Baaghi TV

Author: +9251

  • نئے چیئرمین نیب کے ناموں پر ڈیڈ لاک:اتفاق رائے نہ ہونے کی صورت میں حتمی فیصلہ صدرمملکت کا ہوگا

    نئے چیئرمین نیب کے ناموں پر ڈیڈ لاک:اتفاق رائے نہ ہونے کی صورت میں حتمی فیصلہ صدرمملکت کا ہوگا

    اسلام آباد: نئے چیئرمین نیب کے ناموں پر ڈیڈ لاک:اتفاق رائے نہ ہونے کی صورت میں صدرمملکت کریں گے فیصلہ ،اطلاعات کے مطابق اپوزیشن اور حکومت کے درمیان نئے چیئرمین نیب کے ناموں پر ڈیڈ لاک برقرار ہے۔

    تفصیلات کے مطابق الیکشن کمیشن ممبران کی تعیناتی کے بعد اب نئے چیئرمین نیب کے لیے بھی ناموں پر ڈیڈلاک کا سامنا ہے، اپوزیشن اور حکومت تاحال نئے چیئرمین نیب کے ناموں کا فیصلہ نہ کر سکی ہے۔

    اسی حوالے سے فکر مند ن لیگ کے سینئر رہنما رانا ثنااللہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اس سلسلے میں کہا کہ نئے ناموں سے متعلق حکومت نے الٹا طریقہ شروع کر دیا ہے، نئے چیئرمین نیب کی تعیناتی کے لیے صدر کا اختیار ہی نہیں بنتا۔

    راناثنا اللہ نے کہا ہونا یہ چاہیے تھا کہ لیڈر آف دی ہاؤس، اور اپوزیشن لیڈر مشاورت کرتے، لیکن جو کام وزیر اعظم اور اپوزیشن لیڈر کا تھا وہ حکومت نے صدر کو سونپ دیا ہے۔انھوں نے بتایا کہ اب صدر مملکت دونوں لیڈرز کو خط لکھ رہا ہے اور نام مانگ رہا ہے۔

    یاد رہے کہ پیر کو ذرائع نے خبر دی تھی کہ حکومت کی جانب سے نئے چیئرمین نیب کے لیے سیکریٹری داخلہ یوسف نسیم کھوکر کا نام تجویز کیا گیا ہے، تاہم وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے اس کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ چیئرمین نیب کے عہدے کے لیے پی ٹی آئی نے کوئی ‏نام تجویز نہیں کیا، نام تجویز کرنے سے متعلق خبریں درست نہیں۔

    دوسری طرف یہ بھی اطلاعات ہیں کہ اپوزیشن اور حکومت کے درمیان چیئرمین نیب کی تقرری کے حوالے سے اگرکوئی اتفاق رائے پیدا نہیں ہوتا توپھرحتمی اوربہترفیصلے کے لیے صدرمملکت اپنے اختیارات استعمال کرتے ہوئے کوئی تقرر کریں‌گے

    اس صورت میں‌ یہ امکان بھی ہوسکتا ہے کہ ن لیگ صدر کے اختیارات کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کردے اور کسی متفقہ فیصلے کوقبول کرنے سے بھی انکار کردے ، تاہم یہ امکان زیادہ ہے کہ اس کی نوبت ہی نہیں آئے گی اور معاملات درست سمت میں چل جائیں گے

  • صرف سانس لینے اور توشہ خانہ کی گھڑیاں لینے پر ٹیکس نہیں

    صرف سانس لینے اور توشہ خانہ کی گھڑیاں لینے پر ٹیکس نہیں

    سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا ہے کہ حکومت نے کھانے پینے کی اشیا پر ظالمانہ اور مجرمانہ ٹیکسز لگا دیے ہیں، صرف سانس لینے اور توشہ خانہ کی گھڑیاں لینے پر ٹیکس نہیں ہے۔

    حکومت کے معاشی اقدامات کے سلسلے میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما مفتاح اسماعیل نے کہا کہ اس حکومت نے کھانے پینے کی اشیا، سولرپینلز پر ٹیکس لگا دیا ہے، پاکستان ہر سال ساڑھے 3 ارب ڈالر کا کھانے کا تیل امپورٹ کرتا ہے، اور عمران حکومت نے تیل کے بیج پر ٹیکس لگا دیا ہے۔

    مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ حکومت آئی ایم ایف سے مل کر عوام سے لڑ رہی ہے، حکومت جو کر رہی ہے میں اسے ظالمانہ اور مجرمانہ ٹیکس سمجھتا ہوں، نواز شریف کے دور میں خوردنی تیل 150 روپے کا ہوتا تھا۔

    ن لیگی رہنما نے مزید کہا شکر ہے انھوں نے سانس لینے پر ٹیکس نہیں لگایا، صرف ایک سانس لینے اور دوسرا توشہ خانہ کی گھڑیوں پر ٹیکس نہیں ہے،موبائل لوڈ پر ٹیکس ڈبل کر دیا گیا، لال مرچ پر بھی ٹیکس لگا دیا گیا، سب ٹیکس لگا کر پھر کہتے ہیں ہم نے اتنا ٹیکس نہیں لگایا، توشہ خانہ کی گھڑیاں وزیر اعظم لے جائے تو اس پر ٹیکس نہیں ہے۔

