کراچی : کراچی میں صورتحال خراب، کئی مارکیٹس بند ۔
تفصیلات کے مطابق سندھ پولیس کی جانب سے ایم کیو ایم کے مظاہرین پر کیے گئے تشدد کے بعد شہر میں صورتحال خراب ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق نامعلوم افراد نے کئی علاقوں میں دکانین بند کروا دیں، ٹائرز جلا کر سڑکیں بلاک کر دی گئی ہیں۔
دوسری جانب ایم کیوایم پاکستان نے کل یوم سیاہ منانے کا اعلان کردیا۔ متحدہ رہنماوں نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پیپلزپارٹی نے ہمیں دوبارہ للکارا ہے، ڈاکو کراچی پر مسلط ہیں، ایم پی اے صداقت حسین پرتشدد کا حساب لیا جائے گا، ہماری ماؤں، بہنوں پر ڈنڈے برسائے گئے۔ خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ ایم کیو ایم نے وزیراعلیٰ سندھ سے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ استعفیٰ دیں ورنہ شہر کے دروازے بند کردیں گے، وزیراعظم آئی جی اور ڈی آئی جی کو معطل کریں، ہم جمہوریت کو واحد راستہ سمجھتے ہیں۔
اس سے قبل میڈیا رپورٹس کے مطابق ایم کیوایم پاکستان نے بلدیاتی قانون کیخلاف کراچی میں احتجاجی ریلی نکالی، ریلی کے شرکاء نے وزیراعلیٰ ہاوس جانے کی کوشش کی تو انتظامیہ نے سی ایم ہاؤس جانے والا راستہ بند کردیا اور پولیس کی بھاری نفری تعینات کردی گئی۔ شرکا کو وزیراعلیٰ ہاوس کی جانب بڑھنے سے روکنے پر ایم کیوایم کارکنوں نے سندھ حکومت کےخلاف نعرے بازی کی۔
تاہم وزیراعلیٰ ہاؤس کے قریب ایم کیوایم کارکن اور پولیس اہلکار آمنے سامنے آگئے، جس پر پولیس اور مظاہرین میں تصادم ہوا، پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے زبردست لاٹھی چارج اور آنسو گیس کی شیلنگ بھی کی، شیلنگ میں متعدد کارکنان سمیت بچے اور خواتین بھی زخمی ہوگئے۔ ایم کیوایم کے وفاقی وزیر امین الحق کا کہنا ہے کہ بغیر وارننگ ریلی پر زبردست لاٹھی چارج اور شیلنگ کی گئی، جس میں بچے اور خواتین بھی زخمی ہوئی ہیں، ایم پی اے صداقت عباسی شدید زخمی ہوئے اور ان کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔
امین الحق نے کہا کہ ریلی پر طاقت کا بے دریغ استعمال کیا گیا، ہم مذاکرات کرنا چاہتے تھے، ہم سیاسی لوگ ہیں اور بات چیت پر یقین رکھتے ہیں، مغرب کی جماعت کھڑی کرنے کا اعلان کیا ، جس کے بعد لاٹھی چارج ہوا اور گرفتاریاں شروع کردی گئیں۔ مرکزی رہنماء ایم کیوایم خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ سندھ حکومت نے ریلی پر بدترین تشدد کیا، آج سے سندھ حکومت کا کاؤنٹ ڈاؤن شروع ہوگیا، سندھ حکومت کو تشدد کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔
