Baaghi TV

Author: +9251

  • تنباکو سے تمباکو .تحریر:محمد عتیق گورائیہ

    تنباکو سے تمباکو .تحریر:محمد عتیق گورائیہ

    ”آگ بنا دھر راکھ تمباکو” کہاوت کا مطلب ہے کہ جیسے بغیر آگ دھرے تمباکو بے کار ہے ویسے ہی کام بغیر تدبیر بھی بے کار ہے۔ مذکورہ کہاوت میں لفظ تمباکو ہماری آج کی تحریر کا باعث ہے،اردو میں یہ لفظ سنسکرت سے آیا ہے۔ تمباکو ایک پودا ہے جس کے پتوں کو سکھا کر سگریٹ، بڑ ی یا حقے وغیرہ میں ڈال کر استعمال میں لایا جاتا ہے اور اس سے ہلکا نشہ ہوتا ہے۔ اسی سے تمباکو نوشی نکلا اور پھر تمباکو پینے والے کو تمباکو نوش کہا جانے لگا۔فارسی میں تنباکو کہتے ہیں جو اردو میں بھی مستعمل رہا ہے، آدمی اور مشین نامی کتاب میں لکھا ہے کہ ”رہا ذائقے کا معاملہ تو ہم چائے قہوہ اور تنباکوکی اچھائی کا پتہ چلانے کے لیے۔۔۔۔ درجہ وار تقسیم کرسکتے ہیں“ اگر انگریزی کے لفظtobacco کی بات کروں تو اس کے متعلق مختلف آرا موجود ہیں جن میں سے ایک یہ ہے کہ یہ لفظ ہسپانوی اور پرتگالی لفظ tabaco سے نکلا ہے اور ادھر بحیرہ کریبین کے جزائرمیں بولی جانے والی زبان سے آیا تھا۔ خیال ہے کہ تمباکو کے پتوں کو لپیٹنا مراد ہے یا پھر L شکل کا ایک پائپ ہے جو کہ تمباکو کے دھوئیں کو سونگھنے کے لیے مستعمل تھا۔پندرہویں صدی میں ہسپانوی، پرتگالی اور اطالوی لوگ ایک عربی لفظ کو استعمال کرتے تھے جوکہ طُبّاق تھا جسے جرمن عربی لغت نگار Hans Bodo Gerhardt Wehr نے tobacco سے جوڑا ہے، ویسے تو طباق سے مراد دھونی والا پودا ہے۔ذہن میں یہ بات بھی آرہی ہے کہ شاید tobacoکو ہی طباق نہ بنا لیا ہوکیوں کہ عرصہ درازتک یہ پودا بطوردرد کش دوائی استعمال میں رہا ہے۔ تمباکو کا اصل وطن وسطی وجنوبی امریکا ہے جہاں یہ قبل مسیح سے استعمال میں تھااسے امریکا سے باہر متعارف کروانے کا سہرا یورپی اقوام کے سر جاتا ہے۔ ایک خیال یہ بھی ہے کہ تمباکو پر تحقیق اور اس کے وسیع پیمانے پر صنعتی شکل اختیار کرجانے کی وجہ سے امریکا کی معیشت کو شروع میں بڑا سہارا ملا تھا۔ تمباکو سب سے زیادہ کیوبا، چین اور امریکا میں پیدا ہوتا ہے۔ براعظم امریکا میں ہی ایک ملک کا نام جمہوریہ ٹرینیڈاڈو ٹوبیگو ہے، ٹوبیگو ایک جزیرہ ہے اور اس نام کی وجہ تسمیہ موٹے سگار کی سی شکل ہے۔جزیرے کو یہ نام 1511ء میں ہسپانوی حکم نامے سے ملا تھا۔ تمباکو کی 70سے زائد اقسام ہیں اور اس کے خشک پتوں کو سگریٹ اور سگار میں جب کہ ہندو پاک میں حقے کی شکل میں بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ تمباکو نوشی کرنے والوں کی اکثریت کہتی ہے کہ وہ اپنے غموں کو دھوئیں میں اڑا دیتے ہیں جسے شاعر نے اس طرح سے بیان کیا ہے