    مفتاح اسماعیل نے کہا اسٹیٹ بینک کا گورنر 5 سال کے لیے ہوگا اور ایکسٹینشن بھی 5 سال ہوگی، ڈپٹی گورنر اسٹیٹ بینک بھی گورنر لگائے گا، گورنر اسٹیٹ بینک کی مکمل اجارہ داری ہوگی، اسٹیٹ بینک آف پاکستان نہیں رہا بلکہ اسٹیٹ بینک آف آئی ایم ایف بنا دیا گیا، دنیا کے کسی ملک میں شاید ہی ایسا قانون ہو جو یہاں بنایا گیا ہے۔

    مفتاح اسماعیل نے کہا اسٹیٹ بنک اب حکومت کو قرض نہیں دے سکتا، حکومت نے آئی ایم ایف کی ایما پر اپنے ہاتھ خود باندھ دیے ہیں، پارلیمنٹ ان سے مشورے کے بغیر کوئی قانون سازی نہیں کر سکتی، اسٹیٹ بینک جو سمری اور ریفرنس بھیجے گا وزارت خزانہ کو من و عن آگے بھیجنا ہوگا۔

    انھوں نے کہا پاکستان کی تاریخ میں تو دور یہ دنیا میں کہیں نہیں ہوتا، آپ اپنے قرضوں کے تحت آئی ایم ایف کی غلامی کر رہے ہیں۔

  • روس اور امریکہ کا ایک دوسرے کے گریبان کو ہاتھ:دھمکیاں:دنیا میں کسی بھی کچھ ہوسکتا ہے

    روس اور امریکہ کا ایک دوسرے کے گریبان کو ہاتھ:دھمکیاں:دنیا میں کسی بھی کچھ ہوسکتا ہے

    واشنگٹن : روس اور امریکہ کا ایک دوسرے کے گریبان کو ہاتھ:دھمکیاں:دنیا میں کسی بھی کچھ ہوسکتا ہے،اطلاعات کے مطابق یوکرین کے تنازعہ پر امریکہ اور روس ایک بار پھر آمنے سامنے ہیں ۔تناو بڑھتا جارہا ہے۔ دنیا کو روس کے ارادے نیک نظر نہیں آرہے ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ امریکی صدر جو بائیڈن نے اپنے روسی ہم منصب ولادی میر پوتن کو خبردار کیا ہے کہ یوکرین پر کسی بھی حملے کی صورت میں سخت امریکی ردعمل سامنے آئے گا جب کہ روس نے جواباً کہا کہ ماسکو مخالف پابندیاں ایک ’سنگین غلطی‘ ہوگی۔دونوں صدور نے یہ باتیں تین ہفتوں میں ہونے والی دوسری براہ راست بات چیت کے دوران کیں۔

    دونوں سربراہوں کے درمیان جمعرات کو ہونے والی 50 منٹ کی فون کال سے روس اور مغربی حمایت یافتہ یوکرین کے درمیان کشیدہ صورتحال پر مزید سفارت کاری کی حمایت کا اشارہ ملا ہے۔

    کریملن میں خارجہ پالیسی کے مشیر یوری اوشاکوف نے صحافیوں کو بتایا کہ صدر پوتن مجموعی طور پر اس بات چیت سے ’خوش‘ تھے جب کہ واشنگٹن میں ایک سینیئر امریکی اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ گفتگو میں رہنماؤں کا لہجہ ’سنجیدہ اور ٹھوس‘ تھا۔

    لیکن گفتگو میں 10 جنوری کو اعلیٰ سطحی روسی اور امریکی حکام کے درمیان ہونے والی بات چیت سے پہلے اختلاف کی گہرائی یا مشرقی یورپ میں کھیلے جانے والے اونچے داؤ کو چھپانے کی کوئی بات نہیں تھی۔

    امریکی پریس سیکریٹری جین ساکی نے ایک بیان میں کہا کہ صدر بائیڈن نے واضح کیا کہ اگر روس نے یوکرین پر حملہ کیا تو امریکہ اور اس کے اتحادی اور شراکت دار ماسکو کو فیصلہ کن جواب دیں گے۔ادھر اوشاکوف نے یوکرین پر حملے کے ردعمل کے طور پر اقتصادی پابندیوں کی واشنگٹن کی بار بار دھمکیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ‘یہ ایک سنگین غلطی ہوگی۔ ہمیں امید ہے کہ ایسا نہیں ہوگا۔

    اوشاکوف نے یہ بھی کہا کہ روس جنیوا میں جنوری میں ہونے والی بات چیت کے ٹھوس ’نتیجے‘ کے لیے پر امید ہے جب کہ وائٹ ہاؤس نے کہا کہ وہ بھی چاہتا ہے کہ ماسکو یوکرین کی سرحد پر روس کی بڑی فوجی موجودگی سے پیدا ہونے والی کشیدگی میں کمی کے لیے کارروائی کرے۔

    ساکی نے کہاکہ’صدر بائیڈن نے اس بات کا اعادہ کیا کہ ان مذاکرات میں خاطر خواہ پیش رفت صرف اس صورت میں ممکن ہے جب یہ بات چیت کشیدگی کی بجائے پرامن ماحول میں ہو۔

