Baaghi TV

Author: +9251

  • بھارتی تعلیمی اداروں میں حجاب پر پابندی،ملالہ نے ہندووں کی مذمت کی بجائے حمایت کردی

    بھارتی تعلیمی اداروں میں حجاب پر پابندی،ملالہ نے ہندووں کی مذمت کی بجائے حمایت کردی

    لندن :بھارتی تعلیمی اداروں میں حجاب پر پابندی، ملالہ نےہندووں کی مذمت کی بجائے حمایت کردی ،اطلاعات کے مطابق امن کا نوبیل انعام حاصل کرنے والی پاکستانی طالبہ اور سماجی کارکن ملالہ یوسف زئی کا بھارتی ریاست کرناٹک کے تعلیمی اداروں میں حجاب پر پابندی کے معاملے پر ردعمل سامنے آگیا۔

    اپنی ٹوئٹ میں ملالہ کا کہنا تھاکہ حجاب والی لڑکیوں کو اسکول میں داخل ہونے سے روکنا خوفناک ہے۔ملالہ نے یہ تو بیان دے دیا لیکن ان انتہا پسند ہندووں کی مذمت نہیں کی جنہوں نے اس مسلمان طالنبہ کے ساتھ بدتیمزی کی، حالانکہ ان انتہا پسند ہندووں کی مذمت کا سلسلہ دنیا بھر سے جاری ہے

     

     

    ان کا کہنا تھا کہ کم یا زیادہ لباس پہننے کے معاملے میں خواتین پر اعتراضات برقرار ہیں۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ بھارتی رہنما مسلم خواتین کو مرکزی دھارے سے الگ کرنے کے عمل کوروکیں۔
    ملالہ یوسف زئی نے اسلامی تشخص کی حفاظت کی بجائے الٹا یہ مشورہ دیا ہے کہ بھارتی رہنما مسلم خواتین کو مرکزی دھارے سے الگ نہ کریں اس سے واضح معلوم ہوتا ہے کہ ملالہ بھارتی رہنماوں سے اس بات کا تقاضا کررہی ہیں کہ قومی دھارے میں رہنے کےلیے مجموعی سوچ کا اپنانا ہوگا

    یہاں ملالہ قومی دھارے سے الگ نہ رہنے کے حوالے سے یہ بھی بتانا چاہتی ہیں کہ مسلمان طالبات کو بھارت میں رہتے ہوئے قومی دھارے میں رہنے کے لیے ایسے کاموں سے دور رہنا چاہیے جس سے کوئی تفریق پیدا ہوتی ہو، سوشل میڈیا پر صارفین نے آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا ہے کہ ملالہ مسلمان طالبات سے دوبٹہ اور حجاب بھی چھیننا چاہتی ہیں

    خیال رہے کہ گزشتہ دنوں بھارتی ریاست کرناٹک میں لڑکیوں کے ایک سرکاری کالج میں 6 مسلم طالبات کو حجاب پہننے کی وجہ سے کلاس سے باہر نکال دیا گیا تھا۔یہ کیس مقامی ہائیکورٹ میں زیر سماعت ہے۔

    آج بھی کرناٹک کے کالج جانے والی باحجاب طالبہ کو انتہاپسند طلبہ کے جتھے نے ہراساں کیا۔تاہم طالبہ نے بھی ڈٹ کر ہراساں کرنے والوں کا مقابلہ کیا اور اس واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر پھیل گئی۔

    دوسری طرف جمعیت علماء ہند نے بھارتی ریاست کرناٹک کے کالج میں انتہا پسند جتھے کے سامنے ڈٹ جانیوالی طالبہ مسکان خان کیلئے انعام کا اعلان کردیا۔

    بھارتی ریاست کرناٹک میں ہندو انتہا پسندوں نے باحجاب طالبات پر زندگی تنگ کردی۔کرناٹک میں کالج جانے والی طالبہ کو انتہا پسندوں نے ڈرایا دھمکایا لیکن طالبہ نے بھی ڈٹ کر ہراساں کرنے والوں کا مقابلہ کیا۔

  • نواز شریف کے حکم پرمولانا فضل الرحمان نے پی ڈی ایم کا ہنگامی اجلاس طلب کر لیا

    نواز شریف کے حکم پرمولانا فضل الرحمان نے پی ڈی ایم کا ہنگامی اجلاس طلب کر لیا

    اسلام آباد:نواز شریف کے حکم پرمولانا فضل الرحمان نے پی ڈی ایم کا ہنگامی اجلاس طلب کر لیا،اطلاعات کے مطابق میاں نواز شریف سے ٹیلیفونک گفتگو کے بعد مولانا فضل الرحمان نے پی ڈی ایم کا ویڈیو لنک پر ہنگامی اجلاس 11 فروری کو طلب کر لیا۔

    تفصیلات کے مطابق سابق وزیر اعظم نواز شریف کا پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے، ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں رہنماؤں نے حکومت کے خلاف مؤثر پیش قدمی کے معاملے پر اتفاق کیا۔اس دوران نوازشریف نے مولانا کو پابند کیا کہ وہ جلد از جلد پی ڈی ایم کا اجلاس بلائیں‌

    ذرائع کے مطابق نواز شریف نے ٹیلی فون کر کے مولانا فضل الرحمان کو اپنی پارٹی کی ایگزیکٹو کونسل کے فیصلوں پر اعتماد میں لیا، دونوں رہنماؤں نے پی ڈی ایم کا اجلاس فوری طلب کر کے حکومت مخالف تحریک کو مزید فعال بنانے کے علاوہ پی ٹی آئی حکومت پر فیصلہ کن وار کرنے کے لیے مختلف تجاویز پر تبادلۂ خیال بھی کیا۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ نواز کی ایگزیکٹو کونسل کی جانب سے میاں نواز شریف کو حکومت مخالف تحریک کے لیے مکمل اختیار دینے کے بعد نواز شریف نے معاملے کو پی ڈی ایم کی قیادت کے سامنے رکھنے کے لیے پی ڈی ایم کے ہنگامی اجلاس بلانے کی تجویز دی، جس پہ مولانا نے 11 فروری کو ویڈیو لنک پر پی ڈی ایم کا ہنگامی اجلاس طلب کر لیا۔

    مولانا فضل الرحمان خود لاہور سے میاں شہباز شریف کے ہمراہ اجلاس کی صدرات کریں گے، اجلاس میں وزیر اعظم کے خلاف عدم اعتماد سمیت دیگر امکانات پر غور کیا جائے گا۔

    ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ مولانا فضل الرحمان 10 فروری کی رات لاہور پہنچ جائیں گے، تین روزہ دورۂ لاہور کے دوران وہ پی ڈی ایم کے اجلاس میں شرکت کے علاوہ شہباز شریف اور مریم نواز سے اہم ملاقات بھی کریں گے، شہباز شریف مولانا کو عشائیہ بھی دیں گے۔

    مولانا دورۂ لاہور کے دوران چوہدری شجاعت حسین اور پرویز الہٰی سے بھی ملیں گے، چوہدری شجاعت کی خیریت دریافت کریں گے اور موجودہ سیاسی صورت حال پر تبادلۂ بھی خیال کریں گے۔

  • فیصل آباد : شہباز گل بازار آئے تو شیر شیر گو  نیازی گو کے نعرے لگ گئے

    فیصل آباد : شہباز گل بازار آئے تو شیر شیر گو نیازی گو کے نعرے لگ گئے

    فیصل آباد : شہباز گل بازار آئے تو شیر شیر گو نیازی گو کے نعرے لگ گئے،اطلاعات کے مطابق آج وزیراعظم کے معاون خصوصی ڈاکٹرشہبازگل جب فیصل آباد تشریف لائے تو بازار سے گزرتے ہوئے چند ن لیگیوں نے شیر شیر گو نیازی گو کے نعرے لگا دیئے جسے سوشل میڈیا پر وائرل کردیا گیا

