Baaghi TV

Author: +9251

  • ہم دنیا کوتیسری عالمی سےبچانا چاہتے،لیکن روس تیسری عالمی جنگ کی طرف جارہا ہے:امریکی صدر

    ہم دنیا کوتیسری عالمی سےبچانا چاہتے،لیکن روس تیسری عالمی جنگ کی طرف جارہا ہے:امریکی صدر

    واشنگٹن:ہم دنیا کو تیسری عالمی سے بچانا چاہتے،لیکن روس تیسری عالمی جنگ کی طرف جارہا ہے،اطلاعات کے مطابق امریکا نے روس پر اقتصادی پابندیوں کو تیسری عالمی جنگ سے گریز کی کوشش قرار دیدیا،امریکی صدر بائیڈن نے روس پر اقتصادی پابندیوں کو تیسری عالمی جنگ سے گریز کی کوشش قرار دیدیا۔

    صدر جو بائیڈن نے اپنے بیان میں کہا کہ ہمارے پاس دو آپشنز ہیں، ایک یہ کہ روس کے خلاف عملی جنگ میں شریک ہوں اور دوسرا آپشن یہ ہے کہ روس کو عالمی قوانین کی خلاف ورزی کی قیمت چکانا پڑے۔

    امریکی صدر نے مزید کہا کہ یوکرین پر فوجی حملے کی روس کو بھاری قیمت چکانا پڑے گی۔،اطلاعات کے مطابق جرمن ائیر لائن نے ایک ہفتے تک روس کے لیے اپنی پروازیں معطل کر دی ہیں اور ائیر لائن انتظامیہ کا کہنا ہے کہ روس کی فضائی حدودو بھی استعمال نہیں کی جائے گی۔

    یورپی یونین، امریکا اور اتحادیوں نے کئی روسی بینکوں کو مرکزی بین الاقوامی ادائیگی نظام سے منقطع کرنے پر اتفاق کر لیا ہے۔صدر یورپین کمیشن کا کہنا ہے کہ مخصوص روسی بینکوں کو سوئفٹ بینکنگ سسٹم سے نکال دیا جائے گا جس سے روس کی درآمدات اور برآمدات بند ہو جائیں گی۔

    صدر یورپی کمیشن کے مطابق بین الاقوامی ادائیگی نظام سے منقطع کرنے کے بعد روسی مرکزی بینک مفلوج ہو جائےگا۔

    یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے امریکا اور اتحادیوں کی جانب سے روسی بینکوں کو سوئفٹ بیکنگ نظام سے نکالنے کے فیصلے کو خوش آئند اقدام قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ روسی بینکوں کوسوئفٹ بینکنگ نظام سے نکالنا ہماری فتح ہے، روس کویورپی یونین کے اقدام سے اربوں ڈالر کا نقصان ہوگا۔

    یاد رہے کہ 2012 میں ایران کو بھی بین الاقوامی ادائیگی کے سوئفٹ نظام سے باہر نکالا گیا تھا۔

  • پاک فضائیہ نے آپریشن سوئفٹ ریٹارٹ کی تیسری سالگرہ پرملی نغمہ جاری کردیا

    پاک فضائیہ نے آپریشن سوئفٹ ریٹارٹ کی تیسری سالگرہ پرملی نغمہ جاری کردیا

    کراچی: پاک فضائیہ نے آپریشن سوئفٹ ریٹارٹ کے 3 برس مکمل ہونے پر ہیروز کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے نیا ملی نغمہ جاری کردیا۔

    نغمہ ملک کے مایہ ناز گلوکار ساحر علی بگا نے گایا ہے جبکہ اس کی عکس بندی پاکستان کے معروف ہدایت کار زوہیب قاضی نے کی ہے۔ یہ ترانہ پاک فضائیہ کے ان سپوتوں کی جرات و بہادری کو خراجِ تحسین ہے جنہوں نے دشمن کے ساتھ 2019 میں پیش آنے والے فضائی معرکے میں بہادری کی نئی داستان رقم کی اور ملک و قوم کا وقار بلند کیا۔

    بھارتی غرور کو خاک میں ملانے کے آج سرپرائز ڈے کی تیسری سالگرہ ہے، 2019 میں پاک فضائیہ کے شاہینوں نے 27 فروری کو دو بھارتی جہازوں کو تباہ کیا تھا۔ بھارتی پائلٹ ابھی نندن کے مارگرائے جانے والے جنگی جہاز کے ٹکڑے پی اے ایف میوزیم میں موجود ہیں۔

     

    تین سال قبل 27 فروری کو پاکستان کے جری ہوابازوں نے بھارت کے نام نہاد سورماوں کو چھٹی کا دودھ یاد دلا کر پھر تاریخ رقم کر دی تھی۔ دو بھارتی جنگی جہاززمین بوس ہوئے جبکہ بھارتی ہوا باز ابھینندن گرفتار کر لیا گیا تھا، اس معرکے سے منسوب پاک فضائیہ کی جنگی گیلری آپریشن سوئفٹ ریٹارٹ میں ابھینندن کے زیراستعمال یونیفارم اور جنگی ہوابازی میں استعمال ہونے والا سامان دشمن کی پسپائی کی داستان سنا رہا ہے۔

     

     

    گیلری کی ایک دیوار پر ابھینندن کے طیارے کو مارگرانے والے ونگ کمانڈر نعمان علی خان، بھارت کے دوسرے جہاز کو مارگرانے والے سکوارڈن لیڈر حسن صدیقی جبکہ بھارت کے خلاف اہم مشن میں شامل گروپ کیپٹن فہیم خان کی تصاویر آویزاں ہیں۔

    ستائس فروری کو پاک فضائیہ کی جرات کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے، پاکستان اور بھارت کے مابین جنگوں کے دوران پاکستان ائیرفورس کی جانب سے دشمن ملک کے ہوابازوں کوناکوں چنے چبوانے اورانھیں کاری ضرب لگانے کی داستانیں بکھری پڑی ہیں۔

