Baaghi TV

Author: +9251

  • حکومتی اتحادی کے طور پرعوام کی بھرپور خدمت کر رہے ہیں:یہی اتحاد ہی کامیاب رہے گا : پرویز الہیٰ

    حکومتی اتحادی کے طور پرعوام کی بھرپور خدمت کر رہے ہیں:یہی اتحاد ہی کامیاب رہے گا : پرویز الہیٰ

    لاہور:حکومتی اتحادی کے طور پرعوام کی بھرپور خدمت کر رہے ہیں:یہی اتحاد ہی کامیاب رہے گا :اطلاعات کے مطابق قائم مقام گورنر پنجاب چودھری پرویز الہیٰ نے کہا ہے کہ حکومت کے اتحادی پارٹنر کے طور پر ہم عوام کی بھرپور خدمت کر رہے ہیں۔

    چودھری پرویز الہیٰ سے جرمن سفیر برن ہارڈ سٹیفن نے اسمبلی میں ملاقات کی، ملاقات میں دو طرفہ تعلقات اور مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا گیا جبکہ جرمن سفیر نے سابق وزیراعظم چودھری شجاعت حسین کی خیریت دریافت کی۔

    اس موقع پر چودھری پرویز الہیٰ کا کہنا تھا کہ جرمنی پاکستان کا بہترین بزنس پارٹنر ہے، آٹوموبائل انڈسٹری، انفارمیشن ٹیکنالوجی، صحت اور سماجی شعبوں کی بہتری کیلئے جرمنی کے تجربے اور مہارت سے استفادہ کرنا چاہیے۔

    قائم مقام گورنر پنجاب کا مزید کہنا تھا کہ ای پارلیمنٹ کے قیام سے پیپر ورک ختم ہو گا اور اسمبلی زیادہ موثر انداز سے کام کر سکے گی ۔برن گارڈ سٹیفن نے دوطرفہ تعلقات کے فروغ پر زور دیا اور مربوط اقدامات اٹھانے پر بھی اتفاق کیا ۔

    جرمن سفیر کا کہنا تھا کہ ای پارلیمنٹ کے قیام کے لئے جرمن حکومت نہ صرف ٹیکنیکل بلکہ مالی طور پر بھی پاکستان کی مدد کر رہی ہے۔

    ملاقات میں ایم این اے چودھری سالک حسین، سیکرٹری پنجاب اسمبلی محمد خان بھٹی، ڈی پارلیمانی امور عنایت اللہ لک اور سیکرٹری کوآرڈینیشن رائے ممتاز حسین بابر بھی شریک ہوئے۔بعدازاں جرمن سفیر نے پنجاب اسمبلی کے ایوان کا دورہ بھی کیا۔

  • بھارتی اداکارائیں بھی مسکان کے ساتھ پیش آئےواقعہ پر     خاموش نہ رہ سکیں:انتہا پسند ہندووں کےرویوں کی مذمت

    بھارتی اداکارائیں بھی مسکان کے ساتھ پیش آئےواقعہ پر خاموش نہ رہ سکیں:انتہا پسند ہندووں کےرویوں کی مذمت

    ممبئی : بھارتی اداکارائیں بھی مسکان کے ساتھ پیش آئے واقعے پر خاموش نہ رہ سکیں،اطلاعات ہیں کہ حجاب کی آڑ میں مسلمان طالبات کی حمایت میں بھارتی معروف اداکارائیں بھی میدان میں آگئی ہیں ، بھارتی میڈیا ذرائع کے مطابق اس سلسلے میں ہندو انتہاپسندوں کے جتھے کے سامنے ڈٹ کر کھڑی ہونیوالی بھارتی مسلم طالبہ کو سوشل میڈیا صارفین نے جہاں شیرنی قرار دیا وہیں طالبہ کے حق میں مختلف شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والی شخصیات بھی آواز بلند کررہی ہیں۔

    بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ اب مسلم طالبہ مسکان کے ساتھ پیش آئے واقعے پر بھارتی اداکارائیں بھی خاموش نہ رہ سکیں۔اس حوالے سے بھارت کی معروف اور چوٹی کی اداکارہ پوجا بھٹ نے ٹوئٹر پر لکھا کہ ہمیشہ کی طرح مردوں کے ایک گروپ نے عورت کو ڈرانے کی کوشش کی۔

     

    پوجا بھٹ نے اس واقعے کو انسانیت کے لیے خوفزدہ قرار دیا اور کہا کہ شالوں کو ہتھیار بنانا اپنی کمزوری کو ظلم کے ذریعے چھپانے کے مترادف ہے۔

     

    ایسے ہی بھارتی اداکارہ سوارا بھاسکر نے بھی اس واقعے کو بھارت کے لیے شرمناک قرار دیا۔

     

    واضح رہےکہ کرناٹک میں کالج آنے والی باحجاب مسلم طالبہ مسکان کو انتہا پسندوں نے ڈرایا دھمکایا لیکن طالبہ نے بھی ڈٹ کر ہراساں کرنے والوں کا مقابلہ کیا، انتہا پسندوں نے طالبہ کے سامنے جے شری رام کے نعرے لگائے جس کا جواب طالبہ نے ’اللہ اکبر‘ کے نعروں سے دیا۔

     

     

    اس سے پہلے آج اور کل مسکان کو خراج تحسین پیش کرنے کا سلسلہ جاری و ساری ہے ، یہی وجہ ہے کہ ہندو انتہاپسندوں کے جتھے کے سامنے ڈٹ کر کھڑی ہونیوالی طالبہ کو سوشل میڈیا صارفین نے شیرنی قرار دے دیا۔

    بھارتی ریاست کرناٹک میں زعفرانی رنگ کے مفلر پہنے انتہا پسندوں کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے کے بعد مسلمان طالبہ مسکان ٹوئٹر پر ٹرینڈ کررہی ہیں۔

