Baaghi TV

Author: +9251

  • کراچی کی ترقی میں تسلسل کے حوالے سے کوئی رکاوٹ برداشت نہیں کروں گا، بلاول

    کراچی کی ترقی میں تسلسل کے حوالے سے کوئی رکاوٹ برداشت نہیں کروں گا، بلاول

    پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ کراچی شہر کی ترقی میں تسلسل کے حوالے سے کوئی رکاوٹ برداشت نہیں کروں گا۔

    تفصیلات کے مطابق پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سے کراچی کے ایڈمنسٹریٹر مرتضیٰ وہاب کی بلاول ہاؤس میں ملاقات ہوئی جس میں ایڈمنسٹریٹر کراچی مرتضی وہاب نے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کو شہر قائد میں جاری ترقیاتی کاموں کی تفصیل سے آگاہ کیا۔

    ملاقات میں پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کراچی میں جاری ترقیاتی کاموں کی جلد تکمیل کے حوالے سے بھی خصوصی ہدایات دیں۔

    بلاول بھٹو زرداری نے ایڈمنسٹریٹر کراچی کو ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ کیماڑی سے سہراب گوٹھ تک کراچی کے ہر علاقے پر خصوصی توجہ دی جائے۔

    پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے مزید کہا کہ کراچی کی انتظامیہ کی جانب سے انتہائی قلیل مدت میں دیرپا مسائل کا فوری حل ایک اچھی ابتدا ہے، کراچی شہر کی ترقی میں تسلسل کے حوالے سے کوئی رکاوٹ برداشت نہیں کروں گا۔

  • سندھ میں لڑکیوں کی تعلیم کے مسائل پر ریسرچ اسٹڈی لانچ

    سندھ میں لڑکیوں کی تعلیم کے مسائل پر ریسرچ اسٹڈی لانچ

    وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ کی زیرِصدارت سندھ میں لڑکیوں کی تعلیم کے مسائل پر ریسرچ اسٹڈی کی لانچنگ کی گئی ہے جبکہ یہ ریسرچ اسٹڈی صوبائی محتسب اعلی نے سندھ فانڈیشن سے کروائی ہے۔اس موقع پر سید مراد علی شاہ نے کہا کہ یہ ریسرچ اسٹڈی حکومت کے لیے رہنمائی کا سبب بنے گی، اسٹڈی میں گرلز ایجوکیشن کے مسائل اور ان کا حل بھی بتایا گیا ہے۔
    مراد علی شاہ نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کا ٹریک ریکارڈ ہے کہ خواتین کو بااختیار بنانے پر کام کیا ہے، شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے دورِ حکومت میں فرسٹ ویمن بینک اہم قدم تھا۔انہوں نے کہا کہ ویمن پولیس اسٹیشن، خواتین کو زمین دینا، نوکریوں میں کوٹا مقرر کرنا بھی اہم اقدامات تھے، ہم اسٹڈی کی سفارشات کے مطابق گرلز ایجوکیشن کے لیے مزید وسائل کے انتظامات کریں گے۔
    وزیراعلی سندھ نے یہ بھی کہا کہ ہماری تعلیم کی ترقی ہماری ترقی کا راستہ بنے گی، کوئی معاشرہ خواتین کی تعلیم کے بغیر ترقی نہیں کر سکتا، اگر ماں تعلیم یافتہ ہوگی تو خاندان بھی علم کی روشنی سے روشن ہوگا۔مراد علی شاہ نے کہا کہ سندھ میں تعلیم مفت ہے، آپ اپنی بچیوں کو تعلیم سے آراستہ کریں، پرائمری اسکولوں کو اپ گریڈ کرکے ایلیمینٹری، سیکنڈری اسکول بنائیں گے جبکہ لڑکیوں کی تعلیم کی اہمیت پر آگاہی مہم چلائیں گے.

  • آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی میں معروف ناول نگار ،نقاد عامر حسین کی کتاب ”Restless“ پر مباحثے کا اہتمام

    آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی میں معروف ناول نگار ،نقاد عامر حسین کی کتاب ”Restless“ پر مباحثے کا اہتمام

    کراچی آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کی جانب سے معروف ناول نگار ، نقاد اور افسانہ نگار عامر حسین کے ساتھ ان کی تازہ کتاب ”Restless“ پر ایک سیشن منعقد کیا گیاجس میں ڈاکٹر فاطمہ حسن اور شمع عسکری نے بھی شرکت کی جبکہ نظامت کے فرائض فاطمہ اعجاز نے انجام دیئے، ”Restless“ اپنی کتاب کے بارے میں بات کرتے ہوئے مصنف عامر حسین نے کہا کہ میری کتاب کا پہلا حصہ میری زندگی اور اخلاقی تسلسل پرہے یہ اس وقت کی بات ہے جب میں 20 سال کا تھا اور میں نے اردو پڑھنا شروع کی جسے میں بالکل نہیں جانتا تھا اور پھر میں 32 سے 60 سال کی عمر تک اپنی زندگی کا احاطہ کرتا ہوں ، عامر حسین نے کہا کہ میرا آدھا خاندان بھارت میں ہے اور آدھا پاکستان میں لیکن دو ممالک جن سے میں واقعی محبت کرتا ہوں اور وہ ہے اٹلی اور جاوامیں بہت سے ممالک میں گیا لیکن روحانی طور پر میں نے کسی جگہ سے جڑا ہوا محسوس نہیں کیا مگر اٹلی اور جاوا میری کہانی کا حصہ بھی ہیں۔
    انہوں نے کہا کہ لوگ سمجھتے ہیں کہ میں ایک نقاد ہوں لیکن ایسا بالکل نہیں، مجھے پڑھنا پسند ہے مگر تنقیدی نظر نہیں ہے۔ ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے عامر حسین نے کہا کہ مختصر کہانی ناول سے مختلف ہے ، ایک مختصر کہانی ایک لمحے کو 10 صفحات میں سمو سکتی ہے اور یہ ایک صفحہ تقریباً 100، 100 سال کا ہو سکتا ہے

  • فوادچوہدری کو تھپڑ مارنے کی بات اس لیے کی تھی کیونکہ انہوں نے کہا تھا کہ عامرلیاقت کا استعفیٰ تو روز آتا ہے، عامرلیاقت

    فوادچوہدری کو تھپڑ مارنے کی بات اس لیے کی تھی کیونکہ انہوں نے کہا تھا کہ عامرلیاقت کا استعفیٰ تو روز آتا ہے، عامرلیاقت

    رکن قومی اسمبلی ڈاکٹرعامرلیاقت نے کہاہے کہ فوادچوہدری کو تھپڑمارنے کی بات اس لیے کی تھی کیوں کہ انہوں نے کہا تھا کہ عامرلیاقت کا استعفیٰ تو روز آتا ہے۔خصوصی گفتگو کے دوران عامرلیاقت نے کہاکہ انہوں نے اس بات پر فوادچوہدری کو جواب دیا کہ وہ میرے معاملات سے دور رہیں ورنہ میرا تھپڑ ان کے تھپڑ سے بھاری ثابت ہوگا تاہم ان ہوں نے کہاکہ فوادچوہدری سے میری دوستی اور ایک گھریلو تعلق ہے اس لیے فوادچوہدری نے میرے بات کا جواب نہیں دیا۔
    انہوں نے کہا کہ اگر مولانا فضل الرحمان صاحب مہنگے ہیں تو پاکستان میں پھر مہنگائی ہوگی لیکن اگر سستے ہوئے یعنی ہرکسی کو دستیاب ہیں تو اس کا مطلب ملک میں مہنگائی نہیں ہے۔

    انہوں نے کہاکہ ملک میں اس قدر مہنگائی ہے کہ اپوزیشن کو تو بہت پہلے نکلنا چاہیے تھا مگر مولانا فضل الرحمان کا ملک میں مہنگائی کے خلاف نکلنا باعث حیرت ہے۔عامرلیاقت نے کہاکہ تحریک انصاف سے استعفیٰ دے چکا ہوں اور اب اس جماعت سے میرا کوئی تعلق نہیں اس لیے میرے نام کے ساتھ تحریک انصاف نہ لکھا جائے ۔

