Baaghi TV

Author: +9251

  • چینی قوم چین کی افواج کی شکرگزار:وادی گلوان میں بھارتی فوجی کو مارنے والے چینی فوجی کےلیے اعزاز

    چینی قوم چین کی افواج کی شکرگزار:وادی گلوان میں بھارتی فوجی کو مارنے والے چینی فوجی کےلیے اعزاز

    اسلام آباد:آپ نے ہماری عزت میں اضافہ کیا: وادی گلوان میں بھارتی فوجی کو مارنے والے چینی فوجی کےلیے اعزاز ،اطلاعات کے مطابق چین کی حکومت ، عوام اور چینی فوج نے اپنے اس فوجی کواپنا ہیروقراردیا ہے جس نے پچھلے سال وادی گلوان میں بھارتی فوجیوں کو کان پکڑوائے اورناک سے لکیریں بھی بنوائیں‌ اور پھربدتیمز بھارتی فوجی کوجہنم واصل کیا

    اس حوالے سے چینی میڈیا کا کہنا ہےکہ گزشتہ سال سرحدی علاقے وادی گلوان میں چینی اور بھارتی فوجیو ں کی جھڑپ ہوئی تھی جس کی مختلف تصویریں سوشل میڈ یا پر سامنے آئیں تو بھارتی فوج کو پوری دنیا میں رسوائی کا سامنا کرنا پڑا ۔

     

     

     

     

    ذرائع کے مطابق اس حوالے سے سوشل میں پر سامنے آنے والی تصویریں بھارتی دعووں کے بر عکس تھیں ، وادی گلوان میں جھڑپ کے بعد بھارتی میڈ یا اور حکمرانوں نے بڑے بڑے دعوے کیے تھے اور کہا تھا کہ بھارتی فوجیوں نے جواں مردی سے چینی فوج کا مقابلہ کیا جس کے بعد تصویریں اور ویڈیوز سامنے آئیں جس میں دیکھا گیا کہ چینی فوج نے بھارتی فوجی اہلکاروں کو مارا اور ان کے کان بھی پکڑوائے ۔

    چینی سرکاری میڈیا کی طرف سے کہا گیا ہے کہ ان جھڑپوں میں بھارتی فوجیوں کو ہلاک کرنے والے چینی فوجی سارجنٹ تاﺅ پینگونگ کو سیکنڈ کلاس میرٹ ایوارڈ دیا گیا ہے ۔ یہ بھی کہا جارہا ہےکہ چینی عوام نے چین کی افواج کا شکریہ ادا کیا ہے کہ وہ اپنی جانوں پرکھیل کے اپنے ہم وطنوں‌ کی جانوں کی حفاظت کررہےہیں اوریہ ان کےلیے ایک اعزازسے کم نہیں‌

  • بلوچستان میں سکیورٹی فورسز کی چیک پوسٹ پر فائرنگ:2 سپاہی شہید

    بلوچستان میں سکیورٹی فورسز کی چیک پوسٹ پر فائرنگ:2 سپاہی شہید

    کوئٹہ:بلوچستان میں سکیورٹی فورسز کی چیک پوسٹ پر فائرنگ، 2 سپاہی شہید ،اطلاعات کے مطابق بلوچستان کے علاقے تمپ میں دہشتگردوں نے فورسز کی چیک پوسٹ پر حملہ کیا، سیکیورٹی فورسز نے فوری جواب دیا، فائرنگ کے تبادلے میں سپاہی نصیب اللہ اور سپاہی انشااللہ شہید ہوگئے۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق بلوچستان کے علاقے تمپ میں بیرونی حمایت یافتہ دہشت گردوں نے سکیورٹی فورسز کی چیک پوسٹ پر حملہ کیا، یہ چیک پوسٹ دہشت گردوں کی نقل و حرکت روکنے کیلئے قائم کی گئی تھی۔

