Baaghi TV

Author: +9251

  • آذر بائیجان کے ساتھ اپنی سدا بہار دوستی پر فخر ہے:اسپیکر قومی اسمبلی

    آذر بائیجان کے ساتھ اپنی سدا بہار دوستی پر فخر ہے:اسپیکر قومی اسمبلی

    اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے کہا ہے کہ پاکستان کو آذر بائیجان کے ساتھ اپنی سدا بہار دوستی پر فخر ہے۔

    تفصیلات کے مطابق راجہ پرویز اشرف سے پاکستان میں تعینات آذر بائیجان کے سفیر خضر فرہادوف کی ملاقات ہوئی جس میں دو طرفہ تعلقات اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال ہوا۔

    اسپیکر راجہ پرویز اشرف کا کہنا تھا کہ پاکستان آذر بائیجان کے ساتھ اپنے خوشگوار برادرنہ تعلقات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے، پاکستان کو آذر بائیجان کے ساتھ اپنی سدا بہار دوستی پر فخر ہے۔

    انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کی پارلیمانوں میں مسلسل روابط کے فروع سے پاکستان اور آذر بائیجان کے مابین تعلقات کو مزید تقویت ملے گی، پاکستان اپنے ہمسایہ اور خطہ میں تمام ممالک کے ساتھ خوشگوار تعلقات چاہتا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ پاکستان تمام تصفیہ طلب معاملات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے پر یقین رکھتا ہے، مسئلہ کشمیر پر آذر بائیجان کی جانب سے عالمی اور علاقائی فورمز پر پاکستان کے موقف کی حمایت کی پاکستان قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔

    اسپیکر راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ پاکستان اور آذربائیجان میں معاشی اور سماجی شعبوں میں دو طرفہ تعاون کو فروغ دینے کے لیے وسیع مواقع موجود ہیں، باکو یونیورسٹی میں شعبہ اردو کا قیام قابلِ ستائش ہے۔

    انہوں نے کہا کہ باکو یونیورسٹی شعبہ اردو کے قیام سے دونوں ممالک کی نوجوان نسل کو ایک دوسرے کی زبان، ثقافت، اور کلچرل سے آراستہ ہونے کا موقع ملے گا، پاکستانی یونیورسٹیوں میں آزر بائیجانی زبان اور اس کے بارے میں اسٹڈیز کے لیے شعبہ جات کا قیام دونوں ممالک کے عوام کو مزید قریب لائے گا۔

    ان کا کہنا تھا کہ توانائی کے شعبہ میں وسیع تر مواقع موجود ہیں جن میں تعاون کو بڑھایا جا سکتا ہے، آذر بائیجان میں منعقد ہونے والی پائیکو کانفرنس میں پاکستانی وفد بھرپور شرکت کرے گا۔

    اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے مزید کہا کہ پائیکو تنظیم ممبر ممالک کو مزید قریب لانے میں اہم کردار ادا کرے گی۔

    آذر بائیجان کے سفیر نے راجہ پرویز اشرف کو اسپیکر قومی اسمبلی منتخب ہونے پر مبارکباد دی، ان کا کہنا تھا کہ آذر بائیجان پاکستان کے ساتھ اپنے برادرانہ تعلقات کو بڑی اہمیت دیتا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے مابین دوستی کا رشتہ ہر گزرتے دن کے ساتھ مضبوط سے مضبوط تر ہو رہا ہے، پاکستان اور اس کے پارلیمان کی نگورنو کارابخ کے معاملہ پر حمایت پر شکر گزار ہے۔

    سفیر آذر بائیجان نے کہا کہ آذر بائیجان مسئلہ کشمیر پر پاکستان کے اصولی موقف کی تائید کرتا اور اس مسئلے پر اپنی حمایت جاری رکھے گا، پاکستان کو اپنا اسٹریٹیجک شراکت دار سمجھتے ہیں، مسلم اُمہ کو در پیش چیلنجز کے حل کے لیے پاکستان کی کوششوں کو سراہاتا ہوں۔

  • تعلیمی اداروں میں سیاست نہیں چلے گی،پی ٹی آئی کو سکول گراونڈ میں جلسہ سے روک دیا گیا

    تعلیمی اداروں میں سیاست نہیں چلے گی،پی ٹی آئی کو سکول گراونڈ میں جلسہ سے روک دیا گیا

    باغی ٹی وی کی خبر پر سیالکوٹ انتظامیہ نے ایکشن لے لیا.