    مسکان نامی بھارتی طالبہ ٹوئٹر پر ہیش ٹیگ مسکان اور ہیش ٹیگ اللہ اکبر سے ٹرینڈ کررہی ہیں جس میں مختلف ٹوئٹس کے ذریعے سوشل میڈیا صارفین مسکان کے حق میں اور مسلم مخالف واقعات پر آواز بلند کررہے ہیں۔

    جہاں مسکان کو سوشل میڈیا صارفین شاندار خراج تحسین پیش کررہے ہیں وہیں پاکستان کی سیاسی شخصیات اور وزرا نے بھی ان کی دلیری کو سراہا۔

     

    وزیر مملکت زرتاج گل نے بھی ایک ایڈیٹ شدہ تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ یہی وہ صورتحال ہے جس سے متعلق وزیراعظم عمران خان نے مغرب کو خبردار کیا تھا۔زرتاج گل نے اپنی ٹوئٹ میں بھارت کو اقلیتوں اور خواتین کے لیے انتہائی خطرناک ملک بھی قرار دیا۔

     

    https://twitter.com/AliHassan__92/status/1491231738118684675?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E1491231738118684675%7Ctwgr%5E%7Ctwcon%5Es1_&ref_url=https%3A%2F%2Furdu.geo.tv%2Flatest%2F277069-

    علی حسن نامی صارف نے مسکان کی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ 100 کے مقابلے میں ایک شیرنی، آپ کسی ہیرو سے بڑھ کر ہو۔

     

    https://twitter.com/SufianAyub3/status/1491265958568394755?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E1491265958568394755%7Ctwgr%5E%7Ctwcon%5Es1_&ref_url=https%3A%2F%2Furdu.geo.tv%2Flatest%2F277069-

    ایک صارف نے مسکان اور باحجاب خواتین کے حق میں آواز بلند کرتے ہوئے لکھا کہ حجاب صرف ہماری مذہبی شناخت نہیں ہے بلکہ ہمارا وقار ہے ، یہ اللہ رب العزت کا حکم ہے ۔

     

    حلیمہ نامی صارف نے مسکان سمیت فلسطین سے باہمت خواتین کی تصاویر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ہماری خواتین ہی تمہارے لیے کافی ہیں۔

     

    ایک صارف نے مسکان کی تصویر شیئر کی اور ٹوئٹ کی کہ وہ آئی ، دیکھا اور فتح کرلیا ۔

     

    وفاقی وزیر اسد عمر نے بھی اپنی ٹوئٹ میں مسکان کی بہادری کو سراہتے ہوئے سلام پیش کیا۔

     

     

    بھارتی ڈراموں کے مشہور اداکار علی گونی جو بگ باس کا حصہ بھی رہ چکے ہیں، انہوں نے بھی مسلم طالبہ کی انتہاپسند ہندوؤں کے سامنے نعرہ تکبیر بلند کرنے کی ویڈیو اپنی انسٹا اسٹوری پر شیئر کرتے ہوئے طالبہ کو ’’شیرنی‘‘ قرار دیا۔ دوسری طرف اداکارہ سوارہ بھاسکر نے بھی طالبہ کی ویڈیو کو ٹوئٹ کراتے ہوئے بھارت کی صارتحال کو شرمناک قرار دیا۔

  • بلاول بھٹو نےحکومت کے خلاف اعلان جنگ کردیا

    بلاول بھٹو نےحکومت کے خلاف اعلان جنگ کردیا

    ملتان :بلاول بھٹو نےحکومت کے خلاف اعلان جنگ کردیا ،اطلاعات کے مطابق بلاول بھٹو زرداری نے ملتان میں خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ کٹھ پتلی حکومت کے خلاف اب پی پی اعلان جنگ کرتی ہے اور اس حکومت کو ختم کرنےکےلیے ہر ممکن کوشش کی جائے گی

    پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ کٹھ پتلی حکومت کے خلاف ہم نے اب اعلان جنگ کردیا ہے۔

     

    ملتان میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ اسلام ہمارا دین اور جمہوریت ہماری سیاست ہے، امید ہے کہ ہمارا نظیریہ ملتان کے ہر گھر تک پہنچے گا۔بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ہم نے یہ فیصلہ کرلیا ہے کہ ہمارا عوامی مارچ 27 فروری کو کراچی سے نکلے گا۔

    چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ اس کٹھ پتلی حکومت کے خلاف ہم نے اب اعلان جنگ کردیا ہے، پہلے دن سے اس نالائق کٹھ پتلی حکومت کا مقابلہ کررہے ہیں، پہلے دن سے سلیکٹڈ سے پکار کر انکو ایکسپوز کردیا تھا، سینیٹ کے الیکشن میں ہم نے خالی میدان نہیں چھوڑا۔

    انہوں نے کہا کہ جب یہ لوگ آئی ایم ایف کا بل پاس کرا رہے تھے ہم نے ان کو وارننگ دی تھی، یہ معاہدہ عوام دشمن معاہدہ ہے، حکومت کو ہر الیکشن میں شکست کا سامنا کرنا پڑے گا۔

  • دہشت گردوں اور ان کے ساتھیوں کی تمام باقیات کو ختم کر دینگے: آرمی چیف

    دہشت گردوں اور ان کے ساتھیوں کی تمام باقیات کو ختم کر دینگے: آرمی چیف

    راولپنڈی:آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ پاک فوج دہشت گردوں، ان کے معاونین اور ساتھیوں کی تمام باقیات کو ختم کر دیں گے۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) میجر جنرل بابر افتخار کی طرف سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر جاری کردہ بیان کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی زیر صدارت جنرل ہیڈ کوارٹرز میں کور کمانڈر کانفرنس ہوئی۔

    ترجمان پاک فوج کے مطابق کور کمانڈرز کانفرنس کے دوران ملک کی سکیورٹی صورتحال بالخصوص بلوچستان میں حالیہ واقعات پر جامع بریفنگ دی گئی۔ شرکاء کو پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی مخالفانہ کوششوں کا مقابلہ کرنے کے لیے کیے جانے والے اقدامات سے بھی آگاہ کیا گیا۔

