Baaghi TV

Author: +9251

  • ضلع ایسٹ پولیس کی کارروائی ، دو منشیات فروشوں سمیت ایک موٹر سائیکل لفٹر گرفتار

    ضلع ایسٹ پولیس کی کارروائی ، دو منشیات فروشوں سمیت ایک موٹر سائیکل لفٹر گرفتار

    کراچی : ضلع ایسٹ پولیس کی کارروائی ، دو منشیات فروشوں سمیت ایک موٹر سائیکل لفٹر گرفتار

    ذرائع کے مطابق ضلع ایسٹ پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے دومبینہ منشیات فروش سمیت ایک موٹر سائیکل لفٹر کو گرفتار کرکے ان کے قبضے سے بڑی مقدار میں چرس اورایک موٹر سائیکل برآمد کرلی۔

    ترجمان ایس ایس پی ضلع ایسٹ پولیس کے جمعہ کو جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق گرفتار ملزمان میں شاکر ولد غلام ، محمد فاروق ولد محمد کالو اورپانوس ولد طارق مسیح شامل ہیں۔پولیس نے ملزمان کو تھانہ عزیز بھٹی ، سولجربازار اور گلشن اقبال کی حدود سے گرفتار کرکے ان کے قبضے سے 2 کلوچرس اور ایک موٹر سائیکل برآمد کرلی ہے۔گرفتار ملزمان کراچی کے مختلف علاقوں میں منشیات فروخت کیا کرتے تھے۔پولیس نے ملزمان کے خلاف مقدمات درج کرکے مزید تفتیش کا آغاز کردیا ہے

  • بھارتی سفیر کو پاکستان سے بے دخل کیا جائے : حافظ نعیم الرحمن

    بھارتی سفیر کو پاکستان سے بے دخل کیا جائے : حافظ نعیم الرحمن

    کراچی : امیرجماعت اسلامی پاکستان سراج الحق کی اپیل پربھارت میں حکمران پارٹی بی جے پی کے متعصب ہندوںرہنماؤں کی جانب سے نبی کریم ؐ کی شان میں گستاخی کے خلاف شہر بھر میں مختلف مساجد کے باہر مظاہرے ہوئے جن سے جماعت اسلامی کراچی کے نائب امراء ودیگر ذمہ داران کے علاوہ بلدیاتی انتخابات میں نامزد چیئرمینز و وائس چیئرمینزنے خطاب کیا۔

    میمن مسجد بولٹن مارکیٹ پراحتجاجی مظاہرے سے امیرجماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن ، امیر ضلع جنوبی و رکن سندھ اسمبلی سید عبد الرشید ودیگر نے بھی خطاب کیا۔
    مظاہرے کے شرکاء نے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی اور مسلم دشمن بی جے پی کے خلاف زبردست نعرے لگائے اور پاکستان سے بھارتی سفیر کو بے دخل کرنے کا مطالبہ کیا ۔

    شرکاء نے بینرز اور پلے کارڈز اٹھائے ہوئے تھے جن پر بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی اور ہندو شر پسند لیڈروں کے خلاف نعرے درج تھے ۔

    نعروں میں نعرہ تکبیر اللہ اکبر ، غلامی رسول ؐ میں موت بھی قبول ہے ، حرمت رسول ؐپرجان بھی قربان ہے ،حکمرانو! شرم کرو ڈوب مرو،بھارتی مصنوعات کا بائیکاٹ کرو،حکمرانو! بھارت سے دوستی ختم کروشامل تھے ۔اس موقع پر سکریٹری اطلاعات زاہد عسکری ،جماعت اسلامی مینارٹی ونگ کراچی کے صدر یونس سوہن ایڈوکیٹ ، جنرل سکریٹری پرویز برکت ودیگر بھی موجود تھے ۔
    حافظ نعیم الرحمن نے کہاکہ نبی ؐ کی عزت و توقیر مسلمانوں کے لیے زندگی اور موت کامسئلہ ہے،گستاخِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف احتجاج ہمارے ایمان کا حصہ ہے ،ہمارا مطالبہ ہے کہ بھارتی سفیر کو پاکستان سے بے دخل کیا جائے،بھارتی مصنوعات کا مکمل بائیکاٹ کیا جائے،بی جے پی رہنماوں کے جانب سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کی شدید مذمت کرتے ہیں،بی جے پی پارٹی دہشت گردہندو تنظیم ہے،’’تحفظ ناموس رسالت ؐ‘‘ کے حوالے سے جلد ایک بڑا احتجاج کیا جائے گا ،جس میں حکمرانوں کو مجبور کیا جائے گا کہ بھارت سے ہر قسم کے تعلقات کو ختم کیا جائے۔
    ہندو ایک بزدل قوم ہے جو نبی ؐکی شان میں گستاخی کرتے ہیں،ہمارے حکمران بھارت کے خلاف پارلیمنٹ میں قرارداد بھی پاس نہیں کرواسکے،ہمارے ملک میںمعاشی بدحالی ہمارے حکمرانوں، وڈیروں اور جاگیرداروں کی وجہ سے ہوئی ہے،اس وقت پورے عالم عرب اور برصغیر کے مسلمان سراپا احتجاج ہیں۔سید عبد الرشید نے کہاکہ دنیا بھر کے مسلمان حرمت رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر جان دینے کے لیے تیار ہیں،ہندوستان کے اندر ہندو سرکار کی جانب سے ناموس رسالت کی شان میں ناپاک جسارت کی گئی،امت مسلمہ مودی سرکار کو یہ پیغام دینے چاہتی ہے کہ مسلمان جاگ رہے ہیں، نبی کی شان میں گستاخی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی،مودی سرکار نے اپنے ملک کی معیشت کو بچانے کے لیے شان رسالت میں گستاخی کی،ہم بتادینا چاہتے ہیں کہ گستاخ رسول کی صرف اور صرف ایک ہی سزا ہے،ہم حکومت پاکستان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ بھارتی مصنوعات کابائیکاٹ کیا جائے۔