    اس حوالے سے فیصل آباد سے آنے والی اطلاعات کے مطابق آج وزیراعظم کے معاون خصوصی جب شہر میں داخل ہوئے اور ضلع کونسل پہنچنے کے لیے گزررہے تھے تو چند نونیوں نے اس موقع پر بہت بڑے جلوس کو دیکھتے ہوئے شیر شیر گو نیازی گو کے نعرے لگانے شروع کردیئے ، اس موقع پر وہاں موجود لوگ ان نعروں سے مہموز ہوتے رہے

    یاد رہے کہ آج وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے سیاسی ابلاغ وترجمان ڈاکٹر شہباز گل نے کہاکہ وزیراعظم عمران خان بدھ کو فیصل آباد کر ڈویژن بھر کے ہرگھرانے کو ہیلتھ کارڈ کی فراہمی کا آغاز کریں گے۔

    ضلع کونسل فیصل آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب میں انہوں نے کہاکہ شہبازشریف اور شریف خاندان کے دیگر افراد نے ملک مقصود چپڑاسی، جسکی تنخواہ 9ہزارروپے تھی، کے اکاؤنٹس میں 4،4ارب روپے ڈالے لیکن رقم صرف ایک آدھ دن کیلئے تھی لیکن جب اسی ملک مقصود چپڑاسی کے گھر میں بیماری آجاتی تو وہ بہو کا زیور، بھینس، مکان یادیگر اثاثے بیچ کر یا ادھار لے کر اپنا علاج کرواتا اور اس جیسے لوگوں کو دوہری پریشانی لاحق ہوتی، ایک یہ کہ اس کے گھر میں بیماری آجاتی اور دوسرا یہ کہ وہ بیماری کے علاج کیلئے اخراجات کہاں سے لائے لیکن عمران خان نے پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار ہرشہری کا ہاتھ پکڑا اور اسے 10لاکھ روپے تک سالانہ مفت علاج کی سہولت فراہم کرنے کیلئے ہیلتھ کارڈ کا اجرا کیا۔

    انہوں نے کہاکہ وزیراعظم عمران خان نے ہمیشہ کرپشن کے خلاف آواز بلند کی اور عملی اقدامات اٹھائے جبکہ ملک میں دونہیں ایک نظام پاکستان تحریک انصاف کا منشور تھا جس کے باعث جہاں ماضی میں چور ڈاکو اور سیاسی لبادے میں موجود صاحب اقتدار لوگ ملکی خزانہ لوٹتے رہے اس کے برعکس اب ملک میں کسی وزیر،مشیر یا بیوروکریٹ کو کرپشن کی جرات نہیں ہوسکتی کیونکہ انہیں پتہ ہے کہ اسلام آباد میں 6فٹ کا عمران خان نامی انتہائی ایماندار ودیانتدار وزیراعظم ڈنڈا پکڑ کر بیٹھا ہو اہے لہٰذا اگر کسی نے کرپشن کی جرات کی تو یہ ڈنڈا اس کے گٹوں پر آئے گا۔

    انہوں نے کہاکہ پہلے ملک پر 30سال تک دوٹبروں نے حکومت کی جو ملک میں اپنا علاج کروانا تو دور کی بات ، وہ ٹیسٹ کروانے کیلئے بھی امریکہ اور برطانیہ جاتے تھے جہاں سے ان کی جھوٹی سچی رپورٹیں بنتی تھیں نیز ان کی دیکھا دیکھی صف اول کے بعد صف دوم اور صف سوم میں شامل رانا ثنا اللہ اور عابد شیر علی جیسے لوگ بھی جنہوں نے اپنے آقاؤں کی دیکھا دیکھی مال بنایا وہ بھی اپنے علاج کیلئے باہر جانا شروع ہوگئے حالانکہ ان کی مشینری کا باہر علاج ہوہی نہیں سکتا۔

    انہوں نے کہاکہ ان لوگوں نے لوٹ لوٹ کر ملک میں تباہی مچا دی اور ایسا نظام بنایا کہ جس میں ٹاٹ والے سکولوں میں پڑھنے والے بچے بیکن ہاؤس کے بچوں کا مقابلہ نہ کرپاتے کیونکہ وہ کوئی اور ہی دنیا لگتی تھی لہٰذا وہ نوکری کا بھی نہیں سوچ سکتے تھے اس طرح امیر کا بچہ آگے جاتا اور غریب کا بچہ وہیں رلتارہ جاتا۔

    انہوں نے کہاکہ ہمیں مہنگائی کا بے حد احساس ہے لیکن جب عالمی منڈی میں پٹرول 40سے90ڈالر، کوکنگ آئل 900سے 1600ڈالر اور کوئلہ 50 سے150ڈالر فی ٹن تک چلاجائے تو اس سے ہرملک متاثر ہوتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ مہنگائی کی لہر سے امریکا، روس، جاپان، ترکی، چین سمیت سب ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک پریشان ہیں لیکن عمران خان نے یہاں راشن کارڈ،کسان کارڈ، لیبرسوشل سیکورٹی کارڈ،ہیلتھ کارڈ متعارف کروایا اسی طرح احساس پروگرام بھی جاری ہے جبکہ طلبا وطالبات کیلئے کروڑوں روپے کے وظائف اور نوجوانوں کیلئے اربوں روپے کے قرضے جبکہ بے گھر افراد کو گھروں کی تعمیر کیلئے بھی معاونت کی فراہمی کا سلسلہ جاری ہے۔

    انہوں نے کہاکہ وزیراعظم عمران خان بدھ کو فیصل آباد کر ڈویژن بھر کے ہرگھرانے کو ہیلتھ کارڈ کی فراہمی کا آغاز کریں گے جس کے باعث اب کوئی بچی یا کوئی شخص سسک سسک کر لاعلاج نہیں مرے گا۔ آج سے پہلے ملک میں اس انداز میں غریب کی خدمت نہیں کی گئی جس طرح اب عمران خان کے دور میں کی جارہی ہے۔

