Baaghi TV

Author: +9251

  • "اسموگ فری نسل” کی تیاری پر کام شروع،دنیا حیران یہ کیسے ممکن؟

    "اسموگ فری نسل” کی تیاری پر کام شروع،دنیا حیران یہ کیسے ممکن؟

    آکلینڈ: "اسموگ فری نسل” کی تیاری پر کام شروع،دنیا حیران یہ کیسے ممکن؟اطلاعات کے مطابق دنیا میں اسموگ کی بڑھتے ہوئے خطرات اور اس کے نتیجے میں  پیدا ہونے والی بیماریوں سے سائنسدان تو بہت ہی زیادہ پریشان ہیں،

     

    ادھر اسی حوالے سے نیوزی لینڈ میں نوجوانوں کو تمباکو سے دور رکھنے کے لیے پہلی ’اسموک فری نسل‘ کی تیاری پر کام شروع کردیا ہے۔

     

    عالمی ذرائع ابلاغ کے مطابق نیوزی لینڈ حکومت نے ایسی قانون سازی کا اعلان کیا ہے جس پر عمل کے ذریعے 2025 تک ایسی نئی نسل تیار ہوگی، جو تمباکو کے استعمال سے ناواقف ہوگی اور قانونی طور پر سگریٹ تک پہنچ بھی ان کے لیے ناممکن ہوگا۔

    نیوزی لینڈ کی ایسوسی ایٹ وزیر صحت ڈاکٹر عائشہ ویرال نے پارلیمنٹ میں بتایا کہ اس مقصد کےحصول کے لیے قوانین میں بہت سے ترامیم کی جائیں گی، جن میں سگریٹ کے 8000 قانونی ریٹیلرز کی تعداد 500 تک لانا اور 14 سال کی عمر کے نوجوان کو سگریٹ کی فروخت پر مکمل پابندی جیسے اقدامات بھی شامل ہیں

    ادھر پاکستان میں بھی سگریٹ نوشی کے خلاف مہم جاری ہے اور اس سلسلے میں مختلف تنظیمیں کسی نہ کسی طرح اس مہم کو جاری رکھا ہوا ہے

     

    پچھلے دنوں مری میں بھی ایک ایسا ہی سیمینار ہوا تھا جس میں مختلف میڈیا تنظیموں کو دعوت دی گئی تھی تاکہ وہ عوام الناس کو سگریٹ نوشی کے نقصانات سے آگاہ کریں اور اس سے بچنے کی نصیحت کریں ،

     

    اس سیمینار میں باغی ٹی وی کی ٹیم مدعو تھی جنہوں نے دنیا کو اس زہرسے بچانے کے لیے اپنے میڈیا پلیٹ فارم کو سگریٹ نوشی کے نقصانات سے خبردار رکھنے کے لیے اپنی مہم جاری کی ہوئی ہے

  • بھارتی چیف آف ڈیفنس سٹاف بپن راوت کوواقعی فوج کےاندرسے ٹارگٹ کیاگیا:ثبوت ملنے لگے

    بھارتی چیف آف ڈیفنس سٹاف بپن راوت کوواقعی فوج کےاندرسے ٹارگٹ کیاگیا:ثبوت ملنے لگے

    نئی دلی: بھارتی چیف آف ڈیفنس سٹاف بپن راوت کوواقعی فوج کےاندرسے ٹارگٹ کیاگیا:ثبوت ملنے لگے،اطلاعات کے مطابق کل بھارتی چیف آف ڈیفنس جنرل بین راوت ایک ہیلی کاپٹرحادثے میں ہلاک ہوگئے ہیں اور ان کے ساتھ ان کی اہلیہ اور دیگر13 افراد بھی اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں‌ ،

    ادھر پہلے تو بھارتی میڈیا اور دیگرنظررکھنے والوں نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ بھارتی چیف آف ڈیفنس جنرل بین راوت فوج میں‌ انتہائی متنازعہ جنرل تے اور ان کے رویے سے کئی اعلیٰ جنرل بہت زیادہ پریشان تھے اور فوج کے اندر ہلاک ہونے والے جنرل کے خلاف سخت نفرت پائی جاتی تھی اور یہ بھی خدشہ ظاہر کیا تھا کہ بھارتی جرنیلوں نے ہی چیف آف ڈیفنس جنرل بین راوت کو مروا دیا ہے،

