Baaghi TV

Author: +9251

  • یوکرین پرروسی حملہ:برطانیہ کا سخت ردعمل:     مانچسٹریونائیٹڈ نے روسی ایئرلائن سےمعاہدہ منسوخ کردیا

    یوکرین پرروسی حملہ:برطانیہ کا سخت ردعمل: مانچسٹریونائیٹڈ نے روسی ایئرلائن سےمعاہدہ منسوخ کردیا

    لندن :یوکرین پرروسی حملہ:برطانیہ کا سخت ردعمل:مانچسٹریونائیٹڈ نے روسی ایئرلائن سےمعاہدہ منسوخ کردیا،اطلاعات کے مطابق یوکرین پر روس کے حملےکے خلاف برطانیہ کی طرف سے سخت ردعمل آرہا ہے اور پابندیوں‌کے ساتھ ساتھ اب ماضی میں کئے گئے معاہدے بھی منسوخ کیے جارہے ہیں‌، اس سلسلے میں‌ مانچسٹر یونائیٹڈ نے روسی ایئر لائن ایروفلوٹ کے ساتھ 40 ملین پاؤنڈ کے بڑے اسپانسر شپ معاہدے کو منسوخ کر دیا ہے۔

    مانچسٹر یونائیٹڈ کا کہنا ہے کہ یہ اقدام یوکرین پر روس کے حملے کے جواب میں ہے اور منگل کو ٹائٹن ایئرویز کے ساتھ یونائیٹڈ کے میڈرڈ کے لیے پرواز کے بعد سامنے آیا ہے۔

    مانچسٹر یونائیٹڈ کے ایک ترجمان نے کہا: ‘یوکرین میں ہونے والے واقعات کی روشنی میں، ہم نے ایروفلوٹ کے اسپانسرشپ کے حقوق واپس لے لیے ہیں۔’ہم دنیا بھر میں اپنےچاہنے والوں‌ کے تحفظات کا اظہار کرتے ہیں اور متاثرہ افراد سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں۔’

    مانچسٹر یونائیٹڈ کا کہنا ہے کہ اس ٹیم کا ایک دیرینہ تجارتی معاہدہ تھا جس نے پہلی بار 2013 میں روسی کمپنی سے رابطہ کیا تھا لیکن اب اس نے تعلقات منقطع کر لیے ہیں۔

    ایروفلوٹ کے ساتھ یونائیٹڈ کے معاہدے کی تجدید 2017 میں £40 ملین میں ہوئی تھی اور اس کی میعاد 2023 میں ختم ہونے والی تھی۔ ایروفلوٹ کی قومی ایئر لائن ہے اور 52 ممالک میں 146 مقامات پر پرواز کرتی ہے۔

    یونائیٹڈ ستاروں کو پوری دنیا میں اڑانے کے علاوہ، ایروفلوٹ نے کلب کو سفری اور لاجسٹک مشورے بھی فراہم کیے لیکن یونائیٹڈ اب ایک نئے فلائٹ پارٹنر کے لیے مارکیٹ میں ہے، جس پر قطر ایئرویز زیر غور ہے۔یونائیٹڈ نے ایروفلوٹ کے ساتھ اپنی نو سالہ رفاقت سے مجموعی طور پر £100m کے علاقے میں سرمایہ کاری کی۔

    مانچسٹر یونائیٹڈ نے پہلے روسی سرکاری ایئرلائن ایروفلوٹ کے ساتھ اپنی پرواز کا تبادلہ کیا تھا اور اب یوکرین پر حملے کی روشنی میں اپنا سپانسرشپ معاہدہ منسوخ کر دیا ہے۔

    دلچسپ بات یہ ہے کہ یوکرین پر روسی حملے کے بعد یونائیٹڈ کے حصص کی قیمت گر گئی اور یہ قیاس کیا گیا کہ یہ ایروفلوٹ کے ساتھ ان کی وابستگی کی وجہ سے گرا ہے۔جمعرات تک، دو ہفتوں میں حصص کی قیمت $14.08 فی حصص سے گر کر $13.10 ہوگئی، جو کہ سات فیصد کی کمی ہے۔

  • چل کہیں کی جھوٹی”اپوزیشن”:وزارت اعلیٰ کی کوئی بات ہی نہیں کی پھربدنام کیوں کرتی ہے:پاکستان مسلم لیگ

    چل کہیں کی جھوٹی”اپوزیشن”:وزارت اعلیٰ کی کوئی بات ہی نہیں کی پھربدنام کیوں کرتی ہے:پاکستان مسلم لیگ

    لاہور:چل کہیں کی جھوٹی”اپوزیشن”:پنجاب کی وزارت اعلیٰ کی کوئی بات ہی نہیں کی پھربدنام کیوں کرتی ہے:اطلاعات کےمطابق پاکستان مسلم لیگ قائد اعظم (ق) نے اپوزیشن سے پنجاب کی وزارت اعلیٰ کے حصول کی تردید کردی ہے اور کہا ہےکہ اپوزیشن نے جھوٹ بول کراپنی روایت قائم رکھی ہے

    اس حوالےسے ترجمان مسلم لیگ (ق) کے مطابق اپوزیشن سے پنجاب کی وزارت اعلیٰ کے حصول کیلئے کوئی بات نہیں کی۔پھرہمارے بارے میں پراپیگنڈہ کیوں کیا جارہا ہے

    ترجمان کا کہنا تھاکہ مرکز میں عدم اعتماد کی حمایت کا کوئی فیصلہ نہیں کیا جبکہ پارٹی نے تمام فیصلوں کا اختیار چوہدری پرویزالٰہی کو دے دیا ہے۔

    خیال رہے کہ اس سے قبل خبر سامنے آئی تھی کہ مسلم لیگ (ق) نے اپوزیشن سے پنجاب کی وزارتِ اعلیٰ مانگ لی ہے۔ کے مطابق پیپلز پارٹی اور (ق) لیگ کی اعلیٰ قیادت کے درمیان رابطہ ہوا جس میں چوہدری برادران نے سابق صدر آصف زرداری کو چارٹر آف ڈیمانڈ پیش کیا۔