  • محبت کا ایک ایسا واقعہ جس نے میری زندگی کو روشن کر دیا۔

    محبت کا ایک ایسا واقعہ جس نے میری زندگی کو روشن کر دیا۔

    ہم ایک دوسرے کو کافی عرصے سے جانتے تھے اور اس وقت کے کافی عرصے سے ہم اچھے دوست ہیں۔ میں ائیر پورٹ پر اُس کے استقبال کے لیے تھا۔ ٹھنڈا اور پرسکون رویہ رکھنے کی کوشش کے باوجود، نیلی جینز اور ہلکے نیلے رنگ کے ٹاپ میں ملبوس اس کی پہلی جھلک نے میرا دم توڑ دیا۔ میں کبھی نہیں جانتا تھا کہ میں اس کی طرف راغب ہوں۔
    تبادلے دوستانہ تھے، زبردستی آرام دہ تھے۔ شائستہ گفتگو کے بعد جب میں نے اس کا سامان گاڑی میں لاد دیا۔ اس کے پیچھے مسافر کا دروازہ بند کرتے ہوئے میں ادھر ادھر گیا اور ڈرائیور کی سیٹ پر بیٹھ گیا۔ میرا دل توقع سے دھڑک رہا تھا۔ ٹیکسٹنگ کے دوران چھیڑ چھاڑ کرنا اور ٹھنڈا لگنا ایک چیز تھی۔ اب جب کہ واقعات حقیقی طور پر سامنے آ رہے تھے، میں گھبرا رہا تھا۔
    میرے ذہن میں لاکھوں سوال چمک رہے تھے۔ کیا یہ غلطی ہے؟ کیا اس کے بعد وہ میرے بارے میں کم سوچے گی؟ کیا میں اسے مایوس کروں گا؟ کیونکہ میں کسی بھی حالت میں اس کی دوستی کھونا نہیں چاہتا تھا۔ ہم نے پہلی بار ایک دوسرے کی طرف دیکھا، ان تمام شرارتی پیغامات کے تبادلے کے بعد، اور اس ٹرسٹ کو ترتیب دینے کے بعد۔ میرے اندر کی گہرائیوں سے، سوال ابھرا، مجھے اس کا احساس بھی نہیں ہوا۔
    "میں اب تمہیں چومنا چاہتا ہوں!” اب میں گھبرا گیا! کیا میں پاگل ہوں؟ کیا وہ ناراض ہے؟ لیکن اس کے نرم جواب نے میرے خوف کو پورا کر دیا۔
    وہ میری طرف دیکھ رہی تھی، اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ کا اشارہ تھا۔ گاڑی میں بیٹھ کر، میں جھک گیا اور ہم نے پہلی بار بوسہ لیا۔ اس وقت میں جانتا تھا، یہ ایک آرام دہ اور پرسکون جھڑپ سے زیادہ ہونے والا ہے۔ دو دوست محبت کرنے والوں میں بدل چکے تھے۔
    ہوائی اڈے سے ہوٹل تک کا سفر ایک کھیل جیسا تھا۔ جنسی تناؤ کو چھپانے کے لیے آرام دہ اور پرسکون مذاق بری طرح ناکام ہو گیا، اور پھر بھی اسے کھیل کے ساتھ برقرار رکھا گیا۔ ہوٹل میں، جلدی سے باہر آنے والے بیل بوائے کے پیچھے اپنے کمرے کا دروازہ بند کرنے کے چند ہی لمحوں میں، ہم ایک دوسرے کو بوسہ دے رہے تھے اور کپڑے اتار رہے تھے۔ یہ ایک خواب کی طرح جینا تھا۔ ہم نے زبردست سیکس کیا، ہنسا، بات کی، شراب پی، کھانا کھایا، ڈانس کیا اور بہترین دوستوں کی طرح بندھے ہوئے تھے۔
    جسمانی کیمسٹری بہت زیادہ تھی؛ ہم ایک جیگس پہیلی کے ٹکڑوں کی طرح ایک ساتھ فٹ ہوجاتے ہیں۔ اس سے بھی زیادہ خوبصورت وہ سکون اور خوشی تھی جو ہم نے ایک دوسرے کی صحبت میں محسوس کی۔ یہ ہماری پہلی ملاقات تھی، جو ہفتے کے آخر تک جاری رہی۔
    ہمارے تعلقات کی حرکیات سادہ تھیں۔ کوئی تار منسلک نہیں ہے۔ صرف باہمی احترام، مشترکہ جذبات اور ہمارے درمیان ناقابل یقین جسمانی کشش کی بنیاد پر۔ لیکن ماحولیاتی نظام پیچیدہ تھا، کیونکہ ہم شادی شدہ تھے، نہ کہ ایک دوسرے سے۔ یہ اپنی برہنہ شکل میں غیر روایتی اور خوبصورت تھی، لیکن معاشرتی اصولوں میں ملبوس ہونے کے باوجود گناہ اور زناکار تھی۔
    مجھے بالکل واضح کرنے دو: کوئی ‘بری’ شادی یا بدسلوکی یا ایسی کوئی وجہ ہمیں اکٹھا نہیں کر سکی۔ ہم دونوں کی شادی کو کافی عرصہ ہو چکا تھا، ہمارے بچے تھے اور ہماری ازدواجی زندگی معمول کے اتار چڑھاو کے ساتھ مستحکم تھی۔ ناخوش نہیں۔
    بغیر کسی رکاوٹ کے گہرے فکری مباحثوں سے دل چسپی زبانی ہنسی مذاق اور دلچسپ جوابات کی طرف بڑھتے ہوئے۔ میں کبھی کسی اور کی صحبت میں اتنا نہیں ہنسا۔ اور جادوئی جنسی…
    عجیب بات ہے، میں نے کوئی جرم محسوس نہیں کیا۔ میں اب بھی اپنے شریک حیات سے پیار کرتا تھا اور اس کی دیکھ بھال کرتا تھا اور مجھے یقین ہے کہ وہ بھی اپنے شوہر کے بارے میں ایسا ہی محسوس کرتی تھی۔ لیکن ہم دونوں ہی اچھی طرح جانتے تھے کہ یہ رشتہ ہمارے خاندانوں اور دوستوں کے لیے افراتفری اور خرابی کا باعث بن سکتا ہے، اگر یہ کھلے عام سامنے آئے۔ سیدھے الفاظ میں، ہماری زندگی صرف علیحدہ ریلوں پر ہی چل سکتی ہے۔ اگر زندگی حادثات کے بغیر آگے بڑھنی ہے تو فاصلہ ضروری تھا۔ اور اس طرح ایک مقدس قاعدہ تھا۔ ہم اسے سنجیدہ تعلقات میں تبدیل نہیں ہونے دیں گے اور نہ ہی دیں گے۔
    وقت گزرتا گیا، مزید کوششیں ہوئیں اور جب اس نے اپنا سودا ختم کیا، میں نے اس ایک اصول کو توڑ دیا۔ مجہے محبت ہو گئ ہے. مجھے نہیں ہونا چاہئے تھا، لیکن میں نے کیا اور ایسا کرتے ہوئے میں نے اپنے اتحاد کے معاہدے کی خلاف ورزی کی۔ ہم نے اس کے ارد گرد کام کرنے کی کوشش کی، لیکن یہ کام کرنے سے کہیں زیادہ آسان تھا۔ اس انتظام میں جذبات کو لانا ایک معاہدہ توڑنے والا تھا۔ مجھے جذباتی طور پر لڑکھڑاتے ہوئے محسوس کرتے ہوئے، ہماری بھلائی کے لیے، اس نے پلگ کھینچ لیا اور تمام رابطہ توڑ دیا… اور میرا دل۔
    اگرچہ استدلال کے ساتھ صلح ہو گئی، میں اب بھی متضاد ہوں۔ جو چیز بہت اچھی اور صحیح محسوس ہوتی ہے اسے برا اور غلط کیسے سمجھا جا سکتا ہے؟ کیا میری اخلاقی ریشہ اتنی کرپٹ ہے؟ کیا کسی فرد کی خوشی ہمیشہ کے لیے اخلاقیات کا شکار ہو جاتی ہے؟ کیا محبت اور پیار کے جذبات، جن کو انسانی اقدار میں سب سے پاکیزہ اور اعلیٰ ترین قرار دیا جاتا ہے، ان کو چند لوگوں کے لیے راشن دیا جائے؟ کیا کچھ کو دینے سے دوسروں کی دستیابی کم ہو جائے گی؟ میں جانتا ہوں کہ ان سوالات کے کوئی حقیقی جواب نہیں ہیں، صرف آسان تشریحات ہیں۔