  • شوبز شخصیات بھی عامر لیاقت کے انتقال پر افسردہ

    شوبز شخصیات بھی عامر لیاقت کے انتقال پر افسردہ

    کراچی : ایم این اے عامر لیاقت حسین کے انتقال پر شوبز شخصیات کی جانب سے بھی افسوس کا اظہار کیا گیا ہے۔
    معروف اداکار و میزبان فیصل قریشی نے اپنے ٹوئٹ میں لکھا کہ خدا حافظ عامر بھائی، بعدازاں اداکار نے یہ ٹوئٹ ڈیلیٹ کرکے دوسرا ٹوئٹ کیا۔اداکارہ ارمینہ خان نے اپنے سوشل میڈیا پیغام میں کہا کہ ہم ایسا منصوبہ بناتے ہیں جیسے ہم ہمیشہ زندہ رہنے والے ہیں لیکن ہمیں اگلے لمحے کا پتہ نہیں ہوتا۔
    انہوں نے عامر لیاقت کے انتقال کی خبر پر دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ زندگی ایک پل میں چھین لی جا سکتی ہے۔اداکارہ زارا نور عباس نے کہا کہ سوشل میڈیا لوگوں کو برباد کر سکتا ہے اور انہیں کھوکھلے پن میں ڈال سکتا ہے۔انہوں نے عامر لیاقت کے ناقدین کو کرارا جواب دیتے ہوئے کہا کہ اب ان کے اچانک انتقال پر سب حیران کیوں ہیں ۔

    زارا نور عباس نے سوالیہ انداز میں کہا کہ کیا عامر لیاقت کی حالیہ ویڈیوز اس طرف رہنمائی نہیں کرتی تھیں کہ ان کی حالت کیا ہے ۔

    فلمساز و ہدایت کار سید نور نے کہا کہ عامر لیاقت حسین کے انتقال پر بہت افسوس ہے۔اداکار و فلمساز میراج حق نے کہا کہ عامر لیاقت حسین کے انتقال کی خبر دل دہلا دینے والی ہے۔انہوں نے شدید غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کیا آپ عامر لیاقت کی لاش کی تصویریں شیئر کرنا بند کر سکتے ہیں کیا آپ میں انسانیت باقی ہے ۔

  • جو لوگ نبی رحمت ﷺ کے وفادار نہیں وہ کسی کے وفادار نہیں: شیخ رشید

    جو لوگ نبی رحمت ﷺ کے وفادار نہیں وہ کسی کے وفادار نہیں: شیخ رشید

    راولپنڈی :عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید نے کہا ہے کہ جو لوگ نبی کے وفادار نہیں وہ کسی کے وفادار نہیں۔تفصیلات کے مطابق شیخ رشید نے ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جو لوگ نبی کے وفادار نہیں وہ کسی کے وفادار نہیں، آج ہندوستان میں مسلمان کسم پرسی میں رہ رہا ہے، یاسین ملک کو دو بار عمر قید دی گئی ہے۔

    شیخ رشید کی ایک اور مقدمے میں ضمانت کی درخواست پر فیصلہ آ گیا

    سابق وزیرداخلہ شیخ رشید نے کہا کہ پاکستان میں چور دروازہ سے حکومت لائی گئی ہے، ایک ووٹ پر بنی ہوئی یہ امپورٹڈ حکومت مودی سے تعلقات چاہتے ہیں، 60 روپے پٹرول بڑھاتے ہیں، یہ لوگ منصوبہ بندی سے لائے گئے ہیں، لال حویلی اور عمران خان کا رشتہ رہے گا۔
    ان کا کہنا تھا کہ عمران خان جلد راولپنڈی سے ریلی لیڈ کریں گے، یہ حکومت پیر اوپر کرلے سر نیچے پھر بھی یہ حکومت چلنے والی نہیں، لال حویلی فوج سے ہمیشہ رشتہ رکھے گی، دیکھیں یہ کیا ہو رہا ہے، ان لوگوں نے مقصود چپراسی کو مروا دیا۔

