Baaghi TV

Author: +9251

  • پاک فوج کی جانب سے مسیحی برادری کو کرسمس کی مبارکباد

    پاک فوج کی جانب سے مسیحی برادری کو کرسمس کی مبارکباد

    راولپنڈی :پاک فوج کی جانب سے مسیحی برادری کو کرسمس کی مبارکباد ،اطلاعات کے مطابق ملک کی عسکری قیادت نے کرسچنز کے مذہبی تہوار کرسمس کے موقع پر مسیحی برادری کو مبارکباد پیش کی ہے۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر نے ایک بیان جاری کیا ہے جس میں چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی اور سروسز چیفس کی جانب سے تہنیتی پیغامات دیئے گئے ہیں۔

     

    عہدیداران نے مسلح افواج میں موجود اور ملک بھر میں مسیحی برادری کو کرسمس کی مبارکباد دی، عسکری قیادت کا کہنا ہے کہ قیام پاکستان سے لے کر اب تک وطن عزیز کیلئے مسیحی برادری کی قربانیاں اور خدمات بےمثال ہیں۔

    عسکری قیادت نے کہا کہ تعلیم، صحت، سماجی بہبود کے شعبے میں مسیحی برادری کی کاوشیں قابل تعریف ہیں۔ مادر وطن کے دفاع کے لیے بھی مسیحی برادری کا کردار قابل تحسین ہے۔

     

    اس سے پہلے پاکستان سمیت دنیا بھر میں کرسمس منایا جارہا ہے، وزیراعظم عمران خان نے مسیحی برادری کو مذہبی تہوار کی مبارک باد دی ہے۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری اپنے پیغام میں وزیراعظم نے لکھا کہ “اپنے تمام مسیحی شہریوں کو دل کی گہرائیوں سے کرسمس کی مبارکباد پیش کرتا ہوں”۔

     

    اپنے پیغام میں وزیراعظم نے کہا کہ کرسمس کی تقریبات ہمیں عالمگیر محبت، بھائی چارے، رواداری اور کا سبق سکھاتی ہیں جو کسی بھی معاشرے کی ترقی کا باعث بنتی ہیں۔

     

    وزیراعظم نے کہا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش پوری انسانیت اور دنیا کے لیے امن، بھائی چارے، رواداری اور عقیدت کی علامت سمجھی جاتی ہے۔

    وزیراعظم نے کہا کہ ملک کے دفاع، تعلیم، صحت اور معاشی ترقی کے شعبوں میں مسیحی برادری کی مخلصانہ اور گراں قدر خدمات ہمیشہ قابل تحسین رہی ہیں، ریاست کے مساوی شہری ہونے کے ناطے حکومت انہیں قومی ترقی کے لیے اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کا اختیار دے گی۔

    وزیراعظم کا مزید کہنا تھا کہ ہماری پالیسیاں تمام مذاہب کے لوگوں کے درمیان ہم آہنگی اور اتفاق پیدا کرنے کے لیے تیار کی گئی ہیں، حکومت اقلیتوں کو قومی دھارے میں شامل کرنے کے لیے اقدامات کو اپنا فرض سمجھتی ہے تاکہ وہ معاشرے میں فعال شہری کے طور پر اپنا کردار مثبت انداز میں ادا کرسکیں اور اس ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے میں مدد کریں۔

     

  • وزیراعظم عمران خان کی مسیحی کمیونٹی کومبارکباد:کہا”سدا خوش رہیں”آباد رہیں‌”

    وزیراعظم عمران خان کی مسیحی کمیونٹی کومبارکباد:کہا”سدا خوش رہیں”آباد رہیں‌”

    اسلام آباد:وزیراعظم عمران خان کی مسیحی کمیونٹی کومبارکباد:کہا”سدا خوش رہیں”آباد رہیں‌” ،اطلاعات کے مطابق پاکستان سمیت دنیا بھر میں کرسمس منایا جارہا ہے، وزیراعظم عمران خان نے مسیحی برادری کو مذہبی تہوار کی مبارک باد دی ہے۔

    تفصیلات کے مطابق سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری اپنے پیغام میں وزیراعظم نے لکھا کہ “اپنے تمام مسیحی شہریوں کو دل کی گہرائیوں سے کرسمس کی مبارکباد پیش کرتا ہوں”۔

     

    اپنے پیغام میں وزیراعظم نے کہا کہ کرسمس کی تقریبات ہمیں عالمگیر محبت، بھائی چارے، رواداری اور کا سبق سکھاتی ہیں جو کسی بھی معاشرے کی ترقی کا باعث بنتی ہیں۔

    وزیراعظم نے کہا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش پوری انسانیت اور دنیا کے لیے امن، بھائی چارے، رواداری اور عقیدت کی علامت سمجھی جاتی ہے۔

    وزیراعظم نے کہا کہ ملک کے دفاع، تعلیم، صحت اور معاشی ترقی کے شعبوں میں مسیحی برادری کی مخلصانہ اور گراں قدر خدمات ہمیشہ قابل تحسین رہی ہیں، ریاست کے مساوی شہری ہونے کے ناطے حکومت انہیں قومی ترقی کے لیے اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کا اختیار دے گی۔