    انہوں نے کہ علی امین گنڈاپور کا عوام کو کھانا کم کھانے کا مشورہ دینا قابل مذمت ہے لوگ ایسا کیوں کریں انہوں نے تو مہنگائی ختم کرنے کے لیے ووٹ دیا تھا۔انہوں نے کہا کہ ملک میں مہنگائی بالکل ہے اور اس کی ذمہ دار بھی حکومت ہے تاہم استعفیٰ دینا ہر مسئلے کا حل نہیں صرف وزارتوں میں تبدیلی کی ضرورت ہے۔عامرلیاقت نے کہاکہ اپوزیشن کو مہنگائی کے خلاف بہت پہلے جاگنا چاہیے تھا اب اس وقت مہنگائی کے خلاف نکلنا باعث تعجب ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کا لانگ مارچ نظر نہیں آرہا۔

  • سردیوں میں عوام کو گیس کے حوالے سے تکلیف کا سامنا کرنا پڑے گا، گورنر سندھ

    سردیوں میں عوام کو گیس کے حوالے سے تکلیف کا سامنا کرنا پڑے گا، گورنر سندھ

    گورنر سندھ عمران اسماعیل نے کہا ہے کہ سردیوں میں عوام کو گیس کے حوالے سے تکلیف کا سامنا کرنا پڑے گا۔

    گورنر سندھ نے کہا کہ پاکستان میں گیس کے ذخائر ذخائر کم ہورہے ہیں، سردیوں میں عوام کو تکلیف کا سامنا کرنا پڑے گا، یہ وقتی تکلیف ہے کیونکہ گیس کے شپمنٹس آرہے ہیں اس لئے زیادہ مسئلہ نہیں ہوگا۔عمران اسماعیل نے کہا کہ کوشش ہے کہ غریب طبقے کو مہنگائی سے ریلیف دیا جائے، ریلیف پالیسی بنائی جارہی ہے، سندھ حکومت کی وجہ سے صحت کارڈ صوبے کے شہریوں کو نہیں ملا، ٹارگٹڈ سبسڈی کارڈ سندھ میں بھی تقسیم کئے جائیں گے۔

  • شیر شاہ عالم کے قریب گودام میں آتشزدگی، لاکھوں روپے کا کپڑا جل کر خاکستر

    شیر شاہ عالم کے قریب گودام میں آتشزدگی، لاکھوں روپے کا کپڑا جل کر خاکستر

    کراچی کے علاقے شیر شاہ عالم میں گودام میں آگ سے لاکھوں روپے مالیت کا کپڑا جل گیا۔ ریسکیو کی 8 گاڑیوں نے آگ پر قابو پایا۔

    فائر بریگیڈ حکام کے مطابق گودام میں بڑی تعداد میں کپڑے کی گانٹھیں موجود تھیں۔ آگ پر ڈیڑھ گھنٹے کی جدوجہد کے بعد قابو پایا گیا۔ آتشزدگی کے نتیجے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا جبکہ گودام میں موجود لاکھوں روپے مالیت کا کپڑا جل کر خاکستر ہوگیا۔حکام کے مطابق ابتدائی طور پر آگ لگنے کی وجہ شارٹ سرکٹ بتائی جا رہی ہے۔

  • چھوٹو گینگ اور لاڈی گینگ کے بعد اب اندھڑ گینگ

    چھوٹو گینگ اور لاڈی گینگ کے بعد اب اندھڑ گینگ

    چھوٹو گینگ اور لاڈی گینگ کے بعد اب اندھڑ گینگ
    پرانی دشمنی کی آڑ میں گینگ متحرک لیکن پولیس بے بس اور مفلوج۔۔۔
    کیا امن و امان کے لئے ہمیں ایک بار پھر فوجی آپریشن کی ضرورت ہے؟

