Baaghi TV

Author: +9251

  • برطانوی پارلیمان میں‌ کوکین استعمال ہونے کا انکشاف:برطانوی وزیراعظم نے بڑا حکم دے دیا

    برطانوی پارلیمان میں‌ کوکین استعمال ہونے کا انکشاف:برطانوی وزیراعظم نے بڑا حکم دے دیا

    لندن : برطانوی پارلیمنٹ میں منشیات استعمال ہونے کا انکشاف ہوا ہے جس کے پارلیمان کے 11 مقامات پر شواہد بھی ملے ہیں۔

    کیا برطانوی اراکین پارلیمنٹ یا پارلیمان عملہ ایوان کی عمارت میں منشیات کا استعمال کررہا ہے، برطانوی خبر رساں ادارے سنڈے ٹائمز نے چونکا دینے والے انکشاف کردئیے۔

    برطانوی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ برطانوی پارلیمان کی عمارت میں ٹیسٹ کی گئی بارہ میں سے گیارہ جگہوں پر کوکین کے شواہد ملے، جن میں وزیر اعظم کے دفتر کے قریب واش روم بھی شامل ہیں۔

    اخبار نے پارلیمان میں نامعلوم ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اراکین پارلیمان اور اسٹاف میں منشیات کا استعمال عام ہے۔برطانوی حکومت نے ملک میں منشیات کے استعمال کی روک تھام کے لیے 10 سالہ منصوبے کا اعلان کیا ہے۔

    برطانیہ کے وزیر اعظم بورس جانسن نے ملک میں کام کرنے والے 2 ہزار منشیات فروش گروہ کے خاتمے کی تیاری شروع کردی ہے، اس سلسلے میں 10 سالہ حکمت عملی بھی تیار کی گئی ہے، جس کے تحت پولیس شہر اور مضافاتی علاقوں سے تعلق رکھنے والے منشیات فروش گروہ کے درمیان رابطوں کو توڑے گی۔

    برطانوی وزارت داخلہ کے مطابق اس وقت ملک میں منشیات کے عادی افراد کی تعداد 3 لاکھ سے زائد ہے جو ملک میں ہونے والے جرائم کی وجہ ہیں، ان جرائم میں لوٹ مار اور قتل کے واقعات بھی شامل ہیں۔ جرائم کی ان وارداتوں سے ملک کو سالانہ 20 ارب پاوّنڈز کا نقصان ہوتا ہے۔

    10 سالہ حکمت عملی کے تحت پولیس کو یہ اختیار دیا جارہا ہے کہ وہ گرفتار افراد کے ٹیسٹ کرائیں، منشایت کے عادی افراد کو اس لعنت سے چھٹکارہ دلانے کے لئے انہیں خصوصی کورس کرائیں اور اگر وہ منشیات کا استعمال جاری رکھیں تو انہیں سزائیں دلوائیں۔

    نئی حکمت عملی کے تحت پولیس گرفتار کئے گئے منشیات فروش کا موبائل فون قبضے میں لے سکے گی، اس کے علاوہ پولیس کو اختیار بھی ہوگا کہ وہ اس موبائل فون کے ذریعے اس کے گاہکوں اور گروہ کے دیگر افراد سے رابطہ کرسکیں۔

    برطانوی وزیر اعظم نے گزشتہ روز اپنے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ملزمان کے ڈرائیونگ لائسنس اور پاسپورٹ بھی ضبط کئے جاسکتے ہیں۔

    بورس جانسن کے لئے اس وقت ایک بڑا چیلنج برطانوی پارلیمنٹ میں منشیات فروشوں کی رسائی کو روکنا ہے، اس سلسلے میں انہوں نے چند روز قبل پارلیمنٹ میں خصوصی سراغ رساں کتے تعینات کرنے کا بھی عندیہ دیا ہے۔

    برطانوی پارلیمنٹ کے اسپیکر سر لنڈسے ہوئلے نے اس حوالے سے کہا تھا کہ پارلیمنٹ کے احاطے میں منشیات اور دیگر ممنوعہ چیزیں استعمال کی جارہی ہیں، پارلیمنٹ کے ان حصوں سے بھی منشیات کے استعمال کے آثار ملے ہیں جہاں صرف خصوصی اجازت کے حامل افراد ہی داخل ہوسکتے ہیں، وہ پارلیمنٹ میں اس منشیات کلچر کی چھان بین کریں گے، پولیس کو شواہد اکٹھے کرنے بلایا جائے گا۔

  • برطانوی وزیراعظم کی پریس سیکرٹری مستعفی:وزیراعظم کی حکومت خطرے میں‌:تہلکہ خیزانکشافات

    برطانوی وزیراعظم کی پریس سیکرٹری مستعفی:وزیراعظم کی حکومت خطرے میں‌:تہلکہ خیزانکشافات

    لندن :برطانوی وزیراعظم کی پریس سیکرٹری مستعفی:وزیراعظم کی بھی چُھٹّی ہوسکتی ہے:تہلکہ خیزانکشافات ،اطلاعات کے مطابق اس وقت برطانوی وزیراعظم بورس جانسن کی حکومت سخت خطرے میں ہے ، اس کی وجہ بہت سنگین بتائی جارہی ہے،

    ادھر اپنے گناہ کا اقرار کرتے ہوئے برطانوی وزیراعظم بورس جانسن نے بدھ کو برطانیہ کی پارلیمان کے دارالعوام میں اس ویڈیو پر معذرت کر لی ہے جس میں ان کے سٹاف کو گزشتہ سال کرسمس کے موقع پر ان کی سرکاری رہائش گاہ پر مبینہ پارٹی پر بات کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

    بورس جانسن نے پارلیمان میں اس معاملے پر سوالات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ وہ متعدد مرتبہ اس بات کی یقین دہانی کرا چکے ہیں کہ کوئی پارٹی نہیں ہوئی تھی اور اعلان کیا کہ یہ انکوائری بھی کروائی جائے گی کہ آیا کووڈ کی وجہ عائد کسی ضابطے کی خلاف ورزی تو نہیں ہوئی۔

    کرسمس کے موقع پر کووڈ کی پابندیوں کو ملحوظ نہ رکھتے ہوئے پارٹی کا اہتمام کرنے کے الزامات سامنے آنے کے بعد سے بورس جانسن کی حکومت شدید تنقید کی زد میں ہے۔

    اس پر عوام میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ حزب اختلاف کے رہنما کیر سٹامر نے کہا ہے کہ وزیر اعظم رنگے ہاتھوں پکڑے گئے ہیں اور ان واقعات کے بارے میں ان کا بیان قابل اعتبار نہیں ہے۔

    ادھر غلط بیانی پر یہ ویڈیو بورس جانسن کی حکومت کا تختہ الٹ سکتی ہے ،ویسے تو برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن کے لیے تنازعہ کوئی نئی چیز نہیں تاہم حالیہ دنوں میں وہ اور ان کی کابینہ ایک نئے سکینڈل کی زد میں آ گئے ہیں۔اس بہت بڑے جھوٹ نما سیکنڈل کے منظرعام پر آنے کے بعد قیاس آرائیاں شروع ہوگئی ہیں کہ بورس جانسن کو حکومت سے ہاتھ دھونا پڑے گا

    اس بار ان کے لیے مشکل وہ ویڈیو بن گئی ہے جس میں ان کی اپنی پریس سیکریٹری یہ انکشاف کر رہی ہیں کہ گذشتہ برس دسمبر میں کووڈ 19 کے باعث لاگو پابندیوں کے باوجود وزیر اعظم آفس میں ایک پارٹی کا انعقاد کیا گیا۔

    لیک ہونے والی ویڈیو کے مطابق اس پارٹی میں 40 سے 50 افراد شریک تھے اور یہ ویڈیو برطانیہ کے آئی ٹی وی چینل نے نشر کی ہے۔اب بورس جانسن کی طرف سے اقرار کرنے کےساتھ جہاں ان کی پریس سیکرٹری کو مستعفیٰ ہونا پڑا ہے ، بعض حلقوں نے خدشے کا اظہار کیا ہے کہ بورس جانسن کی حکومت بھی چند دن کی مہمان ہے

  • برطانیہ میں اومی کرون بے قابوہونے لگا:برطانوی حکومت نے نئی پابندیاں عائد کردیں

    برطانیہ میں اومی کرون بے قابوہونے لگا:برطانوی حکومت نے نئی پابندیاں عائد کردیں

    لندن :برطانیہ میں اومی کرون بے قابوہونے لگا:برطانوی حکومت نے نئی پابندیاں عائد کردیں ،اطلاعات کے مطابق برطانیہ میں ہرآنے والا لمحہ بڑا خطرناک ثابت ہورہا ہے اورلندن سے ملنے والی اطلاعات میں بتایا گیا ہےکہ برطانیہ میں نئے خطرناک ویئرنٹ جسے اومی کرون کا نام دیا گیا ہے کے 437 کیسز رپورٹ ہوچکے ہیں ،

    ادھر اومی کرون کیے حملوں سے بچنے کےلیے برطانوی وزیرصحت نے حفاظتی اور احتیاطی تدابیر کے ساتھ پابندیاں نافذ کرنے کا عندیہ دیا تھا ، جبکہ دوسری طرف برطانیہ کے وزیر اعظم بورس جانسن (Boris Johnson) نے کہا ہے کہ اومی کرون ویرینٹ سے نمٹنے کے لیے فی الحال مزید پابندیوں کی ضرورت نہیں ہے، لیکن انہوں نے کرسمس سے قبل اس طرح کے اقدامات کے نفاذ کو مسترد کرنے سے انکار کر دیا تھا

    برطانیہ کے وزیر صحت ساجد جاوید نے کہا کہ اب انگلینڈ کے تمام خطوں میں کورونا وائرس کے اومی کرون (Omicron) ویرینٹ کی کمیونٹی ٹرانسمیشن ہوچکی ہے۔ لیکن یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ آیا اس سے متاثر ہونے والے جلد صحت یاب ہوجائیں گے یا انھیں شدید خطرہ لاحق ہوگا۔

