Baaghi TV

Author: +9251

  • پی ٹی آئی کے منحرف ارکان اسمبلی کو نااہل کرنے کا ریفرنس مسترد

    پی ٹی آئی کے منحرف ارکان اسمبلی کو نااہل کرنے کا ریفرنس مسترد

    اسلام آباد:پی ٹی آئی کے منحرف ارکان اسمبلی نااہل ہونے سے بچ گئے،اطلاعات کے مطابق الیکشن کمیشن آف پاکستان نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے منحرف ارکان قومی اسمبلی کو نا اہل کرنے سے متعلق ریفرنس مسترد کر دیا۔

    تفصیلات کے مطابق قائم مقام سپیکر کی جانب سے الیکشن کمیشن آف پاکستان کو پی ٹی آئی کے 20 منحرف ارکین قومی اسمبلی کیخلاف ریفرنسز دائر کیے گئے تھے، الیکشن کمیشن نے راجہ ریاض، نورعالم خان، فرخ الطاف، احمد حسین ڈیہڑ، رانا قاسم نون، غفار وٹو، سمیع الحسن گیلانی، مبین احمد، باسط بخاری، عامر گوپانگ، اجمل فاروق کھوسہ، ریاض مزاری، جویریہ ظفر آہیر، وجیہہ قمر، نزہت پٹھان، رمیش کمار، عامر لیاقت حسین، عاصم نذیر،نواب شیر وسیر، افضل ڈھانڈلہ ریفرنس دائر کیے گئے تھے۔

    الیکشن کمیشن کی طرف سے متفقہ فیصلہ سناتے ہوئے کہا گیا ہے کہ پی ٹی آئی کے منحرف ارکان قومی اسمبلی پر آرٹیکل 63 اے کا اطلاق نہیں ہوتا۔ منحرف اراکین اسمبلی ڈی سیٹ ہونے سے بچ گئے۔

    اس سے قبل پی ٹی آئی کے منحرف رکن نور عالم خان کے وکیل بیرسٹر گوہر خان نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی شوکاز نوٹس کے جواب میں کہا تھا نہ پی ٹی آئی چھوڑی ہے اور نہ ہی پارلیمانی پارٹی، بعد میں پارٹی نے کہا کہ عدم اعتماد پر ووٹ نہیں دینا جو ثابت کرتا ہے کہ پارٹی نے تسلیم کیا نور عالم ان کا رکن ہے۔

    وکیل نے مزید کہا کہ نور عالم نے 3 اپریل کو اجلاس میں شرکت کی، پی ٹی آئی نے کہا تھا اجلاس میں شرکت کریں، پارٹی نے دوبارہ کوئی ہدایت نہیں کی آپ اجلاس میں شرکت نہ کریں، نور عالم نے کسی اور پارلیمانی پارٹی میں شمولیت اختیار نہیں کی۔

    ممبر الیکشن کمیشن نے پوچھا کیا نور عالم خان نے تحریک عدم اعتماد کے دن ووٹ کاسٹ کیا؟ جس پر ان کے وکیل نے کہا تحریک عدم اعتماد پر ووٹ کاسٹ نہیں کیا۔وکیل کا کہنا تھا کہ ان کے موکل پر آرٹیکل 63 ون (اے) کا اطلاق نہیں ہوتا، یہ کہتے ہیں بچوں کی شادی نہیں ہو گی، یہ ہمارے بچوں کے لیے اتنی فکر مند کیوں ہیں۔

    ممبر کمیشن ناصر درانی نے پوچھا کہ کیسے نتیجہ نکالا الیکشن کمیشن کا 5 رکنی بینچ ہی فیصلہ سنا سکتا ہے؟ جس پر گوہر خان نے کہا کہ سپریم کورٹ اس پر فیصلہ دے چکا ہے۔