    سوشل میڈیا پر ہر گزرتے لمحہ کے ساتھ آوزیں بلند ہورہی ہیں کہ بھارتی ریاست تامل ناڈو میں آج ایک پراسرار ہیلی کاپٹر حادثے میں بھارتی چیف آف ڈیفنس سٹاف بپن راوت کی ہلاکت بھارتی فوج میں موجود اختلافات کا شاخسانہ ہوسکتا ہے ۔

    کشمیر میڈیاسروس کے مطابق بھارتی فوج کے سابق ڈی جی ایم او ریٹائرڈلیفٹیننٹ جنرل شنکر پرسادنے جو ایک دفاعی تجزیہ کار بھی ہیں، اپنے بلاگ میں بپن راوت کی ہلاکت پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھاہے کہ آج بھارت کے ایک دو ر اندیش اور صاحب بصیرت فوجی کمانڈر کی ہیلی کاپٹر حادثے میں موت نے بہت سے سوالات کو جنم دیاہے ۔

    انہوں نے کہاکہ بھارتی فضائیہ کا ہیلی کاپٹرMi-17V5ایک انتہائی قابل اعتماد ہیلی کاپٹر ہے جوطویل عرصے سے بھارت میں زیر استعمال ہے ۔ انہوں نے کہاکہ اس کی جدید ٹیکنالوجی اور بہترین حفاظتی ریکارڈ اسے انتہائی اہم شخصیات کے سفر کیلئے انتہائی موزوں بناتا ہے ۔ مزید برآں ایسے ہیلی کاپٹر کو چلانے کے لیے صرف انتہائی تجربہ کار پائلٹ اور ٹیکنیشنز کی خدمات حاصل کی جاتی ہیںاور اس ہیلی کاپٹر میں تکنیکی خرابیوںکا خدشہ نہ ہونے کے برابر ہے ۔

    انہوں نے موسمی صورتحال کو حادثے کا باعث بننے کے خدشہ کو خارج از امکان قرار دیتے ہوئے کہاکہ ہمارے ہنر مند پائلٹ ہر طرح کے موسمی حالات میں کام کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں اورMi-17V5 جدید ایویونکس سے لیس ہے ۔ انہوں نے کہاکہ کسی بھی وی وی آئی پی موومنٹ کی اجازت موسم کی صورتحال ، آپریشنل کلیئرنس، ایئر ڈیفنس کلیئرنس، سیکیورٹی کلیئرنس اور فلائٹ انفارمیشن کلیئرنس کے بعد ہی دی جاتی ہے ۔ ریٹائرڈلیفٹیننٹ جنرل شنکر پرسادنے سوال اٹھایا تو کیا یہ پائلٹ کی غلطی تھی، تکنیکی خرابی یا کوئی اور ؟

    انہوں نے کہاکہ حقیقت یہ ہے کہ جنرل راوت کی طرف سے متعارف کرائی گئی اصلاحات فوج نے بہت سے مسلح فورسز میں بہت سے حلقوں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے اور ممکن ہے کہ ہم سب نے جس تباہی کا مشاہدہ کیا ہے اس میں انسانی ہاتھ ہو اوربھارت فوج میں موجود ناراض کالی بھیڑوں کاکیادھرا ہو ؟ایک ٹوئٹر ہینڈلر عادل راجہ نے بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کا بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کو لکھا گیا خط شیئر کرتے ہوئے کہا ہے کہ چیف آف ڈیفنس سٹاف کی ناپسندیدہ تقرری کے بعد بھارتی اسٹیبلشمنٹ کے اندر جنگ چھڑ گئی تھی۔