    ذرائع کا کہنا ہےکہ (ق) لیگ نے اپوزیشن سے پنجاب میں وزارتِ اعلیٰ مانگی ہے اور لیگی قیادت کا دو ٹوک مؤقف ہےکہ اس سے کم پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

    ذرائع کے مطابق وزارتِ اعلیٰ ملنے کی صورت میں (ق) لیگ نے پنجاب اور مرکز میں ان ہاؤس تبدیلی کی کامیابی کی ضمانت دینے کی یقین دہانی کرائی ہے۔

    واضح رہے کہ اپوزیشن کی جانب سے حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کرنے کیلئے حکومتی اتحادی جماعتوں سے ملاقاتوں کا سلسلہ جاری ہے،

  • اعصاب شکن مقابلے کےبعد اسلام آباد کو شکست، لاہور قلندرز نے فائنل میں جگہ بنالی

    اعصاب شکن مقابلے کےبعد اسلام آباد کو شکست، لاہور قلندرز نے فائنل میں جگہ بنالی

    لاہور: پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے ساتویں ایڈیشن کے دوسرے ایلمینٹر میچ میں لاہور قلندرز نے اسلام آباد یونائیٹڈ کو ہرا کر فائنل میں جگہ بنا لی جہاں پر ان کا مقابلہ ملتان سلطانز کے ساتھ ہوگا۔

    تفصیلات کے مطابق پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے ساتویں ایڈیشن کے دوسرے ایلمینٹر میچ میں لاہور قلندرز کی کپتانی شاہین شاہ آفریدی اور اسلام آباد یونائیٹڈ کی کپتانی شاداب خان کر رہے تھے۔ایچ بی ایل پی ایس ایل 7 کے دوسرے ایلیمینٹر میں لاہور قلندرز نے اسلام آباد یونائیٹڈ کو 6 رنزسے شکست دے کر ٹورنامنٹ کے فائنل میں رسائی حاصل کرلی۔ آخری اوور میں 27 رنز اسکور کرنے والے ڈیوڈ ویزے نے اسلام آباد کی اننگزکے آخری اوور میں 8 رنز کا کامیابی سے دفاع کرکے اپنی ٹیم کی کامیابی میں اہم کردار ادا کیا۔

    فاتح ٹیم 27 فروری کو ایونٹ کے فائنل میں ملتان سلطانز کے مدمقابل آئے گی۔

    قذافی اسٹیڈیم لاہور میں کھیلے گئے میچ میں لاہور قلندرز نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے مقررہ 20 اوورز میں 7 وکٹوں کے نقصان پر 168 رنز بنائے۔ جواب میں اسلام آباد یونائیٹڈ کی پوری ٹیم 19.4 اوورز میں 162 رنز پر ڈھیر ہوگئی۔

    مطلوبہ ہدف کے تعاقب میں اسلام آباد یونائیٹڈ کے ابتدائی چار بیٹرزشاہین شاہ آفریدی اور زمان خان کی نپی تلی باؤلنگ کے سامنے بے بس نظر آئے اور محض 46 کے مجموعی اسکور پر پویلین واپس لوٹ گئے۔ پال اسٹرلنگ 13، ول جیکس صفر، شاداب خان 14 اور لیام ڈاسن 12 رنز بناکر آؤٹ ہوئے۔

    تاہم اعظم خان نے ایلکس ہیلز کے ہمراہ ذمہ دارانہ بیٹنگ کرتےہوئے 79 رنز کی شراکت قائم کرکے اسلام آبادیونائیٹڈ کی دم توڑتی امیدوں کو روشنی بخشی۔ اعظم خان 28 گیندوں پر 2 چھکوں اور 3 چوکوں کی مدد سے 40 رنز بناکر آؤٹ ہوئے۔ ایلکس ہیلز 38 رنز بناکر آؤٹ ہوئے۔ ان کی اننگز میں ایک چھکا اور 2 چوکے شامل تھے۔

    اسلام آباد یونائیٹڈ کو جیت کے لیے آخری 6 گیندوں پر 8 رنز درکار تھے۔پہلی دو گیندوں پر کوئی رن نہ بنانے والے محمد وسیم جونیئر تیسری گیند پر ڈبل لینے کی کوشش کے دوران رن آؤٹ ہوکر پویلین واپس لوٹے تو میچ دلچسپ ہوگیا۔نئے آنے والے بیٹر وقاص مقصود بھی پہلی ہی گیندپرمڈ وکٹ باؤنڈری پر عبداللہ شفیق کے ہاتھوں کیچ دے بیٹھے۔

    حارث رؤف، زمان خان اور شاہین آفریدی نے دو دو وکٹیں حاصل کیں۔ ڈیوڈ ویزے نے ایک کھلاڑی کو آؤٹ کیا۔

    اس سے قبل لاہور قلندرز کے کپتان شاہین شاہ آفریدی نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا تو ٹورنامنٹ میں اب تک سب سے زیادہ رنز بنانے والے ان فارم بیٹر فخر زمان ایک کے انفرادی اسکور پر پویلین واپس لوٹ گئے۔ دوسرے اوپنر فل سالٹ بھی دو اسکور بناکر آؤٹ ہوگئے۔

    ایسے میں نوجوان بیٹر عبداللہ شفیق نے لاہور قلندرز کی کمان سنبھالی اور شاندار بیٹنگ کرتے ہوئے 28 گیندوں پر 3 چھکوں اور 4 چوکوں کی بدولت 52 رنز کی جارحانہ اننگز کھیل کر اپنی ٹیم کو میچ میں واپس لے آئے۔انہوں نے کامران غلام کے ہمراہ 73 رنز کی شراکت قائم کی۔ کامران غلام 30 رنز بناکر آؤٹ ہوئے۔