    ؎کچھ دیر دھوئیں کی لہروں میں
    دنیا سے کنارہ کرتا ہوں
    اگر ہندوستانی حقے کی بات کی جاے تو یہ عربی کے لفظ حقق سے نکلا لگتا ہے جس کا مطلب ہوگا چلم اور کسی قدر پانی سے بھرا ہوا ظرف جس کے ذریعہ تمباکو پیتے ہیں۔ اسے ایران میں قلیان لکھتے ہیں جبکہ بولتے غلیان ہیں جیسا کہ آقا کو آغا بولتے ہیں۔ حقے کے لیے انگریزی زبان میں Hubble bubble کی اصطلاح مستعمل ہے جس کی وجہ گڑگڑ کی آواز ہے۔ ویسے تاریخ میں ایک شخصیت بھی گزری ہے جسے خواجہ حسن نظامی مرحوم نے شہید الحقہ کے نام سے اپنی کتاب میں لکھا ہے۔ اسی کتاب”تمباکو نامہ” مطبوعہ 1923ء میں حقہ بارے مزید لکھتے ہیں کہ” ہندوستانی حقہ تمام دنیا سے اعلا ہے۔ اس میں کچھ شک نہیں کہ ہندوستانی حقہ تمام دنیا کے طریقہ جات تمباکو نوشی سے اعلا ہے۔ اور دنیا کی کوئی قوم اس معاملہ میں ہندوستانی عقل و دماغ کا مقابلہ نہیں کرسکتی۔ یورپ والے تو تمباکو کی اصلاح کرنا جانتے ہی نہیں، ان کے ہاں تو شروع سے سگریٹ سگار کا رواج ہے اور آج تک اس میں کسی قسم کی ترمیم نہیں ہوئی، حالاں کہ وہ ہر چیز میں روزانہ تبدیلی کرتے رہتے ہیں۔ لباس ان کا بدل جاتا ہے، خیالات ان کے بدل جاتے ہیں، ایجادوں میں ان کے ہاں تبدیلیاں ہوتی رہتی ہیں، صرف تمباکو نوشی ایک ایسی بدقسمت چیز ہے جس کے طریقہ میں انھوں نے کوئی تغیر اور فرق پیدا نہیں کیا جس سے اس کے زہریلے مادہ میں کمی ہوجاتی ہے۔ ترک، مصری اور افغانی وغیرہ اقوام نے بے شک حقہ کو اختیار کیا یعنی وہ بھی حقہ کی صورت کی ایک چیز جس کو نرگیلہ کہتے ہیں استعمال کرتے ہیں، مگر کمی یہ ہے کہ ان کو تمباکو کی اصلاح کرنی نہیں آتی وہ سوکھا تمباکو ایک چھوٹی سی چلم پر رکھ دیتے ہیں، اس چلم میں گنجایش بہت کم ہوتی ہے اور اس کے آس پاس دیواریں بھی نہیں ہوتیں، تمباکو رکھنے کے بعد بمشکل ایک دو کوئلے دو انچ قطر کے تمباکو پر رکھ دیتے ہیں اور دو تین دم کھینچ کر تمباکو جلا دیتے ہیں۔ یہ ہندوستان کی سی لطافت و نفاست وہاں نہیں ہوتی کہ تمباکو بھی گڑ، گلاب اور دیگر ادویات سے درست کیا جاتا ہے اور ا س کے زہریلے اثرات کم کردئیے جاتے ہیں۔ اور چلم بھی اتنی بڑی ہوتی ہے کہ جس میں بہت سی آگ آسکے۔ اور آہستہ آہستہ پیتے ہیں تاکہ تمباکو کا زہر پانی میں جذب ہوتا چلا جاے۔ ” ادھر جو لفظ نرگیلہ بتایا گیا ہے وہ فارسی کے لفظ نرگیل سے ماخوذ ہے جس کے معنی ناریل کے ہیں جب کہ سنسکرت میں اس کو نرکیلا کہا جاتا ہے اس کی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ شروع میں حقہ ناریل کے چھلکوں سے بنایا جاتا تھا۔ مصحفی غلام ہمدانی کہتے ہیں
    ؎جو دم حقے کا دوں بولے کہ ”میں حقا نہیں پیتا”
    بھروں جلدی سے گر سلفا، کہے ”سلفا نہیں پیتا”