  • دریائےسندھ میں پانی کی60 فیصد کمی خطرناک حد تک پہنچ گئی:شیری رحمان

    دریائےسندھ میں پانی کی60 فیصد کمی خطرناک حد تک پہنچ گئی:شیری رحمان

    کراچی:دریائےسندھ میں پانی کی60 فیصد کمی خطرناک حد تک پہنچ گئی،اطلاعات کے مطابق وفاقی وزیر برائے ماحولیاتی تبدیلی سینیٹر شیری رحمان نے کہا ہے کہ دریائے سندھ میں پانی کی 60 فیصد کمی انتہائی خطرناک ہے۔

    سینیٹر شیری رحمان نے سندھ میں پانی کے بحران پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سندھ کے بیراجوں اور نہروں میں پانی کی 52 سے 62 فیصد کمی کی وجہ سے آبادی، زراعت اور مویشیوں کو شدید نقصان کا سامنا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ دریائے سندھ میں پانی کی قلت کی وجہ سے سندھ کے کئی شہروں کو پانی نہیں مل رہا، اس وقت کوٹری ڈاؤن اسٹریم 15 ہزار کیوسک پانی ہونا چاہیے تھا لیکن 2 ہزار کیوسک سے بھی کم چھوڑا جا رہا ہے۔

    وفاقی وزیر کا کہنا ہے کہ پانی کی اس شدید قلت کی وجہ سے سندھ میں کپاس، چاول اور دیگر فصلیں تباہ ہو رہی ہیں، ہیٹ ویو اور شدید گرمی کی اس موسم میں سندھ اور جنوبی پنجاب کے علاقوں میں پانی کی قلت تشویشناک ہے۔

    شیری رحمان نے مزید کہا کہ اقوام متحدہ کے مطابق 2025 تک پاکستان خشک سالی کا شکار ہو جائے گا، پانی کی 1991 کے پانی معاہدے کے مطابق منصفانہ تقسیم ضروری ہے، ہمیں واٹر کنزرویشن اور صوبوں کے بیچ منصفانہ تقسیم کو یقینی بنانا ہوگا۔

     

    ادھرسندھ حکومت نے سندھ کے تقریباً تمام پانی کے کینالوں پر پانی کی منصفانہ تقسیم کے لئے رینجرز کی خدمات حاصل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔سندھ حکومت کی ہدایات پر سندھ کے محکمہ داخلہ نے ڈی جی رینجرز سندھ سے سندھ کے مختلف پانی کینالز پر رینجرز کی تعیناتی کے لئے خط لکھ دیا۔

     

     

    خط میں بتایا گیا ہے کہ صوبے اور ملک بھر میں پانی کی شدید کمی کے سبب صوبے بھر میں پانی کی منصفانہ تقسیم کے لئے اریگیشن ایکٹ 1979 کی شق 27 سی کے تحت بندوبست کیا گیا۔روٹیشن پالیسی پر عمل درآمد کی کوشش کے دوران صوبے کے مختلف کینالز پر محکمہ آبپاشی کے عملے، ضلعی انتظامیہ اور پولیس پر پانی چوروں کی جانب سے حملے کئے گئے ہیں۔

     

     

    صورتحال سے نمٹنے کے لئے ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ آبپاشی حکام نے رینجرز کی تعیناتی کی گزارش کی ہے، تاکہ پانی کی منصفانہ تقسیم میں رکاوٹ نہ آ سکے۔

     

  • پانی کی منصفانہ تقسیم:سندھ حکومت کا رینجرز کی خدمات حاصل کرنےکا فیصلہ

    پانی کی منصفانہ تقسیم:سندھ حکومت کا رینجرز کی خدمات حاصل کرنےکا فیصلہ

    کراچی:پانی کی غیر منصفانہ تقسیم روکنے کےلیے سندھ حکومت کا رینجرز کی خدمات حاصل کرنےکا فیصلہ:سندھ حکومت کی جانب پانی کی غیر منصفانہ تقسیم کی روک تھام کے لئے رینجرز کی خدمات حاصل کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے۔