  • یوکرین پرروسی حملہ:پولینڈ کے بارڈر پرپھنسے ہوئے پاکستانی طلبا مدد کیلیئےحکومت پاکستان کوپکارنے لگے

    یوکرین پرروسی حملہ:پولینڈ کے بارڈر پرپھنسے ہوئے پاکستانی طلبا مدد کیلیئےحکومت پاکستان کوپکارنے لگے

    پولینڈ: پولینڈ کے بارڈر پرپھنسے ہوئے 50 پاکستانی طلبا مدد کیلیئے آوازیں پاکستان تک پہنچ گئی ہیں اور اب تو ان طالبعلموں کی بے بسی کے آنسووں نے ان کے والدین بہن بھائیوں اور دیگرچاہنے والوں کو غمگین کردیا ہے ، اس حوالے سے پولینڈ کے بارڈر سے ایک پیغام بھی پاکستان بھیجا گیا ہے

    اس حوالے سے وائس میسج کے ذریعے ملنے والے پیغام میں ایک طالب علم حکومت پاکستان سے درخواست کررہا ہے کہ ہم 50 کےقریب پاکستانی طالب علم پھنسے ہوئے ہیں اور ان کو وہاں سے نکالنے اور محفوظ مقامات تک پہنچانے کے لیے کوئی مدد نہیں کررہا،طالب علم جلدی میں پریشانی کے عالم میں پیغام دیتےہوئے اپنا نام تو نہ بتا سکا لیکن یہ ضرور بتاگیا کہ اگر کوئی مدد کو نہ پہنچا تو حالات قابو سے باہر ہوسکتے ہیں‌

     

    اس طالب علم کا کہنا ہے کہ پولینڈ کے بارڈر پردرجہ حرارت کافی گرچکا ہے اور سخت ترین سردی میں ایک طرف یوکرین پرروسی حملے ہورہےہیں اور دوسری طرف ہمیں وہاں‌سے کسی محفوظ مقام پرجانے نہیں دیا جارہا

    حکومت پاکستان کےنام اپنی دہائی میں طالب کا کہنا ہے کہ ہم بے بس پھر رہےہیں پاکستانی سفارتخانہ کا عملہ ابھی تک ہماری مدد کو نہیں پہنچ سکا ، طالب علم کا یہ بھی کہنا دوطالبعلموں کی حالت بھی خراب ہے اور اگر یہی کیفیت رہی تو اور بھی طالب علم ساتھیوں کی حالت بگڑنے کا اندیشہ ہے ، اس لیے جتنی جلدی ممکن ہوسکے پاکستانی طالب علموں کو وہاں سے محفوظ مقامات پر پہنچانے کے اقدامات کیے جائے تاکہ ان کی زندگیاں بچ سکیں ورنہ جنگ توہمارے قریب سے قریب تر آرہی ہے

  • یوکرین کی رکن پارلیمنٹ کا  روس کیخلاف میدان جنگ میں لڑنے کے اعلان نے نقشہ ہی بدل دیا

    یوکرین کی رکن پارلیمنٹ کا روس کیخلاف میدان جنگ میں لڑنے کے اعلان نے نقشہ ہی بدل دیا

    کیف :یوکرین کی رکن پارلیمنٹ کا روس کیخلاف میدان جنگ میں لڑنے کے اعلان نے نقشہ ہی بدل دیا ،اطلاعات ہیں‌کہ روس کے حملوں کے بعد یوکرین کی خاتون رکن پارلیمنٹ کیرا روڈک نے کل ہتھیار اٹھانے کا اعلان کیا تھا اور اس بہادر خاتون کے اعلان نے یوکرین کے بچوں ، بوڑھوں اور مردو خواتین سب کو اتنا حوصلہ دیا ہےکہ ہرکوئی اپنے وطن کےلیے لڑنے مرنے کے لیے تیار ہےجس نے روس کےلیے بہت ہی مشکل صورت حال پیدا کردی ہے اور یہی وجہ ہےکہ روس کو سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑ رہاہے

     

    کل سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر رکن پارلیمنٹ کیرا روڈک نے جنگی ہتھیار تھامے تصویر شیئر کی تھی اور ساتھ ہی لکھا کہ میں کلاشنکوف چلانا اور ہتھیار اٹھانے مشق کر رہی ہوں۔

     

     

    کیرا روڈک نے مزید کہنا تھا کہ کچھ روز پہلے تک میرے ذہن میں یہ خیال کبھی نہیں آیا تھا۔ انہوں نے یوکرین کی خواتین کی جنگ میں حصہ لینے کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے ہماری خواتین اس مٹی کی اسی طرح حفاظت کریں گی جس طرح ہمارے مرد کر رہے ہیں۔

     

    ایک دوست کے ہمراہ تصویر شیئر کرتے ہوئے رکن پارلیمنٹ نے لکھا کہ مزاحمتی دستے جمع ہو رہے ہیں، میں اپنے دوست کے ساتھ مل کر آج سخت رات کے لیے تیار ہو رہی ہوں۔کیرا روڈک نے ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا کہ ہم روسی دشمن فوجیوں سے لڑنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ انٹرویو میں انہوں نے کلاشنکوف اٹھا رکھی تھی۔

    یہ بھی کہا جارہا ہےکہ روس کو یوکرین کی عوام کی طرف سے سخت مزاحمت کی وجہ سے سخت نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے ،یہ بھی خبریں پچھلے چوبیس گھنٹوں سے آرہی ہیں کہ یوکرین نے روس کے3500 فوجی ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ یوکرینی حکام کا کہنا ہے دارالحکومت کیف کی سڑکوں پرلڑائی جاری ہے۔

     

    https://twitter.com/JoseFox_/status/1497611162908831752?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E1497611162908831752%7Ctwgr%5E%7Ctwcon%5Es1_&ref_url=https%3A%2F%2Furdu.arynews.tv%2Fukraine-parliament-member-kira-rudik%2F

    برطانوی میڈیا کے مطابق یوکرین کی فوج نے سوشل میڈیا پوسٹ میں کہا کہ یوکرین کیخلاف جنگ میں شریک 3500 روسی فوجیوں کوہلاک اور200 کوگرفتارکرلیا۔

