Baaghi TV

Author: +9251

  • امریکہ سرحدوں سے فوج ہٹالے ورنہ نتائج سنگین ہوں گے، روس کی دھمکی

    امریکہ سرحدوں سے فوج ہٹالے ورنہ نتائج سنگین ہوں گے، روس کی دھمکی

    ماسکو : امریکہ میں روس کے سفیر اناتولی انتونوف نے واشنگٹن سے مطالبہ کیا کہ وہ غیر ملکی توسیع کی جارحانہ بیان بازی کو ترک کرے اور اپنی فوجی صلاحیت کو روسی سرحدوں سے ہٹائے۔

    انہوں نے واضح الفاظ میں امریکہ کو متنبہ کیا کہ اگر فوری اقدامات نہ گئے تو بصورت دیگر نتائج کی ذمہ داری امریکا پر عائد ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس پیچھے ہٹنے کے لیے کوئی اور جگہ نہیں ہے اور نیٹو کی افواج روس کی سرحدوں تک پہنچ چکی ہیں۔

    ایلچی نے مزید کہا کہ امریکا روس کے خلاف نہ صرف زمینی بلکہ سمندر اور فضا میں بھی غلبہ حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے تاہم روس اپنے دفاع سے بالکل بھی غافل نہیں ہے۔
    .
    انتونوف نے میڈیا کو بتایا کہ امریکہ روس کے ساتھ مل کر بین الاقوامی امن اور سلامتی کے لیے ایک خصوصی ذمہ داری رکھتا ہے جیسا کہ اقوام متحدہ کے چارٹر میں بیان کیا گیا ہے۔

    روسی سفارت کار نے کہا کہ یہ وقت ہے کہ غیرملکی توسیع کی جارحانہ بیان بازی کو ترک کر دیا جائے اور اس بارے میں سوچیں کہ آنے والی نسلیں کیسے ایک ساتھ رہیں گی۔

    ادھرچین، فرانس، روس، برطانیہ اور امریکا نے اس بات سے اتفاق کیا ہے کہ جوہری جنگ پر فتح حاصل نہیں کی جا سکتی اور ایسی ہلاکت خیز جنگ کبھی شروع بھی نہیں ہونی چاہیے۔

    دنیا کی پانچ جوہری طاقتوں نے تین دسمبر پیر کے روز جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کو روکنے کا عہد کرتے ہوئے کہا ہے کہ جوہری جنگ ہرگز کوئی متبادل نہیں ہے۔

    چین، فرانس، روس، برطانیہ اور امریکا نے مشترکہ طور پر جاری کردہ اپنے ایک غیر معمولی بیان میں کہا، ”ہم اس بات میں پختہ یقین رکھتے ہیں کہ ایسے ہتھیاروں کے مزید پھیلاؤ کو روکنا بہت ضروری ہے۔” بیان میں مزید کہا گیا، ”جوہری جنگ جیتی نہیں جا سکتی اور کبھی لڑی بھی نہیں جانی چاہیے۔” پانچوں عالمی طاقتوں نے بیان میں اس بات سے بھی اتفاق کیا کہ جب تک، ”جوہری ہتھیار موجود رہیں گے اس وقت تک وہ بس، دفاعی مقاصد کو پورا کرنے، جارحیت اور جنگ کو روکنے کے لیے ہی ہوں گے۔”

    اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے پانچوں مستقل ارکان (پی فائیو) نے، ”جوہری ہتھیاروں کی دوڑ کو جلد از جلد ختم کرنے اور جوہری تخفیف اسلحہ سے متعلق موثر اقدامات پر نیک نیتی کے ساتھ مذاکرات کو آگے بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔” سبھی نے سخت اور موثر بین الاقوامی کنٹرول کے تحت عمومی اور مکمل تخفیف اسلحہ کے معاہدے پر بھی اتفاق کیا۔”

  • پنجاب بلدیاتی ایکٹ: کمیٹی نے4 سفارشات پیش کر دیں:ڈپٹی کمشنر کے اختیارات مسئلہ بن گئے

    پنجاب بلدیاتی ایکٹ: کمیٹی نے4 سفارشات پیش کر دیں:ڈپٹی کمشنر کے اختیارات مسئلہ بن گئے