    وزیراعظم کا مزید کہنا تھا کہ ہماری پالیسیاں تمام مذاہب کے لوگوں کے درمیان ہم آہنگی اور اتفاق پیدا کرنے کے لیے تیار کی گئی ہیں، حکومت اقلیتوں کو قومی دھارے میں شامل کرنے کے لیے اقدامات کو اپنا فرض سمجھتی ہے تاکہ وہ معاشرے میں فعال شہری کے طور پر اپنا کردار مثبت انداز میں ادا کرسکیں اور اس ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے میں مدد کریں۔

  • “پاکستان کو عظیم بنانے کے لئےقائد کے اصولوں کو اپنانا ہوگا”:صدر،وزیراعظم اورقومی رہنماوں کا پیغام

    “پاکستان کو عظیم بنانے کے لئےقائد کے اصولوں کو اپنانا ہوگا”:صدر،وزیراعظم اورقومی رہنماوں کا پیغام

    اسلام آباد:“پاکستان کو عظیم بنانے کے لئےقائد کے اصولوں کو اپنانا ہوگا”:صدر،وزیراعظم اورقومی رہنماوں کا پیغام،اطلاعات کے مطابق یوم قائد کے موقع پر صدر مملکت اور وزیراعظم نے اپنے پیغامات میں قوم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ملک کو عظیم بنانے کیلئے قائداعظم کے اصولوں کو اپنانا ہوگا۔

    تفصیلات کے مطابق صدرعارف علوی نےقائدِ اعظم کے 145 ویں یوم پیدائش کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا کہ قائدِ اعظم محمد علی جناح کے پاکستان کو عظیم تر بنانے کیلئے ہمیں اُن کے بتائے ہوئے اصولوں کو اپنانا ہے، جنہوں نے برصغیر کے مسلمانوں کی آزادی، علیحدہ اور خودمختار ریاست کے قیام کیلئے انتھک جدوجہد کی اوراپنی صلاحیتوں، عزم اور غیر معمولی کردار کی بدولت پاکستان کے خواب کو حقیقت میں بدلا۔

    صدرمملکت نے کہا کہ ملک کی خوشحالی کیلئے معاشرے کے نظر انداز کئے گئے طبقات کی فلاح و بہبود کو اولین ترجیح دینا ہوگی، آج کے دن ہم اِس عزم کا اعادہ کرتے ہیں کہ پاکستان کو ایک عظیم اور مضبوط ملک بنائیں گے۔

    وزیراعظم عمران خان

    یوم قائد کے موقع پر اپنے خصوصی پیغام میں وزیراعظم نے کہا کہ قائد اعظم محمد علی جناح نے برصغیر کے مسلمانوں کے لیے ایک علیحدہ وطن کی اہمیت کا احساس کیا جہاں تمام شہری عقیدے کی آزادی، پیشہ اور مساوی مواقعوں کا حق رکھتے ہوں۔

    قائد اعظم کا بڑے چیلنجوں اور مخالفتوں کے باوجود قوم کو متحد کرنے کا عزم ان کی ثابت قدمی سے ہی ممکن ہوا، مشکلات اور چیلنجوں سے نبردآزما ہونے کے لیے انہوں نے اللہ تعالیٰ پر پختہ یقین اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصولوں سے رہنمائی حاصل کی۔

    وزیراعظم عمران خان نے کیا کہ آج ہم اپنے عظیم رہنما قائداعظم محمد علی جناح کا یوم پیدائش منا رہے ہیں، یہ ہماری نسل اور ہمارے بچوں کے لیے فخر کی بات ہے کہ وہ ایک آزاد پاکستان میں پیدا ہوئے جو قائداعظم کی جدوجہد کے بغیر ہمارا مقدر نہیں بن سکتا تھا، ہمیں بحیثیت قوم قائد کے ترقی یافتہ، ترقی پسند اور روادار پاکستان کے وژن کو عملی جامہ پہنانے کے لیے ان اوصاف کو اپنانے کی ضرورت ہے۔

    چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی

    چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے یوم قائد پر اپنے پیغام میں کہا کہ بانی پاکستان کی تعلیمات کی موجودہ دور میں اہمیت بڑھ گئی ہے، قائد اعظم نے اتحاد، ایمان اور نظم وضبط جیسے اصول وضع کیے، اتحاد، ایمان کےاصولوں سےتمام مسائل کامقابلہ کیاجاسکتاہے۔

    بلاول بھٹو کا قائداعظم کو خراج عقیدت
    چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو نے قائداعظم کے یوم پیدائش پر انہیں شاندارالفاظ میں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ قائداعظم اپنےہم عصردور کی سب سےقد آور شخصیت تھے، ان کا خواب تھا برصغیرکے مسلمانوں کےلیےمساوات پر مبنی ملک ہو، مسلمان جہاں پرامن بقائےباہمی کی بنیاد پر رہ سکیں۔

    بلاول بھٹو نے کہا کہ شہید بھٹو نے1973کا آئین کا تحفہ دے کر قائداعظم کےخواب کو پوراکیا، شہید محترمہ نے قائد کےپاکستان کو فلاحی ریاست بنانےکے لیےاقدامات کیے، پیپلز پارٹی ہی نظریہ پاکستان کی حقیقی علمبردار ہے اور عوام اورپی پی قائداعظم کےوژن پر سختی سےکاربند رہیں گے۔

