Baaghi TV

Author: +9251

  • پہلےاوآئی سی اجلاس ثبوتاژکرنےکی دھمکیاں اورپھر    اثراندازنہ ہونےکااعلان:ایساکیوں؟اہم وجہ سامنے آگئی

    پہلےاوآئی سی اجلاس ثبوتاژکرنےکی دھمکیاں اورپھر اثراندازنہ ہونےکااعلان:ایساکیوں؟اہم وجہ سامنے آگئی

    اسلام آباد:پہلےاوآئی سی اجلاس ثبوتاژکرنےکی دھمکیاں اورپھراثراندازنہ ہونےکااعلان:ایساکیوں؟اہم وجہ سامنے آگئی،اطلاعات کے مطابق متحدہ اپوزیشن نے پہلے اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کانفرنس کوثبوتاژکرنےکی دھمکیاں دی تھیں اور پھرتھوڑی دیربعد ہی یہ اعلان کہ وہ کسی بھی طرح اثر انداز نہیں ہوں گے ، یہ یوٹرن دیکھ کرہرکوئی حیران رہ گیا

    اسلام آباد سے اہم حلقوں کا کہنا ہے کہ اپوزیشن کی ملک میں‌پچھلے چند دنوں سے سیاست کوعالمی طورپرخصوصا مسلمان ملکوں میں ناپسند کیا جارہا ہے اور نوبت یہاں تک آگئی کہ ایک طرف اوآئی سی کا اجلاس ہونےجارہا ہےتو دوسری طرف اجلاس کو ثبوتاژ کرنے کی دھمکیاں‌دی جارہی ہیں‌

    یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ آنے والے مہمان بہت زیادہ پریشان دکھائی دے رہے تھے اور وہ اپوزیش کے احتجاج کو ایک سیکورٹی رسک قرار دے رہے تھے ، بعض نے توپی ڈی ایم کے اس کھیل پرسخت نفرت کا اظہارکیا خصوصا عرب دنیا میں ، یہی وجہ ہے کہ مسلم دنیا میں‌ اوآئی سی کے اس اہم موقع پر احتجاج کوبہت زیادہ منفی قراردے رہے ہیں‌، ادھر ذرائع کا کہنا ہےکہ پی ڈی ایم نے اپنی عزت اسی میں سمجھی کہ وہ یہ اعلان کرے کہ وہ اس اہم اجلاس کے کوثبوتاژنہیں کیا جائے گا

    خیال رہے کہ متحدہ اپوزیشن کی جانب سے مذکورہ اعلامیہ ایسے وقت پر سامنے آیا ہے جب اپوزیشن جماعتوں نے او آئی سی کانفرنس روکنے کی دھمکی دے دی تھی اور کہا تھا کہ اگر سپیکر نے پیر تک قومی اسمبلی کا اجلاس نہ بلایا تو ہم ایوان میں دھرنا دیں گے اور دیکھتے ہیں کہ حکومت او آئی سی کانفرنس کیسے کرتی ہے۔

    متحدہ اپوزیشن کی جانب سے ملاقات کے بعد او آئی سی سے متعلق مشترکہ اعلامیہ جاری کر دیا گیا ہے۔

    اعلامیہ کے مطابق اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) وزراء خارجہ کونسل کے 48 ویں اجلاس کے موقع پر اسلامی دنیا کے وزراء خارجہ، مندوبین اور دیگر اعلیٰ شخصیات کی پاکستان آمد کا پرتپاک خیر مقدم کرتے ہیں، معزز مہمانوں کی آمد ہمارے لئے باعث مسرت و افتخار ہے۔ ہم ان کے جذبے اور عزم کی تحسین کرتے ہیں افغانستان، مقبوضہ کشمیر، فلسطین سمیت اسلامی دنیا کو درپیش کثیر الجہتی درپیش مسائل پر غور کے لئے 22 اور 23 مارچ 2022 کو اسلام آباد تشریف لارہے ہیں، ہم ان کی پذیرائی اور استقبال کے لئے چشم براہ ہیں۔

    اعلامیہ کے مطابق پاکستان کے عوام کی نمائندگی کرتے ہوئے متحدہ اپوزیشن انہیں یقین دلاتی ہے ان کی آمد کے موقع پر پورا پاکستان انہیں خوش آمدید کہتا ہے، ان کی اسلام آباد میں موجودگی کے دوران مہمان نوازی کی روایتی چاشنی، احترام، تقاضوں کے مطابق خوش گوار ماحول استوار کرنے میں اپنا کردار یقینی بنائیں گے۔

    اعلامیہ کے مطابق ایسی فضا کی تشکیل میں بھرپورحصہ ڈالیں گے جس میں معززمہمان اپنےطے شدہ امور پوری توجہ، انہماک اور دلجمعی سے انجام دے سکیں OIC کے معزز مہمانوں کےخیر مقدم اور تکریم کے لئے ہی متحدہ اپوزیشن نےلانگ مارچ کی تاریخوں میں تبدیلی کی اوراپنے کارکنان کو 25 مارچ سے پشتر اسلام آباد نہ آنے کی ہدایت کی۔

    متحدہ اپوزیشن کے مطابق پاکستان کے داخلی سیاسی حالات اور سیاسی کشمکش کو کسی طور او آئی سی پر اثر انداز نہیں ہونے دیا جائے گا، ہم امید کرتے ہیں کہ معزز مہمانان گرامی کا اسلام آباد میں قیام خوشگوار رہے گا اور وہ اچھی یادیں لے کر وطن واپس تشریف لے جائیں گے۔

