Baaghi TV

Author: +9251

  • جان ابراہیم نے بتادیا کیوں وہ بڑے پردے کے علاوہ کہیں نظر نہیں آتے

    جان ابراہیم نے بتادیا کیوں وہ بڑے پردے کے علاوہ کہیں نظر نہیں آتے

    بڑی سکرین کے بڑے اداکار جان ابراہیم جو اپنے دور کے سپر ہٹ اداکار تھے، وہ کافی عرصے سے فلموں میں کیا کہیں بھی دکھائی نہیں دے رہے جبکہ ان کے مداح انہیں دیکھنے کےلئے بےتاب رہتے ہیں ۔حال ہی میں جان نے ایک انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس لئے کہیں اور نظر نہیں آتے کیونکہ وہ بڑے پردے کے فنکار ہیں اور بڑے پردے پر ہی آنا پسند کرتے ہیں ۔صرف جان ابراہیم ہی نہیں بہت سارے دوسرے ایسے فنکاروں کی مثالیں بھی موجود ہیں جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ بڑے پردے کے فنکار صرف بڑے پردے پر ہی دکھائی دینا پسند کرتے ہیں ۔جان نے مزید کہا کہ مجھے تو یہ بالکل بھی اچھا نہیں لگتا کہ لوگ صرف 299 روپے یا 499 روپے ماہانہ ادا کر کے مجھے اپنے گھر میں موجود اسکرین پر دیکھیں۔

    جان ابراہیم نے یہ انٹرویو بہت عرصے بعد دیا ہے انہوں نے مزید کہا کہ مجھے او ٹی ٹی پلیٹ فارمز بہت پسند ہیں اس کے لئے فلم شاید بناﺅں اور اس پلیٹ فارم پر اداکاری کرنے کے حوالے سے میری سوچ بالکل مختلف ہے اور میں اس پلیٹ فارم پر اداکاری کر سکتا ہوں۔جان ابراہیم نے مزید کہا کہ ہمیشہ کام محنت سے کیا اور خوشی ہے کہ جب بھی جو بھی کام کیا لوگوں نے بہت زیادہ محبت دی۔میں کام سے دور نہیں ہوا ہوں جب بھی کوئی اچھی آفر آئی تو ضرور وقبول کر وں گا لیکن فی الحال ایسی کوئی آفر میرے پاس آئی نہیں۔

  • ثروت گیلانی ڈراموں کی کہانیوں سے بیزار

    ثروت گیلانی ڈراموں کی کہانیوں سے بیزار

    ٹی وی کی جانی مانی اداکارہ ثروت گیلانی نے اپنے حالیہ ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ انہیں ڈراموں کی کہانیاں روایتی لگ رہی ہیں اوران سے وہ بوریت کا شکار ہیں، یہی وجہ ہے کہ وہ ڈراموں میں نظر نہیں آرہیں ۔ثروت گیلانی نے مزید کہا کہ میں ہمارے معاشرتی مسائل پر بہت کھل کر بات کرنے لگی ہوں اس لئے مجھے نہیں لگتا کہ میںاب ڈراموں میں روتی دھوتی اور سسکتی ہوئی عورت کا کردار ادا کروں گی ، اور ہمارے ڈراموں میںآج کل یہی کچھ دکھایا جا رہا ہے۔ثروت گیلانی کے مطابق صرف روتی دھوتی عورت کو ہی کیوں دکھایا جارہا ہے ہمارے معاشرے

    میں اور بہت ساری ایسی خواتین ہیںجو مثالی ہیں ہمیں ان کی کامیابی کی کہانیاں پیش کرنے کی ضرورت ہے ۔ثروت نے اس انٹرویو میں یہکہا کہ انہی وجوہات کی بناپر میں ٹی وی کمرشل پراجیکٹس پر انڈیپینڈینٹ پراجیکٹس کو ترجیح دینے لگی ہوں ۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہمارے بہت سارے مسائل ہیں جن پر بات کرنے کی ضرورت ہے ان پر سبق آموز کہانیاں بنائی جا سکتی ہیں۔یاد رہے کہ ثروت گیلانی اپنی منفرد اداکاری اور جاندار آواز کی وجہ سے خاصی پسند کی جا تی ہیں انہوں نے ویب سیریز چڑیل میں بھی کام کیا اور اس سے پہلے وہ ہمایوں سعید کی فلم جوانی پھر نہیں آنی میں بھی نظر آچکی ہیں۔ان کی فلم جوائے لینڈ کو حال ہی میں کانز فلم فیسٹیول میں جیور ایوارڈ سے نوازا گیا ثروت اس موقع پر خود وہاں موجود تھیں ۔

  • ابوظہبی:ایمازون نے سب سے بڑا ڈیلوری اسٹیشن کھولنے کا اعلان کردیا

    ابوظہبی:ایمازون نے سب سے بڑا ڈیلوری اسٹیشن کھولنے کا اعلان کردیا

    ابوظہبی:ایمازون نے سب سے بڑا ڈیلوری اسٹیشن کھولنے کا اعلان کردیا،اطلاعات کے مطابق دنیا کے بڑے معاشی کاروباری ادارے ایمیزون نے جمعرات کو ابوظہبی میں اس جولائی میں ہونے والے پرائم ڈے ایونٹ کے لیے وقت کے ساتھ اپنے سب سے بڑے ڈیلیوری اسٹیشن کو کھولنے کا اعلان کیا ہے ۔