    مندرجہ بالا اقتباس سے یہ مت سمجھیے گا کہ میں حقے کے حق میں ہوں بلکہ تمباکو کا کسی بھی طرح سے استعمال بیماریوں کو لانے کا سبب سمجھتا بھی ہوں اور اپنے آپ کو بچا کر بھی رکھتا ہوں خصوصاََ سگریٹ وغیرہ کے دھوئیں سے کہ لطف اندوز کوئی اور ہو رہا ہوتا ہے اور پھیپھڑے ہمارے بیماری کا گھر بن رہے ہوتے ہیں۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق تمباکو کا استعمال اموات کی بڑی وجہ بنتا جارہا ہے۔باغی ٹی وی کی انتظامیہ کا اقدام لائق تحسین ہے کہ انھوں نے تمباکو نوشی کے خلاف مہم شروع کی ہوئی ہے۔ میڈیا کو اس حوالے سے کردار اتنا ہی اہم ہے جتنا کہ قوانین پر عمل پیرا ہونا۔

  • کراچی میں 363 منشیات کے اڈے پولیس کی سرپرستی میں چلائے جانے کا انکشاف

    کراچی میں 363 منشیات کے اڈے پولیس کی سرپرستی میں چلائے جانے کا انکشاف

    شہر قائد میں 363 منشیات کے اڈے پولیس کی سرپرستی میں چلائے جانے کاانکشاف سامنے آیا ، جس کے بعد اسپیشل برانچ پولیس نے محکمے کی کالی بھیڑوں کی فہرست آئی جی سندھ کو ارسال کردی ہے۔

    تفصیلات کے مطابق کراچی میں پولیس اہلکار اور افسران منشیات فروش بن گئے ، کراچی میں 363 منشیات کے اڈے پولیس سرپرستی میں چلائے جانے کے انکشاف کے بعد اسپیشل برانچ پولیس نے محکمے کی کالی بھیڑوں کی فہرست آئی سندھ کو ارسال کردی، فہرست میں ڈی ایس پیز اور ایس ایچ اوز کے نام شامل ہیں۔

    رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ منشیات کے دھندے میں 100سےزائدافسران و اہلکاروں ملوث ہیں، افسران اوراہلکارآنکھیں بند کرنےکےعوض بھاری رقم لیاکرتےتھے، ہیروئن،افیون،آئس سب پولیس کی سرپرستی میں فروخت کیاجاتا ہے۔

    اسپیشل برانچ کی رپورٹ میں کہا گیا کہ منشیات فروشی کا پولیس کو بھتہ دیاجاتاتھا، سٹی میں 42،کورنگی میں15 اڈوں ، ایسٹ میں20، ملیرمیں4 ،سینٹرل میں 169اڈوں سے بھتہ لیا جاتاہے جبکہ جنوبی میں28،ویسٹ میں منشیات کے87اڈے چلوانے کیلئے بھتہ لیا جاتا ہے۔

    رپورٹ میں100سےزائدافسران،اہلکاروں کی نشاندہی کی گئی ہے ، جس کے بعد ملیرمیں منشیات فروشوں کی سرپرستی کرنے والوں کے خلاف ایکشن لیتے ہوئے 2اےایس آئی،ایک ہیڈ کانسٹیبل سمیت 8 اہلکاروں کو معطل کردیا گیا ہے۔