    صوبہ سندھ اور پنجاب بارڈر پر واقع صادق آباد ضلع رحیم یار خان معاشی اعتبار سے جنوبی پنجاب کے کئی اضلاع میں سب سے زیادہ مضبوط سمجھا جاتا ہے۔ لیکن اس مضبوطی کی وجہ سے یہ علاقہ ہمیشہ کسی نہ کسی گینگ کے نشانے پر بھی رہتا ہے۔ کبھی یہاں آئے روز لوگوں کو اغواء کر لیا جاتا ہے تو کبھی دن دیہاڑے بسوں اور ویگنوں کو روک کر لوٹ لیا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ لڑکیوں کے ذریعے لڑکوں کو پھنسا کر اغوا کرنے کے بعد کروڑوں روپے تاوان ڈیمانڈ کیا جاتا رہا ہے۔
    کبھی ان تمام کاموں کے لئے یہاں چھوٹو گینگ بہت مشہور ہوا کرتا تھا جس کے خلاف ہماری پولیس نے کئی آپریشنز بھی کئے تھے لیکن ہر بار پولیس کی ناکامی کے بعد جب حالات بہت زیادہ خراب ہو گئے تو آخرایک فوجی آپریشن کرکے اس چھوٹو گینگ سے نجات حاصل کی گئی۔
    لیکن حالیہ مشکل یہ ہے کہ اب وہاں چھوٹو گینگ سے بھی بڑا ایک اندھڑ گینگ سامنے آ چکا ہے۔ جس نے چند دن پہلے پولیس چوکی کے قریب واقع ایک پٹرول پمپ پر باپ اور چار بیٹوں سمیت نو افراد کو قتل کیا ہے۔ قتل کے بعد اعترافی ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کردی اور ڈھٹائی کی حد یہ ہے کہ ویڈیو میں کہا گیا ہے کہ ابھی مزید نو قتل اور بھی ہونے ہیں۔ لیکن اتنا کچھ ہوجانے کے باوجود نہ تو ابھی تک وہ پکڑے گئے ہیں نہ ہی ان کے خلاف کوئی کاروائی ہوئی ہے۔ اور نہ ہی کوئی امید نظر آ رہی ہے کہ غریب عوام کو اس سفاک گینگ سے کسی طرح نجات مل سکے۔
    اب میں آپ کو بتاتا ہوں کہ یہ تمام معاملہ ہوا کیا؟ کیسے پولیس کی غفلت اور سالوں پرانی دشمنی نے نو عدد جانوں کو نگل لیا؟
    دراصل مرنے والے غلام نبی اندھڑ اور اندھڑ گینگ کے سرغنہ جانو اندھڑ کا تعلق ایک ہی برادری اور قبیلے سے ہے۔
    اور ان کے درمیان 1995 میں دشمنی کی بنیاد پڑی جب جانو اندھڑ کے خاندان کی ایک خاتون پر کاروکاری کا الزام لگایا گیا تھا جس میں غلام نبی اندھڑ کے خاندان کے ایک فرد کو قصوروار ٹھہرا کرجانو اندھڑ کے خاندان والوں نے اس شخص کو ہلاک کر دیا تھا۔ لیکن بعد میں یہ معاملہ جرگوں اور مفاہمت سے حل ہو گیا تھا۔
    اس کے بعد ایک واقعہ 2016 میں ہوا جب جولائی کے مہینے میں پولیس نے اندھڑ گینگ کے سات ڈاکوؤں کو ایک مبینہ آپریشن کے بعد کشمور میں ہلاک کرنے کا دعوی کیا تھا۔ اور اس کے بعد رحیم یار خان پولیس ان کی لاشوں کو چوک ماہی میں لے آئی تھی۔ وہاں ان ڈاکووں کی لاشوں کو سرعام سڑک پر رکھا گیا تھا۔ وہاں جمع ہونے والی عوام نے اس کارروائی پر پنجاب پولیس زندہ باد کے نعرے بھی لگائے تھے۔