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ یوکرین کی فوج نے اب تک روس کے 14 طیارے،8 ہیلی کاپٹرز مارگرائے جبکہ 102 ٹینک تباہ کردئیے ہیں۔
    یوکرینی فوجی حکام کا کہنا ہے کہ دارالحکومت کیف کی سڑکوں پرلڑائی جاری ہے۔ کیف کے مختلف علاقوں میں دھماکوں کی آوازیں سنائی دے رہی ہیں۔

  • یوکرین پرروسی حملہ :دو لاکھ یوکرینی ملک چھوڑ گئے

    یوکرین پرروسی حملہ :دو لاکھ یوکرینی ملک چھوڑ گئے

    نیویارک :اقوام متحدہ کے پناہ گزینوں کے ادارے کے مطابق یوکرین میں نقل مکانی بھی بڑھ رہی ہے لیکن ملک میں فوجی کاروائی کی وجہ سے صحیح تعداد کا اندازہ لگانا اور امداد فراہم کرنا مشکل ہورہا ہے، دو لاکھ سے زائد افراد یوکرین چھوڑ کر پڑوسی ممالک میں جا چکے ہیں۔

    اقوام متحدہ کے پناہ گزینوں کے ادارے نے ہفتے کے روز کہا کہ روس کے حملے کے نتیجے میں اب تک تقریباً دو لاکھ سے زائد افراد یوکرین چھوڑ کر پڑوسی ممالک میں جا چکے ہیں۔ جن میں سے نصف پولینڈ اور بہت سے ہنگری، مالڈووا، رومانیہ اور اس سے آگے جا چکے ہیں۔فلیپو گرانڈی کا ٹویٹفلیپو گرانڈی کا ٹویٹاقوام متحدہ کے پناہ گزینوں کے ادارے کو توقع ہے کہ اگر صورت حال مزید بگڑتی ہے تو 40 لاکھ تک یوکرینی باشندے ملک چھوڑ سکتے ہیں۔

    ادارے کا کہنا ہے کہ زیادہ تر ہمسایہ ممالک پولینڈ، مالڈووا، ہنگری، رومانیہ اور سلوواکیہ جا رہے ہیں اور یہاں تک کہ کچھ بیلاروس کی طرف بھی جا رہے ہیں جہاں سے کچھ روسی افواج یوکرین میں داخل ہوئیں۔اس کے پاس ملک کے لحاظ سے تعداد کے بارے میں فوری طور پر تفصیلات نہیں تھیں، لیکن اب تک سب سے بڑی تعداد پولینڈ پہنچ رہی ہے،

    جہاں حالیہ برسوں میں تقریباً 20 لاکھ یوکرینی پہلے ہی کام کرنے کے لیے آباد ہو چکے ہیں، جو 2014 میں یوکرین میں روس کی پہلی دراندازی کی وجہ سے وہاں سے پناہ لیے تھے اور مواقع کی تلاش میں تھے۔پولینڈ کی حکومت نے ہفتے کی صبح کہا کہ گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران 100,000 سے زیادہ یوکرینی پولش-یوکرینی سرحد عبور کر چکے ہیں۔پولش براڈکاسٹر TVN24 کی رپورٹ کے مطابق، میڈیکا بارڈر کراسنگ پر پولینڈ میں داخل ہونے کے لیے گاڑیوں کی ایک قطار یوکرین میں 15 کلومیٹر (9 میل) تک پھیلی ہوئی تھی

  • روس کے کیف شہر پرچاروں طرف سے حملوں نے صورتحال بدل کررکھ دی

    روس کے کیف شہر پرچاروں طرف سے حملوں نے صورتحال بدل کررکھ دی

    ماسکو: روس کے کیف شہر پرچاروں طرف سے حملوں نے صورتحال بدل کررکھ دی ،اطلاعات کے مطابق روس نے اب یوکرین کی راجدھانی کیف پر چاروں جانب سے حملہ کرنے کا اعلان کیاہے یعنی کہ حتمی جنگ کا اعلان کردیا ہے اور ہفتہ کی رات گئے تک شدید لڑائی کی اطلاعات آرہی ہیں‌۔

    کہا جارہا ہے کہ در اصل روسی وزارت دفاع کے مطابق ماسکو اور کیئف کے درمیان مذاکرات کی امید میں جمعے کو لڑائی میں وقفہ کیا گیا لیکن یوکرین کی جانب سے مذاکرات سے انکار کے بعد حملے کا دوبارہ آغاز کر دیا گیا۔

    روس کے سرکاری خبر رساں ادارے آر آئی اے نے ملک کی وزارت دفاع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ یوکرین میں موجود روسی فوجی یونٹوں کو جمعے کے وقفے کے بعد تمام اطراف سے حملہ دوبارہ شروع کرنے کا حکم دے دیا گیا ہے۔

    وزارت دفاع نے بھی کریملن کے جانب سے کیے گیے تبصرے کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ماسکو وار کیف کے درمیان مذاکرات کی امید میں جمعے کو لڑائی میں وقفہ کیا گیا لیکن یوکرین کی جانب سے مذاکرات سے انکار کے بعد حملے کا دوبارہ آغاز کر دیا گیا ہے۔

    امریکی وزیر خارجہ اینٹنی بلنکن نے ہفتے کو ایک بیان میں کہا ہے کہ روس کے’وحشیانہ اور بلا اشتعال حملے‘کے مقابلے کے لیے یوکرین کو 35 کروڑ ڈالر کی اضافی فوجی امداد دی جائے گی۔ بلنکن کے بیان کے مطابق‘امدادی پیکیج میں تباہ کن مزید دفاعی امداد شامل ہو گی جس کی مدد سے یوکرین بکتربند گاڑیوں، فضائی فورس اور دوسرے خطرات کا مقابلہ کرے گا جن کا اسے اس وقت سامنا ہے۔‘ دوسری جانب کریملن نے ہفتے کو یوکرین پر الزام لگایا ہے کہ وہ مذاکرات سے انکار کر کے فوجی تنازعے کو طول دے رہا ہے۔