    سندھ حکومت نے سندھ کے تقریباً تمام پانی کے کینالوں پر پانی کی منصفانہ تقسیم کے لئے رینجرز کی خدمات حاصل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔سندھ حکومت کی ہدایات پر سندھ کے محکمہ داخلہ نے ڈی جی رینجرز سندھ سے سندھ کے مختلف پانی کینالز پر رینجرز کی تعیناتی کے لئے خط لکھ دیا۔

    خط میں بتایا گیا ہے کہ صوبے اور ملک بھر میں پانی کی شدید کمی کے سبب صوبے بھر میں پانی کی منصفانہ تقسیم کے لئے اریگیشن ایکٹ 1979 کی شق 27 سی کے تحت بندوبست کیا گیا۔روٹیشن پالیسی پر عمل درآمد کی کوشش کے دوران صوبے کے مختلف کینالز پر محکمہ آبپاشی کے عملے، ضلعی انتظامیہ اور پولیس پر پانی چوروں کی جانب سے حملے کئے گئے ہیں۔

    صورتحال سے نمٹنے کے لئے ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ آبپاشی حکام نے رینجرز کی تعیناتی کی گزارش کی ہے، تاکہ پانی کی منصفانہ تقسیم میں رکاوٹ نہ آ سکے۔

    خط میں سندھ کے پھلیلی کینال، اکرم واھ، گونی کینال ڈویژن، روھڑی کینال سرکل، نصیر واھ، ھالا واھ، داد ڈویژن، کے بی فیڈر سمیت تقریباً تمام پانی کی کینالز پر رینجرز کی تعیناتی کا کہا گیا ہے۔اس سے قبل سندھ حکومت کی گزارش پر مئی کے پہلے ھفتے میں تھر ڈویژن کے جمرائو اور مٹھرائو کینالز پر رینجرز تعینات ہو چکی ہے۔

  • الحمدللہ! میں بالکل خیریت سے ہوں :چودھری شجاعت حسین

    الحمدللہ! میں بالکل خیریت سے ہوں :چودھری شجاعت حسین

    لاہور:الحمدللہ! میں بالکل خیریت سے ہوں ،سوشل میڈیا پر چلنے والی خبریں بے بنیاد ہیں، ان گمراہ کن خبروں پر دھیان نہ دیا جائے ، ان خیالات کا اظہارپاکستان مسلم لیگ کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین نے اس وقت کیا جب سوشل میڈیا پران کی وفات کی جھوٹی خبریں چلائی گئیں

    سوشل میڈیا پر مسلم لیگ ق کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین صاحب کے انتقال کے حوالے سے چلنے والی خبر میں کوئی صداقت نہیں ،خود چوہدری شجاعت حسین نے ان افواہوں کی تردید کردی ۔ ادھر پارٹی رہنماوں کی طرف سےکہا گیا ہے کہ افواہ ساز خدا کا خوف کریں ، خاندان اور چاہنے والے کس کرب سے گزریں گے ، کسی کو پرواہ ہی نہیں ،

    پارٹی رہنماوں کی طرف سے افسوس کا اظہارکرتے ہوئے کہا گیاہے کہ ایسی افواہیں انسانیت دشمنی ، ایسے شخص کے بارے میں سنسی پھیلائی جا رہی ہے ، جو لاکھوں لوگوں کی امید اور سہارا بنا ۔ چوہدری شجاعت حسین ملک اور قوم کا قیمتی اثاثہ ، جن کی وضع داری اور بالغ نظری کے مخالف بھی معترف ہیں .انکے خاندان اور کارکنوں میں اس حوالے سے شدید غم و غصہ اور اضطراب پیدا ہو گیا ہے ، انکی صحت کے حوالے سے منفی خبروں کا سلسلہ نہایت شرمناک عمل ہے.آئیں سب مل کر دعا کریں کہ اللہ رب العزت چوہدری شجاعت حسین کو مکمل صحت عطا فرمائے آمین.