    دیکھتے ہیں او آئی سی کی کانفرنس کیسے ہوتی ہے؟ بلاول کی للکار

    اس سے قبل پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر میاں محمد شہباز شریف، پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان، بی این پی مینگل کے سربراہ سردار اختر مینگل کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے وزیراعظم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ دھمکی دے رہا ہے اگر اسے نہ کھیلنے دیا گیا تو کسی کو نہیں کھیلنے دے گا، پاکستان کا ہر شہری اور سیاسی جماعتیں عمران کو وارنننگ دے رہا ہے گھر چلے جائیں۔ تحریک انصاف کے اجلاسوں میں شرکت سپیکر کے منصب کی توہین ہے۔ سپیکر کو وارننگ دیتا ہوں آپ کا بیان نامناسب ہے۔ اگر سپیکر نے پیر تک عدم اعتماد کی تحریک پیش نہ کی تو ہم اس ہال سے نہیں اٹھیں گے۔ اگر قومی اسمبلی کا قانون اور آئیں کو فالو نہیں کرینگے تو ہم بھی اسی فلور پر بیٹھیں گے جب تک ہمارا حق نہ ملا۔ پھر دیکھیں گے او آئی سی کانفرنس کیسے ہوتی ہے۔

  • واہ سیاست تیرے رنگ:ادھرحکومت سے جنگ ادھرoic کےسنگ،شہبازشریف کابیان،قوم رہ گئی دنگ

    واہ سیاست تیرے رنگ:ادھرحکومت سے جنگ ادھرoic کےسنگ،شہبازشریف کابیان،قوم رہ گئی دنگ

    اسلام آباد:واہ سیاست تیرے رنگ:ادھرحکومت سے جنگ ادھرoic کےسنگ،شہبازشریف کابیان،قوم رہ گئی دنگ،اطلاعات کے مطابق پاکستان میں اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ کونسل کا 48 واں تاریخی اجلاس اسلام آباد میں ہونے جارہا ہے اور آج رات برادرملکوں کے مہمانوں کی آمد کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے ،ادھرپاکستان کی حزب مخالف جماعتوں کے سربراہ شہازشریف نے ایک ایسا بیان جاری کیا ہے کہ جس کو جان کرہرذی شعورپاکتسانی دنگ رہ گیا ہے

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اپنے پیغام میں او آئی سی کی وزرائے خارجہ کونسل کا 48 واں اجلاس امت مسلمہ کے لیے ایک اہم واقعہ ہے۔ پوری اپوزیشن بالعموم اور ن لیگ بالخصوص عالم اسلام کے تمام بھائیوں اور بہنوں کو خوش آمدید کہتی ہے۔ وہ ہمارے معزز مہمان ہیں۔

    شہبازشریف کے ان الفاظ کے بارے میں جان کرپاکستانی جہاں دنگ رہ گئے ہیں وہاں ان کا ردعمل بھی قابل دید نظرآرہا ہے ، شہبازشریف نے بیان داغا ہے اس کے حوالے سے سوشل میڈیا پرایک انتہائی نپا تلا ردعمل سامنے آرہا ہے ،

     

    عوام الناس کا کہنا ہے کہ عجیب حُسن اتفاق ہے کہ ایک دوسرے کو چورکرپٹ اوردونمبر کہنے والے سب اکٹھے ہوگئے اور بات یہاں تک پہنچ گئی کہ دھمکی دے دی کہ وہ اوآئی سی کا اجلاس خراب کرنے کی کوشش کریں گے

    عوام الناس کا کہنا ہے کہ عجیب بات ہے کہ ایک طرف اسلام آباد میں آصف علی زرداری کے ساتھ ملک کردھمکیاں دی جاتی ہیں کہ وہ اوآئی سی کا اجلاس نہیں‌ ہونے دیں گے ،اورعدم اعتماد کے لیے اجلاس بلانے کے لیے طرح طرح کی دھمکیاں‌دی جارہی ہیں‌ کہ اگراجلاس نہ بلایا تو اسلام آباد میں آو آئی سی کا اجلاس نہیں ہونے دیں‌ گے دوسری طرف میاں شہبازشریف بلاول کے ساتھ ملکر پاکستان کے اس تاریخی ایونٹ کو ناکام کرنے کی دھمکیاں دے رہیں اور ساتھ ہی ساتھ قوم کو گمراہ کرنے کےلیے جھوٹے الزامات تراشے جارہے ہیں‌

    یاد رہےکہ اس سے پہلے پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئر مین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ پیر کے روز عدم اعتماد پر کارروائی نہ ہوئی تو دھرنا دیں گے، پھر دیکھتے ہیں او آئی سی کانفرنس کیسے ہوتی ہے۔

    سابق صدر آصف علی زرداری اور چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر اور مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف کی رہائش گاہ پر ہونے والے اپوزیشن کے ظہرانے میں شرکت کی، جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان، اختر مینگل، بشری گوہر، جہانزیب بلوچ، شاہد خاقان عباسی، یوسف رضا گیلانی، راجا پرویز اشرف، شیری رحمان، نیئر بخاری، رضا ربانی، نوید قمر اور سلیم مانڈوی والا بھی طہرانے میں موجود تھے۔

    اجلاس کے دوران رہنماؤں کے درمیان تحریک عدم اعتماد، حکومتی بوکھلاہٹ سمیت ملکی سیاسی صورت حال پر اہم ترین مشاورت کی گئی۔

    پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر میاں محمد شہباز شریف، پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان، بی این پی مینگل کے سربراہ سردار اختر مینگل کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے وزیراعظم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ دھمکی دے رہا ہے اگر اسے نہ کھیلنے دیا گیا تو کسی کو نہیں کھیلنے دے گا، پاکستان کا ہر شہری اور سیاسی جماعتیں عمران کو وارنننگ دے رہا ہے گھر چلے جائیں۔

    انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کے اجلاسوں میں شرکت سپیکر کے منصب کی توہین ہے۔ سپیکر کو وارننگ دیتا ہوں آپ کا بیان نامناسب ہے۔ اگر سپیکر نے پیر تک عدم اعتماد کی تحریک پیش نہ کی تو ہم اس ہال سے نہیں اٹھیں گے۔ اگر قومی اسمبلی کا قانون اور آئیں کو فالو نہیں کرینگے تو ہم بھی اسی فلور پر بیٹھیں گے جب تک ہمارا حق نہ ملا۔ پھر دیکھیں گے او آئی سی کانفرنس کیسے ہوتی ہے۔