    نگران وزیراعظم کے لیے انٹرویو شروع ہوچکے ہیں ،شیخ رشید کا دعویٰ

    شیخ رشید نے کہا کہ یہ لوگ نیب، ایف آئی اے میں کسی درست کر رہے ہیں، اے این ایف کے پراسیکیوٹر پر دباؤ ڈال رہے ہیں، خط میں عدم اعتماد کے ساتھ عمران خان کا ذکر ہے،کہا گیا عمران خان کو نہ ہٹایا تو نہیں چھوڑیں گے، ہمارا مطالبہ ہے کہ ملک میں الیکشن کرائیں۔انہوں نے کہا کہ اگر جلد الیکشن نہ ہوا تو ملک میں خانہ جنگی کے حالات ہوجائیں گے، ملک میں غریب کو مار دیا گیا ہے، تنخواہ بڑھانے سے غریب کا مسئلہ حل نہیں ہوگا، وزیر داخلہ کے بارے میں 22 قتل کی بات کی گئی۔

    شیخ رشید کی ایک اور مقدمے میں ضمانت کی درخواست پر فیصلہ آ گیا

    ان کا کہنا تھا کہ منشیات فروشی والے فرد جرم سے بھاگنے والے اے این ایف کو مجبور کریں گے، رات کو وزیر اعظم بن جاتے ہیں صبح فرد جرم لگنی ہوتی ہے، اللہ ہمارے ساتھ ہے دل کے حال جانتا ہے، یہ 45 دن سیاست کے لیے بہت اہم ہے، ایسا نہ ہو کہ ملک کسی مسئلے میں پھنس جائے۔

  • آل پاکستان مسلم لیگ نے سابق صدر پرویز مشرف کے انتقال کی تردید کر دی

    آل پاکستان مسلم لیگ نے سابق صدر پرویز مشرف کے انتقال کی تردید کر دی

    کراچی : آل پاکستان مسلم لیگ نے سابق صدر پرویز مشرف کے انتقال کی تردید کر دی۔

    سوشل میڈیا پر سابق صدر پرویز مشرف کے انتقال خبریں چل رہی ہیں، کہا جا رہا ہے کہ وہ دبئی میں انتقال کر گئے ہیں جس پر اب پارٹی کا موقف بھی سامنے آیا ہے۔صدر آل پاکستان مسلم لیگ اوور سیز پاکستانیز افضال صدیق نے تمام خبروں کی تدید کرتے ہوئے کہا کہ سابق صدر تندرست اور اپنے گھر میں موجود ہیں۔

    افضال صدیقی کا کہنا تھا کہ پرویز مشرف کے چاہنے والوں سے درخواست ہے کہ وہ اس طرح کی خبروں پر یقین نہ کریں اور سابق صدر کی صحت کے لیے دعا کریں۔جبکہ اس حوالے سے پرویز مشرف کے خاندانی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس وقت پرویز مشرف کی طبعیت ناساز ہے جس کے باعث ڈاکٹر کی جانب سے ان کے اہلخانہ کو بھی بلایا گیا۔

    جب کہ ڈاکٹرز کا پرویز مشرف کی صحت کے حوالے سے کہنا ہے کہ اگلے 24 گھنٹے بہت اہم ہیں۔

    پرویز مشرف کی صحت کے پیش نظرِ ان کے خاندان کے لوگ بھی دبئی روانہ ہو گئے ہیں۔سابق صدر پرویز مشرف دبئی کے اسپتال میں زیر علاج ہیں، وہ طویل عرصہ سے دبئی میں ہی مقیم ہیں۔پرویز مشرف کے آفیشل ٹویٹر اکاؤنٹ سے ان کے اہلخانہ کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ وہ وینٹی لیٹر پرنہیں ہیں،وہ اپنی بیماری کی پیچیدگی کی وجہ سے پچھلے 3 ہفتے سے اسپتال میں داخل ہیں،پرویز مشرف ایسے مرحلے سے گزر رہے ہیں جہاں صحتیابی کی طرف واپسی ممکن نہیں۔

  • وزارت صحت کے منصوبوں کے لئے 12650.997 ملین روپے کے فنڈز

    وزارت صحت کے منصوبوں کے لئے 12650.997 ملین روپے کے فنڈز

    مالی سال 23-2022 کے بجٹ میں سرکاری شعبہ کے ترقیاتی پروگرام کے تحت وزارت صحت کے لئے33جاری اور 9 نئے منصوبوں اور سکیموں کے لئے مجموعی طور پر 12650.997 ملین روپے مختص کرنے کی تجاویز دی گئی ہیں۔

    پی ایس ڈی پی کے اعداو شمار کے مطابق جاری منصبوں کے لئے مجموعی طور پر 10501.622 ملین روپے مختص کئے گئے ، جبکہ نئے منصوبوں کے لئے 2149.375 ملین روپے مختص کئے گئے۔جاری منصوبوں گلگت بلتستان کے کاندانی منصوبہ بندی و بنیادی صحت کے منصوبہ کے لئے 49 ملین روپے ،نرم ہسپتال اسلام آباد میں نئی مشینری اور آلات کی خریداری کے لئے 396.993 ملین روپے رکھے گئے ہیں۔

    جاری منصوبوں میں وزیراعظم صحت سہولت پروگرام کا نیشنل ہیلتھ انشورنس پروگرام فیز ٹو کا منصوبہ شامل ہے جس کے لئے جاری منصوبوں میں سب سے زیادہ رقم 2100 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں۔اسی طرح متعدی امراض کی نگرانی اور تیاری کے نظام کے لئے 500 ملین روپے رکھے گئے ہیں۔