    یاد رہے کہ اس سے پہلے بھی سال 2021 کے آخر میں بھی ایسی افواہیں پھیلائی گئی تھیں جس پر مسلم لیگ ق پنجاب کے ڈپٹی سیکرٹری اطلاعات خواجہ رمیض حسن نے جاری بیان میں چوہدری شجاعت حسین کی وفات سے متعلق خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ چوہدری شجاعت حسین بالکل خیریت سے ہیں۔ان کی طبیعت بہتر ہورہی ہے۔

  • اسرائیلی فورسز کے ہاتھوں الجزیرہ کی معروف صحافی کا قتل، وزیراعظم کی شدید مذمت

    اسرائیلی فورسز کے ہاتھوں الجزیرہ کی معروف صحافی کا قتل، وزیراعظم کی شدید مذمت

    باغی ٹی وی : وزیراعظم کی جانب سے اسرائیلی فورسز کے ہاتھوں قتل کی جانے والی الجزیرہ کی معروف صحافی کے افسوسناک واقعے کی شدید مذمت کی گئی ہے۔

     

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اپنے ایک پیغام میں وزیراعظم شہباز شریف نے الجزیرہ کی معروف صحافی کے قتل کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی ہے۔وزیراعظم نے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ الجزیرہ کی معروف صحافی شیریں ابو اکلیح کے اسرائیلی فورسز کے ہاتھوں قتل کی شدید مذمت کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ مظلوم لوگوں کی کہانیاں سنانے والوں کی آواز کو خاموش کرنا اسرائیل کی جانب سے استعمال کی جانے والی سوچی سمجھی حکمت عملی کا حصہ ہے۔

     

     

    خیال رہے کہ ازہ ترین واقعے میں ظالم اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے الجزیرہ ٹی وی کی معروف خاتون رپورٹر شیریں ابو عاقلہ جاں بحق اور ان کے ہمراہ موجود صحافی علی السمودی شدید زخمی ہو گئے۔

    الجزیرہ ٹیلیویژن کی تفصیلات کے مطابق اسرائیلی فوج نے مغربی کنارے میں جنین پناہ گزین کیمپ پر دھاوا بول کر ایک گھر کا محاصرہ کر لیا تھا۔ اس دوران اسرائیلی فوج کی مسلح افراد کے ساتھ شدید جھڑپیں ہوئیں۔ اِن جھڑپوں میں اسرائیلی فوج کی فائرنگ کا نشانہ بننے والے دو صحافی شدید زخمی ہو گئے۔ ایک خاتون صحافی شیریں ابو عاقلہ جاں بحق اور علی السمودی زخمی ہوگئے۔

    فلسطینی وزارت صحت کا کہنا تھا کہ ابو اقلہ کے سر میں گولی لگی تھی جبکہ ایک اور فلسطینی صحافی کو بھی گولی لگنے کا واقع پیش آیا ہے تاہم یروشلم میں مقیم القدس اخبار کے لیے کام کرنے والے علی سامودی کی حالت مستحکم بتائی گئی ہے۔

     

     

    رپورٹ کے مطابق گولی لگنے کے بعد صحافی کو فوری اسپتال لے جایا گیا، لیکن ان کی جان نہیں بچائی جا سکی، اور ڈاکٹرز نے ان کے مرنے کی تصدیق کی۔ الجزیرہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ صحافی کی موت کے حالات ابھی تک واضح نہیں ، لیکن واقعے کی ویڈیوز سے پتہ چلتا ہے کہ شیریں ابو اقلہ کو سر میں گولی ماری گئی تھی۔

     

     

    انہوں نے کہا کہ ان صحافیوں کے لیے ایک بہت مشکل وقت ہے جو ان کے ساتھ وہاں کام کر رہے تھے۔جھڑپیں آئی ڈی ایف، شن بیٹ اور بارڈر پولیس فورسز کی گرفتاری کی کارروائیوں کے بعد شروع ہوئیں، جن میں جنین پناہ گزین کیمپ، برکین قصبے کے قریب اور مغربی کنارے کے متعدد دیگر مقامات پر بھی شامل ہے۔

