Baaghi TV

Author: +9251

  • فی الحال کل وزیراعظم سے ملاقات کا امکان نہیں :ق لیگ

    فی الحال کل وزیراعظم سے ملاقات کا امکان نہیں :ق لیگ

    اسلام آباد:فی الحال کل وزیراعظم سے ملاقات کا امکان نہیں :اطلاعات کے مطابق وفاقی دارالحکومت میں سیاسی صورتحال پر ہر گزرتے دن کے ساتھ تبدیل ہورہی ہے، مسلم لیگ ق نے کل وزیراعظم سے ملاقات کی تردید کردی ہے۔جبکہ دوسری طرف وزیراعظم اپنے ساتھیوں اوراتحادیوں کی طرف سے وفا پر پورا یقین رکھتے ہیں

    اپوزیشن کی جانب سے وزیراعظم عمران خان کیخلاف تحریک عدم اعتماد جمع کرائے جانے کے بعد سیاسی صورتحال نے بھی رنگ بدلنے شروع کردیے ہیں۔

    اس حوالے سے ق لیگ کے رہنما کامل علی آغا کا بیان سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے واضح کیا ہے کہ ق لیگ قیادت کی کل وزیراعظم سے کوئی ملاقات نہیں ہورہی ہے۔

    کامل علی آغا نے کہا کہ نہ ہی چوہدری پرویز الٰہی اور مونس الٰہی کل وزیراعظم سے ملاقات کررہے ہیں، اور نہ ہی اس حوالے سے کوئی شیڈول تیار یا رابطہ ہوا ہے۔اس سے قبل اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے وزیراعظم اور پرویز الٰہی میں ملاقات کا امکان ظاہر کیا تھا۔

    ہفتے کے روز میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اسد قیصر نے کہا تھا کہ اب یہ عدم اعتماد لے آئیں گے، ہمارے ممبر ایسے نہیں جو اپنا ضمیر بیچیں، ہمارے ممبر عمران خان کے ساتھ کھڑے ہیں، کل عمران خان کی چوہدری پرویز الٰہی سے ملاقات کا امکان ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ عدم اعتماد عمران خان کے لیے اطمینان کی تحریک ہوگی، یہ جتنی چاہیں مرضی پیسے لگائے عمران خان اپنا ٹائم پورا کریں گے، اپوزیشن کے ضمیر فروش ہے یہ مال بنانے کے لیے آ رہئ ہیں، میری دعا ہے کہ خوش اسلوبی سے یہ مسئلہ حل ہو جائے۔

    اس سے قبل وزیر داخلہ شیخ رشید کا کہنا تھا کہ اپوزیشن نے ووٹ خریدنے کا بازار گرم رکھا ہے، اپوزیشن نے بلیک میلنگ شروع کی ہوئی ہے، اپوزیشن جتنا مرضی پیسے لگائے، وزیر اعظم عمران خان 5 سال پورے کریں گے۔

  • عمران خان کا قتل ثواب کا کام کہنے والا جے یو آئی کارکن گرفتار

    عمران خان کا قتل ثواب کا کام کہنے والا جے یو آئی کارکن گرفتار

    پشاور:وزیراعظم عمران خان کو جہاں بین الاقوامی اسٹیبلشمنٹ اور پاکستان مخالف خفیہ ایجنسیوں سے جان کا خطرہ وہاں پاکستان میں ایسی قوتوں کی طرف سے جان سے مارنے کی دھمکیاں مل رہی ہیں جنہوں نے آج تک موجودہ حکومت کو دل سے تسلیم نہیں کیا ، ان میں جے یو آئی ف پہلے نمبر پر ہے

    ادھر اس حوالے سے معلوم ہوا ہے کہ پچھلے دو دن سے جے یو آئی ف کے کارکنوں کے سوشل میڈیا پیجز پرایک ایسی ویڈیو وائرل کی جارہی ہےجس میں ایک مدرسے کا انتہا پسند استاد عمران خان کے قتل کوثواب قرار دے کرلوگوں کواس گھنوئنے جرم کے لیے اُکسارہا ہے

     

    کہا جارہا ہےکہ جے یو آئی ف کے اس انتہا پسند کا نام قاری عبدالحمید اور والد کا نام محمد کریم ہے جو کہ پائندہ خیل علاقہ پڑانگ کا مستقل رہائشی ہے ،یہ چار بھائی ہیں ان میں ایک بیرون ملک جبکہ دوسرے ادھر علاقے میں مختلف کام کرتے ہیں ، قاری عبدالحمید مولانا فضل الرحمن کا فارغ التحصیل ہے اور آج کل کسی مسجد کا امام وخطیب ہے

