئی،پولیس کے مطابق مقتولہ چوری اور لڑائی جھگڑوں کے 26 مقمدمات میں اشتہاری تھی۔شبنم کی لاش کو کارروائی کیلئے مردہ خانےمنتقل کردیاگیا ہے۔
    ایس پی اقبال ٹاؤن عمارہ شیرازی کے مطابق واقعے کی تمام پہلوؤں سے تفتیش جاری ہے۔

  • برطانوی سکھ سپاہیوں کے 12 رکنی وفد کی جی ایچ کیو میں آرمی چیف سے ملاقات

    برطانوی سکھ سپاہیوں کے 12 رکنی وفد کی جی ایچ کیو میں آرمی چیف سے ملاقات

    راولپنڈی : برطانوی سکھ سپاہیوں کے 12 رکنی وفد کی جی ایچ کیو میں آرمی چیف سے ملاقات،اطلاعات کے مطابق برطانوی سکھ سپاہیوں کے 12 رکنی وفد نے جی ایچ کیوکا دورے کے دوران آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ سے ملاقات کی

    آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ سے برطانوی وفدکی ملاقات کے دوران آرمی چیف نے کہا ہے کہ پاکستان تمام مذاہب کا احترام کرتا ہےاس ملاقات میں برطانوی وفد سے گفتگو کرتے ہوئے آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ نے کہا ہے کہ پاکستان میں مذہبی سیاحت کےفروغ کی ضرورت کوتسلیم کرتےہیں

    میجر جنرل سیلیا جے ہاروی کی سربراہی میں ڈپٹی کمانڈر فیلڈ سے گفتگو کرتے ہوئے آرمی چیف نے کہا کہ کرتار پور راہداری پاکستان کی مذہبی آزادی اور ہم آہنگی کے لیے غیر متزلزل عزم کا عملی مظہر ہے۔ وفد نے لاہور کا دورہ کیا جہاں معززین نے واہگہ بارڈر پر پرچم اتارنے کی تقریب دیکھی۔ وفد نے شاہی قلعہ لاہور، علامہ اقبال کے مزار اور بادشاہی مسجد کا دورہ کیا۔

    اطلاعات کے مطابق کے دوران برطانوی سکھ فوجیوں نے ملک میں کئی مذہبی مقامات کا دورہ کیا جن میں دربار حضرت میاں میر، حویلی نونہال سنگھ، گوردوارہ جنم استھان گرو رام داس، سمادی رنجیت سنگھ، گودوارہ ڈیرہ صاحب، کرتار پور کوریڈور، ننکانہ صاحب اور ڈیرہ پنجہ صاحب شامل تھے۔اا

    آئی ایس پی آر کے مطابق برطانوی فوج کے سکھ وفد نے ضلع اورکزئی کا بھی دورہ کیا اور سمانہ قلعہ، لاک ہارٹ فورٹ اور سارہ گڑھی یادگار کا مشاہدہ کیا۔ یہ وہ جگہ تھی جہاں 1897 میں برطانوی مہم کے ایک حصے کے طور پر 21 سکھ سپاہیوں نے اپنی جانیں دی تھیں اور سکھوں کے لیے اس کی تاریخی اہمیت ہے۔
    وفد نے سارہ گڑھی یادگار پر پھولوں کی چادر چڑھائی۔ وفد نے قبائلی اضلاع میں امن اور معمول پر لانے کے لیے پاکستان کی مسلح افواج کی کوششوں کو سراہا۔

  • سندھ ہائیکورٹ میں ججز کی تقرری: جوڈیشنل کمیشن کسی نتیجےپرنہ پہنچ سکا

    سندھ ہائیکورٹ میں ججز کی تقرری: جوڈیشنل کمیشن کسی نتیجےپرنہ پہنچ سکا

    اسلام آباد: سندھ ہائیکورٹ میں ججز کی تقرری کے معاملے پر جوڈیشنل کمیشن کسی نتیجے پر نہ پہنچ سکا۔چیف جسٹس پاکستان جسٹس عمر عطابندیال کی زیرصدارت جاری جوڈیشل کمیشن کا اجلاس ختم ہوگیا ہے، اجلاس میں سندھ ہائیکورٹ میں 7 ججز کی تعیناتی پر غور کیا گیا۔