    راج ناتھ سنگھ کے خط کے مطابق وادی گلوان میں چینی فوج کی طرف سے بھارتی فوجیوں کے ساتھ توہین آمیز سلوک آرمی چیف جنرل منوج نروانے اور فوج کے کمانڈر XIVکور لیفٹیننٹ جنرل ہریندر سنگھ کی طرف سے صورتحال کا غلط اندازہ لگانے کا نتیجہ تھا۔ راجناتھ سنگھ نے مزید کہا کہ اس سے نہ صرف ہندوستانی افسروں اور فوجیوں کو نقصان اٹھانا پڑا بلکہ بھارت کو بھی شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا ۔

     

    خط میں انکشاف کیا گیا ہے کہ جنرل بپن راوت نے اس معاملے میں اور ماضی میں بھی ان کی کارکردگی کی وجہ سے دونوں افسروں کو ان کے عہدوں سے ہٹانے کی سفارش کی تھی۔بھارتی فوج کے سابق ڈی جی ایم او لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈشنکر پرساد نے بھی جنرل بپن راوت کے ایک حالیہ بیان کا حوالہ دیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ بھارتی فضائیہ ایک معاون فورس ہے نہ کہ خودجنگ لڑنے والی فورس ۔بھارتی فضائیہ کے سربراہ نے کھلے عام انہیں تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہاتھا کہ فضائیہ خود طاقت کا ایک سرچشمہ ہے۔اس عوامی تصادم نے تھیٹر کمانڈز کے تصور پر تینوں مسلح افواج کے درمیان گہرے اختلافات کو بے نقاب کیا۔

    بھارتی فضائیہ اور بحریہ کو ہمیشہ یہ خوف رہتا ہے کہ انہیں ماتحت فورس تک محدودکردیاجائے گا اور اس نظام کے ذریعے انہیںفوج کی کمان کے تحت لایا جائے گا۔انہوں نے مزید لکھاکہ اس ماڈل کے سب سے بڑے حامی جنرل بپن راوت تھے جنہیں دیگر مسلح افواج کی مخالفت کے باوجود ہندوستان کا پہلا چیف آف ڈیفنس سٹاف بنایا گیا تھا۔ صرف 2 ہفتے قبل راوت نے فضائیہ اور بحریہ کو تھیٹر کمانڈز کے تحت آنے کیلئے حتمی ڈیڈ لائن دی تھی۔

  • امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمان کی جعلی پولیس مقابلے میں شہید ہونے والے ارسلان محسود کے والد سے تعزیت

    امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمان کی جعلی پولیس مقابلے میں شہید ہونے والے ارسلان محسود کے والد سے تعزیت

    کراچی : امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمان کی جعلی پولیس مقابلے میں شہید ہونے والے ارسلان محسود کے والد سے تعزیت

    پولیس کی ذمہ داری عوام کی جان و مال کی حفاظت ہے لیکن سندھ پولیس عوام کی قاتل بن گئی ہے۔سادہ کپڑوں میں ملبوس اہلکارعوام کے لئے خوف کا باعث بن گئے ہیں۔ارسلان محسود کا قتل کراچی میں ماورائے عدالت ہونے والے قتل عام کا تسلسل ہے۔سندھ پولیس جرائم کو کنٹرول کرنے اور منشیات کی روک تھام کے بجائے ڈاکوں کی سرپرست بن گئی ہے۔
    کراچی مزید نوجوانوں کی لاشیں اٹھانے کا متحمل نہیں ہوسکتا۔جماعت اسلامی لیاقت محسود کے غم میں برابر شریک ہے اور سندھ پولیس کے اس ظالمانہ اقدام کی بھرپور مذمت کرتی ہے۔اب شہر کراچی میں مزید کسی رائو انوار کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز جعلی پولیس مقابلے میں شہید ہونے والے نوجوان طالب علم ارسلان محسود کے گھراتحاد ٹائون آمدکے موقع پر انکے والد لیاقت محسود اور اہل خانے سے تعزیت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔
    انہوں نے مطالبہ کیا کہ وزیر اعلیٰ اور آئی جی سندھ اعلیٰ سطح پر انکوائری کے بعد ملزمان کو کڑی سے کڑی سزا دیں۔اس موقع پر امیر جماعت اسلامی ضلع کیماڑی فضل احد ،سابق ایم پی اے حمید اللہ خان،ڈاکٹر نور حق و دیگر ذمہ داران بھی موجود تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وزیر اعلی جواب دیں کہ سندھ پولیس کو قتل عام کا لائسنس کس نے دیا ہے ۔صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ شہر میں امن و مان قائم رکھے۔
    دیگر ذمہ داریوں کی طرح پیپلزپارٹی کی حکومت قیام امن میں بھی ناکام ہو گئی ہے۔قانون کسی مجرم کو بھی سرے عام گولی مارنے کی اجازت نہیں دیتا لیکن یہاںسرے عام نوجوان طالب علموں پر گولیاں برسائی گئیں۔پولیس منشیات کو پھیلانے،جرائم کی سرپرستی اور مجرموں کی پشتی بانی کررہی ہے۔محکمہ پولیس میں بڑے پیمانے پر اصلاحات کی ضرورت ہے۔