    مڈل آرڈر بیٹر محمد حفیظ نے 28 اور سمت پٹیل نے بھی 21 رنزبناکر بیٹنگ لائن کو سہارا دیاتاہم ڈیوڈ ویزے نے اننگز کے آخری اوور میں وقاص مقصود کو ایک چوکا اور 3 چھکے لگا کر ٹیم کا مجموعہ 168 تک پہنچایا۔ وہ 8 گیندوں پر 28 رنز بناکر ناٹ آؤٹ رہے۔

    لیام ڈاسن اور محمد وسیم نے دو دو وکٹیں حاصل کیں۔ شاداب خان اور وقاص مقصود نے ایک ایک کھلاڑی کو آؤٹ کیا۔

    لاہور قلندرز سکواڈ:

    فخر زمان، عبد اللہ شفیق، کامران غلام، محمد حفیظ، ہیری بروک، فل سالٹ، سمٹ پٹیل، ڈیوڈ ویزے، شاہین شاہ آفریدی، حارث رؤف، زمان خان

    اسلام آباد یونایئٹڈ سکواڈ:

    ایلکس ہیلز، وِل جیک، سٹرلنگ، شاداب خان، آصف علی، اعظم خان، محمد وسیم، لیام ڈاؤسن، حسن علی، اطہر محمود، وقاص مقصود

  • پیپلز پارٹی کے لانگ مارچ میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا نہیں ہوگی،اپنے ہی ہیں:شیخ رشید احمد

    پیپلز پارٹی کے لانگ مارچ میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا نہیں ہوگی،اپنے ہی ہیں:شیخ رشید احمد

    لاہور: پیپلز پارٹی کے لانگ مارچ میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا نہیں ہوگی،اپنے ہی ہیں:اطلاعات کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کے لانگ مارچ کے معاملے پر وفاق اورپنجاب نے مشترکہ کوارڈینیشن کمیٹی قائم کرنے اور پُرامن لانگ مارچ میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    مشترکہ کوآرڈینیشن کمیٹی کے قیام کا فیصلہ وزیرداخلہ شیخ رشید احمد اور وزیراعلی پنجاب سردار عثمان بزدار کی زیر صدارت اجلاس میں کیا گیا۔ کمیٹی میں وفاقی وزرارت داخلہ، صوبائی وزارت داخلہ کے حکام شامل ہوں گے۔

    ذرائع کے مطابق وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار نے صوبائی انتظامیہ کو لانگ مارچ کے بارے میں گورنس گائیڈلائنز جاری کر دیں۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ پیپلزپارٹی کے لانگ مارچ کے روٹ، راستوں میں پڑاو کے مقامات پر سیکورٹی سخت ہو گی، امن وامان کے قیام کے لئے ضروری اقدامات انتظامیہ کی ذمہ داری ہو گی اور پرامن لانگ مارچ میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا نہیں کی جائے گی۔

    ذرائع کے مطابق پنجاب حکومت کو لانگ مارچ کی متوقع تعداد کے بارے میں رپورٹس پیش کر دی گئی۔ جس میں بتایا گیا ہے کہ چھ سے دس ہزار کے قریب افراد لانگ مارچ میں شامل ہوسکتےہیں۔

    ذرائع کے مطابق لانگ مارچ کو سیاسی طورپر پرامن انداز سے ہینڈل کیاجائے گا، پرامن لانگ مارچ کے حوالےسے کسی قسم کاانتظامی ہتھکنڈا استمعال نہیں کیاجائے گا۔

  • روس اور یوکرین کے درمیان نوبت جنگ تک کیوں آئی ؟خصوصی رپورٹ

    روس اور یوکرین کے درمیان نوبت جنگ تک کیوں آئی ؟خصوصی رپورٹ

    کیف:روس اور یوکرین کے درمیان نوبت جنگ تک کیوں آئی ؟خصوصی رپورٹ ،روس اور یوکرین کے درمیان جنگ جاری ہے اور روس کا پلڑہ بھاری ہے ، دوسری طرف یوکرین کو روس کے خلاف مزاحمت پر اکسانے والے اب جان چھڑانے کی کوشش کررہے ہیں ، روس اور یوکرین کے درمیان اس قدر کشیدگی کیوں پیدا ہوئی ، جنگ کے اسباب کیا ہیں اور کون سچا ہے اور کون جھوٹا، اس حوالے سے کچھ حقائق پیش کیے جاتے ہیں‌،

    روس اور یوکرین کے اس جغرافیائی تنازع کی جڑیں گذشتہ سو سالہ تاریخ میں ہیں۔

    آج مغرب کے ساتھ مل کر روس کو مشکل میں ڈالتا یوکرین 1920 سے 1991 تک سوویت یونین کا حصہ رہا ہے۔

    نوے کی دہائی میں جب سوویت یونین کا عروج ڈگمگانے لگا تو یوکرین ان پہلے ممالک میں سے تھا، جس نے 16 جولائی 1990 کو یونین سے علیحدگی کا اعلان کیا۔ تقریباً ایک سال بعد 24 اگست 1991 کو یوکرین نے خودمختاری اور مکمل آزادی کا اعلان بھی کر دیا۔

    یوکرین نے آزادی تو حاصل کرلی لیکن وہاں موجود 17 فیصد روسی النسل آبادی سمیت روس کے لیے نرم گوشہ رکھنے والے دیگر پریشر گروپس اور مغرب کی حمایت کرنے والے گروہوں میں تنازعات کا آغاز ہو گیا۔

    تاریخ کا مشاہدہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ روس یوکرین پر 2015 کی جنگ بندی کے معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتا ہے۔ اس کے علاوہ معاہدے پر عمل درآمد نہ ہونے کے لیے مغربی ممالک کو بھی موردِ الزام ٹھہراتا ہے۔

    ادھر عالمی سطح پر اس معاہدے کو روس کی کامیابی قرار دیا جاتا تھا کیوں کہ اس کے ذریعے یوکرین کو باغیوں کے زیر اثر علاقوں کو زیادہ سے زیادہ خود مختاری دینے کا پابند کیا گیا تھا۔ اس معاہدے میں یوکرین نے علیحدگی پسندوں کے لیے عام معافی کی پیش کش بھی کی تھی۔