     

     

    میجر جنرل بابر افتخار نے بتایا کہ فورم نے ان شہداء کو خراج تحسین پیش کیا جنہوں نے بلوچستان میں حالیہ دہشت گردی کے حملوں کو بہادری سے ناکام بناتے ہوئے ملک کے دفاع کے لیے لازوال قربانیاں دیں اور دہشتگردوں کو بھاری جانی و مالی نقصان پہنچایا۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق کور کمانڈرز کانفرنس کے دوران آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے فارمیشنز کی آپریشنل تیاریوں پر اطمینان کا اظہار کیا۔

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا تھا کہ ہم نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ایک طویل سفر طے کیا ہے۔ مسلح افواج نے قوم کی حمایت سے ہر رنگ و نسل کے دہشت گردوں کے خلاف کامیاب آپریشن کیا ہے۔

    سپہ سالار نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ دہشتگردوں کے دوبارہ منظم ہونے کی کوششوں کو کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔ ہم دہشت گردوں، ان کے معاونین اور ساتھیوں کی تمام باقیات کو ختم کر دیں گے۔

    جنرل قمر جاوید باجوہ تمام فارمیشنوں کو ہدایت کی کہ وہ بنیادی فوجی تربیت کے اعلیٰ معیارات کو برقرار رکھنے پر توجہ مرکوز کریں تاکہ روایتی کارروائیوں کے موثر نفاذ کو یقینی بنایا جا سکے۔

  • جنسی زیادتی کیس : میشا شفیع عدالت کے ساتھ زیادتی کرگئی:عدالت کی طرف سے قابل ضمانت وارنٹ جاری

    جنسی زیادتی کیس : میشا شفیع عدالت کے ساتھ زیادتی کرگئی:عدالت کی طرف سے قابل ضمانت وارنٹ جاری

    لاہور:جنسی زیادتی کیس : میشا شفیع عدالت کے ساتھ زیادتی کرگئی:عدالت کی طرف سے قابل ضمانت وارنٹ جاری،اطلاعات کے مطابق علی ظفر کے خلاف سوشل میڈیا پر جنسی ہراسانی کی مہم چلانے کا کیس میں جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت نے میشا شفیع کے قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردیے۔

    لاہور کی سیشن عدالت میں میشا شفیع ہتک عزت دعویٰ پر سماعت ہوئی، جوڈیشل مجسٹریٹ غلام مرتضیٰ ورک نے کیس پر سماعت کی، عدالت کے روبرو پیش نہ ہونے پر میشا شفیع کے قابل ضمانت وارنٹ جاری کیے گئے۔ اس حوالے سے ذرائع کا کہنا ہے کہ ضلعی کچہری کی جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت نے گلوکارہ میشا شفیع کے قابل ضمانت وارنٹ جاری کردیئے۔

    عدالت نے گلوکارہ میشا شفیع کو 50ہزار روپے کے مچلکے جمع کرانے کا حکم دیا ہے، عدالت نے میشا شفیع کی حاضری معافی کی درخواست مسترد کر دی۔ذرائع کے مطابق میشا شفیع کینیڈا میں ہونے کے باعث عدالت پیش نہیں ہوئیں بعد ازاں عدالت نے مقدمے کی سماعت 19 فروری تک ملتوی کردی۔

    عدالت نے آئندہ سماعت پر علی ظفر کے وکیل کو دلاٸل دینے کا حکم دے دیا، مقدمے میں نامزد ملزمہ عفت عمر، فیضان رضا، حسیم الزمان، فریحہ ایوب، علی گل اور لینا غنی نے پیش ہو کر حاضری مکمل کروائی۔

    ایف آئی اے نے علی ظفر کی مدعیت میں میشا شفیع سمیت آٹھ ملزمان کے خلاف چالان پیش کررکھا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ میشا شفیع سمیت دیگر ملزمان نے علی ظفر کے خلاف سوشل میڈیا پر مہم چلائی مگر ملزمان اپنے الزامات کے ٹھوس شواہد پیش نہیں کرسکے۔

  • آصف زرداری کی طبعیت اچانک ناساز: ملنا جُلنا چھوڑدیا :     ملاقاتیں بھی منسوخ

    آصف زرداری کی طبعیت اچانک ناساز: ملنا جُلنا چھوڑدیا : ملاقاتیں بھی منسوخ

    لاہور:آصف زرداری کی طبعیت اچانک ناساز:ملنا جُلنا چھوڑدیا:ملاقاتیں بھی منسوخ،اطلاعات کے مطابق پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرداری کی طبیعت ناساز ہوگئی ہے۔اور یہ بھی کہا جارہا ہے کہ آصف علی زرداری سے ملنے والوں کوروک دیا گیا ہے اور دوسری طرف سیاسی ملاقاتیں بھی منسوخ کردی گئی ہیں

    ذرائع کے مطابق حکومت کے خلاف عدم اعتماد کی راہ ہموار کرنے کا مشن لئے مختلف سیاسی جماعتوں سے ملاقات کرنے والے سابق صدر آصف زرداری کی طبیعت ناساز ہوگئی ہے۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ طبیعت ناسازی کے باعث ذاتی معالج نے ان کا تفصیلی معائنہ کیا اور انہیں مکمل آرام کا مشورہ دیا ہے، جس پر پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین نے اپنی تمام سیاسی مصروفیات ترک کردیں ہیں۔

    یاد رہے کہ وزیراعظم عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لانے کے لئے آصف زرداری چند روز قبل سرگرم ہوئے تھے اور انہوں نے اپنا پڑاؤ پنجاب میں ڈالا ہوا تھا۔سات فروری کو آصف زرداری نے مسلم لیگ (ق) کی اعلیٰ قیادت سے ملاقات کی تھی، آصف زرداری کی چوہدری برادران سے ملاقات دو گھنٹے جاری رہی اور ملاقات کے دو دور ہوئے۔