  • کراچی والوں کو گرین لائن بسوں پر سفر کیلئے مزید انتظار کرنا ہو گا

    کراچی والوں کو گرین لائن بسوں پر سفر کیلئے مزید انتظار کرنا ہو گا

    کراچی : کراچی والوں کو گرین لائن بسوں پر سفر کیلئے مزید انتظار کرنا ہو گا، 10 دسمبر کو منصوبے کے افتتاح کے اعلان کی حقیقت کچھ اور ہی نکلی۔

    تفصیلات کے مطابق ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی کے شہری اپنے شہر کے پہلے جدید ماس ٹرانزٹ منصوبے کے افتتاح کا بے صبری سے انتظار کر رہے ہیں، تاکہ ان کی سفری مشکلات میں کچھ کمی آ سکے۔
    وفاقی حکومت کی جانب سے رواں ماہ کی 10 تاریخ کو گرین لائن منصوبے کے افتتاح کا اعلان کیا گیا ہے، تاہم اس اعلان کی حقیقت کچھ اور نکلی ہے۔
    میڈیا رپورٹس کے مطابق گرین لائن کے بیشتر اسٹیشنز کی حالت انتہائی خراب ہے، ان کی تعمیر تاحال مکمل نہیں ہوئی۔ ایسے میں حکومت کی اعلان کردہ تاریخ پر گرین لائن بسوں کا کمرشل آپریشن شروع ہونا مشکل نظر آتا ہے۔ یاد رہے کہ کراچی گرین لائن بس منصوبے کیلئے 80 جدید بسیں کراچی پہنچ چکی ہیں۔ منصوبے کیلئے چین میں تیار کی جانے والی جدید بسیں 2 علیحدہ شپ منٹس کے ذریعے کراچی پہنچائی گئیں۔
    حکام کے مطابق پہلے فیز میں گرین لائن بسیں سرجانی ٹائون سے نمائش چورنگی(گرومندر)تک چلائی جائیں گی، جہاں اب تک ٹریک مکمل ہوچکا ہے۔واضح رہے کہ یہ منصوبہ 2016 میں شروع ہوا تھا۔ کراچی گرین لائن منصوبے کے لیے بسیں فراہم کرنے والی کمپنی کے مطابق کراچی کی بسیں لاہور، اسلام آباد اور پشاور میں چلنے والی بسوں کے مقابلے میں سب سے زیادہ جدید ہیں، یہ بسیں یورو تھری معیار کی اور ہائبرڈ ہیں ، ان میں ڈیزل کے ساتھ خودکار طریقے سے چارج ہونے والی بیٹری بھی استعمال ہوگی جس سے ایندھن کی بچت کے ساتھ ماحول کو بھی فائدہ ہوگا۔
    بسوں میں خصوصی سسٹم نصب ہے جو انجن میں آگ لگنے کی صورت میں خودکار طریقے سے آگ بجھائے گا۔18 میٹر لمبی بسوں میں 40 نشستیں ہیں۔ کھڑے ہوکر اور نشستوں پر بیک وقت 150 افراد سفر کرسکیں گے، زیادہ رش کی صورت میں 190 مسافروں کی گنجائش ہوگی۔ بسوں میں معذور افراد کے لیے جگہ خصوصی ہے اور خودکار ریمپ نصب ہے۔ ہر بس میں دو وہیل چیئرز کی جگہ مخصوص ہے۔ بسوں میں خواتین اور معذور افراد کیلئے مخصوص نشستیں ہوں گی۔ کراچی گرین لائن ٹرانسپورٹ منصوبے کے لیے بنائی گئیں ہائبرڈ بسیں چین میں تیار کی گئی ہیں۔کراچی کی روائتی لوکل بسوں کی نسبت یہ بسیں لمبی اور مکمل ایئرکنڈیشنڈ ہوں گی۔ ہر بس میں 200 سے 250 افراد کے سفر کرنے گنجائش موجود ہے۔