    پولیس نے جن سات ڈاکوؤں کو مارا تھا ان میں اندھڑ گینگ کے سرغنہ جانو اندھڑ کے پانچ بھائی ایک بھتیجا اور ایک دوست بھی شامل تھا۔ ان میں ہی خانو اندھڑ بھی تھا جو اس وقت گینگ کا سرغنہ تھا۔
    پولیس کی اس تمام کاروائی کے پیچھے جانو اندھڑ کو شک تھا کہ اس میں غلام نبی اندھڑاور اس کے خاندان والوں کا ہاتھ تھا اور انہوں نے پچھلے واقع کا بدلہ لینے کے لئے مخبری کرکے یہ تمام آپریشن کروایا تھا۔ کیونکہ اسی پٹرول پمپ پراس آپریشن کا جشن بھی منایا گیا تھا۔
    لیکن غلام نبی اور ان کے خاندان کے افراد اس کی تردید کرتے تھے۔ انھوں نے کئی جرگوں اور مصالحتی کوششوں کے ذریعے جانو اندھڑ کو کئی بار یقین دہانی بھی کروائی تھی کہ اُن کا اس واقعے سے کوئی تعلق نہیں تھا اور نہ ہی انھوں نے پولیس کو ایسی کوئی مخبری کی تھی۔ بلکہ ان کے خاندان نے کئی مواقع پر جانو اندھڑ اور اس کے گینگ کو کئی لاکھ روپے بھی ادا کیے تھے۔ یہاں تک کہ اندھڑ گینگ کے لوگ باقاعدگی سے ان سے بھتہ بھی وصول کرتے رہتے تھے۔ کئی مرتبہ ان کو ایک دوسرے کی شادیوں میں شریک ہوتے اور میل ملاقاتیں کرتے بھی دیکھا گیا تھا۔
    لیکن آخر پانچ سال گزرنے کے بعد اب اس نے اپنے بھائیوں اور بھتیجے کا بدلہ لینے کے لئے دن دیہاڑے یہ تمام قتل کئے۔
    اس تمام واقع کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی موجود ہے کہ کیسے پانچ موٹرسائیکلوں پر تقریبا ایک درجن لوگ دوپہر کے وقت صادق آباد کے اس پیٹرول سٹیشن پر آئے ان سب نے کندھوں پر بندوقیں لٹکائیں ہوئیں تھیں۔
    جن کو دیکھ کر پیٹرول پمپ کے دفتر میں بیٹھے چند لوگوں نے چھپنے کی کوشش کی جبکہ باقی افراد یہ جاننے کے لیے باہر نکل آئے کہ معلوم کیا جا سکے آخر معاملہ کیا ہے۔
    بندوقیں اٹھائے یہ لوگ پٹرول پمپ پر بنے دفتر میں داخل ہوئے وہاں کچھ دیر دونوں طرف کے لوگوں میں کچھ بات چیت ہوئی ایک شخص نے ان ڈاکووں میں سے ایک کے پاؤں بھی پکڑے اور ہاتھ جوڑ کر معافی بھی مانگی۔ لیکن چند لمحوں بعد ڈاکووں نے فائرنگ شروع کر دی اور دفتر میں موجود تمام کے تمام لوگوں کو قتل کردیا ان میں سے کسی کو زندہ نہ چھوڑا۔ اس کے بعد وہاں سے نکل پٹرول پمپ کے ساتھ ہی موجود دو دکانوں کے باہر بھی رک کر ڈاکووں نے خوف و ہراس پھیلانے کے لئے فائرنگ کی اور اس کے بعد وہاں سے فرار ہو گئے۔
    اس پورے واقع میں نو افراد قتل ہوئے جن میں پانچ افراد کا تعلق ایک ہی گھر سے تھا یعنی ایک باپ غلام نبی اندھڑ اور اس کے چار بیٹے۔ اس کے علاوہ غلام نبی کا پانچواں بیٹا بھی اس واقعے میں زخمی ہوا ہے۔ غلام بنی اس پیٹرول پمپ کا مالک تھا جہاں یہ تمام حادثہ ہوا۔
    اس تمام واقع کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی موجود ہے اور وہ ویڈیوز سوشل میڈیا پر بھی وائرل ہو چکی ہیں۔
    لیکن پولیس چوکی قریب ہونے کے باوجود پولیس ان ڈاکوؤں کو روکنے یا واردات کے فوری بعد گرفتار کرنے میں ناکام رہی۔
    بلکہ دو دن بعد واقعے کی رپورٹ مجاہد امیر نامی ایک شخص کی مدعیت میں تھانہ کوٹ سبزل میں درج کی گئی۔ مجاہد کا بھائی بھی مرنے والوں میں شامل تھا۔ لیکن ان ڈاکووں کی دہشت کا یہ عالم ہے کہ مجاہد امیر مقدمہ میں مدعی بننے سے ہی دستبردار ہو گیا۔ اور ایک بیان حلفی جمع کروایا کہ ہم نے اپنا معاملہ اللہ پر چھوڑ دیا ہے۔ میں اس مقدمے میں بالکل بھی مدعی نہیں بننا چاہتا۔ اگر باقی مقتولین کے ورثا مدعی بننا چاہیں تو بے شک بن جائیں۔

