Baaghi TV

Author: +9251

  • پاک فوج زندہ باد :دہشتگردی کیخلاف پاک فوج کی قربانیاں قابل تحسین ہیں: ایرانی چیف آف جنرل سٹاف

    پاک فوج زندہ باد :دہشتگردی کیخلاف پاک فوج کی قربانیاں قابل تحسین ہیں: ایرانی چیف آف جنرل سٹاف

    راولپنڈی:پاک فوج زندہ باد :دہشتگردی کیخلاف پاک فوج کی قربانیاں قابل تحسین ہیں: ایرانی چیف آف جنرل سٹاف ،اطلاعات کے مطابق ایرانی چیف آف جنرل سٹاف میجر جنرل محمد باقری نے کہا ہے کہ دہشتگردی کیخلاف پاکستان کی افواج کی قربانیاں قابل تحسین ہیں۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق ایرانی چیف آف جنرل سٹاف نے جوائنٹ سٹاف ہیڈ کوارٹرز کا دورہ کیا، ایرانی چیف آف جنرل اسٹاف کی آمدپرگارڈآف آنر پیش کیاگیا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق جنرل ندیم رضا سے ایرانی چیف آف جنرل سٹاف کی ملاقات ہوئی۔ ملاقات میں باہمی دلچسپی،علاقائی اور سکیورٹی تعاون پرتبادلہ خیال کیا گیا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق خطے کی افغانستان کے تناظر میں صورتحال اورانسداددہشتگردی امورپرگفتگو کی گئی۔ جبکہ باہمی فوجی رابطوں کو مزید فروغ اور وسعت دینے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔

    ملاقات کے دوران دونوں جانب سے مشترکہ سرحدوں کو دوستی اور امن کی سرحد قرار دینے پر اتفاق کیا گیا۔

    اس موقع پر میجر جنرل محمد باقری نے کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج کی پیشہ ورانہ صلاحیتیں قابل قدرہیں، دہشتگردی کیخلاف پاکستان کی افواج کی قربانیاں قابل تحسین ہیں۔

    چیئر مین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل ندیم رضا نے کہا کہ ایرانی چیف کےدورےسےدفاعی تعاون کانیاباب شروع ہوگا، دونوں ممالک کا قومی اور عالمی معاملات پر یکساں مؤقف ہے، دونوں ممالک میں فوجی، سٹریٹیجک تعاون کی ضرورت ہے۔

  • پاک ایران سرحد امن اور دوستی کی سرحد ہے: وزیراعظم عمران خان کی ایران جرنیلوں سے گفتگو

    پاک ایران سرحد امن اور دوستی کی سرحد ہے: وزیراعظم عمران خان کی ایران جرنیلوں سے گفتگو

    اسلام آباد: پاک ایران سرحد امن اور دوستی کی سرحد ہے: وزیراعظم عمران خان کی ایران جرنیلوں سے گفتگو،اطلاعات کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاک ایران سرحد امن اور دوستی کی سرحد ہے، افغانستان کے پڑوسیوں کی حیثیت سے پاکستان اور ایران کا امن اور استحکام سے براہ راست تعلق ہے۔

    اطلاعات کے مطابق آ ج وزیراعظم عمران خان سے ایران کے چیف آف جنرل سٹاف میجر جنرل محمد باقری کی ملاقات ہوئی، ملاقات کے دوران پاک ایران دوطرفہ تعلقات کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ملاقات کے دوران عمران خان نے تجارتی، معاشی اور توانائی کے شعبہ میں تعاون بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا۔

    اس اہم ملاقات میں دونوں اطراف کی سیکورٹی بڑھانے کے لیے اٹھائے گئے اقدامات کی اہمیت پر زور دیا گیا۔دونوں ملکوں کی سرحدوں پرپر مارکیٹس کے قیام کے معاہدے پر بھی بات چیت کی گئی۔

    دونوں ملکوں کے درمیان سرحد ی معیشت سے متعلق عمران خان کا کہنا تھاکہ ان مارکیٹوں سے خطے میں روزی روٹی میں آسانی ہوگی۔

    وزیر اعظم عمران خان نے مسئلہ کشمیر کے تنازع پر ایران کی مثبت کردارکو سراہا جبکہ افغانستان میں تازہ ترین صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

    وزیراعظم عمران خان نے قومی مفاہمت اور جامع سیاسی تصفیے کی اہمیت پر زور دیا جبکہ پاکستان اور ایران کے درمیان قریبی ہم آہنگی پر بھی زور دیا گیا۔

    ملاقات کے دوران عمران خان نے ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا اور ایرانی صدر کو پاکستان کے دورے کی دعوت کو دہرایا۔