    ادھر مغرب نواز یوکرین کے خلاف روسی فوج کی پیشدمی جاری ہے۔ کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے کانفرنس کال پر صحافیوں کے ساتھ بات چیت میں کہا ’متوقع مذاکرات کے سلسلے میں روسی صدر نے کل سہ پہر روسی فیڈریشن کی مرکزی فورسز کی پیشدمی معطل کرنے کا حکم دیا تھا۔ چونکہ یوکرین نے بات چیت سے انکار کر دیا اس لیے آج سہ پہر سے پیشقدمی دوبارہ شروع کر دی گئی۔ کیئف کے میئر نے شہر میں کرفیو نافذ کر دیا ہے جو ہفتے کی شام سے شروع ہو کر پیر کی صبح تک جاری رہے گا۔ میئر آفس کے اعلامیے میں پہلے کیے اعلان کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ کرفیو میں کوئی وقفہ نہیں ہو گا۔

    یاد رہے کہ روسی فوجی دستے ہفتے کو یوکرین کے دارالحکومت کیف میں داخل ہو گئے جہاں سڑکوں اور گلیوں میں دو بدو لڑائی شروع ہو چکی ہے۔ روسی فوجیوں کی درالحکومت میں پیش قدمی کے بعد شہر کے حکام نے کیف کے رہائشیوں سے محفوظ مقامات پر پناہ لینے کے لیے زور دیا ہے۔

  • آسٹریلوی کرکٹ ٹیم آج 24 سال بعد دورہ پاکستان کےلیےاسلام آباد پہنچے گی

    آسٹریلوی کرکٹ ٹیم آج 24 سال بعد دورہ پاکستان کےلیےاسلام آباد پہنچے گی

    لاہور:آسٹریلوی کرکٹ ٹیم آج 24 سال بعد دورہ پاکستان کےلیےاسلام آباد پہنچے گی،اطلاعات کے مطابق تقریباً 24 سال بعد پاکستان کا دورہ کرنے والی آسٹریلوی کرکٹ ٹیم آج پاکستان کی سرزمین پر اپنے قدم رکھے گی اور کرکٹ کی دنیا سے نئے تعلقات کا آغاز ہوگا

    کرکٹ ذرائع کے مطابق 27 فروری سے 6 اپریل تک اپنے دورہ پاکستان میں آسٹریلوی ٹیم پاکستان میں تین ٹیسٹ، تین ون ڈے او ر ایک ٹی ٹوئنٹی میچ کھیلے گی۔آسٹریلوی کرکٹ ٹیم 24 سال پاکستان آرہی ہے ، پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) حکام صبح 5 بجے اسلام آباد ائیر پورٹ پر آسٹریلوی ٹیم کا استقبال کریں گے۔

     

     

    آسٹریلوی ٹیم ہوٹل میں دو روز تک بائیو سکیور ببل میں رہے گی جس کے بعد کھلاڑیوں کے کورونا ٹیسٹ کیے جائیں گے، ٹیسٹ منفی آنے پر آسٹریلوی کھلاڑیوں کو پریکٹس کی اجازت ہوگی۔

    آسٹریلوی ٹیم کی آمد پر سکیورٹی کے سخت انتطامات کیے گئے ہیں۔ دورے کے دوران اسٹیڈیم اور ٹیموں کے روٹ پر فوج اور رینجرز اہلکار تعینات ہوں گے۔

     

     

    خیال رہے کہ آسٹریلوی کرکٹ ٹیم تقریباً 24 برس بعد پاکستان کا دورہ کر رہی ہے اور دونوں ٹیموں کے درمیان تین ٹیسٹ، تین ون ڈے اور صرف ایک ٹی ٹوئنٹی میچ کھیلا جائے گا۔

    پہلا ٹیسٹ 4 مارچ سے راولپنڈی میں شروع ہوگا۔ دوسرا ٹیسٹ کراچی جبکہ تیسرا ٹیسٹ لاہور میں ہوگا۔تینوں ون ڈے میچز اور واحد ٹی ٹوئنٹی راولپنڈی میں کھیلے جائیں گے۔

     

     

    پاکستان اور آسٹریلیا کی سیریز سے قبل بعض کرکٹرز کے فٹنس مسائل نے مینجمنٹ کو پریشان کردیا۔

    ذرائع کے مطابق محمد نواز پہلے ہی انجرڈ ہو کر ٹیسٹ سیریز سے باہر ہو چکے ہیں جب کہ حسن علی اور فہیم اشرف بھی اہم ٹیسٹ سیریز سے قبل پی ایس ایل میں فٹنس مسائل کا شکار ہوچکے ہیں۔

    ذرائع کا کہنا ہےکہ کرکٹرزکی پہلے ٹیسٹ میچ میں شرکت خدشات کا شکار ہے تاہم ٹیم مینجمنٹ ان کی فٹنس کا جائزہ لے گی۔

    ذرائع کے مطابق مینجمنٹ نے خدشہ ظاہر کیا ہےکہ کرکٹرز میں اگلے دو تین روز میں بہتری نہ آئی تو وہ سیریز سے بھی باہر ہو سکتے ہیں

  • یوکرین پرحملہ :لتھوانیا نے روس کے لیے اپنی فضائی حدود میں داخلے پر پابندی لگا دی

    یوکرین پرحملہ :لتھوانیا نے روس کے لیے اپنی فضائی حدود میں داخلے پر پابندی لگا دی

    کیف :یوکرین پر حملہ :لتھوانیا نے روس کے لیے اپنی فضائی حدود میں داخلے پر پابندی لگا دی ،اطلاعات کے مطابق لیتھوانیا ہفتے کے روز سے روسی ایئر لائنز پر اپنی فضائی حدود استعمال کرنے پر پابندی عائد کر دے گا، حکومت نے کہا کہ یوکرین پر روس کے حملے کے بعد ایک ہی قدم اٹھانے والے دیگر یورپی ممالک میں شامل ہوں گے۔