    مذکورہ انتہاپسند جوکہ اسی علاقے میں جے یو آئی ف کے ایک مدرسے میں پڑھاتا ہے ، اس قاری عبدالحمید نے 10 مارچ کو موٹروے پراسلام آباد کی طرف مارچ کے دوران ایک ویڈیو وائرل کی تھی جس میں وہ کہہ رہا ہے کہ عمران خان کو قتل کرنا ایسے ہی ہے جیسے کسی بکرے کو ذبح کرنا ہے

     

     

    قاری عبدالحمید کہتا ہے کہ عمران خان کو قتل کرنا ثواب کا کام ہے ، اوروہ اپنے قائد مولانا فضل الرحمن کے حکم کا منتظر ہے کہ وہ عمران خان کے قتل کا حکم دیں اور میں قتل کرکے اپنا فریضہ ادا کروں ، دوسری طرف پولیس نے گرفتار حوالات میں بند کردیا ہے امید کی جارہی ہےکہ بہت جلد اس کا سوفٹ وہئر اپ ڈیٹ ہوجائے گا

     

    یاد رہے کہ دفاعی تجزیہ نگار زید حامد بھی کہتے ہیں کہ وزیراعظم عمران خان کی خارجہ پالیسی اور پاکستان میں اسلائمیزشن کی وجہ سے عالمی قوتیں ان کو راستے سے ہٹانا چاہتی ہیں اور ایسا وزیراعظم لانا چاہتی ہیں جو چین سے دور اور بھارت کے قریب ہو

  • وزیر اعظم عمران خان نے آزاد خارجہ پالیسی کی بنیاد رکھی ہے:اسد قیصر

    وزیر اعظم عمران خان نے آزاد خارجہ پالیسی کی بنیاد رکھی ہے:اسد قیصر

    صوابی : اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا کہ حزب اختلاف کی جانب سے وزیر اعظم پر عدم اعتماد سے لوگوں کا عمران خان پر اعتماد میں مزید اضافہ ہوا ہے ۔انہوں نے کہا کہ میری کارکردگی کا مقابلہ ماضی کے تمام عوامی نمائندوں سے کریں ہمارے دور میں جتنے ترقیاتی کام ہوے انکی تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے بوقو صوابی میں عوامی تقریب سے خطاب کے دوران کیا ۔

    انہوں نے مزید کہا کہ وزیر اعظم عمران خان نے ملک میں آزاد خارجہ پالیسی کی بنیاد رکھی۔پاکستان ایک خود محتار اور آزاد ملک ہے ہم کسی سے ڈکٹیشن نہیں لیں گے ہم دنیا سے برابری کے بنیاد پر تعلقات چاھتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ عدم اعتماد اپوزیشن کا قانونی حق ہے پاکستان تحریک انصاف کے ممبران قومی اسمبلی اس کا بھرپور مقابلہ کریں گے ۔

    اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا کہ ہمارے دور میں جتنے اسلامی قانون سازی ہوئی ماضی میں اسکی مثال نہیں ملتی ۔انہوں نے کہا کہ ہمارے دور میں پانچویں تک سکولوں میں ناظرہ قرآن پاک اور 10 سویں تک ترجمہ قرآن پاک شروع کیا گیا ۔انہوں نے کہا ہماری حکومت نے ایماء کرام کیلئے وظیفہ شروع کیا اور سود کے خلاف قانون سازی کی ۔

  • ایک ہی دن میں  دہشتگردی میں ملوث 81 مجرمان کو سزائے موت دیدی گئی

    ایک ہی دن میں دہشتگردی میں ملوث 81 مجرمان کو سزائے موت دیدی گئی

    ریاض :سعودی عرب میں انتہا پسندگروہوں سے تعلق رکھنے والے 81 مجرمان کو سزائے موت دے دی گئی۔سعودی  وزارت داخلہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق 81 مجرمان کو سزائے موت دی گئی ہے جو کہ داعش اور  القاعدہ سمیت غیرملکی ایجنسیوں اور حوثی ملیشیا سے بھی وابستہ تھے، مجرمان میں سعودی اور یمنی شہری شامل ہیں۔

       

    سعودی پریس ایجنسی کی طرف سے جاری ہونے والے بیان میں مزید کہا گیا ہے، ”ملزمان کو اٹارنی کا حق فراہم کیا گیا تھا اور عدالتی کارروائی کے دوران سعودی قانون کے تحت ان کے حقوق کی مکمل ضمانت فراہم کی گئی تھی۔  ملکی عدالتی نظام نے انہیں متعدد گھناؤنے کام کرنے کا مجرم پایا، ایسے جرائم، جن کے نتیجے میں شہری اور قانون نافذ کرنے والے افسروں کی ایک بڑی تعداد ہلاک ہوئی۔‘‘