  • محبت میں ناکامی کے بعد دل کے ٹوٹنے سے کیسے نمٹا جائے؟؟

    محبت میں ناکامی کے بعد دل کے ٹوٹنے سے کیسے نمٹا جائے؟؟

    اپنے پیارے کو کھونے کے بعد دل کے ٹوٹنے سے کیسے نمٹا جائے یہ سب سے زیادہ تکلیف دہ اور آزمائشی چیلنجوں میں سے ایک ہے جو زندگی ہمارے راستے پر ڈالتی ہے۔ اس کے باوجود، ٹوٹے ہوئے دل کی پرورش ایک ایسی چیز ہے جس سے ہر کوئی گزرتا ہے اور ایک ایسا واقعہ ہے جس سے ہم سب کو کسی نہ کسی وقت نمٹنا پڑتا ہے۔ شاید، یہاں تک کہ کئی بار. اس کی وجہ یہ ہے کہ لوگ کتابیں، فارمولے، ریاضی، آرٹ کے ٹکڑے یا موسیقی نہیں ہیں۔ انہیں سیکھا، سمجھا یا نیویگیٹ کیا جا سکتا ہے۔ اس کے بجائے، لوگ خیالات، جذبات اور طرز عمل کا محض ایک مجموعہ ہیں۔
    سیدھے الفاظ میں، لوگ پیچیدہ ہوتے ہیں، خاص طور پر جب بات دل کے معاملات کی ہو۔ ہم کچھ لوگوں کو دوسروں سے زیادہ پسند کرتے ہیں، انہیں بہتر طور پر جاننا چاہتے ہیں اور شدت سے ان کی توجہ چاہتے ہیں۔ ہم اپنا سارا وقت ان کے ساتھ گزارنا چاہتے ہیں اور ہو سکتا ہے کہ ان سے متاثر ہو جائیں اور پھر جلد ہی پیار ہو جائیں۔ جس طرح سے دو افراد اکٹھے ہوتے ہیں گویا کسی جادوئی قوت سے قریب ہو کر انہیں ایک جیسی طاقت سے الگ کیا جا سکتا ہے۔
    جب ایسا ہوتا ہے تو، اپنی زندگی کے ٹکڑوں کو اٹھانا اور یہ جاننا کہ ٹوٹے ہوئے دل کو کیسے ٹھیک کیا جائے اور آگے بڑھنا ایک مشکل تجویز ہو سکتا ہے۔ ایسا محسوس ہو گا کہ آپ کی زندگی مکمل طور پر الگ ہو گئی ہے۔ لہذا اگر آپ اپنے آپ کو ایسی صورتحال میں پاتے ہیں، تو ہم آپ کو دل ٹوٹنے اور دھوکہ دہی سے نمٹنے میں مدد کے لیے حاضر ہیں۔
    اگر آپ پوچھ رہے ہیں کہ دل کے ٹوٹنے سے کیسے نمٹا جائے، تو آپ شاید پہلے ہی اس کے ساتھ آنے والے دردناک درد سے بہت واقف ہوں گے۔ آپ کی زندگی کی محبت کا نقصان، دھوکہ دہی، دھوکہ دہی یا محض اس شخص سے الگ ہو جانا جسے آپ اپنا جیون ساتھی سمجھتے ہیں آپ کو جسمانی طور پر تکلیف پہنچانے اور جذباتی طور پر گزارا کر سکتا ہے۔ مایوسی کے ایسے لمحات میں یہ سوچنا فطری ہے کہ دل ٹوٹنے سے اتنی تکلیف کیوں ہوتی ہے۔
    ایک تحقیق کے مطابق، آپ کا دماغ دل کے ٹوٹنے کی وجہ سے ہونے والی جذباتی تکلیف پر اسی طرح عمل کرتا ہے جس طرح یہ چوٹ یا بیماری کی وجہ سے ہونے والے جسمانی درد پر عمل کرتا ہے۔ اگر آپ ٹوٹے ہوئے دل کے احساسات کو بیان کرنے کے لیے استعمال کیے جانے والے کچھ عام تاثرات پر دھیان دیتے ہیں – "میرا دل میرے سینے سے پھٹ گیا”، "جلد والا دل”، "گٹ رینچنگ ہارٹ بریک” – یہ سب جذباتی درد کو کم کرنے کے لیے جسمانی درد کا استعمال کرتے ہیں۔ . اس کی وجہ یہ ہے کہ ٹوٹا ہوا دل درحقیقت آپ کو جسمانی طور پر تکلیف پہنچاتا ہے۔ تو یہ سب آپ کے دماغ میں نہیں ہے۔
    نتیجے کے طور پر، جسم کی لڑائی یا پرواز کا ردعمل متحرک ہو جاتا ہے اور تناؤ کے ہارمون کورٹیسول کی سطح بڑھنے لگتی ہے۔ جسم میں ہونے والی تمام ناخوشگوار تبدیلیاں جیسے کہ بھوک میں کمی، متلی، وزن میں اضافہ یا کمی، مہاسے یہ سب اس سائیکل کے حرکت میں آنے کا نتیجہ ہیں۔ بعض صورتوں میں، متاثرہ شخص کو اس رجحان کی وجہ سے دل ٹوٹنے، ڈپریشن اور پریشانی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ درحقیقت، بعض انتہائی صورتوں میں، دل کا ٹوٹنا لفظی طور پر آپ کے دل کو توڑ سکتا ہے۔
    اسے بروکن ہارٹ سنڈروم، یا طبی اصطلاح میں Takotsubo Cardiomyopathy کے نام سے جانا جاتا ہے، جہاں دل کو توڑنے والی صورتحال کی وجہ سے پیدا ہونے والا شدید تناؤ دل کے بائیں ویںٹرکل کو عارضی طور پر فالج میں مبتلا کر دیتا ہے۔ اس سے ہارٹ اٹیک جیسی علامات پیدا ہوتی ہیں۔ شکر ہے، حالت مہلک نہیں ہے اور زیادہ تر معاملات میں خود ہی حل ہوجاتی ہے۔
    1. یاد رکھیں کہ آپ دل ٹوٹنے کا مقابلہ کرتے وقت تنہا نہیں ہیں۔
    ہمارا مطلب یہ نہیں ہے کہ آپ کا تجربہ آپ سے چھین لیا جائے لیکن ہمیں آپ کو یہ بتانا ہے کہ آپ دنیا کے پہلے شخص نہیں ہیں جو دل ٹوٹنے اور مسترد ہونے سے نمٹتے ہیں۔ لاکھوں لوگ اس کا شکار ہوئے اور اس سے نکل آئے ہیں اور لاکھوں لوگ روزانہ اس کا شکار بھی ہوتے ہیں۔ یہ وہ قیمت ہے جو آپ کو ادا کرنی پڑتی ہے جب آپ محبت میں پڑ جاتے ہیں۔ چوٹ لگنے اور گرنے کا خطرہ۔
    جی ہاں، درد ناقابل برداشت معلوم ہوتا ہے جب تک یہ رہتا ہے، جس سے آپ کو ناامید، مایوسی اور اعتماد کے مسائل سے چھلنی محسوس ہوتی ہے۔ تاہم، یہ تجربات آپ کے کردار، پختگی اور لوگوں کو سمجھنے اور تعلقات کو سنبھالنے کی صلاحیت میں اضافہ کرتے ہیں۔ ہم پر بھروسہ کریں جب ہم آپ کو بتائیں کہ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے کہ اس وقت سب کچھ کتنا ہی اداس نظر آتا ہے، یہ تجربہ آپ کو مستقبل میں آپ کے تعلقات میں بہت بہتر بنائے گا۔ اگرچہ یہ کوئی خوشگوار احساس نہیں ہے اور اس پر قابو پانے میں کافی وقت لگ سکتا ہے، لیکن یہ بالکل معمول کی بات ہے۔
    2. آپ کو ایک صاف سلیٹ کی ضرورت ہے۔
    دل ٹوٹنے سے نمٹنے کے بارے میں سنجیدہ ہیں؟ ٹھیک ہے، یہ آپ کے لئے سب سے اہم تجاویز میں سے ایک ہے. اور یہ بہت آسان بھی ہے۔ ٹوٹے ہوئے دل کو ٹھیک کرنے اور آگے بڑھنے کے لیے آپ کو صاف ستھری حالت کی ضرورت ہے۔ اگر آپ کا ذہن یادوں، امیدوں، توقعات اور خیالی تصورات سے گدلا ہے جو کہ سب بیکار ہیں، تو یہ عمل مزید مشکل ہو جائے گا۔ اس سے آگے بڑھنے کا وقت ہے۔
    لہذا، ایسی چیزیں کریں جو آپ کو اس شخص کے ساتھ گزارے گئے وقت کی یادوں میں واپس جانے سے روکنے میں مدد کریں۔ فون، ٹیبلیٹ، لیپ ٹاپ اور کمپیوٹر سے تمام چیٹس، ای میلز اور تصاویر کو حذف کریں۔ اگر آپ ایسا کرنے کی ہمت نہیں جمع کر سکتے ہیں، تو کسی دوست سے کہیں کہ وہ ان سب کو ایک پوشیدہ فولڈر میں لے جائے۔ تحائف اور رشتے کی یادگاروں کو ختم کر دیں، تاکہ آپ کو اس شخص کی یاد نہ آئے جس نے آپ کو ٹوٹے ہوئے دل کے ساتھ چھوڑا ہے۔
    3. دل کے ٹوٹنے سے نمٹنے کے لیے تمام مواصلات بند کریں۔
    جب آپ دل کے ٹوٹنے سے نمٹنے کے طریقے تلاش کر رہے ہوتے ہیں تو بغیر رابطہ کا اصول آپ کا بہترین حلیف ہوتا ہے۔ اس کے ارد گرد پینتریبازی کرنے کا کوئی طریقہ نہیں ہے، یہ صرف ایک ایسی چیز ہے جس پر آپ کو پوری سنجیدگی کے ساتھ عمل کرنا ہوگا۔ اپنے سابقہ ​​یا کسی ممکنہ محبت کی دلچسپی کے ساتھ تمام مواصلت بند کر دیں جس نے آپ کو ٹھکرا دیا ہے، اس لمحے جب وہ چلے جاتے ہیں۔ تمام مشترکہ دوستوں کو ہدایت دیں کہ وہ آپ کے بارے میں کوئی بھی معلومات فراہم نہ کریں چاہے دوسرا شخص آپ سے ان کی زندگی میں ہونے والے واقعات کے بارے میں کچھ پوچھے یا بتائے۔ جو کچھ بھی کرنا پڑے کریں، لیکن اپنے آپ کو ان سے بات کرنے کی اجازت نہ دیں۔
