Baaghi TV

Author: +9251

  • صنم سعید فلمی صنعت کی مکمل بحالی کے لئے پر امید

    صنم سعید فلمی صنعت کی مکمل بحالی کے لئے پر امید

    اداکارہ صنم سعید جو کافی عرصے سے ہمیں سکرین پر نظر نہیں آرہیں انہوں نے اپنے حالیہ انٹرویو میں کہا ہے کہ اتنے کم وسائل کے باوجود ہمارے ہاں اچھا کام ہو رہا ہے اچھی فلمیں بن رہی ہیں میں فلمی صنعت کا مستقبل خاصا روشن دیکھ رہی ہوں وہ الگ بات ہے کہ فی الحال مشکلات ہیں لیکن مشکلات زیادہ دیر تک نہیں رہیں گی کیونکہ ہمارے پاس بہت باصلاحیت لوگ ہیں جو ان سب مسائل پر قابو پانے کا ہنر جانتے ہیں۔ صنم سعید نے مزید کہا کہ اچھی کہانی ڈائیلاگز اور میوزک ہماری فلموں کو بین الاقوامی معیار کا بنا سکتا ہے۔صنم سعید نے نئے چہروں اور تکنیک کاروں کو موقع دئیے جانے کی ضرورت پر زور دیا۔ صنم سعید نے کہا کہ فلم انڈسٹری کی بہتری کے لئے بہت ضروری ہے کہ نئے لوگوں کو چانس دیا جائے۔

    اس وقت اچھا کام ہو رہا ہے لیکن مزید اچھا کام ہونے کی بھی بے حد ضرورت ہے۔صنم سعید کا ماننا ہےکہ پاکستان میں اچھے اور معیاری ڈرامے بنتے ہیں. یاد رہے کہ صنم سعید کا ڈرامہ ” زندگی گلزار ہے” بھارتی چینل پر چلایا گیا اس حوالے سے صنم سعید نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ انہیں‌فخر ہے کہ اتنے برس پہلے بننے والا ڈرامہ آج بھی ہٹ ہے اور لوگ پسند کررے ہیں اور بھارتی چینل پر اس کا لگنا یقینا حوصلہ افزا ہے.صنم ٹی وی کے ساتھ ساتھ فلموں میں بھی جلوہ گر ہوئیں انہوں نے کم مگر معیاری کام کیا ہے.

  • رہبرا اور چوہدری آج سینما گھروں کی بن رہی ہیں زینت

    رہبرا اور چوہدری آج سینما گھروں کی بن رہی ہیں زینت

    امین اقبال کی ڈائریکشن میں بننے والی فلم رہبرا اور نیہا لاج کی فلم چوہدری آج ملک بھر کے سینما گھروں‌ میں ریلیز ہونے جا رہی ہیں. دونوں فلمیں عید سے پہلے لگائی جا رہی ہیں دیکھنا یہ ہے کہ عید تک یہ کیسا بزنس کرتی ہیں اور عید پر ہی ریلیز ہونے والی دو بڑی فلموں قائداعظم زندہ باد اور لندن نہیں‌جائونگا کے لگنے تک لوگوں کی کتنی دلچپسی حاصل کرتی ہیں. فلم رہبرا کی مرکزی کاسٹ میں احسن خان اور عائشہ عمر ہیں جب کہ چوہدری میں سٹار کاسٹ بڑی ہے جس میں چوہدری کا کردار کرنے والے حاضر سروس ڈی ایس پی طارق اسلام اور شمعون عباسی ،یاسر حسین ثنا فخر و دیگر شامل ہیں۔

    دونوں فلموں کی پرموشن کے رنگ کافی پھیکے رہے ،رہبرا کی ہیروئین آخری وقت تک اپنی فلم کی پرموشن میں دلچپسی لیتی ہوئی دکھائی نہیں دیں،اسی طرح سے چوہدری فلم کی زیادہ پرموشن نہیں کی گئی بڑے شہروں میں ایک آدھ چھوٹی سی تقریب رکھی گئی، حیرت کی بات یہ ہے شمعون عباسی اور یاسر حسین اپنی ہی فلم کی تشہیر کرتے دکھائی نہیں دئیے اس کے علاوہ ان دونوں فلموں کے پریمئیر تک نہیں کئے گئے۔فلم چوہدری کی پرڈیوسر نیہا لاج کہتی ہیں کہ انہوں نے اس فلم کو بہت محنت سے بنایا ہے لوگوں کو دیکھنی چاہیے اسی طرح‌ سے امین اقبال کا بھی دعوی ہے کہ ان کی فلم رہبرا دیکھنے کے بعد کئی دن تک لوگوں کے ذہنوں میں مختلف سوال اٹھتے رہیں گے.

  • ورون دھون نے پاکستانی گلوکار ابرار الحق کا کیا شکریہ ادا

    ورون دھون نے پاکستانی گلوکار ابرار الحق کا کیا شکریہ ادا

    اداکار ورون دھون نے اپنے حالیہ انٹرویو میں کر دیں ابرار الحق کے گانے کی تعریفیں.بولے بہت شکریہ ابرار جی آپکا آپ نے اتنا اچھا گانا بنایا.جب ورون سے مزید سوال ہوا تو بولے اریجنل گانا جو کہ ابرار الحق نے گایا ہے وہ زیادہ اچھا ہے لیکن ہم دونوں گانوں‌ سے لطف اندوز ہو رہے ہیں.ورون دھون نے لیکن ایک غلط بات کر دی کہ ہمارے پاس اس گانے کے حقوق ہیں. ورون دھون کی جانب سے ابرار الحق کے گانے کی تعریف سن کر ابرابر کے پرستار ہیں بہت خوش لیکن دیکھنا یہ ہے کہ ابرار الحق اس تعریف پر کیا ری ایکشن دیتے ہیں کیونکہ ابرار کرن جوہر سے کافی ناراض دکھائی دیتے ہیں کرن جوہر کا یوٹیوب پر ابرار کو کریڈٹ دینے کے باوجود وہ عدالت کا دروازہ کھٹکھٹا چکے ہیں اب دیکھنا یہ ہے کہ