    اپوزیشن لیڈر شہباز شریف

    شہباز شریف نے یوم ولادت بابائے قوم کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ قائد اعظم قول کےسچے،دھن کےپکے،کردار کےکھرے، باعمل رہبر تھے، قائداعظم نےتاریخ کا دھارا موڑا، آج ان کا حرف بہ حرف سچ ثابت ہورہا ہے، تاریخ نےثابت کیا کہ قائداعظم کی جدوجہدسچائی، اصولوں پرمبنی تھی۔

    شہبازشریف کا کہنا تھا کہ عظیم قائد نے تمام زندگی پاکستان کے مقصد کے لئے وقف کی، قوم اپنے محسن کو سلام عقیدت پیش کرتی ہے۔

  • میرے وطن کو کس کس نے لوٹا؟عثمان بزدار نے قائد اعظم کوپاکستان لوٹنے والوں کے نام بتا دیئے

    میرے وطن کو کس کس نے لوٹا؟عثمان بزدار نے قائد اعظم کوپاکستان لوٹنے والوں کے نام بتا دیئے

    لاہور:میرے وطن کو کس کس نے لوٹا؟عثمان بزدار نے بابائے پاکستان قائد اعظم کومجرموں کے نام بتادیئے ،اطلاعات کے مطابق وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے کہا ہے کہ سابق حکمرانوں نے قائد کے پاکستان کو بری طرح نوچا، سیاسی مخالفین کی وجہ سے پاکستان اپنی اصل منزل سے ہٹ گیا، تحریک انصاف کی حکومت ملک کو فلاحی ریاست بنانے کے مشن پر قائم ہے۔

    وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناحؒ کے یوم ولادت پر اپنے پیغام میں کہا کہ قائداعظم جیسے مدبر صدیوں پر بعد پیدا ہوتے ہیں، بانی پاکستان نے مسلمانان برصغیر کو غلامی کی زنجیروں سے نجات دلائی، قائداعظم کی ولولہ انگیز قیادت میں مسلمانوں کے لئے آزاد وطن کا خواب حقیقت میں بدلا، قائداعظم نے اتحاد، تنظیم اور ایمان کے اصولوں کو اپنانے کی تلقین کی، تحمل، برداشت اور رواداری پر مبنی فلاحی معاشرے کا قیام بانی پاکستان کا خواب تھا۔

    عثمان بزدار کا کہنا تھا کہ بدقسمتی سے ماضی کے حکمرانوں نے قائداعظم کے اصولوں سے روگردانی کی، سابق کرپٹ حکمرانوں نے قائد کے پاکستان کو بری طرح نوچا اور اسی وجہ سے پاکستان اپنی اصل منزل سے ہٹ گیا، قائداعظم کی تعلیمات اور افکار پر عمل کر کے ہم پاکستان کو حقیقی معنوں میں فلاحی ریاست بناسکتے ہیں، وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت اس مشن کی تکمیل کیلئے پرعزم ہے، عمران خان قائد اعظم کے خوابوں کو عملی شکل دینے کے لئے جدوجہد کررہے ہیں۔

  • بڑوں کومنی لانڈرنگ پرسزا نہ ملنے کا نتیجہ سامنے آگیا:پاکستان کی دنیا بھر میں بدنامی ہوگئی

    بڑوں کومنی لانڈرنگ پرسزا نہ ملنے کا نتیجہ سامنے آگیا:پاکستان کی دنیا بھر میں بدنامی ہوگئی

    مدینہ منورہ :بڑوں کومنی لانڈرنگ پرسزا نہ ملنے کا نتیجہ سامنے آگیا ،اطلاعات کےمدینہ منورہ میں غیر قانونی طریقے سے رقم جمع کروانے اور اسے بیرونِ ممالک بھجوانے کے الزام میں 5 پاکستانیوں کو گرفتار کرلیا گیا۔

    سعودی خبر رساں ایجنسی کے مطابق مقامی پولیس نے بتایا کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے کے اہلکاروں نے پانچ غیر ملکیوں کو گرفتار کیا ہے جن کا تعلق پاکستان سے ہے۔

    رپورٹ کے مطابق گرفتار ملزمان کے قبضے سے بڑی رقم بھی برآمد کی گئی ہے جس کے ذرائع سے متعلق ملزمان تحقیقاتی افسر کو مطمئن کرنے میں ناکام رہے۔

    پولیس کے مطابق ملزمان رقم بیرونِ ملک بھجوانے کی کوشش کررہے تھے تاہم ان کی کوشش ناکام بنادی گئی اور انہیں حراست میں لے لیا گیا۔

    دوسری طرف سعودی عرب اور دنیا بھر میں موجود پاکستانیوں کی ایک بڑی تعداد اس وقت اس واقعہ پر نوحہ کناں ہے ، اکثروبیشتر کا یہ کہنا ہے کہ کاش آج اگرپاکستان میں بڑے بڑے نامی گرامی منی لانڈرنگ کرنے والوں کو سزا ملی ہوتی تو آج پاکستان کی دنیا بھرمیں بدنامی نہ ہوتی

