Baaghi TV

Author: +9251

  • ترک صدر رجب طیب اردوان 2 روزہ دورے پر سعودی عرب پہنچ گئے۔

    ترک صدر رجب طیب اردوان 2 روزہ دورے پر سعودی عرب پہنچ گئے۔

    جمال خاشقجی قتل کے بعد ترک صدر کا پہلا دورہ سعودی عرب، اردوان جدہ پہنچ گئے ،اطلاعات کے مطابق غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق ترکی کے صدر رجب طیب اردوان سعودی فرمانروا شاہ سلمان کی دعوت پر جمعرات کو 2 روزہ دورے پر جدہ پہنچے۔

    رپورٹس کے مطابق ترک صدارتی دفتر سے جاری بیان میں کہاگیا ہے کہ ترک صدر سعودی حکام سے ملاقاتوں میں دوطرفہ تعلقات بحالی پر تبادلہ خیال کریں گے جبکہ دورہ سعودیہ کے دوران ترکی کیساتھ تعاون بڑھانے پر بات چیت ہوگی۔

    خبررساں ایجنسی کے مطابق ترک صدر نے2017 کے بعد سعودی عرب کا پہلا دورہ کیا ہے کیوں کہ 2018 میں سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے بعد دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کشیدہ ہو گئے تھے۔

    یاد رہے کہ کل سعودی عرب آنے سے پہلے طیب اردوان نے کہا تھا کہ

    ترک صدر رجب طیب ایردوان نے کہا ہے کہ ترکی قانون کی حکمرانی رکھنے والی ریاست ہے اور اس میں انصاف آزاد ہے۔ انہوں نے غیزی پارک مظاہروں کے مقدمات میں تاجر عثمان کاوالہ کو سنائی جانے والی عمر قید کی سزا کے حوالے سے اندرونی اور بیرونی تنقید کو مسترد کر دیا۔

    صدر ایردوان نے افطار ڈنر سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ "ٹھیک ہے، ایک مخصوص شخص بارے تازہ ترین عدالتی فیصلے نے کچھ حلقوں کو پریشان کر دیا ہے۔ تو یہ آدمی کون ہے؟۔ یہ شخص ترکی کا ‘سوروس’ ہے۔ اور غیزی پارک کے واقعات کا پس پردہ کوآرڈینیٹر ہے۔ ہماری عدلیہ نے اس کے بارے اپنا حتمی فیصلہ دیا ہے جس کی وجہ سے کچھ حلقوں پریشان ہیں”۔

    صدرایردوان نے جارج سوروس کا حوالہ دیا، یہ ایک ارب پتی تاجر تھا جو مبینہ طور پر مقبول تحریکوں میں اپنے سرمایہ کے ذریعے اثر انداز ہوتا تھا۔ اس کی وجہ سے گزشتہ دہائیوں میں جارجیا اور یوکرائن میں منتخب حکومتوں کا خاتمہ ہوا۔ استنبول کی ایک عدالت نے اسی طرح کی ایک ترک شخصیت عثمان کاوالہ کو عمر قید اور سات دیگر مدعا علیہان کو 2013ء کے غیزی مظاہروں کے ذریعے حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش کرنے پر 18 سال قید کی سزا سنائی ہے۔ ترکی، امریکہ، یورپی یونین اور کونسل آف یورپ اور ترکی کی حزب اختلاف کی جماعتوں نے اس عدالتی سزا کی مخالفت کی ہے۔

  • وزیراعظم کیخلاف نعروں پر سعودی عرب میں قانونی کاروائی شروع

    وزیراعظم کیخلاف نعروں پر سعودی عرب میں قانونی کاروائی شروع

    لاہور:وزیراعظم کیخلاف نعروں پر سعودی عرب میں قانونی کاروائی شروع،اطلاعات کے مطابق الجزیرہ ٹی وی نے دعویٰ کیا ہے کہ سعودی عرب میں ہونے والے ایک واقعہ کی وجہ سے سعودی حکومت نے ان لوگوں کے خلاف کارروائی شروع کردی ہے جنہوں نے وزیراعظم پاکستان شہبازشریف کے خلاف چور چورآیا کے نعرے لگائے