  • ملک کےغدارجال میں پھنس رہےہیں:پاکستان کونقصان نہیں پہنچنےدوں گا:وزیراعظم عمران خان

    ملک کےغدارجال میں پھنس رہےہیں:پاکستان کونقصان نہیں پہنچنےدوں گا:وزیراعظم عمران خان

    اسلام آباد :ملک کےغدارجال میں پھنس رہےہیں:پاکستان کونقصان نہیں پہنچنےدوں گا:اطلاعات کے مطابق وزیراعظم پاکستان عمران خان نے کہا ہے کہ ملک کے غدار جال میں پھنس رہے ہیں۔بڑی حکمت عملی سے ان کوکٹہرے میں لارہےہیں

    تفصیلات کے مطابق سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے ایک پیغام میں وزیراعظم عمران خان نے شمس تبریز کا قول شیئر کیا ہے۔

    ٹویٹ میں وزیراعظم عمران خان نے کارکنوں اور حامیوں کو پیغام دیتے ہوئے کہا کہ ملک کے غدار جال میں پھنس رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو نقصان نہیں پہنچنے دوں گا اپنا سب کچھ اس ملک اور اپنی قوم پر قربان کردوں گا مگرآنچ نہیں آنے دوں گا

     

     

    یاد رہے کہ اس سے پہلے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ تحریک عدم اعتماد کے سلسلے میں سندھ ہاؤس میں موجود زیادہ پی ٹی آئی اراکین واپس آ جائیں گے۔

    ان خیالات کا اظہار وزیراعظم عمران خان نے راولپنڈی رنگ روڈ منصوبے کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

    وزیراعظم نے کہا کہ رنگ روڈ لندن کی ایم 25 کی طرح ہے، نالہ لئی کا پراجیکٹ اگلے تین ہفتے میں لانچ کریں گے، راولپنڈی شہر پھیل گیا پلاننگ نہیں ہوئی، راولپنڈی کوماڈرن سٹی بنائیں گے، نالہ لئی کے ساتھ ہم نے ایک نیا پنڈی بنانا ہے۔ آبادی تیزی سے بڑھ رہی ہے، شہرپھیلتے جا رہے ہیں، پچھلے سال چاربڑی فصلوں کی ریکارڈ پیداوار ہوئی، کسانوں کوپہلی دفعہ پوری قیمت ملی اور ان کی پیداواربڑھی، ہم نے اپنی زرعی زمینوں کوبھی بچانا ہے۔

    تحریک عدم اعتماد کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ خریدوفروخت کی سیاست پر کسی کو شرم نہیں آرہی، اس کوجمہوریت نہیں کہتے، سب کچھ کھلے عام ہورہا ہے، برطانیہ میں کوئی سیاست دان تصوربھی نہیں کرسکتا پیسے لیکر پارٹی بدل لے، اگر کوئی برطانیہ میں پیسے لے بھی لے تو اسے معاشرہ برداشت نہیں کرے گا، عوام کے خوف کی وجہ سے برطانیہ کا سیاست دان سندھ ہاؤس والی حرکت نہیں کرسکتا، ہمارے کارکن جذبات میں آکرایسا کیا، کارکنوں سے کہتا ہوں پرامن احتجاج آپ کا حق ہے۔

    عمران خان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ضمیر خریدنے کے لیے چوری کے پیسوں کی منڈی لگی ہوئی ہے، سندھ کی عوام کا چوری کے پیسے کو استعمال کیا جا رہا ہے، سندھ ہاؤس میں کونسا ایسا کام ہو رہا تھا اس وجہ سے سندھ پولیس کو بلایا گیا، اگرہمارے لوگ تنگ ہیں تو ان کو چھپانے کی کیا ضرورت تھی؟ خریدوفروخت پوری قوم کے سامنے ہو رہی ہے، پاکستان کے لوگوں نے اس طرح کی سیاست کودیکھ لیا، خریدوفروخت کی سیاست کی وجہ سے پاکستان پیچھے چلا گیا۔

  • ولادی میر پوتن بھی عمران خان بن گئے:کہتےہیں کہ گھبرانا نہیں‌:منصوبے کے مطابق آگے بڑھ رہے ہیں‌

    ولادی میر پوتن بھی عمران خان بن گئے:کہتےہیں کہ گھبرانا نہیں‌:منصوبے کے مطابق آگے بڑھ رہے ہیں‌

    کریملن کے تمام مقاصد پورے ہوں گے، پیوٹن کا دعویٰ

    صدر ولادیمیر پیوٹن نے ماسکو کے اسٹیڈم میں روسی پرچم لہراتے لاکھوں لوگوں سے خطاب میں کہا کہ کریملن کے مقاصد پورے ہوں گے۔

    روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے لوگوں سے کھچا کھچ بھرے ہوئے ایک فٹ بال اسٹیڈیم میں خطاب کیا اور یوکرین پر حملے کو درست قرار دیا۔

    انہوں نے روسی پرچم لہراتے لاکھوں افراد سے کہا کہ کریملن کے تمام مقاصد پورے ہوں گے۔وزیراعظم عمران خان کے معروف جملوں کو دہراتے ہوئے کہا کہ گھبرانا نہیں‌ ہم ایک خاص منصوبے کے تحت آگے بڑھ رہے ہیں‌

    لوزنکی اسٹیڈیم میں ریلی سے خطاب کرتے ہوئے پیوٹن نے کہا کہ ہمیں پتہ ہے کہ ہمیں کیا کرنا ہے، کیسے کرنا ہے، اوراس کی کیا قیمت ہو گی۔اور ہم اپنے تمام مقاصد کامیابی کے ساتھ حاصل کر لیں گے۔

    انھوں نے یوکرین کی لڑائی کو خصوصی فوجی آپریشن قرار دیا اور کہا کہ سپاہی جذبے سے لڑ رہے ہیں جو بات روس کے اتحاد کی مظہر ہے۔