    روس کی طرف یوکرین بھی روس پر جنگ بندی کے معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتا رہا ہے۔ روس کی تردید کے باجود یوکرین کا اصرار ہے کہ اس کے مشرقی خطے میں روسی فوجی موجود ہیں۔حالیہ کشیدگی کے بعد روس جرمنی اور فرانس کی شمولیت کے ساتھ مذاکرات کی پیش کش کو پہلے ہی مسترد کر چکا ہے۔

    یوکرین کو ہتھیار فراہم کرنے اور اس کے ساتھ جنگی مشقیں کرنے پر روس امریکہ اور نیٹو کو شدید تنقید کا نشانہ بناتا ہے۔ روس کا الزام ہے کہ امریکہ اور نیٹو یوکرین کو باغیوں سے وہ علاقے واپس کے لینے کے لیے طاقت کے استعمال پر اکسا رہے ہیں جن کا کنٹرول انہوں نے 2014 میں حاصل کیا تھا۔

    یوکرین نیٹو کا رکن نہیں ہے لیکن 2008 سے عندیہ دے رہا ہے کہ وہ جلد اس اتحاد کا حصہ بن جائے گا۔ 2014 میں روس کی حمایت یافتہ حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد سے یوکرین مغربی ممالک کے قریب ہوا ہے۔ یوکرین نے نیٹو کے ساتھ مشترکہ فوجی مشقیں کی ہیں، امریکہ سے ٹینک شکن میزائل اور ترکی سے ڈرون بھی حاصل کیے ہیں۔

    کرائمیا کا کنٹرول سنبھالنے اور مشرقی یوکرین میں باغیوں کی مدد کے تناظر میں یوکرین اور امریکہ اپنے بڑھتے ہوئے باہمی تعاون کو درست اقدام قرار دیتے ہیں۔ مبصرین یوکرین کے نیٹو اور امریکہ سے بڑھتے ہوئے تعاون کو بھی روس کے حالیہ اقدامات کا سبب قرار دیتے ہیں۔

  • دنیا کی تیسری ایٹمی قوت یوکرین کی ایٹمی قوت ختم کرنے      میں یوکرین کی کیاغلطی تھی؟کس نےدیا دھوکہ:رپورٹ

    دنیا کی تیسری ایٹمی قوت یوکرین کی ایٹمی قوت ختم کرنے میں یوکرین کی کیاغلطی تھی؟کس نےدیا دھوکہ:رپورٹ

    کیف : دنیا کی تیسری ایٹمی طاقت تھے،دوستوں نے مروا دیا:یوکرینی وزیراعظم کا اظہار افسوس بار بار تڑپانے لگا ، یوکرین 30 سال قبل اپنی ایٹمی قوت سے دستبرداری کو اب یاد کر رہا ہے، یوکرین نے مغرب اور روس کی بات مان کر اگر یہ عمل نہ کیا ہوتا تو آج روس اسے اس طرح دھمکا نہیں سکتا تھا۔

    یوکرین کے وزیراعظم نے کہا کہ تین دہائیوں قبل یوکرین نے مغرب اور روس کے درمیان تخفیف اسلحہ کے مذاکرات کے نتیجے میں اور روس کی جانب سے سلامتی کی گارنٹی کے بدلے میں اپنے پاس موجود جوہری ہتھیاروں کو تلف کردیا تھا۔انہوں نے کہا کہ آج ان ضمانتوں کی حیثیت ان کاغذ کے ٹکڑوں جتنی بھی نہیں جن پر انہیں تحریر کیا گیا تھا۔

    اسی سابقہ تجربے کے پیش نظر انہوں نے اپنے لوگوں اور دنیا کو خبردار کیا کہ یوکرین کو دوبارہ ایسا بڑا معاہدہ کرنے پر مجبور نہیں کیا جانا چاہیے، جس کا روس دوبارہ احترام نہیں کرے گا۔اس کی بجائے انہوں نے تجویز کیا کہ یوکرین کا نیٹو میں شامل ہونا اس کی حقیقی سلامتی کی ضمانت ہوگی۔

    نتیجتاً آج روس یوکرین پر حملہ آور ہے اور یوکرینی صدر ساری یورپی دنیا میں پاگلوں کی طرح مدد کی بھیک مانگتا پھر رہا ہے. مگر کوئی یوکرین کی مدد کو نہیں آیا.

    خیال رہےکہ یوکرین 1991 تک سوویت یونین کا حصہ تھا اور سوویت یونین سے علیحدگی کے وقت یوکرین کے پاس بڑی تعداد میں جوہری ہتھیار موجود تھے جو کہ تعداد کے لحاظ سے دنیا بھر میں اس وقت تیسرے نمبر پر تھے، یہ ہتھیار سوویت یونین کی جانب سے وہاں چھوڑے گئے تھے تاہم آزادی کے بعد یوکرین نے خود کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنےکا بڑا فیصلہ کیا۔

    دستاویزات کے مطابق 1991 میں سوویت یونین سے یوکرین کی آزادی کے وقت، یوکرین کے پاس دنیا کا تیسرا سب سے بڑا جوہری ہتھیاروں کا ذخیرہ تھا، جس میں ایک اندازے کے مطابق 1,900 اسٹریٹجک وار ہیڈز، 176 بین البراعظمی بیلسٹک میزائل (ICBMs) اور 44 اسٹریٹجک بمبار شامل تھے۔ 1996 تک، یوکرین نے اقتصادی امداد اور سلامتی کی یقین دہانیوں کے بدلے اپنے تمام جوہری وار ہیڈز روس کو واپس کر دیے تھے، اور دسمبر 1994 میں، یوکرین 1968 کے جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے (NPT) کا ایک غیر جوہری ہتھیار رکھنے والا ریاستی فریق بن گیا۔ یوکرین میں آخری اسٹریٹجک نیوکلیئر ڈیلیوری گاڑی کو 1991 کے اسٹریٹجک آرمز ریڈکشن ٹریٹی (START) کے تحت 2001 میں ختم کردیا گیا تھا۔ یوکرین سے ہتھیاروں اور جوہری بنیادی ڈھانچے کو ہٹانے کے لیے 1992 میں لزبن پروٹوکول کے ساتھ شروع ہونے والے سیاسی تدبیروں اور سفارتی کاموں کے برسوں لگے۔