    سی ٹی آئی بوائزہائی سکول سیالکوٹ کی گروانڈ میں بغیراجازت تحریک انصاف کی جانب سے جلسہ کرنے کی درخواست پر اسسٹنٹ کمشنر سیالکوٹ نے نوٹس لے لیا.باغی ٹی وی نے سی ٹی آئی بوائز ہائی سکول کے پرنسپل کی جانب سے ڈپٹی کمشنر سیالکوٹ کولکھے گئے مراسلے کی خبر شائع کی تھی جس پر اسسٹنٹ کمشنر سیالکوٹ نے نوٹس لیتے ہوئے مراسلے کے مندرجات اور سکول کے پرنسپل کے موقف کو درست قرار دے دیا

    مراسلے کے مطابق سکول پرنسمپل نے موقف اختیار کیا کہ سی ٹی آئی بوائزہائی سکول کی گراونڈ میں ملک کی سیاسی پارٹی تحریک انصاف کی جانب سے 14 مئی 2022 کو سیاسی جلسہ کیا جارہا ہے جس کی سکول کے ہیڈ آفس سے کسی قسم کی کوئی اجازت نہیں لی گئی.مراسلے میں مزید کہا گیا کہ سکول کے ہیڈ آفس کی جانب سے مجھے ذمہ داری سونپی گئی ہے کہ میں صورتحال سے آپ کو آگاہ کر دوں.

    سکول پرنسپل نے مراسلےمیں مزید کہا کہ سکول کی گراونڈ سالانہ سیالکوٹ کنونشن اوردعائیہ تقریبات کیلئے مختص ہے اور اس گراونڈ کو کسی اور مقصد کیلئے استعمال نہیں کیا جاسکتا . باغی ٹی وی پر خبر شائع ہونے کی بعد اسسٹنٹ کمشنر سیالکوٹ نے سکول پرنسپل کا موقف درست قرار دیا .

    سیالکوٹ کی کرسچن کمیونٹی نے عبادتگاہ کے لئے مختص گراؤنڈ کو سیاسی مقصد کے لئے استعمال کرنے کے اعلان پر احتجاج کا اعلان بھی کیا ہے، سیالکوٹ کی مسیحی کمیونٹی کا کہنا ہے کہ 13 مئی کو احتجاج کرین گے کسی صورت تحریک انصاف کو اس گراونڈ میں جلسے کی اجازت نہیں ملنی چاہئے، پی ٹی آئی نے ملک گیر جلسوں کے سلسلے میں 14 مئی کو سیالکوٹ میں جلسے کا اعلان کر رکھا ہے مسیحی برادری نے تحریک انصاف کے خلاف بھر پور احتجاج کرنے کا اعلان کیا ہے،

  • بابری مسجد کے بعد گیان واپی مسجد ہندووں کے نشانےپر:عدالت نے سروے کا حکم دے دیا

    بابری مسجد کے بعد گیان واپی مسجد ہندووں کے نشانےپر:عدالت نے سروے کا حکم دے دیا

    اترپردیش :وارانسی کی ایک عدالت نے جمعرات کو گیانواپی مسجد کے سروے کو مکمل کرنے اور 17 مئی تک رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔ یہ حکم اس عرضی کی سماعت کے ایک دن بعد آیا ہے جس میں عدالت کے مقرر کردہ ایڈوکیٹ کمشنر کو ہٹانے کی درخواست کی گئی تھی جس میں سروے کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔ .

    درخواست گزاروں کے وکیلوں میں سے ایک، سبھاش نندن چترویدی نے کہا، "عدالت نے مکمل سروے کرنے اور کیس کی اگلی سماعت کی تاریخ 17 مئی کو تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔” عدالت نے ضلعی انتظامیہ کو حکم دیا ہے کہ وہ بہانہ بنا کر سروے میں تاخیر نہ کرے۔

    عدالت نے کہا کہ پرسوں سروے شروع ہونے کا امکان ہے۔ عدالت نے پورے گیان واپی کمپلیکس کے سروے کا حکم دیا ہے۔ مسجد اور اس کے تہہ خانے کا سروے کیا جائے گا،‘‘ وکیل نے کہا۔