    عرب میڈیا کا کہنا ہےکہ 4,700 مربع میٹر کا جدید ترین ڈیلیوری سٹیشن ملک کا دوسرا سب سے بڑا ہے اور شہر بھر کے صارفین کو ایک ہی دن اور ایک دن کی ڈیلیوری فراہم کرتا ہے،صرف مقامی ہی نہیں بلکہ قریبی مضافاتی بیرونی علاقوں جیسے کہ السمھا، الشوامیخ، یاس اور سعدیات جزائر، بنی یاس اور الوتبہ کے شہریوں کو بھی سہولت فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے

    نیا ڈیلیوری اسٹیشن سینکڑوں مکمل اور جز وقتی ملازمین کے لیے ہر قسم کے تجربے، تعلیم، پس منظر اور مہارتوں کے ساتھ ملازمتوں کے مواقع بھی پیدا کررہا ہے ۔ ڈیلیوری سٹیشن ایسوسی ایٹس سے لے کر آپریشنز، ہیلتھ اینڈ سیفٹی، سپلائی چین ٹکنالوجی، اور تجزیات میں عہدوں تک، تمام ملازمین ایسے تربیتی پروگراموں کے لیے اہل ہیں جو مستقبل کا سامنا کرنے والے ای کامرس سیکٹر میں UAE کی صلاحیتوں کو نکھاریں گے۔ یہ اسٹیشن ملک میں ڈیلیوری سروس پارٹنرز کے لیے نئے مواقع بھی پیدا کرے گا۔

    نئی سہولت کا آغاز گزشتہ سال نومبر میں ابوظہبی انویسٹمنٹ آفس (ADIO) کے ساتھ ایمازون کے اعلان کے بعد کیا گیا ہے، جس میں خطے میں اس کے سب سے زیادہ تکنیکی طور پر جدید ترین فلفلمنٹ سینٹر کے افتتاح کی تفصیل دی گئی ہے جو 2023 میں دارالحکومت میں ایک نئے دور کا آغازکرے گا۔ نیا فلفلمنٹ سینٹر اور ڈیلیوری اسٹیشن ابوظہبی کے جدید منصوبوں کے مطابق امارات میں جدت اور ٹیکنالوجی کو آگے بڑھانے کے لیے ایمیزون کے عزم کو تقویت دیتا ہے۔

    ایمیزون مڈل ایسٹ اینڈ نارتھ افریقہ (MENA) کے نائب صدر، رونالڈو موچور نے کہا: "ایمیزون اپنے صارفین کی جانب سے ایسی خدمات پیش کرنے کے اپنے عزم پر ثابت قدم ہے۔ ہمیں ابوظہبی انوسٹمنٹ آفس جیسے شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام کرنے پر فخر ہے، جو ابوظہبی میں کاروبار اور ہنر کو ڈیجیٹل اکانومی میں بہتر بنانے کے قابل بنانے کے لیے جدید اور صحیح وسائل اور لاجسٹکس فراہم کرنے میں دلچسپی لے رہے ہیں‌۔ صارفین کو مصنوعات کو تیزی سے اور زیادہ آسانی سے فراہمی کے لیے وسیع ای کامرس ایکو سسٹم کو بااختیار بنا کر، ہم بالآخر تمام صارفین کے لیے خریداری کے تجربے کو بہتر بنا رہے ہیں۔”

    ADIO کے قائم مقام ڈائریکٹر جنرل انجینئر عبداللہ عبدالعزیز الشامسی نے کہا: "ایمازون اور ADIO کے درمیان شراکت داری ابوظہبی میں کاروبار کرنے میں آسانی اور امارات میں دستیاب طویل مدتی ترقی کے مواقع کی عکاسی کرتی ہے۔ Amazon اختراع میں پائیدار سرمایہ کاری کے لیے ہمارے وژن کی حمایت کرتا ہے اور خطے میں جدید ترین لاجسٹک ٹیکنالوجیز لا رہا ہے۔ ایمیزون کے نئے ڈیلیوری اسٹیشن اور 2023 میں منصوبہ تکمیلی مرکز کا افتتاح ابوظہبی کو ای کامرس اور لاجسٹکس کے ایک بڑے عالمی مرکز کے طور پر قائم کرے گا۔

    اس نئے منصوبے کی حوصلہ افزائی کے لیے ابوظہبی کی کوششوں کی حمایت کرتے ہوئے، ڈیلیوری اسٹیشن ایمازون کی عالمی لاجسٹکس ٹیکنالوجیز کا استعمال کرتے ہوئے کام کرتا ہے جو کمپنی کی 20 سال کی آپریشنل مہارت پر بنائی گئی ہیں۔ ایمیزون کا نیا ڈیلیوری اسٹیشن اسی دن اور ایک دن کی ترسیل کے اختیارات کے ذریعے اپنے صارفین کے لیے قابل اعتماد اور آسان ڈیلیوری کا تجربہ فراہم کرنے میں کمپنی کی مدد کرے گا۔

    ایمازون کے آپریشنز کے ڈائریکٹر پرشانت سرن کہتے ہیں کہ : "ابوظہبی کے نئے حالات کے مطابق ماحولیاتی نظام کے اندر بنایا گیا، ہمارا نیا ڈیلیوری اسٹیشن دارالحکومت میں لاجسٹکس اور سپلائی چین کے شعبے میں عالمی معیار کی آخری ٹکنالوجی لاتا ہے۔ اس سہولت پر ملازمتوں کی حد شہر کے ٹیلنٹ پول کو پروان چڑھانے اور انہیں ڈیجیٹل مستقبل کے لیے تیار کرنے میں مدد کرے گی جس کی طرف ابوظہبی آگے بڑھ رہا ہے۔

