Baaghi TV

Author: +9251

  • چین میں ریسٹورنٹ کا پاکستانی مالک

    چین میں ریسٹورنٹ کا پاکستانی مالک

    نان ننگ(شِنہوا) کئی ماہ تک فوڈ ایپلیکشن کے کاروباری حلقے میں صف اول پر رہنا ریسٹورنٹ کے مالک محمد مبین اشرف کے لئے تفریح کے ساتھ خوشی کا باعث بھی تھا۔ انہوں نے چین کے جنوبی گوانگ شی ژوآنگ خوداختیار خطے میں اپنے کاروباری تجربہ سے بہت کچھ سیکھا ہے۔

    کراچی سے تعلق رکھنے والے مبین نے گوانگ شی کے صدر مقام نان ننگ میں اپنے دوستوں کے ساتھ اتفاقاً "برکہ ” کے نام کے پاکستانی طرز کا ریسٹورنٹ قائم کیا۔ اسے کھلے نصف برس ہوچکا ہے اور یہ اب بھی گاہگوں سے بھرا رہتا ہے۔

    مبین نے بتایا کہ وہ پہلی بار نان ننگ آئے تو انہیں آبائی شہر کے پکوان نہیں ملے، اور انہیں اس کا ذائقہ بہت یاد آتا تھا۔ "نان ننگ میں پاکستانی طرز کے ریسٹورنٹ بہت ہی کم ہیں۔ میرے دوست نے مجھے پاکستان طرز کا ریسٹورنٹ کھولنے کی ترغیب دی، جس سے نہ صرف میں خود کھاسکوں بلکہ چینی باشندوں کو بھی پاکستانی پکوانوں کے ذائقے سے روشناس کراسکوں”۔

    چینی قونصل جنرل کی حمزہ شہباز اور پرویز الہی سے الگ الگ ملاقات

    مبین شریک بانیوں میں سے ایک ہیں، اور وہ اپنے ایک پاکستانی اور ایک چینی دوست کے ساتھ ریسٹورنٹ چلارہے ہیں۔ لیو نے کہا کہ چینی دوست ریسٹورنٹ کھولنے اور اس کے آپریشن میں بہت معاونت کرتے اور اس سے فعال طور پر نمٹنے ہیں۔ مقامی افراد مقامی اقدار سے بخوبی واقف ہوتے ہیں، اس لئے رابطے بہت کارگر اور موثر ہوتے ہیں۔

    پکوان کا معیار بہتر بنانے اور مقامی ذائقے شامل کرنے کے لئے تینوں دوستوں نے پاکستانی باورچیوں کو بلانے کا فیصلہ کیا، تاکہ مہمانوں کے آرڈر کردہ تمام پکوان تیار ہوسکیں۔ پکوانوں کے زیادہ تر اجزاء پاکستان سے ہیں، جن میں چاول، کری پاؤڈر اور مصالحہ شامل ہیں۔
    برکہ اب پکوان ایپ کے قریبی کاروباری حلقے میں اول نمبر پر ہے جس سے مبین بہت خوش ہیں۔ ” ہمارا کھانا معیاری ہے یہی سبب ہے کہ ہم ہمیشہ اول درجے پر رہے اور میں اسے برقرار رکھنے کے لئے پرامید ہوں۔

     

    نان ننگ "بیلٹ اینڈ روڈ” کے اصل رابطوں میں ایک اہم گزرگاہ شہر کا درجہ رکھتا ہے، یہ مغرب میں نئی زمینی سمندر راہداری کے لئے ایک اہم رابطہ شہر ہے۔ یہاں سرحد پار تجارت تیزی سے فروغ پارہی ہے جس سے پاکستان سے خام مال خریدنا آسان ہوچکا ہے۔
    نوول کرونا وائرس وبا کے پھوٹنے کے باوجود مبین نے اپنا کاروبار بند نہیں کیا۔ ” میں نے چین کی معیشت کی لچک دیکھی اور کاروباری مواقع سے فائدہ اٹھانا چاہا ۔

    مبین نے کہا کہ ریسٹورنٹ میں پاکستانی چائے بہت مقبول ہے۔ چینی نوجوان خاص طور پر چائے کے شوقین ہیں۔ "چین میں چائے کا کاروبار ہرجگہ تیزی سے فروغ پارہا ہے”۔بہت سے لوگ ریسٹورنٹ میں پاکستانی چائے کا ذائقہ چکھتے اور تعریفوں کے پل باندھتے ہیں۔
    پکوان کی ترسیل کا آن لائن آرڈر لوگوں کے لئے ایک اہم طریقہ بن چکا ہے۔

    مبین کے خیال میں ترسیل کے مختلف ذرائع کے سبب ریسٹورنٹ اور صارفین دونوں کے لئے آسانیاں پیدا ہو گئی ہیں اور کھپت کے اس طریقہ کار سے ان کے ریسٹورنٹ نے فائدہ اٹھایا ہے۔ "میتوان یا ایلی می، پاکستان میں فوڈ پانڈا کی طرح، جیسے ترسیل کے ذرائع نے ریسٹورنٹ کو بہت کام دیا ہے”۔

    چینی جنگی طیارے ہمارے جنگی طیاروں کوہراساں کرتےہیں:کینیڈا

    اس کے علاوہ،مبین نے کہا کہ کئی لوگ ان کی ٹک ٹاک ویڈیو سے متوجہ ہوتے ہیں۔

    ریسٹورنٹ میں پاکستانی اور چینی عملہ کام کررہا ہے، اور وہ اکثر تفریح کے لئے بھی باہر جاتے ہیں ۔ایک دوسرے کے ساتھ گزرے لمحات کا ریکارڈ رکھنے کے لئے تینوں مالکان نے ٹک ٹاک پر ریسٹورنٹ کے نام سے ایک اکاؤنٹ بنانے کا فیصلہ کیا۔

    مبین نے بتایا کہ حیرت انگیز بات یہ تھی کہ بہت سے نیٹ صارفین کو ریسٹورنٹ کا پتہ چلا ۔ ٹک ٹاک کے شکر گزار ہیں کہ اس کی بدولت ریسٹورنٹ کی مقبولیت میں اضافہ ہوا، اور بہت سے نئے گاہگ آئے۔

    چین نے دوستی کا حق ادا کر دیا، پاکستان کا 2 ارب 30 کروڑ ڈالر قرض ری فنانس

    مبین نے کہا کہ اردو میں برکہ کے معنی بہت اچھا کے ہیں اور ہم اللہ سے کہتے ہیں کہ وہ ہمیں بہت سی برکہ دے تاکہ ریسٹورنٹ کا کاروبار اچھا رہے عملہ اور گاہک دونوں کو بہت سی خوشی ملے۔