    جاری ہونے والے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ سعودی حکومت مستقبل میں بھی ایسے سخت اقدامات جاری رکھے گی، ” سعودی سلطنت ملک میں دہشت گردی اور اُن انتہا پسندانہ نظریات کے خلاف ایک سخت اور اٹل موقف اختیار کرتی رہے گی، جن  سے پوری دنیا کے امن اور استحکام کو خطرہ ہے۔‘‘

    سعودی عرب میں گزشتہ ایک عشرے میں اتنے بڑے پیمانے پر پھانسیاں سن 2016 میں دی گئی تھیں۔ اس وقت ایک ہی دن میں 47 افراد کو تختہ دار پر چڑھا دیا گیا تھا۔ ان میں وہ شیعہ رہنما بھی شامل تھا، جنہوں نے ملک میں احتجاجی ریلیوں کا انعقاد کیا تھا۔ تب ایران اور سعودی عرب کے سفارتی تعلقات انتہائی کشیدہ ہو گئے تھے اور تہران میں سعودی سفارت خانے پر حملہ کر دیا گیا تھا۔ سعودی عرب اور ایران کے تب سے سفارتی تعلقات منقطع چلے آ رہے ہیں۔

    اس کے بعد سن 2019ء میں ایک ساتھ 37 افراد کو پھانسیاں دی گئیں تھیں۔ تب ان افراد پر دہشت گردی کے الزامات عائد کیے گئے تھے اور ان میں سے زیادہ تر کا تعلق سعودی عرب کی اقلیتی شیعہ کمیونٹی سے تھا۔

     

  • چودھری پرویزالٰہی کی راجہ بشارت کے گھر آمد

    چودھری پرویزالٰہی کی راجہ بشارت کے گھر آمد

    راولپنڈی: چودھری پرویزالٰہی اہم شخصیت کے گھرپہنچ گئے،اطلاعات کےمطابق چودھری پرویزالٰہی اہم سیاسی شخصیت کی رہائش گاہ پہنچ گئے۔

    اسپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویزالٰہی کے ہمراہ وفاقی وزیر برائے ہاؤسنگ طارق بشیر چیمہ، رکن قومی اسمبلی حسین الٰہی، صوبائی وزیر حافظ عمار یاسر اور مسلم لیگ راولپنڈی کے صدر زبیر خان نے بھی صوبائی وزیر قانون راجہ بشارت کی رہائش گاہ آمد کی۔

    مسلم لیگی رہنماؤں نے راجہ بشارت سے ان کی ہمشیرہ کے انتقال پر تعزیت کا اظہار کیا اور مرحومہ کے بلندی درجات کیلئے فاتحہ خوانی بھی کی۔

    چودھری پرویزالٰہی کا اس موقعے پر کہنا تھا کہ ہم آپ کے غم میں برابر کے شریک ہیں، دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مرحومہ کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔

    طارق بشیر چیمہ کا کہنا تھا کہ اللہ تعالیٰ آپ سب کو یہ صدمہ ہمت و حوصلہ سے برداشت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔تحریک انصاف کے ایم این اے صداقت علی عباسی اور راجہ بشارت کے صاحبزادے راجہ بہروز بھی اس موقع پر موجود تھے۔

    ادھر وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد سے متعلق پاکستان مسلم لیگ ق کی جانب سے کل کے اجلاس میں حتمی فیصلہ کا امکان ہے۔

    ذرائع کے مطابق پاکستان مسلم لیگ (ق) کی اہم مشاورتی بیٹھک آج ہوئی جس میں مسلم لیگ (ق) کے اپوزیشن اور حکومت سے ہونے والے مذاکرات سے متعلق غور کیا گیا۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ ق کا مشاورتی اجلاس ختم ہوگیا جس میں فیصلہ کیا گیا کہ مشاورت کل بھی جاری رہے گی۔

    اس حوالے سے مسلم لیگ ق کے سربراہ چودھری شجاعت کا کہنا ہے کہ پاکستان مسلم لیگ کسی بھی کشمکش کا شکار نہیں کل کے اجلاس میں حتمی فیصلے کا امکان ہے۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ ق کو حکومت تاحال مطمئن نہیں کر پائی ہے جبکہ مسلم لیگ ق اور حکومت میں گزشتہ روز ہونے والے مذاکرات بھی بے نتیجہ رہے۔