    جنین میں آپریشن کے دوران، فلسطینیوں کی طرف سے "بڑے پیمانے پر لائیو فائر” کے طور دیسی ساختہ دھماکہ خیز آلات بھی پھینکے فوجیوں نے براہ راست فائرنگ کا جواب دیا۔فلسطین اور بیرون ملک سے بہت سے لوگ سوشل میڈیا پر صحافی کی بہادری اور اسرائیلی جارحیت کے خلاف آواز بلند کر رہے ہیں۔

    اسرائیلی فوج نے کہا کہ وہ اس بات سے آگاہ ہیں کہ صحافی زخمی ہوئے ہیں، "ممکن ہے فلسطینیوں کی فائرنگ سے” لیکن ایسا نہیں ہے کہ کوئی ہلاک ہوا ہے آئی ڈی ایف کے عربی زبان کے ترجمان لیفٹیننٹ کرنل Avichai Adraee کے مطابق، اسرائیل نے فلسطینی اتھارٹی کے ساتھ ان کی موت کی مشترکہ تحقیقات شروع کرنے کی پیشکش کی۔

  • راجستھان :ضلع جودھ پور کے مزید علاقوں میں کرفیو کا نفاذ، انٹرنیٹ معطل

    راجستھان :ضلع جودھ پور کے مزید علاقوں میں کرفیو کا نفاذ، انٹرنیٹ معطل

    جودھ پور:: عید سے ایک روز قبل شروع ہونے والے فرقہ وارانہ فسادات اب دوسرے ہفتے میں داخل ہوچکے ہیں ، ادھر بھارتی ریاست راجستھان کے ضلع جودھ پور میں فرقہ وارانہ تصادم کے دوران کرفیو نافذ کر دیا گیاہے۔

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق جودھ پور کے قصبے بھیلواڑہ میں ایک 22 سالہ ہندو نوجوان کو مسلم کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے نوجوان کی طرف سے مبینہ طور پر چاقو کے وار کیے جانے کے بعد کشیدگی بڑھ گئی ہے۔

    قتل منگل کی شام کوتاوالی پولس تھانہ علاقہ میں ہوا تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ قتل کا یہ واقعہ ذاتی تنازع کیوجہ سے پیش آیا۔ ایک اہلکار نے ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ اس معاملے میں اب تک تین ملزم گرفتار کیے گئے جو سبھی نابالغ ہیں۔حکام نے علاقے میں انٹرنیٹ کو بھی معطل کر دیا ہے ۔

    ہندوتوا تنظیموں وشو ہندو پریشد اور ہندو جاگرن منچ نے آج علاقے میں ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔ صورتحال کو قابو میں رکھنے کے لیے علاقے میں بڑی تعداد میں پولیس اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق 5 پولیس اہلکاروں سمیت کئی دیگر افراد زخمی ہوئے۔

    یاد رہے کہ ایک ہفتہ قبل جب عید کی نماز کے بعد فریقین کے درمیان جھڑپوں کا ایک اور سلسلہ شروع ہوا جبکہ کچھ لوگوں نے جلوری گیٹ کے قریب پتھراؤ کیا جھڑپوں کے دوران فسادیوں نے کئی گاڑیوں کے شیشے بھی توڑ دیے اور کئی اے ٹی ایم میں بھی توڑ پھوڑ کی اطلاعات موصول ہوئیں۔

    ایک ہفتہ گزرنے کےباوجود ابھی تک حالات قابو میں نہیں آرہے اور یہ بھی خبریں گردش کررہی ہیں کہ یہ فرقہ وارانہ فسادات اب پورے راجھستان میں پھیل گئے ہیں