  • سندھ میں انٹر کے امتحانات، فزکس کا پیپر لیک

    سندھ میں انٹر کے امتحانات، فزکس کا پیپر لیک

    اس ماہ کے شروع میں میٹرک کے امتحانات کے دوران جب سے میڈیا رپورٹس میں سوالیہ پرچے لیک ہونے کا انکشاف ہوا ہے سندھ میں بورڈ کے امتحانات صوبے میں مروجہ ‘کاپی کلچر’ کی وجہ سے ملک کے باقی حصوں کے لیے مضحکہ خیز بنے ہوئے ہیں جبکہ امتحانات کے دوران پابندیوں کے اعلان کے باوجود موبائل فون، گائیڈ بُکس اور پرچیوں کی مدد سے نقل اور چیٹنگ کا عمل جاری ہے۔

    دھوکہ دہی کے کلچر کے پیچھے سرگرم مجرموں کے ساتھ سختی سے نمٹنے کے اپنے دعوؤں کے باوجود بورڈ آف سیکنڈری ایجوکیشن سندھ صوبے میں دھوکہ دہی مافیا پر قابو پانے میں ناکام رہا ہے۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق پیر کے روز صوبے میں انٹرمیڈیٹ کے امتحانات کے پہلے روز ہی چیٹنگ اور پیپر لیک ہونے کے متعدد واقعات سامنے آئے تھے۔

    اس سے قبل موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق میٹرک کے امتحانات کے دوران بھی طلباء اور اساتذہ کے موبائل فونز اور پیپرز کے استعمال سمیت غیر منصفانہ ذرائع استعمال کرنے کا انکشاف ہوا تھا۔

    پیر کے روز اندرون سندھ سے پیپر لیک ہونے کی اطلاعات سامنے آئیں جہاں محراب پور اور نواب شاہ میں قائم کئے گئے امتحانی مراکز میں امتحانی عملے کی موجودگی میں موبائل فون اور گائیڈز کا کھل کر استعمال کیا گیا۔ فزکس کا پیپر مبینہ طور پر امتحان شروع ہونے سے پہلے ہی لیک ہوگیا تھا۔

    فزکس کا سوالیہ پیپر امتحان کے وقت سے پہلے ہی میرپورخاص، سانگھڑ، محراب پور، نواب شاہ ، تھری میر واہ اور شہید بینظیر آباد میں سوشل میڈیا پر گردش کرہا تھا، جبکہ انتظامیہ نے اس لیک کو روکنے کے لیے کوئی اقدام نہیں اٹھایا۔

    تاہم بورڈ کی ٹیموں نے متعدد امتحانی مراکز پر چھاپے مارے جنہوں نے موبائل فونز ضبط کیے جو امتحانات کے دوران چیٹنگ اور نقل کے لیے استعمال ہو رہے تھے۔

    اطلاعات کے مطابق سکھر بورڈ نے چیٹنگ کی روک تھام کے لیے 21 خصوصی ٹیمیں تشکیل دی تھیں اور صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ امتحانی ہالوں اور اس کے آس پاس دفعہ 144 نافذ کی جائے

  • آر پی او فیصل آبادعمران محمود کی میڈیا نمائندگان  سے ملاقات-

    آر پی او فیصل آبادعمران محمود کی میڈیا نمائندگان سے ملاقات-

    آر پی او فیصل آبادعمران محمود کی میڈیا نمائندگان سے ملاقات۔میڈیا کا مثبت

    کردار،معاشرتی استحکام و ترقی میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔

    تفصیلات

    (شان رسول نُماٸندہ باغی ٹی وی )

    عمران محمودریجنل پولیس آ فیسر فیصل آبادنے اپنے آفس کے کمیٹی روم میں میڈیا نمائندگان سے ملاقات کی۔اس موقع پر انہوں نے میڈیا نمائندگان کے تعمیری اور مثبت کردار کو سراہااور کہا کہ میڈیا کا مثبت اور غیر جانبدار کردار معاشرتی ترقی و استحکام کا ضامن ہوتا ہے۔میڈیا معاشرے کی آنکھ ہے۔عوام الناس کو موجود ہ حا لات و واقعات سے آگاہ رکھنا اور انکی حقائق تک رسائی میڈیا کی دن رات مسلسل کا وشوں کی وجہ سے ہی ممکن ہوتی ہے۔