    وائرس کے پھیلاؤ کو کم کرنے کے لیے سخت قوانین متعارف کروانے کا دفاع کرتے ہوئے ساجد جاوید نے پارلیمنٹ کو بتایا کہ حکومت ہمیشہ مستعد ہے۔ ہمارے سائنسدانوں نے اس قسم کا اندازہ لگایا، جس کی رپورٹ گزشتہ ماہ جنوبی افریقہ میں پہلی بار سامنے آئی تھی۔

    برطانوی وزیرصحت ساجد جاوید نے کہا کہ ’’اب انگلینڈ میں اومی کرون کے437 کیسز رپورٹ ہوچکے ہیں‌۔ ان کا کہنا تھا کہ اس میں ایسے کیس بھی شامل ہیں جن کا بین الاقوامی سفر سے کوئی تعلق نہیں ہے، لہذا ہم یہ نتیجہ اخذ کر سکتے ہیں کہ اب انگلینڈ کے متعدد خطوں میں کمیونٹی ٹرانسمیشن ہوا ہے‘‘۔

    یہ بات قابل ذکر ہے کہ برطانیہ کے وزیر اعظم بورس جانسن (Boris Johnson) نے پیر کے روز کہا کہ اومی کرون ویرینٹ سے نمٹنے کے لیے فی الحال مزید پابندیوں کی ضرورت نہیں ہے، لیکن انہوں نے کرسمس سے قبل اس طرح کے اقدامات کے نفاذ کو مسترد کرنے سے انکار کر دیا۔
    برطانوی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ آنے جانے والے تمام مسافروں کو روانگی سے قبل کورونا COVID-19 ٹیسٹ کروانے کی ضرورت ہوگی جبکہ نائیجیریا، جنوبی افریقہ اور نو دیگر افریقی ممالک سے آنے والوں کو نئے ویرینٹ کے پھیلاؤ کو کم کرنے کے لیے ہوٹلوں میں قرنطینہ کرنا پڑے گا۔

    ادھر ساجد جاوید نے کہا کہ بین الاقوامی قرنطینہ کے لیے دستیاب ہوٹل کے کمروں کی تعداد اس ہفتے دگنی کر دی جائے گی اور حکومت جلد سے جلد اس صلاحیت کو بڑھا رہی ہے۔ جاوید نے کہا کہ اس مرحلے پر حکومت یقینی طور پر نہیں کہہ سکتی کہ آیا اومی کرون کووڈ ویکسین سے بچ جائے گا یا نہیں، یا یہ زیادہ شدید بیماری کا سبب بنتا ہے۔

    ادھر تازہ ترین اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ پہلے بورس جانسن سخت پابندیوں کو نافذ کرنے سے ہچکچا رہے تھےلیکن اس عزم کے تھوڑی دیربعد ہی اپنے فیصلے پر قائم نہ رہے اور نئی پابندیاں‌عائد کردیں جنہں پلان بی کا نام دیا گیا ہے

    اس پلان کے تحت

    حکومت کی طرف سے کہا گیا ہے کہ اب تمام سرکاری اور غیرسرکاری ملازمین اپنے اپنے گھروں سے کام کریں گے
    انگلینڈ پلان بی کے اقدامات کی طرف بڑھ رہا ہے۔

    چہرے کے ماسک لازمی ہو جائیں گے۔ان میں تھیٹر اور سینما گھر شامل ہیں،

    NHS COVID پاس نائٹ کلبوں اور جگہوں میں داخلے کے لیے بھی ضروری ہو گا جہاں لوگوں کے بڑے گروپ جمع ہوتے ہیں۔

    یہ 500 سے زیادہ افراد کے ساتھ غیر بیٹھنے والے اندرونی مقامات، 4,000 سے زیادہ افراد کے ساتھ غیر نشست شدہ بیرونی مقامات، اور 10,000 سے زیادہ افراد کے ساتھ کوئی بھی مقام پر درکار ہوگا

    پاس اب بھی ان لوگوں کے لیے کام کریں گے جنہوں نے COVID ویکسین کی صرف دو خوراکیں لی ہیں، حالانکہ اس کا جائزہ لیا جائے گا۔یہ تازہ ترین اقدام ایک ہفتے کے اندر متعارف کرایا جائے گا۔

  • الیکشن کمیشن ممبران کی تعیناتی، پارلیمانی کمیٹی کا   اجلاس پھر بے نتیجہ ختم

    الیکشن کمیشن ممبران کی تعیناتی، پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس پھر بے نتیجہ ختم

    اسلام آباد:الیکشن کمیشن ممبران کی تعیناتی، پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس پھر بے نتیجہ ختم ,اطلاعات کے مطابق الیکشن کمیشن کے پنجاب اور خیبر پختونخوا کے ممبران کی تعیناتی کے معاملے پر پارلیمانی کمیٹی کا ان کیمرہ اجلاس ایک با رپھر بے نتیجہ ختم ہو گیا۔

    وفاقی وزیر شیریں مزاری کی زیر صدارت پارلیمانی کمیٹی کا ایک اور ان کیمرہ اجلاس بے نتیجہ ختم ہو گیا پنجاب اور خیبر پختونخواہ کے ممبران الیکشن کمیشن کی تعیناتی پر اتفاق رائے نہ ہوسکا۔

    ذرائع کے مطابق الیکشن کمیشن ممبران کی تعیناتی پر غیر رسمی ذیلی کمیٹی بنا دی گئی ہے۔ کمیٹی میں حکومت کی جانب سے وفاقی وزرا اسد عمر اور فواد چودھری جبکہ اپوزیشن کی جانب سے خواجہ سعد رفیق اور راجہ پرویز اشرف رکن ہوں گے۔ذیلی کمیٹی کا اجلاس آئندہ ہفتے ہوگا۔

    اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو میں وزیر ا طلاعات فواد چودھری نے کہاکہ اجلاس اچھے ماحول میں ہوا، توقع ہے مزید ایک اجلاس میں فیصلہ کر لیں گے۔۔

    حکومت نے ممبر الیکشن کمیشن پنجاب کے لیے راجہ عامر خان اور ممبر خیبر پختو نخواہ کے لیے جسٹس ریٹائرڈ اکرام اللہ کے نام جبکہ اپوزیشن نے ممبر پنجاب کے لیے جسٹس ریٹائرڈ طارق افتخار اور ممبر خیبر پختونخواہ کے لیے سہیل الطاف کے نام تجویز کیے تھے۔

  • کراچی کے مختلف علاقوں میں زلزلے کے جھٹکے:لوگ اپنے گھروں سے باہر نکل آئے

    کراچی کے مختلف علاقوں میں زلزلے کے جھٹکے:لوگ اپنے گھروں سے باہر نکل آئے

    کراچی :کراچی کے مختلف علاقوں میں زلزلے کے جھٹکے:لوگ اپنے گھروں سے باہر نکل آئے،اطلاعات کے مطابق کراچی کے مختلف علاقوں گلشن حدید، گڈاپ، آئی آئی چندریگر روڈ، گلستان جوہر، ملیر، کینٹ، اسکیم 33 سمیت دیگرعلاقوں میں بھی زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے۔

    ابتدائی اطلاعات کے مطابق کراچی کے مختلف علاقوں میں زلزلے کے جھٹکوں کے باعث شہریوں میں خوف و ‏ہراس پھیل گیا۔محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ زلزلےکی شدت4.1 ریکارڈ کی گئی۔ ‏

    گلشن اقبال، گلستان جوہر،گلشن حدید، آئی آئی چندریگر روڈ، ملیر، اسکیم33، صدر، گلزارہجری، پورٹ قاسم، ‏قائدآباد اور اطراف کے علاقوں میں بھی زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے۔

    لوگ کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے گھروں سے نکل آئے۔ زلزلے کے نتیجے میں کسی قسم کے جانی یا مالی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی ہے۔

    اس سے قبل 21 اگست کو بھی شہر کے مختلف علاقوں میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے تھے۔ ریکٹر ‏اسکیل پر زلزلے کی شدت 3.1 ریکارڈ کی گئی تھی زلزلہ پیمامرکز کا کہنا تھا کہ زلزلہ 15کلومیٹر گہرائی میں آیا ‏اور مرکزکراچی سے72کلومیٹرشمال مشرق میں تھا۔

    زلزلہ پیما مرکز کی جانب سے کراچی میں زلزلے کے حوالے سے کوئی تفصیل نہیں دی گئی تاہم سوش میڈیا پر صارفین کی جانب سے زلزلے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

  • :10 دسمبر:بلاول بھٹو نے حکومت کےخلاف بہت بڑا اعلان کردیا

    :10 دسمبر:بلاول بھٹو نے حکومت کےخلاف بہت بڑا اعلان کردیا

    کراچی::10 دسمبر:بلاول بھٹو نے حکومت کےخلاف بہت بڑا اعلان کردیا،اطلاعات کے مطابق پی پی چیئر مین بلاول بھٹو زرداری نے 10 دسمبر کو پٹرول کی بڑھتی قیمتوں کے خلاف ملک بھر میں اضلاع کی سطح پر احتجاج کرنے کا اعلان کردیا ہے ، دوسری طرف حکومت نے اس دن یوم مذمت منانے کا فیصلہ کرلیا ہے