  • کراچی میں فالٹ لائنز کی موجودگی کا انکشاف

    کراچی میں فالٹ لائنز کی موجودگی کا انکشاف

    کراچی : کراچی میں فالٹ لائنز کی موجودگی کا انکشاف۔

    تفصیلات کے مطابق ڈائریکٹر محکمہ موسمیات زاہد رفیع نے بدھ کی رات کو کراچی میں آنے والے زلزلے کے بعد تشویش ناک انکشاف کیا ہے۔ زاہد رفیع کے مطابق شہر قائد کراچی میں فالٹ لائنز موجود ہیں، مطابق زلزلے کے بعد صورتحال کا تجزیہ شروع کر دیا ہے۔ ماہر موسمیات نے زلزلے کو غیر معمولی قرار دیا ہے۔
    نجی ٹی وی چینل اے آر وائی سے گفتگو کرتے ہوئے زاہد رفیع نے بتایا کہ کراچی میں آنے والے زلزلے نے ہم سب کو حیران کر دیا ہے۔ زلزلے کا مرکز کراچی ہی تھا جبکہ گہرائی صرف 15 کلومیٹر تھی۔ 15 کلومیٹر کی گہرائی کم سمجھی جاتی ہے۔ کراچی میں اتنی شدت کا زلزلہ نہیں آتا۔ واضح رہے کہ ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی میں بدھ کی رات کو زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس کیے گئے۔
    گلشن اقبال، گلستان جوہر،گلشن حدید، آئی آئی چندریگر روڈ، ملیر، اسکیم33، صدر، گلزارہجری، پورٹ قاسم، ‏قائدآباد، کھوکھراپار ملیرم، لیاری، شیرشاہ، کھارادر، کیماڑی سمیت مختلف علاقوں میں زلزلے کے شدید جھٹکوں کے بعد خوف و ہراس پھیل گیا۔ زلزلے کے بعد لوگ خوف زدہ ہو کر گھروں اور عمارتوں سے باہر نکل آئے اور کلمہ طیبہ کا ورد کرتے رہے۔
    بتایا گیا ہے کہ زلزلے کی شدت 4 عشاریہ 1 تھی۔ زلزلے کی زیر زمین گہرائی 15 کلومیٹر جبکہ مرکز ڈی ایچ اے کے جنوب میں 15 کلومیٹر دور کا علاقہ بتایا گیا ہے۔ زلزلے کے باعث کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع موصول نہیں۔ یاد رہے کہ حالیہ کچھ عرصے کے دوران ملک کے کچھ علاقے مسلسل زلزلوں کی زد میں رہے ہیں۔ بلوچستان میں ہرنائی اور آس پاس کے علاقے، جبکہ خیبرپختونخواہ میں سوات ریجن میں آئے روز زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے جاتے ہیں، جس باعث ان علاقوں کے شہری مسلسل خوف کی فضاء میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

