Baaghi TV

Author: +9251

  • شریف فمیلی کی چوہدریوں کے خلاف سازشیں دم توڑنے لگیں:چیھنہ گروپ کی حمایت:پرویزالٰہی کی جیت یقینی

    شریف فمیلی کی چوہدریوں کے خلاف سازشیں دم توڑنے لگیں:چیھنہ گروپ کی حمایت:پرویزالٰہی کی جیت یقینی

    لاہور:شریف فمیلی کی چوہدری پرویز الٰہی کے خلاف سازشیں دم توڑنے لگیں:پی ٹی آئی چیھنہ گروپ نےحمایت کردی،اطلاعات کے مطابق پنجاب میں حکومت سازی، چوہدری پرویز الہٰی کے لیے بڑی خوشخبری

    حکومتی اتحاد کے وزیر اعلیٰ کے امیدوار چوہدری پرویز الہٰی سے چھینہ گروپ کی ملاقات ہوئی جس میں چھینہ گروپ نے چوہدری پرویز الہٰی کی حمایت کا باضابطہ اعلان کر دیا۔

    ذرائع کا کہنا ہےکہ چوہدری پرویز الہٰی نے گزشتہ روز خود چھینہ گروپ سے حمایت کیلئے ملاقات کی تھی جس پر چھینہ گروپ نے حتمی فیصلے کے لئے چوہبیس گھنٹے کا وقت مانگا تھا، چھینہ گروپ نے آج ملاقات کے دوران چوہدری پرویز الہٰی کی وزیر اعلیٰ کے لئے حمایت کر دی

    ملاقات میں چھینہ گروپ کے 14ارکان پنجاب اسمبلی شریک ہوئے جبکہ ملاقات میں چھینہ گروپ کے ارکان پنجاب اسمبلی غضنفر عباس چھنیہ عامر عنایت شاہانی، علی رضا خان خاکوانی نے بھی شرکت کی۔

    اعجاز سلطان بندیشہ ،محمد احسن جہانگیر، گلریز افضل گوندل، خواجہ داؤد سلیمانی ، سردار محی الدین کھوسہ ،کرنل غضنفر عباس شاہ، تیمور علی لالی بھی ملاقات میں شامل تھے۔ سردار شہاب الدین سیہڑ، فیصل فاروق چیمہ، اعجاز خان، غلام علی اصغر خان لہری بھی ملاقات میں شریک ہوئے۔

    یاد رہے کہ اس سے قبل وزیرِ اعظم عمران خان نے وزیرِ اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار سے استعفیٰ لے لیا اور ان کی جگہ چوہدری پرویز الہٰی کو نامزد کرنے کا اعلان کیا۔

    واضح رہے کہ پاکستان مسلم لیگ کے وفد کی اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الہٰی کی قیادت میں وزیر اعظم عمران خان سے ملاقات ہوئی تھی۔

    ملاقات میں وزیر اعظم عمران خان نے کہا تھا کہ میں نے عثمان بزدار سے استعفیٰ لے لیا ہے، میں آپ کو اپنی پارٹی کی طرف سے بطورِ وزیر اعلیٰ پنجاب نامزد کرتا ہوں اور آپ کو مبارک باد پیش کرتا ہوں۔اس موقع پر اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الٰہی نے نامزدگی پر وزیر اعظم عمران خان کا شکریہ ادا کیا۔

    چوہدری پرویز الٰہی نے کہا تھا کہ وزیراعلیٰ کے منصب پر اپکی جانب سے نامزدگی پر شکریہ کرتا ہوں، آپ کے اعتماد پر اشاء اللہ پورا اتروں گا۔

    اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الٰہی کا مزید کہنا تھا کہ مسلم لیگ ق بطور اتحادی اپ کے ساتھ بھر پور تعاون کرے گی اور اتحادی کی حیثیت سے ملکر عوامی خدمت کریں گے۔

  • مقصودچپڑاسی شہبازشریف کوجیل کی سلاخوں میں دیکھنےکیلیےبیتاب:ضمانت منسوخ ہوسکتی ہے:فواد

    مقصودچپڑاسی شہبازشریف کوجیل کی سلاخوں میں دیکھنےکیلیےبیتاب:ضمانت منسوخ ہوسکتی ہے:فواد