    انہوں نے امید ظاہر کی کہ آنے والے وقت میں میڈیا کے تعاون سے حالات کو پر امن اور نقص امن سے پاک رکھنے کی ہر ممکن کو شش کی جائیگی تاکہ نہ صرف ریجن فیصل آباد کو کرائم فری بنایا جاسکے بلکہ لوگوں کو در پیش مسائل کا ازالہ کیا جا سکے جس سے معاشرتی برائیوں کا قلع قمع کرنے میں بھی مدد ملے گی۔اس موقع پر میڈیا نمائندگان نے باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے اپنے تعاون کی مکمل یقین دہانی کروائی۔

  • کراچی کے نشیبی علاقوں میں اربن فلڈنگ کا خطرہ

    کراچی کے نشیبی علاقوں میں اربن فلڈنگ کا خطرہ

    ڈائریکٹر محکمہ موسمیات سردار سرفراز نے یکم سے3 ستمبر تک بارش کے امکان کے پیش نظر کراچی، ٹھٹھہ اور بدین کے نشیبی علاقوں میں اربن فلڈنگ کا خطرہ ظاہر کیا ہے۔

    گفتگو کرتے ہوئے ڈائریکٹر محکمہ موسمیات سردار سرفراز نے بتایا کہ ہوا کا کم دباؤ مشرقی سندھ پر ہے جو جنوب کی جانب بڑھ رہا ہے۔

    ڈائریکٹر محکمہ موسمیات کے مطابق سندھ اور پنجاب کے جنوبی علاقوں میں یکم سے 3 ستمبر تک کہیں تیز اور کہیں معتدل بارش کا امکان ہے۔

    آ ج سے سندھ، کل سے کراچی میں بارشیں
    انہوں نے کراچی، ٹھٹھہ اور بدین کے نشیبی علاقوں میں اربن فلڈنگ کا خطرہ بھی ظاہر کیا ہے۔

  • عدالتی حکم کے بعد پی ایس او کے بھی درجنوں ملازمین برطرف

    عدالتی حکم کے بعد پی ایس او کے بھی درجنوں ملازمین برطرف

    سپریم کورٹ کی جانب سے برطرف ملازمین کی بحالی کے ایکٹ دوہزار دس کو کالعدم قرار دینے کے حکم پر عملدرآمد شروع کردیا گیا۔

    اعلیٰ عدالتی فیصلے کے تحت وفاقی ادارے پی ایس او سے ملازمین کی برطرفی کا حکم جاری کردیا گیا ہے۔ گزشتہ ہفتے محکمہ سوئی گیس سے سینکڑوں ملازمین کو برطرف کیا گیا تھا۔

    اس حوالے سے ذرائع کا کہنا ہے کہ پی ایس او نے ملازمین کو برطرفی کے لیٹر جاری کردیئے ہیں، پی ایس او کے ایچ آر ڈیپارٹمنٹ نے متعلقہ ملازمین اور افسران کے کو مراسلہ ارسال کر دیا۔

    مراسلہ میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلے میں مذکورہ ایکٹ کو آئین کی خلاف ورزی قرار دے کر کالعدم قرار دیا گیا ہے، مذکورہ ایکٹ کے مطابق برطرفی کے بعد ملازمت پر بحال ان ملازمین کو فوری طور پر کام سے روک دیا گیا ہے۔

    مراسلے میں ملازمین کو ڈیوٹی کے لئے آنے سے روک دیا گیا ہے، اکاونٹس کی تفصیلات ملازمین کو ارسال کردی جائیں۔ فیصلے کے مطابق بحالی کے وقت ملنے والی یکمشت رقم بھی واپس لی جائے۔