    جزوی طور پر بین الاقوامی شناخت حاصل کرنے کی کوشش میں، یوکرین کی آزادی سے پہلے کی تحریک نے NPT میں غیر جوہری ہتھیار رکھنے والی ریاست کے طور پر شامل ہونے کی کوششوں کی حمایت کی۔ 16 جولائی 1990 کو اپنی خودمختاری کے اعلان کے ساتھ، یوکرین نے "جوہری ہتھیاروں سے دستبرداری کا فیصلہ کیا

    سوویت یونین کی تحلیل کے ساتھ، آزاد ریاستوں کی دولت مشترکہ نے 30 دسمبر 1991 کو منسک معاہدے پر دستخط کیے، اس بات پر اتفاق کیا کہ روسی حکومت کو تمام جوہری ہتھیاروں کی ذمہ داری سونپی جائے گی۔ تاہم، جب تک یہ ہتھیار بیلاروس، یوکرین اور قازقستان میں موجود ہیں، ان ممالک کی حکومتوں کو ان کے استعمال کو ویٹو کرنے کا حق حاصل ہوگا۔ اسلحے کو ختم کرنے کا ہدف 1994 کے آخر تک مقرر کیا گیا تھا۔

    یوکرین نے 23 مئی 1992 کو لزبن پروٹوکول پر دستخط کیے تھے۔ پروٹوکول میں بیلاروس، قازقستان اور یوکرین کے جوہری ہتھیار روس کو واپس کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔ تمام ریاستوں کو START اور NPT میں شامل ہونا تھا۔ تاہم، یوکرین کے اندر، START کی توثیق، NPT میں شمولیت، یا مجموعی طور پر جوہری تخفیف کی طرف بہت کم پیش رفت ہوئی۔ پروٹوکول کا تقاضا تھا کہ یوکرین جلد سے جلد NPT پر عمل کرے، لیکن اس نے ملک کو اس پر عمل کرنے کے لیے سات سال تک کا وقت دیا۔

    1992 کے اواخر تک، یوکرین کی پارلیمنٹ زیادہ جوہری حامی خیالات کا اظہار کر رہی تھی۔ کچھ کا خیال تھا کہ یوکرین کم از کم عارضی جوہری ہتھیاروں کا حقدار ہے۔ شاید امید کے ساتھ، امریکی حکومت نے یوکرین کو تباہی کے لیے 175 ملین ڈالر کی امداد کا وعدہ کیا۔ اس کے بجائے، یوکرین کی حکومت نے جوہری قوتوں کے انتظامی انتظام پر عمل درآمد شروع کر دیا اور وار ہیڈز کی ملکیت کا دعویٰ کیا۔

    اپریل 1993 کے آخر میں، 162 یوکرائنی سیاست دانوں نے START کی توثیق کے لیے 13 پیشگی شرائط شامل کرنے کے لیے ایک بیان پر دستخط کیے، جس سے توثیق کے عمل میں مایوسی ہوئی۔ پیشگی شرائط کے لیے روس اور امریکہ کی جانب سے سیکورٹی کی یقین دہانی، سیکورٹی کے لیے غیر ملکی امداد اور جوہری مواد کے لیے معاوضہ درکار تھا۔ مزید برآں، انہوں نے کہا کہ یوکرین اپنی ڈیلیوری گاڑیوں کا صرف 36 فیصد اور اپنے وار ہیڈز کا 42 فیصد ختم کر دے گا، باقی یوکرین کے کنٹرول میں چھوڑ دے گا۔ روس اور امریکہ نے ان مطالبات کو تنقید کا نشانہ بنایا لیکن یوکرین اس سے باز نہیں آیا۔ مئی 1993 میں، امریکہ نے کہا کہ اگر یوکرین START کی توثیق کرتا ہے، تو واشنگٹن مزید مالی امداد فراہم کرے گا۔ اس کے بعد یوکرین، روس اور امریکہ کے درمیان یوکرائنی جوہری تخفیف کے مستقبل پر بات چیت شروع ہوئی۔

    1993 میسنڈرا ایکارڈز

    یوکرائنی اور روسی حکام نے جوہری ہتھیاروں کو ختم کرنے کے پروٹوکول، طریقہ کار اور معاوضے کی شرائط سمیت معاہدوں کے ایک سیٹ پر پہنچے۔ تاہم، دونوں فریق حتمی دستاویز پر متفق نہیں ہو سکے، اور سربراہی اجلاس بالآخر ناکام ہو گیا۔

    1994 سہ فریقی بیان

    میسنڈرا ایکارڈز نے بالآخر کامیاب سہ فریقی مذاکرات کا مرحلہ طے کیا۔ جیسا کہ امریکہ نے روس اور یوکرین کے درمیان ثالثی کی، تینوں ممالک نے 14 جنوری 1994 کو سہ فریقی بیان پر دستخط کیے۔ یوکرین نے امریکہ اور روس کی طرف سے اقتصادی مدد اور سلامتی کی یقین دہانیوں کے بدلے میں مکمل تخفیف اسلحہ، بشمول تزویراتی ہتھیاروں کا عہد کیا۔ یوکرین نے اپنے جوہری وار ہیڈز روس کو منتقل کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور میزائلوں، بمباروں اور جوہری انفراسٹرکچر کو تباہ کرنے میں امریکی مدد قبول کی۔ یوکرین کے وار ہیڈز کو روس میں ختم کر دیا جائے گا، اور یوکرین کو انتہائی افزودہ یورینیم کی تجارتی قیمت کا معاوضہ ملے گا۔ یوکرین نے 3 فروری 1994 کو اپنی ابتدائی شرائط کو منسوخ کرتے ہوئے START کی توثیق کی، لیکن وہ مزید حفاظتی یقین دہانیوں کے بغیر NPT میں شامل نہیں ہوگا۔