    اسلام آباد:مقصودچپڑاسی شہبازشریف کوجیل کی سلاخوں میں دیکھنےکیلیےبیتاب:ضمانت منسوخ ہوسکتی ہے:اطلاعات کے مطابق وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا ہے کہ کل وزارت قانون کا چارج مل رہا ہے، شہباز کی ضمانت منسوخ کرنے کیلئے کارروائی کریں گے۔

    ان کا کہنا تھاکہ مقصود چپڑاسی کا کہنا تھا کہ ہمارے نام پرشریف برادران نے جو لوٹ مار کا بازار گرم رکھا اس کی سزا ضرور ملنی چاہیے

    اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو میں فواد چوہدری کا کہنا تھاکہ شہبازشریف کے خواب چکنا چور ہونے ہیں، یہ گھر بیٹھے وزیراعظم بن گئے ہیں، ان کا خواب کرچی کرچی ہونا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ مجھے بتایا گیا کہ وزرات قانون کا چارج مل رہا ہے اور فوری طور پر شہباز شریف اور حمزہ کی کل ہی ضمانت منسوخی کی درخواست دائر کریں گے اور کل ہی عدالت سے کہیں گے ضمانت منسوخی کی کارروائی شروع کریں۔

    ان کا کہنا تھاکہ باپ وزیراعظم اور بیٹا وزیراعلیٰ کا امیدوار بن گئے ہیں، دونوں باپ بیٹا ضمانت پر ہیں، 48 گھنٹے ہیں اور پاکستان کو تماشہ بنادیا گیا ہے، شیروانی والوں کو پاجامے نہیں ملیں گے۔

    فواد چوہدری کا کہنا تھاکہ عوام کسی کو بیرون ملک بیٹھ کر حکومت تبدیل کرنے کی اجازت نہیں دیں گے، کیسے ممکن ہے تحریک کو باہر بیٹھ کر ڈرافٹ کیا جائے۔

    وفاقی وزیر نے کہا کہ شہبازشریف نے کہا خط دکھا دیا جائے تو میں ساتھ کھڑا ہوجاؤں گا، شہبازشریف کو بلایا گیا تو یہ نہیں آئے، ان کو تو پتا ہے کیونکہ یہ تو خود سازش کا حصہ ہیں، زرداری دور میں وزیرخارجہ حنا ربانی کھر کو پتا ہی نہ تھا ڈرون حملے ہورہے ہیں، پاکستان کے لوگ اس سازش پہچان گئے ہیں۔

  • میں رہوں یانہ رہوں امریکین ٹولےکوقوم پرمسلّط نہیں ہونےدیں گے:اللہ آسانیاں پیدا فرمائیں گے:عمران خان

    میں رہوں یانہ رہوں امریکین ٹولےکوقوم پرمسلّط نہیں ہونےدیں گے:اللہ آسانیاں پیدا فرمائیں گے:عمران خان

    :اسلام آباد:میں رہوں یا نہ رہوں امریکی ایجنٹوں کواقتدارنہیں ملےگا:مجھے اپنےرب کی رحمت پربڑا بھروسہ ہے:اطلاعات کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ تحریک عدم اعتماد کے معاملے پر اتوار کو بڑا سرپرائز دینگے۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ میں رہوں یا نہ رہوں پاکستانیوں پرامریکی ایجنٹوں کوحکومت نہیں کرنی دی جائے گی اور طئے شدہ بات اصول ہے

    ان خیالات کا اظہار وزیراعظم نے سینئر صحافیوں کے ساتھ ملاقات کے دوران کیا۔ ملاقات کرنے والوں میں دنیا نیوز کے سینئر صحافی اجمل جامی اور کامران شاہد بھی شامل تھے۔

    وزیراعظم کا کہنا تھا کہ لیگل پراسس کو استعمال کیا جا رہا ہے، ہر گیند تک لڑوں گا، اتوار کو بہت انجوائے کریں گے، تحریک عدم اعتماد ایک بہت بڑی بین الاقوامی سازش ہے، میری زندگی کو بالکل خطرہ ہے، اپوزیشن کی جانب سے کردار کشی کے حوالے سے کوئی آڈیو ٹیپ نکالی جاسکتی ہے۔