    لاہور: پنجاب بلدیاتی ایکٹ: کمیٹی نے4 سفارشات پیش کر دیں:ڈپٹی کمشنر کے اختیارات مسئلہ بن گئے ،اطلاعات کے مطابق پنجاب میں نئے بلدیاتی ایکٹ 2021 پر پارلیمانی ترمیمی آرڈیننس کمیٹی نے اپنی سفارشات پیش کر دی ہیں۔

    تفصیلات کے مطابق اسٹینڈنگ کمیٹی کے اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آ گئی، ذرائع نے کہا ہے کہ کمیٹی کو ابھی تک 4 اہم سفارشات پیش کی گئی ہیں۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ کمیٹی کی جانب سے چیئرمین اور ڈپٹی چئیرمین کے لیے ایف اے کی شرط ختم کرنے کی سفارش کی گئی ہے، ن لیگ اور مسلم لیگ ق کی ڈپٹی کمشنر کے اختیارات بھی ختم کرنے کی سفارش سامنے آئی ہے۔

    ذرائع کے مطابق مسلم لیگ ن نے بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار نہ کرانے کی تجویز پیش کی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار کی بجائے ایک ہی روز کرائے جائیں۔

    راہ حق پارٹی کی پنجاب کونسل میں کم از کم ایک مستند عالم دین رکھنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔رکن پنجاب اسمبلی فاروق امان اللہ دریشک نے کہا کہ کمیٹی میں شامل ممبران کی سفارشات کے بعد اس سلسلے میں حتمی فیصلہ کریں گے۔

    ذرائع کے مطابق تحریک انصاف نے پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کی تیاریاں شروع کردی ہیں اور اس حوالے سے منصوبہ بندی بھی فائنل کرلی گئی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی زیر صدارت اعلیٰ سطح کاخصوصی اجلاس ہوا جس میں صداقت عباسی، راجہ بشارت اور حسان خاور سمیت دیگر نے شرکت کی، اور بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے بات چیت اور تجاویز پر غور کیا گیا۔

    ذرائع نے بتایا کہ اجلاس میں فیصلہ ہوا کہ ہرماہ کے پہلے ہفتے ایوان وزیر اعلی میں پنجاب کی ایڈوائزری کو نسل کا اجلاس ہوگا، بلدیاتی انتخابات کی تیاریوں کی رپورٹ ہر ماہ وزیر اعظم بھجوائی جائے گی۔

    ذرائع کے مطابق اجلاس میں بلدیاتی انتخابات سے پہلے تمام سرکاری محکموں میں خالی آسامیاں پر کر نے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے، اور ضلعی حکومتوں میں ڈیلی ویجز پر بھی بھر تیوں کیلئے اراکین اسمبلی کیلئے کوٹہ ہوگا۔ جب کہ اجلاس میں وزیر اعلی عثمان بزدار نے یقین دہانی کرائی کہ ترقیاتی فنڈذ کو 100 فیصد یقینی بنانا میری ذمہ داری ہے، جسے ذمہ داری کے ساتھ پورا کروں گا۔ وزیراعلیٰ نے بلدیاتی اداروں کے ایڈ منسٹرز کو اراکین اسمبلی کے ساتھ مل کر فنڈز استعمال کر نے کی بھی ہدایت کی۔

    ذرائع نے بتایا کہ اجلاس میں اعجاز چوہدری کی سر براہی میں کام کر نے والی تنظیم پر شدید تنقید کی گئی، جب کہ اعجاز چوہدری کی جانب سے بھی اظہار ناراضی سامنے آیا۔ اجلاس میں یہ بھی فیصلہ ہوا کہ پارٹی کی تنظیم میں پہلے عہدو ں پر رہنے والوں کی بجائے نئے لوگوں کو سامنے لایا جائے گا۔ جب کہ گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور پنجاب بھر کے کارکنوں کے ساتھ گورنر ہاؤس میں ہفتہ وار میٹنگز کیا کریں گے