    ادھر بعض ذرائع نےیہ بھی دعویٰ کیا ہےکہ اس واقعہ کے بعد پاکستان پرایک اخلاقی دباو بڑھ جائے گا کہ وہ پاکستان کو سابق حکمران خاندانون‌ کی لوٹ مار اور منی لانڈرنگ کے ذریعے لوٹی ہوئی رقم پران کو سخت سے سخت سزا دیں‌

    یہ بھی سُننے میں‌آرہا ہے کہ بعض تجزیہ نگاروں کا کہنا ہےکہ یہ واقعہ اس بات کا اشارہ کررہی ہےکہ اب سعودی عرب بھی پاکستان سے منی لانڈرنگ کرنے والوں کے خلاف کارروائی چاہتا ہے

  • بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح‌ کا 146واں‌ یومِ پیدائش

    بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح‌ کا 146واں‌ یومِ پیدائش

    لاہور:آج 25 دسمبر 2021 کو ملک بھر میں قائدِ اعظم محمد علی جناح کا 146 واں یومِ پیدائش مِلّی جوش و جذبے کے ساتھ منایا جا رہا ہے۔ہر سال کی طرح امسال بھی حکومت پاکستان نے یومِ قائد اعظم کے موقع پر عام تعطیل کا اعلان کیا ہے جبکہ محمد علی جناح کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے مختلف تقاریب کا اہتمام بھی کیا جائے گا۔

     

    پاکستانی قوم کو تحریک پاکستان کے وقت عطا کیا جس نے قوم کو تحفے میں آزاد وطن پاکستان دیا۔ پاکستان کے اس بہادر اور عظیم لیڈر کا نام قائد اعظم محمد علی جناح ہے۔ قائد اعظم محمد علی جناح 25 دسمبر 1876کو پیدا ہوئے، والد کا نام پونجا جناح تھا آپ کی پیدائش پر آپ کا نام محمد علی رکھا گیا اور آپکے والدین کی طرف سے تعلیم و تربیت کا خاص اہتمام کیا گیا جسکی تکمیل کیلئے آپکو چھ برس کی عمر میں مدرسے میں داخل کیا گیا اسکے بعد ابتدائی تعلیم کے لیے گوگل داس پرائمری اسکول داخل کیا گیا اور پھر بعد میں سندھ مدرسہ سے پندرہ سال کی عمر میں میٹرک کا امتحان اعلی’ نمبروں سے پاس کیا 1892میں وکالت کا امتحان پاس کرنے کے بعد اعلی’ تعلیم کے لیے قائد اعظم محمد علی جناح لندن چلے گئے

    1896میں بیرسٹر بننے کے بعد آپ لندن سے کراچی واپس تشریف لائے اور 1902میں وکالت کے سلسلے میں آپ بمبئی تشریف لے گئے وہاں قائد اعظم نے سخت مشکلات کا سامنا کرنے کے باوجود بہت حوصلے اور بہادری کے ساتھ کام کیا قائداعظم نے دسمبر 1904میں بمبئی میں کانگریس کے بیسویں سالانہ اجلاس میں شرکت کر کے اپنی سیاسی زندگی کا آغاز کیا اس وقت ہندو مسلم اتحاد کے حامی تھے 1906میں آل انڈیا کانگریس میں شمیولیت اختیار کی ۔محمد علی جناح 60 رکنی امپیریل مشتاورتی کونسل کے ممبر بن گے قائد اعظم محمد علی جناح مسلمانوں کے حقوق کے حوالے سے بہت سرگرم تھے۔

    1913میں محمد علی جوہر، سید وزیر حسن اور دیگر مسلم قیادت نے آپ کو مسلم لیگ میں شمولیت پر آمادہ کیا مگر مسلم لیگ اس وقت نوابی تھی ۔اسلئے آپ کا رجحان کانگریس کی طرف رہا جس کے لیے آپ نے مسلم لیگ اور کانگریس کو ایک دوسرے کے قریب لانے کی کوشش کی جس کے نتیجہ میں میثاق لکھنئو ہوا محمد علی جناح ان دونوں جماعتوں میں اتحاد کے علمبردار کی حیثت رکھتے تھے پہلی جنگ عظیم ختم ہونے کے بعد برطانوی حکومت نے اپنے وعدوں سے منحرف ہو کر رولٹا ایکٹ جیسا قانون نافذ کر کے سیاسی اور سماجی سرگرمیوں پر پاپندی لگا دی ۔جس سے سارے برصغیر میں تحریک شروع ہوگی اور حکومت نے مارشل لاء نافذ کر دیا اس تحریک کی قیادت گاندھی نے کی قائد اعظم نے کانگریس میں اس کی مخالفت کی آخر یہ تحریک ناکام ہوگئی 1920میں قائداعظم کانگریس سے ہندؤں کی ذہنیت کو سمجھتے ہوئے الگ ہوگئے