    اس حوالے سےوزیراعلیٰ سندھ سیّد مراد علی شاہ کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ سندھ میں نئے بلدیاتی نظام کے حوالے سے کسی کو بھی لسانی سیاست نہیں کرنی چاہیے اور اس شہر اور صوبے کے عوام الطاف حسین کی سیاست کو رد کر چکے ہیں۔ہم سمجھتے ہیں کہ اگر ہم کراچی کو سنبھال سکتے ہیں، اگر ہم حق دلا سکتے ہیں، شہرق ائد میں ترقی کرا سکتے ہیں تو ملک میں ترقی کرا سکتے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ کراچی کی ترقی اور یہاں کے عوام کو حقوق کی فراہمی کے لیے ایک بااختیار لوکل گورنمنٹ سسٹم دینا پڑے گا اور ہماری خواہش یہی ہے کہ لوکل گورنمنٹ سسٹم میں کراچی میں ہماری حکومت بنے اور وفاقی سطح پر بھی پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت بنے۔ سندھ کا بلدیاتی نظام بہتر ہو رہا ہے، سندھ بھر میں نئے بلدیاتی نظام نے اپنی پہلی مدت مکمل کی اور ہم واحد صوبائی حکومت تھی جنہوں نے اپنے بلدیاتی نظام کی مدت مکمل کی۔

    انہوں نے ایم کیو ایم کا نام لیے بغیر کہا کہ ہماری محنت اور کوشش کو کراچی کے عوام دیکھ رہے ہیں کہ ایک جماعت کی 30سال کی کارکردگی ایک طرف اور مرتضیٰ وہاب کی دو تین مہینے کی کارکردگی ایک طرف ہے اور جب پیپلز پارٹی پارٹی کا منتخب نظام ہو گا تو ہم مزید نتائج دکھا سکیں گے۔

    ان کا کہنا تھا کہ کسی کو بھی لسانی سیاست نہیں کرنی چاہیے، یہ لوگ ماضی میں بھی اس طرح کی سیاست کرتے رہے ہیں، ہمیں الیکشن کمیشن کی پابندیوں کی وجہ سے اس قانون کو جلدی پاس کرنا پڑا ورنہ ہمارا ارادہ تھا کہ مردم شماری کے جھگڑے نمٹانے کے بعد اسی قانون کے حوالے سے ناصرف اپوزیشن اراکین بلکہ سول سوسائٹی کے اراکین سے مشاورت کرتے لیکن ہمیں 30نومبر تک اسے منظور کرنا پڑا۔

    بلاول نے عوام کو درپیش معاشی مسائل پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ 10 دسمبر کو پاکستان پیپلز پارٹی کے کارکن اپنے اپنے علاقے میں پٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے خلاف احتجاج کریں گے اور 17 تاریخ کو پیپلز پارٹی ملک بھر میں اضلاع کی سطح پر گیس بحران کیخلاف احتجاج کرے گی۔

  • بریکنگ : امریکہ کی جمہوریت پر سمٹ،پاکستان کا شرکت نہ کرنے کا فیصلہ:امریکہ دیکھتا رہ گیا

    بریکنگ : امریکہ کی جمہوریت پر سمٹ،پاکستان کا شرکت نہ کرنے کا فیصلہ:امریکہ دیکھتا رہ گیا

    اسلام آباد :بریکنگ : امریکہ کی جمہوریت پر سمٹ،پاکستان کا شرکت نہ کرنے کا فیصلہ:امریکہ دیکھتا رہ گیا،اطلاعات کے مطابق پاکستان نے امریکہ کی جانب سے جمہوریت پر منعقد کی جانے والی سمٹ میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔پاکستان کی طرف سے دو ٹوک جواب سن کرامریکہ حواس باختہ ہوگیاہے

    امریکہ سے آمدہ تفصیلات کے مطابق ڈیموکریسی ورچوئل سمٹ 9 اور 10 دسمبر کو ہوگا۔ امریکا کی جانب سے سمٹ میں شرکت کے لئے چین اور روس کو دعوت نہیں دی گئی۔

    اسی حوالے سے ترجمان دفتر خارجہ عاصم افتخار کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق ہم سمٹ برائے جمہوریت میں شرکت کے لیے پاکستان کو مدعو کرنے پر امریکا کے شکر گزار ہیں۔ پاکستان ایک بڑی فعال جمہوریت ہے جس میں ایک آزاد عدلیہ، متحرک سول سوسائٹی اور آزاد میڈیا ہے۔ ہم جمہوریت کو مزید مضبوط کرنے، بدعنوانی کے خاتمے اور تمام شہریوں کے انسانی حقوق کے تحفظ اور فروغ کے لیے پرعزم ہیں۔

    ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ حالیہ برسوں میں پاکستان نے ان اہداف کو آگے بڑھانے کے لیے وسیع پیمانے پر اصلاحات کا آغاز کیا ہے۔ ان اصلاحات کے مثبت نتائج برآمد ہوئے ہیں۔ ہم امریکا کے ساتھ اپنی شراکت کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں جسے ہم دو طرفہ اور علاقائی اور بین الاقوامی تعاون کے لحاظ سے بڑھانا چاہتے ہیں۔

    ترجمان نے کہا کہ ہم متعدد مسائل پر امریکا کے ساتھ رابطے میں رہتے ہیں اور یقین رکھتے ہیں کہ ہم مستقبل میں مناسب وقت پر اس موضوع پر ہو سکتے ہیں۔ اس دوران پاکستان مشترکہ اہداف کو آگے بڑھانے کے لیے بات چیت، تعمیری کردار اور بین الاقوامی تعاون کو مضبوط بنانے کے لیے تمام کوششوں کی حمایت جاری رکھے گا۔

  • اسلام دین امن ہے، عمران محمدی

    اسلام دین امن ہے، عمران محمدی

    اسلام،سبھی مخلوقات حتی کہ کفار، معاھدین، اھل ذمہ اور اقلیت کے لیے دین امن ہے

    بقلم : عمران محمدی عفا اللہ عنہ

    اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں
    الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ
    وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي
    وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا
    آج میں نے تمھارے لیے تمھارا دین کامل کردیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کر دی اور تمھارے لیے اسلام کو دین کی حیثیت سے پسند کر لیا
    مائدہ 3

    اسلام کا مادہ س ل م ہے جس کا مطلب ہے سر تسلیم خم کردینا، امن و آشتی کی طرف رہنمائی کرنا اور تحفظ اور صلح کو قائم کرنا۔
    اسی سے السلامۃ تحفظ، سلامتی ہے
    اور اسی سے السَلم صلح امن ہے
    اسلام تحفظ، بچاؤ اور امن کا مذہب ہے

    (وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي) سے معلوم ہوا کہ اسلام اللہ تعالیٰ کی نعمت ہے
    نعمت کیا ہوتی ہے ❓
    جو خوشیاں لائے
    فرحت کا سبب بنے
    آنکھوں کو ٹھنڈا کرے
    اور
    امن و محبت فراہم کرے

    *معاشرتی امن کے لئے اسلام کی تعلیمات*

    اسلام فساد فی الارض کی مذمت کرتا ہے
    ارشاد باری تعالیٰ ہے:
    وَلَا تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ بَعْدَ إِصْلَاحِهَا
    اور زمین میں اس کی اصلاح کے بعد فساد مت پھیلاؤ
    الأعراف : 56

    اور فرمایا
    وَلَا تَبْغِ الْفَسَادَ فِي الْأَرْضِ إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْمُفْسِدِينَ
    اور زمین میں فساد مت ڈھونڈ، بے شک اللہ فساد کرنے والوں سے محبت نہیں کرتا۔
    القصص : 77

    *اسلام ظلم کی مذمت کرتا ہے*

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ظلم وتنگ نظری سے بچنے کی تاکیدکرتے ہوئے ارشاد فرمایا:
    اتقوا الظلم فان الظلم ظلمات یوم القیامة
    ظلم سے بچو اس لئے کہ ظلم قیامت کی بدترین تاریکیوں کا ایک حصہ ہے،
    (مسلم: حدیث نمبر۲۵۷۸)

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب معاذ بن جبل رضی اللہ تعالی عنہ کو یمن کا حاکم مقرر کیا تو فرمایا اے معاذ آپ اہل کتاب قوم کے پاس جا رہے ہیں
    اور فرمایا
    فَإِيَّاكَ وَكَرَائِمَ أَمْوَالِهِمْ وَاتَّقِ دَعْوَةَ الْمَظْلُومِ فَإِنَّهُ لَيْسَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ اللَّهِ حِجَابٌ
    لوگوں کے مال ناجائز طریقے سے کھانے سے بچو اور مظلوم کی بددعا سے بچو کیونکہ اس کے اور اللہ کے درمیان پردہ نہیں ہوتا
    بخاري 1425

    *اسلام رحم کی ترغیب دیتا ہے*

    حضرت جریر بن عبداللہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا
    لَا يَرْحَمُ اللَّهُ مَنْ لَا يَرْحَمُ النَّاسَ
    (بخاری: حدیث نمبر 6941)
    ”اللہ اس شخص پر رحم نہیں کرتا جو لوگوں پر رحم نہیں کرتا۔“

    بقول شاعر
    کرو مہربانی تم اہل زمین پر
    خدامہرباں ہوگاعرش بریں پر

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
    اللَّهُمَّ مَنْ وَلِيَ مِنْ أَمْرِ أُمَّتِي شَيْئًا فَشَقَّ عَلَيْهِمْ فَاشْقُقْ عَلَيْهِ وَمَنْ وَلِيَ مِنْ أَمْرِ أُمَّتِي شَيْئًا فَرَفَقَ بِهِمْ فَارْفُقْ بِهِ
    مسلم 1828
    اے اللہ جو شخص میری امت کے کسی معاملے کا نگران بنے پھر وہ ان پر مشقت کرے تو تو بھی اس پر مشقت کر اور جو شخص میری امت کے کسی معاملے کا نگران بنے پھر وہ ان پر نرمی کرے تو تو بھی اس پر نرمی کر