    ادھر اس حوالے سے آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی فورسز کی جانب سے فوری جواب دیا گیا، جس سے دہشت گردوں کو بھاری نقصان پہنچا، جھڑپ کے دوران سپاہی نصیب اللہ اور سپاہی انشااللہ شہید ہوگئے۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق سیکیورٹی فورسز دہشت گردوں کو شکست دینے کیلئے پرعزم ہیں، بلوچستان میں امن، استحکام اور ترقی کا سفر متاثر ہونے نہیں دیا جائے گا۔

    یاد رہے کہ کل وزیرداخلہ شیخ رشید احمد نے بلوچستان میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ بہت جلد بلوچستان سے دہشت گردی کوجڑ سے اکھاڑ پھینکیں گے اوراللہ کے فضل سے یہ پورا خطہ امن کا گہوارہ بن جائے گا ،

    شیخ رشید کا اس موقع پر کہنا تھا کہ بلوچستان کو عدم استحکام کا شکار کرنے والی قوتیں پاکستان کونقصان پہنچانا چاہتی ہیں ، اس لیے ضروری ہے کہ پاکستان کومحفوظ بنانے کے لیے بلوچستان کومحفوظ بنانا پہلے ضروری ہے

    ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پاکستان اس وقت جہاں بیرونی سازشوں کا مقابلہ کررہا ہےوہاں بیرونی مدد کے حامل پاکستان مخالف اندورنی ایجنٹوں سے بھی نبرد آزما ہے ، بہت جلد حالات بہترہوجائیں گے

  • "بلوچستان یونیورسٹی کی طلبا تنظیموں کا دھرنا:مذاکرات فیصلہ کن مرحلے میں داخل”

    "بلوچستان یونیورسٹی کی طلبا تنظیموں کا دھرنا:مذاکرات فیصلہ کن مرحلے میں داخل”

    بلوچستان یونیورسٹی کے لاپتہ طالبعلموں کا معاملہ، طلبا تنظیموں کی جانب سے دھرنا جاری ہے،احتجاج کے باعث کوئٹہ کے یونیورسٹیز اور کالجز پر تالے لگ گئے ۔کوئٹہ کے تمام یونیورسٹیز، کالجز کے بعد احتجاج کو صوبہ بھر میں وسعت دی گئی ہے۔اس کے علاوہ کوئٹہ کے بعد ضلع مستونگ، تربت، زہری، کوہلو اور نوشکی میں بھی کالجز بند کردیئے گئے ہیں۔

    یاد رہے کہ حکومتی مذاکراتی ٹیم طلبا کو مطمئن نہ کرسکی، مذاکرات ناکام ہوگئے۔طلبا تنظیمیں کا کہنا ہے کہ جب تک لاپتہ دو طلبا کو منظر عام پر نہیں لایا جاتا دھرنا جاری رہے گا۔واضح رہے کہ اس سے قبل طلبا تنظیموں کی جانب سے 2 طلبا کے اغوا کے معاملے پر بلوچستان یونیورسٹی کا مین گیٹ آمد و رفت کیلئے بند کردیا گیا تھا۔

    ذرائع کے مطابق 5 نومبر کو بلوچستان یونیورسٹی کے 2 طلبا لاپتہ ہوئے تھے جس کے باعث بلوچستان یونیورسٹی کے مین گیٹ کو طلبا تنظیموں کی جانب سے بند کیا گیا تھا اور جاری پیپرز کا بھی بائیکارٹ کردیا گیا تھا۔طلبا تنظم کا کہنا تھا کہ جب تک طلبا کو منظرعام پر نہیں لایا جاتا احتجاج کا سلسلہ جاری رہے گا۔خیال رہے کہ رجسٹرار بلوچستان یونیورسٹی کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق بلوچستان یونیورسٹی میں تعلیمی و انتظامی معاملات نئے احکامات ملنے تک معطل رہیں گے۔