    پانچ گھنٹے تک جاری رہنے والے اجلاس میں ججز کی تعیناتی کے معاملے پر جوڈیشنل کمیشن کسی نتیجے پر نہ پہنچ سکا، جس کے باعث ججز کی تعیناتی کا معاملہ مؤخر کردیا گیا ہے۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس میں ویڈیولنک ٹیکنالوجی کا استعمال کیا گیا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نےاجلاس میں ویڈیو لنک سے شرکت کی، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اسپین اور اٹارنی جنرل اشتر اوصاف نے لاہور سے بذریعہ ویڈیو لنک اجلاس میں شرکت کی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس میں جوڈیشل کمیشن رولز میں ترامیم پر بھی مشاورت کی گئی ہے۔

    خیال رہے کہ سندھ بار کونسل نے چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس عمر عطابندیال کو خط لکھ کر سندھ ہائیکورٹ میں ججز کی آسامیوں پر تقرری کی سفارش پر تحفظات کا اظہار کیا تھا۔

    اسلام آباد میں ججز کی تقرری کے حوالے سے پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں ہائی کورٹس کے لیے 5 ججز کی تعیناتی کی منظوری دے دی گئی۔

    سینیٹر فاروق ایچ نائیک کی زیرصدارت ہونے والے اجلاس میں اقبال احمد کاسی، شوکت علی رخشانی، گل حسن ترین، عامر نواز رانا اور سردار احمد حلیمی کی بطور جج تعیناتی کی منظوری دی گئی۔

    اس موقع پر ججوں کی تقرری کے حوالے سے پارلیمانی کمیٹی کے سربراہ فاروق ایچ نائیک کا کہنا تھا کہ پارلیمانی کمیٹی نے ہائی کورٹس کےلیے 5 ججوں کی تعیناتی کی منظوری دے دی ہے۔انہوں نے کہا کہ فہمیدہ مرزا سمیت تمام اراکین نے اتفاق رائے سے تمام ججوں کی تعیناتی کی منظوری دی ہے۔

    ادھر اس سے پہلے چیف جسٹس آف پاکستان کی زیر صدارت ہونے والے جوڈیشل کمیشن کے پانچ گھنٹے طویل اجلاس میں سندھ ہائی کورٹ میں ججز کی تعیناتی کے فیصلے پر اتفاق نہ ہوسکا۔

    ذرائع کے مطابق چیف جسٹس کی زیر صدارت سپریم کورٹ میں ہونے والا جوڈیشل کمیشن کا اجلاس ختم ہوگیا، جس میں سندھ ہائیکورٹ میں 7 ججز کی تعیناتی پر غور کیا گیا البتہ جوڈیشل کمیشن اس معاملے پر کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکا جس پر تعیناتی کے معاملے کو فی الحال مؤخر کردیا گیا۔

    اجلاس میں ویڈیو لنک ٹیکنالوجی کا استعمال بھی کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق چیف جسٹس عمر عطا بندیال اور جوڈیشل کمیشن کے رکن قاضی فائز عیسیٰ نے اسپین سے ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شرکت کی۔علاوہ ازیں اٹارنی جنرل اشتر اوصاف بھی لاہور سے بذریعہ ویڈیو لنک اجلاس میں شامل ہوئے۔ اجلاس میں جوڈیشل کمیشن رولز میں ترامیم بارے بھی مشاورت بھی کی گئی۔

  • امریکہ:عدالت نےاسکولوں سمیت سرکاری عمارتوں میں باجماعت نمازکی اجازت دیدی

    امریکہ:عدالت نےاسکولوں سمیت سرکاری عمارتوں میں باجماعت نمازکی اجازت دیدی

    واشنگٹن:امریکا کی سپریم کورٹ نے اسکولوں اور سرکاری عمارتوں میں باجماعت نماز کی پابندی کو آئین کی پہلی ترمیم کے منافی قرار دیدیا جو ملازمین کے مذہبی عقائد کے احترام کو یقینی بناتی ہے۔

    عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سپریم کورٹ کے قدامت پسند ججوں نے آج ایک بار پھر آئینی ترمیم کی دوبارہ تشریح کی جو سرکاری ملازمین کو کام کی جگہ اپنے عقیدے کے اظہار سے متعلق ہے۔