وزیراطلاعات ونشریات سندھ سعید غنی نے اپنے ردعمل میں کہا کہ پیپلزپارٹی کسی بھی سیاسی جماعت کے احتجاج کے خلاف نہیں ہے، جماعت اسلامی ایک مہینے سے احتجاج کررہی ہے، پی ایس ایل شروع ہونے والا ہے، پی ایس ایل کے کئی کھلاڑی وزیراعلیٰ کے اطراف ہوٹلوں میں مقیم ہیں،ایم کیوایم کی ریلی نے میٹروپول سے پریس کلب جانا تھا لیکن اچانک سی ایم ہاؤس کی طرف چل پڑی، صورتحال ایسی بن گئی کہ انتظامیہ کو ایکشن لینا پڑا۔ خبردار کیا تھا کہ سکیورٹی ایشوز کے باعث وزیراعلیٰ ہاؤس کی طرف مت جائیں۔
Author: +9251
-

کراچی میں صورت حال خراب ، کئی مارکیٹس بند
-

اہل وطن کیلیےخوشخبری آگئی:مہمند کے 13،دیامربھاشا ڈیم کے10مقامات پر بیک وقت تعمیراتی کام جاری
اسلام آباد: اہل وطن کے لیےخوشخبری آگئی :مہمند کے 13،دیامربھاشا ڈیم کے 10 مقامات پر بیک وقت تعمیراتی کام جاریوفاقی حکومت کی طرف سے شروع کیے جانے والے مہمند ڈیم کے 13 جبکہ دیامر بھاشا ڈیم کے 10 مقامات پر بیک وقت تعمیراتی کام جاری ہے۔
سپریم کورٹ کی جانب سے قائم کی گئی دیا مربھاشا اور مہمند ڈیمز عملدرآمد کمیٹی کا اجلاس عملدرآمد کمیٹی کے سیکرٹریٹ میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں دونوں منصوبوں پر پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کی صدارت چیئرمین واپڈا لیفٹیننٹ جنرل مزمل حسین(ریٹائرڈ)نے کی۔
جوائنٹ سیکرٹری وزارتِ آبی وسائل اور عملدرآمد کمیٹی کے سیکریٹری سید محمد مہر علی شاہ کے علاوہ جوائنٹ سیکریٹری (بجٹ) فنانس، سیکرٹری بورڈ آف ریونیو خیبرپختونخوا،ممبرنیشنل ہائی وے اتھارٹی (نارتھ زون)، ڈپٹی سیکرٹری پرائم منسٹر آفس، کمشنر دیا مر استور ڈویژن اور ڈپٹی چیف پلاننگ کمیشن اجلاس میں شریک ہوئے۔ واپڈا ممبرز،سیکرٹری اور دیگر سینئر آفیسرز بھی اجلاس میں موجود تھے۔
اجلاس سے خطاب میں چیئرمین واپڈا نے کہا کہ دیا مر بھاشا اور مہمند ڈیمز کی تعمیر کے لئے عملدرآمد کمیٹی بھر پور کردار ادا کر رہی ہے۔ منصوبوں کی جلد از جلد تکمیل کے لئے اپنے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے چیئرمین نے اجلاس کے شرکا کو بتایا کہ دنیا بھر میں کووڈ19کی بدولت معمولات زندگی متاثر ہوئے ہیں لیکن اِس کے باوجود دیا مر بھاشا اور مہمند ڈیم پر تعمیراتی سرگرمیاں رات دِن جاری ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ مہمند ڈیم کی 13 سائٹس جبکہ دیا مر بھاشا ڈیم کی 10 سائٹس پر بیک وقت تعمیراتی کام کیا جارہا ہے۔
بعد ازاں ممبر (فنانس) واپڈا نے اجلاس کو غیر ملکی زرِ مبادلہ کے حوالے سے دونوں منصوبوں کے فنانشل کلوز سے متعلق اور فنڈز کی ضروریات اور فراہمی کے بارے میں آگاہ کیا۔ جنرل منیجر (لینڈ ایکوزیشن اینڈ ری سٹلمنٹ)، جنرل منیجر / پراجیکٹ ڈائریکٹر (دیا مر بھاشا ڈیم) اور جنرل منیجر/پراجیکٹ ڈائریکٹر(مہمند ڈیم) نے شرکاء کو دونوں منصوبوں پر پیش رفت اور ایشوز کے بارے میں بریفنگ دی۔