    اس حوالے سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ لتھوانیا نے یہ فیصلہ یوکرین پر روسی حملے کے بعد کیا ،امریکی وزیرخارجہ انتھونی بلنکن نے ایک بیان میں کہا ہےکہ صدر بائیڈن نے یوکرین کے لیے اضافی فوجی امداد کا اعلان کیا ہے جس کے تحت یوکرین کو 35 کروڑ ڈالر کی اضافی فوجی امداد فراہم کی جائےگی۔

    خیال رہےکہ یوکرین کی جانب سے امریکا اور یورپی اتحادیوں سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ اسے روس کے خلاف مزاحمت کے لیے ٹینک شکن میزائل اور طیارہ شکن اسٹنگر میزائل فراہم کیے جائیں۔

    امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون کا کہنا ہےکہ یوکرین کو فراہم کیے جانے والے اسلحے میں ٹینک شکن سمیت متعدد ایسے ہتھیار ہیں جو فرنٹ لائن پر موجود یوکرینی فوجیوں کے کام آئیں گے۔ امریکی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ امریکا کی جانب سے حالیہ کچھ عرصوں میں یوکرین کو ایک ارب ڈالر سے زائد فوجی امداد فراہم کی گئی ہے۔

    دوسری جانب یورپی ممالک کی جانب سے بھی روسی حملےکے بعد یوکرین کو عسکری امداد کی فراہمی کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔نیدرلینڈکی جانب سے 200 طیارہ شکن اسٹنگر میزائل فراہم کیے جارہے ہیں اور اس حوالے سے ولندیزی حکومت نے جلد ازجلد میزائل فراہم کرنےکے لیے پارلیمنٹ کو خط لکھا ہے۔

    فرانس نے بھی یوکرین کو دفاعی آلات کی فراہمی کا فیصلہ کیا ہے، فرانسیسی فوج کے ترجمان نےکہا ہےکہ یوکرین کو دفاعی کے علاوہ روس کے خلاف جوابی کارروائی کے لیے بھی ہتھیار فراہم کیے جارہے ہیں۔

    ادھر نیٹو چیف اسٹولٹن برگ نےکہا ہےکہ یوکرین کےدفاع کےلیے پہلی بار نیٹو ریسپانس فورس فعال کی ہے،جس کے لیے امریکا 6 ارب ڈالر مختص کرےگا،یہ ریسپانس فورس مشرقی یورپ میں تعینات ہوگی۔

    دوسری جانب روس کا کہنا ہے کہ یوکرین نے مذاکرات کی پیشکش مسترد کردی ہے جس کے بعد فوجی کارروائی پوری قوت کے ساتھ دوبارہ شروع کردی گئی ہے۔

    روسی صدارتی محل (کریملن) کی جانب سے جاری بیان کے مطابق یوکرین نے مذاکرات کی پیشکش کو مسترد کرکے تنازع کو طول دیا ہے جس کے بعد روسی فوج نے اپنی پیش قدمی دوبارہ شروع کردی ہے۔

  • ‏پاکستان کےبھارت کیخلاف آپریشن سوئفٹ ریٹارٹ کے3سال مکمل

    ‏پاکستان کےبھارت کیخلاف آپریشن سوئفٹ ریٹارٹ کے3سال مکمل

    اسلام آباد :پاک فضائیہ کا 27 فروری 2019 کا ” آپریشن سوئفٹ ریٹارٹ” بھارتی ایئر فورس کے دو طیاروں کو مار گرانے اور ایک پائلٹ کی گرفتاری کے تین سال گزرنے کے بعد بھی بھارتی ایئر فورس کے لئے مسلسل ہزیمت اور عبرت کا باعث ہے جس نے نہ صرف پاک فضائیہ کی بھارتی ائیر فورس پر فضائی برتری کو ثابت کیا بلکہ اس کارروائی کے دوران ایٹمی اسلحہ سے لیس بھارت کی فوجی کمزوریاں بھی بری طرح بے نقاب ہوئیں۔

    ۔بھارت کی جانب سے 14 فروری 2019 کو پلوامہ میں ایک جھوٹے فلیگ آپریشن کے بعد پاکستان کے اندر حملہ کرنے کی ناکام کوشش نے پاک فضائیہ کی فوجی اور تکنیکی برتری قائم کی اور ہندوستانی فوجی طاقت کے بت کو پاش پاش کر دیا۔14 فروری 2019 کو ایک نوجوان کشمیری لڑکے نے کشمیریوں پر بھارتی ظلم و ستم سے تنگ آکر بارود سے بھری گاڑی پلوامہ میں بھارتی پیرا ملٹری پولیس کی 78 بسوں کے قافلے پر چڑھا دی جس میں سی آر پی ایف کے 40 اہلکار ہلاک ہوگئے۔ حملے کے چند لمحوں بعد ہی بھارتی میڈیا اور حکومت نے کسی بھی قسم کی تحقیقات شروع ہونے سے پہلے ہی پاکستان پر الزام لگا دیا۔

    وزیر اعظم عمران خان نے دہلی کی جانب سے قابل عمل ثبوت فراہم کرنے کی شرط پر اس واقعے کی تحقیقات کرانے کا وعدہ کیا۔ تاہم انہوں نے یہ بھی خبردار کیا کہ اگر حملہ کیا گیا تو پاکستان جوابی کارروائی کرے گا۔

    اس کے باوجود بھارت نے سرحد پار سے پاکستانی حدود میں ایک خیالی دہشت گردی کے تربیتی کیمپ پر فضائی حملہ کرنے کا انتخاب کیا۔بھارتی فوج کے سرحد پار ہدف پر حملہ کرنے اور خبر لیک ہونے کے امکانات کو کم کرنے کے لیے بھارتی حکام نے بالاکوٹ پر حملے کو آپریشن بندرکا نام دیا۔