    ایمیزون کے 2040 تک پورے کاروبار میں خالص صفر کاربن ہونے کے عزم کے حصے کے طور پر، عمارت کو توانائی کی بچت کو اولین ترجیح کے طور پر ڈیزائن کیا گیا ہے۔ حرارت، وینٹیلیشن اور ایئر کنڈیشنگ کو ایک ڈیجیٹل بلڈنگ مینجمنٹ سسٹم کے ذریعے کنٹرول کیا جاتا ہے جو توانائی کے غیر ضروری استعمال کو کم کرنے کے ساتھ ساتھ کام کرنے کے آرام دہ ماحول کو یقینی بناتا ہے۔ آج، متحدہ عرب امارات میں ایمیزون نیٹ ورک دو تکمیلی مراکز، تین ترتیب کے مراکز، آٹھ ڈیلیوری اسٹیشنز اور ڈیلیوری سروس پارٹنرز کے نیٹ ورک پر مشتمل ہے۔

  • کراچی میں پولیس مقابلے کے دوران ایک ڈاکو ہلاک باقی گرفتار،

    کراچی میں پولیس مقابلے کے دوران ایک ڈاکو ہلاک باقی گرفتار،

    کراچی میں پولیس مقابلے کے دوران ایک ڈاکو ہلاک باقی گرفتار:

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق کراچی کے شہر قائد میں جرم کی ایک اور واردات سامنے آئی ہے۔ خیال رہے کے پیچلھے کئی دونوں سے بہت سے جرائم کی واردات سامنے آ رہی ہیں۔یہ شہر قائد میں جرم اس طرح ہوا کہ اس شہر کے بہت سے علاقوں میں مبینہ پولیس مقابلے ہو رہے تھے جس کے دوران ہی ایک ڈاکو فائرنگ لگنے سے ہلاک ہو گیا تھا۔اس کے ساتھ ساتھ 7 افراد زخمی بھی ہوۓ تھے۔

    مزید تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا جاتا ہے کہ زخمی ہونے والے 7 افراد سے اسلحہ، موٹر سائیکل اور باقی جو سامان ان کے پاس تھا وہ بھی لے لیا گیا۔جب پولیس سے اس سارے واقعے کے مطلق پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ احسن آباد میں موٹر سائیکل پر سوار ملزمان شہریوں سے لوٹ مار کر رہے تھے کہ پولیس ٹھیک موقع پر پہنچ گئی جسے کو دیکھ کر ڈاکوؤں نے فوری فائرنگ شروع کر دی تھی۔جب پولیس پر فائرنگ ہوئی تو انہوں نے بھی جوابی فائرنگ کی۔جس کے نتیجے میں ایک ڈاکو فائرنگ لگنے سے ہلاک ہو گیا۔

    مزید تفتیش سے پتا چلتا ہے کہ پولیس مقابلے میں ہلاک ہونے والا ڈاکو کی شناخت جب کی گئی تو پتا چلا کہ اس کی عمر 30 سال تھی۔اور اس کا نام اعجاز تھا۔جس کے قبضے میں یہ سب تھے نائن ایم ایم پستول ، گولیاں اور موبائل فونز برآمد ہوئے تھے۔لیکن جو اس کے ساتھ دوسرا ڈاکو تھا وہ اسی وقت فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا تھا۔مزید دوسری جانب ڈیفنس اور عزیز بھٹی تھانوں کی حدود میں مبینہ مقابلوں کے بعد 6 اور ڈاکوؤں کو گرفتار کر لیا جو کہ زخمی حالت میں تھے۔ اور ان کے پاس سے بھی موٹر سائیکل اور دیگر اشیاء کو برآمد کر لیا گیا تھا۔

    اس واقعے کی مزید تفتیش سے پتا چلتا ہے کہ ڈیفنس
    پولیس نے فیز سیون ایکسٹینشن قبرستان کے قریب سے مبینہ مقابلے کے بعد 4 ملزمان کو گرفتار کر لیا جن کی حالت بھی زخمی تھی۔ انہیں فوری طور پر ہسپتال طبی امداد کیلئے منتقل کیا گیا تھا۔

    مزید یہ کہ دریں اثنا گزری کے علاقے خیابان عباسی ڈیفنس فیز 7 میں بھی پولیس نے مبینہ مقابلے کے دوران ایک ڈاکو جس کا نام دلاور حسین تھا۔اس کو بھی زخمی حالت میں گرفتار کرلیا۔ جبکہ اس کا ساتھی موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا تھا۔ گرفتار ڈاکو اس سے پہلے بھی تھانہ ڈاکس میں غیر قانونی اسلحہ ، قتل اور ڈکیتی جیسے سنگین مقدمات میں گرفتار ہو کر جیل میں جا چکا ہے۔

  • پہلے ریاست بعد میں سیاست۔  وزیراعظم شہباز شریف

    پہلے ریاست بعد میں سیاست۔ وزیراعظم شہباز شریف

    وزیر اعظم شہباز شریف کا مسلم لیگ ن کے سینیٹرز سے خطاب میں کہنا تھا کہ: سیاست بعد میں کرتے رہیں گے لیکن پہلے ریاست کو بچائیں گے کیونکہ ریاست بچتی ہے تو سیاست بھی بچ جائے گی.