  • رات کی شفٹ میں بے وقت کھانے سے ذیابیطس اور موٹاپے کا خطرہ

    رات کی شفٹ میں بے وقت کھانے سے ذیابیطس اور موٹاپے کا خطرہ

    کراچی : جسم کی اندرونی گھڑی ہمارے سونے جاگنے اور دیگر معمولات کو طے کرتی ہے، ان میں بگاڑ سے جسم پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں، اب معلوم ہوا کہ رات کو جاگنے اور کھانے پینے سے ذیابیطس اور موٹاپے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

    اس سے قبل رت جگوں میں کام سے جسم کے استحالے (میٹابولزم) متاثر ہونے، امراضِ قلب اور بلڈپریشر کے درمیان تعلق سامنے آچکا ہے۔ اسی طرح سونے اور جاگنے کے قدرتی دورانیے یعنی جسمانی گھڑی (سرکاڈیئن کلاک) بگڑنے سے دل پر منفی اثرات بھی سامنے آئے ہیں۔
    اس کے بعد ہارورڈ میڈیکل اسکول کے سائنسدانوں نے نوجوان اور صحت مند رضا کاروں کو بھرتی کرکے انہیں دو گروہوں میں تقسیم کیا۔ ان میں سے ایک کو دن میں کام کرایا گیا اور ان ہی اوقات میں کھانا پینا فراہم کیا۔ دوسرے گروہ کو رات میں جاگنے کو کہا اور انہی اوقات میں کھانا دیا گیا۔ یہ عمل کل 14 روز تک دہرایا گیا۔
    سب سے پہلے دونوں گروہوں کے خون میں گلوکوز کی مقدار نوٹ کی گئی۔ اب جن لوگوں نے دو ہفتے شب بیداری میں گزارے اور رات کو کھانا کھایا تو پہلے کے مقابلے گلوکوز کی شرح ساڑھے چھ فیصد بڑھی ہوئی دیکھی گئی۔
    ہارورڈ کے پروفیسر فرینک اے جے ایل نے یہ تحقیق کی ہے اور وہ کہتے ہیں کہ ہماری تحقیق سے عیاں ہے کہ بے وقت کھانے سے خون میں شکر کی مقدار بڑھتی ہے لیکن انہوں نے اس ضمن میں مزید تحقیق پر زور دیا۔
    اب بھی سائنس دانوں کا خیال ہے کہ رات کو کھانے کے بجائے رات جاگنے کا عمل زیادہ مضر ہے کیونکہ یہ پورے بدن کے نظام کو تتربتر کردیتا ہے۔

  • ہوشیار، یہ کام کرنے سے فالج کا خطرہ 60 فیصد بڑھ سکتا ہے

    ہوشیار، یہ کام کرنے سے فالج کا خطرہ 60 فیصد بڑھ سکتا ہے

    کراچی : فالج کا شدید دورہ پوری دنیا میں فوری طور پر جان لیوا ثابت ہوسکتا ہے اور ہرسال ہزاروں لاکھوں افراد میں دائمی معذوری کی وجہ بھی بنتا ہے۔

    انسان کی کچھ ایسی سرگرمیاں ہیں جو محض لمحوں میں فالج کا خطرہ 60 فیصد تک بڑھاسکتی ہیں اور ان سرگرمیوں میں سرفہرست جسمانی دباؤ ہے۔
    اس ضمن میں نیشنل یونیورسٹی آف آئرلینڈ نے 2021 میں پوری دنیا میں 13 ہزار 462 کیسز کے مطالعات سے انکشاف کیا ہے کہ بھاری وزن اٹھانے اور بہت زیادہ ورزش ختم کرنے کے بعد ایک گھنٹے کے اندر اندر فالج کا خطرہ 60 فیصد تک بڑھا سکتا ہے۔
    اس تحقیق کی روداد امریکن جرنل آف ایپیڈیمیولوجی میں شائع ہوئی ہے۔ 390 متاثر ہونے والے افراد میں سے 21 یعنی 21 افراد نے اعتراف کیا کہ فالج سے قبل انہوں نے سخت جسمانی مشقت کی تھی۔ اس طرح کل پانچ فیصد افراد سامنے آئے جنہوں نے فالج کے دورے سے قبل سخت مشقت کی تھی یا کم ازکم 50 پاؤنڈ وزن اٹھایا تھا۔ ان تمام افرد کو اشکیمیئک اسٹروک (فالج) ہوا تھا۔
    دوسری جانب خود ڈاکٹروں نے خبردار کیا ہے کہ بہت رنج و غم اور صدمے سے بھی فالج کا خطرہ 30 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔ واضح رہے کہ فالج کئی طرح کے ہوتے ہیں جن میں دماغ کی باریک رگ میں خون کا لوتھڑا پھنس جانا یا پھر خون کی رگ پٹھنے سے دماغ میں خون کا بہاؤ شامل ہے۔