    لفظ “بندر” کا انتخاب اس لیے کیا گیا کہ ہندو مذہب میں بندروں کو ایک مقدس مقام حاصل ہے اور یہ ہندو مذہب کے مذہبی افسانوں میں ایک کہانی کی طرف اشارہ کرتا ہے جہاں ہنومان، ایک دیوتا جو بندر سے مشابہت ظاہر کرتا ہے ۔ خفیہ طور پر لنکا میں داخل ہوا اور اسے زمین پر جلا دیا۔ 26 فروری 2019 کوبھارتی فضائیہ نے بالاکوٹ کے قریب پاکستان کے اندر حملہ کیا، جس میں ایک دینی مدرسے کو نشانہ بنایا گیا جسے ہندوستان نے عسکریت پسندوں کے کیمپ کے طور پر پیش کیا اور 300 سے زائد دہشت گردوں کو ہلاک کرنے کا دعوی کیا لیکن دعووں کی تصدیق کے لیے کوئی ثبوت فراہم نہیں کئے ۔

    اس آپریشن کو ایئر بورن ارلی وارننگ سسٹم کی مدد حاصل تھی۔ وہ بموں پر سمیلیٹر اور پری فیڈ کوآرڈینیٹس پر مشق کرنے کے باوجود اپنے پے لوڈ کو ہدف پر پہنچانے میں ناکام رہے۔ہندوستان ٹائمز کے مطابق 26 فروری 2019 کو صبح 3.45 بجے اس وقت کے بھارتی ایئر چیف بی ایس دھنوا نے ایک محفوظ فکسڈ لائن نیٹ ورک پر قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوول کو ٹیلی فون کیا اور کہا بندر مارا گی۔

    لیکن دن کے اختتام پر، حقیقت نے ثابت کیا کہ اس نے صرف انہیں بندر بنایا ہے۔فضائی حملہ کے بعد وزیر اعظم عمران خان نے دو ٹوک موقف اختیار کیا کہ بھارت نے بلاجواز جارحیت کا ارتکاب کیا ہے جس کا پاکستان اپنی مرضی کے وقت اور جگہ پر جواب دے گا، مسلح افواج اور پاکستانی عوام ہر طرح کے حالات کے لیے تیار رہیں۔

    بھارتی فضائیہ نے ایک پہاڑی کے قریب اپنا پے لوڈ پھینکا جس میں ایک کوا ہلاک ہوا اور پائن کے قیمتی درختوں کو نقصان پہنچا جس کے بارے میں وزیراعظم عمران خان نے بار ہا کہا کہ انہیں اس سے دکھ پہنچا ہے کیونکہ یہ درخت ان کے دل کے بہت قریب تھے ۔

    بالاکوٹ میں بھارتی فضائیہ کے حملے کی ناکام کوشش کے بعد جلی ہوئی زمین اور درختوں سے متاثر ہونے والی جگہ کا ملٹری اتاشی اور غیر ملکی میڈیا نے بھی جائے وقوعہ کا دورہ کیا اور مقامی گائوں کے بچوں کے قریبی مدرسے میں بھی گئے جو کہ خوش قسمت تھے کہ بھارتی لاپرواہی سے بچ گئے۔

    بھارت نے دعویٰٰ کیا کہ اس کی فضائیہ 300 سے زائد دہشت گردوں کو ہلاک کیا ہے جبکہ پاکستان اور کئی بین الاقوامی مبصرین نے اس دعوے کی نفی کی ہے کیونکہ کوئی جانی نقصان نہیں ہوا اور بم واضح طور پر ہدف سے دور گرے تھے جو درحقیقت دہشت گردوں کا کیمپ نہیں تھا بلکہ گائوں کے بچوں کے لیے ایک عام دینی مدرسہ تھا۔لندن میں مقیم جینز انفارمیشن گروپ کے تجزیہ کار راہول بیدی نے نیویارک ٹائمز کو بتایا کہ پاکستان کسی عسکریت پسند گروپ کی طرح پراکسی کے ذریعے نہیں بلکہ روایتی طور پر رد عمل ظاہرکرنے کا پابند ہے ۔

    وہ کہاں اور کب رد عمل کا اظہار کرتے ہیں جو صرف پاکستانی جانتے ہیں۔اخبار نے کہا کہ کہ اس موسم بہار میں بھارت میں انتخابات کے دوران اوربھارتی وزیراعظم نریندرا مودی کو دوبارہ انتخابی معرکے کا سامنا ہے، ووٹرز نے بھارت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ پاکستان کے خلاف کشمیر کے حملے کا جواب طاقت سے دے۔ بیدی نے کہا انہوں نے جو مارا وہ ابھی قیاس آرائیاں ہیں۔

    یہ کسی بھی چیز سے زیادہ سیاسی علامت ہے۔ بھارتی وزیراعظم مودی کو انتخابات سے پہلے ہندوستان کی طرف سے کچھ قابلِ عمل اقدام دکھانا تھا۔بیدی نے کہا کہ انہوں نے جو مارا وہ ابھی قیاس آرائیاں ہیں۔

    یہ کسی بھی چیز سے زیادہ سیاسی علامت ہے۔بھارتی وزیراعظم مودی کو انتخابات سے پہلے ہندوستان کی طرف سے کچھ قابلِ عمل اقدام دکھانا تھا۔ پاکستان ایئر فورس نے 27 فروری 2019 کو جوابی حملہ شروع کیا جس کا مقصد بنیادی طور پر پاکستان کے عزم کا مظاہرہ کرنا تھا۔ زمین پر جانی نقصان سے بچنے کے لیے احتیاط سے فضائی حملہ کیا گیا ۔

    مختصر فضائی تصادم کے دوران پاک فضائیہ نے بھارتی ایئرفورس کے دو طیاروں کو مار گرایا اور ایک پائلٹ کو گرفتار کر لیا۔ایس یو 30کا ملبہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں گرا اور اس کا پائلٹ ہلاک ہو گیا، جبکہ میگ21 کے پائلٹ ونگ کمانڈر ابھی نندن ورتھمان جن کا طیارہ پاکستان کی حدود میں گرا زندہ پکڑ لیا گیا۔

    بڑے دشمن کے خلاف آپریشن سوئفٹ ریٹارٹ میں پاک فضائیہ کی کامیابی کو اب ہر سال سرپرائز ڈے کے طور پر منایا جاتا ہے۔کئی گھنٹوں بعد پریشان بھارتی ایئر فورس نے سپائیڈر ایئر ڈیفنس سسٹم والے اپنے ہی ایم آئی 17 ہیلی کاپٹر کو مار گرایا جس میں بھارتی ایئرفورس کے چھ اہلکار اور ایک شہری ہلاک ہو گیا۔