واپڈا نے مہمند ڈیم پر مئی 2019 ء جبکہ دیا مر بھاشا ڈیم پر جولائی 2020ء میں تعمیراتی کام شروع کیا تھا۔ مہمند ڈیم کی تکمیل کے لئے 2025ء جبکہ دیا مر بھاشا ڈیم کے لئے 2029 ء کا ہدف مقررکیا گیا ہے۔ مہمند ڈیم میں پانی ذخیرہ کرنے کی مجموعی صلاحیت 1.29ملین ایکڑ فٹ جبکہ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت 800میگاواٹ ہے۔ اسی طرح دیا مر بھاشا ڈیم میں پانی ذخیرہ کرنے کی مجموعی صلاحیت 8.1ملین ایکڑ فٹ جبکہ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت 4ہزار 500میگاواٹ ہے۔
-

وزیرتعلیم شفقت محمود نے بڑا اعلان کردیامگرکن کےلیے؟تفصیلات جاریں
اسلام آباد: وزیرتعلیم شفقت محمود نے بڑا اعلان کردیامگرکن کےلیے؟تفصیلات جاریں ،اطلاعات کے مطابق وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود کی زیر صدارت کابینہ کمیٹی برائے ادارہ جاتی اصلاحات کے اجلاس کا انعقاد کیا گیا جس میں متروکہ وقف املاک بورڈ کی کمیٹی کو وزیر اعظم کی ٹاسک فورس کی سفارشات پر عمل درآمد کی صورتحال کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔
اجلاس میں وزیر تعلیم شفقت محمود نے آئندہ میٹنگ میں ای ٹی پی بی کے زیر انتظام سکولوں کا جواز طلب کرلیا ہے۔
چیئرمین سی سی آئی آر نے ای ٹی پی بی کو ہدایت کی کہ آئندہ اجلاس میں تمام ضروری ریکارڈ اور تیاری کے ساتھ آئیں جبکہ سیکرٹری فیڈرل پبلک سروس کمیشن نے اہم کاموں، بھرتیوں کے طریقوں، شکایات کے ازالے اور خالی آسامیوں کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی۔
اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیرتعلیم شفقت محمود نے کہا کہ سی ایس ایس کے ذریعے بھرتی کے علاوہ مختلف وزارتوں اور ڈویژنوں کی خالی آسامیوں پر جنرل بھرتی کا عمل سالوں تک التوا کا شکار رہتا ہے ، اس عمل کو 6 ماہ میں مکمل کرنے کے لیے فوری اصلاحات کی ضرورت ہے۔
شفقت محمود نے کہا کہ ایف پی ایس سی پر 70 فیصد کام کا بوجھ 16 گریڈ کی بھرتیوں کی وجہ سے ہے، اس پر نظرثانی کی ضرورت ہے جبکہ سیکرٹری ایف پی ایس سی اسٹیبلشمنٹ ڈویژن اور سی سی آئی آر کو 16 گریڈ کی بھرتی متعلقہ وزارت، ڈویژن خود کرنے کے لیے تجویز بھیجیں۔
وزیرتعلیم شفقت محمود کا مزید کہنا تھا کہ ایف پی ایس سی 17 اور اس سے اوپر کے گریڈ کی بھرتی کا عمل کرے گی، اس مقصد کے لیے ایف پی ایس سی کے آرڈیننس میں ترمیم کی جائے گی۔
-

سندھ حکومت کا متنازع بلدیاتی قانون:صوبے بھرکی عوام کا کراچی میں احتجاج:پولیس کا لاٹھی چارج
کراچی:سندھ حکومت کا متنازع بلدیاتی قانون:صوبے بھرکی عوام کا کراچی میں احتجاج:پولیس کا لاٹھی چارج،اطلاعات کے مطابق ایم کیو ایم پاکستان کی جانب سے متنازع بلدیاتی قانون کے خلاف نکالی گئی ریلی پر پولیس کی جانب سے بد ترین شیلنگ، متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کو گرفتار کرلیا گیا۔