    بقول پیوٹن کے کاندھا کاندھے سے ملا کر، وہ ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں، ایک دوسرے کی حمایت کرتے ہیں، اور ضرورت پڑنے پر بھائیوں کی طرح ایک دوسرے کی جان بچانے کے لیے اپنی جان قربان کرتے ہیں۔

    پیوٹن نے کہا کہ ایک طویل عرصے سے اس قسم کے اتحاد کا مظاہرہ نہیں دیکھا۔

    پیوٹن کے خطاب کے دوران سرکاری ٹیلی ویژن نے تھوڑی دیر تک ان کا خطاب منقطع کرکے قومی ترانوں پر مشتمل ریکارڈ شدہ فوٹیج دکھائی۔ لیکن، بعدازاں کریملن کے سربراہ پھر اسکرین پر دکھائی دیے۔

    روسی خبر رساں ادارے نے کریملن کے ترجمان، دمتری پیسکوف کے حوالے سے کہا ہے کہ سرورمیں تکنیکی خرابی کے باعث ٹیلی ویژن سے پیوٹن کی تقریر کی نشریات منقطع ہوئیں۔

    ولادیمیر پیوٹن نے کہا کہ یوکرین کا آپریشن ضروری تھا چونکہ یوکرین کو استعمال کرتے ہوئے، بقول ان کے، امریکہ روس کو دھمکیاں دے رہا تھا، جب کہ روس روسی زبان بولنے والے افراد کو یوکرین کے قتل عام سے بچانا چاہتا تھا۔

     

    یوکرین کا کہنا ہے کہ وہ اپنی بقا کی جنگ لڑ رہا ہے اور یہ کہ پیوٹن کا قتل عام کا دعویٰ بے بنیاد ہے۔ مغربی ملکوں کا کہنا ہے کہ یہ دعویٰ کرنا کہ وہ روس کا شیرازہ بکھیرنا چاہتے ہیں، درست نہیں۔

    جس اسٹیج پر پیوٹن خطاب کررہے تھے وہاں بینروں پر نعرے تحریر تھے، جیسا کہ دنیا کو نازی ازم کی ضرورت نہیں اورہمارے صدر کے لیے کا نعرہ ، جس کے لیے یوکرین میں جاری فوجی کارروائی کے دوران انگریزی حرف زیڈ کی شکل کا نشان استعمال ہو رہا ہے۔

    میڈیا کی ایک رپورٹ کے مطابق لوزنکی اسٹیڈیم میں منعقدہ اس تقریب میں دو لاکھ سے زائد لوگ موجود تھے۔

    پیوٹن نے ملکی افواج کو سراہا، جوشیلنگ اور میزائل حملوں کے ذریعے یوکرین کے خلاف لڑ رہے ہیں۔اس موقع پر معروف روسی گلوکار اولیگ گزمانوف نے میڈ ان رشیا کے عنوان پر ایک گانابھی گایا۔

  • پاکستان میں عدم اعتماد دنیا اس کو عدم استحکام کی صورت میں دیکھتی ہے:عدنان عامر کا تجزیہ

    پاکستان میں عدم اعتماد دنیا اس کو عدم استحکام کی صورت میں دیکھتی ہے:عدنان عامر کا تجزیہ

    کراچی :پاکستان میں عدم اعتماد دنیا اس کو عدم استحکام کی صورت میں دیکھتی ہے:اطلاعات کے مطابق پاکستان کے حوالے سے جہاں غیرملکی ماہرین کے حقائق کا جائزہ لیا جائے تو حقائق کچھ اور ہیں اور اگرپاکستان بیسڈ ماہرین کے خیالات کا جائزہ لیا جائے توصورت حال کچھ اور دکھائی دیتی ہے ، پاکستان میں عدم اعتماد کو چین اور دیگر ممالک عدم استحکام سے منسوب کرتے ہیں

    شاید یہی وجہ ہے کہ کچھ تجزیہ نگاروں کا خیال ہےکہ اس موقع پر چین ضرور پریشان ہورہا ہوگا ،کیوںکہ پاکستان میں بڑھتی ہوئی سیاسی غیر یقینی صورتحال اور وزیر اعظم عمران خان کی زیر قیادت حکومت کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پیش کیے جانے کے ساتھ کچھ لوگوں‌ کا خیال ہے کہ عدم اعتماد کامیاب ہوتی ہے تو نگران سیٹ اپ میں ن لیگ کے ہاتھ میں عارضی حکومت آسکتی ہے

    ان کا خیال ہے کہ مارچ کے آغاز سے ہی مسلم لیگ (ن) سمیت اپوزیشن جماعتیں خان حکومت کو گرانے کے لیے تحریک عدم اعتماد کی تیاری کر رہی تھیں، جسے ہمسائیہ ممالک اچھا شگون نہیں کرتے اور اسے پاکستان کے لیے نقصان دہ قراردیتے ہیں‌۔ اب، پاکستان کی قومی اسمبلی — پارلیمنٹ کا ایوان زیریں — 27 مارچ کو اس تحریک پر ووٹنگ کرنے والی ہے۔ اگر تحریک 342 میں سے کم از کم 172 ووٹ حاصل کرتی ہے، تو خان ​​کو وزیر اعظم کے عہدے سے سبکدوش ہونا پڑے گا۔

    انتخابی مہم میں سیاسی ماحول گرم ہو گیا ہے۔ خان کی حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے اعلان کیا ہے کہ وہ ووٹ کے دن اسلام آباد میں ایک بڑی ریلی نکالے گی،دوسری طرف اپوزیش نے پہلے ہی اسلام آباد میں سیاسی دنگل کرنے کا منصوبہ بہت عرصہ پہلے کا بنا رکھا ہے

