Baaghi TV

Author: +9251

  • یوکرین میں‌ پاکستانی سفارتخانے کی بمباری کے دوران پاکستانیوں کے لیے خدمات کےتفصیلات آگئیں

    یوکرین میں‌ پاکستانی سفارتخانے کی بمباری کے دوران پاکستانیوں کے لیے خدمات کےتفصیلات آگئیں

    کیف:یوکرین میں‌ پاکستانی سفارتخانے کی بمباری کے دوران پاکستانیوں کے لیے خدمات کےتفصیلات آگئیں ،اطلاعات کے مطابق یوکرین میں پاکستانی سفارتخانے کے عملے کی جنگ اور بمباری کے دوران خدمات نے بہت حوصلہ دیا ہے ، ادھر اس حوالے سے پاکستانی سفارتخانہ یوکرین کی جانب سے جاری خدمات کے حوالے سے مزید تفصیلات جاری کردی گئی ہیں‌

    یوکرین سے آمدہ اطلاعات کے مطابق سفارتخانے کے عملے کے 21 اہل خانہ سمیت 62 افراد کو پہلے ہی نکال لیا گیا ہے۔59 لوگ (یوکرین-پولینڈ بارڈر)کراسنگ پر ہیں جبکہ 79 لوگ اب سرحدوں کی طرف بڑھ رہے ہیں یعنی 67 طلباء یوکرین-پولینڈ کی سرحد کی طرف اور سفارت خانے کے عملے کے 12 افراد یوکرین-رومانیہ سرحد کی طرف جارہے ہیں‌

    کھرکیو سے 104 طلباء ٹرین میں دوپہر کو پہنچ رہے ہیں۔20 طلباء کو کیف سے ایمبیسی کی طرف سے ترتیب دی گئی بس سے نکالا جا رہا ہے۔

    ادھر اسی حوالے سے پاکستان میں یوکرین کے سفیر نے سیکریٹری خارجہ سے ملاقات، پاکستانیوں کے انخلا پر تبادلہ خیال کیا ہے

    پاکستان میں یوکرین کے سفیر کی سیکریٹری خارجہ سے ملاقات ہوئی جس میں یوکرین میں موجود پاکستانیوں کے کے تحفظ اور انخلا پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ترجمان دفترخارجہ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ٹویٹ میں لکھا کہ پاکستان میں یوکرین کے سفیر مارکیان چیوجک کی سیکریٹری خارجہ سہیل محمود سے ملاقات ہوئی۔

    ترجمان دفترخارجہ کے مطابق سیکریٹری خارجہ نے موجودہ صورتحال میں پاکستان کے مؤقف کا اظہار کیا، تناؤ میں کمی، بات چیت اور سفارت کاری سے مسئلے کی حل کی اہمیت پر زور دیا۔
    عاصم افتخار احمد کا کہنا ہے کہ ملاقات کے دوران یوکرین میں موجود پاکستانیوں کی سلامتی اور تحفظ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    ترجمان دفترخارجہ نے کہا کہ ملاقات میں یوکرین میں موجود پاکستانیوں کے تحفظ اور انخلا کے انتظامات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

  • یوکرین پر حملہ ،روس کی اپنی  سلامتی پرحملہ:کیسے؟حقائق سامنے آگئے

    یوکرین پر حملہ ،روس کی اپنی سلامتی پرحملہ:کیسے؟حقائق سامنے آگئے

    کیف :یوکرین پر حملہ ،روس کی اپنی سلامتی پرحملہ:کیسے؟حقائق سامنے آگئے ،اطلاعات کے مطابق یوکرین نے خود پر حملے کے بعد روس کے خلاف پابندیاں عائد کرنے کے ساتھ ساتھ اسے عالمی ادائیگیوں کے مرکزی نظام سے الگ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

    سوسائٹی فار ورلڈ وائیڈ انٹربینک فنانشل ٹیلی کمیونیکیشن (SWIFT) نیٹ ورک سے روس کو نکالنے سے روس کی دنیا کے بیشتر ممالک کے ساتھ تجارت کرنے کی صلاحیت ختم ہو سکتی ہے اور اس کی معیشت کو شدید دھچکا لگ سکتا ہے۔لیکن جمعرات کو، امریکہ اور یورپی یونین نے اس امکان پر نظرثانی کے دروازے کو کھلا چھوڑتے ہوئے روس کو SWIFT سے الگ نہ کرنے کا انتخاب کیا۔

    SWIFT کیا ہے؟

    SWIFT ایک ایسا نیٹ ورک ہے جسے بینک رقم کی منتقلی اور دیگر لین دین کے حوالے سے محفوظ پیغامات بھیجنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔تقریباً 200 ممالک میں 11 ہزار سے زیادہ مالیاتی ادارے SWIFT استعمال کرتے ہیں، جو اسے بین الاقوامی مالیاتی منتقلی کے نظام کی ریڑھ کی ہڈی بناتا ہے۔

    SWIFT کام کیسے کرتا ہے؟

    SWIFT کے پاس انٹرنیشنل بینکنگ نمبرز اور بینکوں کے شناختی کوڈز ریکارڈ کرنے کی اجازت ہے۔یہ دنیا بھر سے 11 ہزار سے زائد مالیاتی اداروں کو آپس میں جوڑتا ہے اور سالانہ 5 بلین سے زاید مالیاتی پیغامات نشر کرتا ہے۔کلائنٹس جب کوئی ٹرانزیکشنز کرتے ہیں تو یہ انہیں بینکوں سے جوڑتا ہے۔اگر دو ادارے آپس میں پارٹنرز نہیں تو سوئفٹ ثالثی ادارہ بن کر ان دونوں کے درمیان رابطہ کراتا ہے۔یہ خود کو ایک قابل اعتماد اور محفوظ سسٹم ہونے کا دعویٰ کرتا ہے جو بینکنگ پارٹنز کے درمیان ٹرانزیکشن کرتا ہے۔