    ٹیلی فون کال کے بعد ایک ریڈ آؤٹ میں کریملن نے زور دیا کہ بائیڈن نے پوتن کو بتایا کہ یوکرین میں امریکی ہتھیاروں کو نصب نہیں کیا جائے گا۔ تاہم وائٹ ہاؤس نے کہا کہ بائیڈن نے محض موجودہ پالیسی کی توثیق کی ہے۔ ایک امریکی اہلکار نے اے ایف پی کو بتایاکہ صدر بائیڈن نے واضح کیا کہ امریکہ یوکرین کو دفاعی سکیورٹی کے حوالے سے امداد فراہم کر رہا ہے اور جارحانہ حملہ کرنے والے ہتھیار نہیں دے رہا۔ یہ کوئی نیا عہد نہیں تھا۔

    وائٹ ہاؤس کے حکام نے کہا کہ دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ کئی ایسے شعبے ہیں جہاں دونوں فریق بامعنی طور پر پیش رفت کر سکتے ہیں لیکن ایسے اختلافات بھی موجود ہیں جنہیں حل کرنا ممکن نہیں۔

    مثال کے طور پر روس نے واضح کیا کہ وہ ایک تحریری عہد چاہتا ہے کہ یوکرین کو کبھی بھی نیٹو میں شامل ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور نہ ہی وہاں اتحادی ممالک اپنے ہتھیار نصب کریں گے، یہ مطالبہ بائیڈن انتظامیہ نے مسترد کر دیا۔

    جنیوا میں ہونے والی بات چیت کے دوران روس کے مطالبات پر تبادلہ خیال کیا جائے گا لیکن یہ ابھی تک واضح نہیں کہ بحران کو کم کرنے کے بدلے میں بائیڈن پوتن کو کیا پیشکش کرنے کو تیار ہوں گے۔

    دریں اثنا نیٹو کے اہم ارکان نے واضح کیا کہ مستقبل قریب میں اتحاد کو وسعت دینے کی کوئی خواہش نہیں لیکن مذاکرات کی ناکامی کی صورت میں یہ روس کو سابق سویت ریاست پر حملہ کرنے کا بہانہ فراہم کرے گا۔

  • حکومت  نے ناچ گانے ،آتش بازی ودیگرمضرصحت ومضرمعاشرہ تفریحات پرپابندی لگادی

    حکومت نے ناچ گانے ،آتش بازی ودیگرمضرصحت ومضرمعاشرہ تفریحات پرپابندی لگادی

    لاہور: ڈسٹرکٹ گورنمنٹ لاہور نے ناچ گانے ،آتش بازی ودیگرمضرصحت ومضرمعاشرہ تفریحات پرپابندی لگادی ،اطلاعات کے مطابق پنجاب حکومت کی طرف سے جاری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ لاہور کی ضلعی انتظامیہ نے منگل کے روز نئے سال کے موقع پر عوامی محافل موسیقی، آتش بازی، ہوائی فائرنگ اور جشن کی دیگر تقریبات پر پابندی عائد کر دی ہے۔

    تفصیلات کے مطابق صوبائی دارالحکومت میں سموگ کی بگڑتی ہوئی صورتحال کے پیش نظر ضلعی انتظامیہ نے آتش بازی پر پابندی عائد کردی۔ حکومت نے نئے سال کے موقع پر میگا سٹی میں آتش بازی کی نمائش کی اجازت طلب کرنے والی تمام درخواستوں کو بھی مسترد کر دیا۔

    دریں اثنا، سیکورٹی وجوہات اور Omicron Covid کے مختلف کیسز کی وجہ سے ضلعی انتظامیہ کی جانب سے عوامی محافل اور دیگر تقریبات پر پابندی لگا دی گئی تھی

    ادھر آج صوبہ سندھ کے دارالحکومت کراچی میں سال نو کے موقع پر سخت سیکیورٹی اقدامات کیے گئے ہیں، سی ویو جانے والے راستے پر اہلکار تعینات ہوں گے جبکہ بغیر سائلنسر والی کسی موٹر سائیکل کو نہیں چھوڑا جائے گا۔

    تفصیلات کے مطابق سال نو کے موقع پر ڈسٹرکٹ ساؤتھ میں سخت سیکیورٹی اقدامات کیے گئے ہیں، ایس ایس پی ساؤتھ زبیر نذیر کا کہنا ہے کہ مجموعی طور پر 2 ہزار 250 اہلکار تعینات کیے جائیں گے، مختلف راستوں پر 1 ہزار 557 افسران و اہلکار ڈیوٹی انجام دیں گے۔

    ایس ایس پی کا کہنا ہے کہ ہوائی فائرنگ کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی، اقدام قتل سمیت دیگر دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ ڈسٹرکٹ ساؤتھ میں 6 پولیس لائنز ہیں، کوئی پولیس اہلکار یا اس کا رشتہ دار فائرنگ نہ کرے، پولیس لائنز سے باقاعدہ سرٹیفکٹ لیے گئے ہیں، مختلف راستوں پر ناکے لگائے جائیں گے۔

    ایس ایس پی کے مطابق حساس مقامات کی چھتوں پر پولیس اہلکار تعینات ہوں گے، سی ویو پر ایس ایس یو کے اہلکار بھی تعینات ہوں گے۔ تمام حساس مقامات پر نفری تعینات کی جائے گی۔ بغیر سائلنسر والی کسی موٹر سائیکل کو نہیں چھوڑا جائے گا۔

    انہوں نے مزید کہا کہ پولیس سیکیورٹی کو مجموعی طور پر 9 سیکٹرز پر بنایا گیا ہے، ایف ٹی سی سے دو دریا، 3 تلوار سے اختر کالونی کالا پل تک 11 افسران موجود ہوں گے۔