    لوگ جب چاہیں تمام مواصلات کو معطل کر سکتے ہیں لیکن کمزور لمحات میں اچانک دوبارہ رابطہ قائم کرنے کی خواہش ہوتی ہے۔ لہذا، مواصلاتی چینلز کو روکنے میں مدد ملتی ہے. ان کو انسٹا، فیس بک، اسنیپ چیٹ اور ان تمام چیزوں پر بلاک کریں جس پر آپ لوگ بات چیت کرتے تھے۔ جب آپ کو کال کی توقع نہیں ہے یا آپ کو کال نہیں کرنی چاہیے تو پھر آپ کے فون پر فون نمبر کیوں درج ہے؟
    4. دل کے ٹوٹنے پر کیسے قابو پایا جائے؟ اپنے جذبات کے بارے میں کھل کر بات کریں۔
    ایک بار جب آپ دل کے ٹوٹنے کے بعد اپنے آپ کو بہتر طور پر قابو میں رکھتے ہیں، تو یہاں تک پہنچنے کے لیے اپنی پیٹھ تھپتھپائیں۔ لیکن خبردار رہیں کہ ٹوٹے ہوئے دل کو ٹھیک کرنے اور آگے بڑھنے کا سفر قطعی خطی نہیں ہے اور یقینی طور پر ختم نہیں ہوا ہے۔ صحیح سمت میں پیشرفت کرنے کے دنوں کے بعد، ایسے وقت آئیں گے جب آپ محسوس کر سکتے ہیں کہ اس کھوئی ہوئی محبت تک پہنچنا ہے اور اسی وقت ایسا محسوس ہو سکتا ہے جیسے آپ کی ساری پیشرفت ختم ہو گئی ہے۔
    ہوسکتا ہے کہ آپ نے انہیں تین ہفتوں تک کامیابی سے نظر انداز کیا ہو لیکن اچانک آپ کی ماں نے ان کا ذکر کیا اور آپ اپنے فون پر ان کا نمبر کھودتے ہوئے ان سے آپ کو واپس لے جانے کے لیے کہنا چاہتے ہیں۔ خواہش، الجھن اور امید آپ کو غلط قدم اٹھانے پر مجبور کر سکتی ہے۔ اس لیے اس امکان کو روکنے کے لیے، آپ کو اپنے جذبات کے بارے میں کسی دوست یا مشیر سے بات کرنے پر غور کرنا چاہیے۔ وہ آپ کو یاد دلائیں گے کہ آپ کو واقعی کیا کرنا چاہئے کیونکہ وہ صرف آپ کے لئے بہترین چاہتے ہیں۔
    5. جتنی آپ کو ضرورت ہو گی
    اگر آپ بریک اپ کے نتیجے میں اداسی، مایوسی اور اذیت کے جذبات کو دباتے ہیں جس نے آپ کو واضح طور پر مکمل طور پر توڑ دیا ہے تو آپ دل کی دھڑکنوں کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کر رہے ہیں۔ آپ کے جذبات کو بوتل میں ڈالنا آپ جو محسوس کر رہے ہیں اس پر عملدرآمد کرنے اور اسے اپنے سسٹم سے نکالنے کا موقع چھین لیتا ہے – جو حقیقت میں کافی کیتھرٹک ہو سکتا ہے۔ جب آپ پہلے سے ہی سمجھدار اور نارمل رہنے میں مدد نہیں کرسکتے ہیں، تو اپنے آپ کو تھوڑا سا اداس محسوس کرنے میں بھی کوئی حرج نہیں ہے اگر یہ طویل مدت میں آپ کی مدد کرتا ہے۔
    دل کی خرابی پر کیسے قابو پایا جائے؟ جتنی آپ کو ضرورت ہو گی، اگر آپ کی طرح محسوس ہو تو اسے اونچی آواز میں پکاریں۔ اور ہاں، مردوں کا رونا بھی ٹھیک ہے۔ رونا انسان کو پہلے سے بہت بہتر محسوس کرتا ہے اور بہت زیادہ رونے جیسی کوئی چیز نہیں ہے۔ رونے کی ایک قسط کے بعد آپ ہمیشہ بہت ہلکا، پر سکون اور تروتازہ محسوس کرتے ہیں۔ بہادر چہرہ نہ لگائیں اور اس کے بجائے اپنے جذبات کو تسلیم کریں۔
    6. اپنے آپ کو یاد دلائیں کہ آپ کسی اور کو کنٹرول نہیں کر سکتے
    دل کے ٹوٹنے سے کیسے نمٹا جائے؟ ٹھیک ہے، آپ کو اس حقیقت کو ذہن میں رکھنے کی ضرورت ہے کہ کسی اور کی رہنمائی، انتظام اور کنٹرول کرنے کی صلاحیت آپ کے ہاتھ میں نہیں ہے۔ اپنے آپ کو اس کی جگہ پر رکھیں اور تصور کریں کہ کیا آپ وہ کرنا چاہتے ہیں جو دوسرے آپ سے چاہتے ہیں یا آپ آزاد مرضی اور خود مختار شخص بننا پسند کریں گے۔ وہ کیوں برتاؤ کریں جس طرح آپ ان سے چاہتے ہیں؟
    اگر آپ نے ایک بار کسی سے پیار کیا ہے تو ، اس کے یا اس کے فیصلے کا احترام کریں جو اس نے کیا ہے۔ اگر وہ آگے بڑھنا چاہتے ہیں تو ان کے ہر کام کی جانچ پڑتال کرنے اور ان سے آپ کی توقعات کو مزید بڑھانے کے بجائے انہیں جانے دیں۔ جو آپ کنٹرول کر سکتے ہیں وہ آپ کے اپنے اعمال اور ان کے فیصلے پر ردعمل ہیں۔ لہذا، اس پر توجہ مرکوز کریں.
    7. دل کے ٹوٹنے پر کیسے قابو پایا جائے؟ ’بلیم گیم‘ سے دور رہیں
    اگر کوئی رشتہ ختم ہو گیا ہے یا چیزیں ممکنہ محبت کی دلچسپی کے ساتھ کام نہیں کرتی ہیں جس طرح آپ کو پسند ہے، آپ دونوں نے اس میں کردار ادا کیا ہوگا۔ یہ واقعی ان کی یا آپ کی غلطی نہیں ہوسکتی ہے۔ الزام تراشی سے معاملات کو بالکل بھی مدد نہیں ملے گی کیونکہ آپ دونوں یقینی طور پر غلط ہیں۔
    لہٰذا دوسرے شخص یا حالات کی خامیاں تلاش کرنے سے گریز کریں اور ہر چیز کے لیے ان پر الزام لگا کر اپنی مایوسی کے لیے ان کا استعمال کریں۔ اس کے بجائے، موجودہ صورتحال کو جیسا کہ ہے قبول کرنا شروع کریں۔ ایک بار جب آپ حقیقت کے قریب ہو جائیں گے تو آپ کے لیے درد سے خود کو دور کرنا اور اس سب سے صلح کرنا آسان ہو جائے گا۔
    8. دل کے ٹوٹنے سے نمٹنے کے لیے ایپی سوڈ کے بعد نئے دوست بنانے کی کوشش کریں۔
    کیا ٹوٹنے کا درد کبھی دور ہو جاتا ہے؟ شاید، ایک طویل وقت کے لئے نہیں. لیکن آپ کو اس کے ساتھ جینا سیکھنا ہوگا اور آگے بڑھنا بھی ہوگا۔ درد برقرار رہ سکتا ہے لیکن آپ اس سے نمٹنے اور اپنے لیے ایک خوشگوار زندگی کو جاری رکھنے میں بہتر ہو سکتے ہیں۔ نئی شروعات کرنا ٹوٹے ہوئے دل کو ٹھیک کرنے اور آگے بڑھنے کا بہترین طریقہ ہے۔
    لہذا، باہر جائیں، نئے لوگوں سے ملیں، دوست بنائیں اور اپنے آپ کو ان لوگوں اور چیزوں میں لگائیں جو آپ کو خوش کرتے ہیں۔ خوشی سے سنگل رہنا حقیقی ہے! اس لیے اس کا بھرپور استعمال کریں۔
    9. ایک اچھا، طویل سفر کریں۔
    اگر کسی پیارے کے کھو جانے سے آپ کو شدید متاثر ہوا ہے اور آپ یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ دل کے ٹوٹنے اور افسردگی سے کیسے نمٹا جائے تو اپنے لیے منظر کی تبدیلی پر غور کریں۔ ایسی کوئی چیز نہیں ہے جسے ایک اچھا ساحل اور کچھ R&R ٹھیک نہیں کر سکتا! اس ایک رکاوٹ کو آپ کو اپنی زندگی کے بہترین دن گزارنے سے روکنے نہ دیں۔
    خاندان یا دوستوں کے ساتھ سفر یا چھٹی کا منصوبہ بنائیں۔ نئی اور خوشگوار یادیں تخلیق کریں جو آپ کے لیے کہانیوں کا نیا خزانہ ہوں گی، جب آپ تنہا اور اداس محسوس کریں گے۔ اپنے پیاروں کے ساتھ کچھ معیاری وقت گزاریں۔ اپنے بارے میں اچھا محسوس کرنے کے لیے نئی تصاویر پر کلک کریں!
    10. مدد کا ہاتھ بڑھائیں۔
    ایک بار جب آپ نے دل کی دھڑکنوں سے نمٹنا سیکھ لیا یا کم از کم اس محاذ پر کچھ پیش رفت کر لی، تو ایسے شخص کی مدد کرنے کی کوشش کریں جو اسی طرح کے صدمے سے گزر رہا ہو۔ ایک رہنما بنیں اور اس مشکل مرحلے میں ان کا ہاتھ پکڑیں ​​کیونکہ وہ اسی طرح دل کے ٹوٹنے سے نمٹ رہے ہیں جس طرح آپ نے پہلے کیا تھا۔
    آپ نے زندگی میں جو کچھ سیکھا ہے، اس کے ساتھ آپ یقیناً اس شخص کے ساتھ کچھ قیمتی ٹپس شیئر کر سکتے ہیں جو تکلیف میں ہے۔ وہ یقینی طور پر مدد استعمال کرسکتے ہیں۔ اس سے آپ کو اپنے اندر ہونے والی تبدیلی کا احساس کرنے میں بھی مدد ملے گی اور یہ دیکھنے میں بھی مدد ملے گی کہ آپ کتنی دور آ چکے ہیں!