    اس ملاقات میں دونوں جانب سے پرانی یادیں تازہ کی گئیں جب دونوں اتحادی تھے، سابق صدر زرداری نے کہا کہ ہم جب اتحادی تھے تو پرویز الٰہی ڈپٹی وزیراعظم تھے اور ہم نے وہ وقت بڑا اچھا گزارا۔اس موقع پر پرویز الٰہی نے کہا کہ ہمیں یادہےکہ آپ کے22اورہمارے17وزیرتھے، آپ بڑےدل والےہیں۔

    پانچ فروری کو آصف زرداری نے مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف کی جانب سے دئیے گئے عشائیہ میں شرکت کی تھی، جو کہ بعد ازاں سیاسی میٹنگ میں تبدیل ہوا۔اس موقع پر آصف زرداری نے کہا کہ سینیٹ، قومی اسمبلی، پنجاب اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد لائی جائے، عمران خان کو گھر بھیجنے کا بہترین راستہ ہے کہ تحریک عدم اعتماد لائی جائے۔جس پر شہباز شریف نے کہا کہ ہمیں مشاورت کے لیے وقت دیں آپ کی تجویز قابل عمل ہے، تسلیم کرتا ہوں تحریک عدم اعتماد پر ن لیگ آپس میں متحد نہیں تھی۔

  • "چوری دےکپڑےتےڈانگاں دے گز”قوم کےخون پسینے          کی کمائی:کرکٹ بورڈ میں لوٹ مارسُن کرغریب حواس باختہ

    "چوری دےکپڑےتےڈانگاں دے گز”قوم کےخون پسینے کی کمائی:کرکٹ بورڈ میں لوٹ مارسُن کرغریب حواس باختہ

    کراچی:”چوری دے کپڑے تےڈانگاں دے گز”قوم کے خون پسینے کی کمائی:کرکٹ کے میدان سے تہلکہ خیزرپورٹ آگئی ،اطلاعات کے مطابق پچھلے چند گھنٹوں سے میڈیا پر کچھ ایسی خبریں بھی آرہی ہیں جن کو دیکھ کر قوم پریشان ہے کہ کس طرح ایک ایک فرد پر سالانہ کروڑوں روپے بہائے جارہے ہیں‌، یہ خبران حلقوں کے لیے تو شاید پریشانی کا باعث نہ ہوجو اس بٹوارے میں شامل ہیں لیکن غریب عوام جو اپنے خون پسینے کی کمائی سے ٹیکس پر ٹیکس ادا کررہےہیں ان افسران کی تنخواہیں اور مراعات دیکھ کر حواس باختہ ہوگئے ہیں

    اس حوالے سے منطرعام پرآنے والے تازہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پی سی بی کے سی او او کی ’’ترقیاں‘‘ آڈٹ میں نمایاں ہو گئیں جب کہ فروری 2019 میں سینئر جنرل منیجر لیگل سے چیف آپریٹنگ آفیسر بننے پر تنخواہ میں یکمشت8 لاکھ 25 ہزار روپے کا اضافہ ہوا۔یہ حقائق اور اعدادوشمار یہ بتا رہے ہیں کہ قومی دولت کے کس طرح بٹیارے کیئے گئے ،ایک شخص کو راتوں رات اس قدر نوازنے کا آخرراز کیا ہے ،

     

     

    قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے بین الصوبائی رابطہ میں پیش کردہ آڈٹ رپورٹ میں بتایا گیا کہ 5 ستمبر 2011 کو سلمان نصیر کا بطور منیجر لیگل بغیر کوئی اشتہار جاری کیے ابتدائی طور پر90 ہزار روپے ماہانہ تنخواہ پر کنٹریکٹ ملازم کی حیثیت سے تقرر ہوا،اس کے بعد مختصر وقت کے لیے ان کی دیگر حیثیتوں میں تقرری/ ترقی ہوتی رہی۔پی سی بی ذرائع کا ہی کہنا ہے کہ یہ ترقیاں غیرقانونی تھیں جن کے لیے نہ تو کوئی قواعد وضوابط طئے تھے اور نہ اس کی پی سی بی کے آئین میں گنجائش ہے

    15 جولائی 2012 تک وہ منیجر لیگل ہی رہے،16 جولائی 2012 سے4 نومبر 2013 تک 16 ماہ تک منیجر لیگل آنری رہے، تنخواہ30 ہزارماہانہ کے اضافے سے ایک لاکھ 20 ہزار روپے ہو گئی، 5 نومبر 2013 سے3 مارچ 2015 تک80ہزار تنخواہ بڑھنے سے وہ بطور منیجر لیگل16 ماہ تک2 لاکھ ماہانہ وصول کرتے رہے، پھر ان کے عہدے میں سینئر اور چیک پر35 ہزار ماہانہ کا اضافہ ہوا۔
    سینئر منیجر لیگل کی حیثیت سے سلمان نصیر نے 4 مارچ 2015 سے7 مارچ 2016 کے درمیان 12 ماہ تک ماہانہ 2 لاکھ 35 ہزار روپے لیے،پھر تنخواہ تو 15 ہزار بڑھی لیکن وہ جنرل منیجر لیگل بن گئے،8 مارچ 2016 سے یکم جولائی 2018 تک28ماہ تک انھیں ہر ماہ ڈھائی لاکھ روپے دیے جاتے رہے،پھر عہدے میں سینئر اور تنخواہ میں 25 ہزار کا اضافہ ہوا، بطور سینئر جنرل منیجر وہ یکم جولائی 2018 سے 11 فروری 2019 تک 7 ماہ تک 2 لاکھ 75 ہزارروپے ماہانہ پاتے رہے۔