    راولپنڈی میں 200 بیڈ پر مشتمل گائنی کے پیچیدہ امراض کے علاج کے مرکز کی تعمیر کے لئے 800 ملین روپے مختص کئے گئے۔پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز ہسپتال میں ایمر جنسی اور شعبہ حادثات کے 200 بستروں پر مشتمل عمارت کی تعمیر کے لئے بھی 900 ملین روپے رکھے گئے ہیں ،اس طرح اسلام آباد میں 4 بنیادی صحت کے مراکز کی تعمیر کے لئے 162.992 ملین روپے ،جناح ہسپتال اسلام آباد ( فیڈرل گورنمنٹ پولی کلینک فیز ٹو جی الیون تھری اسلام آباد کی فیزبلٹی کے لیے 1500 ملین روپے مختص کئے گئے۔

    بری امام کمیونٹی ہیلتھ سینٹر کی تعمیر کے لئے 168 ملین روپے، زچہ بچہ سینٹر گھوڑا شاہان ہمک کی تعمیر کے لئے 182.868 ملین روپے رکھے گئے ہیں۔ متعدی امراض کے تدارک کے نظام کو مستحکم بنانے کے لئے 169.599 ملین روپے رکھے گئے ہیں۔ نیشنل ایکشن پلان آف پاپولیشن کے لئے 250 ملین روپے مختص کئے گئے ہیں۔

    مجموعی طور پر نئی سکیموں کے لئے 2149.375 روپے مختص کئے گئے ہیں۔ نئی سکیموں میں نیشنل ہیلتھ سپورٹ پروگرام کیلئے 250 ملین، کامن مینجمنٹ یونٹ کو مزید بہتر بنانے کے لئے 500 ملین روپے مختص کئے گئے تاکہ ٹی بی، ایڈز اور ملیریا جیسی بیماریوں پر کنٹرول کیا جا سکے

  • عامر لیاقت حسین کی والدین کے پہلو میں تدفین کر دی گئی

    عامر لیاقت حسین کی والدین کے پہلو میں تدفین کر دی گئی

    کراچی :معروف اینکر عامر لیاقت حسین کو عبداللہ شاہ غازی کے مزارکے احاطے میں سپردخاک کردیا گیا۔عامر لیاقت کی نماز جنازہ ان کے صاحبزادے احمد عامر نے پڑھائی۔بعد ازاں عامر لیاقت کو عبداللہ شاہ غازی کے مزار کے احاطے میں سپردخاک کیا گیا۔

    ڈاکٹرعامر لیاقت حسین کی نماز جنازہ ادا کردی گئی ہے،تفصیلات کے مطابق معروف مذہبی اسکالر اور ایم این اے ڈاکٹرعامر لیاقت حسین کی نماز جنازہ میں پی ٹی آئی اراکین اسمبلی خرم شیرزمان ،علی جی جی اور شہزاد قریشی نے شرکت کی۔

    واضح رہے کہ معروف سیاست دان اور مذہبی اسکالر اور ایم این اے عامر لیاقت حسین جمعرات 9 جون کو کراچی میں انتقال کرگئے۔ عامر لیاقت حسین کو تشویشناک حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا تھا جہاں ڈاکٹرز نے معائنے کے بعد انتقال کی تصدیق کی، جبکہ ان کے ڈرائیور جاوید نے پہلے ہی موت کی تصدیق کردی تھی۔

    ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ عامر لیاقت حسین کو جب اسپتال لایا گیا تو وہ انتقال کر چکے تھے۔ڈرائیور جاوید کا کہنا تھا کہ گھر میں عامر لیاقت کے کمرے کا دروازہ کھٹکھٹایا گیا تاہم اندر سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

    عامر لیاقت حسین اپنے آبائی گھر خداداد کالونی میں موجود تھے، گھر پر موجود ملازمین دروازہ کھول کر اندر گئے تو وہ بے ہوش حالت میں بستر پر موجود تھےجس کے فوری بعد انہیں اسپتال منتقل کیا گیا۔

  • پاکستان میں فلم اور ڈراما انڈسٹری کے فروغ کے لیےبجٹ میں بڑی رقم مختص

    پاکستان میں فلم اور ڈراما انڈسٹری کے فروغ کے لیےبجٹ میں بڑی رقم مختص

    اسلام آباد:پاکستان میں فلم اور ڈراما انڈسٹری کے فروغ کے لیےبجٹ میں بڑی رقم مختص،اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت نے سال 2022 اور 2023 کا بجٹ پیش کرتے ہوئے ’بائنڈنگ فلم فنڈ‘ اور ’نیشنل فلم انسٹی ٹیوٹ‘ کے قیام کا اعلان کردیا۔

    وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے بجٹ پیش کرتے ہوئے شوبز انڈسٹری کے لیے مراعات کا اعلان کیا اور بتایا کہ حکومت فنکاروں کے لیے ’میڈیکل انشورنس پالیسی‘ کو متعارف کرانے جا رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ سالانہ ایک ارب روپے فنڈ کے ساتھ ’بائنڈنگ فلم فنڈ‘ کے قیام عمل میں لایا جائے گا جب کہ ایک ارب روپے کی لاگت سے ’نیشنل فلم انسٹی ٹیوٹ، نیشنل فلم اسٹوڈیو اور پوسٹ پروڈکشن فیسلٹی سینٹر‘ کا قیام عمل میں لایا جا رہا ہے۔

    وفاقی بجٹ پیش،تنخواہوں میں اضافہ،لگثرری گاڑیوں پر ٹیکس

    انہوں نے پروڈیوسرز اور سینما مالکان کو ٹیکس چھوٹ کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ سینما ہالز، فلم میوزیم اور پروڈکشن ہاؤسز بنانے والے افراد کو بھی پانچ سال کی انکم ٹیکس چھوٹ دی جا رہی ہے۔متفاح اسماعیل نے بجٹ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ غیر ملکی فلم سازوں کو مشترکہ منصوبوں کے تحت پاکستان میں 70 فیصد شوٹنگ کا پابند کیا جائے گا، تاکہ ملکی سیاحت و صنعت کو فروغ دیا جا سکے۔انہوں نے ڈسٹری بیوٹرز اور پروڈیوسرز پر عائد 8 فیصد ود ہولڈنگ ٹیکس کو بھی ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے فلم و ڈراما کی پروڈکشن کے آلات کی خریداری پر بھی پانچ سال تک کی کسٹم ڈیوٹی کی معافی کا اعلان کیا۔

    وفاقی کابینہ کا اجلاس، سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 15 فیصد اضافے کی منظوری

    مفتاح اسماعیل نے کہا کہ کسٹم ایکٹ 1969 اور فنانس بل 2018 میں ترمیم کرتے ہوئے فلم و ڈراما پروڈکشن کے آلات منگوانے پر سیلز ٹیکس صفر کرکے انٹرٹینمنٹ ڈیوٹی کو بھی ختم کیا جا رہا ہے۔

    مفتاح اسمٰعیل خوش نصیب وزیرخزانہ:پہلی باربجٹ پیش کرنے کا عمل پرسکون رہا

    حکومت کی جانب سے بجٹ میں فلم و ڈراما انڈسٹری کے لیے مراعات کے اعلان سے چند دن قبل پاکستان ٹیلی وژن میں فلم ڈویژن کا افتتاح بھی کیا گیا تھا جب کہ ’پاک فلکس‘ نامی اسٹریمنگ ویب سائٹ بنانے کا اعلان بھی کیا گیا تھا، جہاں پر پی ٹی وی کے مواد کو آن لائن دکھایا جائے گا۔

  • وفاقی وزارتوں کے ترقیاتی منصوبوں کیلئےساڑھے 5 کھرب روپے سے زائد  فنڈز

    وفاقی وزارتوں کے ترقیاتی منصوبوں کیلئےساڑھے 5 کھرب روپے سے زائد فنڈز

    نئے مالی سال کے وفاقی بجٹ میں وفاقی حکومت کے سالانہ ترقیاتی پروگرام(پی ایس ڈی پی) کے تحت وفاقی وزارتوں ،ڈویژنز،کارپوریشنز ، سرکاری ونجی شعبہ کے اشتراک کیلئے وائبلیٹی گیپ فنڈ اورصوبائی پی ایس ڈی پیز کامجموعی حجم 2263000 ملین روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے.

    سرکاری شعبہ کے سالانہ ترقیاتی پروگرام (پی ایس ڈی پی) میں وفاقی وزارتوں کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے مجموعی طورپر5 کھرب، 64 ارب، 96 کروڑ، 33 لاکھ 60 ہزارروپے کے فنڈز مختص کرنے کی تجویز ہے جس میں 16 ارب، 72 کروڑ، 65 لاکھ 73 روپے کی غیرملکی امدادشامل ہیں، سرکاری کارپوریشنز کی ترقیاتی منصوبوں کیلئے 161536.664 ملین روپے ، جس میں 43273.42 ملین روپے کی غیرملکی امدادشامل ہیں، کے فنڈز مختص کرنے کی تجویزہے، مجموعی وفاقی پی ایس ڈی پی کے تحت 727000 ملین روپے کے فنڈزمختص کرنے کی تجویزہے۔

    سرکاری ونجی شعبہ کے اشتراک کیلئے فائبلیٹی گیپ فنڈ کی مدمیں 73000 ملین روپے کے فنڈزمختص کئے گئے ہیں۔ صوبائی پی ایس ڈی پی کامجموعی حجم 1463000 ملین روپے ہے، وفاقی وزارتوں ،ڈویژنز،کارپوریشنز ، سرکاری ونجی شعبہ کے اشتراک کیلئیوائبلیٹی گیپ فنڈ اورصوبائی پی ایس ڈی پیز کامجموعی حجم 2263000 روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔پی ایس ڈی پی 2022-23 کے تحت شہری ہوابازی ڈویژن کے منصوبوں کیلئے 2484.8 ملین روپے