    ہندوستان نے دعوی کیا کہ اس کے ایک مگ 21 نے پاکستان کے ایف16 طیارے کو مار گرایا تھا جس کی تردید بھی بااثر فارن پالیسی میگزین نے امریکی محکمہ دفاع (ڈی او ڈی )کے عہدیداروں کے انٹرویوز کی بنیاد پر کی تھی جنہوں نے تصدیق کی تھی کہ کوئی ایف16 لاپتہ نہیں ہوا تھا۔

    میگزین کے مطابق، پاکستان نے اس واقعے کے بعد امریکہ کو اپنے ایف-16 طیاروں کی جسمانی طور پر گنتی کرنے کے لیے مدعو کیا ،جیسا کہ اینڈ یوزر معاہدے کے حصے کے طور پرجب کہ غیر ملکی فوجیوں کی فروخت کے معاہدے کو حتمی شکل دینے پر دستخط کیے گئے۔

    ایک امریکی اہلکار نے بتایا کہ تنازعہ کی وجہ سے کچھ طیارے فوری طور پر معائنہ کے لیے دستیاب نہیں تھے، اس لیے امریکی اہلکاروں کو تمام جیٹ طیاروں کا حساب دینے میں چند ہفتے لگے۔

    لیکن اب گنتی مکمل ہو چکی ہے اور تمام طیارے موجود تھے اور ان کا حساب لیا گیا تھا، اہلکار نے کہا۔جہاں ایک طرف بھارت کی جانب سے نام نہاد سرجیکل اسٹرائیک کو ایک بڑی کامیابی قرار دیا جا رہا تھا اور اسے نئی اقدار قرار دیا جا رہا تھا، لیکن دوسری طرف بھارت کی سینئر قیادت نے ناکامی کا ذمہ دار رافیل جیسے طیارے کی عدم دستیابی کو قرار دیا جس کے مطابق ان کے نزدیک بالاکوٹ حملے کا نتیجہ بدل جاتا۔یہاں تک کہ ہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنی ایئر فورس کی ناکامی کا اعتراف کیا اور انڈیا ٹوڈے پروگرام میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج پورا ہندوستان کہہ رہا ہے کہ اگر ہمارے پاس رافیل ہوتا تو نتیجہ کچھ اور ہوتا۔

    پاکستان کے ردعمل کا مقصد جنگ کو روکنا اور نیوکلیئر ڈیٹرنس قائم کرنا تھا، جس کی کامیابی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ بھارت کشیدگی کی شدت کو مزید نہ بڑھا سکا اور پیچھے ہٹ گیا۔ اس تصادم نے پاک فضائیہ کی بھارتی فضائیہ پر فضائی برتری ثابت کر دی بلکہ دو ایٹمی ہتھیاروں سے لیس طاقتوں کے درمیان روایتی تذویراتی توازن کو بھی بحال کیا۔27 فروری کو پاک فوج کے میڈیا ونگ نے کہا کہ پاکستان ایئر فورس نے ایل او سی پر چھ اہداف کو نشانہ بنایا۔

    میجر جنرل عبدالغفور نے اسے کسی فوجی ہدف پر حملہ نہ کرنے اور کسی بھی قسم کے نقصان سے بچنے کا ایک شعوری فیصلہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ابتدائی طور پر منتخب کیے گئے اہداف میں سے ایک ملٹری ایڈمنسٹریٹو کمپلیکس تھا، تاہم پی اے ایف کمانڈ نے اسے نشانہ بنانے کا فیصلہ نہیں کیا۔ہمارے اہداف میں کامیابی کے نتیجہ میں کوئی انسانی زندگی متاثر نہیں ہوئی۔

    ہم نے اپنی حدود میں رہ کر چھ اہداف کولاک کیا اور ہم نے حملہ کیا۔ انہوں نے کہاکہ حملوںکا مقصد یہ ثابت کرنا تھا کہ ہمارے پاس جواب دینے کی صلاحیت اور ارادہ ہے، لیکن ہم نے سوچ سمجھ کرکشیدگی کے راستے سے گریز کیا۔پاکستان جنگ پر زور نہیں دے رہا۔ ہم نے اپنے اہداف کو کھلی فضا میں رکھا۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ہم آسانی سے اصل اہداف حاصل کر سکتے تھے لیکن ہم نے ایسا نہیں کیا۔

    ایک دن بعد وزیراعظم عمران خان نے 28 فروری 2019 کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب میں کہا کہ میں کل اعلان کرتا ہوں کہ امن کی ہماری خواہش اور مذاکرات کے لیے پہلے قدم کے طور پر پاکستان ہماری تحویل میں موجود بھارتی فضائیہ کے افسر کو کل رہا کرے گا۔

    ان کے اس فیصلے کو سرکردہ عالمی رہنماں نے امن کی خواہش قرار دیا۔ونگ کمانڈر ابھی نندن کے ساتھ اچھا سلوک کیا گیا جنیوا کنونشن کے مطابق، نیا لباس اورچائے کا مشہور کپ فراہم کیا گیا، جس پر انہوں نے تبصرہ کیا تھا،چائے لاجواب تھی۔ انہیں یکم مارچ 2019 کو واہگہ بارڈر پر بھارتی حکام کے حوالے کیا گیا۔

    دفاعی حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان کے پاس مختلف ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے تیار کیے گئے معتبر روایتی ردعمل ہیں – جسے ‘Quid Pro۔ Quo Plus’ کی پالیسی کے نام سے جانا جاتا ہے، جس نے نہ صرف پاکستان کی جوہری ڈیٹرنس کی ساکھ کو تقویت دی ہے بلکہ روایتی ڈیٹرنس پر اعتماد بحال کرنے میں بھی مدد کی ہے۔