    یاد رہے کہ گزشتہ روز وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری نے کہا تھا کہ مسلم لیگ ق کے ساتھ تمام معاملات پر اتفاق ہو گیا ہے، تاہم وفاقی وزیر طاہر بشیر چیمہ نے رد عمل دیتے ہوئے کہا تھا کہ فواد چودھری کا دعویٰ مسترد کرتے ہیں، ان کے ساتھ ملاقات کے دوران عدم اعتماد نہیں صرف پیکا آرڈیننس پر بات چیت ہوئی تھی۔

    دوسری طرف ق لیگ کے مطابق سیاست میں ضد یا انا نہیں بلکہ پارلیمانی و جمہوری رویے اہمیت کے حامل ہوتے ہیں، مسلم لیگ ق کی پنجاب سمیت ملکی سیاست میں ہمیشہ سے اہم کردار رہا ہے۔

  • مریم سب کوپیچھےچھوڑگئیں:اینٹ کاجواب پتھرسے    :وزیراعظم کوغنڈہ اوربدمعاش قراردیا:قوم دیکھتی رہ گئی

    مریم سب کوپیچھےچھوڑگئیں:اینٹ کاجواب پتھرسے :وزیراعظم کوغنڈہ اوربدمعاش قراردیا:قوم دیکھتی رہ گئی

    لاہور:مریم سب کوپیچھےچھوڑگئیں:اینٹ کا جواب پتھر:وزیراعظم کوغنڈہ اوربدمعاش قراردیا:قوم دیکھتی رہ گئی،اطلاعات کے مطابق وزیراعظم عمران خان کی ن لیگ ، پی پی اور جے یو آئی ف کے سربراہان کے خلاف تنقید اور گفتگو ایک نیا رُخ اختیار کرگئی ہے

    ن لیگ کی ترجمان نوازشریف،شہبازشریف اور مریم نواز کی فرنٹ مین مریم اورنگزیب نے وزیراعظم عمران خان کو انتہائی گھٹیا ناموں سے پکارتے ہوئے مردوں کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے

    مریم اورنگزیب نے وزیراعظم عمران خان کو غنڈہ اور بدمعاش کہہ کرسب قرض چکا دیئے ہیں

    مسلم لیگ ن کی ترجمان مریم اورنگزیب کہتی ہیں کہ بات چیت سیاستدانوں سے ہوتی ہے،گالیاں دینے والے غنڈے اور بدمعاشوں سے نہیں۔

    مریم اورنگزیب کا کہنا ہےکہ ایک طرف سیاسی مخالفین کو گالیاں، دھمکیاں اور بے بنیاد الزامات لگائے جارہے ہیں، دوسری طرف بات چیت کے لیکچر؟

     

    مریم اورنگزیب نے فواد چوہدری کو مشورہ دیا کہ یہ باتیں عمران صاحب کو سمجھائیں جنہوں نے سیاست کو دشمنی میں بدل دیا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ سیاست میں گند اور غلاظت عمران صاحب نے ڈالی ہوئی ہے ، عدم اعتماد معاشرے سے غلاظت کے اس ڈھیر اور عدم برداشت کے منبع کو ہٹانے کے لیے لائی جارہی ہے۔

    یاد رہے کہ پچھلے کئی ماہ سے ملکی سیاست میں صبر،تحمل اوربردباری ختم ہوتے جارہی ہے اور سیاستدان ایک دوسرے کو انتہائی گھٹیا اور غلیظ ناموں سے پکار رہے ہیں

    جہاں شیخ رشید اپنے مخالفین کو آڑے ہاتھوں لیتے ہیں وہاں ن لیگ کے مرکزی رہنما رانا ثنااللہ شیخ رشید کو پنڈی کا شیطان کہہ کرپکارتے ہیں اور میڈیا میں آج تک کسی مفکر نے ان سخت ترین اور انتہائی گھٹیا جملوں پررانا ثنااللہ کا مواخذہ نہیں کیا ، ایسے ہی پی ٹی آئی کے ڈاکٹرشہبازگل بھی بہت ناقص زبان استعمال کرتے ہیں ، مریم نواز بھی جملے کستے ہوئے ایسے ایسے قبیح جملے کہہ جاتی ہیں کہ میڈیا اصلاح کی بجائے واہ واہ کرکے داد سبقت دیتا ہے

    ادھرمریم نواز نے اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اس معاملے میں اور جان ڈالی اور عمران خان کی حکومت کو ذلت اورشرمندگی سے تعبر کیا وہ کہتی ہیں کہ :

     

     

