Baaghi TV

Author: +9251

  • تحریک عدم اعتماد :پی ٹی آئی کراچی  نے  دھرنے کا اعلان کر دیا۔

    تحریک عدم اعتماد :پی ٹی آئی کراچی نے دھرنے کا اعلان کر دیا۔

    کراچی: تحریک عدم اعتماد :پی ٹی آئی کراچی نے دھرنے کا اعلان کر دیا۔،اطلاعات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے ہفتہ کو تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ سے قبل کراچی میں دھرنا دینے کا اعلان کیا ہے، اے آر وائی نیوز کی رپورٹ۔

    پی ٹی آئی کراچی کے صدر بلال غفار نے چار مینار چورنگی بہادر آباد کراچی پر دھرنا دینے کا اعلان کیا ہے۔

    پی ٹی آئی کے کارکنوں کو رات گیارہ بجے تک چار مینار چورنگی پہنچنے کا کہا گیا ہے۔ یہ فیصلہ پارٹی قیادت سے مشاورت کے بعد کیا گیا ہے۔

    واضح رہے کہ پی ٹی آئی کے حامی ملک بھر میں احتجاج کر رہے ہیں اور وزیر اعظم عمران خان کے خلاف ‘غیر ملکی سازش’ کا انکشاف ہونے کے بعد ان کی حمایت کے لیے سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔

    وزیراعظم عمران خان نے اپنی حکومت گرانے کی غیر ملکی سازش کے خلاف ملک گیر احتجاج کی کال دے دی۔

    یہ بات انہوں نے مشترکہ اپوزیشن کی جانب سے اپنے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کے پس منظر میں اپنی ملاقاتوں کے بعد ٹیلی فون کے ذریعے عام لوگوں سے بات چیت کرنے سے پہلے اپنی افتتاحی تقریر کے دوران کہی۔

    وزیراعظم عمران خان نے نوجوانوں سے احتجاج کرنے کی اپیل کی ہے کیونکہ قومی اسمبلی کل ان کے خلاف تحریک عدم  ہے

     

  • پھرنہ کہنا کہ بتایا نہیں تھا:مریم نواز نے پاکستان میں کچھ کرنے کی دھمکی دے دی

    پھرنہ کہنا کہ بتایا نہیں تھا:مریم نواز نے پاکستان میں کچھ کرنے کی دھمکی دے دی

    اسلام آباد:پھرنہ کہنا کہ بتایا نہیں تھا:مریم نوازنے پاکستان میں کچھ کرنے کی دھمکی دے دی،اطلاعات کے مطابق اس وقت اسلام آباد میں معاملات بڑی خطرناک صورتحال اختیار کرتے جارہےہیں اور جہاں ایک طرف پی ٹی آئی ورکروں کے بارے میں کہا جارہا ہےکہ وہ بہت غصے میں ہیں وہاں مریم نوازنے خطرناک دھمکی دے کرخطرناک عزائم ظاہر کردیئے ہیں

    اس حوالے سے معلوم ہوا ہے کہ مریم نوازنے دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ آج جو کچھ بھی آئی کے کر رہا ہے وہ صرف اس کےخلاف ڈوزیئر اورچارج شیٹ میں شامل کرے گا۔ فہرست لمبی سےلمبی ہوتی جا رہی ہے۔وہ اپنے اوراپنے لوگوں کے لیےپریشانیوں اورمصائب کو دعوت دے رہا ہے۔ وہ آج کہےگئےہرلفظ کی ناک سےقیمت ادا کرے گا۔انشاء اللہ. پھرنہ کہنا بتائے نہیں!

  • ریڈزون میں پی ٹی آئی کارکنوں کو داخل کی مذمت کرتے ہیںُ:مریم نواز

    ریڈزون میں پی ٹی آئی کارکنوں کو داخل کی مذمت کرتے ہیںُ:مریم نواز

    ریڈزون میں پی ٹی آئی کارکنوں کو داخل کرنے کے لئے پولیس کے استعمال کی مذمت کرتے ہیںُ
    وزارت داخلہ ، آئی جی اورکمشنر اسلام آباد سیاسی جماعت کے کارکن بننے سے باز رہیں پارلیمنٹ لاجز میں ہنگامہ آرائی کرانے، ارکان قومی اسمبلی کو دھمکانے، ان کا راستہ روکنے کا منصوبہ تشویشناک ہے

    وزارت داخلہ، آئی جی، کمشنر اور اسلام آباد انتظامیہ عدالت عظمی کے احکامات کی پاسداری یقینی بنائیں چیف جسٹس پاکستان کو حکومت کی طرف سے پارلیمنٹ، پارلیمنٹ لاجز اور ارکان اسمبلی کے خلاف اس منصوبہ بندی کا نوٹس لینا چاہئے