    1930میں لندن میں دوسری گول میز کانفرنس میں شریک ہوئے اس میں علامہ محمد اقبال بھی شریک تھے جنہوں نے 1930میں مسلم لیگ کے اجلاس آلہ آباد میں اپنا خطبہ صدرات میں ایک متحدہ اسلامی ریاست کے قیام کی نشاندہی کی اس کے بعد دونوں رہنماؤں کی ملاقاتیں ہوئی جس میں علامہ اقبال نے اپنے نقطہ نظر کی مزید وضاحت کی قائد اعظم برصغیر کی سیاست سے بیزار ہو کر واپس انگلستان چلے گئے 1933میں لیاقت علی خان جب لندن آئے تو انہوں نے قائداعظم سے ملاقات کی اور برصغیر آکر مسلمانوں کی قیادت کرنے کی درخواست کی اس پر آپ 1934میں برصغیر تشریف لائے یہاں آکر آپ نے مسلم لیگ کو با حثیت جماعت متحرک اور منظم کیا ۔قائداعظم محمد علی جناح کو 1935میں بمبئی کے مسلم لیگ کے اجلاس میں پارٹی کو منظم کرنے کے اختیار دیے گئے جس پر آ پ نے تمام برصغیر کا دورہ کیا ۔اس دورے کے دوران آپ نے مسلمانوں کو آنے والے خطرات اور اس سے نمٹنے کے لیے تیار کیا

     

    27مئی 1937کو قائداعظم کے نام اپنے ایک خط میں علامہ اقبال نے اس بات کا اظہار کیا کہ اسلام کے لیے سوشل ڈیموکریسی کی کسی شکل میں ترویج جب اسے شریعت کی تائید ومدافعت حاصل ہو۔حقیقت میں کوئی انقلاب نہیں بلکہ اس کی حقیقی پاکیزگی کی طرف رجوع کرنا ہوگا ۔مسائل حاضرہ کا حل مسلمانوں کے لیے ہندوؤں سے کہیں زیادہ آسان ہے لیکن جیسا کہ پہلے عرض چکا ہوں کہ اسلامی ہندوستان میں ان مسائل کا حل آسانی سے رائج کرنے کے لیے ملک کی تقسیم کی ذریعے اسلامی ریاست کا قیام اشد ضروری ہے ۔برصغیر کی ملت اسلامیہ کا قافلہ جو اٹھارہویں صدی سے اپنی بقاء اور تہذیبی اثاثوں کے تحفظ کے لیے بھٹک رہا تھا اور تقریبا” ڈیڑھ صدی سے اپنی منزل کے تعین کے باوجود سفر کی حکمت عملی سے بے خبر تھا۔ پوری ملت اسلامیہ برصیغر اسلام کے ساتھ پوری وابستگی اور مکمل خود سپردگی کے باوجود قیادت کے فقدان کا شکار تھی کچھ مایوسی کے برسوں کے بعد روشنی کی ایک کرن پھوٹی اور 1908 کی مسلم لیگ جو بڑے لوگوں کی جماعت سمجھی جاتی تھی .قائد اعظم محمد علی جناح کی قیادت میں مسلمانان برصغیر کی آنکھوں کا تارا بن گئی اور اس طرح ملت کا دل افسردہ قافلہ جو کہ رہنماؤں کی جلد بازیوں سے دلبرداشتہ ہوچکا تھا دوبارہ کمر بستہ ہوا اور ایک تازہ جوش و ولولے کے ساتھ قائد اعظم کی رہنمائی میں راس کماری سے لے کر پشاور تک رواں دواں ہو گیا

    قائد اعظم محمد علی جناح کے انداز تقاریر کے لوگ ایسے گرویدہ ہوئے کہ انگریزی سے نا آشنا لوگ بھی بت بن کر انکو سنتے اور تالیاں بجاتے کیونکہ وہ سب کے لیڈر بن چکے تھے۔ مسلمان ملت برصغیر جس میں شرح خواندگی تین فیصد سے بھی کم تھی ۔مگر دنیاوی اعتبار سے وہی سادہ اور نا خواندہ مسلمانوں نے جو سامراجی قوتوں کے ستائے ہوئے تھے اور ہندؤں کی تنگ نظری، ذلت آمیز رویوں اور ناانصافیوں کا شکار تھے انہوں نے تاریخ کا وہ عظیم الشان سفر اپنے عظیم قائد کے ساتھ طے کیا کہ پوری دنیا کو حیران کر دیا جس نے اقوام عالم کی تاریخ میں بالکل ہی نئے اور انوکھے انداز میں انقلاب کا آغاز کیا۔قائد اعظم محمد علی جناح نے مختلف تقاریر کیں اور انکے اقتباسات ہیں جو آج تاریخ کا سرمایہ ہیں 23مارچ 1940کے اجلاس میں جب قرار داد منظور ہوئی ۔قائد اعظم نے فرمایا اسلام اور ہندو دھرم محض مذہب نہیں درحقیت دو مختلف معاشرتی نظام ہیں ۔

    20مارچ 1941کو قائد اعظم نے مسلم اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے ایک اجلاس میں بھی خطاب کیا۔ 15 نومبر1942ء کے خطاب میں بھی قائد اعظم نے فرمایا کہ مجھ سے اکثر پوچھا جاتا ہے کہ پاکستان کا طرز حکومت کیا ہو گا؟ پاکستان کے طرز حکومت کا تعین کرنے والا میں کون ہوتا ہوں مسلمانوں کا طرز حکومت آج سے تیرہ سو سال قبل قرآن مجید میں ہماری رہنمائی کے لیے موجود ہے اور قیامت تک موجود رہے گا ۔عظیم لیڈر قائداعظم محمد علی جناح کے یہ وہ تاریخی الفاظ تھے جنہیں اگر سمجھ لیا جائے تو یقین ہوجائے کہ جس قوم کو ایسا رہنما ملے وہ مایوس کیسے ہو سکتی تھی۔