    عمران خان نے کہا کہ اپوزیشن کی جانب سے میری کردار کشی بھی کی جا سکتی ہے، اپوزیشن کا ایک ماضی ہے ججز کی بھی مختلف ٹیپ نکالتے رہتے ہیں، نیب ایک آزاد ادارہ ہے، عدالتیں آزاد ہیں، خیبرپختونخوا کی عوام نے تحریک انصاف پراعتماد کیا۔ اوآئی سی کانفرنس کی وجہ سے لیٹر کو ہولڈ رکھا۔

    وزیراعظم نے کہا ہے کہ ایک بڑا طاقتور ملک دورہ روس پر غصہ ہوگیا، کیا حکومت کو ہٹانے کیلئے کوئی ملک اس طرح دھمکی دے سکتا ہے، اچکنیں سلوانے والے کہتے ہیں امریکا کو ناراض نہیں کرنا چاہیے، ان لوگوں کی وجہ سے ملک اس حال کو پہنچا۔

    وزیراعظم عمران خان نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ لوگ کہتے ہیں شاید ووٹ کیلئے ریاست مدینہ کی بات کرتا ہوں، ریاست مدینہ کی کامیابی تاریخ کا حصہ ہے، لوگوں کو ریاست مدینہ کا ماڈل ہی سمجھ نہیں آیا، ہم نے سکیورٹی سے متعلق کبھی بات نہیں کی، ہمارے دماغ میں ہمیشہ سکیورٹی کا مطلب فوج تھا، امیر اور غریب میں فرق سے لوگوں میں بے چینی پیدا ہوتی ہے، سکیورٹی ڈائیلاگ ملک کیلئے بہت اہم ہیں، تعلیم اور صحت کے نظام میں فرق پیدا کر دیا گیا، کوئی بھی معاشرہ قانون کی حکمرانی کے بغیر ترقی نہیں کرسکتا، ملک پر اشرافیہ نے قبضہ کیا ہوا ہے۔

    عمران خان کا کہنا تھا کہ منی لانڈرنگ کی بڑی وجہ مجرموں کو سزائیں نہ ملنا ہے، کرپٹ لوگ غریب ملکوں کا پیسہ باہر لے جاتے ہیں، مخصوص طبقہ غریب عوام کو آگے نہیں بڑھنے دیتا، کوئی بھی معاشرہ قانون کی حکمرانی کے بغیر ترقی نہیں کرسکتا۔ انہوں نے کہا کہ کیوبا نے پابندیوں کے باوجود ترقی کی، کرپٹ لوگ پیسہ چوری کر کے امیر ممالک میں رکھتے ہیں، خود مختار خارجہ پالیسی ملک کیلئے ضروری ہے، بہترین خارجہ پالیسی ملکی مفادات کو ترجیح دیتی ہے، ماضی میں افغان جنگ میں شراکت دار رہے، افغان جنگ میں شراکت داری مالی امداد کیلئے تھی یا افغانوں کی مدد کیلئے ؟ روس جانے پر نتائج کی دھمکیاں دی گئیں، کیا کسی خود مختار آزاد ملک کو ایسی دھمکیاں دی جاسکتی ہیں؟۔

  • بلاول بھٹو نےعدم اعتماد کےناکام ہونے کا خدشہ ظاہرکردیا

    بلاول بھٹو نےعدم اعتماد کےناکام ہونے کا خدشہ ظاہرکردیا

    اسلام آباد:بلاول بھٹو نےعدم اعتماد کےناکام ہونے کا خدشہ ظاہرکردیا،اطلاعات کے مطابق چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم، وزیراعلیٰ اور وزرا نے لوگوں کو اکسایا تو آرٹیکل 6 لگے گا۔

    بلاول بھٹو نے خدشات ظاہرکرتے ہوئے کہا کہ ایسے لگ رہا ہے کہ عدم اعتماد کو ناکام کردیا جائے

    ذرائع کے مطابق چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو نے نیوز کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ آئینی طریقہ کار میں مداخلت پر آرٹیکل 6 بہت واضح ہے، آئینہ طریقہ کار میں رکاوٹ ڈالنے پر اسپیکر پر بھی آرٹیکل 6 لگ سکتا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ پارلیمانی سلامتی کمیٹی کا اجلاس پیر کو بھی بلایا جاسکتا تھا، تحریک عدم اعتماد کے وقت پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس بلانا غیرمناسب ہے۔