    ایسے ہی وزیراعظم عمران خان بھی باز نہیں آرہے اور اپنے منصب کا لحاظ رکھے بغیراپنے مخالفین پرسخت جملے کستے ہیں ، ان کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ نوازشریف، شہبازشریف اور آصف زرداری کے خلاف کرپشن اور لوٹ مار کے کیسز عدالتوں میں دائر ہیں اور وہ خود فیصلہ سنا دیتے ہیں

     

    یاد رہے کہ پچھلے چند دنوں سے سیاسی فرقہ واریت میں اضافے کے بعد عوامی ردعمل میں بھی اضافہ ہوا اور میڈیا پربھی اس روے کی مذمت کی گئی جس کے بعدحکومت کی طرف سے اس اندازگفتگو سے اجتناب کرتے ہوئے سیاسی معاملات کو بات چیت سے حل کرنے کی پیش کش کی گئی جسے مریم اورنگزیب نے وزیراعظم عمران کو غنڈہ اور بدمعاش کہہ کرمسترد کردیا

  • اتناہی یہ ابھرےگاجتناکہ دبا دیں گے:گھبرانانہیں اللہ ہمارے     ساتھ ہیں:وزیراعظم کا زبردست مکالمہ

    اتناہی یہ ابھرےگاجتناکہ دبا دیں گے:گھبرانانہیں اللہ ہمارے ساتھ ہیں:وزیراعظم کا زبردست مکالمہ

    اسلام آباد:اتنا ہی یہ ابھرے گا جتنا کہ دبا دیں گے:وزیراعظم کاپُرجوش انداز میں ارکان اسمبلی سے مکالمہ،اطلاعات کے مطابق تحریک عدم اعتماد کے معاملے پر وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ملک کی زیادہ دلجمعی کے ساتھ خدمت کرنے کے لیے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) حالیہ صورتحال سے مزید مضبوط ہو کر ابھرے گی۔

    وزیر اعظم عمران خان سے اراکین قومی اسمبلی نے ملاقاتیں کیں، ملاقات کرنے والوں میں شوکت علی، شیر علی، ارباب راجہ، خرم شہزاد ، علی نواز اعوان، راشد شفیق، منصور حیات خان، ذوالفقار علی خان، کنول شوزب، بیگم شاہین سیف اللہ طورو، نفیسہ خٹک، نورین فاروق ابراہیم، سابق رکن قومی اسمبلی چودھری اشفاق، حاجی یونس علی انصاری، میاں کاشف اشفاق شامل تھے۔

    وزیراعظم نے بلدیاتی انتخابات میں کامیابی کو یقینی بنانے کے لیے نچلی سطح پر کارکنوں کو متحرک کرنے کی بھی ہدایت کی۔

    اس موقع پر انہوں نے کہا کہ حکومت کی کامیاب معاشی پالیسیوں سے ورثہ میں ملنے والی دیوالیہ معیشت کو استحکام ملا، ملکی معیشت سسٹین ایبل گروتھ کی راہ پر گامزن ہے، عوام کے ساتھ اپنا رابطہ مضبوط کریں، سماجی و اقتصادی ترقی کے لیے جاری مختلف سرکاری سکیموں کے بارے میں زیادہ سے زیادہ آگاہی پیدا کریں۔

    عمران خان نے کہا کہ حکومت عوام کی پریشانیوں سے پوری طرح آگاہ ہیں، حکومت درآمدی مہنگائی کے منفی اثرات سے عوام کو بچانے کے لیے تمام ممکن اقدامات کر رہی ہے۔ حکومت ٹارگٹڈ سبسڈیز اور نوجوانوں کے لیے روزگار کے وسیع مواقع پیدا کرنے کے لیے کوشاں ہے۔

    انہوں نے کہا کہ حکومت سرمایہ کار دوست ماحول پیدا کر کے مہنگائی کے منفی اثرات کو کم کرنے کی بھرپورکوشش کر رہی ہے۔

    دوسری طرف وزیراعظم عمران خان سے سینیٹ میں قائد ایوان ڈاکٹر شہزاد وسیم کی ملاقات ہوئی، وزیراعظم کو ایوان بالا کی حمایت اور یکجہتی کا یقین دلایا گیا۔

    شہزاد وسیم نے کہا کہ پی ٹی آئی اپوزیشن کی وزیراعظم کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کو اسی طرح ناکام بنائے گی، جیسے اس سے قبل کئی موقعوں پر اس نے قومی اسمبلی میں اپوزیشن کو شکست سے دوچار کیا ہے۔