    وزیر اعظم نے بتایا: آئی ایم ایف سے تقریبا شرائط طے ہوگئی ہیں اور اگر کوئی اور شرط نہ لگی تو یہ معاملہ طے ہونے جارہا ہے۔ اور اگر پچھلی حکومت آئی ایم ایف کی اس وقت تمام شرائط نہ مانتی تو آج ہم اتنے مجبور اور مشکل وقت میں نہ ہوتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ : آئی ایم ایف کو اب ہم پر اعتماد نہ تھا انہوں نے کہا کہ آپ بھی تو اسی پاکستان کی حکومت ہیں۔

    وزیراعظم نے مسلم لیگ ن کے سینیٹرز کو اعتماد میں لیتے ہوئے بتایا کہ : پہلے ہمارا ارادہ تھا کہ انتخابی اصلاحات کرکے الیکشن میں چلیں جائیں چاہے وہ الیکٹرولر اصلاحات ہیں یا پھر جو بھی دوسری ہیں لیکن اتحادیوں نے پھر مشورہ دیاکہ نہیں ہمیں یہ مدت پوری کرنی چاہئے اور دن رات محنت کرکے ملک و قوم کے مستقبل کی بہتری کیلئے کام کرنا ہے باقی نتائج اللہ تعالی کی زات پر چھوڑنے ہیں۔
    لیکن اس کے لیئے شرط یہ ہے کہ دیانتداری کے ساتھ محنت کرنی ہے لہذا انتخابات میں نہ جانے کا سب سے پہلا مرحلہ توسیاسی تھا اوردوسرا مرحلہ جوبہت اہم تھا وہ یہ کہ سابقہ حکومت نے جو آئی ایم ایف کے ساتھ شرائط پر رضامندی کی تھی کہ جوعالمی منڈی میں قیمتیں ہوں گی وہی لاگو کریں گے لیکن انہوں نے انکار کے بجائے دستخط کردیئے۔ لیکن پھر ان شرائط کی ایک ایک کرکے دھجیاں اڑا دیں۔

    وزیراعظم کے مطابق: آئی ایم کے معاہدے کے نتیجے میں راتوں رات مہنگائی نہیں آجائے گی لہذا ہمیں اپنا مالیاتی نظام مضبوط کرنے کی اشد ضرورت ہے اور ہمیں اسلامی ممالک سے تجارت کے ذریعے بھی مدد مل سکتی ہے لیکن یہ ہماری اور اداروں کی ذمہ داری ہے کہ شبانہ روز محنت کرکے اپنی خواہشات کو قربان کردیں، اور انشاءاللہ ہم ہمت کرکے وہ فیصلے کریں گےجس سے ملک خوشحالی کی جانب گامزن ہوگا پر اس میں ابھی مشکلات آنی ہیں اورہمیں اپنی ذات سے ہٹ کر سخت فیصلےبھی کرنے ہوں گے۔

    مزید کہا: ماضی کی حکومت نے آئی ایم ایف کے ساتھ پٹرولیم لیوی تیس روپے بڑھانے کا معاہدہ کیا، عمران خان کی حکومت نے اربوں روپے کی سبسڈی دے کر خزانہ خالی کردیا اور کارٹلز کو فائدہ پہنچایا۔

    شہباز شریف نے کہا: ان کو اتنے سال غریب یاد نہیں آئے اور نہ ہی ان کے دل میں کوئی غریب عوام کیلئے ہمدردی تھی لیکن اچانک مارچ میں جب ان کوپتہ چل گیا کہ شکست ان کا مقدر ہے تو عمران خان نے جاتے جاتے یکدم پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کم کردیں تاکہ نئی حکومت کیلئے سرنگ بچھا سکیں اور یہ فیصلہ کابینہ میں لائے بغیر کیا گیا تھا.

    وزیراعظم نے سینیٹرز کومزید بتایا: چین نے ہمیں دو اشاریہ تین ارب ڈالربھیجے وہ قرض ہے لیکن دوست ملک چین نے مشکل وقت میں ہماری مدد کی اور ساتھ ہی کہا میں ہمیشہ قطر، چین، یواےای سمیت مختلف ممالک جنہوں نے ہمیشہ مشکل وقت میں ہمارا ساتھ دیا کا ذکر کرتا ہوں.

    وزیراعظم کا کہنا تھا کہ: چین کے وزیراعظم سے میں نے کہا سی پیک کودوبارہ بحال کرنا ہےتو انہوں نے کہا ہم تیار ہیں ایم ایل ون کو سپورٹ کریں گے۔ لہذا تمام تر الزام تراشی کے باوجود چین کے وزیراعظم نےکہا پاکستان کے ساتھ ہیں۔

    وزیراعظم کا چین کو سراہاتے ہوئے کہنا تھاکہ: چین نےکئی گھنٹوں کی لوڈشیڈنگ میں سی پیک کے تحت ہمیں بجلی کے پلانٹ مہیا کئے لیکن پچھلی حکومت نےالزام لگایا کہ اس میں کرپشن ہوئی ہےلہذا آپ سوچیں اس پر چین پرکیا گزری ہوگی لیکن چین کے وزیراعظم نے مجھے ایک لفظ کا بھی گِلہ شکوہ نہیں کیا اور دوبارہ کام کرنےپر رضامندی ظاہر کی۔

  • یوکرین جنگ،آفات اورغلط حکمت عملی:ڈر ہے کہ کہیں دنیا بھوک سے ہی نہ مرجائے:عالمی ادارے