    ابرار کو کب انصاف ملتا ہے . یاد رہے کہ کرن جو ہر کی فلم ”جگ جگ جیو” میں‌ابرار الحق کے گائے ہوئے نوے کی دہائی کے پاپ سانگ نچ پنجابن کو بھونڈے انداز میں کاپی کیا گیا ہے، بھارت میں اس گانے کو بہت سراہا گیا لیکن جب ابرار الحق نے اپنا احتجاج سوشل میڈیا کے زریعے ریکارڈ کروایا تو تب بھارتی نوجوان نسل کو پتہ لگا کہ اس گانے کو تو چوری کیا گیا ہے.فلم جگ جگ جیو کی تمام تر پرموشن میں‌نچ پنجابن کے بارے میں بہت زیادہ بات کی گئی لوگ اس گانے سے بہت زیادہ محظوظ ہو رہے ہیں.فلم آج کے دن ریلیز ہونے جا رہی ہے.

  • اقوام متحدہ فیک نیوز کیخلاف ٹاسک فورس بنائے۔ وزیرخارجہ بلاول بھٹوزرداری

    اقوام متحدہ فیک نیوز کیخلاف ٹاسک فورس بنائے۔ وزیرخارجہ بلاول بھٹوزرداری

    گروپ آف فرینڈز کے ایک ورچوئل اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل سے مطالبہ کیا کہ وہ فیک نیوز کی سرکوبی کیلئے انٹرایجنسی ٹاسک فورس بنائے۔ تاکہ جعلی خبروں اور غلط معلومات کاخاتمہ ہوسکے۔

    ریڈیو پاکستان کی رپورٹ کے مطابق : وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے بین الاقوامی برادری پر زور دیا کہ وہ حکومتوں اور ان کے متعلقہ اداروں کی غلط معلومات کا سراغ لگانے، تجزیہ کرنے اور اسے بے نقاب کرنے کا نظام بنائیں جس میں قومی اور بین الاقوامی محققین اور ان اداروں کو مالی اور تکنیکی مدد فراہم کی جائے جو غلط معلومات کا سراغ لگانے میں معاون ثابت ہوں۔
    وزیرخارجہ نے مزید کہاکہ: اقوام متحدہ کا محکمہ اطلاعات اس سلسلے میں ایک اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ اور اس اقدام سے جھوٹی خبروں کا سدباب کرنا ممکن بنایا جاسکتا ہے۔

    وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ: انسانی حقوق ، مختلف کمیونٹیز اور ریاستوں کے درمیان آپسی تعلقات پر غلط معلومات کے منفی اثرات کو کم کرنے کیلئے بھی یہ ضروری ہے ہم سب مل کر فیک نیوز کا جڑ سے خاتمہ کریں تاکہ ریاستوں اور کمیونٹیز کے درمیان کسی بھی پید ا ہونے والی غلط فہمی کو روکا جاسکے۔

  • محکمہ موسمیات نے  یکم جولائی سے کراچی میں مون سون کی پیشن گوئی کر دی،

    محکمہ موسمیات نے یکم جولائی سے کراچی میں مون سون کی پیشن گوئی کر دی،

    محکمہ موسمیات نے یکم جولائی سے کراچی میں مون سون کی پیشن گوئی کر دی،

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق محکمہ موسمیات نے کراچی کے موسم کے حوالے سے پیشن گوئی کی ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق مون سون بارشوں کا آغاز یکم جولائی سے ہو گا۔

    مزید تفصیلات کے مطابق چیف میٹرولوجسٹ کراچی سردار سرفراز کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ 30 جون سے مون سون کی ہواؤں کا آغاز ہو گا ۔اور پھر یہ ہوائیں یکم جولائی کی صورت میں بارشوں کے طور پر منظر عام پر آۓ گی۔مزید ان کا کہنا تھا کہ پہلااسپیل 3 تا 4 روز پر بھی محیط ہوسکتا ہے۔رواں سال مون سون کےدوران معمول سے 30 فیصد زائد بارشوں کا امکان ہے۔

    مون سون کے موسم کے حوالے سے سردار سرفراز کا کہنا تھا کہ کراچی میں سمندر ہیں جس کی وجہ سے اس طرح کے موسم میں جب سمندر کی طرف سے نمی ملتی ہے تو بارش زیادہ ہونے کا امکان بھی ہو جاتا ہے۔اس طرح یہ موسم جولائی تا ستمبر پر محیط ہونے کا امكان ہو سکتا ہے۔ مون سون بارشوں کا دورانیہ یکم جولائی تا 30 ستمبر تک 3 ماہ پر محیط ہوتا ہے۔