    اس موقع پر وزیراعظم نے کہا کہ پاک ایران سرحد امن اور دوستی کی سرحد ہے، افغانستان کے پڑوسیوں کی حیثیت سے پاکستان اور ایران کا امن اور استحکام سے براہ راست تعلق ہے،

    پاکستان پرامن اور مستحکم افغانستان اور پائیدار معیشت اور کا خواہشمند ہے، افغانستان میں بین الاقوامی برادری مثبت طور پر اپنا کردار ادا کرے، افغانستان میں معاشی تباہی کو روکنے کے لیے اقدامات کرنا چاہیے۔

  • ایرانی مسلّح افواج کے چیف آف جنرل سٹاف  کا وفدکے ہمراہ جی ایچ کیو کادورہ:پاک فوج کی قیادت سے ملاقات

    ایرانی مسلّح افواج کے چیف آف جنرل سٹاف کا وفدکے ہمراہ جی ایچ کیو کادورہ:پاک فوج کی قیادت سے ملاقات

    راولپنڈی :ایرانی مسلّح افواج کے چیف آف جنرل سٹاف کا وفد کے ہمراہ جی ایچ کیو کا دورہ :پاک فوج کی قیادت سے ملاقات ،اطلاعات کے مطابق آج اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج کے چیف آف جنرل سٹاف (CGS) میجر جنرل محمد باقری نے ایک اعلی سطحی وفد کے ہمراہ جی ایچ کیو کا دورہ کیا۔

    پاک فوج کے ترجمان ادارے آئی ایس پی آر کے مطابق اس موقع پر ایرانی مسلح افواج کے چیف آف جنرل سٹاف کو پاک فوج کے چاق و چوبند دستے نے گارڈ آف آنر پیش کیا۔

    اس موقع پر مہمان خصوصی نے یادگار شہدا پر پھولوں کی چادر چڑھائی اور شہداء پاکستان کے لیے دعا کی۔

     

    آئی ایس پی آر کے مطابق بعد ازاں ایرانی چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران افغانستان کی صورتحال ، علاقائی سلامتی اور بارڈر مینجمنٹ بشمول پاک ایران بارڈر پر باڑ لگانے سمیت مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    اس موقع پردونوں ملکوں کی فوجی قیادت نے دفاعی تعاون کو مزید بڑھانے اور علاقائی امن کے لیے مل کر کام کرنے اور دہشت گردی کے مشترکہ دشمن پر مشترکہ جدوجہد پر اتفاق کیا۔

    اس موقع پر آرمی چیف نے کہا کہ پاکستان اور ایران دو برادر ملک ہیں اور علاقائی امن اور استحکام کے لیے ہمارا قریبی تعاون بہت ضروری ہے۔

    جی ایچ کیو کے دورے پر ایرانی وفد کو ایک جامع علاقائی سلامتی کی تشخیص اور آپریشنل اپ ڈیٹ کے علاوہ پاک فوج کے تربیتی نظام بشمول دوست ممالک کے ساتھ تعاون اور مختلف مشترکہ فوجی مشقوں کے انعقاد کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔

    ایرانی چیف آف جنرل اسٹاف نے فوجی اور فوجی تعلقات کو مزید مضبوط کرنے کی خواہش کا اظہار کیا خاص طور پر انسداد دہشت گردی اور تربیتی ڈومین میں۔

  • اقتدار کا نشہ اور عمران خان۔ تحریر۔ نوید شیخ

    اقتدار کا نشہ اور عمران خان۔ تحریر۔ نوید شیخ

    فواد چوہدری نے پریس کانفرنس کرے ایک تو یہ بتایا ہے کہ گزشتہ رات وزیراعظم عمران خان اور آرمی چیف کے درمیان طویل نشست ہوئی۔ پھر یہ بھی کہا کہ ڈی جی آئی ایس آئی کی تعیناتی میں اتھارٹی وزیر اعظم ہیں۔

    ہیں تو یہ وزیر اطلاعات مگر کم ازکم اپنے الفاظ کا چناؤ ہی درست کر لیں ۔ یہ فواد چوہدری جو قوم کو بتا رہے تھے کہ نئے ڈی جی آئی ایس آئی کی تعیناتی کے لئے قانونی طریقہ اپنایا جائے گا۔ تو سوال یہ ہے کہ کیا ماضی میں غیر قانونی تعیناتی ہوتی تھی ۔

    پھر گزشتہ روز جو عمران خان اور جنرل باجوہ کے درمیان طویل نشست ہوئی ہے ۔ تو یقیقنا سول و فوجی تعلقات میں مسائل تھے تو ہوئی ہے ۔

    حکومت نے کوشش کرکے دیکھ لی ہے ۔ مگر ان کی ایک نہیں چلی ہے ۔ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کی جگہ نئے ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل ندیم احمد انجم ہی ہوں گے۔