    یوکرین جنگ،آفات اورغلط حکمت عملی:ڈر ہے کہ کہیں دنیا بھوک سے ہی نہ مرجائے:عالمی ادارے

    نیویارک:چند دن پہلےاقوام متحدہ کی 2 فوڈ ایجنسیوں فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن (ایف اے او) اور ورلڈ فوڈ پروگرام (ڈبلیو ایف پی) نے پوری دنیا میں خوراک کے متعدد بحرانوں کے بارے میں سخت انتباہ جاری کیا تھا

    ذرائع کے مطابق اس حوالےسے ‘ہنگر ہاٹ اسپاٹس: شدید غذائی عدم تحفظ پر ایف اے او-ڈبلیو ایف پی کے ابتدائی انتباہات’ کے عنوان سے اپنی مشترکہ رپورٹ میں فوڈ ایجنسیوں نے غذائی بحران سے شدید متاثرہ علاقوں کی مدد کے لیے فوری انسانی بنیادوں پر کارروائی کا مطالبہ کیا تھا جہاں اگلے چند ماہ میں صورتحال مزید خراب ہونے کا خدشہ ہے۔

    رپورٹ میں ایتھوپیا، نائیجیریا، جنوبی سوڈان، یمن، افغانستان اور صومالیہ کو سنگین صورتحال کا سامنا کرنے والے ممالک میں شمار کیا گیا، اس میں کہا گیا ہے کہ ان ممالک میں تقریباً ساڑھے 7 لاکھ افراد کو بھوک اور اموات کا سامنا ہے۔

    جبکہ دوسری طرف یوکرین کی صورتحال نے دنیا کی زندگی اور بھی مشکل میں ڈال دی ، اس وقت ایک ہنگامی صورت حال کا سامنا ہے اور وہ صورتحال غذائی ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ یوکرین جنگ کی وجہ سر اٹھانے والا غذائی بحران لاکھوں جانیں نگل سکتا ہے۔گلوبل فنڈز ٹو فائٹ ایڈز، ٹی بی اینڈ ملیریا کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر پیٹر سینڈز کا جی 20 وزرائے صحت کے اجلاس کے موقع پر ایک انٹرویو میں کہنا تھا کہ صحت کے بحران کا آغاز ہو چکا ہے مگر یہ کسی نئے جرثومے کی وجہ سے نہیں بلکہ اس لیے ہے کہ لوگ خوراک کی کمی کے باعث بیماریوں کا زیادہ شکار ہوں گے۔ متعدی امراض، خوراک کی کمی اور توانائی کے بحران کے مجموعی اثرات کے باعث لاکھوں اموات معمول کی اموات کے علاوہ ہیں۔

     

    پیٹر سینڈز کا یہ بھی کہنا تھا کہ عالمی حکومتوں کو چاہیے کہ خوراک کے بحران کے اثرات کو کم سے کم رکھنے کے لیے صحت کی سہولتوں پر توجہ دیں، خصوصاً کم آمدنی والے افراد کے لیے، ایسے افراد کو طبی مسائل کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔ بنیادی صحت خصوصاً دیہات کے نظامِ صحت پر توجہ مرکوز کی جائے۔ ہسپتال بھی اہمیت کے حامل ہیں تاہم جب اس قسم کے چیلنج کا سامنا ہو تو بنیادی صحت کو برقرار رکھنا بہت ضروری ہوتا ہے۔

    پیٹر سینڈز کا یہ بھی کہنا تھا کہ کورونا کے خلاف جدوجہد کے دوران وہ وسائل بھی صرف ہو گئے جو تپ دق سے بچانے کے لیے تھے۔ انہوں نے کہا کہ اس مرض کے باعث 2020ء میں 15 لاکھ افراد ہلاک ہوئے تھے۔ 2020ء میں دیکھا گیا کہ عالمی سطح پر 15 لاکھ افراد نے ٹی بی کا کم علاج کرایا جس کا مطلب ہے کہ ہزاروں لوگ نہ صرف مریں گے بلکہ دوسروں کو بھی متاثر کریں گے۔

    مغرب اور یوکرین روس پر الزام لگاتے ہیں کہ وہ یوکرین سے اجناس کی برآمد روکنے کے لیے رکاوٹیں ڈال رہا ہے جس سے عالمی سطح پر قحط کے خطرات پیدا ہو سکتے ہیں جبکہ روس کا کہنا ہے کہ مغربی پابندیوں کی وجہ سے اجناس کی برآمد میں مشکلات پیدا ہو رہی ہیں۔

    اسی لاکھ کم سن بچے موت کے خطرے کا شکار

    پانچ برس تک کی عمر کے قریب 80 لاکھ بچے غذا کی قلت کے سبب موت کے خطرے سے دو چار ہیں۔ یہ بات بچوں کی فلاح و بہبود سے متعلق اقوام متحدہ کے ادارے یونیسیف نے کہی ہے۔ سب سے زیادہ خطرے کا شکار ان 15 ممالک کے بچے ہیں جہاں اس وقت خوراک کی قلت ہے۔ ان میں افغانستان، یمن، ایتھوپیا اور ہیٹی بھی شامل ہیں۔ یونیسف کے مطابق موت کے خطرے سے دوچار ایسے بچوں کی تعداد ہر منٹ بڑھ رہی ہے۔ اس بگڑتی صورتحال کی ایک وجہ روس کے یوکرین پر حملے کے سبب عالمی سطح پر اشیائے خوراک کی بڑھتی ہوئی قیمتیں بھی ہیں۔