    SWIFT کا مالک کون ہے؟

    SWIFT بیلجیئم قانون کے تحت قائم کی گئی ایک کوآپریٹو کمپنی ہے۔ اس کی ویب سائٹ پر موجود تفصیلات میں کہا گیا ہے کہ “یہ اپنے شیئر ہولڈرز (مالی اداروں) کی ملکیت ہے جو اسے کنٹرول کرتے ہیں اور دنیا بھر سے تقریباً 3,500 فرموں کی نمائندگی کرتے ہیں”۔

    SWIFT اور روس کے درمیان کیا تعلق ہے؟

    روسی نیشنل سوئفٹ ایسوسی ایشن کے مطابق، روس میں امریکہ کے بعد دوسرے نمبر پر سب سے زیادہ صارفین ہیں، تقریباً 300 روسی مالیاتی ادارے اس نظام سے وابستہ ہیں۔روس کے نصف سے زیادہ مالیاتی ادارے SWIFT کے رکن ہیں۔

    ہانگ کانگ میں نیٹیکسس میں ایشیا پیسیفک کی چیف اکانومسٹ، ایلیسیا گارسیا ہیریرو نے کہا کہ روس پر SWIFT کے حوالے سے پابندی لگانا ملک کے لیے ایک سنگین دھچکا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ “یہ ایک بڑی بات ہے کیونکہ اس کے بنا کوئی قرض یا تجارتی مالیاتی ادائیگی نہیں کی جاسکتی۔”گارسیا ہیریرو کا کہنا ہے کہ یہ روس سے یورپی یونین کی گیس کی درآمد کو روکنے سے بڑا ہے۔

    روس کا ردعمل

    فیڈریشن کونسل کے نائب سپیکر نکولے زووراولیو نے جنوری میں تسلیم کیا کہ نیٹ ورک سے ملک کا اخراج ایک امکان ہے۔

    SWIFT ایک سیٹلمنٹ سسٹم ہے، یہ ایک سروس ہے۔ اس لیے اگر روس کا SWIFT سے رابطہ منقطع ہو جاتا ہے، تو ہم غیر ملکی کرنسی حاصل نہیں کریں گے۔ لیکن خریدار، یورپی ممالک، سب سے پہلے ہماری اشیاء تیل، گیس، دھاتیں اور ان کی درآمدات کے دیگر اہم اجزاء حاصل نہیں کر پائیں گے۔

    زوراولیو نے یہ بھی نشاندہی کی کہ اگرچہ SWIFT آسان ہے، لیکن یہ رقم کی منتقلی کا واحد طریقہ نہیں ہے، اور کسی ملک کو معطل کرنے جیسے فیصلے کے لیے اراکین کے درمیان اتفاق رائے کی ضرورت ہوگی۔زوراولیو نے مزید کہا کہ SWIFT ایک یورپی کمپنی ہے، ایک ایسوسی ایشن جس میں بہت سے ممالک شامل ہیں۔

    کیا روس کی SWIFT سے معطلی اس کے لیے واقعی خطرہ ہے؟

    برسلز میں قائم Bruegel تھنک ٹینک کے ڈائریکٹر گنٹرم وولف نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ اس حکمت عملی سے ہونے والے فائدے اور نقصانات قابل بحث ہیں۔عملی طور پر SWIFT سے ہٹائے جانے کا مطلب یہ ہوگا کہ روسی بینک اسے غیر ملکی مالیاتی اداروں کے ساتھ ادائیگی کرنے یا وصول کرنے کے لیے استعمال نہیں کر سکتے۔

    مغربی ممالک نے 2014 میں کریمیا کے الحاق کے بعد روس کو SWIFT سے خارج کرنے کی دھمکی دی تھی۔لیکن ورس جیسی بڑی معیشت جو تیل اور گیس کا ایک اہم برآمد کنندہ بھی ہے کو چھوڑنے سے دیگر ممالک کو بھی اہم نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

    نیدرلینڈز کے وزیر اعظم مارک روٹے نے جمعرات کو اعتراف کیا کہ یورپی یونین کے کچھ ممالک کے لیے پابندی “حساس” ہے کیونکہ اس کا “خود پر بہت زیادہ اثر” پڑے گا۔

    وولف نے کہا کہ “عملی طور پر یہ ایک حقیقی سر درد ہو گا۔” اس کا اثر خاص طور پر یورپی ممالک کے لیے بہت اچھا ہوگا جو روس کے ساتھ اہم تجارت کرتے ہیں، جو براعظم کی قدرتی گیس کا 41 فیصد فراہم کرتا ہے۔ہیریرو نے کہا کہ روس کو چھوڑنا “بانڈ ہولڈرز، یورپی یونین کے بینکوں اور توانائی کے درآمد کنندگان کے لیے” مہنگا پڑے گا۔

    اس طرح کی پابندی ماسکو کو چین، یا دیگر ممالک کے ساتھ، مالیاتی نظام پر ممکنہ طور پر امریکی غلبہ کو کم کرنے کے ساتھ، متبادل منتقلی کے نظام کی ترقی کو تیز کرنے کی ترغیب دے سکتی ہے۔