    ادھر تازہ جھڑپوں اور فسادات کے باعث جودھ پور کے مزید کئی علاقوں میں کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے جبکہ ضلعی انتظامیہ نے گزشتہ رات سے ہی انٹرنیٹ سروسز معطل کر دی ہیں۔ دوسری جانب راجستھان کے وزیر اعلیٰ اشوک گہلوت نے جھڑپوں کو بدقسمتی قرار دیتے ہوئے کہا کہ انتظامیہ کو شہر میں ہر قیمت پر امن و امان برقرار رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

  • بابری مسجد کی طرح ”گیا نواپی مسجد“ کو بھی منہدم کرنے کی دھمکی

    بابری مسجد کی طرح ”گیا نواپی مسجد“ کو بھی منہدم کرنے کی دھمکی

    لکھنو: بابری مسجد کی طرح ”گیا نواپی مسجد“ کو بھی منہدم کرنے کی دھمکی ،اطلاعات کے مطابق اپنے متنازعہ اور فرقہ وارانہ بیانات اور نفرت پھیلانے کے لیے مشہور بھارتیہ جنتاپارٹی کے رہنما سنگیت سوم نے ریاست اتر پردیش کے شہر بنارس میں واقع مغل دور کی ” گیانواپی مسجد“ کو بھی بابراہ مسجد کی طرح منہدم کرنے کی کھلی دھمکی دی گئی ہے۔

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق سنگیت سوم نے میرٹھ شہر میں ایک تقریب میں گیانواپی مسجد پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ لوگوں کو 1992 کو یاد رکھنا چاہیے جب بابری مسجد کو منہدم کیا گیا تھا۔ انہوںنے کہا کہ اب نوجوانوں کی طاقت دوگنی ہو گئی ہے اور وقت آ گیا ہے کہ ایک اور فیصلہ کیا جائے۔انہوںنے ہرزہ سرائی کرتے ہوئے کہا کہ مغل شہنشاہ اورنگ زیب جیسے لوگوں نے مندر کو گرا کرنواپی مسجد بنائی ہے اور اب مندر کو واپس لینے کا وقت آگیا ہے۔
    سنگیت سوم نے اپنے فیس بک پیج پر بھی لکھا کہ "اورنگ زیب نے گیانواپی مسجد بنائی۔ 1992 میں بابری منہدم کی گئی اور اب 2022 میں گیانواپی کی باری ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ اس مندر کو واپس لیا جائے جسے مسجد بنانے کے لیے منہدم کیا گیا تھا“۔

    کانگریس کے ترجمان سریندر راجپوت نے سوم کے متنازعہ اور غیر ذمہ دارانہ بیان پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ یہ بالکل بی جے پی کا گیم پلان ہے کہ معاشرے میں بدامنی اور تقسیم پیدا کی جائے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ بی جے پی کو اس طرح کے بیانات سے سماجی تانے بانے کو پہنچنے والے نقصان کا احساس کرے گی۔ انہوںنے کہا کہ گیانواپی کا مسئلہ اٹھایا گیا ہے اور اسی طرح تاج محل کا مسئلہ بھی اٹھایا جائے گا ہے اور ہم خطرناک وقت کی طرف بڑھ رہے ہیں۔

  • بھارت: تاج محل، قطب مینار ہندو انتہاپسندوں کے کا خصوصی ہدف بن گئے

    بھارت: تاج محل، قطب مینار ہندو انتہاپسندوں کے کا خصوصی ہدف بن گئے

    آگرہ: تاج محل، قطب مینار ہندو انتہاپسندوں کے کا خصوصی ہدف بن گئے ہیں اور یہ بھی اطلاعات ہیں کہ بھارتیہ جنتاپارٹی کے رہنما ﺅں نے الہ آباد ہائیکورٹ کے لکھنو بنچ میں ایک عرضداشت دائر کر دی ہے جس میں تاج محل میں بند پڑے 22کمروں کو کھلوانے اور ان کی جانچ کرانے کے حکامات جاری کرنے کی استعدا کی گئی ہے۔عرضداشت پر کل(جمرات ) کو سماعت ہو گی۔