    مریم کا کہنا تھا کہ حکومتی اقدامات اٹارنی جنرل کی سپریم کورٹ میں دی گئی یقین دہانی کے منافی ہیں، یہ توہین عدالت ہے پی ٹی آئی کارکنوں اور بلوائیوں کو ڈی چوک اور اس سے آگے تک رسائی دینے کی سازش عدالتی فیصلے کے منافی ہے

    آئینی وقانونی عمل میں مداخلت، رکاوٹ اور دخل اندازی میں جو بھی اہلکار، ادارہ ملوث ہوگا، اسے قانون کے سامنے کے لئے تیار رہنا ہوگا پارلیمنٹ میں ہنگامی آرائی کرانے کی حکومتی منصوبہ بندی کی اطلاعات عمران صاحب کی ہار بدل نہیں سکتیں

     

    مریم اورنگزیب نے کہا کہ عمران صاحب پارلیمنٹ، پی ٹی وی اور سرکاری عمارتوں پر حملوں کی اپنی سیاہ روایت پھر سے دوہرانے جارہے ہیں عمران صاحب پھر سے کنٹینر سیاست شروع کررہے ہیں، ملک کو فساد کی بھٹی میں نہ جھونکیں

    مریم اورنگزیب کہتی ہیں کہ آپ ہار چکے ہیں، آئین اور قانون سے نہ لڑیں.آپ کی ہار کے ذمہ دار آپ خود ہیں، قوم کو سزا نہ دیں، خود کو سزا دیں پی ٹی آئی تحریک دہشت گردی اور فساد بن گئی ہے

  • عمران خان وزیراعظم رہیں گے یا نہیں؟ فیصلہ آج ہوگا:زرداری شریف اورفضل الرحمن متحرک

    عمران خان وزیراعظم رہیں گے یا نہیں؟ فیصلہ آج ہوگا:زرداری شریف اورفضل الرحمن متحرک

    اپوزیشن کی جانب سے وزیراعظم عمران خان کیخلاف جمع کرائی گئی عدم اعتماد کی قرارداد پر ووٹنگ آج ہوگئی جس میں یہ فیصلہ ہوجائے گا کہ عمران خان وزیراعظم کے عہدے پر رہیں گے یا فارغ ہوجائیں گے۔

    قومی اسمبلی کا اجلاس آج صبح ساڑھے 11 بجے پارلیمنٹ ہاؤس میں ہو گا۔

    قومی اسمبلی کے اجلاس کے ایجنڈے کے مطابق قائد حذب اختلاف شہباز شریف کی جانب سے وزیراعظم عمران خان کے خلاف پیش کی گئی عدم اعتماد کی قرارداد پرووٹنگ کی جائےگی۔

    وزیر اعظم عمران خان کےخلاف عدم اعتماد کی قرارداد پرووٹنگ ایجنڈےمیں شامل ہے۔ اس قرار داد میں کہا گیا ہے کہ ایوان وزیراعظم عمران خان پرعدم اعتماد کرتا ہے، عمران خان ایوان کا اعتماد کھوچکے لہٰذا وزیراعظم کے عہدے پر برقرار نہیں رہ سکتے۔

    وزیراعظم عمران خان نے تحریک عدم اعتماد پر ہونے والی ووٹنگ کے حوالے سے اپنی حکمت عملی تبدیل کرلی ہے۔

    وزیراعظم عمران خان اور پی ٹی آئی کے ارکان بھی قومی اسمبلی کے اس اجلاس میں شرکت کریں گے۔

    ذرائع کا کہنا ہےکہ وزیراعظم عدم اعتمادکا ووٹ جیتنےکے لیے پر عزم ہیں، پی ٹی آئی ارکان آج اسمبلی اجلاس میں شرکت کریں گے۔

    اس سے قبل وزیراعظم عمران خان نے بطور پارٹی چیئرمین پاکستان تحریک انصاف تمام اراکین قومی اسمبلی کو خط لکھ کر تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کے دوران اسمبلی نہ جانے کی ہدایت کی تھی تاہم اب تمام ارکان اسمبلی شرکت کریں گے۔

    وزیراعظم نے اب تک ہار نہیں مانی ہے اور انہیں پورا یقین ہے کہ وہ تحریک عدم اعتماد میں وہ سرخرو ہوکر نکلیں گے۔

    وزیراعظم کا کہنا ہے کہ میں کبھی ہارنے کا نہیں سوچتا، سارا وقت پلان کرتا ہوں کیسے جیتنا ہے، اچھا کپتان کبھی ہارنے کا نہیں سوچتا، آج کی میری ساری حکمت عملی تیار ہے ۔

    وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ بہت کم لوگوں کو میری حکمت عملی پتہ ہے، بات باہر نکل جاتی ہے۔

    متحدہ اپوزیشن کا اجلاس صبح 10 بجے پارلیمنٹ ہاؤس میں طلب کرلیا گیا ہے۔اجلاس کی صدارت اپوزیشن لیڈر شہبازشریف کریں گے۔

    سابق صدر آصف زرادری، بلاول بھٹو، مولانا اسعد محمود شریک ہوں گے۔ اجلاس میں اخترمینگل،خالد مگسی،خالد مقبول، شاہ زین بگٹی بھی شریک ہوں گے۔ اجلاس میں متحدہ اپوزیشن کے تمام پارلیمانی ممبران بھی شریک ہوں گے۔

    مولانافضل الرحمن کی طرف دیئے گئے عشائیے میں اراکین اسمبلی کو بلاول بھٹو زرداری کی ہدایت کہ کل کے اجلاس میں باقاعدہ پلان کے ساتھ شرکت کریں

    بلاول بھٹو کی طرف ریڈزون سے باہر نہ نکلنے کی بھی ہدایت کی گئی ہےن لیگی رکن اسمبلی نے کہا ہے کہ 179 ارکان اسمبلی شریک ہوئے

    سربراہ پی ڈی ایم مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ قومی اسمبلی کے اجلاس میں ہر ممبر اپنا شناختی کارڈ اور قومی اسمبلی کا کارڈ کل لازمی ساتھ لے کے جائیں،

    اجلاس میں قومی اسمبلی اجلاس کی حکمت عملی طےکی جائےگی، قومی اسمبلی اجلاس سےقبل اپوزیشن کے ممبران کی تعداد مکمل کی جائے گی، اجلاس میں آئندہ کی حکمت عملی، نئےوزیراعظم کےانتخاب پربھی مشاورت ہوگی

     

  • وزیراعظم عمران خان کا بیان سامنے آگیا

    وزیراعظم عمران خان کا بیان سامنے آگیا

    لاہور:وزیراعظم عمران خان کا بیان سامنے آگیا ،اطلاعات کے مطابق وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ جہانگیر ترین اور علیم خان سے رابطہ نہیں، وہ جو بھی کریں گے ان کے اوپر ہے، وہ جانیں ان کا اپنا فیصلہ ہے۔

    وزیراعظم کا امریکا پر حکومت گرانے کی سازش کا براہ راست الزام، نوجوانوں کو احتجاج کی کال دیدی

    نجی ٹی وی سے گفتگو میں عمران خان نے کہا کہ پنجاب شریفوں کے ہاتھ میں جانے سے بہتر ہے چوہدری پرویز الہیٰ وزیراعلیٰ ہوں ، ہمیں تمام ممالک سے دوستی کرنی چاہیے ، کسی ملک کو حق نہیں پہنچتا یہ کہے کہ اس ملک نہیں جاسکتے، معافی کی بات نہیں اگر ہم اپنی عزت نہیں کریں گے تو کوئی نہیں کرے گا۔

    وزیراعظم نے کہا کہ یہ خط قوم کے لیے ذلت ہے یہ پہلے بھی ملے ہوں گے یہ بیچارے ڈر کر چپ ہوجاتے ہوں گے، وہ سمجھے کہ یہ خط دیکھ کر میں بھی ڈر کر چپ ہوجاؤں گا، یہ ذلت کیوں ملی ؟ شہبازشریف ، نوازشریف اور زرداری جیسے لوگ ہیں جو ہاتھ باندھ کر کھڑے ہیں۔

    وزیراعظم نے کہا کہ دوستی سب سے غلامی کسی کی نہیں کریں گے، جیت تو ہم گئے ، سیاسی جماعت جیتتی تب ہے جب عوام ساتھ ہوں، باہر کی سازش اور یہاں کے غداروں نے جہاں پاکستان کو لاکر کھڑا کردیا ہے بہتر آپشن الیکشن ہے۔

  • نوازشریف پرحملہ،برطانوی میڈیابےخبر،بھارتی میڈیاچیخنےلگا:گارڈکی پیشانی پرکٹ؟پانامہ کے بعد ڈرامہ

    نوازشریف پرحملہ،برطانوی میڈیابےخبر،بھارتی میڈیاچیخنےلگا:گارڈکی پیشانی پرکٹ؟پانامہ کے بعد ڈرامہ

    اسلام آباد:نوازشریف پرحملہ،برطانوی میڈیابےخبر،بھارتی میڈیاچیخنےلگا،مذمت پاکستان میں:گارڈکی پیشانی پرکٹ؟چند منٹ پہلے پاکستانی میڈیا میں چلائے جانے والی خبرجس میں یہ آہ وبکا کی گئی کہ لندن میں‌ نوازشریف پرحملہ ہوگیا ہے اور ایک حملہ آور نے نوازشریف کو موبائل دے مارا ہے