  • روس یوکرین جنگ، یوکرینی فورسز کا اہم روسی جنرل کی ہلاکت کا دعویٰ

    روس یوکرین جنگ، یوکرینی فورسز کا اہم روسی جنرل کی ہلاکت کا دعویٰ

    یوکرین میں روس نواز علیحدگی پسندوں نے ایک روسی جنرل کی یوکرین میں جاری جنگ کے دوران ہلاکت کا دعویٰ کیا ہے۔

    غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق میجر جنرل رومان کوتوزو کی ہلاکت کی خبر اس سے قبل روس کے سرکاری چینل سے وابستہ ایک جنگی نامہ نگار نے دی تھی تاہم، اس کی تصدیق ماسکو نے ابھی تک سرکاری سطح پر نہیں کی ہے۔

    روس نے 61 امریکی شہریوں پرسفری پابندیوں کی تصدیق کردی

    یوکرین کے شہر ڈونٹسک میں یوکرین کے روس نواز علیحدگی پسندوں کے لیڈر ڈینس پوشلین کا کہنا ہے کہ میں جنرل رومان کوتوزو کے اہل خانہ اور دوستوں سے دلی تعزیت کا اظہار کرتا ہوں۔ کوتوزو نے اپنے عمل سے دکھایا کہ کس طرح وطن کی خدمت کی جاتی ہے۔

    روس کا میجر جنرل مشرقی یوکرین میں دوران لڑائی ہلاک

    یاد رہے، رواں برس 24 فروری کو جب روس نے اپنی افواج یوکرین بھیجیں تب اس وقت سے اب تک یوکرین کی فوج نے روس کے کئی فوجی افسران کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے تاہم روس نے اب تک کسی ہلاکت کی تصدیق نہیں کی ہے۔

    علاوہ ازیں، مارچ کے آخر میں سینکڑوں افراد یوکرین سے الگ ہونے والے خطے کریمیا میں روس کے بلیک سی فلیٹ کے ڈپٹی کمانڈر اندرئی پالی کی آخری رسومات میں شرکت کے لیے جمع ہوئے تھے جو کہ یوکرین کے ساحلی شہر ماریوپل میں لڑتے ہوئے ہلاک ہوگئے تھے۔اپریل میں روس کے شہر سینٹ پیٹرزبرگ میں میجر جنرل ولادیمیر فرولو کی آخری رسومات ادا کی گئی تھی۔ اس وقت مقامی حکام نے تصدیق کی تھی کہ وہ یوکرین میں ہلاک ہوگئے تھے۔

    روس افواج کوشہرسےنکال کربڑے صنعتی شہرکا کنٹرول دوبارہ حاصل کرلیا:یوکرین کا دعویٰ

  • کراچی کے مختلف علاقوں میں لوڈ شیڈنگ پر احتجاج

    کراچی کے مختلف علاقوں میں لوڈ شیڈنگ پر احتجاج

    کراچی کے مختلف علاقوں میں لوڈ شیڈنگ پر احتجاج:

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق کراچی کے شہر گلستان جوہر پرفیوم چوک کے نزدیک لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے احتجاج کیا گیا۔جس کی وجہ سے ٹریفک کی روانی متاثر ہوئی۔ اس علاقے میں رہنے والے لوگ بجلی جانے سے بہت تنگ آ کر مطالبہ کیا یہ کہ انہیں بجلی پانی اور گیس تینوں چیزیں فراہم کی جائیں۔

    اس کے ساتھ ساتھ شاہ فیصل کالونی 2 نمبر میں بھی لوشیڈنگ کے خلاف احتجاج کیا گیا ۔خواتین بچوں سمیت نیچے بیٹھ گئی اور احتجاج کرتی رہی جس کی وجہ سے روڈ پر موجود ٹریفک جام ہو گئی۔

    مزید یہ کہ گارڈن میں بھی رہنے والوں نے لوڈ شیڈنگ پر احتجاج کیا۔ یہاں پر بھی عورتوں اور بچوں نے خوب احتجاج کیا جس کی وجہ سے یہاں پر بھی ٹریفک جام ہو گئی۔

    خیال رہے کہ کراچی کو روشنیوں کا شہر کہا جاتا تھا اور اس شہر میں بہت صفائی بھی تھی یہ شہر اتنا خوب صورت تھا کہ لوگ یہاں پر سروسیاحت کرنے جاتے تھے ۔لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ گزشتہ چند برسوں سے کراچی کے حالات بہت خراب ہو چکے ہیں ۔اس شہر میں نہ تو پانی ہے پانی کی بہت تنگی ہے لوگوں کو اس حوالے سے بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اس کے ساتھ ساتھ گیس کی بھی بہت تنگی ہے۔اور لوڈ شیڈنگ کی طرف سے بھی عوام بہت تنگ ہے ۔آج اس حوالے سے کراچی کے مختلف علاقوں میں احتجاج بھی ہوا ۔جس کی وجہ سے روڈ پر ٹریفک جام ہو گئی۔

  • آئندہ 12 ماہ کے دوران پاکستان کو 41 ارب ڈالر کی ضرورت ہوگی:مفتاح اسمٰعیل

    آئندہ 12 ماہ کے دوران پاکستان کو 41 ارب ڈالر کی ضرورت ہوگی:مفتاح اسمٰعیل

    وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسمٰعیل نے کہا ہے کہ آئندہ 12 ماہ کے دوران ملک کو 41 ارب ڈالر کی ضرورت ہوگی اور یقین ہے کہ حکومت اس ضرورت کو پورا کرنے میں کامیاب ہوجائے گی۔اسلام آباد میں بزنس کانفرس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ مفتاح اسمٰعیل نے کہا کہ جب میں نے وزیر خزانہ بننے سے قبل بریفنگ لی تھی اس وقت ہمارا بجٹ خسارہ 5 ہزار 600 ارب روپے تھا جسے ہم کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    شوکت ترین کا مفتاح اسمٰعیل کوجواب اہمیت اختیارکرگیا

    ان کا کہنا تھا کہ ہماری حکومت کے 5 سال میں اوسطاً خسارہ ایک ہزار 600 تھا، اگلے سال پاکستان تحریک انصاف کی حکومت میں جو خسارہ آیا وہ جی ڈی پی کا 9.1 فیصد ہے، آئی ایم ایف سے کیے گئے معاہدے میں یہ کہا گیا تھا کہ ہم پرائمری خسارہ 25 ارب روپے کا کریں گے۔

    انہوں نے کہا کہ ہم آئے تو ہمیں یہ بتایا گیا کہ متوقع خسارہ ایک ہزار 332 ارب روپے ہے، اس خسارے کی وجہ سےقرضوں میں اضافہ ہوا، مسلم لیگ (ن) کے دور میں اوسطاً قرضہ 2 ہزار 132 ارب قرض تھا، جبکہ پی ٹی آئی نے 5 ہزار 170 ارب روپے کا قرضہ لیا ہے۔