    6 دسمبر1943ء کو کراچی میں آل انڈیا مسلم لیگ کے 31 ویں اجلاس سے خطاب کے دوران قائداعظم نے فرمایا وہ کون سا رشتہ ہے جس سے منسلک ہونے سے تمام مسلمان جسد واحد کی طرح ہیں وہ کون سی چٹان ہے جس پر ان کی ملت کی عمارت استوار ہے وہ کون سا لنگر ہے جس نے امت کی کشتی محفوظ کر دی گی ہے وہ رشتہ ،وہ چٹان ،وہ لنگر، اللہ کی کتاب قرآن کریم ہے مجھے امید ہے کہ جیسے جیسے ہم آگے بڑھتے جائیں گے قرآن مجید کی برکت سے زیادہ سے زیادہ اتحاد پیدا ہوتا جائے گا ایک خدا، ایک کتاب ، ایک رسول ص ، ایک امت قائداعظم محمد علی جناح کا یہ خطاب کسی تبصرے یا وضاحت کا محتاج نہیں اس کا ہر لفظ پکار کر گواہی دے رہا ہے کہ یہ بات کہنے والا امت کے حقیقی تصور سے بھی آشنا ہے اور اللہ ، قرآن اور رسول ص کو مان لینے کے لازمی نتائج سے بھی باخبر ہے ۔

    ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم قائداعظم کا یوم پیدائش تو مناتے ہیں مگر کیا ہم اس عظیم لیڈر کی قربانیاں یاد کرتے ہوئے اسکی کوئی بات مانتے ہیں؟ اپنی نسل کو بھی اپنے قائد کے روشن کردار و سیرت سے متعارف کرواتے ہیں؟ آج بھی ہمارے رہنماء اور قوم قائداعظم محمد علی جناح کے خطبات سنیں اور انکے کردار اور سیرت کی خوبصورتی کو اپنائیں تو دنیا کی کوئی طاقت ہمیں کامیابی سے نہیں روک سکتی قائد نے پاکستان توڑنے کیلئے نہیں جوڑنے کیلئے بنایا تھا قائد کی سالگرہ کے دن 25 دسمبر کو عہد کیجئے کہ ہم سب پاکستانی قوم انکے خطبات کی پاسداری کرتے ہوئے اس وطن کو اتحاد و امن کا گہوارہ بنائیں گے

    یہ بھی یاد رہےکہ آج بابائے قوم کی خدمات اور ان کی تعلیمات کو اجاگر کرنے کے لیے ریڈیو اور ٹی وی چینلز پر خصوصی پروگرام نشر کئے جارہے ہیں جب کہ پرنٹ میڈیا میں بھی خاص مضامین کی اشاعتوں کا اہتمام کیا گیا ہے، متعدد مقامات پر بابائے قوم کی سالگرہ کی مناسبت سے کیک کاٹے جارہے ہیں جب کہ صوبائی دارالحکومتوں میں بانی پاکستان کی انتہائی نادر، نایاب اور تاریخی تصاویر اور ان کے زیر استعمال اشیا کی نمائش بھی منعقد کی گئی ہے۔

  • وزیراعظم کی”میرا گھر میرا پاکستان” ہاؤسنگ اسکیم، 20 لاکھ قرض پرماہانہ قسط کتنی ادا کرنا ہوگی؟

    وزیراعظم کی”میرا گھر میرا پاکستان” ہاؤسنگ اسکیم، 20 لاکھ قرض پرماہانہ قسط کتنی ادا کرنا ہوگی؟

    اسلام آباد: وزیراعظم کی”میرا گھر میرا پاکستان” ہاؤسنگ اسکیم، 20 لاکھ قرض پرماہانہ قسط کتنی ادا کرنا ہوگی؟ اطلاعات کے مطابق اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے گورنر رضا باقر نے میرا گھر ہاؤسنگ منصوبے کے لیے دیے جانے والے قرض اور ماہانہ قسط کے حوالے سے عوام کی پریشانی دور کردی۔

    اسلام آباد میں منعقدہ میرا گھر میرا پاکستان ہاؤسنگ اسکیم کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے رضا باقر نے کہا کہ ماضی میں کبھی قرض کی قسط اتنی کم نہیں تھی، جتنی اس منصوبے کے لیے مختص کی گئی ہے۔

    انہوں نے بتایا کہ اگر کوئی 20 لاکھ کا قرضہ لیتا ہے تو اس کی ماہانہ قسط صرف11 ہزار روپے بنے گی، تاریخ میں اس سے پہلے کبھی قرض پر اتنا ریلیف فراہم نہیں کای گیا۔