    لیکن اس وقت اس پورے علاقے میں کوئی ان ڈاکووں کے خلاف بات کرنے کے لئے تیار نہیں ہے۔ کیونکہ جو بھی ڈاکوؤں کے خلاف بات کرتا ہے وہ اس سے رابطہ کرکے اسے جان سے مارنے کی دھمکیاں دیتے ہیں۔ اور سب جانتے ہیں کہ وہ خالی دھمکیاں نہیں دیتے عمل بھی کر دیتے ہیں۔
    مطلب وہاں کے لوگ تو ان ڈاکووں کو بہت اچھی طرح سے سمجھتے ہیں لیکن اگر کوئی ان کو نہیں جانتا تو وہ ہماری پولیس ہے۔ کیونکہ اندھڑ گینگ کے سربراہ جانو اندھڑ کو حال ہی میں خود پولیس نے کچے کے علاقے سے نکال کر آبادی میں لا کر بٹھایا تھا۔ اور جب وہاں کے مقامی لوگوں نے شکایت کی کہ یہ ڈاکو شہری علاقوں میں آکر بیٹھے ہوئے ہیں اور پولیس ان کے خلاف کاروائی نہیں کر رہی تو پولیس نے بڑے آرام سے یہ موقف اختیار کر لیا تھا کہ۔۔ اگریہ کسی کو تنگ تو نہیں کر رہے تو آپ کو کیا مسئلہ ہے۔
    اس کے علاوہ کچھ اعلی افسران کچے کے علاقے میں بھی ان کے پاس گئے تھے اور جانو اندھڑ کو جرائم کی دنیا چھوڑنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کی تھی۔ ان سے مذاکرات کئے گئے کہ اگر وہ خود بھی جرائم کو چھوڑ دیں اور دوسرے ڈاکوؤں کو بھی ایسا کرنے پر قائل کریں تو ان کے خلاف قائم مقدمات ختم کیے جا سکتے ہیں۔
    جس کے بعد ان ڈاکووں اور پولیس میں نہ جانے کیا طے پایا کہ جانو اندھڑ تقریبا ایک ماہ پہلے اپنے چند ساتھیوں سمیت چوک ماہی کے علاقے میں آکر اپنے قلعہ نما ڈیرے میں رہنے لگ گیا۔ جس کی کئی کئی فٹ چوڑی کچی دیواریں ہیں تا کہ ان میں سے بندوق کی گولی آر پار نہ ہو سکے۔
    اس گینگ کے پاس بھاری اسلحہ اور جدید ہتھیار بھی موجود ہیں جن میں مشین گنیں، راکٹ لانچر، گرینیڈ، رائفلیں اور دیگر ہتھیار شامل ہیں۔
    اور حال ہی میں اس گینگ نے اپنے ڈیرے سے پولیس کی ایک گشتی پارٹی پر فائرنگ بھی کی گئی تھی۔ لیکن پولیس نہ تو اس وقت کر چکی اور نہ ہی اب کچھ ہونے کی امید ہے۔
    جس ڈھٹائی کا مظاہرہ یہ گینگ سوشل میڈیا پر اپنے جاری کئے گئے بیانات میں کر رہے ہیں اس کے بعد صاف نظر آتا ہے ان کو پولیس کا کوئی ڈر خوف نہیں ہے یہ اس چھوٹو گینگ سے بھی کہیں زیادہ بڑا اور خطرناک ہو چکا ہے جس کے آگے ہماری پولیس کئی بار بے بس ہو چکی تھی اور پھر فوج کے ذریعے آپریشن کرکے اس کا خاتمہ کرنا پڑا تھا۔ اس لئے اب جو حالات بن چکے ہیں لگتا یہ ہے کہ اب ایک بار پھر ویسے ہی ایک آپریشن کی ضرورت ہے تاکہ اس طرح کے ناسوروں کو جڑ سے اکھاڑ کر پھینکا جائے اور عوام کو سکون کا سانس مل سکے۔