    وہ آئندہ ہفتے اپنی ذمہ داریاں سنبھال لیں گے، نئے ڈی جی آئی ایس آئی کا نوٹی فکیشن اب جلد جاری کردیا جائے گا۔ بات کا بتنگڑ بنانا اس حکومت سے کوئی سیکھے ۔

    یہ جو فواد چوہدری نے آج ڈی جی آئی ایس آئی والے معاملے کو لے کر میڈیا پر بار بارالزام لگایا ہے کہ پراپیگنڈہ کرنے والے دم توڑ جائیں گے۔ وزیراعظم،آرمی چیف میں اتفاق رائے ہے ۔ تو پراپیگنڈہ کرنا تو اس حکومت کا شیوہ ہے ۔

    کہتے ہیں کہ جھوٹ کے پاؤں نہیں ہوتے اور جھوٹ کبھی نہ کبھی ظاہر ہوکر رہتا ہے اور سچ اپنا آپ دکھاتا ہے۔

    اس کا حل بھی Goebbels بتا گیا کہ جھوٹ کو مضبوط بنانے کےلیے پروپیگنڈے کا ہتھیار استعمال کرو۔ پروپیگنڈہ کبھی ختم نہیں ہوتا بلکہ خاتمے کا ہتھیار ضرور ہے۔ اس لیے اگر جھوٹ پکڑا جائے تو گالم گلوچ سے اسے دباؤ اور پروپیگنڈہ سے پکڑنے والے پر ہی غلط خبر کا الزام لگا دو اور اپنے کی بورڈ اپنی مرضی کی دھن بجا کر بھنگڑے ڈالو۔

    جیسے پٹرول کی قیمت پاکستان میں پورے خطے کے ملکوں سے کم ہے۔ معیشت ترقی کرے تو قرضے بڑھتے ہیں۔

    یہ جو پچھلے تقریباً ایک ہفتہ سے پوری قوم کو ایک ہیجانی کیفیت میں مبتلا رکھا ہے ۔ ایسا لگتا ہے کہ حکومت کو مزہ آتا ہے ۔ نئے سے نئے مسائل اور ایشوز پیدا کرکے ۔

    برطانیہ کی University of Bathاور جرمنی کی University of Konstanzکے محققین کی ایک نئی تحقیق میں یہ سامنے آیا ہے کہ وہ سیاست دان جو زیادہ جھوٹ بولتے ہیں۔ ان کےلیے کسی قسم کا عہدہ حاصل کرنے کا امکان بھی زیادہ ہوتا ہے اوراس تحقیق کو سچ ثابت کرنے کےلیے حکومت کے وزیروں اور مشیروں کی مثال ہی کافی ہے۔ باقی آپ لوگ خود بھی سمجھدار ہیں۔

    ویسے اس حکومت کا کوئی کام سیدھے طریقے سے نہیں ہوا ہے ۔ ہر اہم تعیناتی اور مسئلے پر انھوں نے ہیڈ لائنز ہی بنوائی ہیں ۔ پنجاب کا حال دیکھ لیں ایسی اکھاڑ پچھاڑ میں نے اپنی زندگی میں کبھی نہیں دیکھی صرف بیوروکریسی میں ہی نہیں ۔ وزارتیں بھی روز بدلتی ہیں ۔ نہیں بدلتا تو صرف وزیر اعلی پنجاب نہیں بدلتا ۔ کچھ نہ سہی ۔ پی ٹی آئی تو اپنے محسنوں تک کو نہیں سنبھال سکی ہے ۔

    اس بات کی توثیق تو جہانگیر ترین نے ایک کل اور ایک آج بیان دے کر ۔۔۔ کر دیی ہے ۔ کل تو مہنگائی پر انھوں نے بغیر لگی لپٹی کے کہہ دیا تھا کہ حکومتی نااہلی ہے اور آج انھوں نے کہا ہے کہ الیکشن میں تحریک انصاف کامیاب ہوئی لیکن کچھ سیٹیں کم ہوئیں تو پھر آپ کو پتہ ہےکہ جہاز چلا۔ ن لیگ سے پی ٹی آئی کی 8
    سیٹیں کم تھیں۔ خان صاحب کا پیغام آیا کہ پنجاب کے بغیر حکومت کا فائدہ نہیں، جس پر میں نےکہا، فکر نہ کریں۔

    اب جہانگیر ترین کی حالت دیکھ لیں ۔ ایک کے بعد ایک وار ان پر کیا جاتا ہے ۔ رہی بات احسانوں کی تو جو احسان جہانگیر ترین نے پی ٹی آئی پر اور عمران خان پر کیے ہیں اس سے ایک دنیا واقف ہے ۔

    پھر الیکشن کمیشن کے ساتھ بھی اس حکومت کا پنگاہے ۔ نئے نیب چیئرمین کی تعیناتی والی قسط ابھی جاری ہے ۔