    ، سرمایہ کاری بورڈکیلئے 807.5 ملین روپے، کابینہ ڈویژن کیلئے 70058.8 ملین روپے، موسماتی تبدیلی ڈویژن کیلئے 9600 ملین روپے، وزارت تجارت کیلئے 1174.4 ملین روپے، مواصلات 180 ملین روپے، ڈیفنس ڈویژن 2232 ملین روپے، دفاعی پیداوارڈویژن 2200 ملین روپے، ایسٹبلشمنٹ ڈویژن 900 ملین روپے، وفاقی تعلیم وپیشہ وارانہ تربیت 7239.5 ملین روپے، خزانہ ڈویژن کیلئے 1659.9 ملین روپے، صوبوں وخصوصی علاقہ جات 135855.6 ملین روپے،

    آزادکشمیروگلگت بلتستان کیلئے 52644.7 ملین روپے، ضم شدہ اضلاع (خیبرپختونخوا) 50200 ملین روپے، صوبائی منصوبوں کیلئے 33010.8 ملین روپے، ہائیرایجوکیشن کمیشن کیلئے 44178 ملین روپے، ہاوسنگ اینڈورکس ڈویژن 13985.2 ملین روپے، انسانی حقوق ڈویژن 184.6 ملین روپے، صنعت وپیداوارڈویژن کیلئے 2850 ملین روپے، انفارمیشن وبراڈکاسٹنگ ڈویژن 2100 ملین روپے، انفارمیشن ٹیکنالوجی وٹیلی کام ڈویژن 6330.6 ملین روپے،

    بین الصوبائی رابطہ ڈویژن کیلئے 3472.4 ملین روپے، داخلہ ڈویژن کیلئے 9093 ملین روپے، قانون وانصاف ڈویژن 1813.8 ملین روپے، میری ٹائم افئیرز 3465.3 ملین روپے، نیشنل فوڈ سیکورٹی ریسرچ ڈویژن 10129.1 ملین روپے، نارکوٹکس کنٹرول ڈویژن 207.9 ملین روپے، نیشنل ہیلتھ سروس ریگولیشنز 12650.9 ملین روپے، قومی ادبی ورثہ ڈویژن 550 ملین روپے، پاکستان اٹامک انرجی کمیشن 25990.6 ملین روپے،پاکستان نیوکلئیرریگولیٹری اتھارٹی 289.8 ملین روپے،

    پیٹرولئیم ڈویژن کیلئے 1480.5 ملین روپے، منصوبہ بندی ترقی ڈویژن 42176.5 ملین روپے، تخفیف غربت ڈویژن 500 ملین روپے، ریلویز ڈویژن کیلئے 32648 ملین روپے، مذہبی امورڈویژن 600 ملین روپے، ریونیوڈویژن 3188.6 ملین روپے، سائنس وٹیکنالوجی ڈویژن 5716.3 ملین روپے، سپارکو 7395 ملین روپے، آبی وسائل ڈویژن 99572.4 ملین روپے، نیشنل ہائی ویز اتھارٹی کیلئے 118403.4 ملین روپے اورپاورڈویژن کیلئے 43133.2 ملین روپے ، ایرا کیلئے 500 ملین روپے ، کے فنڈز مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

    وائبلیٹی گیپ فنڈ کیلئے 73000 ملین روپے اورصوبوں کیلئے 1463000 ملین روپے کے فنڈز مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ ایس ڈی پی میں 171 جاری اور902 نئے منصوبوں کوشامل کیاگیاہے جس کا تناسب 89:11 بنتاہے۔ 80 فیصداخراجات کی تکمیل کے حامل منصوبوں کو جون 2023 تک مکمل کیاجائیگا،جدیدبنیادی ڈھانچہ کی تعمیراورغیرملکی سرمایہ کاری کوراغب کرنے کیلئے کل پی ایس ڈی پی کا 55 فیصد مختص کیاگیاہے۔

    پانی کے شعبہ کی ترقی کیلئے 83 ارب روپے اور توانائی کے شعبہ کیلئے 84 ارب روپے مختص کرنے کی تجویزہے،نئے مالی سال کیلئے سالانہ ترقیاتی پروگرام میں سماجی شعبہ، صحت وبہبودآبادی کیلئے 23 ارب روپے اورہزاریہ اہداف کے حصول کیلئے 60 ارب روپے مختص کرنے کی تجاویزدی گئی ہے۔ نئے مالی سال 2022 کیلئے پی ایس ڈی پی کی تشکیل میں جامعیت اور تمام متعلقہ شراکت داروں سے مشاورتی طریقہ کار کو اپناتے ہوئے جاری اقتصادی صورتحال اورمالیاتی رکاوٹوں کے منطرنامہ میں مساویانہ ترقی کو یقینی بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔

    وزارت خزانہ نے نئے مالی سال کیلئے پی ایس ڈی پی کی مد میں وفاقی وزارت منصوبہ بندی کو ابتدائی طورپرانڈیکٹیوبجٹ سیلینگ (آئی بی سی) کے تحت 500 ارب روپے مختص کرنے سے مطلع کیا۔تاہم جاری منصوبوں پرعملی پیش رفت کی رفتارکوبرقراررکھنے کیلئے وزارت منصوبہ بندی نے وزارت خزانہ سے دوبارہ رابطہ کیا تاکہ پی ایس ڈی پی کے حجم کو800 ارب روپے تک بڑھایا جاسکے،