    مزید برآں محکمہ موسمیات ارلی وارننگ سینٹر کی پیشگوئی کے مطابق جمعے اور ہفتے کو بارش کا کوئی امكان نہیں ہے۔بلکے موسم گرم ہو گا۔24 جون سے وسطی اور بالائی سندھ میں بہت زیادہ گرم موسم واپس آنے کا امکان ہے۔اور جمعرات کو بھی موسم بہت گرم محسوس کیا گیا تھا ۔اور موسم گرم ہونے کے ساتھ ساتھ شدید حبس بھی محسوس ہوئی تھی۔محکمہ موسمیات کےمطابق زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 39.8ڈگری جبکہ ہوامیں نمی کا تناسب 53 فیصد رہا ۔خیال رہے یہ درجہ حرارت بہت تیز اور گرمی کی شدت بھی معمول سے ہٹ کر زیادہ محسوس ہوئی۔

  • کراچی پولیس چیف نے شہر میں اسٹریٹ کرائمز کو سب سے بڑا چیلنج قرار دیدیا

    کراچی پولیس چیف نے شہر میں اسٹریٹ کرائمز کو سب سے بڑا چیلنج قرار دیدیا

    کراچی :کراچی پولیس چیف جاوید عالم اوڈھو نے شہر میں اسٹریٹ کرائمز کو سب سے بڑا چیلنج قرار دے ، حال ہی میں تعینات کراچی پولیس چیف جاوید عالم اوڈھو کا کہنا تھا کہ کراچی میں موجود سب سے بڑا چیلنج اسٹریٹ کرائمز ہے، دوسرا بڑا مسئلہ شہریوں کی موٹرسائیکلیں چوری اور چھیننا ہے، نوکری پیشہ آدمی کی موٹرسائیکل چلی جائے تو اس کی جمع پونجی چلی جاتی ہے۔ جاوید اوڈھونےکہا کہ منشیات خاص طور پر آئس سے نوجوان نسل تباہ ہورہی ہے اور یہ بھی سنگین مسئلہ ہے۔

    کراچی پولیس چیف نے بتایا کہ کراچی کا سماجی اور ثقافتی ماحول تبدیل ہو گیا ہے اور یہاں بہت سے نئے لوگ آگئے ہیں، آنے والے یہ افراد شہری آبادکاری کے مختلف مراحل میں ہیں اور ان کی سوچ اورطریقہ کار ان کے آبائی علاقوں کی سوچ بیان کرتا ہے۔ جاوید اوڈھو نے بتایا کہ خیبرپختونخوا کے قبائلی علاقوں، اندرون بلوچستان اور اندرون سندھ سے اور جنوبی پنجاب سے لوگ کراچی آئے ہیں، اب یہ ایک نیا چیلنج ہے، کراچی آپریشن سے پہلے ٹارگٹ کلنگ ضرور تھی لیکن قتل کی شرح کم تھی اس کی بڑی وجہ غیر قانونی ہتھیاروں کا آنا اور معاشرے میں تشدد اور رہن سہن کا قبول کرنا ہے۔

    کراچی پولیس چیف نے مزید بتایا کہ تقریباً 60 ہزار کے قریب پولیس کی نفری ہے جو کراچی کے مختلف یونٹس میں بٹی ہوئی ہے، پولیس کے انٹیلی جنس سسٹم کو بہتر بنانا ہے، شہر میں بہت سے گینگز ہیں اور عادی جرائم پیشہ افراد کی تعداد بہت زیادہ ہے، ہماری کوتاہیاں بھی ہیں لیکن انھیں ضمانت مل جاتی ہے۔ جاویداوڈھو نےکہا کہ منشیات ڈیلرز، غیر قانونی اسلحہ ڈیلرز ، لینڈ مافیا اور واٹر مافیا اس شہر کے بڑے مسائل ہیں اور جب تک ان مافیاز کا سد باب نہیں ہوگا شہر میں امن قائم نہیں ہوسکتا۔

    کراچی پولیس چیف جاوید عالم اوڈھو نےکہا کہ شہر میں ہونے والے جرائم مائیکرو اور میکرو اکانومی کو بیان کرتے ہیں۔ کراچی پولیس چیف نے مزید کہا کہ منشیات کا مسئلہ صرف پولیس حل نہیں کرسکتی، اس میں سب سے اہم کردار اہلخانہ کا ہے پھر تعلیمی اداروں اور معاشرے کی اپنی ذمہ داریاں ہیں، سب کو مل کر کام کرنا ہوگا، اس کے تدارک کے لیے منشیات بحالی مراکز بھی اہم ہیں۔ لینڈ مافیا اور پولیس کے گٹھ جوڑ کے سوال پر کراچی پولیس چیف جاوید اوڈھو نےکہا کہ لینڈ مافیا کا زیادہ تر تعلق ریونیو ریکارڈ سے ہےتاہم پولیس میں جو بھی ملوث ہے اس کے خلاف کارروائی ہوگی۔

  • سندھ حکومت کا سالانہ ترقیاتی پروگرام کو ڈجیٹائیز کرنے کا فیصلہ

    سندھ حکومت کا سالانہ ترقیاتی پروگرام کو ڈجیٹائیز کرنے کا فیصلہ

    کراچی :سندھ حکومت کا سالانہ ترقیاتی پروگرام کو ڈجیٹائیز کرنے کا فیصلہ،اطلاعات کے مطابق چیف سیکریٹری سندھ ڈاکٹر محمد سہیل راجپوت نے تمام محکموں کے سیکریٹریز کو ہدایت کرتے ہوئے کہا کے سال 2022-23 کے تمام منصوبوں کی PC-I کاغذ کے بجائے آن لائن محکمہ پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ کو منظوری کے لئے بھیجے جائیں۔