    ڈاکٹر اے کیو خان کا جنازہ جیسے ہینڈل کیا گیا اور وزیر اعظم عمران خان جانتے بوجھتے ہوئے، چند کلو میٹر کے فاصلے پر ہوتے ہوئے جنازہ میں شریک نہیں ہوئے ۔ اور اس کے بعد عمران خان کے جنازہ میں شرکت نہ کرنے پر وزیروں ۔ مشیروں اور سوشل میڈیا پر موجود پنٹروں نے جو بھونڈی توجیحات دیں وہ محسن پاکستان کا مذاق اڑانے کے مترادف تھیں ۔

    پی ٹی آئی جو پاکستان کی تاریخ 1992ء سے شروع کرتی ہے۔ یہ ایک جانب اس ملک کو ریاست مدینہ بھی دیکھنا چاہتی ہے اور جنسی بے راہ روی، شراب کو شہد میں بدلنا ذاتی مسئلہ بھی قرار دیتی ہے۔ بات صرف اتنی ہے کہ جوجس چیز کا شوقین ہوتا ہے وہی اس کے انجام کا سبب بنتی ہے۔

    میں آپکو بتاوں جب اقتدار ملتا ہے تو جو اسکا نشہ ہوتا ہے اس نشے میں لوگ بہت کچھ کر جاتے ہیں۔

    حضرت علیؓ کا فرمان ہے کہ اپنی خواہشات کو کبھی بھی بے لگام مت چھوڑیں کیونکہ یہ اگر باغی ہو جائیں تو حرام حلال اور جائزو ناجائز کچھ بھی نہیں دیکھتیں۔ خواہشات کو لگام دینےوالے ہی عظیم لوگ ہوتے ہیں۔

    بس اس سے زیادہ بہتر مشورہ میں وزیراعظم عمران خان ، ان کے وزیروں اور اس حکومت کو نہیں دے سکتا ہوں ۔ باقی کرنی انھوں نے اپنی ہی ہے کیونکہ نشہ کسی چیز کا ہو یا اقتدار کا ۔۔۔ نقصان ہی دیتا ہے ۔

    اپوزیشن کی بات کی جائے تو مولانا فضل الرحمن اور شہباز شریف کی ملاقات کا جو فوری مطالبہ سامنے آیا وہ فی الفور نئے انتخابات کے انعقادکا ہے۔ ویسے تو یہ مطالبہ 2018ء کے انتخابات کی کے بعد سے ہی کیا جانے لگا تھا، مگر اب نجانے اس کی فوری ضرورت کیوں پیش آئی۔ سوال تو یہ بھی ہے ایسا مطالبہ کیا کس سے جا رہا ہے حکومت سے تو ہرگز نہیں کیا جا سکتا کہ وہ اس بارے میں کچھ سننے کو تیار نہیں،

    الیکشن کمیشن اپنے طور پر انتخابات کرا نہیں سکتا۔ رہ جاتی ہے بات اسٹیبلشمنٹ کی۔ جس میں فوج بھی سب سے طاقتور فریق کے طور پر شامل ہوتی ہے۔ تو کیا یہ مطالبہ اسٹیبلشمنٹ سے کیا گیا ہے؟ کیا اس موقع پر کہ جب حکومت اپنے چوتھے سال کی مدت پوری کرنے جا رہی ہے، اسٹیبلشمنٹ یہ رسک لے گی کہ چلتے نظام کو روک دے اور ایک نیا پنڈورا بکس کھول دے۔

    اتنے پیچیدہ معاملات کے ہوتے مولانا فضل الرحمن اور شہباز شریف نے اپنی ملاقات میں جو یہ مطالبہ کیا ہے وہ بڑی حد تک ایک سیاسی پھلجھڑی نظر آتی ہے، جس کا مقصد حکومت پر دباؤ بڑھانا ہے۔ حکومت کے ساتھ ساتھ ان طاقتوں پر بھی دباؤ ڈالنا ہے جو حکومت کے ساتھ کھڑی ہیں اور جنہیں اپوزیشن شروع دن سے اس حکومت کو لانے والی قوتیں کہتی رہی ہے۔

    سوال یہ ہے انتخابی اصلاحات کے بغیر اگر اسی نظام کے تحت انتخابات ہوئے تو دھاندلی کے الزامات تو لگیں گے اب تک جتنے بھی ضمنی انتخابات ہوئے ہیں سب کے نتائج پر انگلیاں اٹھائی گئی ہیں۔ ایک انتخابی حلقے میں تو انتخابی عمل کو کالعدم قرار دے کر نئے سرے سے انتخابات بھی کرائے گئے۔ حالت یہ ہے اپوزیشن کوئی بات سننے کو تیار نہیں اور حکومت اپوزیشن کو قریب نہیں پھٹکنے دیتی۔