  • بلاول زرداری سندھ کی تباہی کے بعد کس منہ سے اسلام أباد أ رہا ہے:اسد عمر

    بلاول زرداری سندھ کی تباہی کے بعد کس منہ سے اسلام أباد أ رہا ہے:اسد عمر

    اسلام آباد:وفاقی وزیر اسد عمر نے پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کو مشورہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اب بھی کہتا ہوں کہ آپ لوگ لانگ مارچ کے لیے نہ نکلیں ، اس موقع پر اسد عمر نے کہا ہے کہ بلاول زرداری سندھ کی تباہی کے بعد کس منہ سے اسلام أباد أ رہا ہے۔ PDM سردیوں کی بیماری ہے جو گرمیوں میں ختم ہو جاتی ہے۔ PDM جتنی مرضی کوشش کر لے عمران خان حکومت کو کوئی بھی خطرہ نہیں ہے۔

    ان خیالات کا اظہار انہوں نےعامر مغل کی میزبانی میں جھنگی سیداں میں ایک بڑے جلسے سے خطاب کرتے ہویے کیا۔انہوں نے کہا کہ میں اسلام أباد کی عوام کو اکٹھا کرنے پر عامر مغل کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ عامر مغل ہمیشہ سے فرنٹ سے لیڈ کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ PDM اور بلاول زرداری ملکر زور لگائیں عمران خان اگلی بار بھی وزیر اعظم منتخب ہوں گے۔ اسد عمر نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان کی خصوصی توجہ سے اسلام أباد کی عوام کیلئے تاریخی قانون سازی اور کھربوں کی لاگت سے تاریخی ترقیاتی کام جاری ہیں۔

     

     

    چئیرمین سٹینڈنگ کمیٹی برائے داخلہ راجہ خرم نواز نے خطاب کرتے ہویے کہا کہ جس طرح اسلام أباد کی عوام نے تحریک انصاف کی حکومت کو تینوں سیٹیں جیت کر دی ہیں اور 2018 میں کلین سویپ کیا ہے۔ عوام کا احسان کبھی بھی نہیں اتار سکتے ہیں۔ دن رات عوامی مفاد میں کام کر رہے ہیں۔ اسد عمر کی قیادت میں شہر بھر میں تاریخی کام کئے جا رہے ہیں۔ تاریخی جلسہ کروانے پر راجہ خرم نواز نے عامر مغل کو مبارکباد پیش کی۔

    منتظم و میزبان جلسہ عامر مغل نے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ ساڑہے تین سالوں میں شہریوں کیلئے تاریخی قانون سازی اور کھربوں کے ترقیاتی کام کیے گیے ہیں۔ جس پر وزیر اعظم اور تینوں منتخب ایم این ایز کے شکر گزار ہیں۔ سیکشن 4 کا خاتمہ، نوکریوں میں 50% کوٹہ، پہلی فوڈ اتھارٹی کا قیام، پہلی رئیل اسٹیٹ اتھارٹی کا قیام، تاجروں کے لیے متفقہ قانون کرایہ داری کا قیام شامل ہے۔ اس کے علاوہ تینوں حلقوں میں کھربوں کی لاگت سے ہر شہری کیلیے صحت کارڈ، غازی بروتھا سے پانی کے منصوبے، روڈ گلیاں، اسکول ، کالج، پانی کے منصوبے، نئے ہسپتال، ڈسپینسریز، انڈر پاس، انٹر چینج، IJP روڈ، 10th ایونیو، مارگلہ روڈ، کمیونٹی سینٹرز، ملٹی پرپز گراونڈز، بجلی گیس کے منصوبے، سیکٹورل ایریا میں گلیوں، سڑکوں ، اسکولوں، اسٹریٹ لائیٹس ، اور پارکس کی اپ گریڈیشن شامل ہیں۔

    عامر مغل نے کہا کہ 2018 کی طرح 2022 کے بلدیات اور 2023 کے جنرل الیکشن میں بھی کلین سویپ کریں گے۔ عامر مغل نے کہا کہ بلاول زرداری اور PDM کا لانگ مارچ بری طرح ناکام ہو گا۔ کیونکہ عوام کو پتہ ہے کہ مریم صفدر اور بلاول زرداری کے جسم کا ایک ایک بال اور خون کا ایک ایک قطرہ حرام کی کمائ سے ہے۔ اور ان کے مارچ کا مقصد صرف اور صرف اپنے والدین کی کرپشن کا تحفظ اور ایک بار پھر عوام کو بیوقوف بنا کر اقتدار میں أنا ہے جس کو عوام بری طرح مسترد کر چکی ہے۔ جلسے سے ممبر سینیٹر سیمی ایزدی، عابدہ راجہ ایم پی اے اور فرزند شاہ سمیت دیگر نے بھی خطاب کیا۔

  • چیچن کمانڈو دستے’’ہنٹرز‘یوکرینی صدرکی تلاش میں:زندہ یا مردہ پکڑنے کےلیے کوشاں؛مغرب پرخوف طاری

    چیچن کمانڈو دستے’’ہنٹرز‘یوکرینی صدرکی تلاش میں:زندہ یا مردہ پکڑنے کےلیے کوشاں؛مغرب پرخوف طاری

    کیف: چیچن کمانڈو دستے’’ہنٹرز‘ یوکرینی صدرکی تلاش میں:زندہ یا مردہ پکڑنے کےلیے کوشاں ،اطلاعات کے مطابق چیچن اسپیشل فورسز کے ‘ہنٹرز’ کو یوکرین میں کیف کے اہلکاروں کو حراست میں لینے یا قتل کرنے کے لیے اتارا گیا ہے جنہیں ‘تاش کے پتے’ دیے جاتے ہیں جن میں ان کے اہداف کی تصاویر ہوتی ہیں۔