  • عمران خان سے جان چھڑوانے کے لیے شہبازشریف کا چودھری برادران کے پاس جانے کا اعلان

    عمران خان سے جان چھڑوانے کے لیے شہبازشریف کا چودھری برادران کے پاس جانے کا اعلان

    لاہور:عمران خان سے جان چھڑوانے کے لیے شہبازشریف کی چودھری برادران سے ملاقات کا امکان،اطلاعات کے مطابق قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر اور لیگی صدر شہباز شریف کا چند روز میں ق لیگ کے سربراہ چودھری شجاعت حسین اور پرویز الٰہی سے ملاقات کا امکان ہے۔

    یاد رہے کہ چودھری برادران سے آصف علی زرداری اور ایم کیو ایم کے رہنما اس سے قبل ملاقات کر چکے ہیں، شہباز شریف کو مسلم لیگ ن کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی نے سیاسی رابطوں کا اختیار دیا ہے۔

    دوسری طرف سیاسی منظر نامہ پر بڑی سیاسی ملاقات کا امکان ہے، قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کی آئندہ چند روز میں چودھری شجاعت حسین اور سپیکر پنجاب اسمبلی پرویز الہی سے ملاقات کا امکان ہے۔ لیگی صدر چوہدری شجاعت حسین کی خیریت دریافت کرنے ان کی رہائش گاہ جائیں گے۔

    قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کی چوہدری برادران کیساتھ ملاقات میں سیاسی صورت حال پر بھی بات چیت کا امکان ہے۔

    یاد رہے کہ اس سے پہلے اطلاعات کےمطابق پیڈ میڈیا کی طرف سے کچھ اس انداز سے خبریں پیش کی جارہی تھیں کہ جن سےیہ تصور دینے کی کوشش کی گئی کہ ایم کیوایم شہبازشریف کی باتوں میں آکر عمران خان سے بے وفائی کردے گی لیکن کچھ دیر پہلے ایم کیوایم نے عمران خان کے ساتھ کھڑے رہنے کا اعلان کرکے جاتی امرا اور لندن والوں پر بجلی گرادی

    ادھر دوسری یہ بھی اطلاعات ہیں کہ ایم کیو ایم کے بیان کے بعد شہبازشریف کی طبعیت بہت ناسازسی ہوگئی ہے ، یہ بھی کہا جارہا ہے کہ شہبازشریف کو ایم کیوایم کی طرف سے کپتان کی ٹیم کا حصہ بنے رہنے کے اعلان نے بہت زیادہ مایوس کردیا ہے ،

    ادھر اس حوالے سے مزید معلوم ہوا ہےکہ اس اعلان نے پی پی اور مولانا فضل الرحمن کے خواب بھی تہس نہس کرکے رکھ دییے ہیں‌

    یاد رہےکہ ایم کیو ایم پاکستان کے وفد کی سندھ میں‌پی پی کے عوام دشمن بلدیاتی قوانین کے خلاف پاکستان کی دیگر سیاسی جماعتوں سے ملاقاتیں جاری ہیں ، اس سلسلے میں ایم کیوایم کی پاکستان مسلم لیگ کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین ، ن لیگ کے نائب صدر شہازشریف سمیت دیگرکئی رہنماوں سے ملاقاتیں ہوچکی ہیں

    ان ملاقاتوں کے بعد ن لیگ کی طرف سے جاری کی گئی میڈیا کو نیوز میں یہ تاثر دینے کی جعل سازی کی گئی کہ ایم کیوایم نے عمران خان کے خلاف بغاوت کردی اور وہ شہبازشریف اور آصف علی زرداری کی خواہش پر عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کا اظہار کردیں گے

    لیکن ابھی تھوڑی دیر پہلے ایم کیوایم کے وفد نے ن لیگ کی ساری پراکسی کو تہس نہس کرتے ہوئے یہ اعلان کیا ہے کہ وہ اپنے کپتان عمران خان کے ساتھ ہیں اور ساتھ رہیں گے

    ایم کیوایم کے رہنما نے اس موقع پر کہا ہے کہ اپوزیشن کاابھی واضح موقف سامنےنہیں آیا،ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ہرسیاسی جماعت کی اپنی سوچ ہوتی ہے،عامر خان نے مزید کہا کہ آئین کےدائرےمیں رہ کراپوزیشن کوکرداراداکرنےکا حق ہے،لیکن کسی ایسی کوشش کا حصہ نہیں بنیں گے جس سےعمران خان کی حکومت کو نقصان پہنچے ،

    عامرخان نے اپنی گفتگو میں کہا کہ پراپیگنڈہ کرنے والے سُن لیں کہ ہم پی ٹی آئی کے ساتھ کھڑے ہیں اور کھڑے رہیں گے