    دنیا اس معاملے میں کہاں سے کہاں پہنچ گئی ہے، مگر ہم ابھی تک اسی بحث میں الجھے ہوئے ہیں شفاف اور غیر جانبدارانہ انتخابات کیسے ہو سکتے ہیں جب ہم اپنی جمہوریت کی پہلی اینٹ ہی سیدھی نہیں رکھ سکے تو عمارت کی مضبوطی کا خواب کیسے دیکھ سکتے ہیں۔

    اپوزیشن کو ایک ٹپ دے دوں کہ اس وقت بلوچستان میں وزیر اعلیٰ جام کمال کو ہٹانے کی مسلسل کوشش کی جا رہی ہے اس پر کوئی اعتراض نہیں کر رہا کیونکہ یہ ایک آئینی طریقہ ہے۔ عمران خان کو ہٹانے کے لئے آج تک اپوزیشن نے یہ آئینی طریقہ استعمال نہیں کیا۔ حالانکہ پیپلزپارٹی اس حوالے سے پیشکش بھی کرتی رہی ہے ماورائے آئین مطالبات کے ذریعے حکومت کو نکالنے اور نئے انتخابات کرانے کا مطالبہ کتنا قابل عمل ہے۔

    پھر شہباز شریف اور مولانا فضل الرحمن نے ایک مرتبہ پھر لانگ مارچ کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔ ہر چھ ماہ بعد لانگ مارچ کی دھمکی دینے کی بجائے بہتر ہے یکسوئی کے ساتھ کوئی لائحہ عمل بنائیں۔

    مہنگائی اور حکومتی ناکامیوں کے خلاف تحریک چلانے کا فیصلہ درست ہے۔ اس پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ اس میں عوام کی بھلائی بھی ہے اور ان کی دلچسپی بھی نئے انتخابات سے کچھ نہیں ہونے والا۔ سوائے اس اچھی روایت کو ختم کرنا جو پچھلے تیرہ برسوں میں حکومتوں کی آئینی مدت پوری ہونے کے حوالے سے قائم ہو چکی ہے۔ جہاں ساڑھے تین سال گزرنے کو ہیں وہاں باقی مدت بھی پوری ہونے دیں تاکہ عوام کو فیصلہ کرنے میں آسانی رہے انہوں نے جنہیں منتخب کیا تھا۔ وہ اپنی آئینی مدت کے دوران کیا گل کھلاتے رہے ہاں سیاسی جماعتوں کو اس عرصے کے دوران عوام کی آواز بن کر زندہ رہنا چاہئے۔

    گزشتہ دنوں پیپلزپارٹی لاہور نے مہنگائی اور بے روزگاری کے خلاف سابق وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف کی سربراہی میں ایک ریلی نکالی، ایک جمہوری دور میں یہی وہ دباؤ ہوتا ہے جو حکومت پر ڈالا جاتا ہے۔

    آخر میں بس ایک بات بتا دوں ۔ پچیس ہزار ارب قرض نے ملک کا بچہ بچہ مقروض کر دیا تھا تو ہم نے قرض اتار کر چالیس ہزار ارب کردیا اور اب ملک کا بچہ بچہ خوشحال ہے۔

    اس لیے یاد رکھیں ۔ اقتدار میں ہر نیا آنے والا اپنے آپ کو صادق و امین اور قابل منوانے کےلیے اپنے سے پہلے والوں پر کرپشن، چوری اور نااہلی کا الزام ضرور لگاتا ہے اور دھوکا کھائے ہوئے عوام کو پھر سے دھوکا کھانے کے لیے تیار کرتا ہے۔ واہ واہ بھی سمیٹتا ہے اور اقتدار کے مزے بھی لوٹتا ہے۔

     

    اقتدار کا نشہ اور عمران خان۔ تحریر۔ نوید شیخ

  • ہر کوئی اپنے آئینی دائرہ اختیار میں رہے،قوم کو آزاد کرانا چاہتے ہیں:مولانا فضل الرحمن

    ہر کوئی اپنے آئینی دائرہ اختیار میں رہے،قوم کو آزاد کرانا چاہتے ہیں:مولانا فضل الرحمن

    اسلام آباد: ہر کوئی اپنے آئینی دائرہ اختیار میں رہے،قوم کو آزاد کرانا چاہتے ہیں:اطلاعات کے مطابق جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے ملک کے ساتھ ادارں کو تباہ کر دیا، ہمارا موقف ہے ہر کوئی اپنے آئینی دائرہ اختیار میں رہے، ملک پر مسلط لوگوں سے قوم کو آزاد کرانا چاہتے ہیں۔