  • افغانستان کی نئی حکومت کوسب سے پہلے کون تسلیم کرنے جارہا ہے؟اہم خبرآگئی

    افغانستان کی نئی حکومت کوسب سے پہلے کون تسلیم کرنے جارہا ہے؟اہم خبرآگئی

    کابل:افغانستان کی نئی حکومت کوسب سے پہلے کون تسلیم کرنے جارہا ہے؟اہم خبرآگئی،اطلاعات کے مطابق افغانستان کے لئے روس کےخصوصی نمائندے ضمیر کابلوف کا کہنا ہے کہ طالبان حکومت کو عملی طورپر تسلیم کیا جا رہا ہے۔

    اس حوالے سے روس کے خصوصی نمائندہ برائے افغانستان ضمیر کابلوف کہتےہیں کہ اسی سلسلے میں‌ آنے والے سال کے پہلے مہینے جنوری کے آخر میں کابل میں ٹرائیکا پلس کانفرنس منعقد کی جارہی ہے۔

    روسی میڈیاکو دیئےگئے انٹرویو میں افغانستان کے لئے روسی خصوصی نمائندے ضمیرکابلوف کا طالبان حکومت کو تسلیم کرنے کے سوال پر کہنا تھا کہ سیاسی طور پر تسلیم کرنا ایک علامتی عمل ہے، تاہم عملی طور پر تسلیم کیا جا رہا ہے۔

    انہوں نے بتایا کہ طالبان وفد نے ماسکو اجلاس میں شرکت کی جس میں انہیں 10ممالک کےمندوبین سے ملنے کا موقع ملا ہے۔ ضمیر کابلوف کا کہنا تھا کہ افغانستان میں جامع حکومت، خواتین کےحقوق کے احترام کی ضرورت ہے۔

    طالبان حکام کو اس بارے میں سنجیدگی سے سوچناچاہیے، افغان خواتین کیلئے تعلیم، سماجی، سیاسی سرگرمیوں تک رسائی ہونا اہم ہے۔ان کا کہنا تھا کہ کابل میں جنوری کےآخر میں ٹرائیکا پلس کانفرنس ہوگی،کابل میں ٹرائیکا پلس کانفرنس کی حتمی تاریخ متعین نہیں کی گئی ہے۔

    دوسری طرف پاکستان کی طرف سے افغانستان کو انسانی بحران سے بچانے کے لیے کوششیں تیز ہوگئی ہیں اوراب پاکستان افغان بھائیوں‌کے لیے دنیا بھر میں آواز بلند کررہاہے، یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ افغانستان میں ہونے والی اس کانفرنس میں چین اور پاکستان بھی شامل ہوں گے ، تاہم یہ نہیں بتایا گیاکہ کیا افغان طالبان کی حکومت کو تسلیم کرنے کی پہل پہلے چین کرے گا یا پھر روس ، پاکستان کی دونوں صورتوں میں کامیابی ہے

  • بھارت کی تقسیم کا وقت آگیا:خالصتان ریفرنڈم کا ساتواں مرحلہ آج برطانیہ میں شروع ہوچکا

    بھارت کی تقسیم کا وقت آگیا:خالصتان ریفرنڈم کا ساتواں مرحلہ آج برطانیہ میں شروع ہوچکا

    لندن:بھارت کی تقسیم کا وقت آگیا:خالصتان ریفرنڈم کا ساتواں مرحلہ آج برطانیہ میں شروع ہوچکا،اطلاعات کے مطابق بھارت میں سکھوں کے آزاد وطن خالصتان کے لیے ریفرنڈم کا ساتواں مرحلہ آج برطانیہ میں منعقد ہو رہا ہے۔یہ ریفرنڈم برطانیہ میں گرودوارہ سنگھ سبھا ہانسلو، گرودوارہ سنگھ سبھا سلو، گرو نانک گوردوارہ ویڈنس فیلڈ اور گرو نانک گوردوارہ سمتھ وِک سمیت چار گردواروں میں منعقد ہورہا ہے ۔

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھارتی پروپیگنڈے کے باوجود برطانیہ اور جنیوا میں سکھوں کی بڑی تعدادنے ریفرنڈم کے ابتدائی مرحلوں میں حصہ لیا۔ خالصتان ریفرنڈم آئندہ دنوں میں امریکہ، کینیڈا، آسٹریلیا اور بھارتی پنجاب میں بھی منعقد کئے جائیں گے ۔ ریفرنڈم کے نتائج اقوام متحدہ اور بین الاقوامی اداروں کوبھی پیش کئے جائیں گے تاکہ بھارت میں سکھوں کے علیحدہ وطن کیلئے وسیع تر اتفاق رائے پیدا کیا جا سکے۔سکھ رہنمائوں نے کہا ہے کہ بھارت غیر انسانی ہتھکنڈوں کے ذریعے سکھوں کی آزادی کی تحریک کو دبانے کی کوشش کر رہا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ اپنے علیحدہ وطن کیلئے ہونیوالے ریفرنڈم میں سکھوں کی بڑی تعداد کی شرکت نے بھارت کو بوکھلاہٹ کا شکار کر دیا ہے۔ بھارتی حکومت نے برطانیہ میں خالصتان ریفرنڈم کو رکوانے کیلئے ہر ممکن سفارتی کوششیں کی لیکن برطانوی حکومت نے سکھوں کو ریفرنڈم کے انعقاد سے نہیں روکا۔بیرون ملک مقیم سکھ برادری کے عزم اور خالصتان ریفرنڈم میں ان کی بڑی تعداد میں شرکت کے باعث بوکھلاہٹ کا شکار بھارت اپنے علیحدہ وطن کیلئے سکھوں کی مقامی تحریک کو بدنام کرنے کیلئے جعلی فلیگ آپریشنز کا سہارا لینے کی کوشش کر رہا ہے ۔