    چیچن اسپیشل فورسز کے ‘ہنٹرز ‘ کے ایک دستے کو یوکرین کے مخصوص اہلکاروں کو حراست میں لینے یا قتل کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اس بارے میں پہلے ہی یوکرین کے صدر خدشہ ظاہر کرچکے ہیں کہ روس انہیں خاندان سمیت ختم کرانے کا ارادہ رکھتا ہے۔ ان تصاویر کے ساتھ یوکرین کی جنگ میں ایک نیا رخ سامنے آگیا ہے۔ روس اور چیچین حکومت میں تال میل ہے۔

     

    خطرناک قاتل دستے کی تصویر یوکرین کے جنگل میں اس وقت دکھائی گئی جب وہ ممکنہ لڑائی سے قبل یہ دستہ با جماعت نماز ادا کررہا تھا۔ یہ قدم چیچین رہنما اور پوتن کے قریبی اتحادی 45 سالہ رمضان قادروف کے یوکرین میں اپنی افواج کا دورہ کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔

    ۔ 44 سالہ یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے جمعرات کو کہا کہ انہیں بتایا گیا تھا کہ کیف میں روسی اسپیشل فورسز ان کا مارنا چاہتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ماسکو کی جانب سے یوکرائنی حکومت کے سینیئر اہلکاروں کے لیے جاری کی گئی ‘کِل لسٹ’ میں ان کا خاندان دوسرا ہدف تھا۔

     

     

    رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ فہرست میں روسی تحقیقاتی کمیٹی کے ‘جرائم’ کے مشتبہ اہلکاروں اور سیکیورٹی افسران کی ہے۔یہ اس وقت سامنے آیا جب یوکرین کے صدر نے اعتراف کیا کہ وہ اپنے دارالحکومت میں روسی قاتلوں کے لیے ‘ٹارگٹ نمبر ایک’ ہیں، جب کہ ان کا خاندان پوتن کے ہٹ مینوں کے لیے ‘نمبر دو’ ہے۔

    دوسری طرف اسی حوالے سے روس کی نیم خود مختار ریاست چیچنیا کے سربراہ رمضان قادریوف نے روس پر یوکرین کی کارروائی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہےکہ 12 ہزار چیچن یوکرین کے محاذ پر جاکر لڑنے کے لیے تیار ہیں۔

     

    روسی سرکاری میڈیا کے مطابق چیچنا کے دارالحکومت گروزنی میں 12 ہزار کے قریب چیچن فورسز کے اہلکار اور رضاکار روسی حکومت کے اقدام کی حمایت میں جمع ہوئے اور روسی فوج سے یکجہتی کا اظہار کیا۔

    اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے چیچنیا کے سربراہ رمضان قادریوف نےکہا کہ 12 ہزار چیچن اپنے ملک اور عوام کی حفاظت کے لیے کسی بھی قسم کے آپریشن میں حصہ لینے کو تیار ہیں

    ان کا کہنا تھاکہ میں یوکرینی صدر کو مشورہ دینا چاہتا ہوں کہ وہ سپریم لیڈر پیوٹن کو فون کرکے معافی مانگیں اور یوکرین کو محفوظ بنائیں۔ان کا مزید کہنا تھاکہ یوکرینی صدر روس کی شرائط تسلیم کرلے، یہ ان کیلئے اچھا اقدام ہوگا۔

  • روسی حملے کے خلاف جاپان کے شہروں میں مظاہرہ

    روسی حملے کے خلاف جاپان کے شہروں میں مظاہرہ

    ٹوکیو:روسی حملے کے خلاف جاپان کے شہروں میں مظاہرہ ،اطلاعات کے مطابق یوکرین پر روسی افواج کے حملے کے بعد جاپان کے شہروں میں مظاہرہ اور ریلیاں نکالی گئیں۔یوکرین پر روس کی چڑھائی کے خلاف جاپان کے ہیروشیما اور ناگاساکی شہروں میں احتجاجی ریلیاں منعقد ہوئی ہیں۔ یہ دونوں شہر دوسری عالمی جنگ کے دوران ایٹمی بمباری کا نشانہ بنے تھے۔

    انہوں نے کتبے اٹھا رکھے تھے، جن پر انگریزی میں لکھا تھا، ’جنگ بند کرو‘، اور ’جوہری اسلحہ اور جنگ نا منظور‘۔ یہ دراصل روسی جارحیت اور ایٹمی جنگ کے خطرے کے خلاف احتجاج تھا۔

    قبل ازاں رواں ہفتے فوجی کارروائی شروع کرنے کا اعلان کرتے ہوئے روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے خبردار کیا تھا کہ انکا ملک آج بھی زبردست جوہری طاقت ہے۔روس کے حملے کے بعد امریکہ اور نیٹو کی جانب سےلفظی بیان بازی سے یوکرین کے صدر بھی سخت نالاں نظر آ رہے ہیں۔یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے عالمی برادری سے شکوہ کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں تنہا کر دیا گیا ہے۔

    دوسری جانب روس نے یوکرین کی جانب سے مذاکرات کی اپیل پر کہا کہ یوکرین کی افواج ہتھیار ڈالے اس کے بعد مذاکرات کئے جائیں گے۔

