Baaghi TV

Author: +9251

  • پنجاب کابینہ کی جانب سے پنجاب میں 11 ٹال پلازے  ختم کرنے کی منظوری،

    پنجاب کابینہ کی جانب سے پنجاب میں 11 ٹال پلازے ختم کرنے کی منظوری،

    پنجاب کابینہ کی جانب سے پنجاب میں 11 ٹال پلازے ختم کرنے کی منظوری:

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پنجاب کابینہ کی جانب سے پنجاب میں 11 ٹال پلازے ختم کرنے کی منظوری پیش کر دی گئی۔اس کے ساتھ ساتھ مزید اور بھی بہت سے شہروں میں ٹال پلازہ ختم کرنے کی منظوری دے دی گئی۔سیالکوٹ بائی پاس پر واقع گوجرانوالہ سیالکوٹ روڈ ٹال پلازہ ختم کرنے کی منظوری دی۔وزیر آباد بائی پاس پر وزیر آباد سیالکوٹ کشمیر روڈ ٹال پلازہ ختم کرنے کی منظوری دی۔
    ضلع قصور میں کھڈیاں خاص کے مقام پر واقع قصور دیپالپور روڈ ٹال پلازہ بھی ختم کرنے کی منظوری دی۔
    ضلع شیخوپورہ میں مریدکے کے مقام پر مریدکے نارووال روڈ تال پلازہ ختم کرنے کی منظوری دی۔
    شیخوپورہ میں برج اٹاری کے مقام پر قائم لاہور، جڑانوالہ، فیصل آباد روڈ ٹال پلازہ بھی ختم کرنے کی منظوری دی۔
    ضلع ننکانہ صاحب میں موڑ کھنڈا کے مقام پر لاہور، جڑانوالہ، فیصل آباد روڈ ٹال پلازہ بھی ختم کرنے کی منظوری دی۔
    ضلع ساہیوال میں ساہیوال، عارفوالہ روڈ پر واقع ٹال پلازہ بھی ختم کرنے کی منظوری دی۔
    ضلع ساہیوال میں ساہیوال پاکپتن روڈ پر واقع ٹال پلازہ بھی ختم کرنے کی منظوری دی۔
    ضلع اوکاڑہ میں دیپالپور قصور روڈ پر واقع ٹال پلازہ بھی ختم کرنے کی منظوری دی۔
    ضلع وہاڑی میں چیچہ وطنی، بوریوالا روڈ پر واقع ٹال پلازہ بھی ختم کرنے کی منظوری دی۔
    ضلع بہاولپور میں بہاولپور حاصلپور، چشتیاں روڈ پر واقع ٹال پلازہ بھی ختم کرنے کی منظوری دی۔

  • لاہور پولیس کا اپنے ملازمین کی ویلفئیر کیلئے احسن اقدام

    لاہور پولیس کا اپنے ملازمین کی ویلفئیر کیلئے احسن اقدام

    لاہور پولیس کا اپنے ملازمین کی ویلفئیر کیلئے احسن اقدام:

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ڈی آئی جی آپریشنز کیپٹن (ر) محمد سہیل چودھری کی ہدایت پر پولیس لائنز قلعہ گجر سنگھ ایس پی ہیڈ کوارٹرز محمد اویس ملک کی زیرنگرانی پولیس ملازمین اور اہل خانہ کیلئے صحت کی جدید سہولیات فراہم کی جا رہیں ہیں۔ ماہر آئی سرجن ڈاکٹر صبور احمد نے پولیس لائنز ہسپتال میں ملازمین کا فری سفید موتیے کا آپریشن کیا۔آپریشن سے پہلے ملازمین کے مفت مکمل ٹیسٹ کئے گئے۔اس موقع پرایم ایس ڈاکٹر شاہد منور،ڈی ایس پی محمد صابر،لائن افسر محمد جمیل،نرسز اور پیرا میڈیکل اسٹاف موجود تھا۔ پولیس اہلکاران و افسران اپنا اور اپنی فیملی کا علاج معالجہ مکمل فری کرواسکتے ہیں۔اس موقع پر ایس پی ہیڈ کوارٹرز محمد اویس ملک کا کہنا تھا کہ پولیس ملازمین کی میڈیکل فٹنس اور صحت مندانہ سرگرمیوں کا فروغ ہمارا فوکس ہںے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پولیس اہلکاران و افسران کی ویلفیئر کیلئے تمام تر وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں

  • ڈی آئی جی آپریشنز سہیل چودھری نے  گزشتہ 22  دنوں کے دوران شوكاز نوٹسز اور اپپلوں کے 1123 کیسز نمٹا دئیے،

    ڈی آئی جی آپریشنز سہیل چودھری نے گزشتہ 22 دنوں کے دوران شوكاز نوٹسز اور اپپلوں کے 1123 کیسز نمٹا دئیے،

    ڈی آئی جی آپریشنز سہیل چودھری نے گزشتہ 22 دنوں کے دوران شوکاز نوٹسز اور اپیلوں کے 1123کیسز نمٹا دیئے:

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق لاہور ڈی آئی جی آپریشنز لاہور کیپٹن (ر) محمدسہیل چودھری نے گزشتہ 22 دنوں کے دوران افسران واہلکاروں کے1123کیسز نمٹا دیئے۔ شوکاز نوٹسز اور اپیلوں کے کیسز2017؁ء سے التوا کا شکارتھے۔سہیل چودھری نے شنوائی کے دوران 78 اہلکاروں کو سخت، 250 کو معمولی سزائیں جبکہ 418 اہلکاروں کو وارننگ دے دی۔ انہوں نے 30 ڈسمس اور 139 معطل اہلکاروں کو نوکری پر بحال جبکہ 208 اہلکاروں کی اپیلوں کو مسترد کر دیا۔سہیل چودھری نے کہا کہ محکمہ پولیس میں جزاء اور سزاء کا مربوط نظام موجود ہے۔ جہاں اہلکاروں کو ناقص کارکردگی پر سزائیں دی جاتی ہیں وہیں اُنکی اچھی کارکردگی کی حوصلہ افزائی بھی ضروری ہے۔ فورس کے جوانوں سے مسلسل رابطہ گڈ پولیسنگ کا بنیادی جزہے۔حکومت کی وضع کردہ ٹرانسفر پوسٹنگ پالیسی کے مطابق اہلکاروں کے تبادلے اورمسائل ومشکلات کا فوری حل اولین ترجیح ہے۔سہیل چودھری نے کہا کہ پولیس افسران واہلکاروں کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کئے جارہے ہیں۔کوئی بھی اہلکار انفرادی حیثیت میں کسی بھی وقت میرے آفس آ سکتا ہے۔

  • چین بین الاقوامی نظم و نسق قائم کرنے کے لیےسرگرم ہے:چینی میڈ یا

    چین بین الاقوامی نظم و نسق قائم کرنے کے لیےسرگرم ہے:چینی میڈ یا

    بیجنگ:چین بین الاقوامی نظم و نسق قائم کرنے کے لیےسرگرم ہے:چینی میڈ یا نے چین کی عالمی خارجہ پالیسی کا ایک پہلوبیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ چین اس وقت دنیا میں امن وامان،خوشحالی اورترقی کے حوالے سے عالمی سطح پرکوشاں ہے ، چینی میڈیا نے یہ پیغام اس وقت جاری کیا جب چین کی میزبانی میں 22 سے 24 جون تک ہونے والےبرکس اجلاسوں کا سلسلہ جاری ہے۔دنیا کے پانچ اہم ترقی پذیر ممالک پر مشتمل کثیرالجہت میکانزم کے طور پر، برکس کا تعاون مشترکہ عالمی ترقی کو فروغ دینے میں بھی ایک اہم قوت ہے۔ ایک مزید منصفانہ اور معقول بین الاقوامی نظم و نسق قائم کرنے اور مشترکہ عالمی ترقی کو فروغ دینے کے لیے چین اور تمام ترقی پذیر ممالک سرگرم رہے ہیں۔

    جمعرات کے روز چینی میڈ یا کے مطا بق ترقی عوامی خوشحالی کی کلید اور تمام مسائل کے حل کی بنیاد ہے۔ ایک ترقی پذیر ملک کے طور پر، اپنی ترقی کو فروغ دیتے ہوئے، چین دوسرے ترقی پذیر ممالک کو تجارت، سرمایہ کاری، امداد اور علم کے تبادلے کے ذریعے مشترکہ ترقی کے مواقع فراہم کرنے میں اپنا کردار ادا کرتا آرہا ہے۔مختلف ممالک خصوصاً ترقی پذیر ممالک کو درپیش مشکلات اور چیلنجز سے نمٹنے کے لیے چین نے “دی بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو” اور گلوبل ڈویلپمنٹ انیشیٹو جیسی تجاویز پیش کیں، “عالمی ترقی کی رپورٹ” جیسی تحقیقی رپورٹس جاری کرتے ہوئے دانشورانہ تعاون فراہم کیا ۔دوسری طرف، برکس اور جنوب جنوب تعاون جیسے کثیر جہتی میکانزمز کو مختلف ممالک کی ترقیاتی حکمت عملیوں کے ساتھ منسلک کرنے اور مختلف ممالک کی پائیدار ترقی کے لیے اقوام متحدہ کے 2030 کے ایجنڈے کو عملی طور پر فروغ دینے میں بھی چین تعاون کر رہا ہے۔

    اقوام متحدہ میں، جب سے عوامی جمہوریہ چین کی قانونی نشست بحال ہوئی ہے، تب سے چین ثابت قدمی کے ساتھ ترقی پذیر ممالک کے جائز حقوق اور مفادات کا تحفظ کرتا آرہا ہے۔ حال ہی میں جنیوا میں منعقدہ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے 50ویں اجلاس کے دوران چینی مندوبین نے بارہا بین الاقوامی برادری پر زور دیا کہ وہ ترقی پذیر ممالک کی جامع ترقی کی حمایت کرے، حقیقی کثیرالجہتی کو برقرار رکھے اور ایک زیادہ منصفانہ اور معقول عالمی انتظام و انصرام تشکیل کرے۔ 25 جون 2021 کو چین کے ریاستی کونسلر اور وزیر خارجہ وانگ ای نے “اقوام متحدہ میں چین کی قانونی نشست کی بحالی کی 50 ویں سالگرہ” کی یاد میں منعقدہ فورم میں کہا کہ چین، ماضی میں بھی ترقی پذیر ممالک کے ساتھ کھڑا تھا، اب بھی کھڑاہے اور یہ سلسلہ آئندہ بھی جاری رہے گا۔ اقوام متحدہ میں، چین کا ووٹ ہمیشہ ترقی پذیر ممالک کے حق میں جائے گا۔