    پاکستانی حکومت کے ایک سینئر اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر نکی ایشیا کو بتایا کہ چین نے موجودہ سیاسی بحران میں انتظار کرو اور دیکھو کی پالیسی اپنائی ہے۔ ” اگر عمران خان تحریک عدم اعتماد سے بچ جاتے ہیں،تو چین ب ان کے ساتھ کام کرے گا

    چین پاکستان اقتصادی راہداری – بیجنگ کے بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو کا 50 بلین ڈالر کا پاکستانی حصہ – موجودہ حکومت کے دور میں اچھی ترقی نہیں کر سکا ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ مسلم لیگ (ن) کی قیادت میں نئی ​​حکومت سی پیک میں نئی ​​جان ڈالنے میں کامیاب ہوگی۔

    اسلام آباد میں قائداعظم یونیورسٹی کے سکول آف پولیٹکس اینڈ انٹرنیشنل ریلیشنز کے ایسوسی ایٹ پروفیسر اشتیاق احمد کا اپنا ذاتی خیال ہے کہ بیجنگ پی ٹی آئی حکومت کی جانب سے 2018 سے سی پیک منصوبوں کی رفتار سست کرنے پر ناراض ہے۔

    احمد نے اپنے اس تجزیے کے ذریعے کچھ برین واشنگ اور موبلائزیشن کا کارڈ کھیلتے ہوئے کہا کہ اگر خان کی حکومت گرتی ہے تو چین اور پاکستان کے درمیان اعتماد کا مستقل خسارہ ختم ہو جائے گا، اور نواز شریف کے چھوٹے بھائی اور مسلم لیگ (ن) کے موجودہ صدر شہباز شریف کے وزیر اعظم کا عہدہ سنبھالنے کا امکان چین کو خوش کر دے گا۔

    احمد نے ایک خلاف حقیقت اور چین کی پالیسی کے خلاف بات لکھتے ہوئے کرپشن کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اگرچہ موجودہ حکومت کا انسداد بدعنوانی پر زور بیجنگ کے لیے تشویش کا باعث ہے، سی پیک کے حوالے سے اس کی اپنی ترجیح کو دیکھتے ہوئے، چین میں یہ خدشات بھی ہیں کہ خان حکومت نے چینی منصوبوں اور چینی منصوبوں کے لیے سیکورٹی کے خطرات کو خاطر خواہ طور پر حل نہیں کیا ہے

    پاکستان کی سرگودھا یونیورسٹی میں پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف چائنا سٹڈیز کے ڈائریکٹر فضل رحمان کا اس معاملے پر مختلف موقف ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ چین کا واضح انتخاب یہ ہوگا کہ وہ موجودہ حکومت کو اپنی روٹین کی مدت پوری کرنے دے اور انتخابات کے ذریعے تبدیلی لائیں جو صرف ایک سال باقی ہیں۔

    رحمٰن نے نکی کو بتایا کہ تحریک عدم اعتماد جیسے اقدام سے "ایک ایسے وقت میں جب ملک معاشی پریشانیوں پر قابو پانے کے لیے جدوجہد کر رہا ہے، تحریک اور سیاسی عدم استحکام کے موروثی خطرات ہیں۔”

    Kugelman اتفاق کرتا ہے. انہوں نے کہا، "چین کے لیے، اہم تشویش یہ ہے کہ اگر حکومت میں تبدیلی آتی ہے تو اگلی قیادت کیسی نظر آتی ہے، اور اگر نئی حکومت کی طرف منتقلی کا طویل عمل ہوتا ہے تو غیر یقینی صورتحال اور اتار چڑھاؤ کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔” انہوں نے مزید کہا۔ "چین کی سب سے بڑی امید یہ ہے کہ سیاسی بحران قابو سے باہر نہ ہو جائے۔”

  • تحریک عدم اعتماد : قومی اسمبلی کا اجلاس 25 مارچ کو بلانے کا امکان:عمران خان کوکامیابی کایقین

    تحریک عدم اعتماد : قومی اسمبلی کا اجلاس 25 مارچ کو بلانے کا امکان:عمران خان کوکامیابی کایقین

    اسلام آباد: تحریک عدم اعتماد : قومی اسمبلی کا اجلاس 25 مارچ کو بلانے کا امکان،اطلاعات کے مطابق متحدہ اپوزیشن کے رہنماؤں کی طرف سے او آئی سی اجلاس سے متعلق سخت پیغام کے بعد پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی کا اجلاس 21 مارچ کے بجائے 25 مارچ کو بلانے کا امکان ہے۔

    واضح رہے کہ متحدہ اپوزیشن نے پیر کو تحریک عدم اعتماد قومی اسمبلی میں پیش نہ کرنے پر ایوان میں ہی دھرنا دینے اور او آئی سی اجلاس روکنے کی دھمکی دی تھی۔ وزرا نے بلاول کے بیان کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور شاہ محمود نے امید ظاہر کی کہ بلاول بھارتی آلہ کار بن کر او آئی سی اجلاس کو سبوتاژ نہیں کریں گے جبکہ شیخ رشید نے بلاول کو چیلنج کیا کہ اگر ہمت ہے تو کانفرنس روک کر دکھائیں۔

    ذرائع کے مطابق حکومت نے قومی اسمبلی کا اجلاس 21 مارچ کے بجائے 25 مارچ کو بلانے کا امکان ہے، او آئی سی اجلاس کے باعث اسمبلی سیکریٹریٹ کا چارج وزارت خارجہ کے پاس ہے۔

    پارلیمانی ذرائع کا کہنا ہے کہ ریکوزیشن کے 14 دن کے اندر اجلاس بلانا لازم ہے، اجلاس کا ہونا لازم نہیں۔گزشتہ روز وزیراعظم نے سیاسی کمیٹی اجلاس میں بھی قومی اسمبلی اجلاس سے متعلق مشاورت کی تھی۔

    اُدھر وزیراعظم عمران خان نے سیاسی کمیٹی کا اجلاس اتوار کو ایک بار پھر طلب کرلیا، بنی گالہ میں ہونے والے اجلاس میں پی ٹی آئی کی سینئر قیادت شریک ہوگی، جس میں اتحادیوں اور ناراض اراکین سے رابطوں پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