     

  • احساس پروگرام کی افادیت پر”سٹینفورڈ”یونیورسٹی کےمقالےکی کوئی حیثیت نہیں:رانا عبداللہ حماد

    احساس پروگرام کی افادیت پر”سٹینفورڈ”یونیورسٹی کےمقالےکی کوئی حیثیت نہیں:رانا عبداللہ حماد

    لاہور:احساس پروگرام کی افادیت پر”سٹینفورڈ”یونیورسٹی کے مقالے کی کوئی حیثیت نہیں:رانا عبداللہ حماد جو کہ ماس کمونیکیشن کے طالب علم انہوں نے احساس پروگرام کی افادیت کے حوالےسے کچھ چیزیں بیان کی ہیں ، ان کا کہنا ہےکہ جوحقائق اس وقت احساس پروگرام کی افادیت کو ثابت کرنےکےلیے پیش کیے جارہے ہیں ان کی کوئی حیثیت نہیں ،ان کا کہنا تھا کہ فیس بک کے ایک صارف کی طرف سے جواس قسم کے حقائق پیش کیے گئے ان میں غلط بیانی کی گئی ہے

    احساس پروگرام کے تحت ایک کروڑ لوگوں کومستفید کریں گے، ثانیہ نشتر

    رانا عبداللہ حماد کہتے ہیں کہ جیسا کہ پہلے دعوی کیا گیا تھا کہ یہ حقائق پرمبنی رپورٹ ہے جس میں دعوی کیا گیا تھا کہ مصنفین نے غربت کے خاتمے میں خان کی پالیسیوں کی تعریف کی، لیکن اس میں کوئی حقیقت نہیں تھی۔ جیسا کہ فیس بک صارف جواد ملک نے لکھا، "مطالعہ اسٹینفورڈ کا اپنا نہیں ہے،یہ کہ ایک غیرملکی مصنف، ڈیلیوری ایسوسی ایٹس، کی طرف سے حقائق پیش کیئے گئے ہیں جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ خود احساس پروگرام کے حوالے سے ایک متعلقہ عنصرہے

    وزیراعظم کے احساس پروگرام کو دنیا بھر میں سراہا گیا یے،بلال غفار

    ان کا کہنا تھا کہ عمران خان نے بھی اپنی تازہ ترین تقریر میں اسٹینفورڈ کی تحقیق کا حوالہ دیا، جب کہ اسے فیس بک صارف کے دعوے کے مطابق شائع بھی نہیں کیا گیا۔

     

    رانا عبداللہ حماد کہتے ہیں کہ ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ دوسری جانب یہ بات قابل ذکر ہے کہ عمران خان کے احساس پروگرام کو بل گیٹس جیسے بہت سے لوگوں نے سراہا اور پاکستان میں غربت کے بڑے مسائل کا مقابلہ کرنے کے حوالے سے اس پروگرام کی افادیت کو تسلیم کیا

    *وزیر اعظم کا احساس پروگرام بنا امید سحر*

    یاد رہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان کے دور حکومت میں ملک سے غربت کے خاتمے اور غریب کو معاشی طور پر سہارا دینے کیلئے متعارف کروائے گئے "احساس پروگرام” کے حوالے سے دنیا مثالیں دینا شروع ہوگئی ہے۔

    امریکہ کی عالمی شہریت یافتہ یونیورسٹی "سٹینفورڈ”نے ایک مقالہ شائع کیا ہے جس میں دنیا کواحساس پروگرام کی مثال دے کر کہا گیا ہے کہ دنیا اس پروگرام سے غربت کے خاتمے کا طریقہ کار سیکھ سکتی ہے۔

    مقالہ میں کہا گیا ہے کہ کسی بھی ملک کے کمزور ترین طبقے کو اوپر لانے کیلئے احساس پروگرام دنیا کا ایک بہترین پروگرام بن کر سامنے آیا ہے۔

    سٹینفورڈ یونیورسٹی نے حکومت پاکستان کی جانب سے 2018 کے بعد کورونا بحران کےدنوں میں متعارف کروائے گئے احساس پروگرام کا بغور جائزہ لینے کے بعد یہ مقالہ شائع کیا ہے ، جس میں کہا گیا ہے کہ احساس پروگرام کے تحت غربت کے خاتمے کے ایک جامع اور مربوط ہدف میں معاشی طور پر کمزور پاکستانیوں کو مدد کا نظام متعارف کروایا گیا، جس میں غیر مشروط نقد رقم کی منتقلی، ٹارگٹڈ سبسڈی، اور صحت اور غذائیت کی کوریج میں اضافہ شامل ہے۔

    سٹینفورڈ یونیورسٹی کے مقالے میں کہا گیا ہے ہم دنیا بھر کے ممالک میں متعارف کروائی گئی پالیسیوں اور پرواگرامز کا مطالعہ کرتے ہیں اور اس میں سے بہترین اصلاحات کو عالمی پالیسی سازوں کے سامنے پیش کرتے ہیں، ہم جن اصلاحات کو چنتے ہیں ان میں خاص طور پر اچھی قیادت، مضبوط اداروں کی تعمیر، ٹیکنالوجی کے موثراستعمال، انسداد غربت کیلئے مربوط نظام جیسے پروگرامز شامل ہیں۔