    کشمیر میڈیاسروس کے مطابق عرضداشت داخل کیے جانے جانے بعد ہندﺅں میں خوشی کی لہر ڈوڑ گئی ہے اور ایک ہندو توا رہنما سنجے جاٹ نے پیر کے روز تاج محل پہنچ کر لڈو تقسیم کرنے کی کوشش کی تاہم پولیس نے انہیں اور انکے ساتھ آئے ہوئے دیگر ہندو جنونیوں کو بیریکیڈنگ سے آگے نہیں بڑھے دیا۔ عرضداشت میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ تاج محل میں ان بند کمروں میں دیوی دیوتاﺅں کی مورتیاں رکھی ہوئی ہیں۔ ہندو توا رہنماﺅں کا کہنا ہے کہ ا ب عدالت کے ذریعے یہ طے ہو جائے گا کہ یہ تاج محل ہے یا تیجومہالیہ۔

    دوسری جانب ہندو تو ا جنونیوں کی قطب مینار کےخلاف بھی سرگرمی بڑھ گئی ہے ۔ ہندو توا تنظیموں کے تقریباًدو درجن کارکنوں نے قطب مینار کے قریب نہ صرف ہنو مان چالیسہ کیابلکہ مینار کا نام بدل کر ”وشنوا ستمبھ“ رکھنے کا بھی مطالبہ کیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطا بق ہندو توا تنظیم مہا کال مانو سیوا اور یونائیٹڈ ہندو فرنٹ کا کہنا ہے کہ قطب مینار کو مغلوں نے ہم سے چھینا تھا اور اب ہمار امطالبہ ہے کہ اسکا نام بدل کر وشنوا ستھبھ رکھا جائے ۔ ہندو تو جنونیوں نے قطب مینا ر کے باہر مظاہرے کے دوران جے شری رام کے نعرے بلند کیے۔

    انہوں نے دعویٰ کیا کہ پہلے قطب مینار کا نام وشنو استمبھ تھا لیکن مغلوں نے اس کا نام بدل کر قطب مینار کھ دیا۔ ہندو تو ا بریگیڈ کے مظاہرے کو دیکھتے ہوئے قطب مینا ر کی سیکورٹی بڑھا دی گئی ہے۔

  • سعودی عرب  پاکستان میں کیا چاہتا ہے رانا تنویر حسین نے بتادیا

    سعودی عرب پاکستان میں کیا چاہتا ہے رانا تنویر حسین نے بتادیا

    اسلام آباد:سعودی عرب پاکستان میں کیا چاہتا ہے رانا تنویر حسین نے بتادیا،اطلاعات کے مطابق رانا تنویر حسین نے کہا ہے کہ سعودی عرب کی جانب سے تعلیم کے شعبے میں ترقی کی جا رہی ہے۔

    وفاقی وزیر تعلیم رانا تنویر حسین نے کہا کہ ان کا دورہ سعودی عرب انتہائی کامیاب رہا، جہاں انہوں نے سعودی دارالحکومت ریاض میں مسلم لیگی ارکان سے ملاقات کی۔

    ملاقات میں وفاقی وزیر تعلیم رانا تنویر حسین کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کی جانب سے تعلیم کے شعبے میں بے پناہ ترقی کی جا رہی ہے اور اصلاحات کے ذریعے تعلیمی نظام کو بہتر بنایا جا رہا ہے جسکی وجہ سے پاکستان اور سعودی عرب کی وزارتوں کی جانب سے جوائنٹ ورکنگ گروپ بھی تشکیل دیا جا رہا ہے جس کے ذریعے دونوں ممالک تعلیمی میدان میں ایک دوسرے کے تجربات سے استفادہ کریں گے۔

    وفاقی وزیر نے کہا ہے کہ سعودی یونیورسٹیوں میں پاکستانی طلباء کے لئے اسکالرشپ میں بھی اضافہ کیا گیا ہے۔