    دوسری جانب بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں اراکین نے جامعہ بلوچستان کے دو طلبہ سمیت دیگر افراد کے اغوا کے واقعات کے خلاف کھڑے ہو کر متفقہ طورپر مذمت کی ہے۔

    وزیر اعلیٰ بلوچستان عبدالقدوس بزنجو نے ایوان کو یقین دلایا کہ وہ جامعہ بلوچستان کے لاپتہ طلبہ کی بازیابی کیلئےکوشش کررہے ہیں۔

    اس کے علاوہ بلوچستان یونیورسٹی سے مبینہ لاپتہ طلبہ کے بارے میں اطلاع کے حوالے سے محکمہ پولیس کی جانب سے اشتہارجاری کردیا گیاہے ۔اور امید ظاہر کی جارہی ہے کہ کل تک معاملات بہتر ہوجائیں گے

    اشتہارمیں دونوں مغویوں کی برآمدگی میں تعاون کی درخواست کی گئی ہے۔واضح رہے کہ طلبا 5 نومبر کو یونیورسٹی سے لاپتہ ہوئے تھے۔

     

  • ” پاکستان اور چین کے درمیان زرعی مصنوعات کی تجارت میں اضافے نے خوش کردیا”

    ” پاکستان اور چین کے درمیان زرعی مصنوعات کی تجارت میں اضافے نے خوش کردیا”

    اسلام آ با د:پاکستان اور چین کے درمیان زرعی مصنوعات کی تجارت میں اضافے نے خوش کردیا،اطلاعات کے مطابق پاکستان میں چین کے سفیر نونگ رونگ نے کہا ہے کہ 2011 سے 2019 تک چین اور پاکستان کے درمیان زرعی مصنوعات کی تجارت کا حجم 490 ملین امریکی ڈالر سے بڑھ کر 830 ملین امریکی ڈالر تک پہنچ چکا ہے جس میں شرح اضافہ تقریبا 70 فیصد ہے۔

    اسلام آباد سے ذرائع کے مطابق ہمسایہ ملک چین پاکستان آزاد تجارتی معاہدے کے دوسرے مرحلے کا پروٹوکول یکم جنوری 2020 سے نافذ العمل ہو چکا ہے اور دونوں فریقوں کی 75فیصد مصنوعات پر بتدریج "زیرو ٹیرف” تک کمی لائی جائے گی، جس سے چینی منڈی کے مواقع کے ساتھ پاکستان میں اعلی معیار کی زرعی مصنوعات فراہم کی جا سکیں گی۔ چین پاکستان اقتصادی راہداری کی تعمیر صنعتی اور زرعی تعاون پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے اعلی معیار کی ترقی کے ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے.

    یہ بھی یاد ر ہے کہ اس سے قبل چین کے سفیر نونگ رونگ نے چین کی کسٹمز جنرل ایڈمنسٹریشن کی نما ئند گی کرتے ہوئے پاکستان کی وزارت برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق کے ساتھ ” پاکستانی پیاز کی چین برآمد کے لیے معائنہ اور قرنطینہ کی ضروریات کے پروٹوکول” پر باضابطہ دستخط کیے۔یہ اسلام آباد میں زرعی برآمدات کے لیے پہلا معاہدہ ہے جس سے اس بات کی عکاسی ہوتی ہے کہ پاکستانی پیاز نے چینی مارکیٹ تک رسائی حاصل کر لی ہے.