    مقالے میں کہا گیا ہے کہ احساس پروگرام پر تجزیے کے دوران ثابت ہوا ہے کہ اس پروگرام کی کامیابی نے شفافیت، شفافیت ،استفادہ کنندگان اور پروگرام کے منتظمین کے درمیان اعتماد پیدا کرنے نے اہم کردار ادا کیا ہے۔

    واضح رہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان نے 2018میں ملک کے کمزور ترین طبقے کو معاشی طورپر مستحکم کرنے کیلئے "احساس پروگرام” متعارف کروایا تھا جس کے ذریعے ایک منظم نظام کے ذریعے لوگوں کی نقد رقم، تین وقت کے کھانے، رہائش کیلئے پناہ گاہوں اورٹارگٹڈ سبسڈی جیسے اقدامات سے مدد کی گئی۔

  • رشی کپور چاہتے تھے عالیہ بھٹ ان کی بہو بنے

    رشی کپور چاہتے تھے عالیہ بھٹ ان کی بہو بنے

    رشی کپور کی اہلیہ نیتو سنگھ کہتی ہیں کہ جب میرے شوہر بہت زیادہ بیمار تھے توانہیں ہسپتال میں داخل کروا دیا گیا عالیہ بھٹ اور رنبیر کپور سارا دن آئی سی یو کے باہربیٹھے رہتے تھے ایک بار میرے شوہر کی نظر ان پر پڑی تو انہوں نے کہا کہ ”تم کتنے ویلے لوگ ہو سارا دن بیٹھے رہتے ہو“ ۔نیتو سنگھ نے یہ بھی کہا کہ رشی کپور کی بہت خواہش تھی کہ عالیہ بھٹ اور رنبیر کپور کی شادی ہوجائے ۔انہوں نے مزید کہا کہ میں محسوس کرتی ہوں کہ رشی کپور کا سایہ میرے ساتھ ساتھ رہتا ہے ان کی رحمتوں والا ہاتھ بھی میرے سر پر رہتا ہے ۔مجھے جتنی بھی محبت ہر جگہ سے ملتی ہے وہ میرے شوہر کی وجہ سے ہی ہے۔میرے شوہر رشی کپور مجھے ہر حال میں خوش دیکھنا چاہتے تھے ،انہی کی خواہش کے مطابق میں نے عالیہ کو اپنی بہو بنا لیا اور میں سمجھتی ہوں کہ عالیہ سے بہتر مجھے بہو نہیں مل سکتی تھی۔

    رشی چاہتے تھے یہ دونوں شادی کر لیں وہ تو بلکہ اس طرح کہتے تھے ” اب کر لو شادی یار“ ۔یاد رہے کہ عالیہ بھٹ اور رنیبر کپور نے چند ماہ پہلے شادی کی ہے دونوں کی شادی میں بہت کم لوگ تھے اور رسمیں بھی بہت زیادہ نہیں کی گئیں ان کے فیملی کے لوگ اور قریبی دوستوں کی شادی میں شرکت رہی، نیتو اس حوالے سے کہتی ہیں کہ لوگوں کو خوش کرنے کی بجائے خود کو دیکھنا چاہیے اور شادی بیاہ کی تقریبات محدود ہی رکھی جانی چاہیے تاکہ دوسروں کے لئے مثال بنے ۔

  • ترکی اورسعودی عرب نے پُرانی تلخیوں کوبھلاتے ہوئےنئے دورکا آغازکردیا

    ترکی اورسعودی عرب نے پُرانی تلخیوں کوبھلاتے ہوئےنئے دورکا آغازکردیا

    استنبول:ترکی اورسعودی عرب نے پُرانی تلخیوں کوبھلاتے ہوئےنئے دورکا آغازکردیا،اطلاعات کےمطابق ترکی دورے پرگئے ہوئے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان دونوں ملکوں نے صحافی جمال خاشقجی کی قتل سے پیدا ہونے والی پرانی تلخیوں کو بھلا کر "باہمی تعاون کا ایک نیا دور” شروع کرنے کا عہد کیا۔اور یہ بھی عہد کیاکہ دونوں ملک ایک دوسرے کے ساتھ ملکر باہمی معاملات کوحل کریں گے

    مشن کشمیر،سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصرکی ترکی،سعودی عرب اورروسی ہم منصبوں سے الگ الگ

    اس حوالے سے عالمی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ استنبول میں سعودی سفارت خانے میں سن 2018 میں صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے بعد ولی عہد محمد بن سلمان کا ترکی کا یہ پہلا دورہ تھا جس میں محمد بن سلمان نے ترک صدر رجب طیب ایردوآن کے ساتھ تقریباً دو گھنٹے تک بات چیت کی۔

    سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اور ترک صدر رجب طیب اردوان کے درمیان ہونے والے اہم گفتگو کے بعد ایک مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے،”باہمی تعلقات بشمول سیاسی، اقتصادی، فوجی، سکیورٹی اور ثقافتی تعلقات میں تعاون کا ایک نیا دور شروع کرنے کے مستحکم عزم کا عہد کیا گیا۔”

    مشترکہ اعلامیہ میں کہاگیاہے کہ دونوں ملکوں نے تجارت کو فروغ دینے اور سرمایہ کاری میں اضافہ کرنے نیز مختلف شعبوں میں شراکت داری کے امکانات پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ دونوں ملکوں نے کہا کہ اگلے دس برسوں کو تعاون کے ایک نئے دور کے طور پر لیا جائے گا۔اس مشترکہ اعلامیے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ دونوں رہنماوں نے علاقائی اورعالمی مسائل کے حوالے سے اہم مسائل پر ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگی کے لیے دو طرفہ تبادلہ خیال کو فعال بنانے سے بھی اتفاق کیا تاکہ "خطے میں سلامتی اور استحکام کی حمایت کی جاسکے اور تمام مسائل کے سیاسی حل میں مدد مل سکے۔”