    اس حوالے سے معلوم ہوا ہے کہ کچھ سخت سزاوں کے ساتھ ساتھ بھاری جرمانے بھی کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ، تاہم ابھی تک کتنے لوگ گرفتار ہوئے ہیں اس حوالے سے ابھی کوئی اطلاع نہیں ہے ، یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ 60 ہزار ریال تک جرمانے اور پانچ سال کی قید بھی ہوسکتی ہے

    یاد رہے کہ آج وزیراعظم شہباز شریف وفد کے ساتھ مسجد نبوی ﷺ پہنچے تو لوگوں نے چور چور کے نعرے لگادیے۔ذرائع کے مطابق مدینہ منورہ میں شہباز شریف وفد کے ہمراہ پہنچے تو لوگوں نے ان کا استقبال چور چور کے نعروں سے کیا۔

    ذرائع کے مطابق شاہ زین بگٹی، مریم اورنگزیب کو دیکھتے ہی لوگوں نے نعرے بلند کیے جبکہ شہباز شریف کی گاڑی کو گارڈز نے گھیرے میں لیے رکھا۔

    ذرائع کا بتانا ہے کہ لوگوں کی بڑی تعداد نے حکومتی وفد کا پیچھے کیا اور نعرے لگائے۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل شہباز شریف کابینہ کے ارکان کے ہمراہ مدینہ منورہ پہنچے تھے، وفد میں بلاول بھٹو، مفتاح اسماعیل، شاہ زین بگٹی مریم اورنگزیب شامل ہیں، وفد میں خواجہ آصف، چوہدری سالک حسین، خالد مقبول، محسن داوڑ بھی شامل ہیں۔

    اس سے قبل گورنر مدینہ اور شہباز شریف کی ملاقات بھی ہوئی جس میں پاک سعودی تعلقات اور دو طرفہ باہمی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    یاد رہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف سعودی قیادت سے ملاقات اورعمرہ کی سعادت حاصل کریں گے۔

  • وزیراعظم کی روضہ رسول ﷺ پر حاضری، ریاض الجنہ میں افطار اور نماز ادا کی

    وزیراعظم کی روضہ رسول ﷺ پر حاضری، ریاض الجنہ میں افطار اور نماز ادا کی

    وزیرِ اعظم شہباز شریف نے مسجدِ نبوی میں روضہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر حاضری دی اور نمازِ مغرب ادا کی۔وزیراعظم شہبازشریف وفد کے ہمراہ تین روزہ دورے پر سعودی عرب پہنچے تو مدینہ منورہ کے گورنر نے ان کا استقبال کیا۔

    گورنر سے استقبالیہ ملاقات کے بعد وزیراعظم مسجد نبوی پہنچے جہاں انہوں نے وفد کے ہمراہ روضہ رسول ﷺ پر حاضری دی اور زیارت کے بعد ریاض الجنہ میں روزہ افطار کیا۔وزیراعظم نے ریاض الجنہ میں نمازِ مغرب ادا کی اور دعا کی۔ اس موقع پر مسجد نبوی انتظامیہ کے ارکان راہنمائی کے لیے موجود تھے۔

    دورے کے دوران وزیراعظم عمرہ کی سعادت حاصل کریں گے اور سعودی قیادت سے ملاقاتیں کریں گے۔ وزیراعظم کی پاکستانی کمیونٹی سے ملاقات بھی متوقع ہے۔

  • لوگوں سےمانگناذلت اوراللہ سےمانگنافخرہے:ہماری      نسبت مدینےوالی سرکارسےہونی چاہیے:مولاناطارق جمیل

    لوگوں سےمانگناذلت اوراللہ سےمانگنافخرہے:ہماری نسبت مدینےوالی سرکارسےہونی چاہیے:مولاناطارق جمیل

    بنی گالہ: معروف مذہبی اسکالر مولانا طارق جمیل کا کہنا ہے کہ دعا کا مطلب بھیک مانگنا ہے ہم بھیک مانگیں گے لیکن غیروں سے نہیں اللہ سے مانگیں گے لوگوں سے بھیک مانگنا ذلت اور اللہ سے مانگنا فخر ہے۔