  • شرافی گوٹھ سے سواری کی آڑ میں  منشیات فروخت کرنے والا رکشہ ڈرائیور گرفتار

    شرافی گوٹھ سے سواری کی آڑ میں منشیات فروخت کرنے والا رکشہ ڈرائیور گرفتار

    شرافی گوٹھ سے سواری کی آڑ میں منشیات فروخت کرنے والا رکشہ ڈرائیور گرفتار۔

    پولیس نے خفیہ اطلاع پر مشکوک رکشے کو چیک کیا۔رکشے میں چھپائی گئی ڈیڑھ کلو سے زائد چرس برآمد۔

    پولیس نے رکشہ ڈرائیور کو گرفتار کر کے رکشے کو بھی تحویل میں لے لیا۔گرفتار ملزم اکبر کا کرمنل ریکارڈ چیک کیا جا رہا ہے۔

    ملزم نے ضلع ملیر اور کورنگی کے مختلف علاقوں میں منشیات فروخت کرنے کے علاوہ منشیات بیچنے والوں کو منشیات پہنچانے کا بھی انکشاف کیا۔

    ملزم نے منشیات بیچنے والوں کو مختلف اقسام کی منشیات پہنچانے کا اعتراف کیا۔پولیس کی جانب سے گرفتار ملزم کے دیگر ساتھیوں کے متعلق معلومات حاصل کر رہی ہے۔

    گرفتار ملزم کیخلاف مقدمہ درج کر لیا گیا۔گرفتار ملزم کو مزید پوچھ گچھ کیلئے تفتیشی حکام کے حوالے کر دیا گیا ہے۔

  • عباسی شہید اسپتال کراچی میں حادثے کے زخمیوں کا علاج بھی بند ہوگیا

    عباسی شہید اسپتال کراچی میں حادثے کے زخمیوں کا علاج بھی بند ہوگیا

    ٹریفک حادثے میں خاتون سمیت 3 افراد جاں بحق اور 5 افراد زخمی ہوگئے ، جاں بحق ہونے والی خاتون موٹرسائیکل پر جا رہی تھی۔

    رضویہ کے علاقے ناظم آباد نمبر2 انکوئری آفس کے قریب تیز رفتار کار نے ایک ساتھ تین موٹرسائیکلوں کو ٹکر ماردی، ڈرائیور نے حادثے کے بعد فرار ہونے کی کوشش کی تاہم قریبی موجود رینجرز موبائل نے تعاقب کر کے کار کو روک کر ڈرائیور کو حراست میں اور کار کو قبضے میں لے لیا ۔ بعدازاں ڈرائیور اور کار نمبرAGP-698 کو رضویہ پولیس کے حوالے کر دیا۔

    حادثے میں ایک خاتون جاں بحق جبکہ 4 افراد زخمی ہوگئے ، متوفیہ کی لاش اور زخمیوں کو عباسی شہید اسپتال منتقل کیا گیا ، اسپتال ذرائع کے مطابق زخمیوں میں جاں بحق ہونے والی خاتون کا شوہر بھی شامل ہے.