    بھارتی سیاسی قیادت جعلی فلیگ آپریشنزکے ذریعے بیرون ملک سکھ فار جسٹس اور خالصتان کی حامی دیگر تنظیموں کے خلاف مقدمات کے اندراج کی کوشش کر رہی ہے ۔مودی کی فسطائی بھارتی حکومت نے لدھیانہ دھماکے میں سکھ فار جسٹس کے ملوث ہونے کا الزام عائد کیا ہے ۔ جسوندر سنگھ ملتانی نے جن پر دھماکے میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا گیا ہے، بھارتی حکومت کے دعویٰ کو مسترد کرتے ہوئے کہاہے کہ ان کی لڑائی ہتھیاروں سے نہیں قلم کے ذریعے ہے ۔

    انہوں نے مزید کہا کہ بھارتی حکومت سکھ فار جسٹس اور انہیں بدنام کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ بھارت سکھ فار جسٹس کے لیڈروں اور کارکنوں کو مغربی ممالک میں”دہشت گرد” کے طور پر تسلیم کرانے کی ہر ممکن کوشش کر رہا ہے۔ جسوندر سنگھ ملتانی نے کہاکہ سکھ فار جسٹس نے خالصتان ریفرنڈم کو ناجائز قراردینے کی بھارت کی کوششوں سے متعلق ایک رپورٹ اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کے دفتر کوپیش کی ہے اور عالمی ادارے کے حکام کو مطلع کیا گیاہے کہ مودی کی فسطائی بھارتی حکومت ان کی ثقافت اور تاریخ کو مسخ کر رہی ہے۔

    انہوں نے مزید کہاکہ مودی حکومت سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو ہائپر انڈین نیشنل ازم کو آگے بڑھانے اور خالصتان ریفرنڈم کی مہم کو دبانے کے لیے استعمال کر رہی ہے ۔

  • قادیانی قریبی رشتہ داروں کی طرف سے خاتون سے باربارجنسی زیادتی :لندن پولیس نے تفتیش شروع کردی

    قادیانی قریبی رشتہ داروں کی طرف سے خاتون سے باربارجنسی زیادتی :لندن پولیس نے تفتیش شروع کردی

    لندن :خاتون کا قادیانی جماعت کےسربراہ کے قریبی رشتہ داروں کی طرف سےباربارجنسی زیادتی کا الزام:لندن پولیس نے تفتیش شروع کردی،اطلاعات ہیں کہ لندن میں‌ احمدی خاتون کی طرف سے اس کے والد اور جماعت کے عالمی رہنما کے قریبی خاندان کے افراد کی جانب سے "تاریخی جنسی زیادتی” کے الزامات کی لندن پولیس ایک ایسے معاملے میں تحقیقات کر رہی ہے جس نے پوری دنیا میں احمدیہ حلقوں میں گونج اٹھا ہے۔

    چھتیس سالہ ندا الناصر تحریک کے پانچویں روحانی پیشوا مرزا مسرور احمد کی قریبی رشتہ دار ہیں اور مختلف خطوط پر تیسرے اور چوتھے دونوں رہنماؤں کی پوتی ہیں۔ وہ برطانیہ میں پیدا ہوئیں اور رہتی ہیں جہاں مرزا مسرور احمد بھی رہتے ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق اس سال جولائی میں اس نے لندن میٹروپولیٹن پولیس کو شکایت درج کروائی، جس نے تصدیق کی ہے کہ تحقیقات جاری ہیں۔ "22 جولائی 2021 کو، پولیس کو 1987 اور 2012 کے درمیان وینڈز ورتھ، سرے اور ڈورسیٹ میں تاریخی جنسی زیادتی کے متعدد الزامات کی درخواست موصول ہوئی ۔ میٹ کی ساؤتھ ویسٹ پبلک پروٹیکشن ٹیم خفیہ تفتیش کر رہے ہیں۔ لندن میٹروپولیٹن پولیس کے پریس بیورو نے ای میل کے ذریعے اس رپورٹر کو بتایا کہ احتیاط کے تحت ایک آدمی سے انٹرویو لیا گیا ہے اور ان سے پوچھ گچھ جاری ہے۔

    ندا نے روحانی پیشوا کے بہنوئی محمود شاہ اور ربوہ کے ایک احمدی اسپتال کے آرتھوپیڈک ڈاکٹر اور رہنما کے رشتہ دار ڈاکٹر مرزا مبشر احمد پر ربوہ میں اپنے چار سالہ قیام کے دوران بار بار اس کے ساتھ زیادتی کا الزام لگایا ہے۔ اس نے اپنے ہی والد پر یہ الزام بھی لگایا ہے کہ وہ برطانیہ میں کم عمری میں کئی سالوں میں اس کے ساتھ بار بار ریپ کرتا رہا۔ اس نے امریکی جماعت کے رہنما اور سربراہ کے بھائی مرزا مغفور احمد پر الزام لگایا ہے کہ انہوں نے اسے جنسی تعلقات پر آمادہ کرنے کی کوشش کی جس سے اس نے انکار کر دیا۔