    بنی گالا میں شب دعا کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مولانا طارق جمیل نے کہا کہ اللہ راضی ہے تو موت سے خوبصورت کوئی تحفہ نہیں، اللہ ناراض ہے تو تباہی ہی تباہی ہے۔

    انہوں ںے کہا کہ مسلمان قائدین ایسے گزرے جو خزانے کو امانت سمجھ کراستعمال کرتے تھے، مسلمان قائدین ایسے گزرے جن کی ریاست میں کوئی زکوٰۃ لینے والا نہیں بچا تھا، آخرت کا سوچیں دنیا کی فکرنہ کریں۔مولانا طارق جمیل نے کہا کہ سب سے درخواست کرتا ہوں اپنی زبان میں مٹھاس پیدا کریں، نبیﷺکو بھی زبان کی شدت بالکل پسند نہیں تھی۔

    انہوں نے کہا کہ سوال پوچھا گیا کہ عمران خان نے ریاست مدینہ کا تصور دیا کتنے کامیاب ہوئے جواب دیا کہ عمران خان پہلا شخص ہے جس نے ریاست مدینہ کا تصور دیا۔مولانا طارق جمیل نے کہا کہ ہماری نسبت مدینے والی سرکار سے ہونی چاہیے اور یہ ہمارے ایمان کا حصہ لازم ہے

    مولانا طارق جمیل نے بتایا کہ سوال کے جواب میں کہا کیا ظلم کرنے والے نے ظلم چھوڑا،کیا بددیانتی چھوڑی گئی، کیا چوری چھوڑی گئی، کیا جھوٹ بولنا چھوڑا گیا۔

  • پاک سرزمین کو سیاست کے لیے استعمال نہیں کرنا چاہئے ۔مریم اورنگزیب

    پاک سرزمین کو سیاست کے لیے استعمال نہیں کرنا چاہئے ۔مریم اورنگزیب

    مدینہ منورہ:پاک سرزمین کو سیاست کے لیے استعمال نہیں کرنا چاہئے،اطلاعات کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کے ہمراہ سعودی عرب کے دورہ پر موجود وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ کچھ مخصوص لوگوں نے مسجد نبویؐ کا تقدس پامال کیا، ان کے لیڈر نے سوائے بدتمیزی کے کچھ نہیں سکھایا۔

    مدینہ منورہ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مریم اورنگزیب نے کہا کہ یہ معاشرے کی تباہی ہے، میں اس شخص کا نام اس پاک زمین پر نہیں لینا چاہتی، اس پاک زمین کو سیاست کے لئے استعمال نہیں کرنا چاہتی، انہوں نے جو اس معاشرے میں تباہی کی وہ آج آپ کے سامنے ہے، بہت سا ایسا معاشرے کا حصہ اور طبقہ موجود ہے جو ان روایات کو برقرار رکھ رہا ہے، وقت لگے گا لیکن یہ رویے ہمارے مثبت رویوں سے تبدیل ہوں گے، ہمارے کارکن بھی یہاں ہیں لیکن انہیں ہدایت کی گئی کہ ایسا رویہ نہ اپنایا جائے۔

    وفاقی وزیر کا مزید کہنا تھا کہ روزہ رسول ﷺ پران لوگوں کیلئے دعا کی جو ان لوگوں کو اکساتے ہیں، مسجد نبوی ﷺ کی زمین کو سیاست کیلئے استعمال نہیں کر سکتی، سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کے نئے دور کا آغاز ہو رہا ہے، سعودی عرب کے ساتھ تمام شعبوں میں تعاون بڑھےگا، 4 سال میں قریبی دوست ممالک سے بھی تعلقات خراب ہوئے، سابق حکومت نے پوری دنیا کے تعلقات خراب کیا، انہیں بہتر کیا جائے گا۔

    توشہ خانہ کے سوال پر مریم اورنگزیب نے جواب دیا کہ معیشت بھی ٹھیک ہوجائے گی اور انشااللہ روزگار بھی ملے گا، شہباز شریف اور انکے اتحادیوں کی نیت صاف ہے، ہمارے معاشرے کا بڑا حصہ ہماری روایات اور کلچر کو جانتا ہے۔