    ادھر جنگ کی وجہ سے حالات مزید بگڑگئے ہیں اور ہر طرف لوگ پریشان نظر آتے ہیں‌،لوگ بچے بوڑھے سب پریشان ہیں ، لوگ گھروبےگھر ہوگئے ہیں اور ایک تازہ واقعہ میں
    ایک خاتون نتالیہ ابلیوا ہفتے کے روز یوکرین سے سرحد عبور کر کے ہنگری پہنچی، جسے ایک قیمتی سامان سونپا گیا۔

    یوکرین کی جانب سرحدی کراسنگ پر انتظار کرتے ہوئے، ابلیوا نے اپنے آبائی شہر کامیانیٹس-پوڈیلسکی سے تعلق رکھنے والے ایک مایوس 38 سالہ شخص سے ملاقات کی، اس کے جوان بیٹے اور بیٹی کے ساتھ۔ سرحدی محافظ اسے گزرنے نہیں دیتے تھے۔ یوکرائن نے 18 سے 60 سال کی عمر کے تمام یوکرائنی مردوں پر ملک چھوڑنے پر پابندی لگا دی ہے تاکہ وہ اپنے ملک کے لیے لڑ سکیں۔

    "ان کے والد نے بس دونوں بچوں کو میرے حوالے کر دیا، اور مجھ پر بھروسہ کیا، اور مجھے ان کے پاسپورٹ دے کر ان کے حوالے کر دیا،” 58 سالہ ابلیوا نے کہا، والد نے بتایا کہ بچوں کی یوکرینی ماں ان سے ملنے اور انہیں محفوظ مقام پر لے جانے کے لیے اٹلی سے جا رہی تھی۔ اس نے ابلیوا کو ماں کا موبائل نمبر دیا، اور موٹی جیکٹوں اور ٹوپیوں میں سردی سے لپٹے اپنے بچوں کو الوداع کہا۔

    خیال رہے کہ 24 فروری کو حملے کے آغاز کے بعد سے روسی فوج نے یوکرین میں 821 فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا ہے، جن میں 14 فضائی اڈے اور 19 فوجی کمانڈ سینٹرز شامل ہیں۔اس کے ساتھ ساتھ 24 فضائی دفاعی میزائل سسٹم، 48 ریڈار، 7 جنگی طیارے، 7 ہیلی کاپٹر، 9 ڈرون، 87 ٹینک اور 8 فوجی جہاز تباہ ہوئے ہیں۔

    تازہ کارروائی میں روسی فوج نے یوکرین کے فوجی اڈوں پر کروز میزائلوں سے حملہ کیا ہے۔روسی وزارتِ دفاع کے ترجمان میجر جنرل ایگور کوناشینکوف نے ہفتے کو بتایا کہ فوج نے لمبی دوری تک مار کرنے والے کیلیبر کروز میزائلوں سے یوکرین کے متعدد فوجی اداروں پر حملہ کیا۔

    ایک ایسی خاتون نتالیہ ابلیوا ہفتے کے روز یوکرین سے سرحد عبور کر کے ہنگری پہنچی، جسے ایک قیمتی سامان سونپا گیا۔یوکرین کی جانب سرحدی کراسنگ پر انتظار کرتے ہوئے، ابلیوا نے اپنے آبائی شہر کامیانیٹس-پوڈیلسکی سے تعلق رکھنے والے ایک مایوس 38 سالہ شخص سے ملاقات کی، اس کے جوان بیٹے اور بیٹی کے ساتھ۔سرحدی محافظ اسے گزرنے نہیں دیتے تھے۔ یوکرائن نے 18 سے 60 سال کی عمر کے تمام یوکرائنی مردوں پر ملک چھوڑنے پر پابندی لگا دی ہے تاکہ وہ اپنے ملک کے لیے لڑ سکیں۔

    "ان کے والد نے بس دونوں بچوں کو میرے حوالے کر دیا، اور مجھ پر بھروسہ کیا، اور مجھے ان کے پاسپورٹ دے کر ان کے حوالے کر دیا،” 58 سالہ ابلیوا نے کہا، اس نوجوان لڑکے کے بازوؤں کو جسے وہ اپنے ارد گرد صرف چند گھنٹوں سے جانتی تھی۔ گردن

    والد نے بتایا کہ بچوں کی یوکرینی ماں ان سے ملنے اور انہیں محفوظ مقام پر لے جانے کے لیے اٹلی سے جا رہی تھی۔ اس نے ابلیوا کو ماں کا موبائل نمبر دیا، اور موٹی جیکٹوں اور ٹوپیوں میں سردی سے لپٹے اپنے بچوں کو الوداع کہا۔یہی نہیں بلکہ رہائشی عمارتوں کو بھی اس حملے میں بھاری نقصان پہنچا ہے اور کئی لوگ اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔

  • ترک صدرطیب اردوان کا یوکرینی ہم منصب سےٹیلی فونک رابطہ:ارطغرل غازی بھی میدان میں آگئے

    ترک صدرطیب اردوان کا یوکرینی ہم منصب سےٹیلی فونک رابطہ:ارطغرل غازی بھی میدان میں آگئے

    انقرہ :ترک صدرطیب اردوان کا یوکرینی ہم منصب سے ٹیلی فونک رابطہ:ارطغرل غازی بھی میدان میں آگئے،اطلاعات کے مطابق ترک صدر رجب طیب اردگان نے یوکرینی ہم منصب ولادیمیر زیلنسکی سے ٹیلی فونک رابطہ کیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق یوکرائنی صدر سے گفتگو کرتے ہوئے ترک صدر نے یقین دہانی کروائی ہے کہ ترکی روس اور یوکرین کےدرمیان فوری جنگ بندی کی کوششیں کررہا ہے۔دو روز قبل روسی افواج کے یوکرین پر حملے کے فوراً بعد انقرہ میں یوکرین کے سفارت خانے نے ترکی سے مدد کی اپیل کی تھی۔