  • باغی ٹی وی ایک اُمید :تحریر.ام سلمیٰ

    باغی ٹی وی ایک اُمید :تحریر.ام سلمیٰ

    سوشل میڈیا پے میری پہچان باغی ٹی وی کے زریعے ہوئی
    اور آج باغی ٹی وی کی 10 ویں سالگرہ ہے ایک ایسا ادارہ جس نے نئے لکھنے والوں کا اپنا پلیٹ فارم دیا ایسے وقت میں جب کوئی بھی اچھا ادارہ پہلے ریفرینس مانگتا ہے ایسے وقت میں میری پہلی ہی تحریر باغی ٹی وی پر شائع ہوئی بغیر کسی سفارش اور بغیر کسی ریفرینس کے.اور یہ ہی نہں مجھ جیسے اور کئی لکھاریوں کو باغی ٹی وی نے ایک پلیٹ فارم دیا جو پچھلے کئی سالوں سے باغی ٹی وی سے جُڑے ہیں. آئیں تھوڑا سا جانتے ہیں آج باغی ٹی وی کے بارے میں کون ہے جو اس ادارے کی سربراہی کر رہا ہے اور کس طرح صحافت کی دنیا میں نئے قدم رکھنے والوں کو بغیر کسی سفارش کے آگے بڑھنے کا موقع فراہم کر رہا ہے ؟اس ادارے کی سربراہی کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں مبشر لقمان صاحب سینئر تجزیہ نگار دفاعی امور کے ماہر صحافت اور ڈیجیٹل میڈیا کی جانی پہچانی شخصیت جن کی سربراہی میں یہ ادارہ پچھلے 10 سال سے بہت محنت سے ڈیجیٹل میڈیا میں اپنا ایک خاص مقام پیدا کر چکا ہے.باغی ٹی وی اس وقت چار زبانوں میں اپنی نشریات لوگوں تک پہنچا رہا ہے اور باغی ٹی وی اپنی نشریات کا دائرہ کار اور وسیع کر رہا ہے. باغی ٹی وی اس وقت اردو , انگلش,پشتو, چینی زبان میں نشریات آپ تک پہنچا رہا ہے.

    باغی ٹی وی کا سینٹرل آفس اس وقت لاہور سے آپریٹ کر رہا ہے اور اس کے علاوہ ایک اور مین آفس کراچی میں بھی کام کر رہا ہے.

    باغی ٹی وی جس کا آغاز آج سے ٹھیک 10 سال پہلے لاہورشہر میں ہوا آج دنیا کے کم وبیش 195 ممالک میں دیکھا اورسنا جاتا ہے اور پوری دنیا میں ہی باغی ٹی وی کے چّا ہنے والے موجود ہیں ، سوشل میڈیا کے اس ٹی وی چینل کے قیام کا مقصد کرپشن ، جہالت ، ظلم اور زیادتی کے خلاف جدوجہد کرنا اوران برائیوں کے خاتمے کے لیے معاشرے کی آوازکوبھرپور طریقے سے بلند کرنا اوراسے مناسب فورم پر پیش کرنا تھا باغی ٹی وی اس کام کو بہترین طریقے سے انجام دے رہا ہے اور رہے گا بھی

    اس چینل نے جہاں معاشرے میں برائیوں کے خلاف جدوجہد جاری رکھی وہاں حق ، سچ ، مظلوم کی مدد اوردنیا سے جہالت ختم کرنےکے لیے اپنا بھرپورکردار ادا کیا جسے دنیا تسلیم بھی کرتی ہے.اور معاشرے میں بہتری میں باغی ٹی وی کے کردار کو سراہتے بھی ہیں.

    باغی ٹی وی نہ صرف معاشرے میں ہونے والے ظلم کے خلاف بھرپور آواز اٹھا رہا ہے بلکہ معاشرے میں ہونے والے برائیوں کے سد باب کے لیے مستقل سوشل میڈیا پے ٹرینڈ کی صورت میں مہم جا رہی رکھتا ہے۔باغی ٹی وی کی سگریٹ نوشی کے خلاف بھرپور مہم کا میں بھی حصہ رہی اور باغی ٹی وی مستقل اس معاشرتی برائی کو ختم کرنے اور گورمنٹ سے اس پر ٹیکس بڑھانے کی بھرپور قسم کی مہم چلا رہا ہے.

    اس کے ساتھ ساتھ "باغی ٹی وی ” نے معاشرے کی کئی اہم مسائل کو بھی اجاگر کیااس دوران بہت سی رپورٹس پرسرکاری حکام ، سرکاری اداروں نے کارروائیاں کیں۔

    اس ٹی وی چینل نے پہلی مرتبہ پچھلے سال رمضان المبارک میں 24 گھنٹے پورا مہینہ لائیو نشریات چلاکرایک ریکارڈ قائم کردیا جوکہ اس سے پہلے سوشل میڈیا پلیٹ فارم سے کسی ٹی وی چینل کو یہ اعزاز حاصل نہیں ہوا.