    بلاول بھٹو نے کہا کہ پاکستان اس وقت معاشی اور سیاسی دلدل میں پھنسا ہوا ہے، عدم اعتماد جمہوری عمل ہے جس سے کافی مسائل حل ہوسکتے ہیں۔

    چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہا کہ عمران خان معززہوتے تو طریقے سے ہار مان لیتے، امید کرتا ہوں غیرقانونی عمل یا توہین عدالت کی طرف نہیں جائیں گے، عدم اعتماد ناکام ہوگی تو خطرہ ہے اگلے 20سال بھی اسی طریقے سے گزریں گے۔

    انہوں نے کہا کہ ہم عمران خان کے ہر جھوٹ کا جواب دینا جانتے ہیں، یہ ایک موقع ہے قوم کو اس کا فائدہ اٹھانا چاہیے، امید ہے اتوار تک کوئی غیرجمہوری قدم نہیں اپنایا جائے گا۔

  • ایل اے سی پر روس مددکو نہیں آئےگا:پھرہماری ضرورت پڑے گی: امریکا بھارت کو احسانات جتلانےلگا

    ایل اے سی پر روس مددکو نہیں آئےگا:پھرہماری ضرورت پڑے گی: امریکا بھارت کو احسانات جتلانےلگا

    نئی دہلی:ایل اے سی پر روس مدد کو نہیں آئےگا:ہم مددکرسکتےہیں:امریکا بھارت کوجھنجھوڑنےلگا، اطلاعات کےمطابق امریکا نے روس کے ساتھ بڑھتے ہوئے تعلقات پر بھارت کو اپنے احسانات جتاتے ہوئے کہا ہے کہ لائن آف ایکچول کنٹرول پر اگر لڑائی ہوئی تو ماسکو مدد کو نہیں آئے گا۔

    امریکہ نے احسان جتلاتے ہوئے کہا کہ پھرتمہیں ہماری مدد کی ضرورت پڑے گی تو کس منہ سے پکارو گے

    یہ باتیں امریکی نائب قومی سلامتی کے مشیر دلیپ سنگھ نے روسی وزیر خارجہ کے کی آمد سے قبل ہی نئی دہلی پہنچنے پر کیں۔ اس دوران انہوں نے مودی حکومت کے سینیئر حکام سے ملاقات کی تھی۔

    اس موقع پر انہوں نے چین اور روس کے تعلقات کے بارے میں بھارت کو آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ نئی دہلی کے لیے اس کے مضمرات ہوں گے۔ کسی کو بھی غلط فہمی میں نہیں رہنا چاہیے کہ روس اور چین کے تعلقات میں ماسکو ایک جونیئر پارٹنر بننے جا رہا ہے۔ اور چین روس کو جتنا زیادہ اپنے مفاد کے لیے ہموار کرتا ہے، بھارت کے لیے روس اتنا ہی کم سازگار ثابت ہو گا۔ مجھے نہیں لگتا کوئی اس بات پر بھی یقین کرے گا کہ اگر چین نے ایک بار پھر سے لائن آف ایکچوئل کنٹرول کی خلاف ورزی کی تو بھارت کے دفاع میں روس دوڑتے ہوئے آئے گا۔

    دلیپ سنگھ نے کہا کہ یہی وہ تناظر ہے جس میں ہم یہ چاہتے ہیں کہ دنیا بھر کی جمہوریتیں اور خاص طور پر، کواڈ ایک ساتھ جمع ہوں اور اپنے مشترکہ مفادات پر بات کرنے کے ساتھ ہی، یوکرین میں ہونے والی پیش رفت اور اس کے اثرات کے بارے میں مشترکہ طور پر خدشات کا اظہار کریں۔

    واضح رہے کہ دلیپ سنگھ ایک بھارتی نژاد امریکی اہلکار ہیں، جنہوں نے صدر ولادیمیر پوٹن اور لاوروف سمیت سرکردہ روسی شخصیات کے خلاف امریکی پابندیوں میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ روس نے بھی رد عمل کے طور پر امریکی عہدیدار دلیپ سنگھ پر پابندیاں عائد کر دی ہیں۔