    یوکرینی سفارت خانے نے ٹوئیٹر پر جاری پیغام میں کہا تھا کہ روس نے یوکرین کے خلاف جنگ شروع کر رکھی ہے اور پرامن شہروں پر بمباری کی جا رہی ہے۔سفارت خانے کی جانب سے مزید کہا گیا کہ ہم اپنے اسٹریٹجک پارٹنر ترکی اور اس کی عوام سے اس مشکل وقت میں ہمارا ساتھ دینے کا مطالبہ کرتے ہیں۔

    بعد ازاں ترک صدر نے اپنے یوکرینی ہم منصب ولادیمیر زیلنسکی سے ٹیلیفونک رابطہ کیا اور یوکرین پر روس کے حملے کی مذمت کرتے ہوئے اسے علاقائی امن اور استحکام کے لیے ایک بھاری دھچکا قرار دیا۔واضح رہے کہ جنگ کے دوران اب تک سینکڑوں شہری ہلاک ہوچکے ہیں۔

    دوسری جانب یوکرینی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اب تک ساڑھے 3 ہزار سے زائد روسی فوجی ہلاک اور 200 کے قریب قیدی بنائے جا چکے ہیں۔

    دوسری طرف معروف اداکار انگین التان نے یوکرین کی موجودہ صورتحال کو مدِ نظر رکھتے ہوئے امن کا پیغام جاری کر دیا ہے۔ترک کی مشہور سیریز ارتغرل غازی کا مرکزی کردار ادا کرنے والے انگین التان بھی اس حوالے سے میدان میں آئے ہیں اور امن کا پیغام جاری کیا ہے۔

    انسٹا گرام پر ترک اداکار انگین التان دوزیتان نے اپنی اسٹوری پر لکھا کہ ”جنگ نہیں امن، تباہی نہیں تخلیقی صلاحیت، نفرت نہیں ہمدردی، لالچ نہیں سخاوت، صرف ہمارے لیے نہیں بلکہ دنیا میں سب کے لیے“۔

  • نہ مُلک چھوڑوں گانہ قوم:ہتھیارنہیں ڈالیں گے فتح ہماری ہوگی:یوکرینی صدرکافوجیوں کےساتھ گھومتےہوئےبیان

    نہ مُلک چھوڑوں گانہ قوم:ہتھیارنہیں ڈالیں گے فتح ہماری ہوگی:یوکرینی صدرکافوجیوں کےساتھ گھومتےہوئےبیان

    کیف:نہ مُلک چھوڑوں گا نہ قوم:ہتھیارنہیں ڈالیں گے فتح ہماری ہوگی:یوکرینی صدرکا فوجیوں کے ساتھ گھومتے ہوئے بیان،ااطلاعات کے مطابق یوکرائن کے صدر ولودیمیر زیلنسکی نے ٹوئٹر پر اپنی ایک وڈیو پوسٹ کی ہے جس میں وہ دارالحکومت کِیف کی سڑک پر گھومتے نظر آ رہے ہیں۔بڑے حوصلے کے ساتھ اپنی قوم اور اپنی فوج کے درمیان پھررہےہیں اور ان کے حوصلے بڑھا رہے ہیں‌

    کچھ مبصرین کا خیال ہے کہ بظاہر یوکرائنی صدر نے یہ دکھانے کی کوشش کی ہے کہ انہوں نے اپنی فوج سے روسی فوجیوں کے سامنے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ نہیں کیا۔

    صدر ولودیمیر زیلنسکی نے کیف کے گوروڈیٹسکی ہاؤس کے سامنے کھڑے ہو کر کہا اُن کے حوالے سے بہت سی جعلی خبریں پھیلائی جا رہی ہیں کہ اُنہوں نے اپنی فوج سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا ہے اور وہ خود بھی یوکرائن سے فرار ہو رہے ہیں لیکن یہ سب جھوٹ اور فریب ہے۔

     

     

    یوکرائنی صدر زیلنسکی کا اپنے وڈیو پیغام میں کہنا تھا کہ وہ یہیں دارالحکومت کیف میں ہیں، ہم ہتھیار نہیں ڈالیں گے اور اپنی ریاست کا دفاع کریں گے۔اِس سے قبل امریکی میڈیا کے مطابق یوکرائنی صدر ولودیمیر زیلنسکی نے یوکرائن سے انخلا میں مدد کے لیے امریکی پیشکش کو ٹھکرا دیا تھا۔

    ایسیوسی ایٹڈ پریس نے ایک سینئر انٹیلی جنس اہلکار کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ کیا ہے کہ صدر زیلینسکی نے پیشکش کے جواب میں کہا کہ یہاں لڑائی ہو رہی ہے، مجھے اسلحے کی ضرورت ہے، نکلنے کے لیے فلائٹ کی نہیں۔

    امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے امریکی اور یوکرائنی حکام کا بھی حوالہ دیا تھا جن کا کہنا تھا کہ امریکی حکومت صدر زیلنسکی کی مدد کے لیے تیار ہے۔