    باغی ٹی وی کے ذریعے پورے پاکستان میں معیاری خبریں اورتجزیے تبصرے فراہم کیے جارہے ہیں‌ اس کے ساتھ ساتھ باغی ٹی وی کے ملک بھرمیں نمائندے ہیں جو لمحہ بہ لمحہ ہر طرح کی خبر آپ تک پہنچاتے ہیں.اُمید ہے باغی ٹی وی اس ہی طرح اپنے قارئین کو تازہ ترین خبریں پہنچتا رہے گا اور نئے آنے والے لکھاریوں کو بھی ضرور موقع دے گا جیسا ماضی میں کرتا رہا ہے.ایک بار پھر باغی ٹی وی کو 10 ویں سالگرہ مبارک ہو.
    Twitter
    Handle
    @umesalma_

  • کراچی میں کورونا کی بگڑتی صورتحال ، مثبت کیسز کی شرح 20 فیصد تک جا پہنچی

    کراچی میں کورونا کی بگڑتی صورتحال ، مثبت کیسز کی شرح 20 فیصد تک جا پہنچی

    شہر قائد میں کورونا کی شرح خطرناک حد تک بڑھ گئی اور مثبت کیسز کی شرح 20 فیصد تک جا پہنچی۔

    تفصیلات کے مطابق کراچی میں کورونا کے تیزی سے پھیلاؤ کے باعث صورتحال بگڑنے لگی ، شہر میں 1223 مزید کیسز کے ساتھ کورونا کی شرح 20.22 فیصد ہوگئی۔

    محکمہ صحت سندھ کا کہنا ہے کہ کراچی میں گزشتہ روز 6048 ٹیسٹ کیے گئے اور ایک دن کے دوران ایک ہزار سے زائد کیسز رپورٹ ہوئے۔

    محکمہ صحت نے بتایا کہ کراچی میں اومیکرون ویرینٹ کی شرح 95 فی صد سے زائد ہو چکی ہے۔

    دوسری جانب پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور میں کورونا کی شرح سات فیصد سے زائد ، اسلام آباد میں شرح ساڑھے 4فیصد سے زائد اور راولپنڈی میں بھی شرح 4 فیصد سے زائد ہوگئی ہے۔

    یاد رہے گذشتہ روز کراچی میں اومی کرون کا تیزی سے پھیلاؤ کے پیش نظر وزیرصحت سندھ عذرا پیچوہوکی زیرصدارت اجلاس میں کراچی میں تمام شہریوں کیلئے ماسک پہننا لازمی قرار دیتے ہوئے غیرویکسین شدہ افراد کی موجودگی پر شاپنگ مالز اور اسکول سیل کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔

  • حریم شاہ نے اپنے حرم میں آنے والوں پربجلی گرادی:ایسی دھمکی دی کہ سب دیکھتے ہی رہ گئے

    حریم شاہ نے اپنے حرم میں آنے والوں پربجلی گرادی:ایسی دھمکی دی کہ سب دیکھتے ہی رہ گئے

    راولپنڈی:حریم شاہ نے اپنے حرم میں آنے والوں پربجلی گرادی:ایسی دھمکی دی کہ سب دیکھتے ہی رہ گئے،اطلاعات ہیں‌ کہ ٹک ٹاک اسٹارجو کہ کبھی بڑی پہنچ رکھتی تھیں‌اوربڑے بڑے اس کے حرم میں آیا کرتے تھے آج اسی حریم شاہ نے انہیں حالات کوسامنے رکھتے ہوئے ایسی دھمکی دے دی ہے کہ سب دیکھتے ہی رہ گئے

    اس حوالے سے ٹک ٹاک اسٹار حریم شاہ نے کرنسی سمگلنگ کے خلاف کارروائی کرنے والے ادارے ایف آئی اے کو کھلا چیلنج کرتے ہوئے کہا ہے کہ میں وہ چیز ہوں کہ پاکستان کی حکومت نہ مجھے پکڑ سکتی ہے اور نہ ہی مجھے سمگلنگ سے روک سکتی ہے،

    حریم شاہ نے کہا ہے کہ پاکستان میں قانون صرف غریب لوگوں پر لاگو ہوتا ہے، حریم شاہ کا سوشل میڈیا پر سمگل شدہ کرنسی سامنے رکھ کر چیلنج واقعی حکومت وقت کےلیے ایک بہت بڑا چیلنج بن گیا ہے