    عامرخان نے کہا کہ ن لیگ کی اتحادی جماعت پی پی نے سندھ میں ہمیں دیوارسے لگادیا، ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ آفس کےباہرکارکنوں پرڈنڈےبرسائے گئے،ن لیگ نے زرداری حکومت کی مذمت نہیں کی

    ادھروفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی شبلی فراز نے کہا ہے کہ اپوزیشن کی ملاقاتوں سے حکومت کا کچھ نہیں بگڑنے والا۔

    شبلی فراز کا کہنا تھا کہ حزب اختلاف چائے کی پیالی میں طوفان برپا کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اپوزیشن کے بغل میں ایک دوسرے کے لیے چھریاں اور منہ میں رام رام ہے۔ حکومت کہیں نہیں جا رہی ہے اور پاکستان تحریک انصاف توسال 2028 تک حکومت میں رہنے کی تیاریاں کر رہی ہے۔ اپوزیشن ہزیمت سے بچنے کيلئے پٹاخے چھوڑتی رہتی ہے،ایک ساتھ کھانا کھانے والی اپوزیشن ايک دوسرے کے ساتھ نہیں۔

  • پی ٹی آئی کےساتھ کھڑے ہیں اور کھڑے رہیں گے:ایم کیوایم کااعلان،شہبازشریف کی خواہشات پرپانی پھرگیا

    پی ٹی آئی کےساتھ کھڑے ہیں اور کھڑے رہیں گے:ایم کیوایم کااعلان،شہبازشریف کی خواہشات پرپانی پھرگیا

    لاہور:پی ٹی آئی کے ساتھ کھڑے ہیں اور کھڑے رہیں گے:ایم کیوایم کااعلان،شہبازشریف کی خواہشات پرپانی پھرگیا ،اطلاعات کےمطابق پیڈ میڈیا کی طرف سے کچھ اس انداز سے خبریں پیش کی جارہی تھیں کہ جن سےیہ تصور دینے کی کوشش کی گئی کہ ایم کیوایم شہبازشریف کی باتوں میں آکر عمران خان سے بے وفائی کردے گی لیکن کچھ دیر پہلے ایم کیوایم نے عمران خان کے ساتھ کھڑے رہنے کا اعلان کرکے جاتی امرا اور لندن والوں پر بجلی گرادی

    ادھر دوسری یہ بھی اطلاعات ہیں کہ ایم کیو ایم کے بیان کے بعد شہبازشریف کی طبعیت بہت ناسازسی ہوگئی ہے ، یہ بھی کہا جارہا ہے کہ شہبازشریف کو ایم کیوایم کی طرف سے کپتان کی ٹیم کا حصہ بنے رہنے کے اعلان نے بہت زیادہ مایوس کردیا ہے ،

    ادھر اس حوالے سے مزید معلوم ہوا ہےکہ اس اعلان نے پی پی اور مولانا فضل الرحمن کے خواب بھی تہس نہس کرکے رکھ دییے ہیں‌

    یاد رہےکہ ایم کیو ایم پاکستان کے وفد کی سندھ میں‌پی پی کے عوام دشمن بلدیاتی قوانین کے خلاف پاکستان کی دیگر سیاسی جماعتوں سے ملاقاتیں جاری ہیں ، اس سلسلے میں ایم کیوایم کی پاکستان مسلم لیگ کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین ، ن لیگ کے نائب صدر شہازشریف سمیت دیگرکئی رہنماوں سے ملاقاتیں ہوچکی ہیں

    ان ملاقاتوں کے بعد ن لیگ کی طرف سے جاری کی گئی میڈیا کو نیوز میں یہ تاثر دینے کی جعل سازی کی گئی کہ ایم کیوایم نے عمران خان کے خلاف بغاوت کردی اور وہ شہبازشریف اور آصف علی زرداری کی خواہش پر عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کا اظہار کردیں گے

    لیکن ابھی تھوڑی دیر پہلے ایم کیوایم کے وفد نے ن لیگ کی ساری پراکسی کو تہس نہس کرتے ہوئے یہ اعلان کیا ہے کہ وہ اپنے کپتان عمران خان کے ساتھ ہیں اور ساتھ رہیں گے

    ایم کیوایم کے رہنما نے اس موقع پر کہا ہے کہ اپوزیشن کاابھی واضح موقف سامنےنہیں آیا،ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ہرسیاسی جماعت کی اپنی سوچ ہوتی ہے،عامر خان نے مزید کہا کہ آئین کےدائرےمیں رہ کراپوزیشن کوکرداراداکرنےکا حق ہے،لیکن کسی ایسی کوشش کا حصہ نہیں بنیں گے جس سےعمران خان کی حکومت کو نقصان پہنچے ،

    عامرخان نے اپنی گفتگو میں کہا کہ پراپیگنڈہ کرنے والے سُن لیں کہ ہم پی ٹی آئی کے ساتھ کھڑے ہیں اور کھڑے رہیں گے

    عامرخان نے کہا کہ ن لیگ کی اتحادی جماعت پی پی نے سندھ میں ہمیں دیوارسے لگادیا، ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ آفس کےباہرکارکنوں پرڈنڈےبرسائے گئے،ن لیگ نے زرداری حکومت کی مذمت نہیں کی

    ادھروفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی شبلی فراز نے کہا ہے کہ اپوزیشن کی ملاقاتوں سے حکومت کا کچھ نہیں بگڑنے والا۔

    شبلی فراز کا کہنا تھا کہ حزب اختلاف چائے کی پیالی میں طوفان برپا کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اپوزیشن کے بغل میں ایک دوسرے کے لیے چھریاں اور منہ میں رام رام ہے۔ حکومت کہیں نہیں جا رہی ہے اور پاکستان تحریک انصاف توسال 2028 تک حکومت میں رہنے کی تیاریاں کر رہی ہے۔ اپوزیشن ہزیمت سے بچنے کيلئے پٹاخے چھوڑتی رہتی ہے،ایک ساتھ کھانا کھانے والی اپوزیشن ايک دوسرے کے ساتھ نہیں۔

  • افضل گورو کی برسی کے موقع پر مقبوضہ کشمیر میں یوم سیاہ اور ہڑتال کا اعلان

    افضل گورو کی برسی کے موقع پر مقبوضہ کشمیر میں یوم سیاہ اور ہڑتال کا اعلان

    سری نگر :افضل گورو کی برسی کے موقع پر مقبوضہ کشمیر میں یوم سیاہ اور ہڑتال کا اعلان،اطلاعات کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں شہید کشمیری رہنما افضل گورو کی برسی کے موقع پر کل یومِ سیاہ اور ہڑتال کا اعلان کیا گیا ہے، جمعے کو مقبول بٹ کی برسی پر بھی ہڑتال کی جائےگی۔

    کشمیر میڈیاسروس کےمطابق کل جماعتی حریت کانفرنس کے ترجمان کا کہناہے کہ دونوں شہید رہنماؤں نے تحریک آزادی کشمیر میں ایک نئی روح پھونکی اور اب کشمیریوں کی چوتھی نسل جدوجہد آزادی کشمیر کو اس کے منطقی انجام تک پہنچانےکے لیے پر عزم ہے ۔

    ترجمان نے مطالبہ کیا کہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بھارتی فوج کے ہاتھوں نہتے کشمیریوں کی نسل کشی کا نوٹس لیں،تنازع کشمیر کا اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق حل ناگزیر ہے۔

    حریت کانفرنس کے رہنما میر واعظ عمر فاروق کا کہنا ہے کہ عالمی برادری بالخصوص انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیمیں تہاڑ جیل سے مقبول بٹ اور افضل گورو کی باقیات ان کے اہلخانہ کے حوالے کرنے کے لیے بھارت پر دباؤ بڑھائیں۔

    خیال رہےکہ کشمیری رہنماافضل گورو کو 9 فروری 2013 اور مقبول بٹ کو 11 فروری 1984میں نئی دہلی کی تہاڑ جیل میں پھانسی دی گئی تھی، بعدازاں ان کی میتوں کو جیل کے احاطے میں ہی دفن کردیا گیا تھا۔