    یہ بات انہونے آج ڈنیٹائیزیشن آف پلاننگ پراسیس کے حوالے سے ایک اہم اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کی۔ اجلاس میں چیئرمین پلاننگ بورڈ سید حسن نقوی، سیکریٹری جنرل ایڈمنسٹریشن محمد حنیف چنہ، سیکریٹری سروسز محمد سلیم راجپوت، سیکریٹری خزانہ ساجد جمال ابڑو، سیکریٹری بلدیات سید نجم احمد شاہ سمیت تمام محکموں کے سیکریٹری شریک ہوئے۔ اجلاس چیئرمین پلاننگ بورڈ سید حسن نقوی نے پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ نے ڈجیٹل PC-I (پلاننگ کمیشن/ پراجیکٹ سائیکل فارم 1, ایک پراجیکٹ دستاویزات ہے جس میں پروجیکٹ کے تقریباً تمام پہلوؤں کا احاطہ کیا گیا ہے) ،

    فارمیٹ پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کے محکمہ پلاننگ نے منصوبوں کے منظوری کے لئے ڈجیٹل سافٹویئر بنایا ہے جس کے تحت اب تمام محکمے اپنے دفاتر سے آن لائین PC-I بھیج کر منصوبوں کی منظوری لیں گے جس کے لئے تمام سیکریٹریز کے ڈجیٹل آئی ڈی بھی بنائی گئے ہے اور محکمے کی طرف سے فوکل پرسن بھی مقرر کئے گئے ہیں، سید حسن نقوی نے مزید بتایا کے محکمہ پلاننگ تمام سیکریٹریز اور متعلقہ افسران کو اس حوالے سے تربیت بھی فراہم کرے گا۔

    اجلاس میں چیف سیکریٹری سندھ ڈاکٹر محمد سہیل راجپوت نے کہا کہ مالی سال 2022-23 میں ترقیاتی منصوبوں کے لئے 332 بلین روپے رکھے گئے ہیں، مالی سال 2022-23 میں 4100 سے زائد ترقیاتی منصوبے ہیں۔ انہونے مزید کہا کے تمام سیکریٹری اب PC-I آن لائین جمع کروانے کے پابند ہونگے، ٹیکنالوجی کے استعمال سے شفافیت بڑھے گی اور منصوبوں کی تکمیل کو آسانی سے مانیٹر کیا جا سکے گا۔ انہونے تمام سیکریٹریز کو ہدایت کرتے ہوئے کہا کے منصوبوں کو وقت پر مکمل کیا جائے اور کوالٹی کو یقینی بنایا جائے۔

  • اسلام آباد انتظامیہ کاروباری طبقے کوپریشان نہ کرے:جلال بچلانی

    اسلام آباد انتظامیہ کاروباری طبقے کوپریشان نہ کرے:جلال بچلانی

    اسلام آباد:ریجنل ایڈوائزری کونسل پی ٹی آئی اسلام آباد کے رکن اور سینئر تاجر رہنما جلال بچلانی نے کہا ہے کہ ڈی ایم اے نے آئی ایٹ مرکز میں بغیر نوٹس آپریشن کرکے پہلے سے پسے ہوئے تاجروں کا معاشی قتل کرنے کی کوشش کی ہے میونسپل ایڈمنسٹریشن ڈائریکٹوریٹ (ڈی ایم اے) اسلام آباد کی طرف سے سیکٹر آئی ایٹ میں تجاوزات کے نام پر کیے گئے آپریشن پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے جلال بچلانی نے کہا کہ ہماری قانونی طور پر جائز دکانوں میں بلاوجہ آپریشن کرکے ہمارا معاشی قتل کرنے کی کوشش کی گئی ہے پہلے ہی امپورٹڈ حکومت نے عام آدمی کی ایک وقت کی روٹی بھی مشکل کی ہوئی ہے اور اب یہ آپریشن کرکے ہمیں مزید دبایا جارہا ہے اس غیر قانونی آپریشن کی سرپرستی ڈپٹی کمشنر عرفان نواز میمن اور ڈائریکٹر ڈی ایم اے شکیل ارشد کررہے ہیں آئی ایٹ مرکز کے تاجر اس ظلم کے خلاف خاموش نہیں بیٹھیں گے اور ان ہتھکنڈوں کے خلاف پر سطح پر احتجاج کیا جائے گا

    ملک بھر کی تاجر برادری نے مطالبہ ہے کہ عیدالاضحی کے کاروباری سیزن کے موقع پر توانائی بحران کے سبب لگائی گئی پاپندیوں کو فی الفور ختم کیا جائے اور سابقہ کاروباری اوقات بحال کیے جائیں۔ عیدالضحی کے سیزن سے متعلقہ کاروبار کو اوقات کی پابندیوں سے استثنی سے بحران سے دوچار تاجروں کی بقاء ممکن ہوسکے گی۔

    یہ مطالبہ 40 سے زاٸد شہروں سے آۓ ہوۓ مرکزی رہنماٶں اور مرکزی تنظیم تاجران پاکستان کے صدر کاشف چوہدری نے آل کراچی تاجر الائنس کے تحت آل پاکستان تاجر کنوینشن سے خطاب کے دوران کیا۔ انہوں نے کہا کہ کاروباری اوقت کار کو کم کرنے کی بجاۓ سرکاری اوقات کار کو کم کیا جاۓ۔ عیدالاضحی کے بعد تاجروں کے نمائندے اور حکومت کی باہمی مشاورت سے کاروباری اوقات کار مقرر کیے جاسکتے ہیں۔