پولیس نے کارکنوں پر لاٹھی چارج کیا جس کے بعد رکن صوبائی اسمبلی ، خواتین سمیت متعدد زخمی ہو گئے۔وزیر اعلی ہاؤس کے سامنے ڈاکٹر ضیا الدین روڈ ٹریفک کے لیے بند کردیا۔ ایمپریس مارکیٹ سےمزارقائد جانےوالا کوریڈور3 بھی ٹریفک کے لیے بند کردیا گیا۔ احتجاجی دھرنے میں خواتین کی بڑی تعداد نے بھی شرکت کی
ذرائع کے مطابق ایم کیو ایم پاکستان کی ریلی نے وزیر اعلیٰ ہاؤس جانے کی کوشش جس پر پولیس سے تکرار ہوئی، کارکنان نے آگے بڑھنے کی کوشش کی تو پولیس نے شیلنگ اور لاٹھی چارج شروع کردیا۔
ذرائع کے مطابق پولیس کی جانب سے کئے گئے لاٹھی چارج سے ایم کیو ایم پاکستان کے ایم پی اے صداقت حسین بھی شدید زخمی ہوگئے ہیں۔
ایم کیو ایم پاکستان کی ریلی میں شریک متعدد خواتین بھی شیلنگ اور لاٹھی چارج کے باعث متاثر ہوئی ہیں، پولیس نے ایم کیو ایم پاکستان کے ایم پی اے صداقت حسین کو حراست میں لے لیا ہے۔شہر بھر میں بد ترین ٹریفک جام ہے اور شہر قائد میں ایک ہی وقت میں دو ریلیاں نکلنے کے باعث مختلف علاقوں میں شہری پریشانی میں مبتلا ہوگئے۔
شہر قائد میں ایم کیو ایم پاکستان نے سندھ کے متنازع بلدیاتی قانون کے خلاف احتجاجی ریلی نکالی۔ شارع فیصل سے مارچ کرتے مظاہرین نے وزیراعلیٰ ہاؤس جانے کی کوشش کی، پولیس نے مظاہرین کا راستہ روک دیاجس کے باعث شدید بدترین ٹریفک جام ہوگیا۔
ٹریفک پولیس کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ دھرنے کے باعث ایم ٹی خان روڈ سلطان آباد سے پی آئی ڈی سی جانے والی سڑک ٹریفک کیلئے بند کردی گئی ہے اور ٹریفک کے پی ٹی فلائی اوور سے مائی کلاچی اوربوٹ بیسن کی جانب موڑاجارہاہے۔
مزید پڑھیں: کراچی کے سرکاری اسپتالوں میں سرد خانوں کی سہولت غیر اعلانیہ ختم کردی گئیجبکہ دوسری ریلی ایک مذہبی جماعت کی جانب سے نکالی جارہی ہے، کراچی میں بیک وقت دو ریلیوں کے باعث مختلف سڑکوں پر ٹریفک جام ہوگیا اور شہری کئی گھنٹے سے سڑکوں پر موجود ہیں۔جبکہ ٹریفک پولیس موجودہ صورتحال کو کنٹرول کرنے میں ناکام ہوگئی ہے۔
-

قومی خواتین کرکٹ ٹیم کا تربیتی کیمپ 27 جنوری سے شروع ہوگا
لاہور:آئی سی سی ویمنز ورلڈکپ 2022 کی تیاریوں کے لیےقومی خواتین کرکٹ ٹیم کا تربیتی کیمپ 27 جنوری بروز جمعرات سے کراچی میں قائم کردہ منیجڈ آئسولیشن میں شروع ہوگا۔ایونٹ چار مارچ سے تین اپریل تک نیوزی لینڈ میں جاری رہے گا۔
اسٹیٹ بنک اسٹیڈیم میں جاری رہنے والے دس روزہ تربیتی کیمپ میں شریک قومی خواتین کرکٹرز ہیڈ کوچ ڈیوڈ ہیمپ کی زیرنگرانی فٹنس اور اسکلز سیشنز میں شرکت کریں گی۔ اس دوران چار پریکٹس میچز بھی کھیلے جائیں گے۔ پریکٹس میچز میں شریک چھ انڈر 16 لڑکے بھی منیجڈ آئسولیشن کا حصہ ہوں گے۔