  • ہولوکاسٹ کی حقیقت کو عرب دنیا کے سامنے لانے کی کوشش ہورہی ہے:ٹائمز آف اسرائیل

    ہولوکاسٹ کی حقیقت کو عرب دنیا کے سامنے لانے کی کوشش ہورہی ہے:ٹائمز آف اسرائیل

    تل ابیب :ہولوکاسٹ کی حقیقت کو عرب دنیا کے سامنے لانے کی کوشش ہورہی ہے:ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق، شارکا تنظیم کے ساتھ مشترکہ آپریشن میں عرب اور زیادہ تر مسلم ممالک کے نوجوان لیڈروں کا ایک گروپ آشوٹز کا دورہ کر رہا ہے، جو ہولوکاسٹ کی حقیقت کو عرب دنیا کے سامنے لانے کی کوشش کر رہا ہے، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانا ہے۔ عرب دنیا اور اسرائیل ابراہیم معاہدے کے اعلان کے بعد۔ ریاستہائے متحدہ (یو ایس) کے محکمہ خارجہ کے مطابق، اعلامیہ کا مقصد "مشرق وسطیٰ اور پوری دنیا میں باہمی افہام و تفہیم اور بقائے باہمی کے ساتھ ساتھ انسانی وقار اور آزادی کے احترام کی بنیاد پر امن کو برقرار رکھنے اور اسے مضبوط بنانے کی اہمیت کو تسلیم کرنا ہے۔

    ابراہیمی معاہدے کے اعلامیے کے مطابق، "بین المذاہب اور بین الثقافتی مکالمے” کو فروغ دینے کے لیے ایک فعال کوشش کی جا رہی ہے تاکہ ابراہیمی مذاہب یعنی اسلام، یہودیت اور عیسائیت کے درمیان امن کی ثقافت کو آگے بڑھایا جا سکے۔ اس کے علاوہ، مشرق وسطیٰ اور باقی دنیا میں پائیدار امن کو فروغ دینے پر توجہ مرکوز کی گئی ہے، جس میں "وقار اور امید” کی زندگی کو یقینی بنانے کے لیے رواداری اور احترام کی ضرورت ہے۔ اعلامیے کے ذریعے، مقصد بالترتیب سائنس، آرٹ، طب اور تجارت میں ترقی کی مدد سے "انسانی صلاحیت کو زیادہ سے زیادہ کرنا” ہے۔

    راون عثمان جو ایک شامی باپ اور لبنانی ماں کی بیٹی ہیں اور نوجوان لیڈروں کا حصہ ہیں، نے کہا کہ پہلی بار جب اس نے ایک یہودی کو دیکھا تو اسے گھبراہٹ کا سامنا کرنا پڑا۔ 38 سالہ خاتون نے کہا کہ یورپ جانے سے پہلے اس نے کبھی کسی یہودی کو نہیں دیکھا۔ عثمان نے 2011 میں فرانس منتقل ہونے سے پہلے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ سعودی عرب اور قطر میں گزارا تھا۔ عثمان نے مزید کہا کہ وہ "اسٹراسبرگ میں یہودیوں کے کوارٹر میں عبادت گاہ ڈی لا پائیکس کے ساتھ رہتی ہیں” لیکن اسے کبھی احساس نہیں ہوا کہ یہودی دراصل وہاں رہ سکتے ہیں کیونکہ لبنان اور شام میں یہودیوں کے کوارٹرز کو چھوڑ دیا گیا تھا۔

    عثمان اس وقت شارکا تنظیم کے ساتھ مشترکہ تعاون میں پولینڈ میں ہے، اور یوم ہاشوہ پر منعقد ہونے والے دنیا بھر میں ہولوکاسٹ کی یادگاری تقریبات میں سے ایک – رہنے والے بین الاقوامی مارچ میں شرکت کر رہا ہے۔ ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق، اس سال لگ بھگ 2,500 لوگ آشوٹز I سے برکیناؤ تک دو میل کا سفر کریں گے، جو کہ ایک چھوٹی جماعت ہے جو روس اور یوکرین کی جاری جنگ کے واجبات کے ماضی کے مارچ کے لیے واجب الادا ہے۔