    1994 سیکورٹی کی یقین دہانیوں پر بوڈاپیسٹ میمورنڈم

    یوکرین کے ساتھ سلامتی کے وعدوں کو مستحکم کرنے کے لیے، امریکہ، روس، اور برطانیہ نے 5 دسمبر 1994 کو بڈاپسٹ میمورنڈم آن سیکیورٹی ایشورنس پر دستخط کیے تھے۔ ہیلسنکی معاہدے کے اصولوں کے مطابق ایک سیاسی معاہدہ، یادداشت میں سلامتی کی یقین دہانیاں شامل تھیں۔ یوکرین کی سرزمین یا سیاسی آزادی کے خلاف دھمکی یا طاقت کا استعمال۔ ممالک نے یوکرین کی خودمختاری اور موجودہ سرحدوں کا احترام کرنے کا وعدہ کیا۔ بیلاروس اور قازقستان کے لیے بھی متوازی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے۔ اس کے جواب میں، یوکرین نے 5 دسمبر 1994 کو ایک غیر جوہری ہتھیاروں والی ریاست کے طور پر NPT سے باضابطہ طور پر الحاق کیا تھا۔ اس اقدام نے START کی توثیق کی حتمی شرط کو پورا کیا، اور اسی دن، پانچ START ریاستوں کے فریقین نے توثیق کے آلات کا تبادلہ کیا، معاہدے کو نافذ کرنا۔

    روس اور امریکہ کا 2009 کا مشترکہ اعلامیہ

    روس اور امریکہ نے 2009 میں ایک مشترکہ بیان جاری کیا جس میں اس بات کی تصدیق کی گئی کہ 1994 کے بوڈاپیسٹ میمورنڈم میں کی گئی سیکورٹی کی یقین دہانیاں 2009 میں START کی میعاد ختم ہونے کے بعد بھی درست رہیں گی۔

    یاد رہے کہ 1986 میں یوکرین کے شہر چرنوبل کے جوہری پاور پلانٹ میں دھماکےکے بعد سے وہاں کے رہائشی محفوظ مقامات پر نقل مکانی کرگئے تھے اور 4000 مربع کلومیٹر کا علاقہ اب بھی خالی پڑا ہے، یوکرین کی حکومت کا کہنا ہےکہ چرنوبل کے اس متروک علاقے میں لوگ آئندہ 24 ہزار سال تک آباد نہیں ہو سکیں گے۔

    دھماکے کے نتیجے میں دو افراد ہلاک ہوئے تھے اور وہاں مسلسل 10 دن تک آگ لگی رہی، تابکار دھوئیں کی گرد کے بادل ہوا کے ذریعے پورے مشرقی یورپ میں پھیل گئے تھے، اس دوران امدادی سرگرمیاں سرانجام دینے والے 134 کارکنوں میں تابکاری سے متعلق بیماری تشخیص ہوئی تھی جن میں سے 28 کارکنوں کی موت اس واقعے کے چند ماہ کے اندر ہی واقع ہو گئی جب کہ مزید 19افراد بھی بعد ازاں چل بسے

  • روس یوکرین تنازعہ :صدر جوبائیڈن نے روس پر نئی سنگین پابندیاں عائد کردیں

    روس یوکرین تنازعہ :صدر جوبائیڈن نے روس پر نئی سنگین پابندیاں عائد کردیں

    واشنگٹن:روس یوکرین تنازعہ :صدر جوبائیڈن نے روس پر نئی سنگین پابندیاں عائد کردیں ،اطلاعات کے مطابق امریکہ کے صدر جوبائیڈن نے روس پر نئی سنگین پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کردیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق صدر جوبائیڈن نے وائٹ ہاؤس میں منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ روس کو یوکرین پر بلا جواز حملے کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔

    انہوں نے کہا کہ روسی بینک کے 250 ملین ڈالرز کے اثاثے منجمد کیے جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ پابندیوں سے چار روسی بینک متاثر ہوں گے۔

    صدر جوبائیڈن نے کہا کہ روس کی برآمدات سمیت دیگر شعبوں پر بھی پابندیاں لگائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ روس پر پابندیوں کے اثرات طویل مدتی ہوں گے جس سے روس کی درآمدات بھی متاثر ہوں گی۔

    خبر رساں ایجنسی کے مطابق جوبائیڈن نے پریس کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ روسی گیس کمپنی کو قیمتیں بڑھانے نہیں دی جائیں گی، ڈالر اور جاپانی ین میں روسی لین دین محدود کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ روس کی عالمی مارکیٹ تک رسائی کو ہدف بنایا جائے گا۔

    امریکی صدر جوبائیڈن نے کہا کہ نیٹو اتحادی آرٹیکل 5 کے تحت جوائنٹ سیکیورٹی کی ذمہ داری پوری کریں گے۔

    عالمی خبر رساں ایجنسی کے مطابق صدر بائیڈن نے کہا کہ روس یوکرین پر حملے کی تیاری پہلے ہی کرچکا تھا۔ انہوں نے کہا کہ جی سیون ممالک سے روسی حملے پر بات کی ہے جو بلا جواز ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ روس کو یوکرین پر حملے کے لیے جوابدہ ٹھہرانے کی خاطر پابندیوں پر اتفاق کیا گیا ہے۔

    صدر جوبائیڈن نے کہا کہ امریکی فوج یوکرین میں براہ راست تنازع میں شامل نہیں ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی افواج یوکرین نہیں جارہی ہیں بلکہ اپنے نیٹو اتحادیوں کا دفاع کریں گی۔