    ادھر ذرائع کا دعویٰ ہے کہ عمران خان کو یقین دہانی کروا دی گئی ہے کہ جیت ان کی ہوگی اور تمام اراکین پارٹی ان کےساتھ وفا کریں گے اور اس سلسلے میں ایک اہم شخصیت نے اپنا فن دکھانا شروع کردیا ہے

    واضح رہے کہ 8 مارچ کو اپوزیشن ارکان نے اسپیکر آفس میں وزیراعظم کیخلاف تحریک جمع کرائی ہے۔ تحریک قومی اسمبلی کی کل رکنیت کی اکثریت سے منظور ہو جانے پر وزیر اعظم اپنے عہدے پر فائز نہیں رہ سکیں گے۔ اس وقت قومی اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے لیے 172 ووٹ درکار ہیں۔

    متحدہ اپوزیشن نے تحریک عدم اعتماد کو کامیاب بنانے کے لیے اتحادی جماعتوں کے ممبران اسمبلی کونشانے پر رکھے ہوئے ہیں۔ اگر اپوزیشن حکومتی اتحادیوں جماعتوں کے 10 ارکان لینے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو تحریک کامیاب ہو جائے گی۔

    قومی اسمبلی میں حکمران جماعت پی ٹی آئی کو اتحادیوں سمیت 178 اراکین کی حمایت حاصل ہے۔ ان اراکین میں پاکستان تحریک انصاف کے 155 اراکین، ایم کیو ایم کے 7، بی اے پی کے 5، مسلم لیگ ق کے بھی 5 اراکین، جی ڈی اے کے 3 اور عوامی مسلم لیگ کے ایک رکن حکومتی اتحاد کا حصہ ہیں۔

    حزب اختلاف کے کل اراکین کی تعداد 162 ہے۔ ان میں اپوزیشن کی سب سے بڑی جماعت مسلم لیگ ن کے 84، پاکستان پیپلز پارٹی کے 57 اراکین، متحدہ مجلس عمل کے 15، بی این پی کے 4 جبکہ عوامی نیشنل پارٹی کا ایک رکن شامل ہے۔ اس کے علاوہ 2 آزاد اراکین بھی اس اتحاد کا حصہ ہیں۔

  • کامونکی:معروف یو ٹیوبر کی فیملی فوڈ پوائزنگ کا شکار ہو گئی

    کامونکی:معروف یو ٹیوبر کی فیملی فوڈ پوائزنگ کا شکار ہو گئی

    کامونکی:کامونکی:معروف یو ٹیوبر کی فیملی فوڈ پوائزنگ کا شکار ہو گئی ،اطلاعات کے مطابق معروف یوٹویرناصدمزنی کی فیملی کے ساتھ ہاتھ ہوگیا یا پھروہ خود اپنے ساتھ ہاتھ کرگئے ، کہا جارہا ہے کہ ناصرمدنی فوڈ پواپوئزنگ کا شکار ہوگئے ہیں

    کامونکی سے ذرائع کا کہنا ہے کہ معروف یو ٹیوبر ناصر مدنی کے اہلخانہ نے بیکری سے منگوا کر فاسٹ فوڈ کھایا
    یہ بھی بتایا گیا ہے کہ فاسٹ فوڈ کھانے سے سات افراد کی حالت غیر ہوئی

    مقامی ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ متاثرہ خاندان میں ناصر مدنی کی بیوی،بچے اور بھائی شامل ہیں ، ادھر متاثر ہونے والے افراد کو ٹی ایچ کیو ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے

    فوڈ پوائزنگ کیسی بیماری ہے ؟ اور اس کی وجوہات کیا ہیں ؟
    فوڈ پوائزننگ کی اصطلاح زہریلے مادے پر مشتمل کھانے کی بدہضمی سے بیماری کی طرف اشارہ کرتی ہے۔

    فوڈ پوائزننگ کی عام وجوہات میں سے ایک بیکٹیریا ، سلمونیلا اور کیمپلو بیکٹر کے ذریعہ پیدا ہونے والا زہر ہے۔

    یہ بیکٹیریا مویشی ، مرغی اور بطخ کی آنت میں رہتے ہیں بغیر علامات بیماری کا سبب بنتے ہیں۔

    انسانوں کو کھانے کی وجہ سے زہر آلودگی پیدا ہوسکتی ہے۔کیوں انسان دودھ پیتے ہیں ، گوشت یا انڈے کھاتے ہیں جو ان بیکٹیریا سے آلودہ ہوتے ہیں

    فوڈ پوائزننگ کی علامات اسہال ، الٹی اور پیٹ میں درد ہیں۔یہ آلودہ کھانا کھانے کے 12-24 گھنٹوں کے بعد ہوتی ہے

    انفیکشن کا زیادہ تر امکان ہوتا ہے ، اگر غیر مہذب دودھ پیا جاتا ہے یا اگر گوشت مناسب طریقے سے پکا نہیں ہے

    منجمد گوشت کو ڈیفروسٹنگ کے دوران بچنے والے مائع میں سالمونلا بیکٹیریا ہوتا ہے۔جب گوشت ڈیفروسٹ کر رہیں ہو تو اسے کسی دوسرے کھانے کے ساتھ ملنے نہیں دینا چاہئے

    فوڈ پوائزننگ شدید بوٹیلزم ہے۔یہ کلوسٹریڈیم بوٹولینم کے نام سے مشہور بیکٹیریا کے زہریلے مادے کی وجہ سے ہوتا ہے۔بوٹولوزم غیر مناسب طور پر ڈبے میں بند یا بصورت دیگر محفوظ خوراک ، خاص طور پر گوشت کے استعمال سے تیار بنتا ہے۔ان بیکٹیریا سے پیدا ہونے والا زہر طاقتور ہوتا ہے اور اس نے مرکزی اعصابی نظام پر حملہ کرتا ہے ، جس سے کارڈیک اور سانس کی فالج ہو جاتی ہے۔فوڈ پوئزنگ ہونے کی ابتدائی علامات تھکاوٹ ، چکر آنا ، ڈبل ویژن ، سر درد ، متلی ، الٹی ، اسہال اور پیٹ میں درد ہیں۔