    تفصیلات کے مطابق سربراہ پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) مولانا فضل الرحمان محسن پاکستان اور ایٹمی سائنسدان مرحوم ڈاکٹر عبدالقدیر خان مرحوم کے گھر آئے، مولانا کے ہمراہ سینیٹر طلحہ محمود بھی موجود تھے۔ مرحوم ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے داماد نعمان شاہ نے مولانا کا استقبال کیا۔

    مولانا فضل الرحمان نے ڈاکٹر عبدالقدیر خان مرحوم کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا اور ایٹمی سائنسدان خان کے لئے دعا مغفرت کی۔

    بعد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پی ڈی ایم سربراہ کا کہنا تھا کہ یہ حکمران ملک کوڈبونے کے لیے آئے ہیں، آئین کے تحت اپنا کردارادا کرینگے توکوئی مشکل نہیں ہوگی، ہمیں صورتحال سے عقل مندی سے نکلنا ہوگا۔ لمحہ بہ لمحہ صورتحال بدل رہی ہے۔ ہمیں فکراس بات کی ہے کہ پاکستان کوکوئی نقصان نہ پہنچے، ملک پرمسلط لوگوں سے قوم کوآزاد کرانا چاہیے۔

    انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے ملک کے ساتھ ادارں کو تباہ کر دیا، ہمارا موقف ہے ہر کوئی اپنے آئینی دائرہ اختیار میں رہے، ملک پر مسلط لوگوں سے قوم کو آزاد کرانا چاہتے ہیں، ڈاکٹر اے کیو خان خوش ہیں جو اپنا مشن پورا کر کے گئے

  • حکومتی نااہلی اور غیر ذمہ دارانہ ریوں سے قومی معیشت زوال پذیرہوچکی:لیاقت بلوچ

    حکومتی نااہلی اور غیر ذمہ دارانہ ریوں سے قومی معیشت زوال پذیرہوچکی:لیاقت بلوچ

    لاہور: حکومتی نااہلی اور غیر ذمہ دارانہ ریوں سے قومی معیشت زوال پذیرہوچکی:اطلاعات کے مطابق نائب امیر جماعت اسلامی، پاکستان سابق پارلیمانی لیڈر لیاقت بلوچ نے کہا ہے کہ حکومتی نااہلی سے قومی معیشت زوال پذیر ہو چکی ہے اور قرضوں کا بوجھ قومی معیشت کے لئے تباہی کا باعث بن گیا ہے۔

    تفصیلات کے مطابق لاہور میں وفود سے ملاقات میں نائب امیر جماعت اسلامی کا کہناتھا کہ تحریک انصاف کی حکومت نااہلی اور غیر ذمہ دارانہ ریوں سے قومی معیشت کو زوال پذیر کر چکی ہے۔

    انہوں نے مزیدکہا کہ بے روزگاری ، مہنگائی نے غریب اور متوسط طبقہ کے گھر وں میں ڈیرے ڈال لئے ہیں، ڈالرمہنگا اور موت سستی ہو گئی ہے، عوام کی قوت خرید آمدن مسلسل کم ہونے کی وجہ سے ختم ہورہی ہے اور قرضوں کا بوجھ قومی معیشت کے لئے تباہی کا باعث بن گیا ہے۔

    لیاقت بلوچ کا کہنا تھا کہ حکومتی نااہلی اور بد انتظامی کی وجہ سے عمران سرکار کے عرصہ اقتدار میں 2 کروڑ 7 لاکھ سے زائد لوگ بے روزگار ہو گئے ہیں، روپے کی قدر میں تیزرفتار کمی، بے روزگاری میں برق رفتار اضافہ اور زراعت کے مہنگے مدخل، ناقص پالیسی کی وجہ سے زراعت مستحکم نہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ صنعت کار کسانوں کو لوٹ رہے ہیں، حکومت کرپٹ مافیا کی سرپرست بن گئی ہے۔

    لیاقت بلوچ نے کہا کہ چیئرمین نیب کی تقرری، الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ممبران کی تقرری، ڈی جی آئی ایس آئی کی تقرری، پانی کے معاہدہ پر عملدرآمد، این ایف سی ایوارڈ میں صوبوں کو بروقت ادائیگی کے حوالوں سے عمران خان انتہائی ناکام، بے تدبیر اور نااہل لیڈر ثابت ہوئے ہیں۔

    انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میڈیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی بل کو پوری قوم نے مسترد کر دیا لیکن حکومت اپنی ڈھٹائی پر قائم ہے، اسلامی عنوانات پر نئے نئے اعلانات کا شوق پورا کیا جا رہا ہے لیکن آئین کے رہنما اصولوں اور اسلامی نظریاتی کونسل سفارشات کے مطابق ملک کو ریاست مدینہ کا نظام نہیں دیا جا رہا۔