    اس موقع پر وزیراعظم نے کہا کہ ملک کی زیادہ دلجمعی کے ساتھ خدمت کرنے کے لیے پی ٹی آئی حالیہ صورتحال سے مزید مضبوط ہو کر ابھرے گی۔

  • عامرلیاقت کی چوتھی شادی؟آرزوکی تصویراورآڈیولیک کامعاملہ شدت اختیارکرگیا:تیسری بیوی حرکت میں آگئی

    عامرلیاقت کی چوتھی شادی؟آرزوکی تصویراورآڈیولیک کامعاملہ شدت اختیارکرگیا:تیسری بیوی حرکت میں آگئی

    کراچی:عامر لیاقت کی چوتھی شادی؟ لڑکی کی تصویر اور آڈیو لیک کا معاملہ شدت اختیارکرگیا ،اطلاعات کے مطابق چند پہلے ٹی وی اینکر اور پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) سے منسلک سیاستدان 49 سالہ عامر لیاقت انسٹاگرام پر آرزو نامی لڑکیسے گفتگو کی آڈیو ریکاڈنگ لیک ہونے کا معاملہ شدت اختیار کرگیا ہے ۔

    یاد رہے کہ چند دن پہلے عامر لیاقت کی راز کی باتیں لیک ہونے کےبعد اب یہ بحث زور پکڑرہی ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے رہنما، رکنِ قومی اسمبلی، ڈاکٹر عامر لیاقت حسین کی تیسری شادی کے بعد چوتھی کے بارے سوچ رہے ہیں، 49 سالہ عامر لیاقت نے حال ہی میں سیدہ دانیہ شاہ سے رشتۂ ازدواج میں منسلک ہوئے ہیں، 49 سالہ عامر لیاقت نے چند دن پہلے بتایا تھا کہ ان کی نئی اہلیہ کی عمر 18 برس ہے

    اسی دوران انسٹاگرام پر ایک آروز نامی لڑکی سے گفتگو کی آڈیو لیک ہوگئی۔ سوشل میڈیا پرعامرلیاقت آواز اور لڑکی کے ایک دوسرے کو بھیجے گئے پیغامات بھی سامنےآگئے۔ لڑکی نے میسج کیا کہ عامر میں آپ کو بہت پسند کرتی ہوں, پلیز آپ میرے والدین سے ہمارے رشتے کی بات کریں۔اگر آپ ایسا نہیں کرسکتے تو مجھے جانے دیں۔ آرزو نامی لڑکی نے مزید لکھا کہ میں واقعی آپ سے بہت پیار کرتی ہوں مجھے نظر انداز مت کرنا۔میں ایک اچھی بیوی ثابت ہوں گی۔جس پرعامر لیاقت نے جواب دیا کہ’ واقعی’۔

     

     

    یہ بھی یاد رہے کہ عامر لیاقت کے لڑکی کوجوابی میسج کو دیکھ کر لڑکی نے خوشی سے حال احوال پوچھا اور بتایا کہ یقین نہیں آرہا کہ آپ نے مجھے رپلائی کیا اور رونا آرہا ہے۔وائس میسج کرتے عامرلیاقت نے کہا میں شکر ہے میں ٹھیک اور رونے کی ضرورت نہیں۔

    عامرلیاقت کہہ رہے ہیں کہ آرزو میں نے آپ کو دیکھا ہی نہیں تو والدین سے کیسے بات کرلوں، آپ مجھے اپنی تصویر بھیجیں۔جس پر لڑکی نے اپنی تصویر بھیجی اور بتایا کہ وہ کراچی رہتی ہے۔

    اس لیک ہونے والی اڈیو سے پتہ چلتا ہےعامر لیاقت نے لڑکی کے گھر ملنے کی خواہش کی اور اس سے عمر اور سالگرہ کا پوچھا۔ لڑکی نے مزید میسج کیا کہ مجھے یقین نہیں کہ آپ عامر لیاقت ہی ہیں؟ کیا آپ اپنی لائیو تصویر بھیج سکتےہیں؟ ڈاکٹر عامر لیاقت نے جواب دیا کہ آپ میری آواز سن لیں میں ہی ہوں۔

    ادھر یہ خبریں بھی گردش کررہی ہیں کہ عامر لیاقت کی چوتھی شادی کی پلاننگ کا سُن کرتیسری بیوی حرکت میں آگئی ہیں‌

  • فلسطینیوں سےشادیاں پرشہریت کاقانون دوبارہ متعارف:      اسرائیل کی شرارتیں اورسازشیں کھل کرسامنےآگئیں