    وزارت منصوب بندی ترقی وخصوصی اقدامات کے مطابق نئے مالی سال کی پی ایس ڈی پی کی تشکیل میں چھ اعشاری تین ٹریلین روے کے تھروفاروڈ منصوبوں،بیرونی امدادسے چلنے والے منصوبوں کیلئے 250 ارب کی ڈیمانڈ،صوبائی طرز کے منصوبوں کی شمولیت، صوبائی نوعیت کے منصوبوں کی مالی معاونت کیلئے قومی اقتصادی کونسل کے رہنمااصول، منصوبوں پروقت اورلاگت کی نظرثانی، سالان ترقیاتی پروگرام کی تنزلی اوراس کے نتیجہ میں جاری منصوبوں کے حوالہ سے ڈی ڈی ڈبلیو پی سطح کے منصوبوں کیلئے اختیارکو60 ملین سے بڑھاکر2000 ملین کرنا نئے مالی سال کی پی ایس ڈی پی کی تشکیل میں اہم چیلنجزرہے

  • چھوٹے ریٹیلرز سے ٹیکس وصولی اب بجلی کے بلوں کیساتھ کی جائے گی

    چھوٹے ریٹیلرز سے ٹیکس وصولی اب بجلی کے بلوں کیساتھ کی جائے گی

    اسلام آباد:چھوٹے ریٹیلرز سے ٹیکس کی وصولی اب بجلی کے بلوں کے ساتھ کی جائے گی، بجٹ میں حکومت نے تجویز دے ڈالی۔

    بجٹ دستاویزات کے مطابق چھوٹے ریٹیلرز کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے فکسڈ انکم اور سیلز ٹیکس کا نظام تجویز کیا جارہا ہے، یہ ٹیکس 3 ہزار سے 10 ہزار روپے تک ہوگا۔

    اس کے علاوہ حکومت بڑے ریٹیلرز کے لیے پوائنٹ آف سیلز کے نظام میں مزید وسعت دے گی اور انعامی سکیم کو بھی جاری رکھا جائے گا، معیشت کو دستاویز کرنے کی خاطر نادرا اور ایف بی آر کے درمیان معلومات کے تبادلے کا نظام بہتر کیا جائے گا۔

    کس گاڑی پر کتنا ٹیکس ہوگا؟ ایف بی آر نے تجاویز پیش کردیں،اطلاعات کے مطابق فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے 1600 سی سی سے اوپر کی گاڑیوں پر ٹیکس دگنا کرنے کی تجویز دے دی۔

    ایف بی آر نے 850 سی سی تک گاڑیوں پر 10ہزار روپے ٹیکس عائد کرنے کی تجویز دی ہے جبکہ 851 سی سی سے 1000 سی سی تک گاڑیوں پر 20 ہزار روپے، 1001 سی سی سے 1300 سی سی تک گاڑیوں پر 25 ہزار روپے ٹیکس اور 1301 سی سی سے 1600 سی سی تک گاڑیوں پر 50 ہزار ٹیکس عائد کرنے کی تجویز شامل ہے۔

    1601 سی سی سے 1800سی سی تک گاڑیوں پر ڈیڑھ لاکھ روپے اور 1801 سی سی سے 2000 سی سی تک گاڑیوں پر دو لاکھ روپے ٹیکس عائد کرنے کی تجویز دی ہے۔

    2001 سی سی سے 2500 سی سی تک گاڑیوں پر 3 لاکھ روپے، 2501 سی سی سے 3000 سی سی تک گاڑیوں پر 4 لاکھ روپے اور 3000سی سی سے زائد گاڑیوں پر 5لاکھ روپے ٹیکس عائد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

    وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال 2022-23 کے بجٹ میں تنخواہ دارطبقے کیلئے ٹیکس سلیبز 12 سے کم کرکے 7 کردیے۔

    وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے قومی اسمبلی میں بجٹ پیش کیا اور انہوں نے تنخواہ دار طبقے کیلئے انکم ٹیکس کی حد 12لاکھ روپے مقرر کرنے کا اعلان کیا۔بجٹ تجویز کے مطابق 6 لاکھ روپے تک آمدن پر ٹیکس استثنیٰ ہوگا اور 6 لاکھ سے 12 لاکھ روپے تک تنخواہ پر 100 روپے ٹیکس ہوگا۔

    بجٹ میں 12 لاکھ سے 24 لاکھ روپے سالانہ آمدن پر 7 فیصد ٹیکس عائد کرنے کی تجویز ہے جبکہ 24 لاکھ سے 36 لاکھ آمدن تک 84 ہزار فکس رقم ادا کرنا ہوگی اور سلیبز پر 12.5 فیصد انکم ٹیکس الگ ٹیکس ہوگا۔

    بجٹ تجویز کے مطابق 36لاکھ سے 60 لاکھ روپے آمدن پر 2لاکھ 34 ہزار فکس رقم ادا کرنا ہوگی اور 17.5 فیصد الگ سے انکم ٹیکس ہوگا جبکہ 60 لاکھ سے ایک کروڑ 20 لاکھ آمدن پر 6 لاکھ 54 ہزار فکس رقم ادا کرنا ہوگی اور الگ سے 22.5 فیصد انکم ٹیکس دینا ہوگا۔