    مفتاح اسمٰعیل کا شکوہ اورحماد اظہرکا جواب شکوہ:الزمات کے موقع پرہی جوابات

    مالی سال 2022-2023 کا وفاقی بجٹ 10 جون کو قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔اس ضمن میں جاری نوٹی فکیشن کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے وفاقی بجٹ قومی اسمبلی میں پیش کرنے کی منظوری دے دی ہے۔

    ذرائع کے مطابق بجٹ میں ٹیکس آمدن کا ہدف 7225 ارب روپے جب کہ ترقیاتی بجٹ کا حجم 700 سے 900 ارب روپے رکھے جانے کا امکان ہے۔خیال رہے کہ چند روز قبل وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا تھا کہ حکومت عوام اور کاروبار دوست بجٹ پیش کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

    صدر ایف پی سی سی آئی سے ملاقات کے موقع پر مفتاح اسماعیل نے کہا کہ میکرو اکنامک استحکام موجودہ حکومت کی اولین فکر ہے، حکومت مالیاتی نظم و ضبط یقینی بنانے کی راہ پر گامزن ہے.

    مفتاح اسمٰعیل کی امریکہ میں وائرل ہونے والی ویڈیواہمیت اختیارکرگئی

    مزید برآں صدر ایف پی سی سی آئی نے وفاقی بجٹ 2022-23 کے لیے تجاویز پیش کیں اور وزیر خزانہ کو تاجر برادری کو درپیش ٹیکس سے متعلق مسائل سے بھی آگاہ کیا۔

    وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے معاشی صورتحال پر بھی روشنی ڈالی اور معیشت کی بہتری کیلئے ایف پی سی سی آئی کے اراکین کی بجٹ تجاویز کو سراہا۔انہوں نے کہا کہ حکومت عوام اور کاروبار دوست بجٹ پیش کرنے کا ارادہ رکھتی ہے، تمام اسٹیک ہولڈرز کی تجاویز پر غور کیا جائے گا۔

  • دعا زہرا کی عمر کیا ہے؟رپورٹ میں تہلکہ خیزانکشاف

    دعا زہرا کی عمر کیا ہے؟رپورٹ میں تہلکہ خیزانکشاف

    کراچی سے لاپتادعا زہرا کی عمرکا تعین کر لیا گیا ہے۔دعا زہرا کی عمر 16 سال سے کم ہے، عمرکے تعین کا ٹیسٹ سول اسپتال کراچی میں کیا گیا، رپورٹ کل صبح پولیس کو باقاعدہ طور پر موصول ہوگی۔ سندھ ہائی کورٹ نے دعا زہرا کی عمرکے تعین کے لیے ٹیسٹ کرانےکا حکم دیا تھا۔

     

    والدین سے نہیں ملنا چاہتی،دعا زہرہ کا عدالت میں والد کے سامنے بیان

    عدالت نے دعا زہرہ کی عمر کا تعین کرنے کا اس وقت حکم دیا تھا جب لڑکی نے 18 سال کا ہونے کا دعویٰ کیا۔ دعا زہرہ نے جب سندھ ہائیکورٹ میں پیشی کے موقع پر کہا تھا کہ اس نے اپنی مرضی سے شادی کی ہے۔

    عدالت عالیہ نے فیصلہ دیا کہ وہ حتمی فیصلہ کرنے سے پہلے زہرہ کی عمر کا تعین کرے گی۔

    دعا زہرہ رواں سال اپریل میں شاہ فیصل کالونی، گولڈ ٹاؤن کے علاقے سے لاپتہ ہوگئی تھی۔ دعا کے والد سید مہدی علی کاظمی کی جانب سے سوشل میڈیا پر لوگوں سے اپنی بیٹی کو تلاش کرنے میں مدد دینے کیلئے پوسٹ کی گئی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد لڑکی کی گمشدگی کا واقعہ خبروں کی زینت بنا۔

    دعا زہرہ نے بھی متعدد ویڈیو پیغامات جاری کئے جس میں اس کا کہنا تھا کہ اس نے ظہیر سے شادی کیلئے اپنی مرضی سے والدین کا گھر چھوڑا، اس نے اپنے والدین کی جانب سے بتائی گئی عمر کے برعکس دعویٰ کیا تھا کہ وہ شادی کی قانونی عمر کو پہنچ چکی تھی۔

    دعا زہرہ بہاولنگر کی تحصیل چشتیاں سے بازیاب

    جب بھی عدالت ایس او پیز کے مطابق عمر کے تعین کا حکم دیتی ہے، پولیس سرجن ایک میڈیکل بورڈ تشکیل دیتا ہے۔ پولیس سرجن کی نگرانی میں عمر کی تشخیص کیلئے میڈیکل بورڈ تشکیل دیا جاتا ہے جس کے ممبران میں ریڈیولوجسٹ اور ایگزامننگ میڈیکولیگل آفیسر بھی شامل ہوتے ہیں۔

    دعا زہرہ کی عمر کے تعین کے معاملے میں میڈیکل بورڈ تشکیل نہیں دیا گیا، سب سے جونیئر ویمن ایم ایل او کو دعا زہرہ کی عمر کے تعین کا کام سونپا گیا۔

    پولیس سرجن ایچ سرٹیفکیٹ (پی ایس اے سی) کا مطلب یہ ہے کہ یہ سند پولیس سرجن کی جانب سے جاری کی گئی ہے، میڈیکو لیگل آفیسر کی جانب سے نہیں، اس کے علاوہ ناصرف جاری کی گئی سند پولیس سرجن کی غیر موجودگی میں بنائی گئی بلکہ اس پر پولیس سرجن کے دستخط بھی موجود نہیں۔

    کل کہیں گے افغانستان سے سگنل آرہے ہیں تو ہم کیا کرینگے؟ دعازہرہ کیس میں عدالت کے…

    گذشتہ روز دعا زہرہ اور اس کے شوہر ظہیر کو انتہائی سخت سکیورٹی میں سندھ ہائی کورٹ میں پیش کیا گیا تھا،ایڈووکیٹ جنرل سندھ کا کہنا تھا کہ عدالتی حکم تھا جیسے ہی دعا بازیاب ہو پیش کیا جائے، لاہور ہائی کورٹ نے بھی 10 جون کو دعا کو طلب کیا ہے۔سندھ ہائی کورٹ نے دعا زہرا کی عمر کے تعین کے لیے 2 روز میں طبی ٹیسٹ کرانےکا حکم دیتے ہوئےکیس کی مزید سماعت 8 جون تک ملتوی کر دی تھی اور لڑکی کو شیلٹر ہوم بھیجنے کی ہدایت کی تھی۔