    اس کے بعد سلمان نصیر کی قسمت نے پلٹا کھایا اور انھیں 12 فروری 2019 کو چیف آپریٹنگ آفیسر بنا دیا گیا، تنخواہ میں یکمشت8 لاکھ 25 ہزار روپے کا اضافہ ہوا اور وہ 2 لاکھ 75 ہزار سے 11 لاکھ روپے ماہانہ ہو گئی۔

    آڈٹ رپورٹ کے مطابق اپنے دور ملازمت میں سلمان30 جولائی 2021 تک3 کروڑ 64 لاکھ 65 ہزارروپے وصول کر چکے ہیں،دلچسپ بات یہ ہے کہ اب تو ان کی تنخواہ مزید اضافے سے 12 لاکھ 45 ہزار روپے ماہانہ ہو چکی۔

    رپورٹ کے مطابق انھیں ملازمت پررکھنے سے قبل اخبار میں کوئی اشتہار دیا گیا نہ ہی کم از کم تعلیمی قابلیت، تجربے اور عمر کا خیال رکھا گیا،سلمان نصیر کو مختصر وقت میں بغیر کسی توجہیہ پیش کیے ہائیر اسکیل کی پوسٹس پر تعینات کیا جاتا رہا۔

    آڈٹ رپورٹ میں لکھا گیاکہ بغیر اشتہار سلمان نصیر کی بطور منیجر لیگل تقرری، معاہدے کے دور میں بار بار پروموشنز،ایک سال میں اعلیٰ عہدے پرتقرر بے قاعدہ،غیرمجاذ اور پی سی بی قوانین کی خلاف ورزی ہے، بغیر کوئی اشتہار دیے ان کی بطور چیف آپریٹنگ آفیسر تعیناتی بھی خلاف ضابطہ ہے۔

    12 جنوری 2021 کو منعقدہ اجلاس میں ڈپارٹمنٹل اکاؤنٹس کمیٹی (ڈے اے سی) نے مینجمنٹ کو معاملے کی تحقیقات،ذمہ داری کے تعین اور رپورٹ آڈٹ کے ساتھ شئیر کرنے کا بھی کہا تھا۔

    دوسری طرف یہ خطرناک اور تہلکہ خیز انکشافات سامنے آنے پر عوام الناس میں شدید غم وغصہ پایا جارہاہے ، عوام الناس کا کہنا ہے کہ وہ اپنے بیوی بچوں کا پیٹ کاٹ کرٹیکس دے رہے ہیں اور کرکٹ بورڈ اس قدر عیاش ہےکہ بورڈ کےسب افراد ملکر قومی دولت کے بٹوارے کررہےہیں جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس ملک کے غریبوں پرشاید لکھ دیاگیا ہے کہ وہ دن رات محنت کریں اور ان کی کمائی پرکرکٹ بورڈ عیاشی کرے

  • مسکان نے دنیا کو دو قومی نظریہ سمجھا دیا ہے، ڈاکٹر محمد اشرف آصف جلالی

    مسکان نے دنیا کو دو قومی نظریہ سمجھا دیا ہے، ڈاکٹر محمد اشرف آصف جلالی

    مسکان نے دنیا کو دو قومی نظریہ سمجھا دیا ہے، ڈاکٹر محمد اشرف آصف جلالی
    تحریک لبیک یارسول اللہ صلی اللہ علیک وسلم کے سربراہ ڈاکٹر محمد اشرف آصف جلالی نے بھارتی ریاست کرناٹک میں انتہاء پسند ہندوؤں کی طرف سے مسلم طالبات کے خلاف شرانگیزیوں پر ردِّ عمل کا اظہا رکرتے ہوئے کہا: ”جے شری رام“ کے نعرے کے مقابلے میں ”اللہ اکبر“ کی صدا بلند کر کے مسکان نے دنیا کو دو قومی نظریہ سمجھا دیا ہے۔

    بھارت کی نڈر مسلم طالبہ مسکان نے ہندو توا کے دانت کھٹے کر دئیے ہیں۔ مسلم طالبہ مسکان نے واضح کر دیا ہے کہ یہ دور ”جے شری رام“ کا نہیں، ”غلبہئ اسلام“ کا ہے۔ دو قومی نظریے کی دلیلیں مانگنے والوں کو ہندو توا کے غنڈوں کے درمیان گھری بھارتی مسلم طالبہ کے جذبات کو دیکھنا چاہیے۔ پاکستان میں حجاب کے خلاف ہرزہ سرائی کرنے والے لبرلز کے لیے یہ عبرت کی مثال ہے۔ مملکت خدا داد پاکستان میں آزاد رہتے ہوئے حجاب پر تنقید کرنے والی بعض مغرب نواز عورتوں کو اس واقعہ سے سبق حاصل کرنا چاہیے۔نڈر بھارتی طالبہ نے غیرت مند لہجے میں ”اللہ اکبر“ کہہ کر واضح کر دیا ہے کہ اسلام دبانے سے دبتا نہیں ہے، بلکہ مزید ابھر کے سامنے آتا ہے۔ بھارت میں اسلام اور حجاب کے خلاف کاروائیاں ناقابلِ برداشت ہیں۔ باحجاب طالبات کو سکولوں میں داخلے سے روکنا بھارتی دہشت گردی اور بھارت کے سیکولر سٹیٹ ہونے کے دعوے کی نفی ہے۔ آج چودہ صدیاں بعد بھی دنیا نے دیکھ لیا کہ اسلام کی بیٹی عفت اور حمیت کا حوالہ ہوتی ہے۔ اس واقعے پر مسلم حکمرانوں اور انسانی حقوق کے دعویداروں کی خاموشی بہت بڑا اَلمیہ ہے۔

    قبل ازیں ہندوستان میں مسلمان طالبات پر حجاب کی آڑ میں تعلیم کے دروازے بند کرنے کی مکار ہندو کی سازشوں کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ ہندوستان میں حجاب کے نام پر بچیوں کو تعلیم سے محروم کیا جا رہا ہے، انسانی حقوق کی تنظیمیں اس واقعے پر خاموش نہ رہیں، ہندوستان میں زیر تعلیم ان بچیوں کے لیے آواز اٹھائیں۔

    وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ ہماری تشویش اب مقبوضہ جموں و کشمیر تک محدود نہیں رہی، کشمیر میں مظالم کی جانب دنیا کی توجہ مبذول کرواتے آرہے ہیں۔

    وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم کہہ چکے ہیں اسلامو فوبیا کے بڑھتے رجحان پر تشویش ہے، پاکستان نے اسلامو فوبیا کے بڑھتے رجحان کے خلاف آواز بلند کی، ہمارےخدشات آج حقیقت کا روپ دھار رہے ہیں، کرناٹک کا واقعہ اس کا واضح ثبوت ہے۔وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے عالمی برادی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان میں حجاب کے نام پر بچیوں کو تعلیم سے محروم کیا جا رہا ہے، ہندوستان میں اقلیتوں کے ساتھ مسلسل ناروا سلوک برتا جا رہا ہے، ہندوستان خود کو جمہوریت کا علمبردار کہلواتا ہے، کرناٹک میں جو ہوا مسلمانوں کو جھنجھوڑنے کے لیے کافی ہے۔

    وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ مسلمان دب کر خاموش بھی رہے تو ظلم کا سلسلہ بند نہیں ہوگا، انہیں اپنے بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے کھڑا ہونا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ میں کرناٹک میں پیش آنے والے واقعے کی شدید مذمت کرتا ہوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی توجہ اس واقعے کی طرف مبذول کروانا چاہتا ہوں، آج خاموش مت رہیئے، ہندوستان میں زیر تعلیم ان بچیوں کے لیے آواز اٹھائیں۔

    وزیر خٓرجہ کا مزید کہنا تھا کہ او آئی سی وزرائے خارجہ کونسل کا 48 واں اجلاس منعقد ہوگا جس میں فلسطین، کشمیر اور اسلامو فوبیا سمیت مسلم امہ کو درپیش چیلنجز زیر بحث آئیں گے

    بھارت: وزیر تعلیم کامدھیہ پردیش میں بھی طالبات کےحجاب پر پابندی عائد کرنے کا عندیہ

    بھارت میں حجاب پرپابندی کے خلاف احتجاج ، تعلیمی ادارے3 روز کے لئے بند

     مودی یاد رکھ حجاب مسلمان خواتین کا حق ہے:با حجاب طالبات پرحملوں کی مذمت کرتے ہیں

    :بھارتی تعلیمی اداروں میں حجاب پر پابندی، ملالہ نےہندووں کی مذمت کی بجائے حمایت کردی 

    ہندو انتہا پسندوں کی باحجاب نہتی مسلمان طالبہ کو ہراساں کرنے کی کوشش، لڑکی کے اللہ اکبر کے نعرے

    بھارتی ریاست کرناٹک کے ایک اورسرکاری کالج میں باحجاب طالبات کوداخل ہونے سے روک دیا گیا۔

     بھارت میں مسلمانوں کی زندگیاں اجیرن ،طالبات پولیس کیڈٹ کے حجاب کرنے پرپابندی

    گجرات کا "قصائی” مودی دہلی میں مسلمانوں پر حملے کا ذمہ دار ،بھارت کے اندر سے آوازیں اٹھنے لگیں

    دہلی میں پولیس بھی ہندوانتہا پسندوں کی ساتھی، زخمی تڑپتے رہے، پولیس نے ایمبولینس نہ آنے دی

    دہلی جل رہا تھا ،کیجریوال سو رہا تھا، مودی سن لے،ظلم و تشدد ہمیں نہیں ہٹا سکتا، شاہین باغ سے خواتین کا اعلان

    دہلی میں ظلم کی انتہا، درندوں نے 19 سالہ نوجوان کے سر میں ڈرل مشین سے سوراخ کر دیا

    دہلی تشدد ، خاموشی پرطلبا نے کیا کیجریوال کے گھر کا گھیراؤ، پولیس تشدد ،طلبا گرفتار

    امریکا سمیت متعدد ممالک کی دہلی بارے سیکورٹی ایڈوائیزری جاری

    دہلی فسادات، 42 سالہ معذور پر بھی مسجد میں کیا گیا بہیمانہ تشدد

    دہلی فسادات کا ذمہ دار کون؟ جمعیت علماء ہند نے کی نشاندہی

    دہلی فسادات اور 2002 کے گجرات فسادات میں گہری مماثلت،ہندوؤں کی دکانیں ،گھر کیوں محفوظ رہے؟ سوال اٹھ گئے

    دہلی فسادات، کوریج کرنیوالے صحافیوں کی شناخت کیلیے اتروائی گئی انکی پینٹ

    دہلی، اجیت دوول کا دورہ مسلمانوں کو مہنگا پڑا، ایک اور نوجوان کو مار دیا گیا

    دہلی فسادات میں امت شاہ کی پرائیویٹ آرمی ملوث،یہ ہندوآبادی پر دھبہ ہیں، سوشل ایکٹوسٹ جاسمین

    دہلی فسادات،مسلمان جی رہے ہیں خوف کے سائے میں، مذہبی شناخت چھپانے پر مجبور،خواتین نے حجاب اتار دیا

    حجاب کیوں پہنا؟ طالبات کو سرکاری سکول میں داخل ہونے سے روک دیا گیا

    گھونگھٹ ، جینز یا حجاب یہ فیصلہ کرنا خواتین کا حق ہے،مسکان کو خراج تحسین

  • ہائی کورٹ نےشریف فمیلی کی جُرم تفصیلات جاری نہ      کرنےکی درخواست مستردکردی:شریف فیملی پریشان

    ہائی کورٹ نےشریف فمیلی کی جُرم تفصیلات جاری نہ کرنےکی درخواست مستردکردی:شریف فیملی پریشان