    چائنا انٹرنیشنل ڈویلپمنٹ نالج سینٹر کی طرف سے حال ہی میں جاری کردہ “عالمی ترقیاتی رپورٹ” میں نشاندہی کی گئی ہے کہ اگلی دہائی میں، عالمی اقتصادی نمو میں ابھرتی ہوئی مارکیٹس اور ترقی پذیر ممالک کاحصہ مزید بڑھ جائے گا اور عالمی ترقی میں ان ممالک کا مزید اہم کردار ہوگا۔ تاہم فی الحال یکطرفہ پسندی، تحفظ پسندی اور گروہی سیاست کے باعث عالمی اقتصادی بحالی نیز علاقائی استحکام شدیدخطرات سے دوچار ہے۔ اس لیے ترقی پذیر ممالک کی آواز کو مزید بلند کرنا اور ایک مزید منصفانہ اور معقول عالمی گورننس سسٹم کی تشکیل اشد ضروری ہے۔

  • چین کو عالمی صنعتی چین سے باہر رکھنے کی کوشش امریکہ کے لیے نقصان دہ ثابت ہو گی:عالمی میڈیا

    چین کو عالمی صنعتی چین سے باہر رکھنے کی کوشش امریکہ کے لیے نقصان دہ ثابت ہو گی:عالمی میڈیا

    ایک طرف امریکہ چین پراقتصادی پابندیاں عائد کررہا ہے تو دوسری طرف امریکہ نے نام نہاد ویغور جبری مشقت کی روک تھام کے ایکٹ کے تحت، سنکیانگ سے ہر قسم کی مصنوعات کی درآمد پر پابندی عائد کر دی ہے۔ امریکہ کا یہ اقدام مارکیٹ اکانومی کے قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ اس کا اصل مقصد یہ ہے کہ امریکہ چین سے تجارتی امور میں “ڈیکپلنگ” چاہتا ہے، سنکیانگ اور یہاں تک کہ پورے چین کو عالمی صنعتی چین سے باہر کرنا چاہتا ہے، تاکہ چین کو کنٹرول کرنے کے لیے نام نہاد سنکیانگ کا استعمال کیا جا سکے۔

    ایک جرمن میڈیا نے تبصرہ کیا کہ امریکی سنکیانگ ایکٹ سے چینی صنعت پر تو زیادہ اثر نہیں پڑے گا مگر امریکی صنعت متاثر ہو گی۔ کچھ تجزیہ کاروں نے نشاندہی کی کہ امریکی سیاست دانوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ یہ ایکٹ عالمی صنعتی چین کی “ڈی-امریکنائزیشن” کی علامت بن جائے گا، جس کی منظوری خود امریکہ دے رہا ہے۔

    آج عالمگیریت کے دور میں، سنکیانگ کی مصنوعات اور خام مال دنیا کے کئی حصوں کو برآمد کیا جاتا ہے ، جو عالمی صنعتی چین کا احاطہ کرتے ہیں۔ سنکیانگ کے ویغور کارکن بھی بڑے پیمانے پر کاروباری اداروں کے پیداواری عمل میں شامل ہیں اور بہتر زندگی کے لیے کوشاں ہیں۔ امریکہ نے سنکیانگ کی مصنوعات کو خارج کرنے کی کوشش میں نام نہاد “جبری مشقت” کا جھوٹ گھڑا ہے جبکہ درحقیقت وہ خود کو عالمی منڈی سے الگ تھلگ کر رہا ہے۔

    تاریخی طور پر، امریکہ معاشی عالمگیریت کا بنیادی آغاز کنندہ اور اسے فروغ دینے والا رہا ہے، اور سب سے زیادہ فائدہ بھی امریکہ نے ہی اٹھایا ہے۔ تاہم اب کچھ امریکی سیاست دان معاشی عالمگیریت کے عمل کو منقطع کرتے ہوئے اسے تباہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ وقت ثابت کرے گا کہ دوسروں کا راستہ روکنے کی کوشش بلا آخر اپنا راستہ روکنے کے مترادف ہو گی ۔

  • فیس بک کی جانب سے جعلی تبصروں کے خلاف کریک داؤن،

    فیس بک کی جانب سے جعلی تبصروں کے خلاف کریک داؤن،

    فیس بک کی جانب سے جعلی تبصروں کے خلاف کریک داؤن:

    باغی ٹی وی:کیلیفورنیا: ایک اہم خبر سے آگاہ کیا جاتا ہے کہ فیس بک اپنےپلیٹ فارم پر بزنس پیجز پر صارفین کی جانب سے دیے جانے والے جعلی تبصروں کے خلاف کریک ڈاؤن کر رہا ہے۔لیکن کمپنی نے اس کا حل نکال لیا ہے۔ اس مقصد کیلئے کمپنی نے اپنی کمیونیٹی فِیڈ بیک پالیسی کو بھی اپ ڈیٹ کر دیا ہے اپنی کمیونیٹی فِیڈ بیک پالیسی کو بھی اپ ڈیٹ کر دیا ہے۔