  • سندھ حکومت کا عوام پر کچرا اٹھانے کی فیس لاگو کرنے کا منصوبہ

    سندھ حکومت کا عوام پر کچرا اٹھانے کی فیس لاگو کرنے کا منصوبہ

    سندھ حکومت عوام پر روزانہ کوڑا کرکٹ اٹھانے کیلئے کچرا فیس عائد کرنے پر غور کر رہی ہے۔اس پیشرفت کی تصدیق سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ (ایس ایس ڈبلیو ایم بی) کے منیجنگ ڈائریکٹر زبیر احمد چنہ نے کی ہے۔

    کراچی کے سپر اسٹور میں آتشزدگی کا واقعہ ، سندھ حکومت نے تحقیقاتی کمیٹی قائم کردی

    منیجنگ ڈائریکٹر ایس ایس ڈبلیو ایم بی کا کہنا ہے کہ بورڈ سوئی سدرن گیس کمپنی لمیٹڈ (ایس ایس جی سی ایل) کے ساتھ بات چیت کررہا ہے تاکہ کوڑا اٹھانے کے چارجز ان کے ماہانہ بلوں میں شامل کئے جائیں۔البتہ ایس ایس جی سی ایل نے اپنے یوٹیلیٹی بلوں میں کچرا اٹھانے کے چارجز شامل کرنے سے انکار کردیا ہے۔

    زبیر چنہ کا کہنا ہے کہ سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ نے کچرا اٹھانے کی فیس کی وصولی کیلئے اپنا ریونیو سیل بنانے کا فیصلہ کیا ہے اور اس کیلئے ورلڈ بینک سے موبائل سافٹ ویئر ایپلی کیشن کیلئے منظوری بھی حاصل کرلی گئی ہے۔زبیر چنہ نے موبائل ایپلی کیشن سے متعلق بریفنگ میں بتایا کہ طریقۂ کار تھوڑا مشکل ہے، لیکن بورڈ نے ریونیو اکٹھا کرنے کی ایپلی کیشن کے بنانے پر کام شروع کردیا ہے۔ اس کے ذریعے عوام سے کچرا فیس کی وصولی کی جائے گی۔

    ریونیو اکٹھا کرنے کے پورے نظام کو چلانے کیلئے ورلڈ بینک کی منظوری کے ساتھ ایک سافٹ ویئر تیار کیا جانا ہے، اس سافٹ ویئر کی تخمینی لاگت تقریباً 40 سے 50 ملین (چار سے 5 کروڑ) روپے ہے۔

    سندھ حکومت کی جیالہ فورس نے پی ٹی آئی کو نیزے پر رکھا ہوا ہے:بلال غفار

    یہ نظام کیسے کام کریگا؟
    ایس ایس ڈبلیو ایم بی کے منیجنگ ڈائریکٹر زبیر چنہ نے گاربیج فیس کلیکشن سسٹم سے متعلق بتایا کہ سب سے پہلے موبائل ایپلی کیشن تیار کی جائے گی اور اسے ریونیو اکٹھا کرنے والے مرکزی سیل سے منسلک کیا جائے گا۔

    کوڑا کرکٹ جمع کرنے کی فیس کیسے لی جائے گی؟
    کسی خاص علاقے میں بورڈ نے ایک ایسے شخص کو نامزد کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو مذکورہ علاقے میں معروف ہو اور اس کے آس پاس کم از کم 10 سال سے رہ رہا ہو۔ وہ شخص، جس کا اس مخصوص علاقے میں نچلی سطح پر رابطہ ہے، وہ سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ کا نمائندہ ہوگا، جو رہائشی یونٹوں سے کوڑا کرکٹ کی فیس لینے کا مجاز ہوگا۔

    ایس ایس ڈبلیو ایم بی اس شخص کو ایک آئی ڈی جاری کریگا اور اسے موبائل سافٹ ویئر میں اپ لوڈ کرے گا، جیسے ہی ایس ایس ڈبلیو ایم بی کا نمائندہ کسی بھی گھر سے کوڑا کرکٹ کی فیس جمع کرے گا تو سسٹم اس کی نشاندہی کرے گا۔

    منشیات فروشی کے خلاف سندھ حکومت نے اپنی حکمت عملی تبدیل کر لی

    کچرا فیس جمع کرنے کی ذمہ داری لینے والا شخص بورڈ کے پاس 10 لاکھ روپے کی بینک گارنٹی جمع کرائے گا۔ بورڈ اس فرد کو بینکوں سے 10 لاکھ روپے تک کا مائیکرو فنانسنگ قرض لینے میں مدد کریگا۔سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ نے پہلے ہی مذکورہ سفارش کی منظوری دے دی ہے اور بینک اس سلسلے میں قرضے جاری کرنے پر متفق ہیں۔

    ابتدائی طور پر بورڈ نے رہائشی یونٹس کیلئے کچرے کی فیس کا ڈھانچہ تجویز کیا ہے۔ اسے 3 اقسام کم آمدنی والے علاقے، درمیانی آمدنی والے علاقے اور زیادہ آمدنی والے علاقے میں تقسیم کیا گیا ہے، جس میں کچرا اٹھانے کی فیس 100 روپے سے 300 روپے تک رکھی گئی ہے۔

    کم آمدنی والے علاقوں کیلئے کچرا اٹھانے کی فیس 100 روپے ماہانہ، درمیانی آمدنی والے علاقوں کیلئے ماہانہ 200 روپے اور زیادہ آمدنی والے علاقوں کیلئے یہ فیس ماہانہ 300 روپے ہوگی۔ایس ایس ڈبلیو ایم بی کی کچرا اٹھانے کی فیس 6 کنٹونمنٹ بورڈز پر لاگو نہیں ہوگی، کیونکہ ان کے پاس کچرا اٹھانے کا اپنا نظام اور ملازمین ہیں۔

    صنعتی اکائیوں کیلئے فیس کا ڈھانچہ درج ذیل ہے۔
    صنعتی صارفین کو بھی 3 کیٹیگریز میں تقسیم کیا گیا ہے۔ چھوٹے صنعتی یونٹوں کیلئے 2000 سے 4000 روپے ہے، درمیانی صنعتی اکائیوں کیلئے چار ہزار سے 6 ہزار اور بڑی صنعتی اکائیوں سے 6 ہزار سے 10 ہزار روپے وصول کئے جائیں گے۔

    یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ کے ایم سی پہلے ہی اپنے بلوں میں میونسپل یوٹیلیٹی چارجز اور ٹیکسز کی وصولی کیلئے کے الیکٹرک سے رابطے میں ہے۔تاہم ابھی تک اس معاملے پر کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا، کیونکہ اسے سندھ ہائیکورٹ میں چیلنج کردیا گیا ہے۔

    درخواست گزار نجیب الدین نے درخواست میں استدعا کی ہے کہ عدالت سندھ حکومت کی جانب سے کے الیکٹرک کے بلوں کے ذریعے کے ایم سی، ایم یو سی ٹی ٹیکس کی وصولی کے فیصلے کو کالعدم قرار دے۔ان کا کہنا ہے کہ یہ ایک بلاجواز عمل ہے اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کے دوران عوام کی جیبوں پر اضافی بوجھ ہے۔