    *اسلام کا غریبوں پر رحم*

    *اسلام نے اپنی انکم کا آٹھواں حصہ فقراء و مساکین کے لیے وقف کر دیا*

    زکوۃ کے مصارف بیان کرتے ہوئے اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا
    إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِينِ وَالْعَامِلِينَ عَلَيْهَا وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ وَفِي الرِّقَابِ وَالْغَارِمِينَ وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ وَابْنِ السَّبِيلِ فَرِيضَةً مِنَ اللَّهِ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ
    صدقات تو صرف فقیروں اور مسکینوں کے لیے اور ان پر مقرر عاملوں کے لیے ہیں اور ان کے لیے جن کے دلوں میں الفت ڈالنی مقصود ہے اور گردنیں چھڑانے میں اور تاوان بھرنے والوں میں اور اللہ کے راستے میں اور مسافر میں (خرچ کرنے کے لیے ہیں)۔ یہ اللہ کی طرف سے ایک فریضہ ہے اور اللہ سب کچھ جاننے والا، کمال حکمت والا ہے۔
    التوبة : 60

    * اسلام میں خوش اخلاقی کی ترغیب*

    ابو ذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
    لَا تَحْقِرَنَّ مِنْ الْمَعْرُوفِ شَيْئًا وَلَوْ أَنْ تَلْقَى أَخَاكَ بِوَجْهٍ طَلْقٍ
    مسلم 2626
    کسی بھی نیکی کو حقیر نہیں سمجھو اگرچہ آپ اپنے بھائی کو کھلے چہرے کے ساتھ کیوں نہ ملو

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
    اکثر ما یدخل الجنۃ تقوی اللہ وحسن الخلق
    لوگوں کو جنت میں سب سے زیادہ اللہ کا تقوی اور اچھا اخلاق داخل کرے گا

    عبداللہ بن عمر بن عاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے کہا
    يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ الْإِسْلَامِ أَفْضَلُ
    اے اللہ کے رسول سے افضل اسلام کون سا ہے
    تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
    مَنْ سَلِمَ النَّاسُ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ
    جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں
    مسند احمد 6714

    *اسلام لوگوں کی دل آزاری کا کس قدر مخالف ہے*

    * اگر دو آدمیوں کی سرگوشی سے تیسرے آدمی کی دل آزاری کا خدشہ ہے تو اسلام ایسی سرگوشی پر پابندی لگاتا ہے*

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا
    ” إِذَا كُنْتُمْ ثَلَاثَةً، فَلَا يَتَنَاجَى رَجُلَانِ دُونَ الْآخَرِ حَتَّى تَخْتَلِطُوا بِالنَّاسِ ؛ أَجْلَ أَنْ يُحْزِنَهُ ”
    (صحيح البخاري | كِتَابٌ : الِاسْتِئْذَانُ | بَابٌ : إِذَا كَانُوا أَكْثَرَ مِنْ ثَلَاثَةٍ، فَلَا بَأْسَ بِالْمُسَارَّةِ وَالْمُنَاجَاةِ)
    جب تم تین آدمی ہو تو دو آدمی تیسرے کو چھوڑ کر باہم سرگوشی نہ کریں یہاں تک کہ تم لوگوں کے ساتھ گھل مل جاؤ اس لئے کہ یہ بات اس کو غم میں ڈالے گی

    *لوگوں کی تکلیف دور کرنے کے لیے پیاز کھا کر مسجد آنا ممنوع قرار دیا*

    جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے

    مَنْ أَكَلَ مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ الْمُنْتِنَةِ فَلَا يَقْرَبَنَّ مَسْجِدَنَا فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ تَأَذَّى مِمَّا يَتَأَذَّى مِنْهُ الْإِنْسُ
    مسلم 564
    جو اس بدبو دار درخت سے کھائے تو وہ ہماری مسجد کے قریب نہ آئے کیونکہ فرشتے تکلیف محسوس کرتے ہیں اس چیز سے جس سے انسان تکلیف محسوس کرتے ہیں

    *راستے کے حقوق*

    *راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹانا ایمان کا حصہ ہے*

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
    [ اَلإِْيْمَانُ بِضْعٌ وَ سَبْعُوْنَ أَوْ بِضْعٌ وَ سِتُّوْنَ شُعْبَةً فَأَفْضَلُهَا قَوْلُ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَ أَدْنَاهَا إِمَاطَةُ الْأَذٰی عَنِ الطَّرِيْقِ ]
    [ مسلم، الإیمان، باب بیان عدد شعب الإیمان… : ۳۵ ]
    ’’ایمان کی ستر(۷۰) یا (فرمایا) ساٹھ (۶۰) سے زیادہ شاخیں ہیں، ان میں سب سے افضل ’’لا الٰہ الا اللہ‘‘ کہنا ہے اور سب سے کم راستے سے تکلیف دہ چیز دور کرنا ہے۔‘‘

    *اسلام راستوں اور گزرگاہوں کی حفاظت کرتا ہے*

    حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
    إِيَّاكُمْ وَالْجُلُوسَ عَلَى الطُّرُقَاتِ فَقَالُوا مَا لَنَا بُدٌّ إِنَّمَا هِيَ مَجَالِسُنَا نَتَحَدَّثُ فِيهَا قَالَ فَإِذَا أَبَيْتُمْ إِلَّا الْمَجَالِسَ فَأَعْطُوا الطَّرِيقَ حَقَّهَا قَالُوا وَمَا حَقُّ الطَّرِيقِ قَالَ غَضُّ الْبَصَرِ وَكَفُّ الْأَذَى وَرَدُّ السَّلَامِ وَأَمْرٌ بِالْمَعْرُوفِ وَنَهْيٌ عَنْ الْمُنْكَرِ
    (بخاري ،كِتَابُ المَظَالِمِ وَالغَصْبِ،بابُ أَفْنِيَةِ الدُّورِ وَالجُلُوسِ فِيهَا، وَالجُلُوسِ عَلَى الصُّعُدَاتِ2465)
    راستوں میں بیٹھنے سے بچو۔ صحابہ نے عرض کیا کہ ہم تو وہاں بیٹھنے پر مجبور ہیں۔ وہی ہمارے بیٹھنے کی جگہ ہوتی ہے کہ جہاں ہم باتیں کرتے ہیں۔ اس پر آپ نے فرمایا کہ اگر وہاں بیٹھنے کی مجبور ہی ہے تو راستے کا حق بھی ادا کرو۔ صحابہ نے پوچھا اور راستے کا حق کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، نگاہ نیچی رکھنا، کسی کو ایذاءدینے سے بچنا، سلام کا جواب دینا، اچھی باتوں کے لیے لوگوں کو حکم کرنا اور بری باتوں سے روکنا۔

    *راستے میں پیشاپ کرنا منع ہے*

    سیدنا ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا
    اتَّقُوا اللَّاعِنَيْنِ قَالُوا وَمَا اللَّاعِنَانِ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ الَّذِي يَتَخَلَّى فِي طَرِيقِ النَّاسِ أَوْ ظِلِّهِمْ

    (ابوداؤد، كِتَابُ الطَّهَارَةِ،بابُ الْمَوَاضِعِ الَّتِي نَهَى النَّبِيُّ ﷺ عَنْ الْبَوْلِ فِيهَا،25)
    ” لعنت کے دو کاموں سے بچو ۔ “ صحابہ کرام ؓم نے پوچھا : اے اللہ کے رسول ! لعنت کے وہ کون سے دو کام ہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا ” جو لوگوں کے راستے میں یا ان کے سائے میں پاخانہ کرتا ہے ۔ “

    *راستہ تنگ کرنے والے کا جہاد نہیں*

    سیدنا معاذ بن انس جہنی ؓ روایت کرتے ہیں کہ فلاں فلاں غزوے میں ، میں اللہ کے نبی ﷺ کے ہمرکاب تھا تو لوگوں نے منزلوں پر پڑاؤ کرنے اور خیمے وغیرہ لگانے میں بہت تنگی کا مظاہرہ کیا کہ راستہ بھی نہ چھوڑا ۔ تو نبی کریم ﷺ نے اپنا ایک منادی بھیجا جس نے لوگوں میں اعلان کیا :
    أَنَّ مَنْ ضَيَّقَ مَنْزِلًا أَوْ قَطَعَ طَرِيقًا فَلَا جِهَادَ لَهُ
    (ابو داؤد، كِتَابُ الْجِهَادِ، بابُ مَا يُؤْمَرُ مِنْ انْضِمَامِ الْعَسْكَرِ وَسَعَتِهِ،2629)
    ” جو شخص خیمہ لگانے میں تنگی کرے یا راستہ کاٹے تو اس کا جہاد نہیں ۔ “

    *اسلام قتل کی مذمت کرتا ہے*

    عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا
    أَوَّلُ مَا يُقْضَى بَيْنَ النَّاسِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فِي الدِّمَاءِ
    رواه البخاري ومسلم (1678)
    لوگوں کے درمیان قیامت کے دن سب سے پہلے خون (قتل) کا حساب ہوگا

    *اسلام میں کسی ایک انسان کا قتل سب انسانوں کے قتل کے برابر ہے*

    فرمایا
    مَنْ قَتَلَ نَفْسًا بِغَيْرِ نَفْسٍ أَوْ فَسَادٍ فِي الْأَرْضِ فَكَأَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِيعًا وَمَنْ أَحْيَاهَا فَكَأَنَّمَا أَحْيَا النَّاسَ جَمِيعًا
    جس نے ایک جان کو کسی جان کے (بدلے کے) بغیر، یا زمین میں فساد کے بغیر قتل کیا تو گویا اس نے تمام انسانوں کو قتل کر دیا اور جس نے اسے زندگی بخشی تو گویا اس نے تمام انسانوں کو زندگی بخشی
    المائدة : 32

    *اسلام بچوں کے قتل سے منع کرتا ہے*

    اسلام نے ہمیں بتایا ہے کہ بچوں کا قتل بہت بڑا گناہ ہے اور یہ کہ قیامت کے دن چائلڈ کرائمز پر سپیشل عدالت لگے کی تاکہ بچوں کے قتل کی روک تھام کی جائے