  • منحرف ارکان قومی اسمبلی کیخلاف ریفرنسز دائر کرنے کی منظوری

    منحرف ارکان قومی اسمبلی کیخلاف ریفرنسز دائر کرنے کی منظوری

    اسلام آباد:پاکستان میں ضمیرفروشی کی روایات کو ختم کرنے کے لیے کوششیں جاری ہیں ، اسی سلسلے میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کا کہنا ہے کہ منحرف ارکان قومی اسمبلی کو وضاحت کیلئے دیا گیا وقت ختم ہوگیا ہے جس کے بعد ان کیخلاف ریفرنسز دائر کرنے کی منظوری دے دی گئی ہے۔

    پی ٹی آئی کے مطابق منحرف اراکین قومی اسمبلی کو وضاحت کیلئے دیا گیا وقت ختم ہوگیا ہے، وزیراعظم نے منحرف اراکین کے جوابات نا معقول قرار دیتے ہوئے مسترد کردیے ہیں۔

    اسد عمر نے منحرف 13 ارکان قومی اسمبلی کے شو کاز نوٹسز پر دستخط کر دیےتحریک انصاف کے مطابق وزیراعظم نے منحرف اراکین کیخلاف ریفرنسز دائر کرنے کی باضابطہ منظوری دے دی ہے۔

    اس حوالے سے پی ٹی آئی کے مشیر پارلیمانی امور بابر اعوان اور ایڈیشنل سیکرٹری جنرل عامر کیانی کی ملاقات ہوئی ہے۔

    اعلامیے کے مطابق وزیراعظم و چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کی ہدایات کی روشنی میں منحرف اراکین کیخلاف ریفرنسز تیار کرلیے گئے ہیں ، منحرف اراکین کیخلاف دستاویزی ثبوت بھی ریفرنسز کے ساتھ بھجوائے جائیں گے۔

    بابر اعوان کے مطابق وزیراعظم نے بےضمیر اراکین کیخلاف سخت قانونی کارروائی کی ہدایت کی ہے، دستور اراکین پارلیمان پر صداقت و امانت کی بنیادی شرط عائد کرتا ہے، ہارس ٹریڈنگ کے مرتکب اراکین نے پارٹی سربراہ کی ہدایات سے کھلا انحراف کیا ہے، منحرف اراکین کیخلاف قانونی کارروائی کے تحت ریفرنسز جلد اسپیکر کو بھجوادیں گے۔

    خیال رہے کہ پارٹی پالیسی کی خلاف ورزی پر تقریباً 13 ارکان قومی اسمبلی کو شوکاز نوٹس جاری کیے گئے تھے۔

    اطلاعات کے مطابق پی ٹی آئی کے تقریباً 22 ارکان قومی اسمبلی نے تحریک عدم اعتماد پر وزیراعظم عمران خان کیخلاف ووٹ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

    تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ 3 اپریل بروز اتوار ہوگی جس کے لیے قومی اسمبلی کا اجلاس صبح ساڑھے 11 بجے طلب کرلیا گیا ہے۔

  • اللہ کےفضل سےہم نےکرپشن کےخاتمے کی کبھی بات نہیں : شہبازشریف کےمنہ سےسچ نکل گیا

    اللہ کےفضل سےہم نےکرپشن کےخاتمے کی کبھی بات نہیں : شہبازشریف کےمنہ سےسچ نکل گیا

    اسلام آباد: اللہ کے فضل سے ہم نے کرپشن کے خاتمے کی کبھی بات نہیں : شہباز شریف کے منہ سے سچ نکل گیا ،اطلاعات کے مطابق ن لیگ کے صدر میاں شہباز شریف کے منہ سے اچانک سچ نکل گیا جس میں‌وہ کہہ بیٹھے کہ اللہ کے فضل سے ہم نے کرپشن کے خاتمےکی کبھی بات نہیں کی اور نہ ہی یہ ہمارا مقصد ہے، ہم نے عوام کے منصوبوں میں کئی اربوں کی بچت کی لیکن پیسے بچانے پر کبھی ڈھنڈورا نہیں کیا۔

    اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا متحدہ اپوزیشن نے مجھے وزارت عظمیٰ کا عہدہ سونپا تو یہ مہربانی ہے، متحدہ اپوزیشن کی حکومت آئی تو سب سے پہلے غریب کی زندگی بہتر کریں گے۔