    چترویدی نے مزید کہا، "عدالت نے انجمن انتفاضہ مسجد کمیٹی کی درخواست کو مسترد کر دیا جس میں ایڈوکیٹ کمشنر اجے کمار کو ہٹانے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔” عدالت نے ایک اور وکیل وشال کمار سنگھ کو ایڈوکیٹ کمشنر مقرر کیا ہے۔ اجے پرتاپ سنگھ کو اسسٹنٹ ایڈوکیٹ کمشنر مقرر کیا گیا ہے۔

    عدالت نے حکم دیا کہ ایڈوکیٹ کمشنر اجے کمار مشرا اور خصوصی ایڈوکیٹ کمشنر وشال سنگھ مشترکہ طور پر کمشنر کی کارروائی کریں گے۔ مشرا کے غیر حاضر ہونے کی صورت میں وشال سنگھ سروے کرنے کی کارروائی کریں گے۔ اگر سنگھ غیر حاضر ہیں تو اجے مشرا کریں گے۔

    اس سروے میں ویڈیو گرافی اور ماں شرنگر گوری اسٹال اور ملحقہ گیانواپی مسجد کے احاطے کا معائنہ شامل ہے۔

    درخواست گزاروں کے وکیل نے کہا کہ سروے کے دوران تمام فریقین موجود ہوں گے۔ 26 اپریل کو وارانسی میں سول جج روی کمار دیواکر کی عدالت نے ایڈوکیٹ کمشنر کے ذریعہ ماں شرینگر گوری استھال کی ویڈیو گرافی کا حکم دیا تھا اور ان سے 10 مئی کو عدالت میں تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کو کہا تھا۔

    یاد رہے کہ عدالت میں دائر درخواست میں یہ مؤقف اپنایا گیا تھا کہ مغل بادشاہ اورنگزیب عالمگیر نے سنہ 1664 میں ’لارڈ وشوشار‘ نامی قدیم مندر کو تباہ کر کہ یہاں مسجد قائم کی تھی۔درخواست کے مطابق تباہ شدہ مندر کے مواد سے مسجد تعمیر کی گئی تھی۔

    عدالتی حکم نامے میں آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا کے ڈائریکٹر جنرل سے پانچ اراکین پر مشتمل کمیٹی بنانے کو کہا گیا ہے جو مسجد کی تعمیر کے حوالے سے حقائق کا پتا لگائے گی۔

    عدالت کے مطابق کمیٹی کی تشکیل میں ایسے ماہرین شامل کیے جائیں جو آرکیالوجی کی سائنس پر مکمل عبور رکھتے ہوں، جن میں سے دو کا تعلق اقلیتی جماعت سے ہو۔عدالت نے آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا کے ڈائریکٹر سے یہ بھی کہا ہے کہ کمیٹی کے مبصر کے طور پر کسی نامی گرامی سکالر یا ماہر تعلیم کو نامزد کیا جائے۔

    عدالتی حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ آرکیالوجیکل سروے کا بنیادی مقصد یہ معلوم کرنا ہے کہ کیا متنازعہ مقام پر موجود ’مذہبی عمارت‘ کسی دوسری مذہبی عمارت کے اوپر قائم کی گئی تھی یا یہ کسی بھی قسم کی رد و بدل کا نتیجہ ہے۔

    کمیٹی اس بات کا بھی پتا لگائے گی کہ کیا مسجد سے پہلے اس مقام پر کوئی ہندو مندر قائم تھا جس کی جگہ پر بعد میں مسجد قائم کی گئی ہو۔آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے رکن آر شمشاد کے مطابق سنہ 1991 میں بنائے گئے قانون کے تحت مقدمے پر سماعت نہیں کی جا سکتی، تاہم مقدمہ خارج کر دیا جائے۔

    آر شمشاد نے بتایا کہ مقدمہ خارج کرنے کی درخواست عدالت میں دائر کی گئی تھی، اب معاملہ الہ آباد کی ہائی کورٹ میں زیر التوا ہے کہ مقدمے پر سماعت کی جا سکتی ہے یا نہیں۔آر شمشاد نے مزید کہا کہ جب معاملہ الہ آباد ہائی کورٹ میں زیر التوا ہے تو اس صورتحال میں وارانسی کی عدالت کا مقدمے پر فیصلہ سنا دینا جائز نہیں ہے۔