  • یکم مارچ سے پھر پیٹرول مہنگا ہونے کا امکان

    یکم مارچ سے پھر پیٹرول مہنگا ہونے کا امکان

    اسلام آباد:یکم مارچ سے پھر پیٹرول مہنگا ہونے کا امکان،اطلاعات کے مطابق چیئرمین اوگرا مسرورخان نے یکم مارچ سے پھر پٹرول مہنگا ہونے کا عندیہ دے دیا۔

    ذرائع کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے پٹرولیم کا اجلاس اسلام آباد میں ہوا جس میں گیس سکیموں پر کام نہ ہونے پر ن لیگی ممبران نے شدید برہمی کس اظہارکیا۔

    سیکرٹری پٹرولیم ڈویژن نے کہا کہ گیس سکیموں پر عائد پابندی کو ہٹانے پر غور کیا جارہا ہے، آنے والے ہفتوں میں ایل این جی کی قلت سے متعلق سوال کے جواب میں سیکرٹری پٹرولیم نے بتایا کہ ہمارے دو ایل این جی کارگوزمنسوخ ہوئے تھے جن میں سے ایک کارگو کا بندوبست کرلیا گیا لیکن اس کا ٹینڈر مہنگا ملا ہے۔

    چیئرمین اوگرا مسرورخان نے یکم مارچ سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھنے کا عندیہ دیتے ہوئے کہا کہ بارہ ہفتوں میں تیل کی جو قیمت بڑھی ہے اس کی نظیر نہیں ملتی۔ ڈالرکے مقابلے میں روپے کی قدر بھی بہت کم ہوگئی۔ خزانے میں جو پیسے آنے ہیں وہ کمپرومائز ہورہے ہیں۔ قیمتیں بڑھیں گی اسکا بوجھ عوام پرپڑے گا۔

    چئیرمین اوگرا کا کہنا تھا کہ حکومت 14 روپے پٹرولیم لیوی وصول کررہی جبکہ جی ایس ٹی صفر ہے۔ خزانے میں جو پیسے آنے ہیں وہ کمپرومائز ہورہے ہیں ۔عالمی سطح پر جیسی قیمتیں بڑھ رہی ہیں اس کا بوجھ عوام پر پڑے گا۔ تیل قیمتوں کا فارمولا تبدیل نہیں ہوا وہ پرانا ہی ہے۔

  • ایف بی آر اور سوئی سدرن کے مابین بینک اکاونٹس منجمد کرنے کا تنازع

    ایف بی آر اور سوئی سدرن کے مابین بینک اکاونٹس منجمد کرنے کا تنازع

    کراچی: سیلز ٹیکس کی عدم وصولی پر ایف بی آر نے سوئی سدرن کے بینک اکاونٹس منجمد کرنے کا حکم نامہ جاری کردیا تاہم گیس ترسیلی کمپنی کا کہنا ہے کہ ٹیکس جمع کرنے والے ادارے کے نوٹسز کو قانونی معیار سے عاری ہونے کی وجہ سے سندھ ہائی کورٹ نے معطل کردیا۔

    ایف بی آر لارج ٹیکس پیئر آفس کراچی کی جاری پریس ریلیز کے مطابق سوئی سدرن سیلز ٹیکس کی مد میں 23 ارب روپے کی نادہندہ ہے اور واجبات میں سے صرف 31 کروڑ روپے وصولی ہوسکی ہے اور گیس کی ترسیلی کمپنی کے اکاؤنٹس اس لیے منجمد کیے تھے تاکہ واجب الادا رقم ریکور کی جائے۔

    دوسری جانب سوئی سدرن کا کہنا ہے کہ لارج ٹیکس پیئر یونٹ نے قانونی عمل کی پیروی کیے بغیر اور آزاد فورم یعنی اپیلٹ ٹریبونل کے فیصلے کا انتظار کیے بغیر بینکوں کو ریکوری کے نوٹسز جاری کیے جسےسندھ ہائی کورٹ نے معطل کردیا۔

  • یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کا تیسرا کانووکیشن:گورنرپنجاب مہمان خصوصی

    یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کا تیسرا کانووکیشن:گورنرپنجاب مہمان خصوصی

    لاہور: یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کا تیسرا کانووکیشن:گورنرپنجاب مہمان خصوصی ،اطلاعات کے مطابق صوبائی وزیرصحت ڈاکٹریاسمین راشد کی یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے تیسرے کانووکیشن2022 میں بطور گیسٹ آف آنرشرکت اس کے علاوہ گورنرپنجاب چوہدری محمد سرور کی بھی کانووکیشن میں بطور مہمان خصوصی شرکت کی

    کانووکیشن میں سیکرٹری محکمہ سپیشلائزڈہیلتھ کئیراینڈمیڈیکل ایجوکیشن ڈاکٹراحمدجاویدقاضی،چیئرمین بورڈآف گورنرزجسٹس(ر)تصدق جیلانی،سینیٹراعجاز چوہدری، وائس چانسلرکنگ ایڈورڑمیڈیکل یونیورسٹی پروفیسرڈاکٹرخالدمسعودگوندل، وائس چانسلرفاطمہ جناح میڈیکل یونیورسٹی پروفیسرڈاکٹرعامرزمان خان، پرنسپل امیرالدین میڈیکل کالج پروفیسر ڈاکٹر سردار الفرید وطلباء طالبات اور والدین کی کثیرتعدادنے شرکت کی۔

    گورنرپنجاب چوہدری محمد سروراور وائس چانسلر پروفیسرڈاکٹرجاوید اکرم کی جانب سے صحت کے شعبہ میں تاریخی اقدامات اٹھانے پر وزیر صحت ڈاکٹریاسمین راشدکی کاوشوں کوخراج تحسین پیش کیاگیا، کانووکیشن کاباقاعدہ آغازتلاوت قرآن پاک اور قومی ترانہ سے کیاگیا،گورنرپنجاب چوہدری محمد سرور،وزیرصحت ڈاکٹریاسمین راشداور وائس چانسلرپروفیسرڈاکٹرجاوید اکرم نے نمایاں کارکردگی کے حامل طلباء و طالبات اور ان کے والدین کو مبارکباد پیش کی۔