    مزید تفصیلات کے مطابق فیس بک جہاں پر ممکنہ توہین آمزید ریویوز کے خلاف پہلے سے ہی اقدامات کر رہا تھا۔ اور اب اس نئی پالیسی نے ان اصولوں کو الفاظ میں ڈھال دیا ہے۔ فیس بک کی فل وقت نئی ہدایت بزنس پیجز کو ان کے گاہکوں کو مطمئن کرنے کے لیے پیش کی گئی ہے۔اس کا یہ فائدہ ہو گا کہ سہولتوں کا ناجائز استعمال کرنے کے لیےلکھے جانے والےصارفین کے جعلی ریویوز سے بچائیں گی۔اور مزید ان پیجز سے ان تمام ریویوز کو ہٹا دیا جائے گا۔جن کا اس بزنس سے کسی قسم کا کوئی تعلق نہیں ہو گا۔

    مزید برآں اگر کوئی اس فیس بک کی پالیسی کے خلاف جاتا ہے۔اور اپنی مرضی کا مواد لکھتا ہے تو ایسا کرنے والوں کیلئے فیس بک نے پہلے سے ہی احکام جاری کر دیے ہیں۔فیس بک نے کہا ہے کہ اگر کوئی ایسا کرے گا تو اس کے مواد کو فوری طور پر ہٹا دیا جائے گا۔ نہ صرف یہ بلکے یہ ایپ اب کاروبار کی پروڈکٹ ٹیگز اورلِسٹنگ تک رسائی روک دے گا۔ اور اس کے ساتھ کسی دوسری میٹا پروڈکٹس یا فیچرز تک رسائی کو بھی معطل کردے گا۔ یا پابندی لگا دے گا۔

    مزید یہ کہ خلاف ورزی کرنے والوں کے نہ صرف فیس بک اکاؤنٹس معطل ہو سکتے ہیں۔بلکے ان پر سخت پابندی بھی لگ سکتی ہے۔اسلئیے اس ایپ کو استعمال کرنے والوں کو اب احتیاط برتنی چاہیے۔

  • معروف ترک عالم دین کا انتقال، عمران خان اورمولانا فضل الرحمان کا دکھ کا اظہار

    معروف ترک عالم دین کا انتقال، عمران خان اورمولانا فضل الرحمان کا دکھ کا اظہار

    لاہور: سابق وزیراعظم عمران خان اور جمعیت علمائے اسلام (ف) کے امیر مولانا فضل الرحمان نے ترکیہ کے عالم دین شیخ محمود آفندی کے انتقال پر دکھ کا اظہار کیا ہے۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر پاکستان تحریک انصاف کے چیئر مین نے لکھا کہ ترکیہ کے معروف عالم دین شیخ محمود آفندی کے انتقال کے بارے میں جان کرنہایت افسردہ ہوں۔

     

    عمران خان نے لکھا کہ انہوں نے نہایت کٹھن حالات میں دین و سنت کا احیاء کیا اور ترکی سمیت دنیا بھر میں کروڑوں لوگوں کو متاثر کیا۔ ان کا وصال امت کیلئے ایک عظیم نقصان ہے۔

     

     

    اُدھر جمعیت علمائے اسلام (ف) کے امیر مولانا فضل الرحمان نے لکھا کہ شیخ محمود آفندی کی وفات حسرت آیات ترکی کے لئے بالخصوص اور عالم اسلام کے لئے بالعموم نا قابل تلافی نقصان ہے، ترکی میں سلسلہ نقشبندیہ کے روح رواں تھے ۔ وہ خلافت عثمانیہ کے خاتمے کے بعد ترکی میں علوم اسلامیہ کی نشاۃ ثانیہ کی علامت تھے ۔

     

    اس سے پہلے تحریک لبیک پاکستان کے سربراہ سعد رضوی نے علامہ محمود آفندی رحمۃ اللہ علیہ کے انتقال پراظہار تعزیت کرتےہوئے کہا ہے کہ موصوف عالم اسلام کی ایک بڑی شخصیت تھے

    تحریک لبیک پاکستان کے سربراہ نے اپنے پیغام میں کہا ہےکہ پاکستانی قوم کی جانب سے اپنے ترک بھائیوں سے بالخصوص شیخ محمود آفندی سے وابستہ بھائیوں سے اظہار تعزیت کرتا ہوں، ان کا کہنا تھا کہ حضرت شیخ محمود آفندی رحمۃ اللہ علیہ کا انتقال ملت اسلامیہ کا عظیم نقصان ہے

    دوجسم یک جان ترکی اورپاکستان،تحریک خلافت سے لے کرقیام پاکستان تک،ترکی اورپاکستان

    علامہ سعد رضوی نے کہا ہےکہ شیخ محمود آفندی علیہ الرحمہ کے انتقال کی خبر سن کر پاکستان کے اہل علم طبقات میں سوگ کا سماں ہے، فضیلۃ الشیخ حضرت محمود آفندی عظیم عاشق رسول تھے، باعمل عالم دین تھے، بہترین پیر طریقت تھے،

    ان کا کہنا تھا کہ تحریک لبیک پاکستان سے وابستہ ہر عالم دین، استاد، مدرس، شیخ طریقت، اراکین اسمبلی، ذمہ داران کارکنان شیخ محمود آفندی کے لیے خوب خوب ایصال ثواب کا اہتمام کریں،