  • ہیلتھ کارڈ جاری رہے گا،مفت ادویات کی فراہمی بحال کریں گے،مسلم لیگ ن

    ہیلتھ کارڈ جاری رہے گا،مفت ادویات کی فراہمی بحال کریں گے،مسلم لیگ ن

    مسلم لیگ ن کے رہنما خواجہ سلمان رفیق اور خواجہ عمران نذیر نے بتایا کہ وزیر اعلیٰ حمزہ شہباز نے محکہ صحت کی بہتری کے لیے اہم اجلاس ہوا، ہم نے ڈینگی کے مسئلہ پر بات کی، شہباز شریف نے رول ماڈل بنایا تھا جس کی دیگر ممالک نے بھی تعریف کی تاہم پچھلے دور میں حکمرانوں کی نااہلی کی وجہ سے لوگ جاں بحق ہوئے ہیں، آج ہم نے اہم فیصلے کئیے ہیں ڈینگی کے حوالے سے کام شروع کردیں گے ہم پوائنٹ سکورنگ نہیں کریں گےجو عمران خان کی حکومت کرتی رہی ہے ،وزیر اعلیٰ کے ساتھ کابینہ کا ہونا ضروری ہے جس کے آئینی اور قانونی تقاضے ہیں

    خواجہ سلمان رفیق نے عمران نزیز کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ وفاق میں عدم اعتماد کے بعد تحریک انصاف نے جو کیا اس میں سپریم کورٹ کو عمل دخل دینا پڑا جس کے بعد صورتحال بہتر ہوئی،یہی صورت حال پنجاب میں بھی پیدا کی گئی.سلمان رفیق نے کہا کہ کینسر ایک موذی مرض ہے اس کی ادویات کے حوالے سے آپ سب نے بات کی ،2018 تک ہمارا پروگرام بہتر انداز میں چلتا رہا ایک دن بھی ناغہ نہیں ہوا،بد قسمتی سے پچھلے دور میں اس پروگرام میں تعطل کیا گیا،جیسے ہی حمزہ شہباز نے ذمہ داری سنبھالی ہم نے فوری طور پر اس حوالے سے کام شروع کر دیا گیا،انہوں نے کہا کہہ صدر مملکت عارف علوی اور سابق گورنر عمر سرفراز چیمہ قانون سے کھلواڑ کر رہے ہیں.