کراچی پہنچنے پر اسکواڈ میں شامل تمام ارکان کی آرائیول کوویڈ 19 ٹیسٹنگ کی جائے گی، جس کے نتائج منفی آنے کی صورت میں انہیں منیجڈ آئسولیشن میں بھیج دیا جائے گا۔ دوسرے کوویڈ 19 ٹیسٹ کی رپورٹ منفی آنے پر منیجڈ آئسولیشن کے تیسرے روز کھلاڑیوں کو انڈور میں بھی آپس میں ملنے کی اجازت ہوگی۔
وکٹ کیپر سدرہ نواز کا پیر کو لیا گیا ٹیسٹ مثبت آیا تھا، لہٰذا وہ اپنے گھر میں آئسولیشن مقرر کرنے کے بعدتاخیر سے کیمپ کو جوائن کریں گی۔
قومی خواتین اسکواڈ 9 فروری کی صبح نیوزی لینڈ روانہ ہوگا۔
اسکواڈ:
بسمہ معروف (کپتان)، ندا ڈار (نائب کپتان)، ایمن انور، عالیہ ریاض، انعم امین، ڈیانا بیگ، فاطمہ ثناء، غلام فاطمہ، جویریہ خان، منیبہ علی، ناہیدہ خان، نشرہ سندھو، عمیمہ سہیل، سدرہ امین اور سدرہ نواز(وکٹ کیپر)ٹریولنگ ریزرو: ارم جاوید، نجیہ علوی (وکٹ کیپر) اور طوبہٰ حسن
اسپورٹ اسٹاف: عائشہ جلیل (ٹیم منیجر)، ڈیوڈ ہیمپ (ہیڈ کوچ)، ارشد خان (اسسٹنٹ کوچ)، کامران حسین (اسسٹنٹ کوچ)، صبور احمد (اسٹرینتھ اینڈ کنڈیشنگ کوچ)، زبیر احمد (ویڈیو اینالسٹ)، احسن افتخار ناگی (میڈیا اینڈ ڈیجیٹل کنٹنٹ مینیجر) اور رفعت گل (فزیو تھراپسٹ)
آئی سی سی ویمنز ورلڈکپ 2022 میں پاکستان کے میچز:
6 مارچ : پاکستان بمقابلہ بھارت بمقام بے اوول، ترنگا
8 مارچ: پاکستان بمقابلہ آسٹریلیا بمقام بے اوول، ترنگا
11 مارچ : پاکستان بمقابلہ جنوبی افریقہ بمقام بے اوول، ترنگا
14 مارچ : پاکستان بمقابلہ بنگلہ دیش بمقام سیڈون پارک، ہملٹن
21 مارچ : پاکستان بمقابلہ ویسٹ انڈیز بمقام سیڈون پارک، ہملٹن
24 مارچ: پاکستان بمقابلہ انگلینڈبمقام ہیگلے اوول کرائسٹ چرچ
26 مارچ : پاکستان بمقابلہ نیوزی لینڈبمقام ہیگلے اوول کرائسٹ چرچ -

ٹیکس سال 2019 کا آڈٹ کرنے کے لیے ایف بی آر نے تھرڈ پارٹی کی خدمات حاصل کرنے کافیصلہ
اسلام آباد:ٹیکس سال 2019 کا آڈٹ کرنے کے لیے ایف بی آر نے تھرڈ پارٹی کی خدمات حاصل کرلیں ،اطلاعات کے مطابق فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) ٹیکس سال 2019 کے لیے کمپنیوں، ایسوسی ایشن آف پرسنز (AoPs) اور افراد کا آڈٹ کرنے کے لیے انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس، اور فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کے کیس تھرڈ پارٹی کے سپرد کرنے کافیصلہ کرلیا ہے
ذرائع کے مطابق ایف بی آر کو ٹیکس سال 2019 کے لیے کمپنیوں، اے او پیز اور افراد کے کیسز کا آڈٹ کرنے کے لیے تھرڈ پارٹی آڈیٹرز کے لیے فنڈنگ کی منظوری درکار ہے۔
ایف بی آر رینڈم بیلٹنگ کے ذریعے آڈٹ کے لیے کیسز کا انتخاب کرے گا۔ کیسز کا انتخاب رسک بیسڈ آڈٹ مینجمنٹ سسٹم (RAMS) کے ذریعے آڈٹ کے لیے کیا جائے گا۔ فنڈنگ کی منظوری کے بعد، پھر ایف بی آر تھرڈ پارٹی آڈیٹرز کا انتخاب کرے گا۔