    سوشل میڈیا پر روسی حملے کے جواب میں یوکرائنی صدر زیلینسکی کے ردعمل کی کافی پذیرائی کی جا رہی ہے۔ صدر زیلینسکی جو ایک سابق کامیڈین اور اداکار ہیں، نے ایک تقریر میں لڑائی جاری رکھنے کے عزم کیا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہم پر حملے کرتے ہوئے آپ کو ہمارے چہرے نظر آئیں گے، ہماری پیٹھ نہیں۔

     

     

    یوکرائن کے دارالحکومت کیف میں یوکرائنی اور روسی افواج کے درمیان دو بدو جھڑپ جاری ہے۔ یوکرائنی فوج نے روسی فوج کو بڑے نقصانات پہنچانے کے دعوے کیے ہیں۔

    یوکرائنی مسلح افواج کے فیس بک پیج پر جاری کی گئی ایک پوسٹ کے مطابق دعویٰ کیا گیا ہے کہ اب تک ساڑھے 3 ہزار سے زائد روسی فوجی ہلاک اور 200 کے قریب قیدی بنائے جا چکے ہیں۔

     

    یوکرائنی فوج کے بیان کے مطابق اب تک روس کے 14 لڑاکا طیارے، 8 جنگی ہیلی کاپٹر اور 102 ٹینک بھی تباہ کر دیے گئے ہیں تاہم اِن میں سے کسی بھی دعوے کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔ دوسری جانب روس نے بھی ابھی تک کسی جانی نقصان کا اعتراف نہیں کیا ہے۔

  • یوکرین کا مذاکرات سے انکار:روس کے لیے مشکلات بڑھ گئیں،دوبدولڑائی کے دوران بڑے پیمانے پرنقصان

    یوکرین کا مذاکرات سے انکار:روس کے لیے مشکلات بڑھ گئیں،دوبدولڑائی کے دوران بڑے پیمانے پرنقصان

    ماسکو:یوکرین کا مذاکرات سے انکار:روس کے لیے مشکلات بڑھ گئیں،اطلاعات کے مطابق روس کا کہنا ہے کہ یوکرین نے مذاکرات کی پیشکش مسترد کردی ہے جس کے بعد فوجی کارروائی پوری قوت کے ساتھ دوبارہ شروع کردی گئی ہے۔

    روسی صدارتی محل (کریملن) کی جانب سے جاری بیان کے مطابق یوکرین نے مذاکرات کی پیشکش کو مسترد کرکے تنازع کو طول دیا ہے جس کے بعد روسی فوج نے اپنی پیش قدمی دوبارہ شروع کردی ہے۔

    کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے آج میڈیا بریفنگ میں بتایا کہ ’متوقع مذاکرات کے پیش نظر روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے جمعے کو روس کے مرکزی فوجی دستوں کو پیش قدمی روکنے کے احکامات دیے تھے تاہم اب چونکہ یوکرین نے مذاکرات سے انکار کردیا ہے لہٰذا آج دوپہر سے فوجیوں کی پیش قدمی دوبارہ شروع کردی گئی ہے۔‘

    خیال رہے کہ گزشتہ روز روسی فوجی یوکرین کے دارالحکومت کیف میں داخل ہوچکے تھے اور پارلیمنٹ کی عمارت سے محض 9 کلو میٹر کے فاصلے پر موجود تھے تاہم پیوٹن نے مذاکرات پر آمادگی ظاہر کی اور اپنے اتحادی ملک بیلاروس میں مذاکراتی وفد بھیجنے کا اعلان کیا۔

    گزشتہ روز ہی اپنے بیان میں پیوٹن نے کہا تھا کہ یوکرینی فوج حکومت کا تختہ الٹ دے اور یوکرینی حکومت کے نمائندوں کو دہشتگرد، نشے کے عادی اور ہٹلر کے پیروکار قرار دیا تھا۔

    یوکرین کے صدر ولودومیر زیلینسکی بھی بار ہا مذاکرات کی اپیل کرتے رہے ہیں اور جب روسی فوجی کیف کے قریب پہنچے تو زیلینسکی نے پیوٹن کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’میں ایک بار پھر روسی صدر سے کہنا چاہتا ہوں کہ یوکرین بھر میں لڑائی جاری ہے، آئیے مل کر بیٹھتے ہیں اور جانوں کے ضیاع کو روکتے ہیں۔‘

    خیال رہے کہ روس نے 24 فروری کو یوکرین پر حملہ کیا تھا اور دونوں ملکوں کا دعویٰ ہے کہ وہ ایک دوسرے کو بھاری نقصان پہنچا چکے ہیں البتہ اس جنگ میں روس کا پلڑہ بھاری نظر آتا ہے۔لیکن پھر بھی مذاکرات سے انکار کے بعد روس کے لیے مشکلات بڑھتی ہوئی نظرآرہی ہیں ،

    یوکرائن کے دارالحکومت کیف میں یوکرائنی اور روسی افواج کے درمیان دو بدو جھڑپ جاری ہے۔ یوکرائنی فوج نے روسی فوج کو بڑے نقصانات پہنچانے کے دعوے کیے ہیں۔

    یوکرائنی مسلح افواج کے فیس بک پیج پر جاری کی گئی ایک پوسٹ کے مطابق دعویٰ کیا گیا ہے کہ اب تک ساڑھے 3 ہزار سے زائد روسی فوجی ہلاک اور 200 کے قریب قیدی بنائے جا چکے ہیں۔

    یوکرائنی فوج کے بیان کے مطابق اب تک روس کے 14 لڑاکا طیارے، 8 جنگی ہیلی کاپٹر اور 102 ٹینک بھی تباہ کر دیے گئے ہیں تاہم اِن میں سے کسی بھی دعوے کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔ دوسری جانب روس نے بھی ابھی تک کسی جانی نقصان کا اعتراف نہیں کیا ہے۔