    عالم اسلام کے عظیم مصلح، صوفی مزاج اسلامی داعی اور متحرک رہنما شیخ محمود آفندی قضائے الٰہی سے وفات پاگئے ہیں اور ان کی وفات پرتعزیت کا سلسلہ جاری ہے ،

    محمود افندی (محمود استی عثمان اوغلو) 1929 میں ترکی کے صوبے ترابزون کے اوف نامی گاؤں کے ایک مسلمان گھرانے میں پیدا ہوئے، جو کہ موجودہ ترک صدر اردگان کی جائے پیدائش "ریزے” سے متصل شہر ہے۔دینی ماحول میں پرورش ہوئی.. کم عمری میں قرآن مجید حفظ کر لیا.. شیخ تسبیحی زادہ سے نحو صرف اور دیگر علوم عربیہ کو حاصل کیا. پھر شیخ محمد راشد عاشق کوتلو آفندی کی خدمت میں رہ کر ان سے قراءت اور علوم قرآن کی تعلیم حاصل کی، بعدازاں شیخ محمود آفندی نے شیخ دورسون فوزی آفندی (مدرس مدرسہ سلیمانیہ )، سے دینیات، تفسیر، حدیث، ، فقہ اور اس کے ماخذ، علم کلام اور بلاغت اور دیگر قانونی علوم کی تعلیم حاصل کی۔ مذکورہ اساتذہ سے انھوں نے علوم عقلیہ ونقلیہ میں اجازت حاصل کی اس وقت وہ 16 سال کی عمر میں تھے۔

    شخ محمود آفندی نے روحانی سلسلہ نقشبندیہ کمشنماونیہ کی اجازت اپنے شیخ احمد آفندی مابسیونی سے حاصل کی ، یہاں تک اللہ تعالیٰ کی توفیق آپ کی زندگی میں ایک نیا موڑ آیا. فوجی خدمات انجام دینے کا وقت آپ کے لیے میسر ہوا، یہاں ایک نئے شیخ کے ساتھ اپنی عملی زندگی کو پروان چڑھا نے کا موقع ملا. ملٹری سروس کا مرحلہ ان کی زندگی کا ایک روشن صفحہ اور عملی زندگی کا ایک نیا باب تھا جس میں ان کی ملاقات ان کے شیخ اور مرشد علی حیدر اخسخوی سے ہوئی۔ان سے آپ نے بہت کچھ سیکھا اور ان علوم ومعارف اور روحانی کمالات حاصل کیے۔

    شیخ محمود آفندی نے لوگوں کی نماز کی امامت کی اور اپنے گاؤں کی مسجد میں طلباء کو پڑھایا۔انھوں نے سال میں 3ہفتے ترکی کے اطراف کا دعوتی و تبلیغی سفر کے لیے وقف کررکھا تھا ۔انھوں نے جرمنی اور امریکہ سمیت کئی ممالک کے دعوتی اور تعلیمی دورے کیے، پھر 1954 میں استنبول میں اسماعیل آغا مسجد کے امام مقرر ہوئے۔ 1996 میں ریٹائر ہونے تک وہیں رہے، اور وہ استنبول میں درس و تبلیغ کرتے رہے اور بہت سے طلباء اور مسترشدین کو اپنی طرف متوجہ کرتے رہے، بلکہ سچ یہ ہے کہ کہ لوگوں کی بڑی تعداد خود آپ کی طرف کشاں کشاں چلی آتی تھی۔

    نتیجتاً ایک عظیم فکری وعملی منہج قائم کرنے میں وہ کامیاب رہے، جس کی بنیاد دعوت الی اللہ ، احیاء سنت اور ریاستی حکام سمیت معاشرے کے تمام طبقات کی حق کی طرف رہنمائی تھی ، انھوں نے ایسا اسلوب پیش کیا جس میں حق اور باطل میں واضح فرق قائم ہوجائے۔

    استنبول میں 12 ستمبر 1980 کو پیش آنے والی دوسری بغاوت سے پہلے، اور اسّی کی دہائی کے اوائل میں ملک میں پیدا شدہ انتشار کے دوران دائیں اور بائیں بازو کی جماعتوں کے درمیان شیخ آفندی مضبوطی کے ساتھ یہ آواز بلند کر رہے تھے کہ ہماراقومی وملی فریضہ یہ ہے کہ ہم نیکی کا حکم دیں اور برائی سے روکیں، اور ہمارا فرض لوگوں کو زندگی بخشنا ہے، انہیں مارنا نہیں۔

    شیخ آفندی کی فوج اور سیکولرازم کے ساتھ جد وجہد کی روشن تاریخ ہے۔ ترک عوام پر ان کے بہت زیادہ اثر و رسوخ کی وجہ سے، انہیں فوجی جرنیلوں اور ریپبلکنز (ریپبلکن پیپلز پارٹی) نے ہراساں کیا، خاص طور پر 1960 کی بغاوت اور ملک میں ہنگامی حالت میں داخل ہونے کے بعد،… فوجی انتظامیہ نے انہیں جلاوطنی کی سزا میں انھیں ترکی کے وسط میں واقع اسکی شہر بھیجنے کا فیصلہ کیا ، لیکن اس فیصلے پر عمل درآمد کی نوبت نہیں آئی نہیں. کئی آپ کے جاں نثار اس راہ میں ڈٹ گئے. اس وقت استنبول کے مفتی صلاح الدین قیا ان دفاع کرنے والوں میں سب سے آگے تھے ۔