  • سیاسی استحکام کے بغیر معاشی استحکام نہیں آسکتا،شہباز شریف

    وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ سیاسی استحکام کے بغیر معاشی استحکام نہیں آ سکتا، برآمدات پر مبنی صنعت، زرعی پیداوار میں اضافہ کیلئے ایگری انڈسٹریل انویسٹمنٹ، انفارمیشن ٹیکنالوجی کی برآمدات میں اضافہ اور قابل تجدید توانائی کا حصول ہماری ترجیحات ہیں، قومی ایکسپورٹ صنعتی زونز کے قیام کیلئے سرمایہ کاروں کو مفت اراضی فراہم کریں گے، پالیسیوں میں تسلسل کیلئے میثاق معیشت ناگزیر ہے، ملکی ترقی کیلئے دیہی علاقوں کو ترقی دینا ہو گی، زرعی شعبہ ملک کی تقدیر بدل سکتا ہے، صوبوں کے ساتھ مل کر جامع معاشی پلان بنایا جائے گا، معاشی حکمت عملی کی تیاری میں کاروباری طبقہ سے رہنمائی لی جائے گی۔

    پری بجٹ بزنس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ کانفرنس کے تمام شرکاء کے شکرگزار ہیں، ان کی طرف سے دی جانے والی تجاویز کا خیرمقدم کرتے ہیں، ملکی ترقی کیلئے تاجروں اور ماہرین کی خدمات قابل تحسین ہیں، ان کی طرف سے دی گئی اچھی تجاویز پر حکومت عمل کرے گی۔

    وزیراعظم نے کہا کہ 90ء کی دہائی میں پاکستانی روپے کی قدر بھارتی کرنسی سے بہتر تھی، ماضی میں بھارت نے ہمارے ترقیاتی منصوبوں کی تقلید کی۔ وزیراعظم نے کہا کہ ملکی ترقی کیلئے دیہی علاقوں کو ترقی دینا ہو گی، دیہات میں شہروں جیسی تعلیم اور صحت کی بنیادی سہولیات سے وہاں پر شہر کی طرز پر ترقی کی جا سکتی ہے، دیہی علاقوں سے شہروں میں منتقلی سے شہروں پر بوجھ میں اضافہ ہو گا، پاکستان کی آبادی کا 65 فیصد علاقہ دیہی ہے،

    ہم نے یہاں زراعت کو ترقی دینی ہے، دیہات کو ترقی یافتہ پاکستان کا حصہ بنانا ہے، وہاں پر اعلیٰ تعلیم سے یہ ممکن ہے، دانش سکول دیہی علاقوں میں قائم ہوئے جن کا معیار تعلیم ایچی سن کالج کے برابر ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ زراعت ایک ایسا شعبہ ہے جو پاکستان کی معیشت کو ترقی دے سکتا ہے، ہم ساڑھے 4 ارب ڈالر کا پام آئل درآمد کر ر ہے ہیں ، کیا اس کی پیداوار ہمارے ملک میں نہیں ہو سکتی، ہمارے ملک میں کس چیز کی کمی ہے، ہم نے جدید ٹیکنالوجی سے اپنی اجناس بڑھانی ہیں۔

    وزیراعظم نے کہا کہ زرعی شعبہ ملک کی تقدیر بدل سکتا ہے، معاشی حکمت عملی کی تیاری میں کاروباری طبقہ سے رہنمائی لی جائے گی، جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے ملکی پیداوار بڑھائی جا سکتی ہے، 18ویں ترمیم کے بعد وسائل کا زیادہ حصہ صوبوں کے پاس چلا گیا ہے جبکہ وفاق کے پاس کم حصہ رہ گیا ہے، صوبوں کے ساتھ مل کر جامع معاشی پلان بنایا جائے گا، اس کیلئے ہر قدم پر بزنس کمیونٹی کی رہنمائی کی ضرورت ہو گی۔

    وزیراعظم نے کہا کہ وہ زراعت، صنعت اور دیگر شعبہ جات میں ٹاسک فورسز قائم کریں گے تاکہ ایک جامع منصوبہ لے کر آگے بڑھیں، ہم نے ایک سال تین ماہ کی رہ جانے والی حکومتی مدت کیلئے قلیل اور وسط مدتی منصوبے بنانے ہیں، اسی لئے میثاق معیشت کی دعوت دیتے ہیں تاکہ میثاق معیشت کے تحت ایسے اہداف طے کئے جائیں جنہیں تبدیل نہ کیا جا سکے، پالیسیوں میں تسلسل کیلئے میثاق معیشت ناگزیر ہے۔

    انہوں نے کہا کہ بنگلہ دیش کپاس درآمد کرکے ویلیو ایڈیشن سے زرمبادلہ کما رہا ہے، ہمارے ملک میں 2014ء میں کپاس کی 14 ملین گانٹھوں کی پیداوار ہوئی، بنگلہ دیش کو ہم سے پہلے جی ایس پی پلس کا درجہ ملا، ہمیں اپنی کارکردگی میں اضافہ کرنا ہو گا۔ انہوں نے شرکاء سے کہا کہ وہ دن رات ان کے ساتھ بیٹھنے کیلئے تیار ہیں، ایسی جامع منصوبہ بندی کی جائے کہ ہماری آنے والی نسلیں ہمیں یاد رکھیں۔

    وزیراعظم نے کہا کہ غیر ملکی قرضوں اور خسارے پر بات ہوتی رہے گی، ہم یہاں ایسی بات نہیں کریں گے کہ جس سے پوائنٹ سکورنگ کا تاثر ملے۔ وزیراعظم نے کہا کہ گوادر میں تمام ترقیاتی منصوبے تعطل کا شکار ہیں، شہریوں کوپینے کا صاف پانی نہیں مل رہا، وہاں بجلی نہیں، ایئرپورٹ پانچ سال بعد بھی 36 فیصد مکمل ہوا ہے،

    پانی کی اب نئی سکیم بنائی گئی ہے، اس طرح قومیں نہیں بنتیں، بطور قوم باتوں کی بجائے عملی طور پر کام کرنا ہو گا، ہمارے پڑوسی دوست ملک نے اس کے سامنے بندرگاہ بنا لی لیکن ہماری ڈیپ پورٹ ہونے کے باوجود بڑے جہاز یہاں لنگر انداز نہیں ہو سکتے، ہم نے بطور قوم یہ فیصلہ کرنا ہے کہ منصوبے بنا کر ان پر عمل کرنا ہے، ہم مزید وقت ضائع کرنے کے متحمل نہیں ہو سکتے، پاکستان کو اﷲ نے بہت کچھ دیا ہے۔