    فلسطینیوں سےشادیاں پرشہریت کاقانون دوبارہ متعارف: اسرائیل کی شرارتیں اورسازشیں کھل کرسامنےآگئیں

    تل ابیب:فلسطینیوں سے شادیاں پرشہریت کا قانون دوبارہ متعارف:اسرائیل کی شرارتیں اورسازشیں کھل کرسامنے آگئیں ،اطلاعات کے مطابق اسرائیلی پارلیمان نے اکثریتی رائے سے جمعرات دس مارچ کو رات گئے ماضی کے جس متنازعہ لیکن عارضی طور پر متعارف کرائے گئے قانون کی بحالی کا فیصلہ کیا، وہ پہلی مرتبہ 2003ء میں نافذ کیا گیا تھا۔ اس قانون کے نفاذ کی مدت میں گزشتہ برسوں کے دوران بار بار توسیع کی جاتی رہی تھی۔

    ‘شہریت اور اسرائیل میں داخلے کا قانون‘ کے تحت اسرائیلی شہریوں سے شادیاں کرنے والے غزہ پٹی اور دریائے اردن کے مغربی کنارے کے فلسطینی علاقوں کے مرد اور خواتین نہ تو اسرائیلی شہریت حاصل کر سکتے ہیں اور نہ ہی انہیں اسرائیل میں رہائش کے حقوق دیے جا سکتے ہیں۔ یہ قانون ‘نسل پرستانہ‘ ہے یہ قانون پہلی مرتبہ اسرائیل کے خلاف فلسطینیوں کی احتجاجی تحریک انتفادہ کے دور میں منظور کیا گیا تھا۔

    اسرائیل کا موقف ہے کہ اسے اس قانون کی اپنی سلامتی کے لیے ضرورت ہے۔ اس کے برعکس ناقدین کا الزام ہے کہ اس قانون کا نفاذ اسرائیل کا ایک ‘نسل پرستانہ‘ اقدام ہے، جس کا مقصد ملک میں یہودی اکثریت کے تسلسل کو یقینی بنانا ہے۔ ایک دوسری بات یہ کہ اس قانون کا اطلاق صرف فلسطینیوں پر ہوتا ہے اور مغربی کنارے کے مقبوضہ فلسطینی علاقے میں رہنے والے یہودی آباد کاروں پر نہیں کیونکہ ان کے پاس ویسٹ بینک میں رہتے ہوئے بھی اسرائیلی شہریت ہوتی ہے۔

    کنیسیٹ کہلانے والی پارلیمان نے گزشتہ برس موسم گرما میں بھی اس قانون کو بحال کرنے کی کوشش کی تھی، تاہم تب اسے مخلوط حکومت میں شامل بائیں بازو کے اور عرب ارکان پارلیمان کی حمایت حاصل نہ ہو سکی تھی۔ حکومت میں شامل عرب جماعت نے اب بھی حمایت نہ کی سابق وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کی قیادت میں ملکی اپوزیشن نے بھی اس متنازعہ قانون کی بحالی کی اصولی حمایت تو کی، تاہم حکومت کو شرمندگی سے بچانے کے لیے رائے شماری کے دوران اس قانون کے حق میں ووٹ نہ دیا۔

    یوں اپوزیشن کی بالواسطہ حمایت کے ساتھ حکومت اس قانون کو منظور کرانے میں کامیاب ہو گئی، حالانکہ بائیں بازو کی جماعت میریٹس اور اسرائیلی عربوں کی جماعت متحدہ عرب لسٹ نے بھی اس قانون کی حمایت نہیں کی تھی۔ یونائیٹڈ عرب لسٹ نامی جماعت نے گزشتہ برس اس وقت تاریخ رقم کر دی تھی، جب یہ پارٹی موجودہ مخلوط حکومت میں شامل ہو گئی تھی۔ یہودی اکثریت کا تسلسل یقینی بنانے کی کوشش کا اعتراف اسرائیل کی کٹر قوم پسند خاتون وزیر داخلہ گزشتہ کئی مہینوں کے دوران اس متنازعہ قانون کی بحالی کی مہم چلاتی رہی تھیں۔

  • روس کے خلاف لڑنے کے لیے امریکی حمایت یافتہ رضاکاریوکرین پہنچ گئے:روس بھی تیار

    روس کے خلاف لڑنے کے لیے امریکی حمایت یافتہ رضاکاریوکرین پہنچ گئے:روس بھی تیار

    کیف:روس کے خلاف لڑنے کے لیے امریکی حمایت یافتہ رضاکاریوکرین پہنچ گئے:روس بھی تیار،اطلاعات کے مطابق یوکرینی صدر کی روس کی جنگ کے خلاف مدد کی اپیل میں ہزاروں افراد نے مثبت جواب دیا ہے۔ یہ واضح نہیں کہ یوکرین پہنچنے والے افراد کے مجموعی جنگی حالات پر کیا اثرات مرتب ہوں گے؟