    رضا باقر کا کہنا تھا کہ پہلےبینک اسٹاف اتنے ٹرینڈ نہیں تھےجو لوگوں کی مدد کرسکے مگر اب صورت حال بہت تبدیل ہے کیونکہ لوگوں کو ہر حوالے سے مطمئن بھی کیا جارہا ہے، بینکوں نے اب تک اس پروجیکٹ کے لیے آنے والی درخواستوں پر 109 ارب روپے قرضوں کی منظوری دی۔

    انہوں نے بتایا کہ 260 ارب روپے سے زائد مالیت کی درخواستیں آچکی ہیں، جس میں سے بینک اب تک 32 ارب روپے تقسیم بھی کرچکے ہیں، ابتدا میں تھوڑی رکاوٹیں آئیں مگر اب بہترین کام بہتر انداز سے چل رہا ہے اور ہر ہفتے تقریباً 1.7 ارب روپے قرض کی رقم تقسیم کی جارہی ہے۔

    گورنر اسٹیٹ بینک نے اس کامیابی پر وزیر خزانہ شوکت ترین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں اُن کی طرف سے بھی بھرپور مدد ملی۔ رضا باقر نے شہریوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر آپ کاخواب اپناگھرہے تو نزدیکی بینک جا کر درخواست حاصل کریں اور آشیانہ بنانے کے لیے قرض حاصل کریں۔

    تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شوکت ترین نے وزیراعظم کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ لوگوں کوسمجھ نہیں ہےکہ آپ نےکتنا بڑا کام کر دیا، ہم اس منصوبے کے حوالے سے ہر ہفتےگورنر اسٹیٹ بینک کے ساتھ میٹنگ کرتے تھے، اب تک 260ارب روپےکی درخواستیں آئیں جس میں سے 106 ارب روپے کی منظوری دی جاچکی ہے۔

  • شاہ عبداللطیف یونیورسٹی کی طالبہ نےاپنے اغوا کار کو معاف کردیا

    شاہ عبداللطیف یونیورسٹی کی طالبہ نےاپنے اغوا کار کو معاف کردیا

    خیرپور: سندھ کے ضلع خیرپور میں واقع شاہ عبداللطیف یونیورسٹی کی طالبہ کے اغوا کا ڈراپ سین ہوگیا۔اطلاعات ہیں کہ شاہ عبداللطیف یونیورسٹی کی طالبہ نےاپنے اغوا کار کو معاف کردیا

    اے آر وائی نیوز کے مطابق خیرپور کی شاہ عبداللطیف یونیورسٹی کی طالبہ خوشبو بھٹی کے اغوا کے کیس میں نامزد ملزم کے والد نے طالبہ اور اس کے والد سے معافی مانگ لی۔

    کیس میں نامزد ملزم صفدر وسان کے والد نے کہا کہ بیٹے نے غلطی کی ہے ہمیں معاف کیا جائے جس کے بعد متاثرہ طالبہ خوشبو بھٹی نے صفدر وسان کو معاف کردیا۔پولیس حکام کے مطابق اغوا کنندہ صفدر وسان کے والد نے یقین دہانی کروائی کے مستقبل میں ایسا کوئی واقعہ نہیں ہوگا۔

    واضح رہے کہ رانی پور تھانے میں طالبہ خوشبو بھٹی کے اغوا کا مقدمہ صفدر وسان سمیت 16 نامعلوم افراد کے خلاف درج ہے۔

    یاد رہے کہ گزشتہ روز خیرپور کے علاقے رانی پور قومی شاہراہ پر سات سے زائد ملزمان نے اسلحہ کے زور پر بس کو روکا اور طالبہ کو اغوا کرنے کی کوشش کی تھی، اس دوران طلبا نے مزاحمت کی تو انہیں بھی تشدد کا نشانہ بناتے ہوئے زخمی کیا گیا تھا، جس کے نتیجے میں سات طلبہ زخمی ہوگئے تھے۔

    معاملے کی انکوائری ایس پی ہیڈ کوارٹر محمد انوربگٹی کو دی گئی تھی، ایس ایس پی کا کہناتھا کہ طلبا ہمارا مستقبل ہیں اور انکی حفاظت ہمارا اولین فرض ہے۔

  • آدھی رات کے وقت خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں زلزلے کے شدید جھٹکے

    آدھی رات کے وقت خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں زلزلے کے شدید جھٹکے

    پشاور:آدھی رات کے وقت خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں زلزلے کے شدید جھٹکے،اطلاعات کے مطابق خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس کیے گئے۔

    ذرائع کے مطابق صوبہ خیبرپختونخوا کے علاقوں بٹگرام، شانگلہ، بشام، مانسہرہ میں زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس کیے گئے، لوگ کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے گھروں سے باہر نکل آئے۔

    حکام کا کہنا ہے کہ زلزلہ پیما مرکز کے مطابق زلزلے کی شدت 4.2 ریکارڈ کی گئی، زلزلے کا مرکز 10 کلو میٹر شمال مغرب میں بالا کوٹ کا علاقہ تھا۔

    واضح رہے کہ آج صبح بھی صوبہ خیبر پختونخوا کے شہر سوات اور گرد و نواح میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے تھے، زلزلہ پیما مرکز کا کہنا تھا کہ ریکٹر اسکیل پر زلزلے کی شدت 4.2 ریکارڈ کی گئی تھی۔