    دوسری طرف اس موقع پر وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق کے وزیر سید فخر امام نے اس موقع پر کہا کہ چین کے پاس انتہائی وسیع اور مضبوط صارف مارکیٹ ہے اور امید ہے کہ پروٹوکول پر دستخط کے بعد پاکستان چین کو مختلف اعلی اقسام کی پیاز برآمد کر سکتا ہے۔ اس وقت چین پاکستان اقتصادی راہداری دوسرے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان زرعی تعاون اس مرحلے کی ترقی کا مرکز ہے۔ مستقبل میں، پاکستان چین کے ساتھ زرعی تعاون کو مزید بڑھانے اور چین میں آم، چیری اور ڈیری سمیت دیگر زرعی مصنوعات کی برآمد کو ترقی دینے کی امید رکھتا ہے:

     

  • عالمی توجہ سے افغانستان میں انسانی بحران کو روکا جاسکتا ہے: آرمی چیف

    عالمی توجہ سے افغانستان میں انسانی بحران کو روکا جاسکتا ہے: آرمی چیف

    راولپنڈی: عالمی توجہ سے افغانستان میں انسانی بحران کو روکا جاسکتا ہے:اطلاعات کے مطابق سپہ سالار جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ عالمی توجہ سے افغانستان میں انسانی بحران کو روکا جاسکتا ہے۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق جنرل قمر جاوید باجوہ سے افغانستان، پاکستان اور ایران کے فارن کامن ویلتھ اینڈ ڈویلپمنٹ آفس اور برطانیہ کے خصوصی نمائندہ برائے افغانستان و پاکستان نائیجل کیسی نے ملاقات کی۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق ملاقات کے دوران باہمی دلچسپی کے امور، افغانستان کی حالیہ پیش رفت سمیت علاقائی سلامتی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق برطانوی نمائندہ خصوصی نائیجل کیسی نے بھی افغان صورتحال میں پاکستان کے کردار، بارڈر مینجمنٹ کے لیے کاوشوں اور علاقائی استحکام میں کردار کو سراہا اور پاکستان کے ساتھ ہر سطح پر سفارتی تعاون کو مزید بہتر بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کے عزم کااعادہ کیا۔

    ملاقات کے دوران آرمی چیف نے کہا کہ ہم دوطرفہ تعلقات کے فروغ کے خواہاں ہیں، پاکستان عالمی و علاقائی سطح کے امور میں برطانیہ کے کردار کو اہمیت دیتا ہے اور برطانیہ کے ساتھ باہمی تعلقات کو مزید وسعت دینے کا خواہاں ہے۔

    اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ کہ افغانستان میں امن کا مطلب پاکستان میں امن ہے، افغانستان میں انسانی بحران کی صورتحال پیدا نہ ہونے دینے کے لیے عالمی اشتراک کی ضرورت ہے، عالمی توجہ سے افغانستان میں انسانی بحران کو روکا جاسکتا ہے، افغان عوام کی معاشی بہتری کے لیے مربوط کوششیں کرنا ہوں گی۔

  • "برطانیہ سمیت کسی کو کوئی حق نہیں پہنچتا کہ وہ فلسطینیوں کودہشت گرد قراردے”:حماس

    "برطانیہ سمیت کسی کو کوئی حق نہیں پہنچتا کہ وہ فلسطینیوں کودہشت گرد قراردے”:حماس

    صنعا:اسلامی تحریک مزاحمت "حماس” نے اعلان کیا ہے کہ جماعت نےبرطانیہ کی طرف سےدہشت گرد تنظیم قرار دینے کے فیصلے کا قانونی اور سیاسی سطح پر مقابلہ کرنے کے لیے اندرون اور بیرون ملک متعدد سیاسی اور قانونی اقدامات کیے ہیں۔

    "حماس” کے سیاسی بیورو کے رکن زکریا ابو معمر نے غزہ کی پٹی میں فلسطینی دھڑوں کی طرف سے "مزاحمت ایک جائز حق ہے” کے عنوان سے منعقدہ ایک کانفرنس کے دوران کہا کہ قابض ریاست دنیا کی دہشت گرد ریاست ہے”