    یاد رہے کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اپنے سہ ملکی دورے کے آخری مرحلے پر بدھ کے روز ترکی پہنچے تھے۔ اس سے قبل وہ مصر اور اردن بھی گئے تھے۔ انقرہ پہنچنے پر ان کا شاندار روایتی استقبال کیا گیا۔ وہ اپنا دورہ مکمل کرکے وطن واپس لوٹ آئے ہیں۔ محمد بن سلمان نے ان تینوں ملکوں کا دورہ ایسے وقت کیا جب امریکی صدر جو بائیڈن اگلے ماہ سعودی عرب آنے والے ہیں۔

    سعودی عرب اور ترکی ایک ہونے جارہے ، اہل اسلام کے لیے خوشی کی خبر

    ترکی اور سعودی عرب کے تعلقات میں کشیدگی تقریباً دس برس قبل اس وقت شروع ہوئی تھی جب مصر میں عبدالفتح السیسی سن 2013 میں اخوان المسلمون کے رہنما محمد مرسی کی حکومت کو برطرف کرکے خود صدر بن گئے تھے۔ ترکی نے عبد الفتح السیسی کواس وقت صدر تسلیم کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

    گستاخانہ خاکے، فرانس کے خلاف ردعمل میں سعودی عرب کی پاکستان اور ترکی کے موقف کی

    رجب طیب ایردوآن نے سعودی عرب سےاپنےتعلقات کو ایک بار پھر بحال کرنےکا فیصلہ کیا ہے کیوں کہ اس وقت ترکی کو شدید اقتصادی مسائل کا سامناہےجبکہ اس کی تجارت میں سعودی عرب کا ایک بڑاحصہ ہے۔ایردوآن نے رواں برس اپریل کے اواخر میں سعودی عرب کا دورہ بھی کیا تھا۔ اس دوران ولی عہد محمد بن سلمان کےساتھ ان کےمعانقے کی تصویر وائرل ہوگئی تھی۔

    یوریشیا گروپ کی مشرق وسطیٰ ریسرچ ٹیم کےسربراہ ایہم کامل کا کہنا ہےکہ بائیڈن کےسعودی عرب کےدورے سے قبل ولی عہد کا تین ملکوں کایہ دورہ ریاض کے”علاقائی کردار کومستحکم کرنے اورمفاہمت کی کوششوں کو توسیع کرنے”کا حصہ ہے۔

     

    انہوں نے کہا کہ اس سے مصر اور ترکی کے درمیان ثالثی کرنے میں بھی مدد ملے گی جو سابق صدر مرسی کی معزولی کے بعد سے تعلقات میں پیدا ہونے والی کشیدگی کو دور کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔

  • شاہ رخ خان نے براہمسٹرا کی پرموشن سے کر لی معذرت

    شاہ رخ خان نے براہمسٹرا کی پرموشن سے کر لی معذرت

    کرن جوہر کی فلم براہمسٹرا جس کا ٹریلر گزشتہ دنوں ریلیز کیا جا چکا ہے شائقین ٹریلر دیکھ کر شائقین کافی پرجوش ہیں ۔فلم کی کاسٹ میں امیتابھ بچن ،ناگ ارجن ،عالیہ بھٹ ،رنبیر کپور اور مونی رائے و دیگر شامل ہیں۔شاہ رخ خان اس فلم میں ایک اہم کردار کہانی کے ایک اہم موڑ پر نبھاتے ہوئے نظر آئیں گے ۔فلم کا ٹریلر دیکھیں تو شاہ ر خ خان کی ایک جھلک بھی اس میں دکھائی نہیں دی۔کہا جا رہا کہ فلم کے پرڈیوسرز نے فلم کی بھرپور پرموشن مختلف انداز سے کرنے کا ارادہ کر رکھا ہے انکا خیال ہے کہ شاہ رخ خان کافی عرصے سے کسی فلم کی پرموشن میں نظر نہیں آئے اگر وہ ایسا کرتے ہیں تو بہت اچھا ہو گا لیکن شاہ رخ خان نے بہت ہی مودبانہ انداز میں فلم کی پروموشن سے معذرت کرلی ہے.

    شاہ رخ خان جانتے ہیں کہ یہ فلم ،فلم میکرز کے لئے کتنی اہمیت کی حامل ہے اور انہوں نے بین الاقوامی معیار کی بنانے کے لئے ہر طرح کی کوشش کی ہے لیکن شاہ رخ خان کا ماننا ہے کہ جو فلم کی پرموشن کررہے ہیںوہ کافی ہیں ۔کہا جا رہا ہے کہ فلم کے پرڈیوسر کرن جوہر اور ڈائریکٹر آیان مکھر جی نے شاہ رخ خان کے ساتھ مکمل اتفاق کرتے ہوئے فیصلہ کیا ہے کہ وہ خود ہی فلم کی پرموش کےلئے جائیں گے ۔براہمسٹرا نو ستمبر کو ریلیز کی جا رہی ہے جبکہ شاہ رخ خان کی فلم پٹھان ری پبلک ڈے پر اگلے سال ریلیز کی جائیگی۔