    شہباز شریف نے کہا ابھی تک کسی پارٹی ممبر یا اتحادیوں کو کال نہیں آئی کہ یہ نہ کریں، انتظامیہ اور پولیس کو کہا ہے ووٹنگ کے دن سپریم کورٹ فیصلے پر عمل نہ کیا تو ہم سب کو ذمہ دار ٹھہرائیں گے، ممبرز کو پرامن ووٹنگ میں رکاوٹ ہوئی تو ہم خط لکھیں گے۔

    انھوں نے کہا آج عمران نیازی کی حالت ڈوبتے کو تنکے کا سہارا جیسی ہے، سلامتی کمیٹی کے اعلامیے میں ایک لفظ سازش کا نہیں ہے، آج کل عمران بھارتی پالیسی کی تعریف کر رہے ہیں، بھارت سے متعلق نیوٹرل کی الگ اور اپنوں کی نیوٹرل کی تشریح کچھ کرتے ہیں۔

    دریں اثنا، پریس کانفرنس کے دوران ہی شہباز شریف کو نواز شریف کا فون آ گیا، انھوں نے فون پر بات سنی پھر کہا پریس کانفرنس کے بعد اتحادیوں سے مشاورت کروں گا، بعد ازاں صحافیوں کے سوال کے جواب میں شہباز شریف نے کہا نواز شریف اپنے علاج کے بعد جلد از جلد پاکستان آئیں گے۔

  • نیم آزاد رکن پنجاب اسمبلی جگنو محسن ن لیگ میں شامل

    نیم آزاد رکن پنجاب اسمبلی جگنو محسن ن لیگ میں شامل

    لاہور:نیم آزاد رکن پنجاب اسمبلی جگنو محسن ن لیگ میں شامل ،اطلاعات کے مطابق پنجاب اسمبلی میں آزاد رکن اسمبلی جنگو محسن (سیّدہ میمنات محسن) نے مسلم لیگ ن میں شامل ہونے کا اعلان کردیا۔

    یاد رہے کہ جگنو محسن پی پی 184 سے 2018ء میں آزاد حیثیت سے کامیاب ہوئی تھیں۔سید زادی جگنو محسن نے ن لیگ میں شمولیت کو اپنی حقیقی کامیابی قرار دیا

    انہوں نے کہا کہ حمزہ شہباز کی شکرگزار ہوں جنہوں نے مجھے خوش اسلوبی سے مجھے بلایا۔ اس پارٹی میں شامل ہورہی ہوں جہاں ہمیشہ جمہوریت کا تسلسل رہا، ہمارے درمیان زیرک سیاست دان موجود ہیں جو مشکلات سےنکالیں گے۔

    جگنو محسن نے کہا کہ لیگی صدر شہباز شریف نے قدم قدم پر میرے کام کو سراہا، ن لیگ کی قیادت اور کارکنوں نے بہت قربانیاں دیں، میرے حلقے کی عوام مجھے حکم دے رہی ہے، حلقے کی عوام نے کہا ہمارے کام کرنے ہیں، میرا عطا تارڑ کی قیادت سے بھی مسلسل رابطہ رہا، وقت آ گیا ہے کہ عوام کی حکمرانی کےلیے فیصلہ کروں۔ چھوٹے صوبوں کی سنیں گے، معیشت کو مستحکم کریں گے، پورے پاکستان کے رنگ پی ڈی ایم میں جھلکتے ہیں۔

    حمزہ شہباز کی جانب سے جگنو محسن کی شمولیت کا خیر مقدم کیا گیا۔

    خیال رہے کہ مسلم لیگ ن کے قائد میاں نوازشریف نے گزشتہ روز اوکاڑہ کے حلقہ پی پی184سے آزاد رکن پنجاب اسمبلی جگنو محسن سے ٹیلی فون پر تفصیلی بات کی تھی۔

  • خواجہ اظہارالحسن کےتاریخی نظریات اورالفاظ گھوم گھوم کرایم کیوایم کواحساس شرم  دلانے لگے

    خواجہ اظہارالحسن کےتاریخی نظریات اورالفاظ گھوم گھوم کرایم کیوایم کواحساس شرم دلانے لگے