    ،حمزہ شہباز نے ہدایت کی ہے کہ کوئی راستہ نکالا جائے جس سے ادویات کی فراہمی بحال ہو.بجٹ کی تکمیل کا عمل تحریک انصاف اور ق لیگ کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے مکمل نہیں ہو رہا.تمام مشکلات کے باوجود ہم محنت کریں گے اور آگے بڑھیں گے.خواجہ عمران نذیر نے کہا کہ عمران خان کی انا اور سابق گورنر عمر سرفراز کی خوشنودی اگرغریب عوام سے زیادہ اہم ہے تو قائم رہنی چاہیے ،لوگ آئیں گے اور چلیں جائیں گےکوئی شخص پاکستان سے زیادہ اہم نہیں ہے ،ان کو جولائی میں علم ہو گیا تھا کہ عدم اعتماد آ رہی ہے تو مارچ میں کاغذ لہرا کر سازش کا نعرہ لگایا.نواز شریف نے عالمی رہنماؤں کے دباؤ کو مسترد کر کے ایٹمی دھماکے کئیے .ان کے پاس اپنی کارکردگی دیکھانے کو کچھ نہیں ہے ان کے لنگر خانے بھی سیلانی والوں کے نکلے،آپ کا کام صرف مانگنا ہی ہے، چوہدری پرویز الٰہی کی سیاست وضع داری کو بھی آپ نے ختم کر دیا ہے.محمد خان بھٹی کو ہدایت کی گئی کہ جو بھی نتیجہ ہو بتانا وہی ہے جو پرویز الٰہی کہیں گے .پنجاب اسمبلی میں جو کچھ ہوا اس پر افسوس ہے ایسا نہیں ہونا چاہیے .ہم لوگوں کو سہولیات فراہم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، آپ نے پٹرول کی قیمت کا علان کر دیا لیکن ایک پیسہ نہیں رکھا اس کے لیے ،آپ کو بزدار کے استعفیٰ پر بعد میں یاد آیا کہ وہ غیر آئینی تھا، چوہدری سرور نے بزدار کو بلا کر استعفیٰ کی تصدیق کی.آپ منحرف اراکین کے حوالے سے بڑا شور مچا رہے ہیں لیکن جب ہمارے لوگ آپ کے ساتھ ملے تھے تب تو بڑے خوش ہوتے تھے ،آپ کے لوگ اقتدار کے لیے نہیں عوام کو جواب دینے کے لیے الگ ہوئے ہیں،شہباز گل جس کو کوئی نہیں جانتا تھا اس کو آپ نے تحریک انصاف کا ماما بنایا ہوا ہے ،مسجد نبوی میں جو کچھ ہوا شیخ رشید اور عمران خان کو اور کہیں نہیں تو اللہ کے سامنے جوابدہ ہونا پڑے گا.کینسر کی ادویات روکنے پر آپ کو جواب دینا ہو گا ،آپ خزانہ خالی چھوڑ کر گئے ہیں آئی ایم ایف کے ساتھ ایسا معاہدہ کر گئے ہیں جو کسی صورت قابل قبول نہیں.چوہدری پرویز الٰہی کے ذہن میں جو سازش تھی وہ اس پر عمل کر رہے ہیں ،آئین شکنوں کو قانون کے مطابق سزا دی جائے گی .کابینہ کی تشکیل کا راستہ بہت جلد نکلے گا اور آئین شکنوں کو سزا ملے گی ،جو ادویات ہم خرید کر گئے تھے تحریک انصاف حکومت نے انہیں سے گزارا کیا نئی نہیں خریدی،ہم کم وقت میں وہ تمام اقدامات کریں گے جس سے عوام کو سہولیات ملیں گی ،ہم سیاسی لوگ ہیں ہم چاہتے ہیں بات چیت سے راستے نکلیں،لیکن جب بات پنجاب کی عوام کی ہو گی ہمیں اپنی ذات سے بلند ہونا پڑے گا ،سلمان رفیق کا کہنا تھا کہ ہیلتھ کارڈ میاں نواز شریف نے شروع کیا تھا لیگل فریم ورک ہمارے دور میں ہوا تھا،بیس لاکھ کارڈ جنوبی پنجاب کے شہروں میں بانٹ دئیے تھے.ہم ہیلتھ کارڈ جاری رکھیں گے اور اس میں بہتری لائیں گے،منحرف اراکین پر تحریک انصاف کو سیخ پا ہونے کی ضرورت نہیں ہے،پرویز الٰہی تحریک انصاف کی پارلیمانی پارٹی سے تعلق نہیں رکھتے نہ ان کی تقرری کا نوٹیفکیشن جاری ہوا،جن مریضوں کا کانٹریٹ ہے ان کو ادویات مل رہی ہیں،جن کو نہیں مل رہی ان کے لیے بھی کوئی راستہ نکالیں گے

  • بھارت:زندگی سے تنگ مسلمان ماہی گیروں کی موت کے لیے درخواست

    بھارت:زندگی سے تنگ مسلمان ماہی گیروں کی موت کے لیے درخواست

    گجرات:بھارتی ریاست گجرات کی ہائیکورٹ میں حال ہی میں تقریباً 600 مسلمان ماہی گیروں کی جانب سے قتل رحم کی ایک درخواست دائر کی گئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ وہ زندہ رہنا نہیں چاہتے اس لیے اُنہیں مرنے کی اجازت دی جائے۔

    بھارتی ریاست گجرات کے مسلم ماہی گیروں کا کہنا ہے کہ اُنہیں مذہبی امتیاز کے باعث اس قدر سیاسی ظلم و ستم کا سامنا ہے کہ اب وہ جینا ہی نہیں چاہتے۔ واضح رہے کہ ان مسلمانوں کا تعلق عدم تشدد کی سوچ کے علمبردار مہاتما گاندھی کے آبائی وطن سے ہے۔

    یہ درخواست پوربندر کے ساحلی علاقے گوساباڑا میں رہنے والے سو مسلم ماہی گیروں کے خاندانوں کی نمائندگی کرنے والے مسلم فشرمین سوسائٹی کے سربراہ اللہ رکھا اسلام نے دائر کی ہے۔