    انہوں نے شرکاء سے کہا کہ وہ اپنے وقت، صلاحیتوں اور تجربہ سے اس منصوبہ بندی میں مدد کریں، ہمارا مقصد برآمدات بڑھانا ہے، رواں سال 30 لاکھ ٹن گندم درآمد کرنا پڑی، ایک ارب ڈالر اس پر خرچ ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ قیمتی وسائل سے مالا مال ہونے کے باوجود ملک کیلئے استفادہ نہیں کیا جا سکا، ہمارے پاس زرخیز زمینیں ہیں، باصلاحیت اور ہنرمند محنت کش طبقہ ہے، برآمدات کا فروغ حکومت کی اولین ترجیح ہے، برآمدات بڑھانے کیلئے مؤثر حکمت عملی سے ملکی ترقی کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔

    وزیراعظم نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کے دور میں لگنے والے چار پاور پلانٹس میں سے 1250 میگاواٹ کا سستا ترین پاور پلانٹ 2020ء میں فعال ہو جانا چاہئے تھا تاہم یہ منصوبہ ابھی تک فعال نہیں ہو سکا، اس کی تاخیر کا ذمہ دار کون ہے، قوم کو اس کا حساب کون دے گا۔

    وزیراعظم نے کہا کہ جتنے اچھے منصوبے بنائیں اگر ان پر عملدرآمد نہیں ہو گا تو بے سود ہیں، افسر شاہی کا یہ رونا جائز ہے کہ انہوں نے کام کیا اور انہیں پکڑ کر نیب کے عقوبت خانوں میں ڈالا گیا، ان بیورو کریٹس نے پاکستان کے اربوں روپے بچائے۔

    وزیراعظم نے کہا کہ کانفرنس میں شرکاء کی جانب سے دی جانے والی تجاویز کو حقیقت کا روپ دیں گے۔ وزیراعظم نے اپنی حکومت کی ترجیحات بتاتے ہوئے کہا کہ برآمدات پر مبنی صنعت جس میں ٹیکسٹائل کا اہم کردار ہے وہ اولین ترجیحات میں شامل ہے، زرعی پیداوار میں اضافہ کیلئے ایگری انڈسٹریل انویسٹنمٹ کی طرف جائیں گے،

    گلف میں ٹیولپ کے بھرے جہاز پڑوسی ملک سے آتے ہیں، ہمارے پاس انڈسٹری اور ٹیکنالوجی ہو تو ہمارے پھل دنیا کی مارکیٹوں میں بہترین جگہ بنا سکتے ہیں، برآمدات میں اضافہ اور درآمدات میں کمی حکومت کی سب سے بڑی ترجیح ہے تاکہ زرمبادلہ کے ذخائر بڑھیں،

    اس کیلئے ترکی، چین اور جاپان سے بات کی ہے، پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے کی خواہشمند کمپنیوں کے چھوٹے چھوٹے کاموں کی وجہ سے رکاوٹیں ہیں، اگر نگرانی اور تڑپ ہو تو پاکستان آگے بڑھے گا، آج ترکی، چین اور جاپان ہم سے ناراض ہیں، گذشتہ حکومت نے دوست ممالک اور سرمایہ کاروں کو ناراض کیا، دوست ممالک سے تعلقات کو نئی جہت دے رہے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ آئی ٹی انڈسٹری کو فروغ دے کر برآمدات کو 15 ارب ڈالر زتک لے جانے کا وزارت آئی ٹی کو ہدف دیا ہے اس کیلئے میں بھی وزیر آئی ٹی کے ساتھ بیٹھوں گا، بھارت کی آئی ٹی کی برآمدات 200 ارب ڈالرز ہیں جبکہ اس کے مقابلہ میں ہماری برآمدات 4 ارب ڈالرز سے بھی کم ہیں، بھارت میں بھی بیورو کریسی کیلئے ہم سے زیادہ سرخ فیتہ ہے تاہم اتنی زیادہ برآمدات کیسے ممکن ہوئیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہمیں خصوصی صنعتی زونز پر توجہ دینے کی ضرورت ہے،

    ہمیں اس طرف جانا ہو گا، اس کیلئے ہر چیز مکمل میرٹ پر ہو گی، کوئی سٹہ بازی نہیں ہو گی ۔ ماضی میں بنائے گئے صنعتی زونز میں لینڈ مافیا آ گیا، وہاں کوئی انڈسٹری نہیں لگی، جس طرح ہم نے بہاولپور میں سولر انرجی کیلئے اراضی فراہم کی اسی طرح خصوصی اقتصادی زونز کیلئے سرمایہ کاروں کو زمین ڈویلپ کرکے دیں گے اس حوالہ سے مفتاح اسماعیل کو پہلے ہی ہدایات جاری کی جا چکی ہیں، یہ کاروباری طبقہ پر احسان نہیں بلکہ سرمایہ کاری کیلئے مراعات ہیں، ہمیں اپنی برآمدات بڑھانے کیلئے انہیں مراعات دینا ہوں گی، اہداف متعین کرتے ہوئے برآمدات میں اضافہ کرنا ہو گا،

    اگر ہم ایٹمی قوت بن سکتے ہیں تو زرعی اور صنعتی قوت کیوں نہیں بن سکتے۔ وزیراعظم نے کہا کہ داسو اور بھاشا ڈیم اگر حکومتی وسائل سے بن جائیں تو یہ بڑی بات ہے، ہمیں قومی مفاد کے منصوبوں کو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت بنانا ہو گا، ہمیں قابل تجدید توانائی کے حصول پر توجہ دینا ہو گی، تھر اور بلوچستان میں کوئلہ سے فائدہ اٹھانا ہو گا، اس کیلئے سرمایہ کار تجاویز دیں، شیل اور ٹائٹ گیس کے شعبہ میں سرمایہ کاری کے مواقع ہیں، تیل و گیس کی درآمد کیلئے سالانہ 20 ارب ڈالر پاکستان صرف کرتا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ غیر ضروری درآمدات پر پابندی لگا کر سالانہ اڑھائی ارب روپے بچت کی، غیر ترقیاتی اخراجات کو کم کرنا ہو گا۔ وزیراعظم نے کہا کہ انہوں نے نجکاری کمیشن کا اجلاس طلب کیا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ اتحادی حکومت نے اختلاف رائے کے باوجود قومی مفاد میں کئے جانے والے مشکل فیصلوں کی حمایت کی، انشاء اﷲ یہ دوڑ جیتیں گے، سخت اور مشکل وقت ضرور ہے،

    اس ملک میں ہمیشہ غریب طبقہ نے سختی برداشت کی، عوامی فلاحی منصوبوں کے ذریعے غریب آدمی کی قسمت بدل دیں گے، ہم 7 کروڑ افراد کو ماہانہ 2 ہزار روپے دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ جذبہ ایثار کے تحت ہمیں غریب آدمی کا احساس کرنا ہو گا، رئیل اسٹیٹ کے پاس جو نان پروڈکٹیو اثاثے ہیں انہیں ٹیکس نیٹ میں لانا ضروری ہے۔