  • سندھ ہاؤس پر حملے کیخلاف درخواست جمع ہوگئی

    سندھ ہاؤس پر حملے کیخلاف درخواست جمع ہوگئی

    اسلام آباد :سندھ ہاؤس پر حملے کیخلاف درخواست جمع ہوگئی،اطلاعات کے مطابق وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں سندھ ہاؤس پر پی ٹی آئی ایم این اے عطاء اللّٰہ اور فہیم خان سمیت یوتھ ونگ کے حملے کے خلاف پاکستان پیپلز پارٹی نے تھانہ سیکرٹریٹ میں درخواست جمع کروادی۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ رہنما پی پی قادر مندوخیل نے سندھ ہاؤس میں ہنگامہ آرائی کےخلاف درخواست دی، درخواست تھانہ سیکرٹریٹ میں دی گئی۔

    ذرائع کے مطابق درخواست میں کہا گیا کہ پی ٹی آئی ایم این ایز اور کارکنان نے سندھ ہاؤس میں حملہ کیا، گیٹ توڑا، پی ٹی آئی والوں نے سندھ ہاؤس میں ارکان اسمبلی اور فیملیز پر حملے کی کوشش کی۔

    درخواست میں موقف اپنایا گیا کہ پی ٹی آئی کارکنان ممبران، سیکیورٹی سمیت خواتین کے سامنے گالیاں دیتے رہے، پی ٹی آئی ممبران اور کارکنان نے سندھ ہاؤس کی سیکیورٹی کو دھکے دیے۔

    درخواست میں کہا گیا کہ سندھ ہاؤس میں ممبران قادر مندوخیل، عبدالقادر پٹیل، آغا رفیع اللّٰہ فیملیز کے ساتھ موجود ہیں۔

  • اسلامی دنیا پاکستان آرہی ہے اوربلاول اس موقع پرشرپسندی پھیلانا چاہتاہے:افسوس ہوا ہے:قومی قیادت

    اسلام آباد :اسلامی دنیا پاکستان آرہی ہے اوربلاول اس موقع پرشرپسندی پھیلانا چاہتاہے:افسوس ہوا ہے:اطلاعات کے مطابق مولانا طاہر اشرفی نے کہا ہے کہ مجھے بلاول بھٹو زرداری کے بیان پر افسوس ہوا ہے۔

    وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے بین المذاہب مولانا طاہر اشرفی نے اپنے ویڈیو بیان میں کہا ہے کہ او آئی سی کے وزرائے خارجہ کا اجلاس حزب اختلاف کے لئے بھی اتنا ہی باعث عزت ہے، جتنا حکومت کے لئے ہے۔

    انہوں نے کہا کہ او آئی سی میں ذوالفقارعلی بھٹو شہید کا بڑا کردار ہے، او آئی سی کو فعال کرنے کی ذوالفقارعلی بھٹو شہید کو قیمت بھی ادا کرنا پڑی، او آئی سی کے اجلاس کو روکنے کے لیے بھارت گزشتہ دو ماہ سے سازشیں کر رہا ہے۔

    مولانا طاہر اشرفی نے کہا کہ او آئی سی کے وزرائے خارجہ نے بھارت کی سازشوں کو ناکام بنایا ہے، او آئی سی کا اجلاس حزب اختلاف اور حکومت دونوں کا ہے، ہماری حزب اقتدار اور حزب اختلاف سے اپیل ہے کہ 24 مارچ تک اسلام آباد میں تمام سیاسی سرگرمیاں معطل کی جائیں۔

    وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے بین المذاہب نے کہا ہے کہ مجھے بلاول بھٹو زرداری کے بیان پر افسوس ہوا ہے۔

    شبلی فراز نے کہا ہے کہ بلاول کی دھمکی اپوزیشن کے عزائم کو ظاہر کرتی ہے۔وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی شبلی فراز نے ٹوئٹر پر جاری ایک پیغام میں کہا ہے کہ بلاول کا او آئی سی کے اجلاس میں خلل ڈالنے کی دھمکی دینا اپوزیشن کے مذموم عزائم کو ظاہر کرتا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ یہ مسلم دنیا کو اسلامو فوبیا سے لڑنے کیلئے مشترکہ حکمت عملی کے اقدام کو کمزورکرنا چاہتے ہیں۔
    واضح رہے اس سے قبل اسلام آباد میں شہباز شریف کی رہائش گاہ پر اپوزیشن جماعتوں کے قائدین کے اجلاس کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران بلاول بھٹو زرداری نے کہا تھا کہ اگر پیر تک اجلاس نہ بلایا گیا تو ہم ایوان میں دھرنا دیں گے۔

    بلاول بھٹو کا یہ بھی کہنا تھا کہ دیکھتے ہیں آپ قومی اسمبلی ہال میں او آئی سی کانفرنس کیسے کرتےہیں، جب تک ہمارا حق نہیں دیا جاتا ہم بیٹھے رہیں گے، کوشش کی جارہی ہے کہ ارکان اپنا ووٹ استعمال نہ کریں، تاثر دیا جارہا ہے وہ نہیں کھیلے گا تو کوئی نہیں کھیلے گا۔

    پیپلز پارٹی کے چیئر مین کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ چاہتا ہے آئینی بحران پیدا ہو اور تیسری قوت کو موقع ملے، عمران خان نے شکست دیکھ کر غیرجمہوری عمل اختیار کیا، حکومت طاقت کے استعمال پر اتر آئی، پہلے پارلیمان پھر سندھ ہاؤس پر حملہ کیا گیا۔