    اسلام آباد: خواجہ اظہارالحسن کےتاریخی نظریات اورالفاظ گھوم گھوم کرایم کیوایم کواحساس شرم دلانے لگے،اطلاعات کے مطابق ایم کیوایم کی طرف سے پی پی کے ساتھ اتحاد کے بعد ایم کیوایم کے اپنے ورکروں اور نظریاتی لوگوں نے ایم کیوایم کی قیادت سے پوچھا ہے کہ کیا تم دوسروں کو لڑا کرمفادات حاصل کرنے کوثواب اور کامیابی سمجھتے ہو،حالانکہ خود ان رویوں کہ نہ صرف نفی کرتے تھے بلکہ مذمت بھی کرتے تھے ،

    اس حوالے سے ایم کیوایم کے ورکرروں نے سوشل میڈیا پراپنے قائدین کی ٹرولنگ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ یاد کروان الفاظ کور اور ان احساسات کو جو دوسرے کے لیے منتخب کرتے ھتے ، سوشل میڈیا پر ٹرولنگ کچھ اس طرح‌ہورہی ہے

    سوشل میڈیا صارفین نے پیپلزپارٹی کے ساتھ ایک بار پھر ساتھ چلنے کے وعدے پر ایم کیوایم کو سندھ اسمبلی میں خواجہ اظہار الحسن کی پڑھی نظم یاد دلا دی۔

    تفصیلات کے مطابق حکومت سے علیحدگی اور پیپلز پارٹی سے معاہدے کے بعد ایم کیوایم کیخلاف سوشل میڈیا پرصارفین کی ٹرولنگ جاری ہے۔

    خواجہ اظہار اپنے نئے اتحادیوں کے بارے میں کچھ عرصہ پہلے کیا رائے رکھتے تھے، اس پر صارفین نے دس نمبر اور دس فیصد کا ذکر چھیڑدیا۔

    صارفین نے مل کر کھانے کی باتوں پر ایم کیو ایم رہنما خواجہ اظہار الحسن کی پڑھی نظم یاد دلاتے ہوئے کہا پھر ساتھ چلنے کا وعدہ، عوام کے نام ایک اور معاہدہ!

    یاد رہے خواجہ اظہار الحسن نے سندھ اسمبلی میں ایک ںظم پڑھی تھی ، آؤ مل کر کھاتے ہیں، آؤ مل کر کھاتے ہیں ، گیت خوشی کے گاتے ہیں، آؤ مل کر کھاتے ہیں۔

    جب وقت پڑا تو بھاگیں گے، جدہ اور لندن اپنا ہے
    مل کر بھوک مٹاتے ہیں، آؤ مل کر کھاتے ہیں
    میں 10% تم 10 نمبر، دونوں مل کر کچھ کر جائیں
    اک تازہ ڈھونگ رچا تے ہیں، آؤ مل کر کھاتے ہیں
    گھوڑے لوَٹے، سب آئیں گے تھیلے بھر بھر لے جائیں گے
    اک اور دکان لگاتے ہیں، آؤ مل کر کھاتے ہیں
    تو عدل کا شور مچائے جا، میں ظلم کو عام کیے جاؤں
    اس طرح سے کام چلاتے ہیں، آؤ مل کر کھاتے ہیں
    ہم ماضی میں بھی کھاتے تھے، اب اور زیادہ کھائیں گے
    کب کہنے سے شرماتے ہیں، آؤ مل کر کھاتے ہیں
    اس ملک سے اتنا پیار ہمیں، چپہ چپہ بیچیں گے ہم
    اس ملک سے پیار نبھاتے ہیں، آؤ مل کر کھاتے ہیں
    ہے پہلے بھی لُوٹا اس کو، پر قوم بھلا بیٹھی ہم کو
    اک اور سبق سکھلاتے ہیں آؤ مل کر کھاتے ہیں
    میرے گھوڑے بیتاب بہت، ڈربی کھولو میں آتا ہوں
    ہر شہر میں ریس لگاتے ہیں آؤ مل کر کھاتے ہیں
    اک دوجے کے دشمن تھے یہ اے یاسر جی کچھ دن پہلے
    اب دونوں یہ فرماتے ہیں آؤ مل کر کھاتے ہیں۔