    بحیرہ اسود سے بھی یوکرائن پر روسی میزائل حملوں کی اطلاعات ہیں جبکہ دارالحکومت کیف کے کئی علاقوں میں فضائی حملے بھی کیے جا رہے ہیں۔ کیف شہر کے مرکز سے زوردار دھماکوں اور فائرنگ کی آوازیں آ رہی ہیں۔

  • دنیا اب ایک طویل عالمی جنگ کے لیے تیارہوجائے: فرانس

    دنیا اب ایک طویل عالمی جنگ کے لیے تیارہوجائے: فرانس

    پیرس :دنیا اب ایک طویل عالمی جنگ کے لیے تیارہوجائے: اطلاعات کے مطابق فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون نے دنیا کو پیغام دیا ہے کہ ایک طویل جنگ اب دنیا کی منتظر ہے۔

    غیر ملکی خبر رساں ادارے کی مطابق صدر میکرون نے پیرس میں زراعت کے سالانہ میلے کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئےکہنا تھا کہ اس صبح اگر میں آپ کو کچھ بتا سکوں تو وہ یہ ہے کہ جنگ جاری رہے گی۔ بحران جاری رہے گا اور اس کے بعد آنے والے بحران بھی طویل مدتی نتائج لائیں گے۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ جنگ یورپ میں لوٹ آئی ہے، اس صورت حال کا انتخاب صدر پیوٹن نے یکطرفہ طور پر کیا ہے، یوکرین کے لوگ مزاحمت کر رہے ہیں جبکہ یورپ یوکرین کے لوگوں کی جانب سے مزاحمت کرنے کے لیے موجود ہے۔

    انھوں نے عزم ظاہر کیا ہے کہ اس سے نمٹنے کے لیے منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔

    واضح رہے، روس پر لگنے والی پابندیوں سے فرانس کے کچھ شعبوں کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے، جن میں سب سے نمایاں شراب کی صعنت ہے۔

    یاد رہے، فرانسیسی قائد ان شخصیات میں شامل ہیں جنہوں نے تصادم سے بچنے کے لیے بہت کوششیں کیں، کئی بار روسی صدر پیوٹن سے بات چیت کی جبکہ پیوٹن اور امریکی صدر جو بائیڈن کے درمیان سربراہی ملاقات کے لیے بھی کوششیں کرتے رہے ہیں۔

    دوسری طرف یوکرین پر سوار روس نے اب اپنے دیگر پڑوسی ممالک کو صاف صاف لفظوں میں دھمکی دیدی ہے کہ اگر نیٹو کی جانب رکنیت کے لیے نظر اٹھا کر دیکھا تو سنگین فوجی اور سیاسی نتائج بھگتنے کے لیے تیارت ہوجائیں ۔ابھی یوکرین کی جنگ جاری ہے اور دنیا روس کے سامنے بے بس ہے۔ یہاں تک کہ امریکہ یوکرین کا ساتھ دینے کے بجائے ملک کی راجدھانی کیف سے انخلا کا مشورہ دے رہا ہے۔ اسی دوران اب روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے اپنے قریبی ہمسایہ ممالک سویڈن اور فن لینڈ کو دھمکی دی ہے کہ اگر وہ نیٹو میں شامل ہوتے ہیں تو انہیں ‘فوجی نتائج’ بھگتنا پڑیں گے۔

  • پنجاب حکومت کی ڈیجیٹل میڈیا ٹیم میں ارم شہزادی کی بھی تقرری

    پنجاب حکومت کی ڈیجیٹل میڈیا ٹیم میں ارم شہزادی کی بھی تقرری

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب کے معاون خصوصی برائے اطلاعات حسان خاور نے نارتھ پنجاب کی ڈیجیٹل میڈیا کی کمیٹی مقرر کی ہے

    ڈیجیٹل میڈیا کی نارتھ پنجاب کی کمیٹی میں فیضان یاسین لیڈ کریں گے جبکہ ارم شہزادی، لائبہ طارق،علی صفدر،عثمان بھٹی اس کمیٹی میں بطور ڈپٹی ہیڈ ہیں، ڈیجیٹل میڈیا کی یہ کمیٹی پنجاب حکومت کے اقدامات کو سوشل میڈیا پر نمایاں طور پر لائے گی،

    کمیٹی میں شامل ارم شہزادی باغی ٹی وی پر بلاگز بھی لکھتی ہیں،ارم شہزادی کو پنجاب حکومت کی ڈیجیٹل میڈیا ٹیم میں شمولیت پر صارفین نے مبارکباد کے پیغامات دیئے ہیں وہیں ارم شہزادی نے خود کہا ہے کہ بہت شکریہ حسان خاور،آپ کے اعتماد کا۔ پارٹی کے منشور اور خان صاحب کے ویژن کا پہلے بھی دفاع کرتے تھے اور ان شاء اللہ مستقبل میں بھی کرتے رہیں گے۔۔بہت شکریہ سر۔۔

     

     

    حنا نے ارم کو مبارکباد دیتے ہوئے ٹویٹ کی اور کہا کہ ارم شہزادی کو پارٹی کی جانب سے دی گئی زمہ داری پر مبارک باد پیش کرتے ہیں۔ اور امید کرتے ہیں کہ وہ پارٹی کے منشور کے مطابق سوشل میڈیا پر کام کریں گی۔

    https://twitter.com/CCtheLegendd/status/1497500097990455301