ایف بی آر ٹیکس سال 2019 کے لیے کمپنیوں، اے او پیز اور افراد کے تھرڈ پارٹی آڈٹ کے لیے 50,000 سے زیادہ انکم ٹیکس کیسز کا احاطہ کرسکتا ہے
انکم ٹیکس آرڈیننس، 2001 کے تحت، بورڈ چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس کی ایک فرم کا تقرر کر سکتا ہے جیسا کہ چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس آرڈیننس، 1961 کے تحت بیان کیا گیا ہے یا لاگت اور مینجمنٹ اکاؤنٹنٹس کی ایک فرم جیسا کہ کاسٹ اینڈ مینجمنٹ اکاؤنٹنٹس ایکٹ 1966 کے تحت بیان کیا گیا ہے کسی بھی شخص یا افراد کے طبقے کے انکم ٹیکس کے معاملات، اور اس طرح کے آڈٹ کا دائرہ بورڈ یا کمشنر کیس ٹو کیس کی بنیاد پر طے کرے گا۔
یہ بھی فیصلہ کیا گیا ہے کہ تھرڈ پارٹی آڈیٹرز آڈٹ کے لیے منتخب کیے گئے ٹیکس دہندگان کے ڈیٹا کی رازداری کو یقینی بنانے کے لیے رازداری کے ضابطے کی پابندی کرنے کے پابند ہوں گے۔
انکم ٹیکس آرڈیننس، 2001 کے سیکشن 216(7) کے تحت رازداری کو چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ فرموں کے ذریعے اسٹامپ پیپرز پر یقینی بنایا جائے گا جیسا کہ چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ آرڈیننس، 1961 کے تحت بیان کیا گیا ہے
آڈٹ کے معیار کو بہتر،معیاری اور بروقت یقینی بنانے کے لیے، تھرڈ پارٹی آڈیٹرز کو ٹیکس دہندگان کے مالیاتی گوشواروں میں اعلان کردہ ٹرن اوور کے مطابق تین مختلف زمروں میں تقسیم کیا جائے گا۔
ایف بی آر کی فیلڈ فارمیشنز بشمول ان لینڈ ریونیو آڈٹ افسران اور افسران کی دیگر کیٹیگریز کو اس سال آڈٹ کیسز تفویض نہیں کیے جائیں گے۔ انہیں بے ترتیب رائے شماری کے ذریعے منتخب ہونے والے مقدمات کو نوٹس جاری کرنے کی بھی اجازت نہیں ہوگی۔
-

روس اور یوکرائن کے درمیان جنگ کا امکان:روسی فوج بھاری یا بھاری یوکرائن
لاہور:روس اور یوکرائن کے درمیان جنگ کا امکان:روسی فوج بھاری یا بھاری یوکرائن ,یوکرائن کی سرحدوں پر اس وقت سخت دباو ہے اور یہ اطلاعات ہیں کہ امریکہ اور اتحادی یوکرائن کو جنگ میں دھکیل رہے ہیں تاکہ روس کی فوجی قوت کو کمزور کیا جاسکے ، ایسی صورت میں اگرنیٹو اور دیگر قوتیں میدان میں اتریں تو یہ جنگ عالمی جنگ کی شکل میں تبدیل ہوسکتی ہے
ان حالات میں جبکہ دونوں طرف سے سخت چپقلش پائی جارہی ہے ، دفاعی ماہرین نے روسی اور یوکرائنی افواج کے درمیان قوت کے تخمینے اور اندازے لگانے شروع کردئیے ہیں ، اس حوالے سے جو تازہ تقابلی جائزہ پیش کیا گیا ہے اس کے مطابق روس کی باقاعدہ افواج کی تعداد نو لاکھ سے زائد ہے جبکہ اس کے مقابلے میں یوکرائن کی مسلح افواج کی تعداد دو لاکھ نو ہزار تک ہے