    1982 میں، محمود آفندی پراسکودر خطہ کے مفتی شیخ حسن علی اونال کے قتل میں ملوث ہونے کا بے بنیاد الزام لگایا گیا. ڈھائی سال کے بعد عدالت نے انہیں اس الزام سے بری کر دیا۔ 1985 میں انہیں ریاستی سلامتی کی عدالت میں ماخوذ کیا گیا کیونکہ ان پر الزام تھا کہ ان کی تقریر وبیان ملکی سلامتی اور سیکولر شناخت کے لیے خطرہ ہے لیکن عدالت نے اس معاملے میں بھی ان کی بے گناہی کا فیصلہ سنایا۔

    2007 میں استنبول کے Çavuşpaşa محلے میں شیخ محمود آفندی کی نئی رہائش گاہ کے قریب ان کی گاڑی پر فائرنگ کی گئی جہاں قریب کے اسپتال میں وہ زیر علاج تھے ،اس طور پر انھیں قتل کرنے کی کوشش کی گئی ، لیکن جسے اللہ رکھے اسے کون چکھے ” کے مصداق انھیں کوئی چوٹ نہیں آئی۔

    ان کے اثر و رسوخ کا دائرہ کافی وسیع اور اس کے پیروکاروں کی تعدادکثیر ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب عربی حروف میں پڑھنے لکھنے والے خال خال ہی نظر آتے تھے اور 40 سے 50 سال کا عرصہ ایسا بھی گذرا کہ قرآن پڑھنے والے کم ہی نظر آتے تھے.عربی میں اذان تک پر پابندی تھی .. لیکن شیخ کی کوششوں سے مختصر عرصہ میں ہزاروں کی تعداد میں حفاظ قرآن کریم تیار ہوئے ۔ اور دسیوں ہزار طلباء و طالبات کو اسلامی نہج پر تربیت دی گئی اور شیخ پوری دنیا میں لاکھوں لوگوں میں اسلامی بیداری پیدا کرنے کا ذریعہ بنے ۔(بعض معلومات الجزیرہ نیٹ ورک کے صحافی احمد درویش کی تحریر سے مستفاد ہیں.)

    جدید ترکی، اور معاشرہ کی اصلاح میں آفندی رحمۃ اللہ علیہ کا بڑا اہم رول رہا ہے، ایسے وقت میں جبکہ ترکی دہریت کی دہلیز پار کرچکا تھا، اسلامی شعائر کو پامال کیا جارہا تھا؛ تب :مردے از غیب بیرون آید؛ کے مطابق اس مردِ مصلح نے توحید واصلاح بلکہ اعلاء کلمۃ اللہ کا آوازہ بلند کیا. اسی وجہ سے انھیں بعض اہل علم ترکی کا مجدد بھی کہتے ہیں۔

    ترکی زبان میں آپ کی زبردست تفسير روح الفرقان عظیم علمی کارنامہ ہے۔ 2010 میں، 42 ممالک کے 350 اسکالرز ممتاز ماہر تعلیم کی موجودگی میں شیخ محمود آفندی نقشبندی کو انسانیت کی خدمت کے لیے بین الاقوامی سمپوزیم ایوارڈ سے نوازنے کا فیصلہ کیا گیا یہ ایوارڈ پیش کرنے کی تقریب میں شرکت کے لیے ہزاروں اسکالرز استنبول پہنچے۔ اکتوبر کو استنبول میں ان کے لیے ایک اعزازی تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ 24، 2010، اور انہیں امام محمد بن قاسم النانوتوی ایوارڈ پیش کیاگیا. جو اسلامی دعوت کے میدان میں اپنا اثر چھوڑنے والی شخصیات کو دیا جانے والا ایوارڈ ہے۔یہ ایوارڈ بانی دارالعلوم دیوبند حجۃ الاسلام مولانا امام قاسم نانوتوی سے منسوب ہے ۔

    اس طور پر اس عظیم شخصیت کا عملی دارالعلوم دیوبند سے رشتہ بھی قائم ہوجاتا ہے.. روحانی وعلمی رشتہ تو پہلے سے قائم تھا۔نومبر 2018ترکی، استنبول کے سفر میں راقم السطور بندہ خالد نیموی کی خواہش تھی کہ حضرت والا سے ملاقات و زیارت کا شرف حاصل کر لیں، لیکن ان ایام میں شیخ علاج و معالجہ کی سخت نگہداشت کے مراحل سے گذر رہے تھے، جس کی وجہ سے ہم ان کی ملاقات کے شرف سے محروم رہے ۔یہاں تک کہ ان کی وفات کی خبر صاعقہ بن کر گری۔

  • اجے دیوگن کی وجہ سے میری زندگی میں کوئی لڑکا نہیں آسکا:اداکارہ تبو

    اجے دیوگن کی وجہ سے میری زندگی میں کوئی لڑکا نہیں آسکا:اداکارہ تبو

    نوے کی دہائی کی خوبصورت اداکارہ تبو نے حال ہی میںایک انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ آج اگر میری زندگی میں کوئی مرد نہیں ہے تو اسکی وجہ اجے دیوگن ہے ،اجے دیوگن کو میری جاسوسی کرنے کی پڑی ہوتی تھی ۔وہ یہی دیکھتے رہتے تھے کہ کوئی لڑکا میرے ارد گرد تو نہیں ہے یا میں کسی لڑکے سے بات تو نہیں کررہی ہوں۔میری پوری ریکی کیا کرتے تھے اور میری سرگرمیوں کے حوالے سے میرے بھائی کو آگاہی دیا کرتے تھے ۔تبو نے مزید کہا کہ مجھ سے اگر کوئی لڑکا بات بھی کرنا