     

    دنیاکو خبرنہیں اور بھارتی میڈیا چیخ چیخ کر کہہ رہا ہےکہ نوازشریف پرحملہ ہوگیا،بچالو اسے

    یہ کہانی بھی بڑی عجیب لگتی ہے ، پہلی تو بات یہ ہے کہ یہ حملہ جس جگہ بتایا جارہا ہے وہاں پچاس میٹر دور تک کوئی ناواقف شخص قریب نہیں آسکتا ہے ، پھردوسری اہم وجہ یہ ہے کہ وہ شخص جس نے نوازشریف کو موبائل دے مارا وہ سیکورٹی گارڈز کو عبور کرکیسے کرکے قریب آگیا اور فرض کرلیں کہ اس حملہ آور نے حملہ کیا تو پھرکس سے کیا

     

    بتایا جارہا ہے کہ حملہ آور نے موبائل دے مارا اور وہ سیکورٹی گارڈ کو لگ گیا لیکن جو زخم بتایا جارہا ہےوہ موبائل لگنے کی وجہ سے نہیں ہے ، کیوں کہ موبائل اگرقریب سے پھینکا گیا تو اس کی رفتار سو کلومیٹر فی گھنٹہ ہوتو وہ جہاں سے پھینکا گیا وہاں سے 10 میٹر سے ہوا میں سفر کرسکتا ہے اور اگر اتنی تیزی سے لگا ہے تو پھر سیکورٹی گارڈ کی پیشانی پرجہاں سے خون بہہ رہا ہے اس کے گردو نواح کا حصہ بھی متاثر ہونا چاہیے ، سوزش بھی یقینی تھی لیکن وہ کیوں نہ ہوئی ، آنکھ کے اس حصے پر کوئی چیز بھی لگے تو وہ تو بہت زیادہ سوج جاتی ہے ، جیسا کہ ہرکسی کے علم میں‌ہے

    اس کے ساتھ ساتھ یہ بتایا جارہا ہے کہ موبائل زور سے مارا جہاں موبائل لگا وہاں ارد گرد پیشانی کی جلد کا رنگ کیوں نہ تبدیل ہوا ، اورپھرجو زخم لگا اس گہرے زخم سے خون کا ایک قطرہ آکر آنکھ پر کیوں‌ رُک گیا اور بھی خون بہنا چاہیے تھا

    اس کے بعد یہ جائزہ لیں تو یہ بھی صورت حال سامنے آتی ہے کہ جو پیشانی پرزخم دکھایا جارہا ہے وہ تو ایک کٹ ہے اور اور کٹ بھی اس تکنیک سے لگایا گیا ہے کہ نہ تو گہرا ہے اور نہ ہے زیادہ پھیلا ہوا

    پھر اگر فرض کرلیا جائے کہ واقعی حملہ ہوا تو حملہ آورکہاں گیا ، اس کا نام کیا ہے ، اس کا موبائل کہاں گیا اور اگرموبائل پاس ہے تو اس میں موجود سم کا ڈیٹا دیا جاتا

    بی بی سی انگلش میں واقعہ کے کئی گھنٹے بعد تک نوازشرپف پرحملے کا کوئی ذکر نہیں 

    یہ بھی یاد رکھیں کہ اس تحقیق کے بعد پاکستانی میڈیا پرپھر ایک بار فرضی حملہ آور کو اس ڈرامے کو سچ ثابت کرنے کے لیے پیش کیا جائے لیکن یہ یاد رکھیں کہ برطانوی میڈیا اور عدالت میں یہ حقائق پیش نہیں کیے جائیں گے کیونکہ وہاں جھوٹ نہیں چلتا

    اس کےبعد آتے ہیں کہ جب یہ واقعہ ہوا تو اس وقت تو میاں نوازشریف اپنے محل میں بیٹھے چند غیرملکیوں کے ساتھ میٹنگ کررہے تھے ، میاں صاحب ان غیرملکیوں کو میٹنگ میں چھوڑ کراچانک باہر کیوں آئے ، اور پھراگرآگئے تو پھر خاموشی سے واپس کیوں چلے گئے اور ان غیرملکیوں کو کیوں نہ بتایا کہ یہ ڈرامہ ہوگیا ہے

    اس کے بعد آتے ہیں کہ حسب روایت میاں نوازشریف کی حمایت میں بھارتی میڈیا سب سے پہلے آتا ہے اور آج بھی بھارتی میڈیا نے یہ خبر بریک کی اور دھاڑیں مار مار کررورہا ہےکہ نوازشریف پر حملہ ہوگیا