    لندن: ہائی کورٹ نےشریف فمیلی کی جُرم کی تفصیلات جاری نہ کرنےکی درخواست مسترد کردی:شریف فیملی کوسخت پریشانی ،اطلاعات کے مطابق شہباز شریف خاندان کا مبینہ منی لانڈرنگ کیس میں دستاویز روکنے سے متعلق ایک اور حربہ ناکام ہوگیا ہے۔برطانوی ہائی کورٹ کے فیصلے نے شریف خاندان کی تمام چالوں کو تہس نہس کرکے رکھ دیا ہے

    ذرائع کے مطابق شہباز شریف خاندان کی مبینہ منی لانڈرنگ کیس کی دستاویز روکنے کی ایک اور کوشش ناکام ہوگئی ہے، برطانوی عدالتی حکم پر نیشنل کرائم ایجنسی نے شہباز شریف کی دستاویز ریلیز کردیں ہیں۔جن کی تفصیلات جلد منظرعام پرآسکتی ہیں ، اس حوالے سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ شریف فمیلی نیشنل کرائم ایجسنی سے بارگیننگ کرنے کی کوشش بھی کررہا ہے

    برطانوی ہائیکورٹ نے سلیمان شہباز کی دستاویز جاری نہ کرنے کی اپیل خارج کردی ہے، عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ شہباز شریف مبینہ منی لانڈرنگ کیس کی دستاویز اے آر (یوکے) کے حوالے کی جائیں۔

    اس سے قبل عدالت نے این سی اے کو کیس کی دستاویز8 فروری تک جاری کرنے کاحکم دیا تھا تاہم شہباز شریف خاندان کی جانب سے دستاویزات کو روکنے کے خلاف اپیل کی گئی تھی جواب مسترد ہوگئی ہے۔برطانوی عدالت نےآج کیس سے متعلق دستاویزات جاری کرنے کا حکم برقرار رکھا۔

    واضح رہے کہ ویسٹ منسٹر مجسٹریٹ نے10جنوری 2022 کو اے آر یو کی درخواست پر حکم جاری کیا تھا۔

    گذشتہ سال ستمبر میں بھی برطانوی عدالت کے آرڈر کی کاپی نے شہبازشریف کی بریت سےمتعلق مسلم لیگ ن کا دعویٰ غلط ثابت کیا تھا، آرڈر میں شہبازشریف کانام اور بریت کاکوئی ذکر نہیں تھا۔

    یاد رہے کہ اس کیس پر قانونی رائے دیتے ہوئے وزیراعظم کے سابق مشیر احتساب شہزاد اکبر نے کہا تھا کہ ایک چینل نے شہباز شریف اور بیٹے سلیمان کی بریت کی خبریں چلائیں، ایسی خبریں چلانا فیک نیوز کے زمرےمیں آتاہے۔

  • مودی کا میڈیا پرسخت شکنجہ

    مودی کا میڈیا پرسخت شکنجہ

    نئی دہلی :سب سے پہلےہندوستان:مودی نے میڈیا پرشکنجہ کس دیا:اب کون کرے گا مودی کی مذمت:شریف برادران یا قوم کا ہمدرد میڈیا ،مصدقہ اطلاعات ہیں کہ بھارتی میڈیا کے مطابق مودی حکومت نے صحافیوں کی ایکریڈیٹیشن کے حوالے سے ایک نئی اور سخت پالیسی بنائی ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ اگر کسی صحافی کا رویہ بھارت کی خود مختاری اور سالمیت کے منافی ہو یا اس کی تحریروں سے سکیورٹی، دیگر ملکوں کے ساتھ دوستانہ تعلقات، امن عامہ، اخلاقیات یا شائستگی کو نقصان پہنچتا ہو، یا وہ توہین عدالت، کسی کی توہین یا جرم کو بھڑکانے کا سبب بنتی ہوں، توایسے صحافی ایکریڈیٹیشن سے محروم کر دیا جائے گا ۔

    حکومت نے دس ایسے نکات بتائے ہیں، جن کی بنیاد پر صحافیوں کی ایکریڈیٹیشن معطل کی جاسکتی ہے۔ ان میں کسی صحافی پر ”سنگین قابل سزا جرم” کا الزام عائد کیا جانا بھی شامل ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ صحافیوں کے لیے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس یا وزیٹنگ کارڈز وغیرہ پر ‘بھارتی حکومت سے تسلیم شدہ’ لکھنا بھی ممنوع ہو گا۔ ماضی میں کسی صحافی کی ایکریڈیٹیشن کے وقت ایسی کوئی شرط عائد نہیں کی جاتی تھی۔

    نئی شرائط کا مقصد صحافیوں پر کنٹرول

    ایکریڈیٹڈ صحافیوں کو وفاقی حکومت کے تقریباً تمام سرکاری محکموں اور دفاتر تک آسانی سے رسائی حاصل ہو جاتی ہے۔ اس کارڈ کی بدولت انہیں اپنی پیشہ وارانہ ذمہ داریاں ادا کرنے میں بھی آسانی ہوتی ہے۔ بھارتی صدر اور وزیر اعظم کے بعض پروگرامو ں میں شرکت کے لیے بھی یہ ‘پریس کارڈ’ ضروری ہوتا ہے۔ اسے عرف عام میں ‘پی آئی بی کارڈ’ کہا جاتا ہے۔

    صحافیوں کی تنظیموں نے پی آئی بی کارڈ کے لیے نئے ضابطوں کے اعلان پر سخت تنقید کی ہے اور حکومتی طریقہ کار پر سوالات اٹھائے ہیں۔ ایڈیٹرز گلڈ آف انڈیا کے سیکرٹری سنجے کپور نے کہاکہ یہ ایک غیر معمولی فیصلہ ہے اور حکومت نے یہ فیصلہ کرنے سے قبل صحافیوں کی کسی تنظیم سے کوئی مشورہ نہیں کیا۔