    لیاقت بلوچ نے کا کہ اسلام کے نام پر دھوکہ بازی حکومت کو لے ڈوبے گی، حکومت امریکہ، یورپ کے دباؤ سے باہر نکلے اور خطہ کی بدلتی صورت حال میں آزادانہ انداز اورمستحکم فیصلے کرے، افغانستان کو غیر مستحکم کرنے والی سازشوں کا پاکستان کو حصہ نہیں بننا چاہیئے۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ حکومت بلاتاخیر افغان عوام کی فتح اور حکومت کو تسلیم کرے، حکومت انتظار اور ڈر خوف کیوجہ سے کمزور موقف کے ساتھ وقت ضائع کر رہی ہے۔

    لیاقت بلوچ کا کہنا تھا کہ افغانستان میں امن ہوگا تو پورا خطہ پرامن ہوگا، افغان بارڈر پر حکومت عوام کی مشکلات کے خاتمہ کے لئے فوری اقدامات کرے۔

  • ڈی جی آئی ایس آئی کی تقرری کی سمری وزیراعظم آفس کو موصول

    ڈی جی آئی ایس آئی کی تقرری کی سمری وزیراعظم آفس کو موصول

    اسلام آباد:ڈی جی آئی ایس آئی کی تقرری کی سمری وزیراعظم آفس کو موصول ،اطلاعات کے مطابق نئے ڈی جی آئی ایس آئی کی تقرری کی سمری وزیراعظم آفس کو موصول ہوگئی۔

    ذرائع کے مطابق نئے ڈی جی آئی ایس آئی کی تقرری کے لیے سمری وزارت دفاع کی جانب سے بھجوائی گئی ہے۔

    واضح رہےکہ اس سے قبل وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری بیان میں کہا تھا کہ وزیراعظم اور آرمی چیف کے درمیان نئے ڈی جی آئی ایس آئی کیلئے مشاورت مکمل ہو گئی۔

    وفاقی وزیر نے مزید بتایا کہ نئی تقرری کا پراسس شروع ہو چکا ہے، ایک بار پھر سول اور فوجی قیادت نے یہ ثابت کیا ہے کہ ملک کے استحکام، سالمیت اور ترقی کیلئے تمام ادارے متحد اور یکساں ہیں۔

    گزشتہ روز وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے سیاسی امور عامر ڈوگر نے نجی ٹی وی کے ایک پروگرام میں کہا تھا کہ وزراعظم چاہتے تھے کہ افغانستان کی صورت حال کے باعث لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید مزید کچھ ماہ اپنے عہدے پر رہیں۔

    عامر ڈوگر کا مزید کہنا تھا کہ وزیراعظم نےکابینہ میں کہاکہ آرمی چیف کے ساتھ مثالی تعلقات ہیں، ڈی جی آئی ایس آئی کیلئے 3 سے 5 نام آئیں گے، ان 3 سے 5 ناموں میں سے وزیراعظم نئے ڈی جی آئی ایس آئی کی منظوری دیں گے۔

  • عمران خان کا پشتونوں سے متعلق بیان، اے این پی نے سینیٹ میں مذمتی قرارداد جمع کرادیا

    عمران خان کا پشتونوں سے متعلق بیان، اے این پی نے سینیٹ میں مذمتی قرارداد جمع کرادیا

    اسلام آباد:عمران خان کا پشتونوں سے متعلق بیان، اے این پی نے سینیٹ میں مذمتی قرارداد جمع کرادیا،اطلاعات کے مطابق عوامی نیشنل پارٹی نے وزیراعظم کی جانب سے پشتون قوم کے خلاف نازیبا ریمارکس اور انہیں تحریک طالبان سے جوڑنے کے بیان پر سینیٹ میں مذمتی قرارداد جمع کرادیا ہے۔

    ایوان بالا میں عوامی نیشنل پارٹی کے پارلیمانی لیڈر سینیٹر حاجی ہدایت اللہ خان کی جانب سے جمع کرائی گئی قرارداد میں کہا گیا ہے کہ پوری پشتون قوم کو تحریک طالبان پاکستان جوڑنا قابل مذمت ہے۔ پشتونوں نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں قربانیاں دی اور سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔

    خیبرپختونخوا بالخصوص اور پاکستان میں بالعموم امن پشتونوں کی قربانیوں کی وجہ سے آیا ہے۔وزیراعظم کے اس قسم کے بیانات نے پوری پشتون قوم کی دل آزاری کی ہے اور بالخصوص ان لوگوں انتہائی تکلیف پہنچی ہے جنہوں نے اس جنگ میں اپنے پیاروں کو کھویا ہے۔

    قرارداد میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ عمران خان اپنا بیان فوری طور پر واپس لیں اور پوری پشتون قوم سے معافی مانگے۔