    ستائیس فروری کو یوکرینی وزیر خارجہ دیمیترو کُولیبا نے اپنے ملکی صدر وولودیمیر زیلنسکی کا ایم پیغام ٹویٹر پر جاری کیا تھا کہ یوکرین کے دفاع کے لیے غیر ملکی افراد روسی فوج کشی کے خلاف عملی طور شریک ہوں۔

    اس پیغام کی ہزاروں افراد نے مثبت جواب دیا ہے۔ پانچ مارچ سے یوکرینی صدر کے اس پیغام کے جاری ہونے کے بعد سے جنگ میں شریک ہونے والے رضاکاروں کی رہنمائی کے لیے ایک خصوصی ویب سائیٹ بھی لانچ کر دی گئی ہے۔ روس کے خلاف جنگ میں یوکرین کے مختلف شہروں میں کئی غیر ملکی جنگجوؤں کے پہنچنے کا بتایا گیا ہے اس ویب سائیٹ میں جنگ میں شریک ہونے کی درخواست کا مکمل طریقہ کار بیان کیا گیا ہے۔

    یوکرینی حکومت نے ایسے رضاکاروں کی ممکنہ فوج کا نام ‘انٹرنیشنل ڈیفینس لیجیئن‘ تجویز کیا ہے۔ جنگ میں شامل ہونے کے خواہشمند رضاکار اس مناسبت سے مکمل تعداد کو بیان نہیں کیا گیا لیکن ہزاروں غیر ملکی افراد نے یوکرینی دفاع کے لیے اپنی خدمات پیش کی ہیں۔

    لندن میں یورپی سکیورٹی کے معاملات پر نگاہ رکھنے والے ادارے رائل یونائیٹڈ سروسز انسٹیٹیوٹ کے ریسرچر ایڈ آرنلڈ نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ جنگ میں عملی طور پر شریک ہونے والے رضاکاروں کی تعداد کا تعین کرنا ممکن نہیں لیکن محتاط اندازوں کے مطابق یہ تعداد بیس ہزار کے لگ بھگ ہے۔

    ذرائع کے مطابق کئی جاپانی بھی جنگ میں شریک ہونے کے لیے تیار ہیں اور پانچ سو بیلاروس کے شہریوں نے بھی رضاکار بننے کی درخواست جمع کرائی ہے۔

    ایڈ مارٹن کا کہنا ہے کہ یوکرین کی جنگ میں شریک سابقہ فوجیوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے چار دنوں میں اتنے فائر کیے ہیں جتنے وہ افغانستان میں قیام کے دوران نہیں کر سکے تھے۔ بعض جرمن میڈیا نے بتایا ہے کہ ایک ہزار جرمن شہری یوکرین کا سفر اختیار کر چکے ہیں۔

    ان رضاکاروں یا یوکرینی صدر کی اپیل پر جرمن شہریوں کے مثبت ردِعمل بارے برلن سے وزارتِ دفاع کا کہنا تھا کہ وہ ایسے افراد کے سفر کے بارے مکمل طور پر لاعلم ہے۔ اسی طرح سے جرمن وزارتِ داخلہ کے ترجمان میکسمیلین کارل نے بھی بدھ نو مارچ کو ایک پریس کانفرنس میں یوکرین کا سفر اختیار کرنے والے ایک ہزار افراد سے متعلق کوئی تصدیق نہیں کی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ شینگن علاقے میں شہری آزادانہ طور پر سفر اختیار کر سکتے ہیں اور اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ جن افراد نے امکانی طور پر ایسا کیا ہے وہ یقینی طور پر یوکرینی نژاد جرمن افراد ہو سکتے ہیں۔

    میکسمیلن کارل نے واضح کیا کہ ملکی سلامتی کے ادارے انتہائی دائیں بازو کے جرمن حلقوں پر نگاہ رکھے ہوئے ہیں اور ایسے افراد کی روانگی کی حوصلہ شکنی کی جائے گی۔

    گزشتہ چند ایام کے دوران کچھ یورپی ممالک اور بالٹک ریاستوں جیسا کہ لیتھوانیا اور لٹویا، نے ایسی ہنگامی قانون سازی کی ہے، جس کے تحت یوکرین کی جنگ میں شرکت کے خواہشمندوں کے لیے قانونی راہ ہموار کر دی گئی ہے۔