    اس تنازعہ نے دنیا بھر میں پھیلی 10 ملین مضبوط اور قریبی احمدیہ کمیونٹی کی اعلیٰ قیادت کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔

    لندن پولیس کے پاس جانے سے پہلے ندا سب سے پہلے جماعت کے رہنما کے پاس الزامات کے ساتھ پانچ ماہ گئی، اور بار بار ان پر ردعمل کے لیے دباؤ ڈالا۔ روحانی پیشوا نے اسے 3 جولائی کو بلایا، اس سے کہا کہ وہ خاندان سے باہر کسی پر الزام نہ لگائے۔ اس نے اسے بتایا کہ اگر وہ جماعت کے اندر کوئی کارروائی نہیں کر رہا تو وہ پولیس کے پاس جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ کچھ نہیں ہوگا اور لوگ چند دنوں میں بھول جائیں گے۔ ندا نے ان کی 44 منٹ کی گفتگو ریکارڈ کی، جو اردو میں کی گئی، اور اسے 11 دسمبر کو سوشل میڈیا پر پوسٹ کیا گیا۔ اگر وہ عوامی طور پر بات کرتی ہے، تو اس نے اسے بتایا، اسے سابقہ ​​بات چیت کا سامنا کرنا پڑے گا۔ جماعت کی قیادت نے ویڈیو کی صداقت کو چیلنج نہیں کیا اور ندا نے تصدیق کی کہ ریکارڈنگ حقیقی ہے۔

    ندا 22 جولائی 2021 کو پولیس کے پاس گئی، جب اس نے لندن میں اپنے ہوٹل کے کمرے سے فون کیا جب پاکستان کے حالیہ دورے کے بعد قرنطینہ میں رکھا گیا تھا۔ اس نے اس رپورٹر کو بتایا کہ اس نے پولیس کو مبشر کی 322 ای میلز میں سے 15 اور محمود شاہ کے ساتھ واٹس ایپ چیٹس اپنے دعووں کی تائید کے لیے فراہم کی ہیں۔ برطانیہ کی جماعت کے بعض ذرائع نے بتایا کہ لقمان، مسرور اور جماعت کے بعض دیگر رہنماؤں نے پولیس کے سامنے اپنے بیانات قلمبند کرائے ہیں۔

    رفیق احمد حیات نے یو کے جماعت کے لیے واٹس ایپ پیغام پر بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ الزامات کی تحقیقات کے لیے برطانیہ کے قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مشاورت کر رہے ہیں۔ "پولیس کی جاری تحقیقات کے پیش نظر، میں جماعت کے تمام اراکین سے درخواست کروں گا کہ وہ ان مسائل پر قیاس آرائیاں کرنے یا تبصرہ کرنے یا آڈیو ریکارڈنگ کو شیئر کرنے یا دوبارہ نشر کرنے سے گریز کریں، چاہے وہ جماعت کے اندر ہو یا بیرونی۔”

    برطانیہ کی جماعت کے سیکرٹری خارجہ فرید احمد نے اس رپورٹر کو ای میل کے ذریعے بتایا کہ یہ معاملہ پولیس کے پاس ہے اور جماعت ان کے ساتھ تعاون کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ "ایک الگ داخلی تفتیش بھی ہو رہی ہے لیکن ایک انتہائی حساس صورتحال اور تمام ملوث افراد کے رازداری کے حقوق کا مطلب ہے کہ ہم اس معاملے پر کسی بھی وضاحت کے ساتھ تبصرہ کرنے سے قاصر ہیں جب کہ تحقیقات جاری ہیں۔”

    احمدی رہنما ممبران سے کہہ رہے ہیں کہ وہ اس کیس کے بارے میں بات نہ کریں، لیکن احمدی اخبار ربوہ ٹائمز کے ایڈیٹر احسان ریحان نے ٹویٹ کیا: "میں احمدی کمیونٹی کے ایک رکن کی طرف سے جنسی زیادتی کے حالیہ دعووں سے حیران، شرمندہ اور رنجیدہ ہوں۔ . مجھے امید ہے کہ پولیس مکمل تحقیقات کرے گی اور زیادتی کرنے والوں کو انصاف کے کٹہرے میں لائے گی۔

  • نیو ایئر نائٹ، ہوائی فائرنگ کرنے والوں پر اقدام قتل کا مقدمہ ہوگا

    نیو ایئر نائٹ، ہوائی فائرنگ کرنے والوں پر اقدام قتل کا مقدمہ ہوگا

    صوبہ سندھ کے دارالحکومت کراچی میں سال نو کے موقع پر سخت سیکیورٹی اقدامات کیے گئے ہیں، سی ویو جانے والے راستے پر اہلکار تعینات ہوں گے جبکہ بغیر سائلنسر والی کسی موٹر سائیکل کو نہیں چھوڑا جائے گا۔

    تفصیلات کے مطابق سال نو کے موقع پر ڈسٹرکٹ ساؤتھ میں سخت سیکیورٹی اقدامات کیے گئے ہیں، ایس ایس پی ساؤتھ زبیر نذیر کا کہنا ہے کہ مجموعی طور پر 2 ہزار 250 اہلکار تعینات کیے جائیں گے، مختلف راستوں پر 1 ہزار 557 افسران و اہلکار ڈیوٹی انجام دیں گے۔