    جبکہ برطانیہ جہاں سیکڑوں ادارے بین الاقوامی معاملات پر لمحہ بہ لمحہ رپورٹنگ کررہے ہیں ان کو کیوں نہ پتہ لگا کہ نوازشریف پر حملہ ہوگیا ،

    بی بی سی اردو میں کئی گھنٹے بعد تک نوازشرپف پرحملے کا کوئی ذکر نہیں 


    برطانوی نشریاتی اداروں کے ساتھ ساتھ دیگرعالمی میڈیا کو پتہ نہیں کہ نوازشریف پر حملہ ہوگیا اوربھارتی میڈیا چیخیں مار رہا ہے ، اس کے پیچھے کیا مقاصد ہیں‌؟

    پھر اگرحملہ ہوا ہے تو اسکاٹ لینڈ یارڈ کو کیوں نہ رپورٹ جمع کروائی گئی اور اس رپورٹ کی کاپیاں کیوں نہ شیئر کی گئیں اگر یہ سچ ہے تو ؟

    اتنا بڑا ڈرامہ کیوں اور کیسے ہوا اور اس کے مقاصد کیا ہیں ؟

    اس وقت پاکستان میں سیاسی عدم استحکام ہے اور آج پاکستان کے وزیراعظم کے خلاف عدم اعتماد ہونے جارہی ہے ، ملک کے مشہور میڈیا گروپس اس معاملے پرحکومت اور ریاست کے خلاف ہیں اور وہ نوازشریف اور زرداری کے پے رول کے طور پرکام کررہے ہیں ،وہ اس موقع پر حکومت کو گہرے زخم لگانے اور عوام کو یہ باور کرانے کی کوشش کررہے ہیں کہ یہ حکومت ظالم حکومت ہے اور یہ اپنےمخالفین پر حملوں میں ملوث ہے لٰہذا اسے کے خلاف نکلنا اب واجب ہوگیا ہے

    دوسرا اس کا مقصد یہ ہےکہ پاکستانیوں کے ذہنوں میں یہ تاثردیا جائے کہ یہ حکومت جارہی ہیے اوراسی وجہ سے یہ گھنونے کام کررہی ہے ، اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی تاثر دینے کی کوشش کی جارہی ہےکہ اسلام اباد میں اس حکومت کے ورکرز بڑی تعداد میں موجود ہیں اور وہ اپوزیشن کے خلاف میدان میں نکل آئے تاکہ عوام کی ہمدردیاں حاصل ہوسکیں ،

    لندن سازش کو کس طرح کمک پہنچائی جارہی ہے.پاکستان میں ہونے والی زہرآلود رپورٹنگ کی ٹائمنگ،وقت اور موضوع ،طئے شدہ منصوبے کا حصہ

    مختصر یہ کہ یہ وہی کھیل ہے جو پہلے بھی کھیلا جاتا ہے اور جھوٹ اور ڈرامہ بازی کے ذریعے پاکستانی معاشرے کو پراگندہ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے لیکن سوال یہ ہےکہ اتنے بڑے ڈرامے کرنے والے کب تک جھوٹوں کا سہارا لیں‌گے آخر کوئی تو ہے جو دیکھ رہا ہے

     

    بات یہ ہے کہ نوازشریف کے گارڈز نے ایک نوجوان پر تشدد کیا اور پھرپولیس کی کارروائی سے بچنے کےلیے یہ ڈرامہ کیا جس کا سارا منظرنامہ اس ویڈیو میں موجود ہے

     

  • ان لله وان اليه راجعون:شہازشریف کیطرف سے    قوم کی اس قدرتذلیل:کامران خان بھی بول اٹھے

    ان لله وان اليه راجعون:شہازشریف کیطرف سے قوم کی اس قدرتذلیل:کامران خان بھی بول اٹھے

    لاہور:ان لله وان اليه راجعون:شہاز شریف کی طرف سےقوم کی اس قدر تذلیل:بھکاری قراردیا،اطلاعات کے مطابق ن لیگ کے صدر شہبازشریف کی طرف سے پاکستانی قوم کو بھکاری قرار دینے اورپھراپنی اس حرکت پرڈھٹائی کے ساتھ اکڑ جانے کو جہاں قوم کوگہرے صدمے میں ڈبو دیا ہے وہاں اس ملک کے پڑھے لکھے لوگ ، بذرگ رہنما اور پاکستانی کے سینیئرصحافی بھی چُپ نہ رہ سکے اور شہبازشریف کی طرف سے قوم کی انتہائی تذلیل پر گہرے دُکھ اور رنج کا اظہار کیا ہے