    اس موقع پر آل کراچی تاجر الاٸنس کے چیٸر مین حکیم شاہ ، سرپرست اعلی خواجہ جمال سیٹھی ، واٸس چیٸر مین شاکر فینسی ، عبدلقیوم آغا ، رضوان شاہ ، رضوان عرفان سمیت دیگر نے کہا کہ اس وقت ملک میں توانائی کے بحران۔ڈالر کی قیمت میں اضافہ روپے کی بے قدری اور حالیہ بجٹ میں بجلی کے بلوں میں ٹیکسوں میں اضافہ اور دیگر مسائل نے ملک میں کاروباری اور تجارتی سرگرمیوں کو تباہ کردیا ہے۔ کاروباری سرگرمیاں متاثر ہونے کی وجہ سے تاجر برداری شدید پریشان ہے۔بازار اور دکانیں جلد بند کرنے سے توانائی کا بحران حل نہیں ہوگا۔اگر رات کو کاروبار ہوتا ہے تو حکومت کو مختلف مدات میں ریوینیوحاصل ہوتا ہے۔اوقات کار کی پاپندیوں سے بے روزگاری اور اسٹریٹ کراٸم میں اضافہ ہورہا ہے۔ان پاپندیوں سے رات کا کاروبار تباہ ہوجائے گا۔

    انہوں نے کہا کہ پیٹرولیم منصوعات کی قیمتوں میں اضافے سے بھی بزنس کمیونٹی پریشان ہے۔وزیراعظم سے مطالبہ کرتے ہیں کہ توانائی کے بحران حل کرنے کے لیے متبادل زرائع سے بجلی کے حصول کے لیے جامع حکمت عملی بنائی جائے۔تاجروں کی مشاورت سے کاروباری سرگرمیوں میں اضافہ کے لیے پلان بنایا جائے۔کنونشن میں کراچی کی تمام مارکیٹس کے عہدیداران سماجی و سیاسی شخصیات وکلا برادری فنکار و دیگر شعبہ یاۓ زندگی سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

  • سینیٹرز ولید اقبال، اعظم سواتی، اعجاز چوہدری اور ڈاکٹر یاسمین راشد کے کیسز: رپورٹ طلب

    سینیٹرز ولید اقبال، اعظم سواتی، اعجاز چوہدری اور ڈاکٹر یاسمین راشد کے کیسز: رپورٹ طلب

    اسلام آباد: ایوان بالاء کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر محسن عزیز کی زیرصدارت پارلیمنٹ ہاوُس میں منعقد ہوا-قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں پی ٹی آئی کے حقیقی آزادی مارچ کے دوران امن امان قائم کرنے والی ایجنسیوں اور انتظامیہ کی جانب سے لانگ مارچ شرکاء پر آنسو گیس، کیمیکل گیس کی شیلنگ اور پی ٹی آئی لیڈر شپ پر پولیس کی کریک ڈاؤن سمیت پی ٹی آئی رہنماؤں اور عام عوام پر ایف آئی آر کا اندراج، غیر قانونی پکڑ دھکڑ، چادر اور چار دیواری کے تقدس کی پامالی کے معاملات کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔

    چیئرمین کمیٹی سینیٹر محسن عزیز نے کہا کہ قائمہ کمیٹی نے گزشتہ اجلاس میں بھی حقیقی آزادی مارچ کے شرکاء پر بے تحاشہ شیلنگ اور رکاؤٹوں کے معاملات کا تفصیل سے جائزہ لیا تھا۔ متعدد سینیٹرز نے کمیٹی اجلاس میں شرکت کر کے نا صرف روداد بیان کی تھی بلکہ ویڈیو لنک کے ذریعے بھی مسائل بارے آگاہ کیا تھا۔ قائمہ کمیٹی حالات واقعات کا تفصیلی جائزہ لینے کیلئے چیئرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی کی اجازت سے تمام صوبوں کا دورہ کر کے حتمی رپورٹ تیار کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ قائمہ کمیٹی کے حوالے سے ٹویٹ اور سوشل میڈیا پر ریٹائرڈ آرمی افسران کی کینیڈا میں شہریت کے حوالے سے غلط خبریں گردش کر رہی ہیں جن کا اس کمیٹی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔کمیٹی یہ معاملہ نہ ہی کبھی زیر بحث لایا گیا ہے اور نہ ہی اس حوالے سے کوئی رپورٹ بنائی گئی ہے۔

    ویڈیو لنک کے ذریعے سابق صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد نے تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ25ماڑچ کو لاہور سے ا حتجاج کے لئے نکلی تھی تو میری گاڑی پر ڈنڈے برسائے گئے ہمیں زدوکوب کیا گیا ہمیں گرفتار کر کے تھانہ لے جایا گیا ابھی تک ہماری ایف آئی آر درج نہیں کی گئی۔انہوں نے کہا کہ احتجاج میں شرکاء کی گاڑیوں کو بھی توڑا پھوڑا گیا۔ سنیٹر ولید اقبال نے بتایا کہ جیو فینسنگ کے ذریعہ سے ایک لسٹ بھی شیئر ہوئی جس میں میرا نام تھا۔رات کے بارہ بجے مجھے لاہور گھر سے فون آیا کہ پولیس کی ایک نفری نے ہمارے گھر پر دھاوا بول دیا ہے اور پولیس وین کے ذریعے ہمارے گیٹ کو توڑا گیا۔ میں اپنے والدین کے گھر رہتا ہوں میرے گھر کے گیٹ پر میرے والد اور والدہ کا نام بھی لکھا ہے۔ اہلکار دیوار پھلانگ کر گھر داخل ہو ئے۔ میرے بارے پوچھا گیا کہ ولید اقبال کدھر ہے پھر کک کے ذریعہ دروازے پیٹے گئے۔ دو دن بعد ڈی آئی جی صاحب سے ہمارے گھر آئے اور آئی جی پنجاب کی جانب سے معذرت کی۔ انہوں نے کہا کہ پولیس کو واضح معلوم تھا کہ میں اسلام آباد میں ہوں پھر بھی میرے گھر والوں کو شدید حراساں کی گیا۔ جس پر چیئرمین و اراکین کمیٹی نے کہا کہ شاعر مشرق کے بیٹے کے گھر پر اسطرح دھاوا بولنا انتہائی شرم ناک ہے۔قائد حزب اختلاف سینیٹ سینیٹر ڈاکٹر شہزاد وسیم نے کہا کہ حقیقی آزادی مارچ کے شرکاء کے حوالے سے جو واقعات ہوئے ہیں اُن کے دو پہلو ہیں۔ اُن پر نہ صرف بے تحاشہ شیلنگ، رکاوٹیں اور مسائل پیدا کئے گئے بلکہ انہیں کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئیں اور کچھ کے خلاف دہشت گردی کی دفعات بھی لگائی گئیں ہیں۔ ان کو علیحدہ علیحدہ دیکھنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی پارلیمنٹرین کو سخت حراساں کی گیا۔