دفاعی ماہرین کا کہنا ہےکہ روس کو ریزور افواج کی صورت میں بیس لاکھ فوجیوں کی کمک حاصل ہوگی جبکہ یوکرائن کو صرف نو لاکھ فوجیوں کی مدد حاصل ہوگی
دفاعی ماہرین کی طرف سے جاری تفصیلات کے مطابق روس کے پاس آرٹلری کی تعداد 7571 ہے جبکہ یوکرائن کے پاس یہ تعداد 2040 ہے
روس کے پاس فوجی گاڑیوں کی تعداد 30 ہزار 122 ہے جبکہ یوکرائن کے پاس یہ تعداد 12303 ہے ، ایسے ہی روس کےپاس 12420 ٹینکس ہیں جبکہ یوکرائن کےپاس یہ تعداد صرف 2596 ہے

روس کے پاس جنگی ہیلی کاپٹرز کی تعداد 544 ہے جبکہ یوکرائن کے پاس یہ تعداد صرف 34 ہے ،روس کے پاس فائٹراٹیک ایئر کرافٹ کی تعداد 1511 ہے جبکہ یوکرائن کے پاس یہی تعداد صرف 98 ہے ،
روس کا سالانہ دفاعی بجٹ 61 ارب ڈالرز سے زائد ہے جبکہ یوکرائن کا دفاعی بجٹ 8 ارب ڈالرز سے زائد ہے یوں اگردیکھا جائےتو روس کے مقابلے میں یوکرائن کی فوجی طاقت نہ ہونے کے برابر ہے
لیکن یہی طاقت اس صورت میں روس کے مقابلے میں بڑھتی ہوئی نظرآتی ہے جب روس کی مخالف قوتیں امریکہ ، نیٹو اور دیگراتحادی یوکرائن کو بھاری اسلحہ دے رہے ہیں اور ان کی خواہش ہے کہ یوکرائن اور روس کا ٹکراو ہو ہی جائے تاکہ روس کی فوجی قوت کو زنگ لگ جائے یا پھرروس کوبہت زیادہ نقصان پہنچایا جاسکے ، اس صورت میں پھرامریکہ کے سامنے چین ہی بڑی قوت رہ جائے گا اور چین سے نمٹا امریکہ اور اتحادیون کے لیے آسان ہوگا
-

سانحہ ماڈل ٹاؤن کے مرکزی ملزم کی ڈی پی او وہاڑی پوسٹنگ پر حیرت ہے:تحریک منہاج القرآن
لاہور:سانحہ ماڈل ٹاؤن کے مرکزی ملزم کی ڈی پی او وہاڑی پوسٹنگ پر حیرت ہے:تحریک منہاج القرآن نےاپنے ردعمل کا اظہار کردیا، اطلاعات کے مطابق سانحہ ماڈل کیس کے مدعی منہاج القرآن انٹرنیشنل کے رہنما جواد احمد نے سانحہ ماڈل ٹاؤن کے مرکزی کردار اور نامزد پولیس افسر طارق عزیز کی ڈی پی او وہاڑی پوسٹنگ پر اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ سابق قاتل حکومت کی طرح اس دور میں بھی سانحہ ماڈل ٹاؤن کے قاتلوں کو ترقیاں اور پسندیدہ پوسٹس مل رہی ہیں،
سانحہ ماڈل کیس کے مدعی منہاج القرآن انٹرنیشنل کے رہنما جواد احمد نے کہا ہے کہ طارق عزیز کو انسداد دہشتگردی عدالت لاہور نے بطور ملزم طلب کر رکھا ہے،ابھی انہیں کسی عدالت نے بری نہیں کیا،قتل عام کیس کے ملزم اہم عہدوں پر ہونگے تو لاء اینڈ آرڈر اور نظام انصاف کا اللہ حافظ ہے۔ہم اپنے بے گناہ کارکنوں کے قاتلوں اور ان کے محافظوں کو قانون کے کٹہرے میں ضرور لائیں گے،
سانحہ ماڈل کیس کے مدعی منہاج القرآن انٹرنیشنل کے رہنما جواد احمد نےکہا ہے کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن میں ملوث تمام کرداروں کو کیفر کردار کو پہنچیں گے۔ تحریک انصاف کی حکومت بنانے میں عوامی تحریک کے کارکنان کا خون شامل ہے جب بھی کسی نامزد قاتل کو ترقی ملتی ہے تو ہمارا خون کھولتا ہے، عمران خان کو بشکل انصاف مظلوموں کا ساتھ دینا چاہیے۔