    ابو معمر نے کہا کہ جمعہ کی شام سے ہم نے دنیا بھرکے سرکاری، تنظمی اور سول اداروں کے ساتھ رابطوں کا سلسلہ شروع کر دیا ہے تاکہ ہمارے لوگوں کے خلاف اس خطرناک فیصلے کے حوالے سے ہر ایک کو اس کی ذمہ داریوں کے سامنے رکھا جا سکے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے ان ممالک سے مطالبہ کیا جو ہمارے عوام کے ساتھ دوستی رکھتے ہیں اور ہمارے فلسطینی کاز کی وکالت کرتے ہیں کہ وہ برطانوی حکومت پر فوری طور پر اپنا فیصلہ واپس لینے کے لیے دباؤ ڈالنے میں اپنا کردار ادا کریں۔

    انہوں نے کہا کہ برطانیہ اور اس کی حکومت ایک بار پھر فلسطینی عوام کے ساتھ دشمنی کا مظاہرہ کر رہی ہے۔ تاریخی گناہوں کو درست کرنے اور بین الاقوامی قانون کے تقاضوں کو پورا کرنے کے بجائے ایسا برتاؤ کر رہی ہے جیسے وہ ابھی تک فلسطین پر قابض ہے۔

    ابو معمر نے برطانیہ سے مطالبہ کیا کہ وہ منحوس بالفور اعلامیہ کے لیے معافی مانگ کر اس خطرناک فیصلے کو واپس لے کر اور آئندہ رائے شماری کے دوران اسے پارلیمنٹ میں چھوڑ کراپنے تاریخی جرائم کو فوری طور پر درست کرے اور ان کا ازالہ کرے۔

     

    ادھر دوسری طرف فلسطینی وزارت خارجہ نے اسلامی تحریک مزاحمت ‘حماس’ کو دہشت گرد تنظٰیم قرار دینے کا فیصلہ ظالمانہ اور بلا جواز قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا ہے۔

    فلسطینی وزارت خارجہ کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ حماس کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے کا فیصلہ اسرائیلی وزیراعظم نفتالی بینیٹ اور ان کے برطانوی ہم منصب کے درمیان ملاقات کے ایک ہفتے بعد سامنے آیا ہے۔

    فلسطینی  وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ برطانوی حکومت کا یہ فیصلہ خطے میں پائیدار امن کے قیام کی راہ میں مزید رکاوٹٰیں کھڑی کرے گا اور غزہ میں جنگ بندی کو مستحکم کرنے اور غزہ کی تعمیر نو میں رکاوٹ پیدا کرے گا۔

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ برطانوی حکومت دہرے معیار پر کام کررہی ہے۔ برطانوی حکومت کو فلسطینیوں کے خلاف د

    دوسری طرف سخت ردعمل دیتے ہوئے فلسطینی قانون ساز کونسل کے اسپیکر عزیز دویک نے اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ کو برطانیہ کی طرف سے دہشت گرد تنظیم قراردینے کے فیصلے کی مذمت کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ تحریک کو مجرم قرار دینے کے برطانوی فیصلے کو فلسطینی عوام کے خلاف حد سے زیادہ جرم قرار دیا۔

    دویک نے ایک پریس بیان میں کہا کہ برطانوی فیصلہ بین الاقوامی اتفاق رائے کے خلاف  ہے جس میں کہا گیا ہے کہ فلسطینی عوام کو تمام دستیاب ذرائع سے اپنی سرزمین اور وطن کی آزادی کا دفاع کرنے کا حق حاصل ہے۔

    انہوں نےکہا کہ برطانیہ اب بھی فلسطینی عوام کے خلاف جرائم جاری رکھے ہوئے ہے۔ اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ یہ وہی برطانیہ  ہے جس کی وجہ سے  فلسطینی قوم آج بےگھر اور مصائب کا شکار ہے۔