  • پاکستان میں بیوروکریسی کی نااہلی کاروبار کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے: آئی ایم ایف کا دبنگ انکشاف

    پاکستان میں بیوروکریسی کی نااہلی کاروبار کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے: آئی ایم ایف کا دبنگ انکشاف

    اسلام آباد:عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) نے کہا ہے کہ بیورو کریسی کی سست روی اور ریگولیشنز کی وجہ سے پاکستان میں کاروبار کرنا مشکل ہے، بیوروکریسی کی نااہلی کاروبار کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے، سرمایہ کاری کے لیے خطرات بڑھ رہے ہیں جبکہ کرپشن میں بھی اضافے کا خدشہ ہے۔

    عالمی مالیاتی ادارے نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ پاکستان میں بیوروکریسی کی نا اہلی کاروبار کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے، بہت زیادہ ریگولیشنز سے بھی کاروباری سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں جبکہ کمزور ٹیکس سسٹم ٹیکس ادائیگیوں میں رکاوٹ ہے ۔

    آئی ایم ایف نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت پاکستان ٹیکس ادائیگی کا عمل آسان بنائے اور کاروباری ماحول بہتر کرنے کیلئےغیر ضروری ریگولیشنز ختم کی جائیں۔

  • نادرا کی کمال کارکردگی ،پاکستانیوں کی دہلیزتک :سنٹرلائزڈ کمپلینٹ منیجمنٹ سسٹم کا آغاز کر دیا

    نادرا کی کمال کارکردگی ،پاکستانیوں کی دہلیزتک :سنٹرلائزڈ کمپلینٹ منیجمنٹ سسٹم کا آغاز کر دیا

    اسلام آباد :نادرا کی کمال کارکردگی ،پاکستانیوں کی دہلیزتک :سنٹرلائزڈ کمپلینٹ منیجمنٹ سسٹم کا آغاز کر دیا،اطلاعات کے مطابق نادرا نے شکایات کے ازالے کے عمل کو ہموار کرنے اور مزید موئثر بنانے کے لیے نئےڈیزائن کردہ نادرا سنٹرلائزڈ کمپلینٹ مینجمنٹ سسٹم کا افتتاح کر دیا۔

    نادرا کی جانب سے عوام کو وسیع پیمانے پرخدمات کی فراہمی اور اس متعلق شکایات کا اندراج جو مختلف پلیٹ فارمز پر کیا جا رہا تھا، جیسا کہ ہیلپ لائن، ٹویٹر، فیس بک، پاکستان سٹیزن پورٹل تحریری درخواستیں/شکایات، شکایات کا پرانا نظام، کمپلینٹ مینجمنٹ سسٹم اور عوام کے بذات خود نادرا دفاتر اور ہیڈ کوارٹر میں آنا شامل تھا وہ نادرا انتظامیہ کے لئے ان کو حل کرنے میں بہت سے مسائل پیدا کر رہا تھا ۔ مزید یہ کہ شکایات کے ازالے کےلئے منتشر نظام، شکایات کے حل میں تاخیر اور غیر موثر نتائج کا بھی سبب بنا۔

    نیا نادراسنٹرلائزڈ کمپلینٹ منیجمنٹ سسٹم خدمات کی فراہمی کو بہتر بنانے اور پہلے سے موجود شکایات کے ازالے کا دائرہ کار، جس میں شکایات پر نظر رکھنے، درجہ بندی کرنے، نگرانی کرنے اور جواب دینے کے لیے مناسب طریقہ کار کا فقدان تھا، کووسعت بخشنےاور جدید خطوط پر استوار کرنے کی جانب ایک بہت بڑا قدم ہے۔

    نیا نظام ملک بھر اور بیرون ملک نادرا کی خدمات حاصل کرنے والے عام لوگوں کے مسائل اور شکایات کا فوری اور موٴثر جواب دینے کےعمل کو یقینی بنائے گا۔ جبکہ کمپلائنٹ مینجمنٹ پورٹل نادرا کی ویب سائٹ پر لائیو کر دیا گیا ہے جہاں شہری نادرا سے متعلق کسی بھی مسئلے کے حوالے سے اپنی شکایات براہ راست درج کرسکتے ہیں۔

    چیئرمین نادرا طارق ملک نے اس سسٹم کا افتتاح کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے نادرا کی خدمات اور ملازمین کی کارکردگی کو عوام کے لیے کھول دیا ہے کہ وہ خود اس کو پرکھیں گے اور اپنی رائے دے سکیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ نادرا کو عوام کی آنکھ سے دیکھ کرہی انہوں نے ایک واحد مرکزی نظام تیار کیا ہے جس کی بنا پر شکایات کے فوری ازالے کا لائحہ عمل تیار کیا گیا۔

    چیئرمین نادرا طارق ملک نےکہا، "نادرا قومی سطح پر عوامی مسائل کی شنوائی کرنے والا سب سے بڑا ادارہ ہے جو اپنے 755رجسٹریشن مراکز ، 263 موبائل رجسٹریشن وینز اور 10 سمندرپار مراکز میں روزانہ اوسطاً 100,000 لوگوں کو اپنی خدمات فراہم کر رہا ہے۔ نادرا کی آن لائن پاک آئی ڈی سروسز کی دستیابی بھی عالمی سطح پر 190 سے زائد ممالک میں ممکن بنائی گئی ہیں۔”

    نیا نظام نادرا کی تمام سہولیات، خدمات اور پراجیکٹس سے متعلق شکایات کا ایک مکمل طور پرجامع ذریعہ فراہم کرے گا۔

    ایک موثر نگرانی کے طریقہ کار کے ساتھ، نادراسنٹرلائزڈ کمپلینٹ منیجمنٹ سسٹم میں اپنی نوعیت کے مطابق شکایات کی درجہ بندی کرنے کی خصوصیت ہے، اگر کسی شکایت کو مقررہ وقت کے اندر اندر حل نہیں کیا جاتا تو ایسی شکایت کو ترجیحاً اعلیٰ سطح پر پہچانے کا فیچر بھی متعارف کرایا گیا ہے جس کی بدولت شکایت براہ راست چیئرمین نادرا تک پہنچے گی۔

    شہری درج ذیل میں سے کسی بھی ذریعے کو استعمال کر کے شکایات درج کر سکتا ہے مثلا موبائل فون صارفین کے لیے نادرا ہیلپ لائن 1777، لینڈ لائن صارفین اور بین الاقوامی کال کرنے والوں کے لیے 051111786100، ای میل، سوشل میڈیا، کسٹمر سروس ڈیپارٹمنٹ اور زونل ڈائریکٹر جنرلز کو ٹویٹر اور فیس بک پر موصول ہونے والی شکایات۔ اس کے بعد شکایات کو مرکزی نگرانی، کارروائی اور حل کے لیے نادراسنٹرلائزڈ کمپلینٹ منیجمنٹ سسٹم میں لاگ ان کر دیا جائے گا اور شہری کو ٹریکنگ نمبر مہیا کر دیا جائے گا۔

    سسٹم کو تمام مطلوبہ خصوصیات سے لیس کیا گیا ہے جیسے منفرد رجسٹریشن نمبر کے ذریعے اسٹیٹس ٹریکنگ، درجہ بندی اور تکمیل کی رسید وغیرہ تاکہ شکایت درج ہونے کے تجربے کو صارف دوست بنایا جا سکے۔

    نادرا رجسٹریشن مراکزکی کارکردگی کو بڑھانے کے لیے ہم نے اپنے ہیڈ کوارٹر کے آپریشن روم سے ریئل ٹائم مانیٹرنگ کرنے کے لیے ٹیکنالوجی اور ڈیٹا اینالیٹکس کا فائدہ اٹھایا ہے، جہاں ٹوکن پروسیسنگ، قطار سے نمٹنے کی براہ راست نگرانی کی جاتی ہے اور ہر سطح پر خدمات کی فراہمی کو بہتر بنانے کے لیےبروقت مداخلت کو یقینی بنایا جاتا ہے۔