    ایس ایس پی کا کہنا ہے کہ ہوائی فائرنگ کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی، اقدام قتل سمیت دیگر دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا جائے گا۔

    انہوں نے کہا کہ ڈسٹرکٹ ساؤتھ میں 6 پولیس لائنز ہیں، کوئی پولیس اہلکار یا اس کا رشتہ دار فائرنگ نہ کرے، پولیس لائنز سے باقاعدہ سرٹیفکٹ لیے گئے ہیں، مختلف راستوں پر ناکے لگائے جائیں گے۔

    ایس ایس پی کے مطابق حساس مقامات کی چھتوں پر پولیس اہلکار تعینات ہوں گے، سی ویو پر ایس ایس یو کے اہلکار بھی تعینات ہوں گے۔ تمام حساس مقامات پر نفری تعینات کی جائے گی۔ بغیر سائلنسر والی کسی موٹر سائیکل کو نہیں چھوڑا جائے گا۔

    انہوں نے مزید کہا کہ پولیس سیکیورٹی کو مجموعی طور پر 9 سیکٹرز پر بنایا گیا ہے، ایف ٹی سی سے دو دریا، 3 تلوار سے اختر کالونی کالا پل تک 11 افسران موجود ہوں گے۔

  • مہنگائی اور ہمارا رویہ .تحریر: ارم شہزادی

    مہنگائی اور ہمارا رویہ .تحریر: ارم شہزادی

    مہنگائی پر لکھا بھی بہت جارہا ہے اور بات بھی بہت ہورہی ہے۔ مہنگائی کا شور بھی بہت زیادہ ہے۔ مہنگائی ہے کیوں؟ اسکی وجوہات کیا ہیں؟ کیا اس سے پہلے کبھی مہنگائی ہوئی نہیں؟ یا پھر ہم ہیں ناشکرے؟ کیونکہ جہاں تک مجھے یاد ہے پچھلی حکومت میں بھی ریکارڈ مہنگائی تھی، ہر چیز، مہنگی تھی، لوگوں کی پہنچ سے دور تھی، کیونکہ بہت سی اشیاء ملتی ہیں نہیں تھیں یا پھر ان لوگوں کو ملتی تھیں جو بلیک میں یا مہنگے داموں خرید سکتے تھے۔ اگر وزراء کو کچھ کہا جاتا تو گالیاں اور دھمکیاں ملتی تھیں،ملکی کا وزیر خزانہ مہنگائی کی وجہ سے کتے بلیاں کھانے کا مشورہ دیتا تھا، مہنگے داموں میگا پراجیکٹس لگ رہے تھے جن سے آمدنی زیرو اور قرضہ اربوں تھا، جب بیس بیس سال کے لیے بجلی گیس کے مہنگے ترین معاہدے ہورہے تھے۔لیکن اس سے بھی پیچھے نظر دوڑائیں تو بھی مہنگائی تھی، جب سڑکوں پے آتا اور چینی لینے والوں کی لائینیں لگی ہوتی تھیں، جب آٹا کے حصول کے لیے لوگوں کے سر پھٹتے تھے، جب عورتیں آٹا زمین سے سڑکوں سے بکھرا ہوا اکٹھا کرکے لے جاتی تھیں، اس سے بھی پیچھے چلے جائیں تو بھی مشرف کو مارشل لاء مہنگائی اور بدامنی کی وجہ سے ہی تھا۔اور اگر اب سے تیس چالیس سال پیچھے چلے جائیں بھٹو جوکہ سندھ میں اب بھی زندہ ہے اسکی تقاریر سن لیں تو وہ بھی مہنگائی کی بات کرتا نظر اتا ہے۔ تو سوچنے کی بات یہ ہے کہ اب ہی اتنا شور کیوں؟ جبکہ یہ مہنگائی پوری دنیا میں آئی ہے، اس سے نا تو یورپ بچ سکا نا ایشیاء تو پھر کیا وجہ ہے کہ اب ایک ماحول بنا دیا گیا ہے؟ اس کی کئی وجوہات ہیں جن کی وجہ سے اب مہنگائی کا شور زیادہ ہے جس کی وجہ سے عوام مشکل میں ہے۔اور ان وجوہات کی وجہ عوام بھی ہے کافی حد تک۔ کیونکہ مہنگائی وہ ہوتی ہے جب رسد اور خرچ میں فرق ہو تو کیا ایسا ہے؟