    سینیٹر اعجاز چوہدری نے ویڈیو لنک کے ذریعے کمیٹی کو بتایا کہ انہیں پولیس نے گرفتار کیا اور مختلف تھانوں میں رکھا اور کسٹڈی کے دوران اُن پر ایف آئی آر درج کی گئیں۔میرے فون کی لوکیشن موجود ہے میرے گھر کو توڑا گیا اور میرے اُوپر دہشت گردی کی دفعات لگائی گئیں۔ چیئرمین کمیٹی سینیٹر محسن عزیز نے کہا کہ سینیٹرز ولید اقبال، اعظم سواتی، اعجاز چوہدری اور ڈاکٹر یاسمین راشد کے کیسز کے حوالے سے متعلقہ ادارے 15دن کے اندر رپورٹ تیار کر کے کمیٹی کو فراہم کریں۔ اراکین کمیٹی نے کہا کہ ویڈیو لنک کے ذریعے کمیٹی کا اجلاس کرنے کا مقصد پورا نہیں ہوتا۔ آئندہ اجلاس میں متعلقہ ادارے اور متاثرین شرکت کر کے معاملات کا جائزہ لیں۔ جس پر چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ آئندہ اجلاس میں صوبہ پنجاب کے حوالے سے ان معاملات کا تفصیل سے جائزہ لیا جائے گا اور متعلقہ اداروں سے جو تفصیلات اور رپورٹس طلب کی گئیں ہیں وہ بروقت فراہم کی جائیں۔

    سوشل میڈیا سے تعلق رکھنے والے عمران ریاض نے کمیٹی کو بتایا کہ پنجاب پولیس نے ایک ڈاکو کو اُن کے گھر کے قریب لا کر جعلی مقابلے میں ہلاک کر دیا اور اس کے گھر کے پاس فائرنگ بھی کرتے رہے۔میں نے خود پولیس سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ پولیس مقابلہ ہوا ہے جس میں ایک ڈاکو ہلاک ہوا ہے اورڈاکو موٹر سائیکل پر آئے تھے رات تین بجے کا وقت تھا اُس ڈاکو کا زمین پر پڑا خون گرم جبکہ اُس موٹر سائیکل کا سائلنسر بلکل ٹھنڈا تھا اس جعلی مقابلے کی انکوائری ہونی چاہئے۔ مجھے اور میرے گھر والوں کو حراساں کیا جا رہا ہے مجھے کہا جا رہا ہے کہ لاہور سے شفٹ ہو جائیں۔انہوں نے کہا کہ میرے گھر کے آس پاس پانچ پولیس ناکے لگا کر مجھ سے ملنے آنے والوں کو شدید تنگ کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مختلف صحافیوں پر دو درجن کے قریب ایف آئی آرز درج کی گئیں ہیں جن میں سیکشن 505لگائی گئی ہے جو وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی اجازت کے بغیر نہیں لگائی جا سکتی اور اُن علاقوں سے بھی ایف آئی آر درج کی گئیں ہیں جہاں انٹرنیٹ کا نام و نشان بھی نہیں ہے۔ سینیٹر رانا مقبول احمدنے کہا کہ جعلی مقابلے اور عمران ریاض کو حراساں کرنے کے معاملے کی انکوائری ہونی چاہئے۔ جو پولیس اہلکار ملوث ہیں انکے خلاف کاروائی ہونی چاہیے۔سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ کچھ معروف صحافیوں کو جان بوجھ کر ٹارگٹ کیا جا رہا ہے اُن کو کام سے روکنے کیلئے ایسے ہتھ کنڈے استعمال کئے جا رہے ہیں جس کی ہم بھر پور مذمت کرتے ہیں۔