  • کراچی میں دودھ کی نئی سرکاری قیمت 120 روپے فی لیٹر مقرر

    کراچی میں دودھ کی نئی سرکاری قیمت 120 روپے فی لیٹر مقرر

    کراچی: شہرقائد کے عوام کے لیے دودھ کی نئی سرکاری قیمت کا نوٹی فکیشن جاری کردیا گیا ہے جس کے مطابق دودھ کی نئی خوردہ قیمت 120 روپے فی لیٹر ہوگی۔

    کمشنر کراچی محمد اقبال میمن نے دودھ کی نئی سرکاری قیمت کا نوٹی فکیشن جاری کردیا گیا ہے جس کے مطابق کراچی میں دودھ کی نئی خوردہ قیمت 120 روپے فی لیٹر ہوگی۔ نئی قیمت کا فیصلہ ڈیری فارمرز اور ہول سیلرز، صارفین کی انجمنوں اور متعلقہ سرکاری محکموں کے نمائندوں پر مشتمل اجلاس میں کیا گیا اور ڈپٹی کمشنر ملیر کی سربراہی میں قائم جائزہ کمیٹی کو بنیاد بناکر خوردہ قیمت 94 روپے لیٹر سے بڑھاکر 120روپے لیٹر کردی گئی اس طرح دودھ کی قیمت میں یک دم 26روپے لیٹر کا اضافہ کردیا گیا۔
    نوٹٰی فکیشن کے مطابق نئی قیمت پر 9 دسمبر سے عملدرآمد ہو گا۔ دودھ کی ڈیری فارمرز کی قیمت 105 اور تھوک قیمت 110 روپے فی لیٹر ہوگی۔ اجلا س نے ہر تین ماہ بعد دودھ کی قیمت کا جائزہ لینے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔
    دودھ کی سرکاری قیمت میں یکدم 26 روپے اضافے پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے شہریوں نے کہا کہ کمشنر کراچی کے نوٹی فکیشن سے قبل ہی ڈیری مافیا دودھ کی قیمت میں اضافہ کرچکی ہے اور کراچی میں دودھ پہلے ہی 140روپے لیٹر فروخت ہورہا ہے۔ کمشنر کراچی نے ڈیری مافیا کی من مانی اور غیرسرکاری قیمت کو تحفظ فراہم کرتے ہوئے دودھ کی قیمت میں اضافہ کردیا اور دودھ کی قیمت غیرقانونی طور پر بڑھانے والی انجمنوں سے کوئی پوچھ گچھ نہیں کی گئی اور نہ ہی ان سے 120روپے لیٹر پر عمل درآمد کی کوئی یقین دہانی حاصل کی گئی۔
    مسابقتی کمشین کی رپورٹ کے مطابق ڈیری سیکٹر کا کارٹل کراچی کے شہریوں سے سالانہ اربوں روپے غیرقانونی قیمت کی شکل میں وصول کررہا ہے۔ دودھ کی قیمت مقرر کرنے کے لیے بھی ان ہی تنظیموں سے مشاورت کی گئی جنہیں کارٹل کا حصہ قرار دیا گیا۔

  • کراچی والے 11 ماہ میں 47148 موٹر سائیکلوں اور 23124 موبائل فونز سے محروم

    کراچی والے 11 ماہ میں 47148 موٹر سائیکلوں اور 23124 موبائل فونز سے محروم

    کراچی: شہر قائد کے باسی 11 ماہ میں 47 ہزار 148 موٹر سائیکلوں اور 23 ہزار 124 موبائل فونز سے محروم ہوگئے۔