    یاد رہے کہ سپریم کورٹ نے17 اگست کو پیپلزپارٹی پارٹی کے دور میں جاری ہونے والے سیکڈ ایمپلائز دی انسٹیٹ ایکٹ دوہزار دس کو کالعدم قرار دیا تھا۔ اسی ایکٹ کے تحت نوے کی دہائی میں نواز شریف حکومت میں بے دخل کیے گیے ملازمین کو بحال کیا گیا تھا۔

    پی ایس او نے ملک کی عدالت عالیہ کے حالیہ فیصلے کی تعمیل میں2010 کے ایکٹ کے تحت بحال ہونے والے 63 ملازمین کو ملازمت سے سبکدوش کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔

  • کراچی میں کے الیکٹرک کے سب اسٹیشن میں دھماکا

    کراچی میں کے الیکٹرک کے سب اسٹیشن میں دھماکا

    ولیکا چورنگی پر کے الیکٹرک کے سب اسٹیشن میں دھماکا ہوا ، دھماکے کے نتیجے میں کوئی زخمی یا کسی جانی نقصان کے بارے میں فی الحال کوئی اطلاعات نہیں۔

    تفصیلات کے مطابق کراچی کے علاقے ولیکا چورنگی پر کے الیکٹرک کے سب اسٹیشن میں دھماکا ہوا ، دھماکے سے اطراف کی دیواریں گرگئیں ، پولیس اور ریسکیو جائے وقوعہ پرپہنچ گئے ہیں۔

    پولیس حکام کا کہنا ہے کہ دھماکےکی نوعیت کاتعین کیا جارہا ہے، فائربریگیڈ کی گاڑی موقع پر پہنچ گئی ہے تاہم حادثے میں کوئی زخمی یا جانی نقصان نہیں ہوا۔

    یاد رہے گذشتہ ماہ مواچھ گوٹھ میں منی ٹرک پر کریکر حملے میں دو بچوں سمیت 13 افراد جاں بحق ہوگئے ‏تھے، ایس پی بلدیہ نے بتایا تھا کہ گاڑی میں بیس سے پچیس افراد سوار تھے.

    خواتین اوربچوں کی ‏تعداد زیادہ تھی، متاثرہ خاندان لانڈھی شیرپاؤ کالونی کا رہائشی ہے جو کہ شادی کی تقریب ‏سےواپس آرہےتھے کہ بلدیہ مواچھ موڑپر موٹر سائیکل سوار نےکریکر پھینکا۔

    واقعے کے بعد منی ‏ٹرک کےڈرائیورکوحراست میں لے لیا تھا۔

  • اے ایس آئی اکرم خان کا قتل، بڑی پیشرفت سامنے آگئی

    اے ایس آئی اکرم خان کا قتل، بڑی پیشرفت سامنے آگئی

    پولیس اور رینجرز نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے اے ایس آئی اکرم خان کے قتل میں ملوث ملزم کو اورنگی ٹاؤن سے گرفتار کرلیا۔

    ترجمان رینجرز کے مطابق رینجرز اور پولیس نے انٹیلی جنس معلومات پر اورنگی ٹاؤن میں مشترکہ کارروائی کی اور اے ایس آئی اکرم خان کے قتل میں ملوث ملزم محمدآصف عرف بھایا کو منگھو پیر اجتماع گاہ سے گرفتار کرلیا۔

    رینجرز نے بتایا کہ ملزم محمدآصف 28اگست کو اےایس آئی کے قتل میں ملوث ہے، ملزم کو سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے گرفتار کیا گیا، فوٹیج میں ملزم محمد آصف کو پولیس اہلکار پر فائرنگ کرتے دیکھا گیا۔

    یہ بھی کہا گیا کہ دوران تفتیش ملزم نے اےایس آئی اکرم خان کی ٹارگٹ کلنگ کا اعتراف کرلیا، ملزم اوراس کاساتھی محمدشاہین عرف بہاری کئی بارجیل جاچکے ہیں۔