    متوفیہ کے شوہر اور ایک زخمی کی حالت انتہائی تشویشناک ہے ، زخمیوں کو عباسی شہید اسپتال میں ادویات اور دیگر سہولیات موجود نہ ہونے کے باعث ایدھی اور پرائیوٹ ایمبولینسوں کی مدد سے جناح اسپتال منتقل کر دیا گیا ۔

    پولیس کے مطابق متوفیہ کی شناخت 19 سالہ حبہ دختر سلیم کے نام سے کی گئی جبکہ زخمیوں میں 28 سالہ رمیض ولد آفاق ، 20 سالہ طارق ولد نور ، 20 سالہ محمد نعمان ولد اکبر اور 25 سالہ ملک سلطان ولد ولی اعوان شامل ہیں ، رمیض اور طارق کی حالت انتہائی تشویشناک بتائی جاتی ہے۔

    متوفیہ حبہ گرین ہاؤن ڈینٹل کالج نارتھ ناظم آباد بلاک این کی رہائشی تھی جبکہ زخمی ہونے والا محمد نعمان مکان نمبرB-342 بلاک N محلہ پیپلز کالونی نارتھ ناظم آباد کا رہائشی ہے ، پولیس کے مطابق حادثے کا ذمے دار سفید رنگ کی ٹویوٹا کرولا کار کا ڈرائیور جس نے اپنا نام رضوان بتایا ہے نشے کی حالت میں ہے ، کار سے شراب کی ایک بوتل بھی برآمد کی گئی ہے

  • سپریم کورٹ نے رہنما پیپلز پارٹی خورشید شاہ کی ضمانت منظور کرلی

    سپریم کورٹ نے رہنما پیپلز پارٹی خورشید شاہ کی ضمانت منظور کرلی

    سپریم کورٹ نے پیپلز پارٹی کے رہنما خورشید شاہ کی ضمانت منظور کرلی۔

    ایکسپریس نیوز کے مطابق سپریم کورٹ میں پیپلز پارٹی کے رہنما اور رکن قومی اسمبلی خورشید شاہ کی ضمانت کی درخواست پر سماعت ہوئی۔ نیب کے وکیل نے سماعت کے دوران موقف اختیار کیا کہ خورشید شاہ کیخلاف تحقیقات مکمل ہو گئی ہے، وکیلوں کی ہڑتال اور ہنگاموں کی وجہ سے ریفرنس دائر نہ ہو سکا۔

    عدالتی استفسار پر خورشید شاہ کے وکیل نے کہا کہ خورشید شاہ پر 12 املاک اور 5 بینک اکاونٹس کو جواز بنا کر ریفرنس بنایا گیا، نیب نے خورشید شاہ پر 574 ایکڑ زرعی کی خریداری پر کرپشن کا الزام لگایا، ٹپہ دار نے تسلیم کیا انہوں نے زمین کی قیمت اندازے سے لگائی، 574 ایکڑ زمین کی قیمت خرید سیل ڈیڈ اور کلیکٹر کے نوٹی فکیشن سے کنفرم ہوتی ہے، 1039 ایکڑ بنجر زمین 1979 میں عبدالحفیظ پیرزادہ کے والد عبد الستار پیرازادہ نے 80 ہزار میں خریدی، انہوں نے یہ زمین 1982 میں آگے فروخت کردی، پھر یہ زمین خورشید شاہ نے خریدی، زمین کو اب لفٹ ایریگیشن کے ذریعے سیراب کیا جاتا ہے۔
    فریقین کے دلائل سننے کے بعد سپریم کورٹ نے ایک کروڑ رو پے کے ضمانتی مچلکے جمع کرانے کے بدلے خورشید شاہ کی درخواست ضمانت منظور کرلی، جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیئے کہ نیب خورشید شاہ کو حراست میں رکھنے کی معقول وجہ نہیں بتا سکی۔ عدالت عظمیٰ نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ خورشید شاہ کا نام ای سی ایل میں رہے گا، وہ ای سی ایل سے نام نکالنے کے لیے احتساب عدالت سے رجوع کر سکتے ہیں۔

    واضح رہے کہ خورشید شاہ کو 18 ستمبر 2019 کو نیب نے گرفتار کیا تھا۔ نیب سکھر کی جانب سے خورشید شاہ پر ایک ارب 30 کروڑ روپے کا ریفرنس دائر کیا گیا تھا، جس میں خورشید شاہ کی اہلیہ، 2 بیٹے اور بھتیجے سمیت 18افراد ریفرنس میں نامزد کئے گئے ہیں۔