    کیا چیزیں نہیں مل رہیں؟ کیا عوام ان چیزوں کے لیے رل رہی ہے؟ جواب ہے کہ بلکل نہیں ہر چیز بازار میں موجود ہے، جب ہر چیزموجود ہے تو پھر مہنگی کیوں؟ کیونکہ ہم میں احساس نہیں ہے۔ ریڑھی والے سے لے کر چھوٹی دوکان تک اور چھوٹی دوکانوں سے شاپنگ پلازوں تک خلائی مخلوق تو نہیں چلا رہی ہے۔ آپ لوگ ہی چلا رہے ہیں نا؟ فیکٹریوں سے لے کر ملوں تک عوام کے پاس ہی ہے نا سب کچھ؟ تو پھر کیوں الزام کسی اور کو دیا جارہا ہے؟ اپنے گریبان میں کیوں جھانکا نہیں جارہا؟ کیا یہ کہہ کر بخشش کروا، لیں گے کہ چونکہ عمران خان کو ناکام کرنا تھا اس لیے دس کی چیز بیس میں دی؟ عمران خان کی نفرت میں اپنے ہی بھائیوں کا خون چوسا؟ تو کیا بخشش مل جائے گی؟ کبھی نہیں۔ یہ سچ ہے کہ جو چیزیں ہم باہر سے منگواتے ہیں وہ بین الاقوامی سطح پر مہنگائی ہونےکی وجہ سے مہنگی ہوئیں ہیں جو یہاں بنتی ہیں وہ کیوں مہنگی؟ یقیناً ہمیں اپنے رویوں میں بھی تبدیلی کی ضرورت ہے۔ ہمیں اپنے اردگرد دیکھنے کی ضرورت ہے اور دوسری بات ہمارے لیے یہ حالات مشکل ہیں تو ان لوگوں کے لیے کتنے مشکل ہونگے جو دیہاڑی دار تھے۔ کیا ہم نے اپنی گنجائش میں انکی مدد، کی؟ کیا ہم نے اپنے دسترخوان میں انکو شامل کیا؟ کیا ہم نے انکا آحساس کیا؟ ہم بحثیت قوم کہاں کھڑے ہیں؟ ہم اگر مل کر مشکل وقت کا مقابلہ کریں گے تو یقیناً یہ وقت مشکل مشکل نہیں لگےگا۔اللہ پاک ہم سب کی مشکلات دور فرمائے ایک دوسرے کا ساتھ دیتے ہوئے ہم اس کڑے وقت سے گزر جائیں
    جزاک اللہ
    @irumrae

  • مقبوضہ کشمیر کی مسلم اکثریتی شناخت کو شدید خطرات لاحق ہیں:عالمی برادری ہوش کے ناخن لے

    مقبوضہ کشمیر کی مسلم اکثریتی شناخت کو شدید خطرات لاحق ہیں:عالمی برادری ہوش کے ناخن لے

    سری نگر:مقبوضہ کشمیر کی مسلم اکثریتی شناخت کو شدید خطرات لاحق ہیں:عالمی برادری ہوش کے ناخن لے،اطلاعات ہیں کہ بھارت کے غیر قانونی طور پرزیرقبضہ جموں و کشمیرمیں مودی حکومت کی یکے بعد دیگر متعارف کرائی جانیوالی ہندوتواپالیسیوں کی وجہ سے مقبوضہ علاقے کی مسلم اکثریتی شناخت کو شدید خطرہ لاحق ہے ۔

    کشمیر میڈیا سروس کی جانب سے آج جاری کی جانیوالی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مقبوضہ کشمیرمیں نیا ڈومیسائل قانون ، قابض بھارتی فوجیوں کو مزید اراضی کی منتقلی،نئی حلقہ بندیاںاور ہندوتوا کے حمایت یافتہ بھارتی تاجروں کو مقبوضہ علاقے میں زمینیں الاٹ کرنے کا مقصد مقبوضہ علاقے میں آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنا ہے۔رپورٹ کے مطابق بھارتی آئین کی دفعہ370جس کے تحت جموں و کشمیر کو خصوصی حیثیت حاصل تھی ،کی منسوخی کا اصل مقصد غیر کشمیری ہندوئوں کو مقبوضہ کشمیرمیں آباد کرناتھا۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کشمیری عوام کوجموں وکشمیر کی آبادی کے تناسب کو بگاڑنے کے بھارتی منصوبوں کی ہر ممکن مزاحمت کرنی چاہیے کیونکہ بھارت کہ یہ مذموم عزائم کشمیر کے بارے میں اقوام متحدہ کی قراردادوں کی بھی واضح خلاف ورزی ہیں۔

    کل جماعتی حریت کانفرنس نے بھی کشمیری عوام پر زور دیا ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیرکی مسلم اکثریتی شناخت پر مودی کے حملے کے خلاف اپنازبردست احتجاج ریکارڈکرایں۔رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ مقبوضہ علاقے میں نئی حلقہ بندیوں کا مقصد ہندو اکثریتی جموں خطے کو زیادہ نشستیں دینا ہے تاکہ جموںو کشمیر میں ایک ہندو وزیر اعلیٰ لایا جا سکے۔ مقبوضہ علاقے کیلئے نئے ڈومیسائل قانون سے اسرائیل کے نوآبادیاتی منصوبے کی عکاس ہوتی ہے اور مقبوضہ کشمیرمیں بھارتی کاروباری کمپنیوں اور سرمایہ کاروں کو سرمایہ کاری کی دعوت دینے کا مقصد کشمیریوں سے انکی زمینیں اور شناخت چھیننا ہے۔

    رپورٹ میں افسوس کا اظہار کیا گیاکہ کشمیریوں کو اپنی ہی سرزمین پر ملازمتوں اور دیگر مواقع سے محروم رکھا جارہا ہے کیونکہ مودی حکومت ہندو بالادستی کے نظریے عمل پیرا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کشمیری عوام بی جے پی اورآر ایس ایس کو کبھی بھی اپنی شناخت چھیننے کی اجازت نہیں دیں گے۔ رپورٹ میں عالمی برادری پر زوردیاگیا ہے کہ وہ بھارت کو مقبوضہ کشمیرکی آبادی کا تناسب بگاڑنے کے اپنے مذموم منصوبے سے روکے ۔