    اس حوالے سے ویسے تو ہر پاکستانی کی زبان سے شہبازشریف اور ن لیگ کے اس نظریے کی مذمت کی جارہی ہے لیکن کچھ سینئر صحافیوں نے بھی شہبازشریف کی اس حرکت کو قوم کی بہت زیادہ تذلیل قرار دیا ہے

     

     

    پاکستان کے سینئر صحافی کامران خان کہتے ہیں کہ دنیا عمران خان کو یاد کرے گی اس شخص نے اپنی جان پردُکھ برداشت کرلیے لیکن اپنی قوم کی طرف اٹھنے والی میلی آنکھ کو بھی پھوڑ دیا

    کامران خان کہتے ہیں کہ آسانیاں ، تنگیاں ، خوشیاں اور غمیاں یہ آتی رہتی ہیں لیکن جس چیز کی ہر وقت ضرورت ہوتی ہے وہ خودداری ہے ، عمران خان نے قوم کو ایک سمت دی دنیا میں عزت دلوائی لیکن اس کے مقابلے میں ن لیگ اور ن لیگ کے قائدین اپنی قوم کی تذلیل پر لگے ہوئے ہیں ، خواجہ آصف تو اپنی جگہ لیکن ن لیگ کے صدر شہبازشریف نے جو اس قوم کی تذلیل کی ہے اب اس کی تلافی معذرت سے بھی نہیں ہوتی کیوں کہ یہ کسی انسان کی اندر کی کیفیت ہوتی ہے اور یہی کسی انسان کی حقیقت ہوتی ہے

    کامران خان ایک اور جگہ کچھ ایسے ہی دُکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ "شہباز شریف صاحب رحم کریں آپ شاید چند روز میں وزیر اعظم پاکستان ہوجائیں پاکستان اور پاکستانیوں کو بھکاری قرار دے کر اپنے دور کی ابتدا نہ کریں

    کامران خان کہتے ہیں کہ وزیراعظم عمران خان کے قومی غیرت و حمیت کے جاری بیانیہ کے وقت شہباز شریف کا امریکہ کے حوالے سے پاکستان کو بھکاری قرار دے کر فاش غلطی کی ، ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ قوم کو جاگ کررہنا ہے کہ کون امریکی وفادار ہیں اور کون قوم کے وفادار ہیں ، اقتدار تو آنے جانے والی چیز ہے لیکن جو اقدار اورکردار عمران خان نے دیا ہے اس سے پہلے کسی حکمران نے نہیں دیا

  • لندن میں نواز شریف پر حملے کی کوشش:شہبازشریف کی طرف سے مذمت

    لندن میں نواز شریف پر حملے کی کوشش:شہبازشریف کی طرف سے مذمت

    لندن : لندن میں نواز شریف پر حملہ:شہبازشریف کی طرف سے مذمت،اطلاعات کے مطابق مسلم لیگ ن کے قائد اور سابق وزیراعظم نواز شریف پر لندن میں حملہ، نوجوان نے موبائل فون دے مارا۔

    تفصیلات کےمطابق سابق وزیراعظم نواز شریف پر حملہ اس وقت ہوا جب وہ دفتر سے باہر آرہے تھے، اسی دوران ایک نوجوان نے ان کی طرف بڑھنے کی کوشش کی جس پر ان کے ہمراہ گارڈ نے حملہ آور کو پکڑا اور ہاتھا پائی ہوئی، نوجوان نے موبائل نواز شریف کو مارا مگر وہ گارڈ کو لگ گیا۔

     

    زخمی گارڈ کو علاج کے لئے ہسپتال منتقل کردیا گیا۔ مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے ٹویٹ کرتے گارڈ کی تصویر شیئر کی اور ایک مختصر کیپشن لکھا’انشااللہ ان کو اب نہیں چھوڑنا۔

    دوسری طرف شہبازشریف کی طرف سے کہا گیا ہے کہ وہ نوازشریف پر حملے کی مذمت کرتے ہیں اور اس واقعہ پر افسوس کا اظہار کرتے ہیں

    ن لیگ کے رہنما اسحاق ڈار نے بھی اس واقعہ پرافسوس کااظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اقتدار کو آئینی طریقے سے جاتے دیکھ کرعمران_نیازی پاکستان اور بیرون ملک PTI کارکنان کو تشدد اور دہشت گردی پر اکسا رہا ہے
    آج قائد PMLN نواز شریف پر حملہ ایک بزدلانہ اور قابل مذمت حرکت ہے۔یہ غنڈہ گردی پاگل پن کی علامت ہے۔کل فاشسٹ_اقتدار کے خاتمے کا دن پاکستان کیلئے یوم نجات ہو گا