  • آغا سراج درانی سمیت 8 ملزمان کی درخواست ضمانت مسترد

    آغا سراج درانی سمیت 8 ملزمان کی درخواست ضمانت مسترد

    ہائیکورٹ نے اسپیکر صوبائی اسمبلی آغا سراج درانی سمیت 8 ملزمان کی درخواست ضمانت مسترد کر دی۔

    بدھ 13اکتوبر کو آمدن سے زائد اثاثہ جات اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے کیس کی سماعت ہوئی۔ جسٹس ندیم اختر اور جسٹس اقبال کلہوڑو پر مشتمل اسپیشل بینچ نے فیصلہ سنایا۔

    ہائیکورٹ کے اسپیشل بینچ نے درخواست ضمانت مسترد کرتے ہوئے ملزمان کو گرفتار کرکے جیل بھیجنے کا حکم دیا۔

    ملزمان کے خلاف احتساب عدالت میں ریفرنس بھی زیر سماعت ہے۔

    نیب کے مطابق اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی و دیگر پر ایک ارب 61 کروڑ کے غیر قانونی اثاثے بنانے کا الزام ہے جبکہ کچھ جائیدادیں فروخت بھی کر دی ہیں۔ غیر قانونی اثاثہ جات میں گھر، 35گاڑیاں اور ساڑھے 300 تولہ سونا بھی شامل ہے جبکہ 11 کروڑ روپے کی قيمتی گھڑياں بھی برآمد ہوئيں۔

    ایف بی آر کے مطابق آغا سراج درانی نے 2007 سے 2018 تک 11کروڑ روپے کی آمدنی ظاہر کی تھی مگر دوران تفتیش آغا سراج درانی نے آمدنی 8کروڑ بتائی۔ اثاثوں میں 11گاڑیاں جبکہ بیٹے، اہلیہ اور بیٹوں کے نام پر کراچی اور ایبٹ آباد میں جائیداد ہیں۔

    واضح رہے کہ نیب کراچی نے فروری 2019 میں اسپيکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی کو اسلام آباد سے گرفتار کیا تھا ۔

  • پی ٹی آئی رکن اسمبلی نے اپنی جیب کاٹنے والے جیب کترے کو پکڑ لیا

    پی ٹی آئی رکن اسمبلی نے اپنی جیب کاٹنے والے جیب کترے کو پکڑ لیا

    پی ٹی آئی کے رہنما خرم شیر زمان کی والدہ کی نماز جنازہ کے دوران ممبر صوبائی اسمبلی راجہ اظہر نے اپنی جیب کاٹنے والے ملزم کو پکڑ کر پولیس کے حوالے کر دیا جس کے خلاف درخشاں پولیس نے مقدمہ درج کرلیا۔

    مدعی مقدمہ رکن سندھ اسمبلی راجہ اظہر نے پولیس کو بیان دیا ہے کہ وہ اپنے ساتھی رکن سندھ اسمبلی کی والدہ کی نماز جنازہ کی ادائیگی کے بعد مسجد سے باہر رہے تھے کہ اس دوران سائیڈ کی جیب میں انھیں ہلکی سی آہٹ محسوس ہوئی جس پر انھوں نے پلٹ کر دیکھا تو ایک شخص نے مشکوک انداز میں اپنا ایک ہاتھ جیب میں ڈالا ہوا تھا جس پر انھوں نے اپنی جیب میں پرس چیک کیا تو وہ غائب تھا ۔

    اس دوران انھوں نے اپنے دوست کی مدد سے اسے پکڑ لیا اور فوری طور مدد گار 15 کو اطلاع دی جس نے موقع پر پہنچ کر مذکورہ شخص سے معلومات حاصل کیں تو اس نے اپنا نام وسیم بتایا اور پولیس افسر اے ایس آئی محمد شہزاد نے اس کی تلاشی کے دوران قمیض کی دائیں جیب سے میرا پرس برآمد کیا جسے میں نے شناخت کرلیا اور اس میں میری نقدی اور دیگر کارڈز موجود تھے ۔
    راجہ اظہر نے بتایا کہ پکڑے جانے والے ملزم کا آبائی تعلق لاہور سے ہے جس نے ابتدائی تفتیش میں پولیس کو بتایا کہ وہ ہر 2 ماہ بعد کراچی آتا ہے اور اپنی کارروائیاں کر کے چلا جاتا ہے ، ملزم نے انکشاف کیا کہ اسے پیپلز پارٹی کی رہنما شرمیلا فاروقی کے والد کی نماز جنازہ جو کہ عصر میں ادا ہونا تھی اس میں بھی جا کر جیب کاٹنے کی وارداتیں کرنا تھیں لیکن اس سے قبل ہی پکڑا گیا .