  • آئی جی پی پنجاب پولیس کرکٹ لیگ2022؁ء کااختتامی میچ آرپی اوالیون ریجن فیصل آباد بمقابلہ ریجن ڈیرہ غازی خان کی ٹیموں کے درمیان اقبال سٹیڈیم میں کھیلا گیا۔

    آئی جی پی پنجاب پولیس کرکٹ لیگ2022؁ء کااختتامی میچ آرپی اوالیون ریجن فیصل آباد بمقابلہ ریجن ڈیرہ غازی خان کی ٹیموں کے درمیان اقبال سٹیڈیم میں کھیلا گیا۔

    آئی جی پی پنجاب پولیس کرکٹ لیگ2022؁ء کااختتامی میچ آرپی اوالیون ریجن فیصل آباد بمقابلہ ریجن ڈیرہ غازی خان کی ٹیموں کے درمیان اقبال سٹیڈیم میں کھیلا گیا۔

    مزید تفصیلات :

    (شان رسول نماٸندہ باغی ٹی وی سے)

    آئی جی پی پنجاب پولیس کرکٹ لیگ2022؁ء کااختتامی میچ آرپی اوالیون ریجن فیصل آباد بمقابلہ ریجن ڈیرہ غازی خان کی ٹیموں کے درمیان اقبال سٹیڈیم میں کھیلا گیا۔

    میچ کے مہمان خصوصی جناب صاحبزادہ شہزاد سلطان ایڈیشنل آئی جی ڈائریکٹر جنرل سپورٹس بورڈپنجاب پولیس تھے۔

    میچ زیر سرپرستی جناب آرپی او فیصل آبادعمران محمودہوا جبکہ دیگر مہمانوں میں سٹی پولیس آفیسر فیصل آباد غلام مبشر میکن،ڈی پی او جھنگ حسن اسد علوی،ایس ایس پی آپریشن محمد عبداللہ لک،ایس ایس پی انوسٹی گیشن کیپٹن ریٹائرڈ محمد اجمل،ایس ایس پی RIBفداحسین،ایس ایس پی سپیشل برانچ احمد ارسلان و ٹاؤن ایس پیز صاحبان شامل تھے۔

    ڈیرہ غازی خان کی ٹیم نے ٹاس جیت کر پہلے باؤلنگ کرنے کا فیصلہ کیا اور فیصل آباد کو بیٹنگ کی دعوت دی۔ فیصل آبادکی ٹیم نے شاندار بیٹنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے مقررہ اوورز میں ڈیرہ غازی خان ریجن کی ٹیم کو205رنز کا ہدف دیا۔

    جس کے تعاقب میں ڈیرہ غازی خان کی ٹیم بیٹنگ کرتے ہوئے19اوورز میں 173رنز پر آل آؤٹ ہوگئی۔ فیصل آباد نے 32رنز سے میچ جیت کر ٹرافی اپنے نام کرلی۔میچ کے اختتام پر ایڈیشنل آئی جی ڈائریکٹر جنرل سپورٹس بورڈپنجاب پولیس صاحبزادہ شہزاد سلطان اور آرپی او فیصل آباد عمران محمودنے کھلاڑیوں میں ٹرافی اور انعامات تقسیم کیے۔

    میچ کی پہلی اینگز کے بعدآرپی او فیصل آباد عمران محمود نے کھلاڑیوں کا جذبہ بڑھانے کیلئے بیٹنگ کی اور ایس ایس پی آپریشن،ایس ایس پی انوسٹی گیشن اور ڈی پی او جھنگ نے باؤلنگ کروائی۔

    ایڈیشنل آئی جی پی ڈائریکٹر جنرل سپورٹس بورڈصاحبزادہ شہزاد سلطان نے شاندار ٹورنامنٹ کا انعقاد کروانے پر آرپی او فیصل آباد عمران محمود کو خراج تحسین پیش کیا۔

    اس موقع پر انہوں نے اظہارخیال کرتے ہوئے کہا کہ پولیس اہلکاروں کو اپنے فرائض منصبی کی سرانجام دہی کے ساتھ ساتھ کھیلوں کی سرگرمیوں میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لینا چاہیے۔ایسی سرگرمیاں فٹنس کو بحال رکھنے اور ذہنی دباؤ کو کم کرنے کا ذریعہ بنتی ہیں۔