    شریف فیملی کا کہنا ہے کہ نواز شریف پر پلاننگ کے تحت حملہ کیا گیا نوجوان دفتر کے باہر انتظار کررہا تھا پولیس کو رپورٹ کررہے ہیں سنگین واقعہ ہے

    نواز شریف پر حملے کے بعد سیکورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ نواز شریف پر حملے کرنے والا مبینہ طور پر پی ٹی آئی کارکن تھا

    ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر سامنے آئی ہے جس میں نواز شریف پر حملے کرنے والے نوجوان کو تھپڑ مارا گیا ہے کہا جا رہا ہے کہ اس نوجوان نے نواز شریف پر موبایل دے مارا تھا

  • تیسرا ون ڈے: پاکستان نے آسٹریلیا کو 9 وکٹوں سے شکست دیکر سیریز جیت لی

    تیسرا ون ڈے: پاکستان نے آسٹریلیا کو 9 وکٹوں سے شکست دیکر سیریز جیت لی

    لاہور: ون ڈے سیریز کے تیسرے اور فیصلہ کن میچ میں پاکستان نے آسٹریلیا کو 9 وکٹوں سے شکست دے کر سیریز 1-2 سے اپنے نام کرلی۔

    لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں کھیلے گئے میچ میں پاکستان کے کپتان بابر اعظم نے ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کا فیصلہ کیا۔

    آسٹریلیا کی ٹیم پہلے کھیلتے ہوئے 42 ویں اوورز میں 210 رنز بنا کر آؤٹ ہوگئی، جواب میں پاکستان نے 211 رنز کا ہدف ایک وکٹ کے نقصان پر 38 ویں اوورز میں پورا کرلیا۔

    قومی ٹیم کی فاسٹ باؤلرز کی زبردست باؤلنگ کے آگے آسٹریلوی ٹیم نے گرین شرٹس کو 211 رنز کا ہدف دیدیا۔ وسیم جونیئر اور حارث رؤف نے 3.3 شکار کیے۔

    قذافی سٹیڈیم میں کھیلے جانے والے تیسرے ون ڈے میچ میں قومی ٹیم کے کپتان بابر اعظم نے ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کا فیصلہ کیا۔

    آسٹریلیا کی بیٹنگ

    کینگروز کی ٹیم کی طرف سے اننگز کا آغاز ٹریوس ہیڈ اور ایرون فنچ نے کیا، دونوں بیٹرز کو حارث رؤف نے اپنے پہلے ہی میں پویلین بھیج دیا۔ دونوں بیٹرز کھاتہ نہ کھول سکے۔

    اس دوران مارنس لبوشین 4 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے، حارث رؤف نے وکٹ حاصل کی۔ بین مک ڈرموٹ 36، سٹونز 19 رنز بنا کر کریز چھوڑ گئے، محمد وسیم اور زاہد محمود نے وکٹ حاصل کی۔

    اس دوران ایلکس کیری اور کیمرون گرین نے مزاحمتی اننگز کھیلی اور سکور کو آگے بڑھایا۔ تاہم 61 گیندوں پر 56 رنز بنا کر کیری افتخار احمد کا نشانہ بن گئے، گرین کو محمد وسیم نے بولڈ کیا، بہرن ڈروف اور ایلس کی باری بھی بالترتیب 2.2 پر ختم ہوئی۔

    آسٹریلیا کی ٹیم 42 ویں اوورز میں 210 رنز بنا کر ڈھیر ہو گئی۔ محمد وسیم اور حارث رؤف نے 3.3 شکار کیے، شاہین شاہ آفریدی کے حصے میں دو وکٹیں آئیں۔

    پاکستانی سکواڈ

    بابر اعظم، فخر زمان، امام الحق، محمد رضوان، افتخار احمد، آصف علی، خوشدل شاہ، شاہین شاہ آفریدی، محمد وسیم جونیئر، حارث رؤف اور زاہد محمود

    آسٹریلوی سکواڈ

    فنچ، ٹریوس ہیڈ، بین میک ڈرمٹ، مارنس لبوشین، مارکس سٹوئنس، کیمرون گرین، ایلکس کیری، شان ایبٹ، نیتھن ایلس، ایڈم زمپا اور جیسن بہرن ڈروف

  • عشائیہ میں وزیراعظم نےاپوزیشن کو سرپرائزدے دیا

    عشائیہ میں وزیراعظم نےاپوزیشن کو سرپرائزدے دیا

    اسلام آباد:باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے اراکین اسمبلی کے اعزاز میں عشائیہ دیا ہے جس میں 140 اراکین اسمبلی نے شرکت کی۔ وزیراعظم عشائیہ میں پرجوش دکھائی دیئے تا ہم یوں لگتا ہے کہ اراکین انکا ساتھ چھوڑ چکے ہیں ۔عدم اعتماد پر ووٹنگ کل اتوار کو ہونی ہے اور اپوزیشن کے پاس نہ صرف نمبرز پورے بلکہ زیادہ ہیں