    اطلاعات کے مطابق گزشتہ ہفتے گجرات ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ مقامی حکومت مسلم کمیونٹی کو کوئی سہولیات فراہم نہیں کرتی جنہیں کام کرنے اور کچھ کمانے کی اجازت نہیں ہے۔ مسلم ماہی گیر خاندانوں کی معاشی صورتحال انتہائی حد تک خراب ہوچکی ہے۔ مسلم ماہی گیروں نے ریاستی وزیراعلیٰ اور گورنر تک بھی اپنی شکایت پہنچائی ہے تاہم تمام تر کوششوں کے باوجود کسی نے بھی ان کی فریاد نہیں سنی۔

    اسماعیل بھائی کا الزام ہے کہ حکام مذہب کی بنیاد پر ان ماہی گیروں کے خاندانوں کو ہراساں کر رہے ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ہندو ماہی گیروں کو تمام سہولیات باقاعدگی سے فراہم کی جاتی ہیں لیکن لائسنس ہونے کے باوجود مسلم ماہی گیروں کو کام کرنے کی اجازت تک نہیں۔

    درخواست گزار کے وکیل دھرمیش گورجر نے مقامی میڈیا کو بتایا کہ 2016ء سے گوساباڑی بندرگاہ میں کشتیوں کی نقل و حرکت پر پابندی عائد ہے اور مسلم ماہی گیروں کو لائسنس ہونے کے باوجود کام کرنے نہیں دیا جا رہا ہے۔

  • یوکرین جنگ کےباعث 48لاکھ یوکرینی ملازمتوں سےمحروم ہوچکے

    یوکرین جنگ کےباعث 48لاکھ یوکرینی ملازمتوں سےمحروم ہوچکے

    ماسکو:یوکرین جنگ کے باعث 48 لاکھ یوکرینی ملازمتوں سے محروم ہوچکے ،اطلاعات کے مطابق روس کی جانب سے رواں برس 24 فروری کو يوکرين پر کیے گئے فوجی آپریشن نے یوکرین کی معیشت کو بھاری نقصان پہنچایا ہے۔ روسی فوجی آپریشن کی شروعات سے لے کر اب تک 48 لاکھ یوکرینی شہریوں کی ملازمتيں ختم ہو چکی ہيں۔

    یہ تعداد يوکرين ميں کل ملازمتوں کا تيس فيصد ہے۔ اقوام متحدہ نے بھی یوکرین میں 48 لاکھ افراد کے بے روزگار ہونے کی تصدیق کی ہے۔

    ملازمتوں اور کارکنان کے حوالے سے کام کرنے والی عالمی تنظیم انٹرنيشنل ليبر آرگنائزيشن (آئی ايل او) نے يوکرين ميں جنگ کے اثرات پر پہلی مرتبہ باقاعدہ رپورٹ جاری کی ہے۔

    انٹرنيشنل ليبر آرگنائزيشن کا یوکرین جنگ کے بارے ميں کہنا ہے کہ اقتصادی رکاوٹوں اور بڑے پيمانے پر لوگوں کے بے گھر ہونے اور پناہ گزين بننے سے روزگار کی مارکیٹس اور خاندانوں کی مجموعی آمدن بری طرح متاثر ہو رہی ہيں۔

    آئی ایل او کی مرتب کردہ رپورٹ کے مطابق اب تک 50 لاکھ سے زائد یوکرینی خواتین، بچے، بوڑھے اور مرد پڑوسی اور دیگر ممالک میں پناہ لے چکے ہیں جن میں سے تقریباً 27 لاکھ کے قریب وہ جواں عمر افراد ہیں جو ملازمت کرنے والے ہیں۔ اِن میں سے 43.5 فيصد یعنی تقریباً 12 لاکھ افراد جنگ کے باعث اپنی ملازمتوں سے محروم ہو چکے ہیں۔

    انٹرنيشنل ليبر آرگنائزيشن کی اس رپورٹ کے مطابق اگر یوکرین میں جاری جنگ فوری طور پر رک جاتی ہے تو 34 لاکھ ملازمتيں واپس بحال ہو سکتی ہيں جس سے بے روزگاری کی مجموعی شرح 8.9 فيصد ہو گی۔ دوسری جانب اگر جنگ جاری رہتی ہے تو 70 لاکھ تک ملازمتيں ختم ہونے کا امکان ہے جس سے یوکرین میں بے روزگاری کی شرح 43.5 فيصد تک کی خطرناک سطح پر پہنچ سکتی ہے۔

  • محکمہ صحت اور ینگ ڈاکٹرزمیں کامیاب مذاکرات، ہسپتالوں میں اوپی ڈی ہڑتال موخر

    محکمہ صحت اور ینگ ڈاکٹرزمیں کامیاب مذاکرات، ہسپتالوں میں اوپی ڈی ہڑتال موخر

    لاہور :محکمہ صحت اور ینگ ڈاکٹرز کے مذاکرات کامیاب ہو گئے. ینگ ڈاکٹرز نے جناح ہسپتال سمیت دیگر ہسپتال میں اوپی ڈی ہڑتال موخر کر دی.