    صوبائی وزیر صحت ڈاکٹریاسمین راشد نے اظہارخیال کرتے ہوئے کہاآج تما م گریجوایٹس،والدین اور اساتذہ کو کامیابی پر مبارکباد دیتی ہوں،بچوں کی کامیابی میں اساتذہ کے علاوہ والدین بھی برابرکے خراج تحسین کے حق دارہوتے ہیں،یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسزنے طب کی دنیامیں تحقیق کے حوالہ سے اہم کرداراداکیاہے،کسی بھی یونیورسٹی کا بنیادی کام تحقیق ہوتاہے،

    فیٹل میڈیسن میں سپیشلائزیشن کیلئے لندن میں اساتذہ سے بہت سیکھا،اس وقت پنجاب میں تھیلیسمیاء کا دنیاکاسب سے بڑا پروینشن پروگرام چلارہے ہیں اور کسی بھی بیماری کی تشخیص اور علاج میں اعدادوشمارکی بڑی اہمیت ہوتی ہے، پاکستان میں کوروناکا مقابلہ این سی اوسی کے قیام کے بغیر شایدناممکن تھا،ساری دنیااس وقت کوروناکا مقابلہ کرنے پر پاکستان کی تعریف کررہی ہے،

    آج پاکستان کوروناکامقابلہ کرنے کے حوالہ سے نمایاں ممالک کی فہرست میں کھڑاہے،یونیورسٹی آف چائلڈ ہیلتھ سائنسزکی منظوری موجودہ حکومت کی کامیابی ہے۔برصغیرمیں یونیورسٹی آف چائلڈ ہیلتھ سائنسزاپنی نوعیت کی منفرد یونیورسٹی ہوگی ہماری حکومت نے پنجاب کی یونیورسٹیزکو مضبوط کیاہے، آج کے نوجوان ہمارافخراوراثا ثہ ہیں۔تحریک انصاف کی حکومت قوم کا پیسہ قوم پر لگارہی ہے جبکہ وزیراعظم عمران خان پاکستان کے عام آدمی کا معیارزندگی بلندکرنے کیلئے کام کررہے ہیںنیا پاکستان قومی صحت کارڈ،احساس کارڈاورکسان کارڈ بھی وزیراعظم کی جانب سے عام آدمی کی زندگی بہترکرنے کیلئے اہم قدم ہے،پنجاب میں 23نئے سرکاری ہسپتال بنائے جارہے ہیں،پنجاب میں 23نئے ہسپتالوں میں سے آٹھ مدراینڈچائلڈ ہسپتال شامل ہیں نیاپاکستان قومی صحت کارڈ عام آدمی کیلئے تھنڈی ہواکا تازہ جھونکاہے۔ماں اور بچہ کی صحت کی بہترسہولیات فراہم کرناوزیراعظم عمران خان کا ویژن تھا۔گنگارام ہسپتال میں 600بستروں پرمشتمل مدراینڈچائلڈ بلاک بنارہے ہیں گنگارام ہسپتال میں مدراینڈچائلڈبلاک اپنی نوعیت کا منفردہسپتال ہوگا گنگارام ہسپتال کے مدراینڈچائلڈ بلاک میں یوروگائیناکولوجی اور آنکولوجی سمیت تمام سپرسپشلٹیزکے شعبہ جات ہونگے،

    گنگارام ہسپتال میں مدراینڈچائلڈ بلاک ٹیسٹنگ بی بے کی سہولت دینے والاملک کا پہلاہسپتال ہوگا گنگارام ہسپتال کے مدراینڈچائلڈ بلاک کو19ماہ کے قلیل ترین عرصہ کے دوران مکمل کیاجارہاہے گنگارام ہسپتال میں مدراینڈچائلڈبلاک کو انشاء اللہ جون کے مہینے میں فعال کردیں گے گنگارام ہسپتال کا مدراینڈچائلڈ بلاک ایک ریفرل ہسپتال ہوگا،ماضی کی کسی حکومت نے عوام کو صحت کی بہترسہولیات فراہم کرنے کا سوچانہیں،وزیراعظم عمران خان نے حلف اٹھانے کے بعد اپنی پہلی تقریر میں ماں اور بچہ کی صحت کی بہترسہولیات فراہم کرنے پرزوردیاتھا

    حکومت نیاپاکستان قومی صحت کارڈکے ذریعے عوام کو صحت کی مفت سہولیات فراہم کرنے کیلئے اگلے تین سال میں 400ارب روپے خرچ کررہی ہے 31مارچ2022تک پنجاب کے تمام3کروڑسے زائدخاندانوں کو نیاپاکستان قومی صحت کارڈ فراہم کردیاجائے گا،پنجاب میں نیاپاکستان قومی صحت کارڈ کیلئے 700سے زائدہسپتالوں کو ام پینل کرچکے ہیں،وزیراعظم عمران خان کے ویژن کے مطابق پاکستان کو ریاست مدینہ بنارہے ہیں،گزشتہ حکومت محکمہ صحت کو50فیصدخالی اسامیوں کے ساتھ چلارہی تھی،

    محکمہ صحت میں ابھی تک 48000ڈاکٹرز،نرسزاور پیرامیڈیکل سٹاف کی بھرتی کرچکے ہیں محکمہ پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کئیرنے مزید15000نوکریوں کا اشتہاردیاہے محکمہ سپیشلائزڈہیلتھ کئیراینڈمیڈیکل ایجوکیشن نے مزید4000نوکریوں کا اشتہاردیاہے انشاء اللہ محکمہ صحت میں ایک لاکھ نوکریاں دیں گے ہماری حکومت نے نرسزکی750مزیدسیٹوں میں اضافہ کیاہے پنجاب کے تمام نرسنگ سکولوں کو اپ گریڈکردیاگیاہے۔کانووکیشن کے آخرمیں گورنرپنجاب چوہدری محمد سروراور وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر جاوید اکرم نے وزیرصحت ڈاکٹریاسمین راشدکو یادگاری شیلڈپیش کی۔