    امریکی وفاقی ججز نے اسکولوں سمیت تمام سرکاری عمارتوں میں مسلمان ملازمین کو باجماعت نماز پڑھنے کی اجازت دیتے ہوئے کہا کہ پابندی آئین کی پہلی ترمیم سے متصادم ہے جو ملازمین کے عقائد کے تحفظ کی ضمانت دیتی ہے۔6 ججز نے باجماعت نماز کی اجازت دینے کے حق میں فیصلہ دیا جب کہ 3 نے مخالفت کی۔یہ معاملہ اس وقت کھڑا ہوا تھا جب واشنگٹن ہائی اسکول کے ایک سابق فٹ بال کوچ جوزف کینیڈی میچ کے بعد 50 گز کی لائن پر باجماعت نماز پڑھنے کی اجازت دینے کی وجہ سے اپنی ملازمت سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔

    سابق فٹ بال کوچ جوزف کینیڈی نے اپنی برطرفی کے خلاف مقدمہ دائر کیا تھا جس میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ انھوں نے نماز پڑھنے کی اجازت محض مذہبی رواداری کے تحت دی تھی جو آئین کی خلاف ورزی نہیں۔عدالت نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ آئین کی پہلی ترمیم حکومت کو “مذہب کے قیام کا احترام” کے خلاف کوئی قانون بنانے سے روکتی ہے۔ یہ شق ایسے حکومتی اقدامات پر بھی پابندی عائد کرتی ہے جو غیر ضروری طور پر ایک مذہب کو دوسرے مذہب پر ترجیح دیتے ہیں۔

    جسٹس نیل گورسچ نے لکھا کہ آئین اور ہماری بہترین روایات باہمی احترام اور رواداری کا مشورہ دیتی ہیں، نہ کہ سنسر شپ اور دباؤ کا۔ فٹبال کوچ کو مختصر، پرسکون، ذاتی مذہبی پابندی میں مشغول ہونے پر سزا دی گئی۔

  • خیبرپختونخواہ حکومت نے ایڈہاک اساتذہ کومستقل کردیا:بیرسٹرسیف

    خیبرپختونخواہ حکومت نے ایڈہاک اساتذہ کومستقل کردیا:بیرسٹرسیف

    پشاور:کے پی حکومت نے سرکاری ملازمین سے کیا گیا ایک اور وعدہ پورا کردیا،اس سلسلے میں ترجمان کے پی حکومت بیرسٹر سیف نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا کابینہ نے تمام ایڈہاک اساتذہ کو مستقل کرنے کی منظوری دے دی ہے۔

    ترجمان خیبرپختونخوا حکومت بیرسٹر سیف نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ دیر میں اسکول کی دیوار گرنے کا افسوس ناک واقعہ پیش آیا تھا، واقعے میں ملوث اور ذمہ دار شخص پر ایف آئی آر درج کی گئی۔انہوں نے کہا کہ دیوار گرنے سے جان بحق بچی کے لواحقین کو 10 لاکھ اور زخمیوں کو 1، 1 لاکھ روپے کی رقم دی جائے گی، اسکول کا نام بھی شہید بچی جویرہ کے نام سے منسوب کیا گیا ہے۔

    بیرسٹر سیف نے کہا کہ خیبرپختونخوا کابینہ نے تمام ایڈہاک اساتذہ کو مستقل کرنے کی منظوری دے دی ہے، 57 ہزار 579 اساتذہ کو مستقل کرنے کی منظوری دے دی گئی، کچھ اساتذہ بھرتی ہوئے ہے اور کچھ کی بھرتیاں بہت جلد کی جارہی ہیں۔

    ترجمان خیبرپختونخوا حکومت نے کہا کہ آر ٹی آئی سرکاری اور نیم سرکاری 42 اداروں کی کارکردگی پر نظر رکھتی ہے، آلودگی اور روٹ پرمٹ سرٹیفکیٹ، فروٹ منڈی لائسنس اور دوسری چیزوں کی مانیٹرنگ کی ذمہ داری بھی آر ٹی آئی کو دی گئی۔

    انہوں نے کہا کہ دریاؤں سے مائنگ نکالنے کے حوالے سے مائنگ ایکٹ میں ترامیم کی منظوری دے دی گئی، ترامیم کے تحت 5 سے 10 لاکھ روپے کا جرمانہ عائد کیا جائے گا اور متعلقہ کمپنی کو بلیک لسٹ بھی کیا جائے گا۔