    گزشتہ قومی اسمبلی کے اجلاس میں اپوزیشن کے 172 اراکین نے شرکت کی تھی جس میں ایم کیو ایم اور باپ کے اراکین بھی شامل تھے پی ٹی آئی کے منحرف اراکین جو حکومت کا ساتھ چھوڑ چکے ہیں وہ اس اسمبلی اجلاس میں شریک نہیں تھے اگر وہ شریک ہوتے تو اراکین کی تعداد دو سو کے قریب ہو جاتی۔ آج کے عشائیہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کو عدم اعتماد میں کل شکست ہونے والی ہے اور اپوزیشن کی جیت ہو گی

    وزیراعظم نے سرپرائز دینے تھے مگر آج انکا عشائیہ سب سے بڑا سرپرائز نکلا جس میں وہ مطلوبہ اراکین ہی پورے نہیں کر سکے۔ وزیراعظم کے عشائیہ میں سیکورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے اور اراکین سے انکے موبایل فون جمع کر لیے گئے تھے ۔وزیراعظم کا کہنا ہے کہ امریکہ نے اپوزیشن کے ساتھ ملکر سازش کی اسکو ناکام بنایا جائے گا جنہوں نے شیروانی سلوا رکھی ہے وہ کل دیکھتے رہ جائیں گے

    دوسری جانب اسلام آباد میں تحریک عدم اعتماد کے موقع پر سیکورٹی کے سخت انتظامات ہوں گے پولیس کی بھاری نفری تعینات ہو گی ۔پی ٹی آئی نے کارکنان کو بھی بلا رکھا ہے تاہم فواد چودھری کا کہنا ہے کہ کسی قسم کا کوئی تصادم نہیں ہو گا ۔شہباز گل کا کہنا ہے کہ میڈیا پر جھوٹی خبریں دی جا رہی ہیں ہمارا تصادم کا کوئی ارادہ نہیں ہے

    ارکان پارلیمنٹ سے گفتگو میں وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ بلدیاتی انتخابات کے نتائج سے آپ کو پتا چل جانا چاہیے کہ قوم آج کس طرف ہے، اب یہ مجھے پنجاب کا کوئی بھی ضمنی انتخاب جیت کر دکھادیں، شکر ہے کہ وہ چلے گئے جو پیسا بنانے کے لیے آئے تھے۔

    وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ایسا لگ رہا ہے جیسے آپ لوگ مجھے خدا حافظ کر رہے ہیں جیسے ہم ہار رہے، مجھے تو فکر ہی نہیں کیونکہ ہم کل نہیں ہار رہے، جب تک آخری گیند نہیں پھینکی جاتی فیصلہ نہیں ہوسکتا، ذہن میں نہ ڈالیں کہ کل کیا فیصلہ ہوگا، آپ کا کپتان ماہر ہے اور کوئی پتہ نہیں کل کیا کر جائے۔

    ان کا کہنا تھا کہ لوگوں کو سازش کی سمجھ آنا شروع ہوگئی ہے، 35 سال سے چند لیڈر ملک کو لوٹ رہے۔

    وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ نوجوانوں کو کہتاہوں کہ خاموش رہنے کا وقت نہیں ہے، اچھائی اور برائی میں نیوٹرل رہیں گےتو بُرائی کا ساتھ دیں گے۔ بیرونی سازش کے خلاف سب کو احتجاج کرناچاہیے۔ عدم اعتماد پر امریکا نے اپوزیشن کیساتھ ملکر سازش کی، آج فیصلہ کریں گے سازشیوں کے خلاف کیا قانونی کارروائی کرنی ہے۔ ان کے خلاف غداری کا مقدمہ درج کرانے کا منصوبہ بنایا ہے۔

    نوجوانوں کو پیغام دیتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اس وقت فیصلہ کن موڑ پر کھڑا ہے، اس وقت پاکستان کے مستقبل کی جنگ ہے، قوموں کی زندگی میں مشکل وقت آتے ہیں، ہمیں درست راستے کا انتخاب کرنا ہے، قوم نے آج فیصلہ کرنا ہے کہ ملک کو کس طرف لے کر جانا ہے، اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ اچھائی کےساتھ اور برائی کیخلاف کھڑے ہو، جو معاشرہ اچھائی کا ساتھ دیتا ہے وہ زندہ ہوجاتا ہے۔وہ قوم تباہ ہوجاتی ہے جس میں اچھے اور برے کی تمیز ختم ہوجائے۔