    بجٹ میں تجویز دی گئی ہے کہ ایک کروڑ 20 لاکھ روپے سے زائد آمدن پر 20 لاکھ 4 ہزار فکس رقم ادا کرنا ہوگی اور اس آمدن پر32.5 فیصد ٹیکس الگ سے ادا کرنا ہوگا۔مفتاح اسمٰعیل خوش نصیب وزیرخزانہ:پہلی باربجٹ پیش کرنے کا عمل پرسکون رہا:کوئی شورشرابابھی نہ ہوا،اطلاعات کے مطابق آج حکومت کی طرف سے سال 2022 اور 2023 کا سالانہ بجٹ پیش کیا گیا ہے اوراس بجٹ کی پیشی کا مثبت پہلو یہ ہےکہ اس کے پیش کیے جانے کے دوران بالکل خاموشی چھائی رہی

    وفاقی بجٹ پیش،تنخواہوں میں اضافہ،لگثرری گاڑیوں پر ٹیکس

    اسلام آباد کی فضائیں بڑی پُرسکون تھیں اوراسمبلی کے اندرجب مفتاح اسمعیل بجٹ پیش کررہے تھے توکسی کی طرف سے احتجاج ، شورشرابے یا مزاحمت کی کیفیت نہیں تھی بلکہ ہر طرف سے داد دی جاتی رہی،مفتاح اسمعیل بھی اس دوران بغیرکسی مزاحمت کے بجٹ پیش کرتے رہے

    یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ بجٹ جب پیش کیا جارہا تھا تو اس وقت حکومتی اراکین کے علاوہ اتحادی جماعتوں کے اراکین بھی یا تو خاموش رہے یا پھرمفتاح اسمٰعیل کو داد دینے کے لیے کبھی کبھارڈیسک بجا دیا کرتے تھے ، یوں مفتاح اسمٰعیل ایک خوش نصیب وزیرخزانہ ہیں جن کو اپوزیشن کی طرف سے کسی سخت ردم عمل یا مزاحمت کا سامنا نہیں کرنا پڑا

    وفاقی کابینہ کا اجلاس، سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 15 فیصد اضافے کی منظوری

    یاد رہے کہ آج وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسمٰعیل نے مالی سال 23-2022 کے لیے 95کھرب حجم کا بجٹ پیش کردیا۔اسپیکر راجا پرویز اشرف کی زیر صدارت قومی اسمبلی کے اجلاس میں وزیر خزانہ مفتاح اسمٰعیل نے بجٹ پیش کرنا شروع کیا۔تحریک انصاف کی جانب سے حسب معمول ایوان کی کارروائی کا بائیکاٹ کیا گیا اور اپوزیشن کی نشستیں خالی رہیں۔

    بجٹ 2022-23، وزیر خزانہ کی مکمل تقریر کا متن باغی ٹی وی پر

    بجٹ 2022،2023 میں اہم فیصلے کئے گئے جس کے مطابق :
    کل اخراجات کا تخمینہ 9ہزار 502 ارب روپے ہے۔
    قرضوں کی ادائیگی کی مد میں 3ہزار 144ارب روپے رکھے گئے ہیں۔
    پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام کے لیے 800ارب روپے رکھے گئے ہیں۔
    ملکی دفاع کے لیے ایک ہزار 523ارب روپے رکھے گئے ہیں۔
    سول انتظامیہ کے اخراجات کے لیے 550ارب روپے رکھے گئے ہیں۔
    پنشن کی مد میں 530ارب روپے رکھے گئے ہیں۔
    سبسڈیز کے لیے 699ارب روپے رکھے گئے ہیں۔
    گرانٹس کی مد میں ایک ہزار 242 ارب روپے کی رقم رکھی گئی ہے۔
    بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے لیے 364ارب روپے رکھے گئے ہیں۔
    ایک کروڑ طلبہ کو بے نظیر اسکالرشپ دی جائے گی۔
    تعلیم کے لیے 109ارب روپے بجٹ میں مختص کیے گئے ہیں۔
    کم از کم ایک لاکھ سے زائد ماہانہ تنخواہ پر ٹیکس ہو گا۔
    40ہزار ماہانہ سے کم آمدن والوں کو ماہانہ 2ہزار روپے دیے جائیں گے۔
    سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 15فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔
    1600سی سی اور اس سے زائد کی گاڑیوں پر ٹیکس میں اضافہ کیا گیا ہے۔
    سولر پینل کی درآمدات پر صفر سیلز ٹیکس عائد ہو گا۔
    ماحولیاتی تبدیلی کے لیے 10ارب روپے رکھے گئے ہیں۔
    وزیر خزانہ نے بجٹ تقریر کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ اس حکومت میں وفاق کی تمام اکائیوں کی نمائندگی ہے لہٰذا ملکی معیشت کے بارے میں کیے جانے والے فیصلوں کو قوم کی وسیع تر حمایت حاصل ہے۔