    ایڈیٹرز گلڈ آف انڈیا کے سیکرٹری سنجے کپور اور بھارتی صحافی اور پریس کلب آف انڈیا کے صدر اوما کانت لکھیڑا بھی سنجے کپور کی رائے سے اتفاق کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ دراصل حکومتی پالیسیوں سے اختلاف کرنے والے صحافیوں کو الگ تھلگ کر دینے کی کوشش ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اب کون مودی کی ان حرکتوں پر مودی کی مذمت کرے گا صحافیوں کے پیشے کا امتحان ہے

    بھارتی پریس قوانین کے مطابق کسی صحافی کو پی آئی بی کارڈ جاری کرنے سے قبل ایک کمیٹی اس کے جملہ کوائف کا جائزہ لیتی ہے، اس کے بعد پولیس کی خفیہ شاخ اس صحافی سے متعلق رپورٹ دیتی ہے اور کئی مراحل کی تکمیل کے بعد ہی یہ کارڈ جاری کیا جاتا ہے۔ صحافیوں کی تنظیموں نے اس پر بھی اعتراض کیا ہے کہ جو نئی کمیٹی بنائی گئی ہے، اس میں سرکاری عہدیداروں کی تعداد غیر ضروری حد تک بڑھا دی گئی ہے۔

    پی آئی بی ایکریڈیٹڈ صحافیوں کی تنظیم پریس ایسوسی ایشن آف انڈیا کے صدر سی کے نائیک نے ڈی ڈبلیو اردو کو بتایا کہ پہلے کمیٹی میں زیادہ سے زیادہ 12سرکاری عہدیدار ہوا کرتے تھے، لیکن اب ان کی تعداد بڑھا کر 18 کر دی گئی ہے جب کہ میڈیا اداروں سے وابستہ ارکان کی تعداد 12سے گھٹا کر چھ کر دی گئی ہے۔

    پریس کلب آف انڈیا کے صدر اوما کانت کا کہنا تھا کہ میڈیا اداروں کے نمائندے اب اقلیت میں ہو گئے ہیں اور چونکہ ایکریڈیٹیشن کا کوئی بھی فیصلہ اکثریتی رائے سے ہوتا ہے، اس لیے اب حکومت اپنی من مانی کر سکتی ہے۔

    سنجے کپور کہتے ہیں کہ یہ واضح طور پر پریس کی آزادی پر حملہ ہے، ”یوں بھی اس وقت بھارت میں پریس کی آزادی کا کوئی مطلب ہی نہیں ہے۔ حکومت نے پریس کی آزادی کے حوالے سے اپنے بیانیے گڑھ لیے ہیں۔ اب حکومت ہی طے کرتی ہے کہ پریس فریڈم کیا ہے؟ اس کا پریس کی آزادی کے حوالے سے مسلمہ عالمی اصولوں سے کوئی لینا دینا نہیں۔”

    رپورٹرز وِدآوٹ بارڈرز کے سالانہ پریس فریڈم انڈکس کے مطابق بھارت پریس کی آزادی کی رینکنگ کے لحاظ سے نیپال، سری لنکا اور میانمار (فوجی انقلاب سے قبل) سے بھی نیچے اور پاکستان (145ویں مقام پر) سے کچھ ہی آگے ہے۔ بھارت گزشتہ برس دو درجے مزید نیچے گر کر180ملکوں کی فہرست میں 142ویں پوزیشن پر آ گیا تھا۔ اس انڈکس کے مطابق بھارت دنیا میں صحافیوں کے لیے انتہائی خطرناک مقامات میں سے ایک ہے۔

    مودی حکومت تاہم اس رپورٹ کو تسلیم نہیں کرتی۔ وزیر اطلاعات و نشریات انوراگ ٹھاکر نے اس رپورٹ کے حوالے سے پارلیمان میں ایک سوال کے جواب میں کہا کہ بھارت تمام شہریوں بشمول صحافیوں کی سلامتی اور تحفظ کو ‘انتہائی اہمیت’ دیتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس رپورٹ کی تیاری کا طریقہ کار درست نہیں اور اس میں بنیادی حقائق کا خیال نہیں رکھا گیا۔

    پی آئی بی کارڈ کیا ہے؟

    بھارت میں حکومتی پالیسیوں، پروگراموں اور معلومات کی پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا تک ترسیل کا کام اطلاعات و نشریات کی وزارت کے ماتحت ادارے پریس انفارمیشن بیورو (پی آئی بی) کے ذمے ہے۔ یہ ادارہ روزناموں، ہفت روزہ یا پندرہ روزہ میگزینز، خبر رساں اداروں، غیر ملکی نیوز اداروں، ٹی وی چینلوں، نیوز ایجنسیوں اور بھارتی ٹی وی نیوز چینلوں میں کام کرنے والے صحافیوں کو ان کے اداروں کی جسامت کی بنیاد پر پی آئی بی کارڈ یا ایکریڈیٹیشن کارڈ جاری کرتا ہے۔

    ایسے میڈیا اداروں کے علاوہ یہ کارڈ ایسے صحافیوں کو بھی جاری کیا جا سکتا ہے، جنہیں کم از کم 15برس تک صحافت کا تجربہ ہو۔ 30 برس سے زیادہ تجربہ رکھنے والے یا 65 برس سے زائد عمر کے صحافیوں کو بھی ان کی خدمات کو تسلیم کرتے ہوئے پی آئی بی کارڈ جاری کیا جاتا ہے۔

    بھارت میں اس وقت تقریباً ڈھائی ہزار صحافیوں کے پاس یہ کارڈ ہے لیکن ان میں ایک بڑی تعداد مختلف وزارتوں کے ان سرکاری اہلکاروں کی بھی ہے، جو میڈیا سے رابطوں کے شعبوں میں کام کرتے ہیں۔ صحافیوں کی تنظیموں نے پی آئی بی ایکریڈیٹیشن کے حوالے سے حکومت کی نئی پالیسی کے خلاف احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