    اس کے علاوہ، اس سال کا مارچ پہلا ہے جہاں متحدہ عرب امارات (یو اے ای) سے نوجوان مسلم رہنماؤں کا ایک وفد شرکت کر رہا ہے۔ شارکا تنظیم جس کی بنیاد مبینہ طور پر دسمبر 2020 میں رکھی گئی تھی، اسرائیل، متحدہ عرب امارات اور بحرین کی جانب سے ابراہم معاہدے پر دستخط کرنے کے چند ماہ بعد، نئے قائم ہونے والے "سفارتی اور اقتصادی تعلقات” اور دونوں کے درمیان حقیقی تعلق قائم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔

    شاراکا میں مواصلات اور عالمی امور کے ڈائریکٹر، ڈین فیفرمین کا خیال ہے کہ مصر اور اردن جیسے ممالک میں اس کا فقدان ہے جہاں کی اکثریتی آبادی بڑی حد تک لاتعلق ہے اور اکثر یہودی برادری، خاص طور پر اسرائیل سے "مخالف” ہے۔ فیفرمین نے دلیل دی ہے کہ عرب دنیا نے طویل ترین عرصے سے ہولوکاسٹ کی "انکار” کرتے ہوئے یہ دعویٰ کیا ہے کہ یہ یہودی برادری کی سازش ہے۔ فیفرمین نے مزید کہا کہ اس سال کے مارچ میں نوجوان مسلم متاثر کن افراد کی شمولیت ایک تاریخی موقع ہے کیونکہ "ان کے مختلف پلیٹ فارمز” کے ذریعے – روایتی میڈیا، سوشل میڈیا – اس کو نشر کرنے جا رہے ہیں اور اسے تعلیم کی ایک وسیع تحریک شروع کرنے کے لیے ایک پلیٹ فارم کے طور پر استعمال کریں گے۔

    ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق، وفد میں سعودی عرب، اردن، شام، لبنان، مصر، مراکش، ترکی، بحرین اور متحدہ عرب امارات کے نوجوان اثرورسوخ، کارکن، مصنفین اور سیاست دان شامل ہیں۔ لبنانی نسل کے راوان عثمان نے کہا کہ پہلی بار کسی یہودی سے ملنے سے پہلے ان کے ذہن میں یہودیوں سے رابطہ سختی سے منع تھا۔ عثمان نے مزید کہا کہ اس کے ذہن میں اس کا خیال ہے کہ یہودی خود بخود اس کی نسل کی وجہ سے اس سے نفرت کریں گے۔ نوجوان حزب اللہ کی پرستار نے جاری رکھا کہ جب اس نے مسلمانوں اور یہودیوں کی مشترکہ تاریخ کا مطالعہ کیا تو اس نے محسوس کیا کہ یہاں ایک "بیانات کی جنگ” جاری ہے جسے صرف اسی صورت میں حل کیا جا سکتا ہے جب کوئی یہودی کہانی کو سنتا اور سمجھتا ہے۔ عثمان نے مزید کہا، "مجھے لگتا ہے کہ ہمارے پاس امید ہے، ہم کسی دن امن تک پہنچ سکتے ہیں، لیکن ہمیں اس پر کام کرنا ہوگا”۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب وہ خطے کے اپنے پہلے سفر پر ہیں، یہ ان کا آخری سفر نہیں ہوگا۔

    دریں اثنا، عائشہ جلال، جو اقوام متحدہ کے تعلیمی، سائنسی اور ثقافتی ادارے (UNESCO) کے لیے بحرین کے قومی کمیشن برائے تعلیم، سائنس اور ثقافت میں کام کرتی ہیں، نے کہا کہ اسرائیل کے قومی ہولوکاسٹ یادگار اور عجائب گھر کے دورے کے دوران، انھوں نے اس کا دورہ کرنے کی خواہش ظاہر کی۔