    سعودی عرب میں مقیم مسلم لیگ ن کے عہدیداروں کا کہنا تھا کہ اوورسیز پاکستانی نوازشریف کا ہراول دستہ ہیں اور پارٹی کو مضبوط بنانے کے لئے کام کر رہے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ ہمیں امید ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف اوورسیز پاکستانیوں کو درپیش مسائل کو حل کرنے کے لئے بھرپور توجہ دیں گے۔

    وفاقی وزیر تعلیم رانا تنویر سے ملاقات میں مسلم لیگ ن سعودی عرب کے سنئیر نائب صدر محمود الحق ڈوگر، صدر ریاض ریجن عدنان اقبال بٹ، ظہیر احمد مغل، ضرار بلوچ اور دیگر شامل تھے

  • ٹوئٹر کے مالک نے ٹرمپ پر عائد پابندی ختم کرنے کا اعلان کردیا

    ٹوئٹر کے مالک نے ٹرمپ پر عائد پابندی ختم کرنے کا اعلان کردیا

    واشنگٹن:ٹوئٹر کے مالک نے ٹرمپ پر عائد پابندی ختم کرنے کا اعلان کردیا،اطلاعات کے مطابق سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر کو حال ہی میں خریدنے والے دنیا کے سب سے امیر شخص ایلون مسک نے اعلان کیا ہےکہ وہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر عائد کی گئی ٹوئٹر کی پابندی ہٹادیں گے۔

    امریکی میڈیا کے مطابق ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایلون مسک کا کہنا تھا کہ مستقل پابندیاں بہت کم لگنی چاہئیں اور یہ ایسے اکاؤنٹس کے لیے ہونی چاہئیں جو نامعلوم، جھوٹی معلومات اور دھوکہ دہی کے لیے استعمال ہوتے ہوں۔

    ایلون مسک کا کہنا تھا کہ میں سمجھتا ہوں کہ ڈونلڈ ٹرمپ پر پابندی لگانا درست نہیں ، میرا خیال ہے یہ ایک غلطی تھی کیونکہ اس سے ملک (امریکا) کا ایک بڑا حصہ متاثر ہوا اور ٹرمپ کی آواز بند ہوگئی۔

    گاڑیاں بنانے والی فرم ٹیسلا اور نجی خلائی کمپنی اسپیس ایکس کے سربراہ کا کہنا تھا کہ ٹوئٹرخریدنےکامعاہدہ مکمل ہواتو میں ڈونلڈ ٹرمپ پر عائد مستقل پابندی کو ختم کروں گا۔

    تاہم ایلون مسک کا کہنا تھا کہ ابھی تک میں ٹوئٹر کا مالک نہیں بنا ہوں، اس لیے ٹرمپ پر پابندی ہٹانے کا فیصلہ لازمی نہیں اس پر عملدرآمد ہو کیونکہ اگر میں ٹوئٹر کا مالک نہیں ہوا تو کیا ہوگا۔

    خیال رہے کہ گزشتہ سال سابق امریکی صدر ٹرمپ کے حامیوں نے کیپیٹل ہل (امریکی پارلیمنٹ) عمارت پر حملہ کیا تھا جس کی حوصلہ افزائی کرنے پرٹوئٹر نے ٹرمپ کا اکاؤنٹ مستقل بلاک کردیا تھا۔

    گذشتہ ماہ ایلون مسک نے ٹوئٹرکو تقریباً 44 ارب ڈالرز میں خریدنے کا معاہدہ کیا تھا، رپورٹس کے مطابق معاہدے کے بعد ایلون مسک ٹوئٹر کے واحد شیئر ہولڈر بن گئے ہیں

    ، یہ دنیا بھر میں اب تک کی کسی بھی پرائیویٹ کمپنی کو خریدنے کا سب سے بڑا سودا ہے تاہم ابھی اس معاہدے پر عمل ہونا باقی ہے جس کے بعد ہی ٹوئٹر کا کنٹرول ایلون مسک کے پاس جائے گا۔