    فروری 2019 میں پاک فضائیہ کے ہاتھوں ذلت کا سامنا کرنے کے بعدبھارت نے یہ سمجھے بغیر کہ یہ دراصل مشین کے پیچھے آدمی ہے اور اس کے مضبوط اعصاب اہم ہیں۔ ایک بار پھرہتھیاروں اور گولہ بارود کی خریداری کا سلسلہ شروع کر دیا ہے، تاہم ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار نے بہترین خلاصہ پیش کیا ۔

    انہوں نے کہا کہ ہم نے انہیں ایک خون آلود ناک دیا اور یہ اب بھی انہیں تکلیف دے رہا ہے۔

  • ہمسائیہ ممالک سُن لیں اگرنیٹومیں شامل ہوئےتووہ حشر    کروں گاکہ نسلیں یادرکھیں گی:پوتن کی ایک بارپھردھمکی

    ہمسائیہ ممالک سُن لیں اگرنیٹومیں شامل ہوئےتووہ حشر کروں گاکہ نسلیں یادرکھیں گی:پوتن کی ایک بارپھردھمکی

    ماسکو: ہمسائیہ ممالک سُن لیں اگرنیٹومیں شامل ہوئے تو وہ حشرکروں گا کہ نسلیں یاد رکھیں گی:پوتن کی ایک بارپھردھمکی ،اطلاعات کے مطابق یوکرین پر سوار روس نے اب اپنے دیگر پڑوسی ممالک کو صاف صاف لفظوں میں دھمکی دیدی ہے کہ اگر نیٹو کی جانب رکنیت کے لیے نظر اٹھا کر دیکھا تو سنگین فوجی اور سیاسی نتائج بھگتنے کے لیے تیارت ہوجائیں ۔ابھی یوکرین کی جنگ جاری ہے اور دنیا روس کے سامنے بے بس ہے۔ یہاں تک کہ امریکہ یوکرین کا ساتھ دینے کے بجائے ملک کی راجدھانی کیف سے انخلا کا مشورہ دے رہا ہے۔ اسی دوران اب روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے اپنے قریبی ہمسایہ ممالک سویڈن اور فن لینڈ کو دھمکی دی ہے کہ اگر وہ نیٹو میں شامل ہوتے ہیں تو انہیں ‘فوجی نتائج’ بھگتنا پڑیں گے۔

    یہ اس وقت ہوا جب یوکرین پر روس کا حملہ آج خاص طور پر دارالحکومت کیف میں ایک رات کی لڑائی کے بعد شدت اختیار کر گیا۔پوتن نے یوکرین سے آگے یورپ پر غلبہ حاصل کرنے کے اپنے منصوبہ کو بالکل واضح کردیا ہے۔۔

    سویڈن اور فن لینڈ روس کے دو قریب ترین ممالک ہیں۔خارجہ امور کی ترجمان ماریا زاخارووا نے ایک نیوز بریفنگ کے دوران کہا، ‘فن لینڈ اور سویڈن کو اپنی سلامتی کی بنیاد دوسرے ممالک کی سلامتی کو نقصان پہنچانے پر نہیں رکھنی چاہیے اور نیٹو میں ان کے الحاق کے نقصان دہ نتائج ہو سکتے ہیں اور انہیں کچھ فوجی اور سیاسی نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔’

    وزارت خارجہ نے بعد میں ٹویٹر پر اس دھمکی کا اعادہ کیا۔محکمے نے لکھا، ‘ہم شمالی یورپ میں سلامتی اور استحکام کو یقینی بنانے کے لیے فوجی عدم اتحاد کی پالیسی کے لیے فن لینڈ کی حکومت کے عزم کو ایک اہم عنصر سمجھتے ہیں۔’ ‘فن لینڈ کی نیٹو میں شمولیت کے سنگین عسکری اور سیاسی اثرات ہوں گے۔’

    ولادیمیر پوتن کے بارے میں بڑے پیمانے پر خیال کیا جاتا ہے کہ یوکرین پر مغربی ممالک کی جانب سے نیٹو میں شامل ہونے کے خیال کے بعد یوکرین پر حملہ کیا گیا تھا، اس خدشے کے پیش نظر کہ اس کی دہلیز پر امریکی فوج کی موجودگی ختم ہو سکتی ہے۔سویڈن یا فن لینڈ کا ایسا ہی اقدام ممکنہ طور پر اسی طرح کے غصے کو بھڑکا سکتا ہے۔

    پوتن کے خارجہ امور کے ترجمان نے کہاہے کہ ‘فن لینڈ اور سویڈن کو اپنی سلامتی کی بنیاد دوسرے ممالک کی سلامتی کو نقصان پہنچانے پر نہیں رکھنی چاہیے۔ یوکرائنی رہنما نیٹو میں شامل ہونا چاہتے ہیں لیکن روس اس اقدام کی سخت مخالفت کرتا رہا ہے۔نیٹو اور صدر جو بائیڈن دونوں نے کہا تھا کہ اگر کریملن نے حملہ کیا تو امریکہ 30 رکنی اتحاد کا بھرپور دفاع کرے گا۔

    بائیڈن نے جمعے کی صبح نیٹو کے ساتھی ارکان کے ساتھ عملی طور پر ملاقات کی تاکہ مشرقی اتحادیوں کو یقین دلایا جا سکے کہ ان کی حفاظت کی جائے گی کیونکہ روسی فوجی کیف میں داخل ہونے کے لیے تیار ہیں۔ مگر اب روس کی پیشقدمی کیف تک پہنچ چکی ہے اور امریکہ زبانی جمع خرچ کے علاوہ کچھ نہیں کرسکا ہے۔

    زیلنسکی نے امریکہ اور اس کے اتحادیوں پر تنقید کی تھی کہ وہ اپنے ملک کو تنہا لڑنے کے لیے چھوڑ رہے ہیں۔’ہمارے ساتھ لڑنے کو کون تیار ہے؟ میں کسی کو نہیں دیکھ رہا ہوں،‘‘ انہوں نے جمعرات کی رات کہاتھا کہ ‘یوکرین کو نیٹو کی رکنیت کی ضمانت کون دینے کو تیار ہے؟ ہر کوئی خوفزدہ ہے۔