    ان کا کہنا تھا کہ عمران خان آئیں مقابلہ کریں، عمران نیازی زندگی بھر کھلاڑی رہے، آخرمیں بال ٹیمپرنگ نہ کریں، ہم ذمہ داری کے ساتھ آج تک چل رہے ہیں، حکومت چاہتی ہے آئینی بحران پیدا ہو۔

    بلاول بھٹو نے کہا تھا کہ اسپیکر نے غیر جمہوری سوچ اپنائی تو ساری اپوزیشن کو مناؤں گا، اسپیکر پیر تک عدم اعتماد نہ لائے تو ایوان میں دھرنا دیں گے، دیکھتے ہیں آپ قومی اسمبلی ہال میں او آئی سی کانفرنس کیسے کرتے ہیں۔

    بلاول بھٹو کا مزید کہنا تھا کہ عمران اکثریت کھو چکا ہے، عمران شکست دیکھ کر غیر جمہوریہ اپنا رہا ، جب تک ہمارا حق نہیں دیا جاتا ہم بیٹھے رہیں گے۔

  • ڈاکٹر رمیش کمار سے لائیو ٹی وی پروگرام میں بدزبانی پیمرا نے نوٹس لے لیا

    ڈاکٹر رمیش کمار سے لائیو ٹی وی پروگرام میں بدزبانی پیمرا نے نوٹس لے لیا

    اسلام آباد:ڈاکٹر رمیش کمار سے لائیو ٹی وی پروگرام میں بدزبانی پیمرا نے نوٹس لے لیا ،اطلاعات کے مطابق اقلیتی ایم این اے ڈاکٹر رمیش کمار وانکوانی نے وزیراعظم کے معاون خصوصی شہباز گل کو لائیو ٹی وی شو کے دوران بدزبانی اور نازیبا الفاظ استعمال کرنے پر قانون کے کٹہرے میں لانے کا فیصلہ کرلیا ہے، تفصیلات کے مطابق ڈاکٹر رمیش کمار نے اپنے وکیل ایڈوکیٹ ثاقب جیلانی کے توسط سے شہباز گل کے خلاف دس کروڑ روپے کا ہتک عزت کا دعویٰ دائر کردیا ہے، لیگل نوٹس کے متن کے مطابق شہباز گل کو پندرہ دن کی مہلت دی گئی ہے کہ وہ نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے پروگرام سمیت دیگر میڈیا پلیٹ فارمز میں اپنا معافی نامہ شائع کرائے اور دس کروڑ روپے کا ہرجانہ ادا کرے بصورت دیگر ڈیفیمیشن آرڈیننس کے سیکشن 8 کے تحت قانونی کاروائی عمل میں لائی جائے گی۔

     

    [wp-embedder-pack width=”100%” height=”400px” download=”all” download-text=”” attachment_id=”474497″ /]

    مزید برآں شہباز گل کے ایماء پر پی ٹی آئی کارکنوں کی طرف سے ڈاکٹر رمیش کمار اور اہل خانہ کو واٹس ایپ پر قتل کی دھمکیوں اور ہراساں کرنے کا سلسلہ جاری ہے، اس حوالے سے ڈاکٹر رمیش کمار نے ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے اور ڈی جی سائبر کرائم ونگ ایف آئی اے کے نام اپنی درخواست میں موقف اختیار کیا ہے کہ شہباز گل نے ٹی وی پروگرام کے دوران بدزبانی اور بدکلامی کرتے ہوئے ان پر جھوٹے اور بے بنیاد الزامات لگائے ہیں، شہباز گل کے ایماء پر پی ٹی آئی کارکنوں کی طرف سے انہیں اور انکی فیملی کو قتل کی دھمکیاں دی جارہی ہیں، ڈاکٹر رمیش نے پانچ سو سے زائد نازیبا واٹس ایپ پیغامات کے اسکرین شاٹس شیئر کرتے ہوئے ایف آئی اے سے گھناؤنے جرم میں ملوث عناصر کے خلاف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ 2016 کے تحت کڑی کاروائی کرنے کی استدعا کی ہے۔

     

     

    [wp-embedder-pack width=”100%” height=”400px” download=”all” download-text=”” attachment_id=”474498″ /]

    مزید برآں پیمرا نے نجی ٹی وی چینل کے پروگرام آن فرنٹ ود کامران شاہد کے دوران ڈاکٹر رمیش کمار کو ناحق تضحیک کا نشانہ بنانے کے خلاف دنیا نیوز کے سربراہ کو شوکاز نوٹس جاری کر دیا گیا، پیمرا کے مطابق ٹی وی اینکر کامران شاہد کی کارکردگی تسلی بخش نہیں تھی جبکہ لائیو ٹی وی شو کے دوران وقفے کا میکانزم بھی نہیں اپنایا گیا، ٹی وی چینل پر قابل اعتراض کلمات کا نشر ہونا پیمرا آرڈیننس کے سیکشن 20 سمیت سپریم کورٹ کے سوموٹو کیس نمبر 28/2018 کی سنگین خلاف ورزی ہے۔

    پیمرا نے شو کاز نوٹس میں دنیا نیوز کے سربراہ کو 28 مارچ کو تحریری جواب کے ساتھ پیمرا ہیڈکوارٹرز طلب کرلیا۔ ڈاکٹر رمیش کمار وانکوانی نے نامعلوم مقام سے اپنے جاری کردہ بیان میں بتایا کہ انہوں نے پارلیمنٹ لاجز میں اپنی فیملی کو ہراساں کیے جانے کے بعد سندھ ہاؤس منتقل ہونے کا فیصلہ کیا تھا،تاہم سندھ ہاؤس پر حملے کے بعد انہیں اور انکی فیملی کو سیکیورٹی کے سخت خدشات لاحق ہوگئے ہیں، انہوں نے تھانہ سیکرٹریٹ میں تحریری درخواست میں آئی جی اسلام آباد اور ایس ایس پی سے اپنی اور اہل خانہ کی فول پروف سیکیورٹی یقینی بنانے کی درخواست کی ہے۔