  • حافظ محمد سعید کے گھر کے باہر دھماکے کا ماسٹر مائنڈ گرفتار

    حافظ محمد سعید کے گھر کے باہر دھماکے کا ماسٹر مائنڈ گرفتار

    لاہور:حافظ محمد سعید کے گھر کے باہر دھماکے کا ماسٹر مائنڈ گرفتار،اطلاعات کے مطابق لاہور کے پوش علاقے جوہر ٹاؤن میں ہونے والے بم دھماکے سے متعلق سیکیورٹی اداروں کو بڑی کامیابی مل ہے۔

    ڈی آئی جی سی ٹی ڈی افضال کوثر نے میڈیا کو بتایا کہ جوہرٹاؤن میں گھر کے باہر دھماکے کے ماسٹر مائند کو گرفتار کرلیا گیا ہے، جس کی شناخت سمیع الحق کے نام سے کی گئی ہے، ماسٹر مائنڈ کے ایک ساتھی کو بھی گرفتار کیا گیا ہے جس کی شناخت عزیز کے نام سے کی گئی ہے، عزیر نے دھماکے میں سہولت کاری کا کردار ادا کیا۔

    افضال کوثر نے بتایا کہ ابتدائی تفتیش میں بیرونی مداخلت کے شواہد ملے ہیں اور دہشت گردوں کی گاڑی سے غیر ملکی کرنسی بھی ملی ہے،اس کے علاوہ انار کلی دھماکے میں بھی اہم پیش رفت ہوئی ہے جلد تفصیلات سے آگاہ کیا جائیگا۔ڈی آئی جی سی ٹی ڈی نے جامعہ کراچی حملے کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ کراچی میں دھماکے کے تناظر میں لاہور میں سیکیورٹی مزید سخت کردی گئی ہے۔

    ملزم عید گل کی ٹاسکنگ اور لاجسٹک سپورٹ سمیع الحق نے کی تھی، اس واقعے میں خاتون سمیت 5 افراد کو پہلے ہی عدالت سے سزا ہو چکی ہے۔

    خیال رہے کہ لاہور کے علاقے جوہر ٹاؤن میں تئیس جون دوہزار اکیس کو دھماکا ہوا تھا، جس میں تین افراد جاں بحق اور 24 زخمی ہو گئے تھے، اسی علاقے میں جماعت الدعوۃ کے امیر حافظ محمد سعید کی رہائش گاہ بھی قائم ہے۔

    ڈی آئی جی سی ٹی ڈی کا کہنا تھا کہ جامعہ کراچی میں دہشت گردی کے بعد فیلڈ یونٹس کو الرٹ کردیا گیا،تمام ڈسٹرکٹ پولیس کو بھی سکیورٹی بڑھانے کا کہہ دیا ہے۔

  • عمران خان کا بیان گستاخی، اللہ سے معافی مانگیں ۔زاہد محمود قاسمی

    عمران خان کا بیان گستاخی، اللہ سے معافی مانگیں ۔زاہد محمود قاسمی

    للہ کے پیغمبرﷺ اس کا پیغام آگے پہنچاتے تھے ویسے ہی آپ نے میرا پیغام آگے پہنچانا ہے۔عمران خان کا یہ بیان گستاخی کے زمرے میں آتا ہے عمران خان توبہ کریں اور اللہ سے معافی مانگیں عمران خان خود کو اپنے آپ پاکستانی قوم کا مسیحا اور امام انقلاب بن کر پیش کررہا ہے جوکہ بہت بڑا فتنہ اور فساد فی الارض ہے۔ مرکزی علماء کونسل پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کے اس بیان کی پرزور مذمت کرتی ہے۔

    چیئرمین مرکزی علماء کونسل پاکستان صاحبزادہ زاہد محمود قاسمی نے مرکزی علماء کونسل پاکستان کے مرکزی عہدیداران اور چاروں صوبوں سمیت آزاد کشمیر گلگت بلتستان کے صوبائی امراء کو ہدایات جاری کی ہیں کہ وہ عمران خان کے اس بیان کی گرفت کریں اور تحریک انصاف کے لوگوں کو پابند کریں کہ وہ ایسے توہین آمیز اعلانات اور بیانات مت دیں جس سے عوام کے جذبات مجروح ہوتے ہوں دستورپاکستان1973ء اسلامی اور جمہوری ہے افواج پاکستان اس دستور کی محافظ ہے دستورپاکستان تمام اکائیوں کے درمیان ایسا عمرانی معاہدہ ہے جس کو تمام مکاتب فکر کے علماء و مشائخ کی حمایت حاصل ہے اس دستور کی موجودگی میں کسی فرد گروہ یا جماعت کو ریاست پاکستان اور اس کے اداروں کے خلاف کسی قسم کی تنقید منفی پروپیگنڈا اور مسلح جدوجہد کا کوئی حق حاصل نہیں ہے۔