    بیرسٹر سیف نے کہا کہ پشاور کے حلقے این اے 3 میں واقع 12 ٹیوب ویلز کو ڈبلیو ایس ایس پی کو دینے کی منظوری دے دی ہے، جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے سیکرٹری کو چیک پوسٹس قائم کرنے کا اختیار دے دیا گیا ہے۔

    یاد رہے کہ چند دن پہلے خیبر پختوںخوا کے ایڈہاک ملازمین اور اساتذہ کابنی گالہ کے باہر ریگولرائزیشن کے حق میں دھرنادیا تھا،اس موقع پر خیبر پختونخوا کےایڈہاک ملازمین اور اساتذہ کا کہناتھا کہ جب تک مطالبات منظور نہیں کیے جاتے تب تک دھرناجاری رکھیں گے،مظاہرین نے ڈیڈ لائن دیتے ہوئے کہا تھا کہ آج مطالبات پورے نہ ہوئے تو بنی گالہ کے اندر جا کر مارچ کرینگے۔

    احتجاجی مظاہرے میں شریک ملازمین کا کہنا تھا کہ ہمیں بقایاجات اور انکریمنٹ کی ادائیگی یقینی بنائی جائے، جب تک ہمارے مطالبات منظور نہیں ہونگے ہم یہاں سے نہیں جائیں گے،مظاہرین کا یہ بھی کہنا تھا کہ جب صوبے میں مستقل نوکریاں موجود ہیں تو انہیں ایڈ ہاک پر بھرتی کیوں کیا جا رہا ہے، حکومت ہمیں مستقل نوکری دے،سال 2018 سے 2022 تک ایڈ ہاک پر بھرتی ہونے والے ملازمین کو مستقل کیا جائے اور سی پی فنڈ کو ختم کیا جائے۔

    اس وقت سابق وزیراعظم نے وعدہ کیا تھا اور کہا تھا کہ بہت جلد ایڈہاک اساتذہ کو مستقل کردیا جائے گا،آج وہ وعدہ پورا کردیا گیا ہے

  • اگلے چند دنوں میں پاکستان واپس جاؤں گا:اسحاق ڈار کی تصدیق

    اگلے چند دنوں میں پاکستان واپس جاؤں گا:اسحاق ڈار کی تصدیق

    لاہور:پاکستان کی سیاست میں ایک اہم شخصیت کی انٹری ہونے جارہی ہے اوریہ سیاسی شخصیت کسی تعارف کی محتاج نہیںَ اطلاعات ہیں‌کہ پاکستان مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما اور سابق وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اگلے چند دنون یعنی جولائی میں پاکستان واپس جاؤں گا، اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں فی الحال وہ رخت سفرباندھ رہے ہیں‌

    برطانوی خبر رساں ادارے کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ اگلے ماہ (میرا) پاکستان واپسی کا ارادہ تقریباً کنفرم ہے۔ میری کی صحت کو درپیش چند مسائل کا علاج اگلے 12 روز میں مکمل ہونے کی توقع ہے، ڈاکٹرز اگلے چند روز میں اُن کے علاج کے مکمل ہونے کے بارے میں پُرامید ہیں۔

    پاکستان میں کیسوں اور ضمانت کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں لیگی سینیٹر نے کہا کہ اُن پر پاکستان میں ایک ہی کیس ہے جو عمران نیازی کی جانب سے دائر کیا جانے والا جعلی مقدمہ ہے۔مجھ پر جعلی کیس بنایا گیا اس کی کوئی بنیاد نہیں۔ یہ میرے ٹیکس ریٹرن پر بنایا گیا۔ ایسا شخص ہوں جو ٹیکس ریٹرن جمع کرانے میں کبھی تاخیر نہیں کرتا۔

    اسحاق ڈار نے مزید کہا کہ یہی وجہ ہے کہ عمران خان کی حکومت کی جانب سے جب پاکستان لانے کے لیے انٹر پول سے رابطہ کیا گیا تو جو دستاویزات انٹرپول کو دی گئیں ان میں کوئی جان ہی نہیں تھی، اس لیے انٹر پول نے مجھے کلین چٹ دی۔