جواد حامد نے کہا کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن میں 14 بے گناہوں کے قتل میں نامزد پولیس افسر طارق عزیز کی ڈی پی او وہاڑی پوسٹنگ پر حیرت اور افسوس ہے۔جواد حامد نے کہا کہ موجودہ دور حکومت میں سانحہ ماڈل ٹاؤن کے ملزمان اور اہم کرداروں کو پہلے سے بہتر عہدوں پر تعینات کیا جا رہا ہے۔انہوں نے کہاکہ 7سال گزر جانے کے بعد بھی سانحہ ماڈل ٹاؤن کے مظلوموں کو انصاف نہیں ملا۔
-

شمالی وزیرستان : سکیورٹی فورسز کی کارروائی، 1 دہشتگرد جہنم واصل
میران شاہ:شمالی وزیرستان : سکیورٹی فورسز کی کارروائی، 1 دہشتگرد جہنم واصل اطلاعات کے مطابق پاک فوج کے جوان ملک وقوم ی حفاظت کے لیے اپنی جانیں نچھاور کررہے ہیں، تازہ واقعہ میں امن دشمنوں کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے سکیورٹی فورسز نے 1 دہشتگرد کو جہنم واصل کردیا ہے۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق سکیورٹی فورسز نے شمالی وزیرستان میں دہشتگردوں کی موجودگی کی اطلاع پر آپریشن کیا ، اسی دوران دہشتگردوں کے ساتھ فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق فائرنگ کے تبادلہ کے دوران دہشتگرد صدام ہلاک ہوگیا، دہشت گرد کے قبضے سے اسلحہ اور گولہ بارود برآمد کرلیا گیا ہے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق ہلاک دہشتگرد دیسی ساختہ بارودی سرنگیں بنانے کا ماہر تھا، صدام دہشتگردی کی کارروائیوں، ٹارگٹ کلنگ اور اغوا برائے تاوان کی کارروائیوں میں ملوث تھا۔
-

سرگودھا میں ڈکیتی کی واردات ۔ مزاحمت پر نوجوان قتل ۔
سرگودھا: عادل پارک میں گھر میں ڈکیتی کی واردات۔ مزاحمت پر نوجوان قتل
سرگودھا: ذراٸع کے مطابق 3 مسلح ڈاکو گھر میں داخل ہوئے اور اسلحہ کے زور پر اہل خانہ کو یرغمال بنا لیا
سرگودھا: ڈاکوئوں نے ڈکیتی کے دوران مزاحمت کرنے پر نوجوان پر فائرنگ کر دی
سرگودھا: فائرنگ سے ارشد محمود جاں بحق۔ ڈاکو 12 لاکھ روپے نقدی لیکر فرار ۔
سرگودھا: واقعہ کی اطلاع ملتے ہی پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئ ۔ ڈی پی او سرگودھا ڈاکٹر رضوان احمد خان نے واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے ڈی ایس پی سٹی سے رپورٹ طلب کرلی ہے*
سرگودھا وقوعہ کا مقدمہ درج کر کے ملزمان کی گرفتاری کا حکم دے دیا گیا ہے
سرگودھا وقوعہ کی اطلاع ملتے ہی ڈی ایس پی سٹی تصور خان بھاری نفری کے ھمراہ موقعہ پر پہنچ گئے
سرگودھا کرائم سین یونٹ اور فورینزک کی ٹیمیں بھی موقعہ پر پہنچ گئی ہیں
سرگودھا وقوعہ کا تمام پہلوؤں سے جائزہ لیا جا رہا ہے
سرگودھا وقوعہ کا مقدمہ درج کیا جا چکا ھے ۔