     

    https://twitter.com/Mafabdurrehman/status/1481204097600700417

    ادھرحریم شاہ کی اس دھمکی کے بعد سوشل میڈیا پرعوام الناس کا کہنا ہے کہ اس دھمکی کے پیچھے دواسباب ہیں ایک تو حریم شاہ نے اس لیے چیلنج کیا ہے کہ حریم شاہ کو پتہ ہے کہ پکڑنے والے کبھی اس کے حرم میں آیا کرتے تھے تو وہ آج کس منہ سے آئیں گے

    لیکن اس بات پر ہر کسی کا اتفاق ہےکہ ایسی بد مست خاتون کواب لگام ڈال دینی چاہیے جس نے اپنی قابل توجہ شخصیت کی آڑ میں سب کو الجھا رکھا ہے

  • سپریم کورٹ نے بڑی شخصیت کوضمانت دے دی

    سپریم کورٹ نے بڑی شخصیت کوضمانت دے دی

    تامل ناڈو:سپریم کورٹ نے بڑی شخصیت کوضمانت دے دی ،اطلاعات کے مطابق بھارتی سپریم کورٹ نے تامل ناڈو سے تعلق رکھنے والے اے آئی اے ڈی ایم کے کے سابق وزیر راجینتھرا بھالاجی کو 4 ہفتوں کے لیے عبوری ضمانت دے دی ہے۔

    اسے تمل ناڈو پولیس نے 5 جنوری کو گرفتار کیا تھا، 23 دسمبر کو ان کے نام پر لک آؤٹ نوٹس جاری ہونے کے دو ہفتے بعد یہ پیش رفت ہوئی ہے

    تمل ناڈو پولیس کی خصوصی ٹیم نے اے آئی اے ڈی ایم کے کے سابق وزیر راجندر بالاجی کو ریاستی ڈیری منسٹر کی حیثیت سے اپنے دور میں آون سے 3 کروڑ روپے کے فنڈز کو غلط استعمال کرنے پر گرفتار کیا۔ آوین ایک قانونی کارپوریشن ہے جو تمل ناڈو حکومت کی ماہی پروری، حیوانات اور دودھ کی پیداوار کی وزارت کے تحت ہے۔

    اے آئی اے ڈی ایم کے کے سابق وزیر نے مدراس ہائی کورٹ کے ذریعہ ان کی پیشگی ضمانت کو مسترد کرنے کو چیلنج کرتے ہوئے عدالت عظمیٰ کا رخ کیا تھا

    سینئر ایڈوکیٹ مکل روہتگی، ریاست تمل ناڈو کی طرف سے بحث کرتے ہوئے، سابق وزیر کی طرف سے آرٹیکل 32 کے تحت دائر کی گئی ہیبیس کارپس کی درخواست کی مخالفت کی۔ روہتگی نے یہ بھی دلیل دی کہ گرفتاری کے بعد پیشگی ضمانت بے معنی ہو گئی۔

    سپریم کورٹ نے سابق وزیر کی 4 ہفتوں کی عبوری ضمانت منظور کرتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ وہ کسی گواہ سے بات نہیں کریں گے۔

  • اے ٹی ایم مشین 6 لاکھ روپے چوری کرنے والے تین بڑے نام سامنے آگئے

    اے ٹی ایم مشین 6 لاکھ روپے چوری کرنے والے تین بڑے نام سامنے آگئے

    نوئیڈا :اے ٹی ایم مشین 6 لاکھ روپے چوری کرنے والے تین بڑے نام سامنے آگئے ،اطلاعات کے مطابق پولیس نے بدھ کے روز تین لوگوں کو اے ٹی ایم مشین سے چھ لاکھ روپے لوٹنے اور نکالنے کے الزام میں گرفتار کیا۔ مشتبہ افراد کی شناخت 21 سالہ زبیر آزاد، 19 سالہ راشد اور 20 سالہ کلیم کے طور پر کی گئی ہے جو کہ ہریانہ کے پلوال کے رہنے والے ہیں۔