    گذشتہ رات چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے دین اور اسلام کا مذاق اڑایا ہے اس سے پہلے بھی ایسے بیانات دیتے رہتے ہیں جس سے اُمت مسلمہ کے جذبات مجروح ہوتے ہیں پی ٹی آئی کے سربراہ کبھی امر بالمعروف کا نام استعمال کرتے ہیں اور کبھی ریاست مدینہ کا چار سالہ اپنے دور حکومت میں ریاست مدینہ کے قوانین پاکستان میں نافذ کیوں نہیں کئے گئے انہوں نے کہا کہ مذہب کا سیاسی استعمال بند کیا جائے دین اسلام صرف زبانی نعرے بازی کیلئے نہیں آیا بلکہ یہ دنیا کو بدلنے کیلئے آیا ہے مسلم معاشرے میں قوم کو حقیقی معنوں میں قوم بنانے کیلئے قرآن و سنت پر عمل پیرا ہونا ضروری ہے

    آج کل پی ٹی آئی کے سیاسی جلسوں میں مذہب کارڈ کے استعمال پر ہمیں سخت تشویش ہے اور اس میں جو گفتگو ہو رہی ہے وہ بھی خطرناک ہے سیاست کیلئے مذہب کے استعمال نے ہمیشہ معاشرے کو نقصان پہنچایا ہے عمران خان کی اس قسم کی گفتگو ہمیں مزید تقسیم کی طرف لے جائے گی لہٰذا سیاسی مقاصد کیلئے مذہب کے استعمال کی ہرطرح سے حوصلہ شکنی کی جائے سیاسی مقاصد کیلئے مذہب کے استعمال نے معاشرے میں انتہاء پسندی کو فروغ دیاہے عمران خان اور ان کی جماعت ریاست مدینہ کے اصطلاح جو استعمال کررہی ہے یہ ایک مذاق اور مذہب کی توہین ہے تین چار سالوں میں ریاست مدینہ کے لفظ کو سیاسی مقاصد کیلئے استعمال کیا گیا ہے

  • موجودہ وزیراعظم بھی  فرانس کے غلام نکلے ہیں:سعد حسین رضوی

    موجودہ وزیراعظم بھی فرانس کے غلام نکلے ہیں:سعد حسین رضوی

    لاہور:سعد حسین رضوی نے کہا ہے کہ موجودہ وزیراعظم بھی فرانس کے غلام نکلے ہیں۔اطلاعات کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کا فرانسیسی صدر کو دوبارہ منتخب ہونے اور ساتھ مل کر کام کرنے کی خواہش کے اظہار پر سربراہ ٹی ایل پی حافظ سعد حسین رضوی نے اپنے بیان میں کہا کہ وزیر اعظم شہباز شریف کی طرف سے گستاخ رسول کو دوبارہ فرانس کا صدر منتخب ہو نے پر مبارکباد کے پیغام کی مذمت کرتے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ موجودہ وزیراعظم بھی عمران خان کی طرح فرانس کے غلام نکلے ہیں، لبرل سیاسی شخصیا ت مغربی قوتوں کی غلام اور اپنے مذموم مقاصد کیلئے عوام کو استعمال کرتی ہیں۔

     

    حافظ سعد حسین رضوی کا کہنا تھا کہ اسلام پر اپنے حملے سے صدر میکرون یورپ اور دنیا بھر کے کروڑوں مسلمانوں کے جذبات پر حملہ آور ہوئے ہیں۔سربراہ ٹی ایل پی نے کہا کہ کسی کو حق نہیں پہنچتا کہ وہ آزادیِ اظہار رائے کی آڑ میں دنیا بھر کے کروڑوں مسلمانوں کی دل آزاری کرے۔