    اس ضمن میں ترجمان رینجرز کا مزید کہنا تھا کہ دونوں کے خلاف متعدد تھانوں میں مقدمات درج ہیں، ملزم کے ساتھی کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جارہے ہیں، ملزم کو اسلحہ سمیت مزید تفتیش کے لیے پولیس کے حوالے کردیا گیا۔

  • کراچی میں بارش متوقع، سی اے اے نے الرٹ جاری کردیا

    کراچی میں بارش متوقع، سی اے اے نے الرٹ جاری کردیا

    سول ایوی ایشن اتھارٹی کی جانب سے شہر قائد میں شدید بارشوں کی پیشگوئی کے بعد ہائی الرٹ جاری کردیا ہے۔

    سول ایوی ایشن اتھارٹی نے ایئرپورٹ مینجر کی ہدایات پر ہنگامی حالات سے نمٹنے کےلیے منصوبہ بندی کی، ایئرپورٹ مینجر نے ایئرپورٹ کی حدود میں جہازوں کو محفوظ جگہ پارک کرنے کی ہدایت بھی کی۔

    سول ایوی ایشن نے ہدایات جاری کی ہیں کہ طیاروں کے ساتھ وزن باندھا جائے تاکہ ہوا سے دیگر طیاروں سے نہ ٹکرائیں۔

    سی اے اے نے ہدایات کی ہیں کہ ایئرپورٹ رن وے پر محفوظ فضائی آپریشن کےلیے ہنگامی اقدامات کیے جائیں کیوں کہ بارشوں کے ببعد ایئرپورٹ کے اطراف کیڑے مکوڑے آنے سے پرندے آنے کا خدشہ ہوتا ہے۔

    سول ایوی ایشن کی جانب سے ہدایت جاری کی گئی ہے طیاروں کی محفوظ لینڈنگ اور ٹیک آف کےلیے برڈ شوٹرز تعینات کیے جائیں۔

  • عمر شریف کی وہیل چیئر پر تصویر وائرل،مداحوں کی دعائیں

    عمر شریف کی وہیل چیئر پر تصویر وائرل،مداحوں کی دعائیں

    پاکستان کے لیجنڈ اداکار اور کامیڈین عمر شریف کی اسپتال سے وہیل چیئر پر بیٹھے ہوئے تصویر وائرل ہورہی ہے۔

    گزشتہ روز سوشل میڈیا پر عمر شریف کی دو تصاویر وائرل ہوئیں جن میں سے ایک تصویر میں وہ وہیل چیئر پر بیٹھے ہوئے کافی بیمار نظر آرہے ہیں۔ مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے مطابق یہ تصاویر اسپتال کی ہیں جہاں عمر شریف خرابی صحت کی وجہ سے گئے تھے۔ تاہم انہیں کیا ہوا ہے اس بارے میں فی الحال تفصیلات منظر عام پر نہیں آئی ہیں۔

    سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے مطابق عمر شریف کے گھر والوں نے مداحوں سے ان کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی درخواست کی ہے۔

    لیجنڈ کامیڈین عمر شریف کی یہ تصاویر دیکھتے ہی دیکھتے سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئیں اور لوگوں نے ان کی تصویر پر تبصرہ کرتے ہوئے ان کی صحت کے حوالے سے تشویش کا اظہار کیا اور ان کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کررہے ہیں۔

    عمر شریف کے نام سے مشہور پاکستان کے معروف اداکار، کامیڈین، ہدایت کار، پروڈیوسر اور ٹیلی ویژن شخصیت کا اصل نام محمد عمر ہے۔ عمر شریف کا شمار نہ صرف پاکستان کے بلکہ برصغیر کے نامور کامیڈینز میں ہوتا ہے۔

    ان کا مشہور اسٹیج ڈراما ’’بکرا قسطوں پر‘‘ پاکستان اور بھارت کے ساتھ ساتھ دنیا بھر میں بے حد مقبول ہوا تھا