    محکمہ صحت نے صدر وائے ڈی اے جناح ہسپتال ڈاکٹر نوید کی معطلی کے معاملے پر تین رکنی انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی، کمیٹی کی کنوینر ڈین آئی پی ایچ ڈاکٹر زرفشاں طاہر، ایم ایس لیڈی ایچیسن، ڈپٹی سیکرٹری جنرل سپشلائزد پر مشتمل ہیں، کمیٹی تین روز میں اپنی رپورٹ محکمہ صحت کو پیش کرے گی.

    دوسری طرف جناح ہسپتال کے اوپی ڈی میں تاحال جزوی کاونٹر بحال کیا گیا ہے. جناح ہسپتال کے او پی ڈی میں پرچی لینے کیلئے مریضوں کی لمبی لمبی لائنیں لگ گئی اور اکثر مریضوں کو عملے کی غیر حاضری کے باعث ٹیسٹ رپورٹ لینے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑرہا ہے، مریضوں کا کہنا ہے کہ نئی حکومت کو چاہیے کہ ہسپتالوں کے حالات بہتر کرے. دور دراز سے کرایہ خرچ کر کے آتے ہیں لیکن یہاں پر ہرتال ملتی ہے. آئے روز ہڑتالوں کی وجہ سے علاج معالجے میں شدید مشکلات پیش آتی ہیں.

  • بھارت:تاج محل کے پیچھے پڑے انتہاپسند بی جے پی رہنماؤں کا نیا دعوٰی

    بھارت:تاج محل کے پیچھے پڑے انتہاپسند بی جے پی رہنماؤں کا نیا دعوٰی

    نئی دہلی :تاج محل کےپیچھے پڑے انتہاپسند بی جے پی رہنماؤں کانیادعوٰی،اطلاعات کے مطابق بھارت کی انتہا پسند حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے جنونی رہنما جو عرصے سے تاج محل پر اپنی ملکیت جتانے کے دعوے کرتے رہے ہیں، اب اس زمین کا نیا وارث کھوج لائے ہیں۔

    بھارتیہ جنتا پارٹی کی رکن پارلیمنٹ دیا کماری نے دعوٰی کیا ہے کہ جس زمین پر تاج محل تعمیر کیا گیا وہ اس سے قبل جے پور کے شاہی خاندان کی ملکیت تھی جو مغل بادشاہ شاہجہاں نے ان سے لے لی تھی اور اُن کے پاس اِس کے کاغذات موجود ہیں۔ دیا کماری خود بھی جے پور کے شاہی خاندان سے تعلق رکھتی ہیں۔

    خیال رہے کہ چند روز قبل ہی الہ آباد کی عدالت میں پٹیشن دائر کی گئی تھی جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ تاج محل میں بنے 20 کمرے کھولے جائیں تاکہ اُن میں ہندو مورتیوں کی ممکنہ موجودگی کی جانچ کی جا سکے۔ یہ پٹیشن بھی بی جے پی کے ہی ایک ضلعی میڈیا انچارج راجنیش سنگھ کی جانب سے 4 مئی کو دائر کی گئی تھی۔

    بی جے پی رکن پارلیمنٹ دیا کماری نے راجنیش سنگھ کی پٹیشن کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ تاج محل کی تاریخ کے حوالے سے حقائق سامنے لائے جانے چاہئیں، عوام کو معلوم ہونا چاہیے کہ تاج محل کے بند کمروں میں کیا ہے۔

    دیا کماری نے کہا کہ کیس عدالت میں ہے، تاج محل کی زمین اُن کی ہے یا نہیں اِس بارے میں وہ کچھ نہیں کہہ سکتیں کیونکہ اُنہیں نہیں معلوم کہ اُس وقت کیا حالات تھے تاہم اگر عدالت چاہے تو وہ کاغذات دی سکتی ہیں۔