    پولیس نے معاملے کی تحقیقات شروع کر دی ہے۔ ہندوستان ٹائمز نے نوئیڈا کے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر آف پولیس (ADCP) کمار رنوجے سنگھ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا، ”ہم نے اے ٹی ایم سے سی سی ٹی وی فوٹیج کو اسکین کیا اور مشتبہ افراد کی شناخت کی۔ پولیس ٹیم کو اسی اے ٹی ایم کے قریب تعینات کیا گیا تھا تاکہ ملزمان واپس آنے کی صورت میں انہیں گرفتار کر سکیں۔ بدھ کو، تقریباً 11.15 بجے، تینوں مشتبہ افراد ماروتی سوئفٹ ڈزائر میں اے ٹی ایم پہنچے اور پولیس نے انہیں گرفتار کر لیا۔”

    پولیس نے دو ڈیبٹ کارڈوں کے ساتھ ایک کار، 21,000 روپے نقد اور تین موبائل فون بھی ضبط کیے ہیں۔

    پوچھ گچھ کے دوران ملزمان نے انکشاف کیا کہ وہ اکثر اے ٹی ایم جا کر نقد رقم نکالتے تھے۔ ان مشتبہ افراد نے مشین میں ہیرا پھیری اور دھوکہ دہی سے نقد رقم نکالنے کے لیے اس چال کا استعمال کیا۔ دو مشتبہ افراد اے ٹی ایم کیوسک میں داخل ہوتے تھے جبکہ تیسرا گارڈ کھڑا ہوتا تھا اور کسی کے آنے کی صورت میں انہیں الرٹ کرتا تھا۔

    ملزمان گزشتہ چھ ماہ سے ان فراڈ کی وارداتوں میں ملوث تھے۔

  • بھارت:جنسی زیادتی کے واقعات ہر10 منٹ بعد رپورٹ ہونے لگے:تازہ واقعہ نے حقیقت کھول دی

    بھارت:جنسی زیادتی کے واقعات ہر10 منٹ بعد رپورٹ ہونے لگے:تازہ واقعہ نے حقیقت کھول دی

    بھوپال :بھارت:جنسی زیادتی کے واقعات ہر10 منٹ بعد رپورٹ ہونے لگے:تازہ واقعہ نے حقیقت کھول دی ،اطلاعات کے مطابق مدھیہ پردیش کے بھوپال کے مضافات میں نذیر آباد تھانے کے علاقے میں ایک 26 سالہ شخص کے خلاف ایک 17 سالہ لڑکی کی عصمت دری اور بلیک میل کرنے کا مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

    ملزم اور متاثرہ ایک ہی گاؤں کے رہنے والے ہیں اور یہ معاملہ سوشل میڈیا پر 11ویں جماعت کی طالبہ لڑکی کی فحش تصاویر سامنے آنے کے بعد سامنے آیا۔

    پولیس کے مطابق متاثرہ لڑکی کے والد سے گاؤں کے ایک رہائشی نے رابطہ کیا جس نے انہیں اپنی بیٹی کی سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی فحش تصاویر کے بارے میں بتایا۔ اس کے بعد متاثرہ کے والد نے شکایت درج کرائی۔

    متاثرہ لڑکی نے الزام لگایا کہ ملزم نے اس سے دوستی اس وقت کی تھی جب وہ خاندانی مذہبی مقام پر گئے تھے۔

    "ملزم پچھلے سال 16 اپریل کو متاثرہ کے گھر میں گھس گیا اور اس کی عصمت دری کی۔ اس نے کچھ فحش تصویریں بھی کلک کیں اور متاثرہ سے جنسی خواہشات کی تلاش شروع کر دی،‘‘ نذیر آباد کے ایس ایچ او بی پی سنگھ نے کہا۔

    متاثرہ نے اپنے موبائل پر ملزم کا نمبر بلاک کر دیا اور اس سے ملنے سے انکار کر دیا اور جوابی طور پر اس کی فحش تصاویر گردش کرنے لگا۔

  • 72 سالہ بوڑھے نے اپنی خادمہ کی بیٹی کے ساتھ جنسی زیادتی کرڈالی

    72 سالہ بوڑھے نے اپنی خادمہ کی بیٹی کے ساتھ جنسی زیادتی کرڈالی

    حیدرآباد :72 سالہ بوڑھے نے اپنی خادمہ کی بیٹی کے ساتھ جنسی زیادتی کرڈالی،اطلاعات کے مطابق راچاکونڈہ پولیس نے ایک 72 سالہ شخص کو 13 سالہ نابالغ لڑکی کے ساتھ جنسی زیادتی کے الزام میں گرفتار کیا۔ گدھے ویرا ریڈی حیدرآباد میں قانون کی کتابوں کے مصنف اور پبلشر ہیں۔