    وزیراعظم نے کہا کہ دنیا میں اراضی محدود ہے اس کو ہم بڑھا نہیں سکتے، بدقسمتی سے ہمارے شہر پھیلتے جا رہے ہیں جبکہ اس کے مقابلہ میں یورپ، چین، ترکی سمیت دیگر ممالک کثیر المنزلہ عمارات کی طرف جا رہے ہیں، ہم نے اس طرف جانا ہے، ہمیں زرعی مقاصد کیلئے اراضی چاہئے،

    سیاسی مفادات اور مقاصد کیلئے انتخابات میں ایک دوسرے کے خلاف مؤقف دیں گے، ہم نے ہمیشہ ایک دائرہ میں رہ کر سیاست کی ہے، دوست ممالک کی ناراضگی اور داغ مٹانے ہیں، انہیں اعتماد میں لینے کیلئے کوشش کریں گے۔

    وزیراعظم نے کہا کہ وہ جلد پاکستان امریکن بزنس کونسل سے ملیں گے، پاکستان میں قابل تجدید توانائی کے بڑے مواقع موجود ہیں، وزیرستان سے گیس کے ذخائر دریافت ہوئے ہیں، اس کو جنگی بنیادوں پر پائپ لائن کے ذریعے قومی گرڈ میں لانے کی ہدایت کر دی ہے اس سے 26 لاکھ ڈالر ماہانہ بچت ہو گی۔

  • کراچی میں جرائم کی شرح میں اضافہ پولیس اہلكار بھی ملوث

    کراچی میں جرائم کی شرح میں اضافہ پولیس اہلكار بھی ملوث

    کراچی میں جرائم کی شرح میں اضافہ پولیس اہلكار بھی ملوث:
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق کراچی کے مشہور شہر قائد میں جرائم کی شرح میں اضافہ ہو گیا ہے ۔

    اس کے ساتھ ایک اور اہم خبر یہ کہ ان جرائم میں پولیس افسران بھی ملوث نکلے۔ پہلے تو جرائم عوام کرتی تھی اور پولیس سزا دیتی تھی لیکن اب افسوس اس بات کا ہے کہ پولیس بھی ملوث نکلی ۔اور ایک اور افسوسناک خبر یہ بھی ہے کہ سی ٹی ڈی افسر پر اغوا برائے تاوان کا الزام لگ گیا۔ جو حفاظت کرنے والے اور غلط اقدام کے خلاف سزا دینے والے جب خود ایسے جرائم کریں گے تو عوام کس پر بھروسہ کرۓ گی ۔

    کراچی کے ایک شہر بلال قانونی سے دو شہریوں کو اغوا کیا گیا ۔سادہ لباس میں پولیس اہلکار وین سے اترے اور دو شہریوں کو پکڑ کر ساتھ لے گئے۔بات صرف یہاں تک نہیں ہے پھر ان پولیس والوں نے شہروں کے ساتھ جو کیا پڑھ کر آپ کے ہوش اڑ جائیں گے۔
    انہوں نے (سی ٹی ڈی) انسپکٹر شعیب قریشی اور ٹیم نے حراست میں لئے گئے افراد سے نہ صرف پیسے نکلوا لیے بلکے زیر حراست شہری فیضان کو 2 لاکھ 70 ہزار رشوت لے کر چھوڑا اور سعد نامی شہری کو چھوڑنے کے 25 لاکھ روپے طلب بھی کر دیے ۔
    مزید یہ کہ اس واقعے کے بعد پھر ڈی آئی جی سی ٹی ڈی نے واقعے کی انکوائری کا حکم دے دیا ۔ ایس ایس پی نے اس سارے واقعے کی انویسٹی گیشن سی ٹی ڈی انکوائری افسر مقرر نے تقریباً سات دنوں میں ہی انکوائری رپورٹ جمع کروانے کی ہدایت کردی۔

  • ڈالرکی پھراونچی پرواز،معاشی حالات پریشانی کا سبب بننے لگے

    ڈالرکی پھراونچی پرواز،معاشی حالات پریشانی کا سبب بننے لگے

    کراچی: انٹربینک / ڈالر مزید مہنگا اور روپیہ کمزور، ڈالر کی قدر میں مزید 2 روپے 44 پیسے کا اضافہ ہو گیا۔فاریکس ڈیلرز کے مطابق انٹربینک میں ڈالر 202 روپے کی سطح سے تجاوز کرگیا، ڈالر 200.06 سے بڑھ کر 202.50 روپے کا ہوگیا ہے، جبکہ اوپن مارکیٹ میں ڈالر 204.50 سے زائد کا ہو گیا ہے۔

    گزشتہ روز پیٹرول کی ڈبل سنچری کے بعد ڈالر کی بھی دوبارہ ڈبل سنچری ہو گئی تھی، انٹربینک میں ڈالر 2.38 پیسے مہنگا ہونے کے بعد انٹربینک میں ڈالر 200.30 کا ہوگیا تھا، جبکہ اوپن مارکیٹ میں ڈالر 201 روپے میں فروخت ہورہا تھا۔

    سات جون بروز منگل کو انٹربینک مارکیٹ میں بھونچال آگیا اور ڈالر3روپے 94پیسے مہنگا ہوا تاہم دن کے اختتام پر انٹربینک میں ڈالر 202.83 روپے کا ہوگیا۔

    اس سےقبل انٹربینک میں ڈالر تاریخ میں پہلی بار204روپے کا ہوا۔اوپن کرنسی مارکیٹ میں ڈالر 3.50 روپے کے اضافے سے 204.50 روپے کی سطح پر پہنچ گیا جو ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح ہے۔

    اس سے قبل 6 جون کو کاروباری ہفتے کے پہلے روز انٹربینک میں ڈالر کی قدر میں 2 روپے 14پیسے اضافہ دیکھا گیا، جس کے بعد انٹر بینک میں ڈالر کی قدر 200 روپے 6 پیسے ہوگئی تھی۔

    روپے کے مقابلے میں ڈالر کی بڑھتی قدر اور سونے پر سرمایہ کاری بڑھنے کی وجہ سے ملک میں سونے کے بھاؤ نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں۔

    منگل کے روز بین الاقومی مارکیٹ میں فی اونس سونا 5 ڈالر کمی کے بعد ایک ہزار 849 ڈالر ہوگیا تاہم عالمی مارکیٹ کے برعکس مقامی صرافہ بازار میں سونے کی قیمت نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔

    صرافہ بازاروں میں فی تولہ سونا مزید ایک ہزار 250 روپے مہنگا ہوکر ایک لاکھ 43 ہزار 250 روپے کا ہوگیا جب کہ 10 گرام سونے کی قیمت ایک ہزار 72 روپے بڑھ کر ایک لاکھ 22 ہزار 814 روپے ہوگئی.