  • روس آج بھی فلسطینیوں کوان کا حق واپس کرنے کا مطالبہ کرتاہے:پوتن

    روس آج بھی فلسطینیوں کوان کا حق واپس کرنے کا مطالبہ کرتاہے:پوتن

    سوچی :روس آج بھی فلسطینیوں کوان کا حق واپس کرنے کا مطالبہ کرتاہے،اطلاعات کے مطابق روسی صدر نے ایک بار پھرمسئلہ فلسطین کو فلسطینیوں کی خواہش کے مطابق حل کرنے پرزور دیا ہے ، وہ کہتے ہیں کہ مسئلہ فلسطین کے حل کے لیے روس کے نقطہ نظر میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔

    روسی صدر ولادیمیر پوتن اور فلسطینی صدر محمود عباس نے روس کے شہر سوچی میں ملاقات کی۔پوتن نے عباس سے ملاقات کے آغاز میں ایک بیان میں کہا کہ فلسطینی عوام دنیا کے حالات سے واقف ہیں جن میں وہ رہتے ہیں،

    س موقع پر روسی صدر ولادی میر پوتن نے کہا کہ بیرونی ممالک کے دباؤ اور خطے کی کشیدہ صورتحال کے علاوہ نئی قسم کی کورونا وائرس (کوویڈ 19) کی وبا نے بھی ان حالات کو متاثر کیا۔”روس فلسطین کی کوویڈ 19 میں مدد کر رہا ہے۔”

    روسی صدر نے اس موقع پر یہ بتاتے ہوئے کہ مسئلہ فلسطین کے حل کے لیے روس کے نقطہ نظر میں کوئی تبدیلی نہیں آئی، پوتن نے کہا،”مسئلہ فلسطین کو دو آزاد ریاستوں کی بنیاد پر ایک منصفانہ بنیاد پر حل کیا جانا چاہیے جس میں خطے میں رہنے والے تمام لوگوں کے مفادات کو مدنظر رکھا جائے، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق۔ ہم اس مقصد کے لیے کام کریں گے، چاہے یہ کتنا ہی مشکل کیوں نہ ہو۔‘‘

    فلسطینی صدرنے روس کی دعوت پر پوتن کا شکریہ بھی ادا کرتے ہوئے کہا کہ”ہم ہمیشہ فلسطینیوں کے ساتھ آپ کے رویے کی تعریف کرتے ہیں۔‘‘

    دوسری طرف درجنوں یہودی آباد کاروں نے کل سوموارکو اسرائیلی پولیس کی فول پروف سیکیورٹی میں مسجد قصیٰ میں گھس کر مسلمانوں کے قبلہ اول کی بے حرمتی کی۔

    فلسطینی محکمہ اوقاف کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہےکہ درجنوں یہودی آباد کاروں، اسرائیلی طلبا اور انٹیلی جنس اہلکاروں سمیت درجنوں انتہا پسندوں نے  قبلہ اول میں گھس کراشتعال انگیز چکر لگائے۔

    یہودی آباد کار مراکشی دروازے کے راستے مسجد اقصیٰ کے صحن میں داخل ہوئے۔ اس موقعے پر انتہا پسند یہودی شرپسندوں کو مزعومہ ہیکل سلیمانی کے بارے میں مذہبی بریفنگ بھی دی گئی۔

    خیال رہے کہ جمعہ اور ہفتہ کے کے دن کے علاوہ ہفتے کے باقی ایام میں یہودی آباد کار مسجد اقصیٰ پر دھاوے بولتے اور تلمودی تعلیمات کے مطابق مسجد اقصیٰ کی حرمت کو پامال کرنے والے اشتعال انگیز اقدامات اور حرکات کرتے ہیں۔

    یہودی آباد کاروں کو قبلہ اول پر دھاووں کے لیے فول پروف سیکیورٹی فراہم کی جاتی ہے جب کہ فلسطینیوں کو قبلہ اول میں نماز کی ادائی سے روکنے کے لیے طاقت کے استعمال سمیت طرح طرح کے حربے استعمال کیے جاتے ہیں۔