    چاہتا تھا تو اس کو اجے دیوگن اور میرا بھائی مل کر دھمکیاں دیا کرتے تھے اور ان کو ڈر ادھمکا دیتے تھے کہ وہ دوبارہ مجھ سے بات کرنے کی جرائت ہی نہیں کیا کرتا تھا ۔تبو نے ہنسی مذاق میں انٹرویو دیتے ہوئے بہت ساری باتوں کے جوابات دئیے انہوں نے اپنی شادی نہ ہونے کا ذمہ دار اجے دیوگن کو ہی ٹھہرا دیا ۔اجے دیوگن اور تبو کی آپس میںکافی دوستی تھی اور اس دوستی میں تبو کے بھائی بھی شریک تھے تینوں ایک دوسرے کے کافی قریب تھے یہی وجہ ہے کہ اجے دیوگن تبو پر نظر رکھتے تھے تاکہ وہ اپنے دوست اور تبو کے بھائی کو پوری انفرمیشن دے سکیں کہ تبو کب کیا کررہی تھی ۔

  • امریکی تیراک انیتا الوارز اچانک سے بے ہوش ہو کر پول میں جا گری تو ان کی کوچ نے فوری طور پر پول میں کود کر جان بچائی،

    امریکی تیراک انیتا الوارز اچانک سے بے ہوش ہو کر پول میں جا گری تو ان کی کوچ نے فوری طور پر پول میں کود کر جان بچائی،

    امریکی تیراک انیتا الوارز اچانک سے بے ہوش ہو کر پول میں جا گری تو ان کی کوچ نے فوری طور پر پول میں کود کر جان بچائی۔

    باغی ٹی وی: امریکہ کی مشہور آرٹسٹک تیراک انیتا الوارز جب سوئمنگ ورلڈ چیمپیئن شپ کی تیاری کے دوران یہ اچانک سے بے ہوش ہو گئی۔بے ہوش ہونے کے دوران ہی یہ پول کی تہہ میں جا گری کے اچانک سے ان کے کوچ نے ان کو چھلانگ لگا کر موقع پر بچا لیا۔
    مزید تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوۓ بتایا جاتا ہے کہ واقعہ بوداپسٹ کے پول میں پیش آیا تھا۔اس دن بدھ کا روز تھا۔یہ انیتا الوارز جب بدھ کی رات کو سولو فری فائنل کے لیے پریکٹس کر رہی تھیں۔تو تب اچانک سے یہ بیہوش ہو کر پول میں گر گئی تھی۔لیکن موقع پر ان کے کوچ نے ان کو بچا لیا تھا۔پہلے ان کی سانس بند ہوئی پھر یہ پانی میں جا گری تو یہ جب واپس اوپر کی طرف نہیں آئی تو ان کے کوچ اینڈریا فیوینٹس کو جب کچھ خطرے کا احساس ہوا تو انہوں نے فوری طور پر پول میں چھلانگ لگا دی اور انیتا الوارز کو پول سے باہر نکالا۔لیکن وہ یہ دیکھ کر سخت حیران ہوۓ کہ انیتا الوارز تو بے ہوش ہیں۔ان کو پھر پتا چلا کہ دراصل یہ بے ہوش ہو کر ہی پول میں گری جس کی وجہ سے یہ اپنے آپ اوپر نہیں آ سکی تھی۔

    جب اس سب واقعے کے بارے میں کوچ فیونٹیس سے پوچھا گیا تو انہوں نے مرکا نامی سپینش اخبار کو بتایا کہ یہ سب واقعہ میرے سامنے جب پیش آیا تو وہاں پر کوئی لائف گاڑڈز بھی موجود نہیں تھے۔جس کی وجہ سے فوری طور پر مجھے چھلانگ لگانا پڑا اور میں بہت خوف زدہ تھی۔جب اس سب واقعے کے بارے میں فیونٹیس سے پوچھا گیا تو ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ جب میں نے انیتا کو بے ہوشی کی حالت میں پایا تو وہ بہت زیادہ خوف زدہ ہو گئی تھی جب یہ سانس نہیں لے پا رہی تھی۔

    فیونٹیس نے اس واقعے کے وقت شارٹز اور ٹی شرٹ پہن رکھی تھی۔ اور اسی حالت میں انہیں ہنگامی طور پر کودنا پڑا، وہ انیتا کو پانی کی سطح پر لے آئیں۔ جس کے بعد انہیں باہر نکالا گیا تھا۔ اس کے بعد انیتا کو پول کے میڈیکل سینٹر میں لے جایا گیا۔ تو اس کے تھوڑی دیر بعد وہاں ان کے مداح بھی جمع ہو گئے تھے۔لیکن بعد میں ان کی ٹیم کی جانب سے ان کی صحتیابی کا اعلان کر دیا گیا۔