    فرمایا
    وَإِذَا الْمَوْءُودَةُ سُئِلَتْ
    اور جب زندہ دفن کی گئی (لڑکی) سے پوچھا جائے گا۔
    التكوير : 8
    بِأَيِّ ذَنْبٍ قُتِلَتْ
    کہ وہ کس گناہ کے بدلے قتل کی گئی؟
    التكوير : 9

    اور فرمایا
    وَلَا تَقْتُلُوا أَوْلَادَكُمْ خَشْيَةَ إِمْلَاقٍ نَحْنُ نَرْزُقُهُمْ وَإِيَّاكُمْ إِنَّ قَتْلَهُمْ كَانَ خِطْئًا كَبِيرًا
    اور اپنی اولاد کو مفلسی کے ڈر سے قتل نہ کرو، ہم ہی انھیں رزق دیتے ہیں اور تمھیں بھی۔ بے شک ان کا قتل ہمیشہ سے بہت بڑا گناہ ہے۔
    الإسراء : 31

    *ایک بچی کے قتل پر پیغمبرِاسلام کی بے چینی*

    سیدنا انس (رض) فرماتے
    أَنَّ يَهُودِيًّا رَضَّ رَأْسَ جَارِيَةٍ بَيْنَ حَجَرَيْنِ قِيلَ مَنْ فَعَلَ هَذَا بِكِ أَفُلَانٌ أَفُلَانٌ حَتَّى سُمِّيَ الْيَهُودِيُّ فَأَوْمَأَتْ بِرَأْسِهَا فَأُخِذَ الْيَهُودِيُّ فَاعْتَرَفَ فَأَمَرَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرُضَّ رَأْسُهُ بَيْنَ حَجَرَيْنِ
    (مسلم۔ کتاب القسامہ۔ باب ثبوت القصاص فی القتل بالحجر)
    (بخاری۔ 2282،کتاب الدیات۔ باب سوال القاتل حتی یقرو الاقرار فی الحد۔ باب اقاد بحجر)

    ایک یہودی نے ایک مسلمان لڑکی کا جو زیور پہنے ہوئے تھی۔ محض زیور حاصل کرنے کے لیے سر کچل دیا۔ اس لڑکی سے پوچھا گیا کہ کس نے اس کا سر کچلا ؟ فلاں نے یا فلاں نے ؟ یہاں تک کہ جب قاتل یہودی کا نام لیا گیا تو اس نے سر کے اشارے سے بتایا ہاں وہ یہودی نبی اکرم کے پاس لایا گیا۔ اس نے جرم کا اقرار کرلیا تو آپ نے بھی دو پتھروں کے درمیان اس کا سر رکھ کر کچلوا دیا۔

    *اسلام نے تعلیم دی ہے کہ محض ارادءِ قتل ہی جہنم میں جانے کے لیے کافی ہے*

    نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا
    بِحَسْبِ امْرِئٍ مِنْ الشَّرِّ أَنْ يَحْقِرَ أَخَاهُ الْمُسْلِمَ
    مسلم 2564
    آدمی کے برا ہونے کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کو حقیرخیال کرے

    سیدنا ابوبکر (رض) کہتے ہیں کہ آپ نے فرمایا
    إِذَا الْتَقَى الْمُسْلِمَانِ بِسَيْفَيْهِمَا فَالْقَاتِلُ وَالْمَقْتُولُ فِي النَّارِ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا الْقَاتِلُ فَمَا بَالُ الْمَقْتُولِ قَالَ إِنَّهُ كَانَ حَرِيصًا عَلَى قَتْلِ صَاحِبِهِ
    (بخاری،(6481) کتاب الدیات۔ باب قول اللہ و من احیاھا )
    جب دو مسلمان تلوار لے کر باہم لڑیں تو قاتل و مقتول دونوں جہنمی ہیں۔ میں نے کہا اے اللہ کے رسول ! یہ تو قاتل تھا، مقتول کا کیا قصور ؟ فرمایا اس لیے کہ وہ بھی اپنے ساتھی کے قتل کے درپے تھا۔

    سیدنا ابن عباس (رض) کہتے ہیں کہ آپ نے فرمایا
    أَبْغَضُ النَّاسِ إِلَى اللَّهِ ثَلَاثَةٌ
    مُلْحِدٌ فِي الْحَرَمِ
    وَمُبْتَغٍ فِي الْإِسْلَامِ سُنَّةَ الْجَاهِلِيَّةِ
    وَمُطَّلِبُ دَمِ امْرِئٍ بِغَيْرِ حَقٍّ لِيُهَرِيقَ دَمَهُ
    (بخاری، (6488)کتاب الدیات۔ باب من طلب دم امری بغیر حق)

    تین آدمیوں پر اللہ (قیامت کے دن) سب سے زیادہ غضب ناک ہوگا۔
    (1) حرم میں الحاد کرنے والا
    (2) اسلام میں طریقہ جاہلیت کا متلاشی
    (3) ناحق کسی کا خون بہانے کا طالب۔

    *مسلمان بھائی کی طرف اسلحہ سے اشارہ کرنا بھی منع ہے*

    نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا
    مَنْ أَشَارَ إِلَى أَخِيهِ بِحَدِيدَةٍ فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ تَلْعَنُهُ حَتَّى يَدَعَهُ وَإِنْ كَانَ أَخَاهُ لِأَبِيهِ وَأُمِّهِ
    مسلم 2616
    جس نے اپنے بھائی کی طرف اسلحہ سے اشارہ کیا تو فرشتے اس پر لعنت کرتے ہیں یہاں تک وہ اس اشارے سے رک جائے اگرچہ جس کی طرف اشارہ کررہا ہے وہ اس کا حقیقی بھائی ہی کیوں نہ ہو

    *مختلف حکومتوں نے معاشرتی امن قائم رکھنے اور قتل و غارت سے بچنے کے لیے اسلحہ کی نمائش پر پابندی عائد کر رکھی ہے اور اس کے لیے لائسنس سسٹم لاگو کر رکھا ہےحالانکہ کئی ایسے آلات لفظ اسلحہ کے دائرے سے باہر ہیں کہ جن سے ایک انسان کو قتل کیا جا سکتا ہے کیونکہ انسان کو قتل کرنے کے لیے ایک دو انچ کا لوہا بھی کافی ہوتا ہےجبکہ اسلام نے اسلحہ کے ساتھ ساتھ لفظ حدید( یعنی لوہے) کا لفظ بول کر کسی بھی قسم کی گنجائش نہیں چھوڑی اور مستزاد یہ کہ ارادہءِ قتل پر بھی جہنم کی وعید سنا دی*

    فرمایا
    لَا يُشِيرُ أَحَدُكُمْ عَلَى أَخِيهِ بِالسِّلَاحِ فَإِنَّهُ لَا يَدْرِي لَعَلَّ الشَّيْطَانَ يَنْزِعُ فِي يَدِهِ فَيَقَعُ فِي حُفْرَةٍ مِنْ النَّارِ
    تم میں سے کوئی بھی اپنے بھائی کی طرف اسلحہ سے اشارہ نہ کرے کیونکہ اسے نہیں معلوم ممکن ہے کہ شیطان اس کا ہاتھ پھسلا دے تو وہ اس کی وجہ سے جہنم کے گھڑے میں جا گرے
    بخاري 6661

    مزید فرمایا
    مَنْ حَمَلَ عَلَيْنَا السِّلَاحَ فَلَيْسَ مِنَّا
    جس نے ہمارے خلاف اسلحہ اٹھایا تو وہ ہم میں سے نہیں
    بخاري 6480

    *اسلام جانوروں پر شفقت کی تعلیم دیتا ہے*

    *انسان تو پھر انسان ھے کسی جانور کو ناحق قتل کرنے پر بھی جہنم کی ہولناکی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے*

    عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا
    عُذِّبَتِ امْرَأَةٌ فِي هِرَّةٍ سَجَنَتْهَا حَتَّى مَاتَتْ فَدَخَلَتْ فِيهَا النَّارَ لَا هِيَ أَطْعَمَتْهَا وَلَا سَقَتْهَا إِذْ حَبَسَتْهَا وَلَا هِيَ تَرَكَتْهَا تَأْكُلُ مِنْ خَشَاشِ الْأَرْضِ
    ایک عورت کو بلی کی وجہ سے عذاب دیا گیا جس نے بلی کو باندھ کر رکھا یہاں تک کہ وہ بھوکی پیاسی مر گئی تو وہ عورت اسی وجہ سے جہنم میں داخل ہو گئی کیونکہ نہ اس نے اسے کھانہ کھلایا نہ پانی پلایا اور نہ ہی آزاد چھوڑا کہ وہ زمین کےجانوروں میں سے کچھ کھا پی لے
    بخاری 3295

    فتح الباری میں لکھا ہے
    ثبت النهي عن قتل البهيمة بغير حق والوعيد في ذلك ، فكيف بقتل الآدمي ، فكيف بالتقي الصالح
    جب کسی جانور کو ناجائز قتل کرنے سے منع کر دیا گیا ہے اور اس پر جہنم کی وعید سنائی گئی ہے تو کسی عام آدمی کے قتل کی اجازت کیسے ہو سکتی ہے اور کسی نیک آدمی کے قتل کی سنگینی کتنی زیادہ ہو گی
    فتح الباری

    *جانور کے سامنے چھری تیز کرنے سے منع فرمایا*

    صحابہ فرماتے ہیں
    أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِحَدِّ الشِّفَارِ وَأَنْ تُوَارَى عَنْ الْبَهَائِمِ
    مسند احمد 5830
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چھری تیز کرنے کا حکم دیا اور یہ کہ اسے جانوروں سے چھپایا جائے

    *جانور ذبح کرنے میں نرمی اور احسان کا حکم*

    شداد بن اوس ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے دو باتیں یاد کی ہیں، آپ نے فرمایا:
    إِنَّ اللَّهَ كَتَبَ الْإِحْسَانَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ، ‏‏‏‏‏‏فَإِذَا قَتَلْتُمْ فَأَحْسِنُوا الْقِتْلَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَإِذَا ذَبَحْتُمْ فَأَحْسِنُوا الذِّبْحَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَلْيُحِدَّ أَحَدُكُمْ شَفْرَتَهُ، ‏‏‏‏‏‏وَلْيُرِحْ ذَبِيحَتَهُ.