    زلزلہ پیما مرکز کا کہنا تھا کہ زلزلے کی زیر زمین گہرائی 226 کلو میٹر تھی جبکہ مرکز کوہ ہندو کش کا پہاڑی سلسلہ تھا۔

    یاد رہے کہ گزشتہ روز بھی خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے تھے، زلزلے کی شدت 4.5 ریکارڈ کی گئی تھی جبکہ اس کا مرکز جنوب مشرقی افغانستان ‏تھا۔

    ادھر ذرائع کا کہنا ہے کہ پچھلے کئی ماہ سے اکثروبیشتر زلزلے آرہے ہیں ، ان میں سے اکثرکا مرکز افغانستان اورپاکستان کے پہاڑی علاقہ جات ہیں

  • بلدیاتی الیکشن میں شکست:پی ٹی آئی کی تمام تنظیمیں تحلیل کرنےپرکارکنان عمران خان کے فیصلے پرخوش

    بلدیاتی الیکشن میں شکست:پی ٹی آئی کی تمام تنظیمیں تحلیل کرنےپرکارکنان عمران خان کے فیصلے پرخوش

    اسلام آباد: بلدیاتی الیکشن میں شکست:عمران خان نے پی ٹی آئی کی تمام تنظیمیں تحلیل کردیں :کارکنان فیصلے پرخوش وزیراعظم نے ملک بھر میں تحریک انصاف کی تمام تنظیمیں تحلیل کر دی ہیں، آئینی کمیٹی تشکیل دے دی ہے، آئندہ مقامی قیادت کسی امیدوار کے رشتہ دار کی نامزدگی کا فیصلہ نہیں کرے گی جبکہ عمران خان نے آئندہ ٹکٹوں کی خود تقسیم کا اعلان کر دیا۔

    تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت پارٹی ترجمان کا اجلاس ہوا، اجلاس میں پنجاب سے وزیر اعلیٰ عثمان بزدار، گورنر پنجاب چودھری سرور، وزیر بلدیات محمود الرشید، سینیٹر سیف اللہ نیازی، عامر کیانی، وفاقی وزراء فواد چودھری، حماد اظہر، شفقت محمود، خیبرپختونخوا سے وزیر اعلیٰ محمود خان، اسد قیصر، پرویز خٹک، مراد سعید سمیت پارٹی کے سینئر رہنما اور دونوں صوبوں کی اہم قیادت بھی اجلاس میں موجود تھی۔

    اجلاس میں ملکی سیاسی اور معاشی صورتحال کا جائزہ لیا گیا اور پنجاب و خیبر پختون خواہ کے بلدیاتی انتخابات پر مشاورت کی گئی۔

    ذرائع کے مطابق پنجاب اور کے پی کے کی سیاسی صورتحال پرغور کیا گیا جبکہ پنجاب میں پی ٹی آئی کے انتظامی امور پر بھی بریفنگ دی گئی، نیز خیبر پختونخوا کے انتخابی نتائج سے متعلق رپورٹ کا جائزہ بھی لیا گیا۔

    ذرائع کے مطابق اجلاس کے دوران خیبرپختونخوا اور پنجاب میں بلدیاتی انتخابات اور آئندہ انتخابات کیلئے پارٹی حکمت عملی سے متعلق اہم فیصلے کر لئے گئے۔ وزیراعظم نے وزیر اعلی کے پی محمود خان کو صوبے میں پارٹی کارکنان کو منظم کرنے کی ہدایت کر دی۔

    وفاقی وزیر فواد چوہدری نے بھی اس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا تھا کہ وزیراعظم نے پی ٹی آئی کی تمام تنظیموں کو تحلیل کردیا، تمام ممبران کو ان کے عہدوں سے ہٹا دیا گیا۔

    اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کی تمام صوبوں میں نمائندگی ہے، تمام پارلیمانی بورڈ بھی تحلیل کردیے گئے ہیں۔وزیراعظم کے اس اقدام کے بعد ملک بھر میں نیا انتظامی ڈھانچہ تشکیل دیا جائے گا۔

    ذرائع کے مطابق وزیر اعظم عمران خان سپریم سیاسی کمیٹی کے سربراہ ہیں، پنجاب سے وزیر اعلیٰ عثمان بزدار، گورنرچوہدری سرور، شاہ محمود قریشی، شفقت محمود، عامر محمود کیانی، سیف اللہ نیاری خیبر پختونخوا سے وزیراعلیٰ محمود خان، پرویز خٹک، اسد قیصر، علی امین گنڈا، سندھ سے اسد عمر، عمران اسماعیل، علی زیدی، بلوچستان سے قاسم سوری، گورنر آغا ظہور جبکہ وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری، اعجاز چودھری اور شیریں مزاری کو بھی کمیٹی میں نمائندگی دی گئی ہے۔

    ادھر سوشل میڈیا پر پی ٹی آئی کارکنان نے کپتان کے اس فیصلے کو پسند کیا ہے اور کہا ہے کہ اس سے پارٹی مضبوط ہوکرسامنے آئے گی اور پچھلی غلطیوں کا ازالہ کرتے ہوئے کامیابیاں سمیٹے گی