    ڈالر تاریخ کی بلند ترین سطح پر،اوپن مارکیٹ میں ڈالر205 روپے کا ہو گیا

    سونے کے مقابلے میں چاندی کے بھاؤ میں استحکام دیکھا گیا اور منگل کو فی تولہ چاندی ایک ہزار 570 جبکہ 10 گرام چاندی کی قیمت ایک ہزار 346 روپے رہی۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈالر پاکستانی روپے پر دباؤ برقرار رکھے گا۔ آئی ایم ایف اور دیگر ذرائع سے قرض کی وصولی کی واضح صورت حال تک ڈالر کی قدر میں نمایاں گراوٹ مشکل نظرآرہی ہے۔

    وفاقی کابینہ کی چین سے 2 ارب 40 کروڑ ڈالر قرض کے حصول کی منظوری

    ماہرین کا خیال ہے کہ ڈالرکے بڑھنے اورروپے کی قدر گرنے میں ایک سبب یہ بھی ہے کہ امپورٹس کی وجہ سے بہت دباو ہے،دوسری وجہ یہ بتائی جارہی ہے کہ عالمی مارکیٹ میں تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتیں بھی ایک بڑی وجہ ہے

    ماہرین معیشت کا کہنا ہےکہ تیل کےلیے ایڈوانس پے منٹ بھی ایک بڑا مسئلہ ہے ، اس کے ساتھ ساتھ ماہ جون میں ادائیگیوں کا حجم بھی بڑھ گیا ہے جوپاکستانی روپے پر بہت دباوکی صورت حال اختیار کرگیا ہے

    چین نے دوستی کا حق ادا کر دیا، پاکستان کا 2 ارب 30 کروڑ ڈالر قرض ری فنانس

    اس کے ساتھ ساتھ ماہرین کا یہ بھی خیال ہے کہ عالمی کساد بازی بھی پاکستان معاشی بدحالی کا سبب بن رہی ہے اور یہی وجہ ہے کہ ڈالراب پھربڑی تیزی کے ساتھ اوپر کو جارہا ہے ، اس کے ساتھ ساتھ ادائیگیوں کے لیے ڈالر کی بڑھتی ہوئی قیمت اور روپے کی بے قدری بھی پاکستانی معیشت کے لیے ایک خطرناک مسئلہ ہے

    ماہرین معاشیات کا کہنا ہے کہ پاکستان کے بڑی تیزی سے گرتے ہوئے زرمبادلہ کے ذخائر بھی اس کی ایک بڑی وجہ ہے

    یہ بھی کہا جارہاہے کہ عالمی سطح پر سفرکرنے کے حوالے سے ڈالرکا استعمال بھی ایک وجہ ہے اس کے ساتھ ساتھ آئی ایم ایف اور چین سے ملنے والی رقم کی تاخیر ہے جس کے ملنے کی صورت میں‌معاملات میں وقتی طور پرحالات کے بہتر ہونے کی امید ہے

  • نیب ملازمین اور  انکے اہلخانہ کے اثاثوں کی تفصیلات طلب

    نیب ملازمین اور انکے اہلخانہ کے اثاثوں کی تفصیلات طلب

    پارلیمنٹ کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) نے قومی احتساب بیورو کے تمام سابق اور موجودہ ڈائریکٹرز، ملازمین اور ان کے اہل خانہ کے اثاثوں کی تفصیلات طلب کر لیں۔

    پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس چیئرمین نور عالم خان کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ نیب کے سابق چیئرمین کہتے رہے اب تک 820 ارب روپے ریکور کر چکے ہیں لیکن سیکرٹری خزانہ نے قومی خزانے میں 15 ارب روپے جمع کرائے جانے کی تصدیق کی ہے.

    قائم مقام چیئرمین نیب ظاہر شاہ نے بریفنگ میں بتایا کہ وزیر اعظم سیکرٹریٹ میں ایک اکاؤنٹ میں ریکوری کا پیسہ ہوتا ہے، کسی فریق کا کیس فائنل ہونے تک پیسے آفس فنڈ میں رکھے جاتے ہیں، اب بھی بینک میں کچھ ارب روپے موجود ہیں، آڈٹ کرانے کو تیار ہیں جو پیسے نیب سے آئے ان کا آڈٹ ہونا چاہیے۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ جو بھی ریکوری ہو جائیں، اس کا آڈٹ ہو گا۔

    آڈیٹر جنرل نے بتایا کہ قومی خزانے میں نیب کی ریکورکردہ رقم کا 2، 3 فیصد ہی جاتاہے۔ سینیٹر شبلی فراز کا کہنا تھا ملک میں اتنی کرپشن ہوئی ہے کسی نے تو کی ہے، اوپرسے تو نہیں آئی؟ ، پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے نیب کے تما م موجودہ اور سابق ڈائریکٹرز ، ملازمین اور ان کے اہل خانہ کے اثاثوں کی تفصیلات ایک ماہ میں طلب کرلیں۔

    چیئرمین کمیٹی نور عالم خان نے کہاکہ اب احتساب کا بھی احتساب ہوگا، نیب حکام کے زیر استعمال گاڑیوں اور مراعات کی تفصیلات بھی دی جائیں، نیب حکام کا تحفہ قبول کرنا بھی کرپشن ہے، کوئی افسر اخلاقی طور پر اچھا نہیں ہے تو اس کا بھی احتساب ہونا چاہیے۔ان کا کہنا تھاکہ نیب کیس ثابت نہ کرنے پر کسی سے معافی نہیں مانگتا۔

    کمیٹی کی جانب سے نیب ملازمین کو پرفارما بھر کر دینے کے معاملے پر ڈی جی نیب کراچی کی نور عالم خان سے بحث ہوئی ہے۔ ڈی جی نیب کراچی نے کہا کہ آپ جو پرفارما بھیجنے کا کہہ رہے ہیں وہ ملزمان سے تحقیقات کیلئے ہوتا ہے، افسران کی ذلت ہوگی اور ساکھ بھی متاثر ہوگی۔ نور عالم نے کہاکہ نیب یہ پرفارما سیاست دان کو بھرنے کیلئے بھی کہتا ہے، کیا اس کی عزت نہیں؟

    پی اے سی کی نیب بننے سے اب تک نیب کے تمام ملازمین،ان کے ماں باپ اوربہن بھائیوں کے تمام اثاثہ جات کا آڈٹ کرنے کی ہدایت کی اور ایک ماہ میں نیب ملازمین کی تنخواہوں اور مراعات سمیت تمام تفصیلات پی اے سی کوجمع کروانے اور میڈیا کے ذریعے پبلک کرانے کی بھی ہدایت کی۔ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس 7 اب جولائی کو دوبارہ ہو گا۔