    جب ان کی کوچ سے مزید تفصیلات کے بارے میں پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ یہ اچانک بے ہوش اسلئیے ہوئی تھی کہ انہوں نے اس دن کچھ زیادہ ہی پریکٹس کر لی تھی۔ یہ ویسے بھی بہت پریکٹس کرتی تھی لیکن اس دن انہوں نے معمول سے ہٹ کر ہی پریکٹس کر لی تھی۔ جس کی وجہ سے ان کو کچھ زیادہ تھکاوٹ ہوئی اور ان کی طبیعت بھی خراب ہو گئی تھی. کہ اچانک سے یہ بے ہوش ہی ہو گئی تھی۔اور یہ پول میں ہی جا گری۔جس کی وجہ سے ان کے پھیپھڑوں میں پانی چلا گیا تھا۔ لیکن پھر کچھ دیر تک ان کا سانس لینے کا عمل بہتر ہوا تو ان کی حالت بھی بہتر ہو گئی تھی۔ان کا کہنا تھا کہ وہ بہت جلدی سے پول میں انیتا کو بچانے کیلئے کودی تھی۔

    مزید یہ کہ انیتا نے جمعرات کو آرام کرنے کا پروگرام بنایا ہے۔ اور وہ جمعے کو ہونے والے ایونٹ میں شرکت کرنے کے لیے پرامید نظر آتی ہیں۔25 سالہ انیتا الوازر تیسری ورلڈ چیمپیئن شپ میں شرکت کر رہی ہیں۔

  • زلزے نےتباہی مچادی،امریکہ افغانستان کےاثاثےبحال کردے:افغان طالبان

    زلزے نےتباہی مچادی،امریکہ افغانستان کےاثاثےبحال کردے:افغان طالبان

    کابل:زلزے نےتباہی مچادی،امریکہ افغانستان کےاثاثےبحال کردے:اطلاعات کے مطابق افغان طالبان نےامریکہ پرزوردیا کہ وہ افغانستان کےاثاثوں کو غیر منجمد کردے،افغان طالبان کا کہنا ہےکہ اس تباہی نے افغانستان کےطالبان حکمرانوں اور امدادی اداروں کے لیے ایک نیا امتحان کھڑا کردیا ہے جو پہلے ہی متعدد انسانی بحرانوں سے نبرد آزما ہیں۔ پہاڑوں میں پھنسے دیہاتوں میں تباہی پھیل چکا ہے۔

    افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا تھا کہ زلزلے کے بعد ایک ہنگامی اجلاس منعقد کیا گیا جس میں کرائسس مینجمنٹ ہیڈ کوارٹر بنایا گیا۔انہوں نے کہا کہ "یہ ہیڈکوارٹر صحت، دفاع، ثقافت، داخلہ اور دیگر کے وزرا کی شرکت سے تشکیل دیا گیا تھا، اور یہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ ان کے نمائندے فوری طور پر متاثرہ علاقوں میں پہنچ کر امداد فراہم کریں”۔

    خوراک، گھریلو سامان، خیمے اور دیگر بنیادی ضروریات فراہم کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا، ذبیح اللہ مجاہد نے مزید کہا کہ وزارت دفاع سے کہا گیا کہ زخمیوں کی مدد کے لیے تمام زمینی اور فضائی مدد فراہم کی جائے، جب کہ وزارت صحت ضروری ادویات بھیجے۔ اور امدادی ٹیمیں جلد از جلد پہنچیں اور زخمیوں کی دیکھ بھال کریں۔

    6.1 کی شدت کے زلزلے سے آنے والی تباہی نے ایک ایسے ملک پر مزید مصائب کا ڈھیر لگا دیا ہے جہاں اگست میں امریکہ اور نیٹو کے انخلا کے بعد سے صحت کا نظام درہم برہم ہے۔ قبضے کے نتیجے میں اہم بین الاقوامی مالی اعانت میں کٹوتی ہوئی، اور دنیا کے بیشتر ممالک نے طالبان کی حکومت سے کنارہ کشی اختیار کر لی ہے۔

    ملک میں بحرانی کیفیت کی وجہ سے طالبان کے سپریم لیڈر، ہیبت اللہ اخوندزادہ نےکہا کہ عالمی برادری اور انسانی ہمدردی کی تنظیموں سے "اس عظیم سانحے سے متاثرہ افغان عوام کی مدد کرنے اور کوئی کسر نہ چھوڑنے

    طالبان کے ترجمان نے کہا کہ بین الاقوامی تنظیمیں، ہلال احمر اور اسلامی جمہوریہ ایران، پاکستان، روس اور بعض دیگر ممالک سمیت کئی ممالک نے افغانستان کی مدد کے لیے اپنی تیاری کا اعلان کیا ہے۔لیکن اس نے افغانستان کی طرف سے امریکہ سے ملک کے اثاثوں کو جاری کرنے کے مطالبے کی تجدید کا اشارہ دیا۔ ملک کے مرکزی بینک سے تقریباً 7 بلین ڈالر کے افغان فنڈز امریکہ میں منجمد ہیں۔

    ادھر اس حوالے سے اقوام متحدہ کے مطابق، متاثرہ علاقوں میں "کثیر شعبوں کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے” فوری طور پر ہنگامی امداد کے طور پر 15 ملین ڈالر کی ضرورت ہے۔