    انہوں نے یہ بھی کہا کہ شہباز شریف مسلمان ملک کے وزیراعظم ہیں جس منصب پر وہ فائز ہیں اُن کواتنا نااہل اور نا ہنجارنہیں ہونا چاہیے۔

    سربراہ ٹی ایل پی حافظ سعد حسین رضوی کا مزید کہنا تھا کہ جو شخص ملعون کے ساتھ مل کر کام کر نے کی خواہش رکھتاہے وہ مسلمانوں کی کیا ترجمانی کرے گا، وزیراعظم پاکستان مسلمانوں کی ترجمانی کریں نہ کہ اغیار کے غلام بنیں۔

  • وزیراعظم سعودی عرب پہنچ گئے گورنرمدینہ نے استقبال کیا

    وزیراعظم سعودی عرب پہنچ گئے گورنرمدینہ نے استقبال کیا

    اسلام آباد:وزیراعظم سعودی عرب پہنچ گئے گورنرمدینہ نے استقبال کیا،اطلاعات کے مطابق وزیر اعظم شہباز شریف کی 3 روزہ دورے پر سعودی عرب پہنچ گئے ہیں جہاں مدینہ کے گورنرفیصل بن سلمان بن عبدالعزیز نے ان کا استقبال کیا

    پاکستان کو 6 سے 8 ارب ڈالر کا ریلیف پیکج ملنے کا امکان ہے، ادھار تیل بھی ملے گا، کورونا کے دوران ملازمتوں سے فارغ ہونے والے پاکستانیوں کی بحالی بھی متوقع ہے۔

    دورہ سعودی عرب پر وفاقی وزراء، بلاول بھٹو زرداری، مفتاح اسماعیل، نوابزادہ شاہ زین بگٹی، مریم اورنگزیب، خواجہ آصف، چودھری سالک حسین، ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی اور محسن داوڑ بھی ہمراہ ہیں۔

    سعودی عرب روانگی سے قبل بات کرتے ہوئے شہباز شریف سے اپنے پیغام میں کہا کہ خوشی ہے وزیراعظم کا منصب سنبھالنے کے بعد اپنا پہلا دورہ سعودی عرب کا کر رہا ہوں، دونوں ملکوں کے تعلقات کی بنیادیں باہمی تعاون اور اعتماد پر مبنی ہیں، پاکستان سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کو خصوصی اہمیت دیتا ہے، دورے سے دوطرفہ تذویراتی تعاون کو مزید فروغ ملے گا۔

    شہباز شریف نے مسلسل تعاون پر سعودی حکومت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب نے پاکستان کی اقتصادی ترقی میں ہمیشہ اہم کردار ادا کیا، سعود ی عرب کے ساتھ تعلقات انتہائی اہمیت کے حامل ہیں، برادر ملک نے پاکستان کی ترقی میں اہم کردار اد اکیا، حالیہ دورے سے دونوں ملکوں کے درمیان دوستی کے مثالی دور کا آغاز ہوگا۔

    ادھر وزارت خزانہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف کے دورہ میں پاکستان کو 6 سے 8 ارب ڈالر کا ریلیف پیکج آسان شرائط پر مل سکتا ہے، پیکج کے تحت زرمبادلہ کے ذخائر بہتر بنانے کے لیے انتہائی شرح سود پر 3 ارب ڈالرمل سکتے ہیں۔ ادھار تیل، ایل این جی اور یوریا کھاد کی سہولت بھی میسر ہوسکتی سعودی عرب کی گارنٹی پر سعودی بینکوں سے سستے قرضوں کی فراہمی ممکن ہو سکے گی۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستانیوں کے لیے روزگار کے مواقع بڑھانے کے ساتھ ساتھ کورونا کے دوران بے روزگار ہونے والے پاکستانیوں کی نوکری بحالی کے امور پر بھی بات ہوسکتی ہے، پاکستان میں سعودی سرمایہ کاری بڑھانے، پاکستانی مصنوعات کی برآمدات بڑھانے پر بھی تبادلہ خیال ہوگا۔