    متاثرہ کی والدہ ملزم کی جائیداد پر ہاؤس ہیلپ اور واچ گارڈ کے طور پر کام کرتی تھیں۔

    “ستمبر 2021 میں، ملزم متاثرہ کے گھر آیا اور اس کے شرمگاہ کو چھو کر اس کے ساتھ بدتمیزی کی۔ بعد میں، دسمبر میں، جب متاثرہ کی ماں اپنے بچوں کو اپنے بھائی کے گھر چھوڑنے کے بعد اپنے آبائی مقام کے لیے روانہ ہوئی، تو ملزم دوبارہ دوسروں کی غیر موجودگی میں ان کے گھر گیا اور متاثرہ کا جنسی استحصال کیا،” راچاکونڈہ پولیس کا کہنا ہےکہ واقعی یہ واقعہ ہوا ہے اور اس بوڑھے شخص میں شرم وحیا کی کوئی چیز ہی نہیں‌

    متاثرہ نے بعد میں اپنی والدہ کو واقعہ کے بارے میں مطلع کیا، جنہوں نے میرپیٹ پولیس سے رجوع کیا اور اپنی بیٹی کے ساتھ ہونے والی زیادتی کا احوال بتایا

    پولیس نے مزید کہا، "ملزم متاثرہ کے خاندان کو مقدمہ واپس لینے کی دھمکی بھی دے رہا تھا ورنہ وہ اپنی موت میں ہراساں کیے جانے کا الزام لگا کر خودکشی کر لے گا۔”

    ملزم گدھے ویرا ریڈی نے ایک 13 سالہ لڑکی کے ساتھ زیادتی کی اور اسے دفعہ 342، 376 (3)، 506 اور 201 IPC اور POCSO ایکٹ-2012 کی دفعہ 3 اور 4 اور سیکشن 3 (I) (w) & Sec کے تحت گرفتار کیا گیا۔ میرپیٹ پولیس اسٹیشن میں SC/ST (POA) ایکٹ 1989 (جیسا کہ سال 2015 میں ترمیم کی گئی) کی 3 (2) (V)۔

  • اردو ہے جس کا نام وہ بے نام ہورہی ہے:سپریم کورٹ آف پاکستان کا بڑا حکم آگیا

    اردو ہے جس کا نام وہ بے نام ہورہی ہے:سپریم کورٹ آف پاکستان کا بڑا حکم آگیا

    اسلام آباد:اردو ہے جس کا نام وہ بے نام ہورہی ہے:سپریم کورٹ آف پاکستان کا بڑا حکم آگیا،اطلاعات کے مطابق سپریم کورٹ نے اردو زبان رائج نا کرنے پر وزارت تعلیم سے جواب طلب کرلیا۔

    سپریم کورٹ میں جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے اردو کو سرکاری زبان کے طور پر رائج نہ کرنے پر توہین عدالت کیس کی سماعت کی۔ سماعت کے دوران جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیئے کہ سپریم کورٹ کے اردو کو سرکاری زبان کے طور پر رائج کرنے کے حکم پر عمل ہونا چاہیے، تعلیم کے علاوہ ایک چیز تربیت بھی ہوتی ہے۔

    جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ شہریوں کی بھی ذمہ داری ہے کہ اپنی زبان کو زندہ رکھیں، اردو کو عالمی زبان بنانا چاہیے، تعلیمی اداروں میں اردو زبان کو کوئی فروغ نہیں مل رہا، وفاقی حکومت نشاندہی کرے کہ اردو زبان رائج کرنے کے کون سے ادارے ہیں۔

    جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس میں کہا کہ باقی صوبے اپنی زبانوں کا تحفظ کر رہے ہیں تو پنجاب کیوں پیچھے ہے، اردو زبان رائج کرنے کے معاملے کو اب سنجیدگی سے دیکھیں گے۔

    عدالت نے اردو زبان رائج نہ کرنے پر وزارت تعلیم سے جواب طلب کر لیا، جبکہ پنجاب میں پنجابی لٹریچر نہ پڑھائے جانے پر پنجاب حکومت سے بھی جواب طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردی۔