    سی پی ایل سی کے اعداد و شمار کے مطابق رواں سال کے 11 ماہ کے دوران کراچی کے مختلف علاقوں سے مجموعی طور پر شہریوں کو ایک ہزار 917 گاڑیوں سے محروم کر دیا گیا، جس میں 215 گاڑیاں چھینی جب کہ 1702 گاڑیاں چوری کرلی گئیں۔
    گزشتہ 11 ماہ کے دوران مجموعی طور پر شہریوں کو 47 ہزار 148 موٹر سائیکلوں سے ہاتھ دھونا پڑا، جس میں 4145 موٹر سائیکلیں چھینی جبکہ 43 ہزار 3 موٹر سائیکلوں کو چوری کرلیا گیا۔
    اسٹریٹ کرائم کی وارداتوں کے دوران شہر کے مختلف علاقوں سے مجموعی طور پر 23 ہزار 124 موبائل فونز شہریوں سے چھین لیے گئے، رواں سال کے 11 ماہ کے دوران اغوا برائے تاوان کے 15 واقعات رپورٹ ہوئے جبکہ بھتہ خوری کے بھی 23 واقعات سامنے آئے ، شہر میں جاری قتل و غارت گری کے واقعات میں مجموعی طور پر 442 افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا جبکہ رواں سال کے دوران بینک ڈکیتی کی 2 وارداتیں رونما ہوئیں۔
    نئے کراچی پولیس چیف عمران یعقوب منہاس نے رواں سال مئی میں اپنے عہدے کا چارج سنبھالا تھا اور اس موقع پر انھوں نے شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے کے عزم کا اظہار کیا تھا تاہم ان کی تعیناتی کے 7 ماہ کے دوران شہری مجموعی طور پر 1281 گاڑیوں ، 30 ہزار 669 موٹر سائیکلوں اور 14 ہزار 953 موبائل فونز سے محروم کر دیئے جب کہ اسی دوران شہر کے مختلف علاقوں میں ڈاکوؤں نے مزاحمت پر درجنوں شہریوں کو نہ صرف مزاحمت پر فائرنگ کر کے زخمی کر دیا بلکہ کئی شہریوں کو ابدی نیند بھی سلا دیا۔
    ترجمان کراچی پولیس کی جانب سے روزانہ کی بنیاد پر ملزمان کی گرفتاریوں کے دعوؤں کے باوجود شہر میں اسٹریٹ کرائمز ، دکانوں میں گھس کر اسلحے زور پر لوٹ مار ، گاڑیوں ، موٹر سائیکلوں اور موبائل فونز چھیننے کی وارداتیں عروج پر رہیں جس سے پولیس کی کارکردگی کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

  • کراچی کے مختلف علاقوں میں زلزلے کے جھٹکے

    کراچی کے مختلف علاقوں میں زلزلے کے جھٹکے

    کراچی: شہر کے مختلف علاقوں میں زلزلے کےجھٹکے محسوس کئے گئے ہیں۔

    تفصیلات کے مطابق کراچی کے مختلف علاقوں اور گرد و نواح میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کئے گئے ہیں۔ زلزلے کے جھٹکے ملیر، صدر، شاہ فیصل کالونی، گلشن حدید، قائدآباد ، گلستان جوہر ، پہلوان گوٹھ، سعدی ٹاون، گلشن حدید اور گڈاپ میں محسوس کئے گئے۔ زلزلے سے ابتدائی طور پر کسی قسم کے جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

    محکمہ موسمیات کے زلزلہ پیما مرکز کے مطابق زلزلے کے جھٹکے رات 10 بج کر 16 منٹ پر محسوس کئے گئے، زلزلے کا مرکز ڈی ایچ اے کراچی سے 15 کلومیٹر شمال میں تھا، جب کہ اس کی گہرائی 15 کلومیٹر اور شدت ریکٹر اسکیل پر 4.1 ریکارڈ کی گئی ہے۔