  • بہادرآباد میں 16منزلہ عمارت کی تعمیر ، سپریم کورٹ کا بلڈر کو نوٹس

    بہادرآباد میں 16منزلہ عمارت کی تعمیر ، سپریم کورٹ کا بلڈر کو نوٹس

    سپریم کورٹ نے بہادرآباد میں سولہ منزلہ عمارت کی تعمیر پر بلڈر کو نوٹس کی تعمیل کرانے کا حکم دے دیا اور سعیدغنی کو طلب کرلیا۔

    تفصیلات کے مطابق نسلہ ٹاور کے بعد ایک اور 16منزلہ عمارت کی نشاندہی ہوئی ، سپریم کورٹ میں بہادرآباد میں سولہ منزلہ الباری ٹاور کی تعمیر کے خلاف درخواست دائر کردی گئی۔

    وکیل درخواست گزار نے بتایا پارک کی زمین پر غیر قانونی عمارت بنائی گئی ، عدالتی نوٹس کےبعدبھی تعمیرات نہیں روکی گئیں ، جس پر چیف جسٹس نے استفسار کیا بلڈر کون ہے اس کا کون بنارہا ہے یہ ؟

    عدالت نے ایس ایچ او نیو ٹاؤن کے ذریعے بلڈر کو نوٹس تعمیل کرانے کا حکم دے دیا ، دوران سماعت چیف جسٹس نے عمارت کی تصویر عدالت میں لہرائی۔

    چیف جسٹس نے استفسار کیا یہ کیا ہورہا ہے بتائیں ، سعید غنی صاحب کہاں ہیں ؟ وہ کہتے ہیں ایسی عمارتیں بنیں گی ، بلائیں انہیں ، کہتے ہیں عہدہ چھوڑ دوں گا مگر گراؤں گا نہیں۔

    چیف جسٹس نے ایڈووکیٹ جنرل سے مکالمے میں کہا کب چھوڑیں گے وہ عہدہ یہ توبتائیں ؟ سپریم کورٹ نے سعید غنی کو پیش ہونے کا حکم دے دیا۔

  • سپریم کورٹ کا سول ایوی ایشن کو کلب ختم کرنے کا حکم

    سپریم کورٹ کا سول ایوی ایشن کو کلب ختم کرنے کا حکم

    سپریم کورٹ نے سول ایوی ایشن کو کلب ختم کرنے کا بڑا حکم دیتے ہوئے کلب کی جگہ بطور میس استعمال کرنےکی اجازت دے دی۔

    تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں سول ایوی ایشن اراضی پر کلب بنانے سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی ، دوران سماعت چیف جسٹس نے ڈی جی سول ایوی ایشن سے مکالمے میں کہا آپ کیسے کاموں میں لگ گئے، ساری دن تو کلب کے معاملات دیکھتے ہوں گے آپ۔

    چیف جسٹس نے ڈی جی سول ایوی ایشن سے کا کہنا تھا کہ شادی کےکھانے اور شادیاں کرانے پرپورادن لگ جاتاہوگا، کل جہاز اڑانے کی جگہ پربھی کلب بنا دیں گے ، اس طرح تو آپ اپنے گھربھی بنا لیں گے، یہ سب کب سے کرنے لگے آپ لوگ؟

    ڈی جی سول ایوی ایشن نے بتایا یہ 90کی دہائی سے شروع ہوا، جس پر جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کیا نجی لوگوں کو بھی ممبر شپ دی آپ نے؟ تو

    ڈی جی سول ایوی ایشن نے جواب میں کہا جی پرائیوٹ لوگوں کوبھی رکنیت دے رکھی ہے۔

    عدالت نے ریمارکس دیئے کہ مطلب نجی لوگ بھی سول ایوی ایشن سہولتیں انجوائےکر رہےہیں، جس پر ڈی جی سول ایوی ایشن کا کہنا تھا کہ کلب ختم کرکے میس بنانے کی اجازت دی جائے۔

    جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا پھر نجی لوگوں کو اجازت نہیں ہونی چاہیے، چیف جسٹس نے استفسار کیا کس کام کے لیے بنایا تھاکلب آپ نے؟ ڈی جی سول ایوی ایشن نے بتایا آفیسرز کے لیے کلب بنایا گیا تو چیف جسٹس سپریم کورٹ کا کہنا تھا کہ عام ملازمین کے لیے کیوں نہیں؟

    سپریم کورٹ نے سول ایوی ایشن کو کلب ختم کرنے کا بڑا حکم دیتے ہوئے کلب کی جگہ بطور میس استعمال کرنےکی اجازت دے دی تاہم نجی افراد کو سول ایوی ایشن میس استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔

  • سرینگر: خرم پرویز کی گرفتاری کی مذمت کا سلسلہ جاری، فوری رہائی پر زور

    سرینگر: خرم پرویز کی گرفتاری کی مذمت کا سلسلہ جاری، فوری رہائی پر زور

    سرینگر:خرم پرویز کی گرفتاری کی مذمت کا سلسلہ جاری، فوری رہائی پر زور،اطلاعات کے مطابق بدنا م زمانہ بھارتی تحقیقاتی ادارے” نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی “(این آئی اے) کی طرف سے انسانی حقوق کے کشمیری کارکن خرم پرویز کی گرفتاری پر شدید تنقید کا سلسلہ جاری ہے اور انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں اور سیاسی جماعتوں کی طرف سے بھارت پر زور دیا جا رہا ہے کہ وہ انہیں فوری رہا کرے۔

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ کشمیری کارکن خرم پرویز کی گرفتاری اس بات کی ایک اور مثال ہے کہ کس طرح بھارت میں انسانی حقوق کے کاموں کو مجرمانہ بنانے اور اختلاف رائے کو دبانے کے لیے انسداد دہشت گردی کے قوانین کا غلط استعمال کیا جا رہا ہے۔ ٹویٹ میں کہا گیا کہ بھارتی حکام کو انسانی حقوق کے کارکنوں کو نشانہ بنانے کے بجائے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خاتمے پر توجہ دینی چاہیے۔

    بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں ڈیموکریٹک فریڈم پارٹی کے ترجمان نے سری نگر میں ایک بیان میں خرم پرویرکی گرفتاری کو مودی حکومت کی علاقے میں اختلاف رائے کی آواز کو دبانے کی سازش قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ قابض بھارتی حکام کی طرف سے انسانی حقوق کے محافظوں، سیاسی کارکنوں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں پر ظلم و ستم اور انتقامی کارروائیاں بی جے پی کی فسطائی حکومت کی آمرانہ ذہنیت کا واضح مظہر ہے۔

    انہوں نے کہا کہ اظہار رائے کی آزادی کے حق کے بارے میں بھارتی قابض حکام کا ردعمل ہمیشہ سے آمرانہ رہا ہے۔ ترجمان نے مزید کہا کہ گرفتاریوں، دھمکیوں اور توہین آمیز مہم کا مقصد آزادی کی حامی قیادت اور کشمیریوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والوں کو خوف و دہشت کا شکار کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ خرم پرویز کو انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو دستاویزی شکل دینے اور عالمی برادری کے سامنے بھارت کے سفاکانہ چہرے کو بے نقاب کرنے کے لیے نشانہ بنایا جا رہا ہے ۔

    جموں و کشمیر ایمپلائز موومنٹ کے جنرل سیکرٹری جنید الاسلام نے خرم پرویز کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے انسانی حقوق کے عالمی اداروں پر زور دیا کہ وہ مقبوضہ جموںوکشمیر میں انسانی حقوق کے محافظوں کو ہراساں کیے جانے کا موثر نوٹس لیں۔ این آئی انے خرم پرویز کو پیر کو سرینگر میں گرفتار کیا تھا ۔ انہیں منگل کے روز نئی دہلی منتقل کیا گیا ۔