    (سنن نسائی،کتاب: قربانی سے متعلق احادیث مبارکہ، باب: چاقو چھری تیز کرنے سے متعلق، حدیث نمبر: 4410)

    اللہ تعالیٰ نے تم پر ہر چیز میں احسان (اچھا سلوک کرنا) فرض کیا ہے، تو جب تم قتل کرو تو اچھی طرح قتل کرو، اور جب تم ذبح کرو تو اچھی طرح ذبح کرو، اور تم میں سے ہر ایک کو چاہیئے کہ اپنی چھری تیز کرلے اور اپنے جانور کو آرام پہنچائے

    *اسلام نے جانور کے چہرے پر داغنے اور مثلہ کرنے سے منع کیا*

    جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں
    أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ عَلَيْهِ حِمَارٌ قَدْ وُسِمَ فِي وَجْهِهِ فَقَالَ لَعَنَ اللَّهُ الَّذِي وَسَمَهُ
    مسلم 2117
    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک گدھے کے پاس سے گزرے جس کے چہرے پر داغا گیا تھا
    تو آپ نے فرمایا اللہ تعالی لعنت کرے اس شخص پر جس نے اسے داغا ہے

    عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں
    لَعَنَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ مَثَّلَ بِالْحَيَوَانِ
    بخاري 5196
    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص پر لعنت کی جو کسی حیوان کا مثلہ کرے

    *اسلام نے جانور کو نشانہ بازی کیلئے ٹارگٹ بنانے سے منع کیا*

    سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں
    كُنْتُ عِنْدَ ابْنِ عُمَرَ فَمَرُّوا بِفِتْيَةٍ أَوْ بِنَفَرٍ نَصَبُوا دَجَاجَةً يَرْمُونَهَا فَلَمَّا رَأَوْا ابْنَ عُمَرَ تَفَرَّقُوا عَنْهَا وَقَالَ ابْنُ عُمَرَ مَنْ فَعَلَ هَذَا إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَعَنَ مَنْ فَعَلَ هَذَا
    بخاري 5196
    میں ابن عمر رضی اللہ عنہ کے پاس تھا وہ چند نوجوانوں کے پاس سے گزرے جنہوں نے ایک مرغی کو باندھ رکھا تھا وہ اس پر تیر اندازی کر رہے تھے جب انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہ کو دیکھا تو اسے چھوڑ کر بھاگ نکلے تو عمر ابن عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا یہ کام کس نے کیا ہے
    بے شک نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نے ایسا کرنے والے پر لعنت کی ہے

    *پیاسے کتے کو پانی پلانے پر بخشش*

    ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کرتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
    «أَنَّ رَجُلًا رَأَى كَلْبًا يَأْكُلُ الثَّرَى مِنَ العَطَشِ، فَأَخَذَ الرَّجُلُ خُفَّهُ، فَجَعَلَ يَغْرِفُ لَهُ بِهِ حَتَّى أَرْوَاهُ، فَشَكَرَ اللَّهُ لَهُ، فَأَدْخَلَهُ الجَنَّةَ»
    (بخاري، كتَابُ الوُضُوءِ، بَابٌ إِذَا شَرِبَ الْكَلْبُ فِي إِنَاءِ أَحَدِكُمْ فَلْيَغْسِلْهُ سَبْعًا،173)
    کہ ایک شخص نے ایک کتے کو دیکھا، جو پیاس کی وجہ سے گیلی مٹی کھا رہا تھا۔ تو اس شخص نے اپنا موزہ لیا اور اس سے پانی بھر کر پلانے لگا، حتیٰ کہ اس کو خوب سیراب کر دیا۔ اللہ نے اس شخص کے اس کام کی قدر کی اور اسے جنت میں داخل کر دیا۔

    حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے، انھوں نےنبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا :
    «أَنَّ امْرَأَةً بَغِيًّا رَأَتْ كَلْبًا فِي يَوْمٍ حَارٍّ يُطِيفُ بِبِئْرٍ، قَدْ أَدْلَعَ لِسَانَهُ مِنَ الْعَطَشِ، فَنَزَعَتْ لَهُ بِمُوقِهَا فَغُفِرَ لَهَا»
    (مسلم كِتَابُ السَّلَام، باب فَضْلِ سَقْيِ الْبَهَائِمِ الْمُحْتَرَمَةِ وَإِطْعَامِهَا،5860)

    ” ایک فاحشہ عورت نے ایک سخت گرم دن میں ایک کتا دیکھا جو ایک کنویں کے گردچکر لگا رہا تھا ۔پیاس کی وجہ سے اس نے زبان باہر نکا لی ہو ئی تھی اس عورت نے اس کی خاطر اپنا موزہ اتارہ(اور اس کے ذریعے پانی نکا ل کر اس کتے کو پلایا ) تو اس کو بخش دیا گیا ۔”

    *اسلام اور آداب جنگ*

    آج مغربی میڈیا کی چکاچوند میں کھوئے ہوئے اور اسلام مخالف پروپیگنڈے کا شکار بہت سے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اسلام ایک دہشت گرد، جنونی اور جنگجو مذہب ہے جب کہ اگر اسلام کی جنگی تعلیمات اور جنگی آداب پر غور کیا جائے تو معاملہ اس کے بالکل برعکس ہے

    *لشکر اسامہ کو روانہ کرتے ہوئے ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی نصیحتیں*

    ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ لشکر اسامہ کو روانہ کرتے ہوئے لشکر کو اور اس کے امیر کو نصیحت کی
    فرمایا
    وَإِنِّي مُوصِيكَ بِعَشْرٍ
    میں آپ کو دس چیزوں کی نصیحت کرتا ہوں
    لَا تَقْتُلَنَّ امْرَأَةً
    کسی عورت کو قتل نہیں کرنا
    وَلَا صَبِيًّا
    نہ ہی کسی بچے کو
    وَلَا كَبِيرًا هَرِمًا
    نہ ہی کسی بوڑھے کو
    وَلَا تَقْطَعَنَّ شَجَرًا مُثْمِرًا
    کوئی پھل دار درخت نہیں کاٹنا
    وَلَا تُخَرِّبَنَّ عَامِرًا
    کسی آباد علاقے کو ویران نہیں کرنا
    وَلَا تَعْقِرَنَّ شَاةً وَلَا بَعِيرًا إِلَّا لِمَأْكَلَةٍ
    کھانے کی ضرورت کے علاوہ کسی اونٹ یا بکری کو ذبح نہیں کرنا
    وَلَا تَحْرِقَنَّ نَحْلًا
    کھجور کا کوئی درخت نہیں جلانا
    وَلَا تُغَرِّقَنَّهُ
    کسی کو پانی میں نہیں ڈبونا
    وَلَا تَغْلُلْ
    خیانت نہیں کرنا
    وَلَا تَجْبُنْ
    بزدلی نہیں دکھانا
    موطا امام مالک

    *عورتوں اور بچوں کو قتل نہ کرو*

    عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں
    وُجِدَتْ امْرَأَةٌ مَقْتُولَةً فِي بَعْضِ مَغَازِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ قَتْلِ النِّسَاءِ وَالصِّبْيَانِ
    بخاری 2852
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی جنگ میں ایک مقتول عورت پائی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں اور بچوں کو قتل کرنے سے منع کردیا

    *مزدوروں کو قتل کرنے کی ممانعت*

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جنگ کے موقع پر خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو پیغام بھیجا
    لَا يَقْتُلَنَّ امْرَأَةً وَلَا عَسِيفًا
    ابوداؤد 2669
    کسی عورت یا مزدور کو قتل نہ کرو

    *اسلام فریق مخالف کے مقتولین کا مثلہ کرنے سے منع کرتا ہے*

    نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا
    وَلَا تَغُلُّوا وَلَا تَغْدِرُوا وَلَا تَمْثُلُوا
    مسلم 1731
    خیانت نہ کرو دھوکا نہ دو اور مثلہ نہ کرو

    بدر کے ایک قیدی سہیل بن عمرو کے متعلق عمر رضی اللہ عنہ نے مشورہ دیا کہ اس کے اگلے دو دانت توڑ دیے جائیں کیونکہ وہ کفار کا بہت بڑا خطیب تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمر رضی اللہ عنہ کی یہ بات تسلیم کرنے سے انکار کر دیا
    الرحیق المختوم

    *اسلام میں اسیران جنگ سے حسن سلوک*

    جنگی قیدیوں کے ساتھ حسن سلوک کرنے میں اسلام اپنی مثال آپ ہے جنگی قیدیوں کے متعلق جو سنہری اصول اسلام نے وضع کیے ہیں آج کی مہذب دنیا بھی ایسے قوانین بنانے سے قاصر ہے

    بدر کی جنگ میں 70 کفار گرفتار ہوئے تھے
    فتح مکہ میں پورا مکہ شہر گردنیں جھکائے کھڑا تھا
    اور حنین کی جنگ میں 6000 قیدی ہاتھ لگے تھے

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب نے ان قیدیوں کے ساتھ حسن سلوک کی ایسی داستانیں رقم کیں کہ دنیا اس کی مثال پیش نہیں کرسکتی

    یمامہ کے حاکم ثمامہ بن اثال رضی اللہ عنہ کا واقعہ صحیح بخاري میں موجود ہیں دنیا حیران رہ گئی کہ کیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی جان کے دشمن کو پکڑنے کے تین دن بعد بغیر کسی عہد و پیماں اور شرط کے آزاد کر دیا

    اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غورث بن حارث کو معاف کر دیا، جس نے آپ کو اچانک قتل کرنے کا ارادہ کیا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سوئے ہوئے تھے تو اس نے آپ کی تلوار میان سے نکال لی، آپ بیدار ہوئے تو وہ ننگی اس کے ہاتھ میں تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے جھڑکا تو اس نے نیچے رکھ دی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب کو بلا کر ساری بات بتائی اور اسے معاف کر دیا۔
    بخاري 2753

    *جنگی قیدی اگر آپس میں رشتہ دار ہیں تو اسلام انہیں جدا جدا کرنے سے منع کرتا ہے*

    ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا
    مَنْ فَرَّقَ بَيْنَ وَالِدَةٍ وَوَلَدِهَا فَرَّقَ اللَّهُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ أَحِبَّتِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ
    ترمذي 1566
    جس نے ماں اور اس کی اولاد کے درمیان جدائی ڈالی تو اللہ تعالی اس کے اور اس کے اقربہ کے درمیان قیامت کے دن جدائی ڈالیں گے

    *فتح مکہ کا منظر نامہ اسلام کی صلح جوئی کا عظیم کردار*

    یہ کسی علاقے کی نہیں بلکہ دلوں کی فتح تھی

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے موقع پر ان لوگوں سے فرمایا جنھوں نے آپ سے دشمنی کی انتہا کر دی تھی اور جن کی گردنیں آپ کے ایک اشارے سے تن سے جدا ہو سکتی تھیں

    ان میں فرعونِ وقت کا بیٹا عکرمہ بن ابی جہل بھی تھا
    زینب کا قاتل ہبار بن اسود بھی تھا
    کعبہ کی چابی نہ دینے والے عثمان بن طلحہ بھی تھے
    پیارے چچا امیر حمزہ کے قاتل وحشی بن حرب بھی تھے

    [ لَا تَثْرِيْبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ ]
    [ السنن الکبرٰی للنسائي : ۱۱۲۹۸ ]
    آج تم پر کوئی گرفت نہیں ہوگی

    *نرمی ہی نرمی*
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
    مَنْ دَخَلَ دَارَ أَبِي سُفْيَانَ فَهُوَ آمِنٌ
    جو ابوسفیان کے گھر داخل ہو جائے گا اسے امن دیا جائے گا
    وَمَنْ أَلْقَى السِّلَاحَ فَهُوَ آمِنٌ
    جو اسلحہ پھینک دے گا اسے بھی امن دیا جائے گا
    وَمَنْ أَغْلَقَ بَابَهُ فَهُوَ آمِنٌ
    جو اپنے گھر کا دروازہ بند کر دے گا اسے بھی امن دیا جائے گا
    مسلم 1780

    سنن ابی داؤد میں ہے دکھانے کے لئے
    مَنْ دَخَلَ دَارًا فَهُوَ آمِنٌ
    ابو داؤد 3024
    جو کسی بھی گھر میں داخل ہو جائے گا اسے امن دیا جائے گا

    اور ابوداؤد ہی کی ایک روایت میں ہے
    وَمَنْ دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَهُوَ آمِنٌ
    ابو داؤد 3022
    جو مسجد میں داخل ہوگا اسے بھی امن دیا جائے گا

    اسی طرح جو حکیم بن حزام کے گھر داخل ہو گا اسے امن دیا جائےگا

    جسے کوئی مسلم پناہ دے اسے بھی امن دیا جائے گا

    *پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و سلم کے درگزر کی مثالیں*

    آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان اسی (۸۰) آدمیوں کو معاف کر دیا جو کوہِ تنعیم سے آپ پر حملہ آور ہونے کے لیے اترے تھے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر قابو پا لیا تو قدرت کے باوجود ان پر احسان فرما دیا۔

    اسی طرح لبید بن اعصم کو معاف کر دیا جس نے آپ پر جادو کیا تھا، اس سے باز پرس بھی نہیں فرمائی۔ (دیکھیے بخاری : ۵۷۶۵)

    اسی طرح اس یہودی عورت زینب کو معاف فرما دیا جو خیبر کے یہودی مرحب کی بہن تھی، جسے محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے قتل کیا تھا، جس نے خیبر کے موقع پر بکری کے بازو میں زہر ملا دیا تھا، بکری کے اس بازو نے آپ کو اس کی اطلاع دے دی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت کو بلایا تو اس نے اعتراف کر لیا۔
    آپ نے اس سے کہا کہ تمھیں اس کام پر کس چیز نے آمادہ کیا؟
    اس نے کہا، میرا ارادہ یہ تھا کہ اگر آپ نبی ہوئے تو یہ آپ کو نقصان نہیں دے گی اور اگر نبی نہ ہوئے تو ہماری جان چھوٹ جائے گی۔
    آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے چھوڑ دیا، مگر جب اس زہر کی وجہ سے بشر بن براء رضی اللہ عنہ فوت ہو گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے قصاص میں اسے قتل کر دیا۔ (دیکھیے بخاری : ۳۱۶۹۔ ابو داود : ۴۵۰۹، ۴۵۱۱)

    *اسلام جبر نہیں کرتا*

    اسلام ایسا مذہب ہے جو ہر ایک کو جینے کا حق دیتا ہے نہ کسی کو زبردستی اسلام میں داخل کرتا ہے اور نہ ہی یہ کہ جو اسلام قبول نہیں کرتا اسے قتل کر دیا جائے

    فرمایا
    لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ
    دین میں کوئی زبردستی نہیں
    البقرة 256

    ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا : ’’(جاہلیت میں) اگر کسی عورت کے بچے زندہ نہ رہتے تو وہ یہ نذر مان لیتی تھی کہ اگر بچہ زندہ رہا تو وہ اسے یہودی بنا دے گی، پھر جب بنونضیر کو جلاوطن کیا گیا تو ان میں انصار کے کئی لڑکے تھے
    انصار نے کہا : ’’ہم انھیں نہیں چھوڑیں گے ‘‘
    تو اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔‘‘
    [أبوداوٗد، الجہاد، باب فی الأسیر یکرہ علی الإسلام : ۲۶۸۲، وصححہ الألبانی ]

    *اسلام میں ذمیوں (اقلیتوں) کے حقوق*

    *ذمی کو قتل کرنے والا جنت کی خوشبو تک نہیں پائے گا*

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
    مَنْ قَتَلَ مُعَاهَدًا لَمْ يَرِحْ رَائِحَةَ الْجَنَّةِ ، وَإِنَّ رِيحَهَا تُوجَدُ مِنْ مَسِيرَةِ أَرْبَعِينَ عَامًا
    رواه البخاري (3166) والنسائي
    ”جس نے کسی ذمی کو ( ناحق ) قتل کیا وہ جنت کی خوشبو بھی نہ پا سکے گا۔ حالانکہ جنت کی خوشبو چالیس سال کی راہ سے سونگھی جا سکتی ہے۔“

    ابو بکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا
    *” مَنْ قَتَلَ مُعَاهِدًا فِي غَيْرِ كُنْهِهِ حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ*
    رواه أبو داود (2760)وصححه الألباني
    جو کسی ایسے ذمی کو قتل کرے جو شرعاً واجب القتل نہیں تھا تو اللہ تعالیٰ نے اس پر جنت حرام کردی ہے

    *اسلام برداشت کا دین ہے*

    اسلام برداشت کا درس دیتا ہے یہ نہیں کہ اگر کسی کے ساتھ دشمنی ہے تو اس دشمنی کی بنیاد پر تم عدل و انصاف سے ہٹ کر فیصلہ کرنا شروع کردو
    فرمایا
    يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُونُوا قَوَّامِينَ لِلَّهِ شُهَدَاءَ بِالْقِسْطِ وَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَآنُ قَوْمٍ عَلَى أَلَّا تَعْدِلُوا اعْدِلُوا هُوَ أَقْرَبُ لِلتَّقْوَى وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ
    اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ کی خاطر خوب قائم رہنے والے، انصاف کے ساتھ گواہی دینے والے بن جائو اور کسی قوم کی دشمنی تمھیں ہرگز اس بات کا مجرم نہ بنا دے کہ تم عدل نہ کرو۔ عدل کرو، یہ تقویٰ کے زیادہ قریب ہے اور اللہ سے ڈرو، بے شک اللہ اس سے پوری طرح با خبر ہے جو تم کرتے ہو۔
    المائدة : 8

    یعنی اگرچہ ان مشرکین نے تمھیں 6 ہجری میں اور اس سے پہلے مسجد حرام میں جانے سے روک دیا تھا لیکن تم ان کے اس روکنے کی وجہ سے ان کی دشمنی کی بنا پر حد سے مت بڑھو

    *اسلام نے بین الاقوامی امن قائم رکھنے کے لیے غیر مسلم اقوام کے معبودوں کو برا کہنے سے منع کیا ہے*

    فرمایا
    وَلَا تَسُبُّوا الَّذِينَ يَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ فَيَسُبُّوا اللَّهَ عَدْوًا بِغَيْرِ عِلْمٍ
    اور انھیں گالی نہ دو جنھیں یہ لوگ اللہ کے سوا پکارتے ہیں، پس وہ زیادتی کرتے ہوئے کچھ جانے بغیر اللہ کو گالی دیں گے
    الأنعام 108

    حتی کہ اسلام کی کتاب قرآن میں موسی علیہ السلام کا تذکرہ انتہائی ادب و احترام کے ساتھ 124 مرتبہ کیا گیا