    صوبائی ممبرا سمبلی حلیم عادل نے کہا کہ آزدی مارچ کرنا ہر ایک کاآئینی حق ہے مگر آزادی مارچ کرنے والے پارلیمنٹرین اور عوام پر دہشت گردی کی دفعات لگانا انتہائی افسوسناک ہے پولیس کی ستم ظریفی سے کوئی بھی محفوظ نہیں رہا میں ایک ٹی وی پروگرام میں تھا اُس وقت بھی میرے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی۔ سینیٹر ثمینہ ممتاز نے کہا کہ کراچی یونیورسٹی کے طلبعلم جو صوبہ بلوچستان سے تعلق رکھتے ہیں اُن کے اغوا پر اہل خانہ نے احتجاج کیا تو خواتین کے ساتھ انتہائی نا مناسب سلو ک کیا گیا۔ قائمہ کمیٹی نے معاملے کی رپورٹ متعلقہ حکام سے طلب کر لی۔ قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ سندھ میں آزادی مارچ کے حوالے سے 225ایف آئی آر درج ہوئی اور چار سے پانچ ایف آئی آر میں دہشت گردی کی دفعات لگائی گئی ہیں اور زیادہ تر پکڑے گئے لوگوں کو آزاد کر دیا گیا تھا۔ اے آئی جی سندھ نے کہا کہ جو بچے اغوا ہوئے تھے اُن کے لواحقین نے سی ایم ہاؤس اور عدالت کی طرف احتجاج کرنے کی دھمکی دی تو پولیس نے اعلیٰ حکام کو بتائے بغیر ایکشن لیا اُن کے خلاف انکوائری چل رہی ہے۔ سندھ ہوم ڈپارٹمنٹ سے بھی انکوائری ہو رہی ہے۔

    پی ٹی آئی رہنما صداقت عباسی نے کمیٹی کو بتایا کہ اسلام آباد میں جتنا نقصان ہوا پولیس کے ایکشن کے ری ایکشن میں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ جب عدالت نے اجازت دے دی تھی تو پولیس نے کس کے حکم سے عوام پر آنسو گیس کی بارش کی۔ پارلیمنٹرین پر لاٹھی چارج کیا گیا۔پولیس نے قانون سے بالا تر ہو کر کام کیا اس کی انکوائری ہونی چاہئے۔ سینیٹر فلک ناز چترالی نے کہا کہ 25 مئی کو اسلام آباد مقبوضہ کشمیر کا منظر پیش کر رہا تھا۔ وہ پولیس کی آنسو گیس سے میں بے ہوش گئی تھی۔میرا دس سال کا بچہ گھر پر اکیلا تھا مگر مجھے پارلیمنٹ جانے کی اجازت نہیں دی گئی ساری رات سڑک پر گزاری۔ میرا بچہ ٹراما میں ہے ابھی تک وہ نارمل نہیں ہوا۔ اسلام آباد پولیس نے بہت زیادہ شیلنگ کی تھی اور خود درختوں کو آگ لگائی جس کی ویڈیوز موجود ہیں۔ سینیٹر سیمی ازدی نے کہا کہ آگ لگانے والے بندے کو ہمارے لوگوں نے پکڑا بھی تھا جو پٹرول چھڑک کر آگ لگا رہا تھا۔ آر پی او روالپنڈی نے بتایا پنڈی ریجن میں کوئی پبلک پراپرٹی کا نقصان نہیں ہوا اورجن لوگوں کوپکڑا گیا تھا انہیں چھوڑ دیا گیا۔آئی جی اسلام آباد نے کہا کہ ہم سب کو قانون کے مطابق کام کرنا چاہئے آزادی مارچ کے حوالے سے معاملہ عدالت میں ہے اور جن لوگوں نے قانون کے خلاف کام کیا ہے اُن کے خلاف شفاف انکوائری کرائی جائے گی۔
    سینیٹر فوزیہ ارشد نے کہا کہ گزشتہ کئی ماہ سے ڈی چوک اور نادرا چوک اسلام آباد کو بلا جواز بند کر کے سرکاری ملازمین اور عام عوام کی مشکلات میں اضافہ کر دیا گیا ہے عوام کو ریلیف دینا چاہئے سیکورٹی کی وجہ بتا کر آئے دن سڑکیں بلاک کرنا مناسب نہیں۔ قائمہ کمیٹی نے فوری طور پر ڈی چوک اور نادرا چوک کو کھولنے کی ہدایت کر دی۔ سینیٹر فوزیہ ارشد نے کہا کہ ملک میں جو مہنگائی کا طوفان آیا ہے اس کی بدولت پورے ملک اور خاص طور پر وفاقی دارلحکومت اسلام آباد میں چوری ڈکیتی کے واقعات میں ہوش ربا اضافہ ہو چکا ہے۔ اسلام آباد پولیس مختلف علاقوں میں نہ صرف اپنی نفری میں اضافہ کرے بلکہ پولیس گشت میں بھی اضافہ کر کے ان مسائل کے تدارک کرے۔

    قائمہ کمیٹی کے آج کے اجلاس میں قائد حز ب اختلاف سینیٹ سینیٹر ڈاکٹر شہزاد وسیم، سینیٹرز ثمنیہ ممتاز زہری، رانا مقبول احمد، شہادت اعوان، فوزیہ ارشد، سرفراز احمد بگٹی، دلاور خان، شبلی فراز، ولید اقبال، فلک ناز، سیمی ازدی کے علاوہ اسپیشل سیکرٹری داخلہ، اسپیشل سیکرٹری ہوم سندھ، اسپیشل سیکرٹری ہوم پنجاب، ڈی سی اسلام آباد، آر پی او راولپنڈی، ایڈیشنل آئی جی کراچی، ایڈیشنل کمشنر اسلام آباد اور آن لائن پر سابق صوبائی وزیر ڈاکٹر یاسمین راشد، صوبائی ممبر اسمبلی حلیم عادل، ایس پی لاہور، اے آئی جی میر پور اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ *

    "معیشت کی حالت اور سالانہ بجٹ” کے موضوع پر سینیٹ اراکین کا سیمینار،اطلاعات کے مطابق سینیٹ آف پاکستان اور یورپی یونین کے فنڈڈ پروجیکٹ "مستحکم پاکستان” نے مشترکہ طور پر "معیشت کی حالت اور سالانہ بجٹ” کے موضوع پر سینیٹ کے اراکین کے لیے ایک سیمینار آج پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد کیا۔ مالیاتی اور اقتصادی ماہرین نے سینیٹرز کو این ایف سی کے تحت وسائل کی تقسیم، قرضوں کے انتظام کے مسائل اور رکاوٹوں، پاکستان کی معیشت کو درپیش اہم اقتصادی چیلنجوں، وفاقی بجٹ میں آئینی شقوں اور مالیاتی نگرانی کے حوالے سے پالیسی سفارشات کے بارے میں بریفنگ دی۔

    سینیٹرز نے پاکستان کی مجموعی اقتصادی صورتحال اور مالیاتی بحران پر قابو پانے کے لیے بجٹ تجاویز کے متعلق اپنے سوالات پیش کیے۔ ڈپٹی چیئرمین سینیٹ مرزا محمد آفریدی نے سیمینار کو انتہائی اہم سرگرمی قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ مالیاتی حالات اور قرضوں کی صورتحال پر قابو پانے کے لیے طویل المدتی منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔

    مرزا محمد آفریدی نے کہا کہ "ہمیں چھوٹے کاروباروں کو سپورٹ کرنا چاہیے۔ میکرو اور مائیکرو اکنامک عوامل کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ ہمیں سوچنے کی ضرورت ہے کہ قوم کی تعمیر کیسے کی جائے۔ سینیٹ کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا”.

    سیمینار میں سینیٹرز، ہدایت اللہ خان، دوست محمد خان، دنیش کمار، عمر فاروق، ولید اقبال، افنان اللہ خان، سید صابر شاہ، بہرامند خان تنگی، محمد عبدالقادر، فدا محمد، سیکرٹری سینیٹ، قاسم صمد خان اور ایگزیکٹو ڈائریکٹر PIPS نے شرکت کی۔

  • گوادر ماسٹر پلان کے تحت 25 سو ایکڑ اراضی پر مشتمل سینٹرل بزنس ڈسٹرکٹ تشکیل

    گوادر ماسٹر پلان کے تحت 25 سو ایکڑ اراضی پر مشتمل سینٹرل بزنس ڈسٹرکٹ تشکیل

    کوئٹہ :گوادر ماسٹر پلان کے تحت 25 سو ایکڑ اراضی پر مشتمل سینٹرل بزنس ڈسٹرکٹ تشکیل دی گئی ہے ۔ 280 کلومیٹر روڈ نیٹ ورک بنائے گئے ہیں،150 بیڈز پر مشتمل 30.5ملین ڈالر کی لاگت سے پاک چائنا فرینڈ شپ ہسپتال زیر تعمیر ہے۔ سیاحت کے فروغ کیلئے ملکی و غیر ملکی فرمز سے بڈز طلب کئے گئے ہیں جو کہ ٹورزم پر ایک جامع پلان واضح کیا جائیگا۔ ان خیالات کا اظہار ڈائریکٹر جنرل گوادر ڈویلپمنٹ اتھارٹی مجیب الرحمن قمبرانی نے گوادر نیشل کانفرس کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

    انہوں نے کہا کہ اسلام آباد کے بعد گوادر واحد شہر ہے جو کہ ماسٹر پلان کے تحت تعمیر و ترقی کا عمل عالمی معیار کے تحت آگے بڑھایا جا رہا ہے، گوادر میں پانی کی فراہمی کے مختلف منصوبوں پر کام جاری ہے اس ضمن میں دو ڈیم شادی کور اور سوڈ ڈیم مکمل کرکے انھیں پائپ لائنز کے ذریعے شہر کے ساتھ منسلک کیے گیے ہیں ۔ اور اس وقت شہر کے اندر پرانی ڈسٹری بیوشن لائنز کو تبدیل کررہے ہیں ۔ گوادر شہر کو ماحول دوست بنانے کیلیے یہاں سیوریج واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ لگائی ہے تاکہ گوادرکے سوریج کا پانی ساحل کو گندا کرنے کے بجائے دوبارہ آبادکاری کیلیے استمعال کے قابل ہو۔

    جی ڈی اے ہسپتال کو ملک کے مایا یہ ناز ہسپتال انڈس ہسپتال کراچی کے تحت لایا جا رہا ہے جس کے بعد یہاں کے لوگوں کو اعلیٰ قسم کے علاج معالجہ کی مفت سہولیات دستیاب ہونگی ۔جی ڈی اے ماہی گیر اور ماہی گیری کی ترقی کیلئے مختلف منصوبوں پر کام کر رہی ہے جس میں پدی زر میں جیٹی کی تعمیر، بوٹ میکنگ کی صنعت کی ترقی اور گنز میں فلوٹنگ جیٹی کا قیام شامل ہیں جبکہ سربندر اور پشکان میں فشنگ جیٹی تعمیر کی گئی ہیں۔ اعلیٰ تعلیم اور ٹیکینکل تعلیم کی فراہمی کیلئے مختلف انسٹیٹوٹ قائم کئے گئے ہیں۔ جس میں پاک چائنا فرینڈ شپ ٹیکنیکل انسٹیوٹ ، گوادر انسٹیوٹ آف ٹیکنالوجی اور جی ڈی اسکول شامل ہیں پبلک پارٹنر شب کے تحت گوادر کے خوبصورت ساحل پر کراچی کے دو دریا کے طرز پر ریزورٹ اور سی فوڈ اسٹریٹ بنائے جائنگے اور ٹورزم کے فروغ کیلئے پبلک پرائیوٹ پارٹنر شپ کے تحت منصوبوں پر کام کیا جائیگا ۔