    حکومت کی معاشی پالیسیوں میں ان کے ممکنہ کردار اور وزیر خزانہ کا قلمدان سنبھالنے کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پاکستان واپسی پر بطور سینیٹر حلف اٹھائیں گے۔ وزیر خزانہ کا قلمدان سنبھالنے کا فیصلہ اُن کا نہیں ہو گا بلکہ یہ اُن کی پارٹی اور قیادت کا فیصلہ ہو گا کہ کس شخص کو کیا ذمہ داری دینی ہے۔

  • پاکستان میں ذوالحج کا چاند دیکھنے کیلئے مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس کل ہو گا۔

    پاکستان میں ذوالحج کا چاند دیکھنے کیلئے مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس کل ہو گا۔

      پاکستان میں ذوالحج کا چاند دیکھنے کیلئے مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس کل ہو گا۔

      باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ذوالحج کے چاند کے حوالے سے رویت ہلال کمیٹی پاکستان کا اجلاس کل بدھ کے روز 29 جون کو کراچی میں مولانا سید محمد عبدالخبیر کی زیر صدارت ہو گا۔

      مزید تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا جاتا ہے کہ اس اجلاس میں بہت سے نمائندگان شرکت کریں گے۔
      دراصل اس اجلاس میں مرکزی رویت ہلال کمیٹی پاکستان اور زونل رویت ہلال کمیٹی کراچی کے ممبران، وزارت مذہبی امور، محکمہ موسمیات ،محکمہ سپارکو اور وزارت سائنس و ٹیکنالوجی سے تعلق رکھنے والے نمائندگان شرکت کریں گے۔
      اس حوالے سے ملک بھر میں زونل کمیٹیوں کے اجلاس ان کے متعلقہ ہیڈ کوارٹرز میں کیے جانے کا فیصلہ کیا گیا۔ اور یہ ہیڈ کوارٹرز لاہور،اسلام آباد،پشاور ،اور کوئٹہ میں منعقد کئے جانے کا فیصلہ کیا گیا۔

  • شوہر نے اپنے باپ کے ساتھ مل کر بیوی کا قتل کر ڈالا۔

    شوہر نے اپنے باپ کے ساتھ مل کر بیوی کا قتل کر ڈالا۔

    شوہر نے اپنے باپ کے ساتھ مل کر بیوی کا قتل کر ڈالا۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق لاہور میں واقع وحدت کالونی میں جرم کی واردات سامنے آئی ہے۔ یہ جرم وحدت کالونی میں اس طرح سے پیش آیا کہ ایک گھر میں کچھ جھگڑا ہوا۔ یہ میاں بیوی کا آپس آپس میں جھگڑا ہوا تھا ۔ کہ اسی جھگڑے کی وجہ سے ہی بات اتنی بھر گئی کہ شوہر طیش میں آ گیا۔ اور اس نے اپنے باپ کے ساتھ مل کر اپنی بیوی کی ہی جان لے لی۔

    مزید تفصیلات سے آگاہ کیا جاتا ہے کہ جب اس سارے واقعے کے مطلق پولیس والوں کو خبر ہوئی تو پولیس نے فوری طور پر تفتیش شروع کر دی۔پولیس کی رپورٹ کے مطابق یہ سارا واقعہ وحدت کالونی کے علاقے میں ہی پیش آیا تھا۔ اور مقتولہ جس کا نام شبنم تھا۔ اس کا اپنے شوہر عامر کے ساتھ کسی گھریلو بات پر جھگڑا شروع ہوا تھا۔ لیکن بات اب صلح پر آنے ہی والی تھی اور وکیل ابھی چاۓ لینے گیا ہی تھا کہ اسی دوران ہی شوہر نے اپنے والد کے ساتھ مل کر اپنی بیوی کا قتل کر دیا تھا۔ ان دونوں نے شبنم کو فائرنگ کر کے قتل کیا تھا۔

    مزید برآں یہ کہ اس واقعے کے مطلق جب پولیس کو پتا چلا تو وہ فوری طور پر اس واقعے کی تفتیش کرنے آ گے۔پولیس کا کہنا ہے کہ ان کی تفتیش جاری ہے۔ اور پولیس ملزمان کو پکڑنے کیلئے اپنی پوری کوشیش کرے گی۔جیسے ہی ان ملزمان باپ اور بیٹے کو دیکھا جائے گا فوری طور پر اسی وقت ہی گرفتار کرلیا جائے گا۔