    عیسی علیہ السلام کا تذکرہ 16 مرتبہ کیا گیا

    مریم علیہ السلام کا تذکرہ 30 مرتبہ کیا گیا

    بنی اسرائیل کا تذکرہ 40 مرتبہ کیا گیا

    بلکہ اسلام کی کتاب میں مریم و بنی اسرائیل کے نام کی تو صورتیں موجود ہیں

    حتی کہ تورات و انجیل کا بھی تذکرہ موجود ہے اور ان کتابوں کے منزل من اللہ ہونے کی تصدیق ہے

    *اسلام بین المذاہب ہم آہنگی کا درس دیتا ہے*

    پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے غیر مسلم حکام کی طرف خطوط لکھے اور انہیں نقطہ اشتراک پر جمع ہونے کی دعوت دی

    قُلْ يَا أَهْلَ الْكِتَابِ تَعَالَوْا إِلَى كَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ أَلَّا نَعْبُدَ إِلَّا اللَّهَ وَلَا نُشْرِكَ بِهِ شَيْئًا وَلَا يَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا أَرْبَابًا مِنْ دُونِ اللَّهِ فَإِنْ تَوَلَّوْا فَقُولُوا اشْهَدُوا بِأَنَّا مُسْلِمُونَ
    کہہ دے اے اہل کتاب! آئو ایک ایسی بات کی طرف جو ہمارے درمیان اور تمھارے درمیان برابر ہے، یہ کہ ہم اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کریں اور ہم میں سے کوئی کسی کو اللہ کے سوا رب نہ بنائے، پھر اگر وہ پھر جائیں تو کہہ دو گواہ رہو کہ بے شک ہم فرماں بردار ہیں۔
    آل عمران : 64

    اس آیت میں اہل کتاب کو تین مشترکہ باتوں کی دعوت دینے کا حکم دیا گیا ہے
    (1) اللہ تعالیٰ کے سوا ہم کسی کی عبادت نہ کریں۔
    (2) اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہرائیں۔
    (3) اور ہم میں سے کوئی کسی کو اللہ کے سوا رب نہ بنائے

    *پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا دنیا سے الوداعی خطبہ انسانی امن کا دستور اعظم*

    آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
    [ يَا أَيُّهَا النَّاسُ! أَلاَ إِنَّ رَبَّكُمْ وَاحِدٌ، وَ إِنَّ أَبَاكُمْ وَاحِدٌ، أَلاَ لاَ فَضْلَ لِعَرَبِيٍّ عَلٰی أَعْجَمِيٍّ، وَلاَ لِعَجَمِيٍّ عَلٰی عَرَبِيٍّ، وَلاَ لِأَحْمَرَ عَلٰی أَسْوَدَ، وَلاَ أَسْوَدَ عَلٰی أَحْمَرَ، إِلاَّ بِالتَّقْوٰی ]
    [مسند أحمد : 411/5، ح : ۲۳۴۸۹، قال شعیب الأرنؤوط إسنادہ صحیح ]
    ’’اے لوگو! سن لو! تمھارا رب ایک ہے اور تمھارا باپ ایک ہے۔ سن لو! نہ کسی عربی کو کسی عجمی پر کوئی برتری حاصل ہے اور نہ کسی عجمی کو کسی عربی پر، نہ کسی سرخ کو کسی کالے پر اور نہ کسی کالے کو کسی سرخ پر، مگر تقویٰ کی بنا پر۔‘‘

    يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَاكُمْ مِنْ ذَكَرٍ وَأُنْثَى وَجَعَلْنَاكُمْ شُعُوبًا وَقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوا إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ
    اے لوگو! بے شک ہم نے تمھیں ایک نر اور ایک مادہ سے پیدا کیا اور ہم نے تمھیں قومیں اور قبیلے بنا دیا، تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچانو، بے شک تم میں سب سے عزت والا اللہ کے نزدیک وہ ہے جو تم میں سب سے زیادہ تقویٰ والا ہے، بے شک اللہ سب کچھ جاننے والا، پوری خبر رکھنے والا ہے۔
    الحجرات : 13

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
    [ وَ إِنَّ اللّٰهَ أَوْحٰی إِلَيَّ أَنْ تَوَاضَعُوْا حَتّٰی لَا يَفْخَرَ أَحَدٌ عَلٰی أَحَدٍ وَلَا يَبْغِيْ أَحَدٌ عَلٰی أَحَدٍ ]
    [ مسلم، الجنۃ و صفۃ نعیمھا، باب الصفات التي یعرف بہا… : ۶۴؍۲۸۶۵ ]
    ’’اللہ تعالیٰ نے میری طرف وحی فرمائی کہ آپس میں تواضع اختیار کرو، حتیٰ کہ نہ کوئی کسی پر فخر کرے اور نہ کوئی کسی پر زیادتی کرے۔‘‘

  • بلاتفریق رنگ و نسل اور مذہب انسانی حقوق کی فراہمی یقینی بنانا اولین ترحیح ہے : سریندر ولاسائی

    بلاتفریق رنگ و نسل اور مذہب انسانی حقوق کی فراہمی یقینی بنانا اولین ترحیح ہے : سریندر ولاسائی

    کراچی : وزیر اعلی سندھ کے معاون خصوصی برائے انسانی حقوق سریندر ولاسائی نے کہا ہے کہ بلاتفریق رنگ و نسل اور مذہب ہر فرد کو انسانی حقوق کی فراہمی یقینی بنانا سندھ حکومت کی اولین ترحیح ہے۔ یہ بات انہوں نے محکمہ انسانی حقوق کے زیر انتظام عالمی یوم انسانی حقوق کی مناسبت سے منعقدہ تقریری مقابلے کے شرکاسے گفتگو کے دوران کہی۔
    سریندر ولاسائی کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت نے خواتین اور بچوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے سندھ کمیشن آن دی اسٹیٹس آف وومن اور سندھ چائلڈ پروٹیکشن اتھارٹی قائم کی ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ جہاں سے تعلیم حاصل کی اس کالج میں بحیثیت مہمان خصوصی آنا ان کے لیے باعث فخر ہے۔ معاون خصوصی نے کہا کہ ایس ایم سائنس کالج کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ اس کی بنیاد بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کے ہاتھوں سے رکھی گئی۔
    اس ضمن میں کالج کی بلڈنگ کو نیشنل ہیریٹیج ڈکلیئرڈ کروانے کے لیے اقدامات کئے جارہے ہیں۔ اس سے قبل "مہذب معاشرے میں انسانی حقوق کا کردار” کے عنوان پر طلبہ و طالبات نیاردو، سندھی اور انگریزی زبان میں تقریر کیں۔ اس تقریری مقابلے میں کراچی کے مختلف سرکاری اسکولز اور کالجز کے 50 سے زائد طلبہ و طالبات نے شرکت کی۔ تقریب میں صوبائی ہیومن رائٹس ویجیلینس کمیٹی کے ممبران ایوب کھوسہ، قیصر نظامانی ، ڈاکٹر راکیش موتیلانی، پرنسپل ایس ایم سائنس کالج بیم راج کالانی، سابق پرنسپل ایس ایم سائس کالج حافظ فصیح نے خصوصی طور پر شرکت کی۔ آخر میں پہلی، دوسری اور تیسری پوزیشن حاصل کرنے والے طلبہ و طالبات میں سرٹیفیکیٹ تقسیم کئے گئے

  • ڈیرہ اسمٰعیل خان:تحصیل میئرکا انتخاب :سہیل راجپوت کی  مخالفین کوسنگین دھمکیاں

    ڈیرہ اسمٰعیل خان:تحصیل میئرکا انتخاب :سہیل راجپوت کی مخالفین کوسنگین دھمکیاں

    ڈیرہ اسمٰعیل خان:تحصیل میئرکا انتخاب کا زور ہے تو دوسری طرف جے یو آئی کے تحصیل میئر کے ایک بڑے سپورٹر سہیل راجپوت کی مخالفین کوجان سے مارنے کی دھمکیاں اس وقت ایک بڑا مسئلہ بن گیا ہے الیکشن کمیشن سوگیا؟اطلاعات کے مطابق ایک طرف کے پی میں بلدیاتی انتخابات ہورہےہیں تو دوسری طرف یہی انتخابات دشمنی اور نفرت کا سبب بن رہےہیں

    اسی حوالے سے ایک تازہ ویڈیو سامنے آئی ہے جس میں ڈیرہ اسمٰعیل خان میں جے یو آئی ف کے تحصیل میئر کے بڑے سپورٹر سہیل راجپوت نے ایک کارنرمیٹنگ میں‌ وفاقی وزیرعلی امین گنڈا پورکوکھلی دھمکیاں‌ دیتے ہوئے کہا ہے وہ اپنا انجام یاد رکھیں‌

     

     

    سہیل راجپوت نے علی امین گنڈا پورکو مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ علی امین گنڈا پوراپنے الفاظ واپس لیں ورنہ میں مونچھیں اکھاڑپھینکوں‌ گا ،سہیل راجپوت نے مزید کہاکہ وہ علی امین گنڈا پورکو وہ سبق سکھلائیں گے کہ وہ یاد رکھیں‌ گے

    سہیل راجپوت نے کہا کہ وہ یہ مونچھوں والا یعنی علی امین گنڈا پور ڈیرہ کی نالیاں صاف کرے گا ، اپنے ہاتھ سے پائپ بچھائے گا اور ہر وہ کام کرے گا جو میں چاہوں گا

    سہیل راجپوت کی کھلی دھمکیوں پراہل علاقہ خوف زدہ ہیں مگرالیکشن کمیشن خاموش تماشائی لگتا ہے،مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ خود حیران ہین کہ علاقے میں اتنی کشیدگی کے باوجود الیکشن کمیشن کی خاموشی کسی بڑے نقصان کا سبب بن سکتی ہے ،

    یاد رہے کہ اس تحصیل میں میئر کے الیکشن کے لیے پاکستان تحریک اصاف کے امیدوار عمر امین گنڈا پورہیں جو کہ وفاقی وزیرعلی امین گنڈا پور کے بھائی ہیں