    دیا کماری یہ بھی کہتی ہیں کہ چونکہ اس وقت عدلیہ نہیں تھی، کوئی اپیل دائر نہیں کی جا سکتی تھی اس لیے اب ریکارڈ کی جانچ پڑتال کے بعد صورتحال واضح ہو سکتی ہے۔

  • ڈاکٹروں کی پرائیویٹ پریکٹس پر پابندی،حکم عدولی پر نوکری سے فارغ

    ڈاکٹروں کی پرائیویٹ پریکٹس پر پابندی،حکم عدولی پر نوکری سے فارغ

    لاہور:محکمہ پرائمری ہیلتھ کے زیرسایہ کمپنی نے ڈاکٹرز کے معاشی قتل کی ٹھان لی. پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تجت کام کرنے والی کمپنی نے ڈاکٹرز کی پرائیویٹ پریکٹس پر پابندی لگا دی.

    پنجاب ہیلتھ فیسیلٹز مینجمنٹ کمپنی پنجاب میں مختلف ہیلتھ سنٹرز رن کررہی ہیں، پی ایچ ایف ایم سی (PHFMC) نے تمام ڈاکٹرز کو مراسلہ جاری کردیا ہے جس کے مطابق ڈاکٹرزکو ہدایت کی گئی ہے کہ پرائیویٹ پریکٹس نہ کرنےکیلئے بیان حلفی جمع کروائے جائیں.

    پنجاب کے 14 اضلاع میں 931 بنیادی مرکز صحت اور 5 دیہی مرکز صحت کام کررہے ہیں. مراسلے سے پنجاب بھر میں کام کرنے والے 700 سے زائد ڈاکٹرز میں بے چینی کی لہر دوڑ گئی، مراسلہ میں مزید کہا گیا ہے کہ ڈاکٹرز پرائیویٹ پریکٹس، کاروبار یا کسی اور کاروباری سرگرمی کا حصہ نہیں بن سکتے، مراسلے میں بیان حلفی نہ دینے والے ڈاکٹرز کو نوکری سے برخاست کرنے کی دھمکی بھی دی گئی ہے. مراسلے پرڈاکٹرز کمیونٹی میں تشویش پائی جارہی ہے۔ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ پرائیویٹ پریکٹس ہمارا بنیادی حق ہےہم کسی قسم کا کوئی الائونس بھی نہیں لےرہے.


  • ٹولنٹن مارکیٹ میں فوڈ اتھارٹی کا آپریشن،2200 کلو بیمارمرغیاں تلف

    ٹولنٹن مارکیٹ میں فوڈ اتھارٹی کا آپریشن،2200 کلو بیمارمرغیاں تلف

    لاہور:پیجاب فوڈ اتھارٹی کا بیمار، لاغر مرغیاں سپلائی کرنے والوں کے خلاف ایکشن.

    ڈی جی فوڈ اتھارٹی کی سربراہی میں ٹولنٹن مارکیٹ میں کارروائی کے دوران 2200 کلو بیمار مرغیاں برآمد کر لی گئیں.ڈی جی فوڈاتھارٹی شعیب جدون کے مطابق موذی بیماریوں کا شکار کم وزن مرغیاں سپلائی کرنے والے 2 سپلائر پکڑے گئے۔

    ڈی جی فوڈاتھارٹی نے بتایا کہ نذیر پولڑی اور شکیل پولڑی سپلائر بیمار مرغیاں ٹولنٹن مارکیٹ میں سپلائی کے لئے لا رہےتھے۔ خفیہ اطلاع پر کارروائی کی گئی اور لاغرمرغیاں ذبح کر کے پیمکو بھٹی میں جلا دی گئیں۔

    برآمد شدہ زیادہ تر مرغیاں فلو،پھیپھڑوں، اور آنکھوں کی متعدد بیماریوں میں مبتلا پائی گئیں۔
    بیمار اور کم وزن مرغی کا استعمال انسانی صحت کے لیے انتہائی مضر ہے ۔ شعیب جدون نےعوام سے گزارش کی کہ مرغی ذبح کروانے سے پہلے اچھی طرح چیک کرلیں۔لاغر،کم عمریا پہلے سے ذبح شدہ مرغی ہرگز مت خریدیں۔

    ڈی جی فوڈ اتحارٹی نے شہریوں تک معیاری اور صحت بخش گوشت کی ہر ممکن فراہمی کیلئے مسلسل چیکنگ کا عمل جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا