Baaghi TV

Author: +9251

  • اندازہ نہیں تھا کہ اشرف غنی فرارہوجائےگا،افغان طالبان کی ڈیڈ لائن کا احترام نہ کرتےتوبہت زیادہ نقصان کا خدشہ تھا:بائیڈن

    اندازہ نہیں تھا کہ اشرف غنی فرارہوجائےگا،افغان طالبان کی ڈیڈ لائن کا احترام نہ کرتےتوبہت زیادہ نقصان کا خدشہ تھا:بائیڈن

    واشنگٹن :اندازہ نہیں تھا کہ اشرف غنی فرارہوجائےگا،افغان طالبان کی ڈیڈ لائن کا احترام نہ کرتےتوبہت زیادہ نقصان کا خدشہ تھا:امریکی صدر کا کہنا ہے کہ طالبان کے وعدوں پر نہیں بلکہ ان کے عملی اقدامات پر یقین کریں گے۔

    تفصیلات کے مطابق افغانستان سے امریکی فوج کے انخلاء کے بعد امریکی صدر نے اپنی قوم سے خطاب کیا ہے۔ اپنے خطاب میں جوبائیڈن کی جانب سے کہا گیا کہ 20 سال کے دوران 30 ہزار افغان فوجیوں کو تربیت دی گئی، جب افغانستان سے انخلاء کا فیصلہ کیا تو یقین تھا کہ افغان حکومت معاملات سنبھال لے گی، اندازہ نہیں تھا کہ اشرف غنی فرار ہو جائے گا۔

    امریکی صدر نے کہا کہ امریکہ کی طویل ترین جنگ کا خاتمہ ہوگیا، ہم نے افغانستان سے فوجیوں اور شہریوں کے انخلا کا چیلنج پورا کیا۔ افغانستان سے 90 فیصد امریکیوں کو نکال چکے ہیں، ہمیں یقین ہے کہ 100 سے 200 امریکی اب بھی افغانستان سے نکلنا چاہتے ہیں۔

    جوبائیڈن نے مزید کہا کہ طالبان کے وعدوں پر نہیں بلکہ ان کے عملی اقدامات پر یقین کریں گے۔ امید ہے طالبان اپنے وعدے پورے کریں گے اور جو افراد افغانستان سے جانا چاہیں انہیں روکا نہیں جائے گا۔

    امریکی صدر جوبائیڈن نے کہا ہے کہ امریکا کی طویل ترین افغان جنگ کا خاتمہ ہوگیا، ہم نے داعش کی کمر توڑی دی، انخلا کا فیصلہ میرا اپنا تھا جس کی تمام تر ذمہ داری قبول کرتا ہوں۔

    افغان جنگ کے خاتمے اور اتحادی افواج کے افغانستان سے مکمل انخلا کے بعد امریکی قوم سے خطاب کرتے ہوئے صدر جوبائیڈن کا کہنا تھا کہ روس اور چین چاہتے ہیں امریکا افغانستان میں الجھا رہے، افغانستان سے انخلا کا فیصلہ پہلے سے طے شدہ تھا، یہ فیصلہ میرا تھا کیوں کہ طالبان آرہے تھے اور ہمیں جنگ بڑھانے یا وہاں سے نکل جانے میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا تھا۔

    انہوں نے کہا کہ میرے اس فیصلے کی فوجی اور سول قیادت نے بھرپور تائید کی ہے اور میں اس فیصلے کی تمام تر ذمہ دار قبول کرتا ہوں، افغان جنگ دو دہائیوں تک جاری رہی، جو لوگ تیسری دہائی میں بھی افغان جنگ جاری رکھنا چاہتے ہیں ان کے لیے یہ کہوں گا کہ یہ اب ممکن نہ تھا کیوں کہ اب افغانستان سے ہماری سرزمین پر حملے کا کوئی امکان نہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ میرا اولین فرض ہے کہ امریکا کا دفاع کیا جائے اور اب امریکا کو 11 ستمبر جیسے خطرے کا سامنا نہیں ہے، ہم نے افغانستان میں داعش کی کمر توڑ دی، ہماری ہزاروں افواج اور اربوں ڈالر خرچ ہوئے ہیں، اب دہشت گردی دیگر ممالک تک پھیل رہی ہے ہمیں اس کا مقابلہ بھی کرنا ہوگا۔

    جوبائیڈن نے کہا کہ ہم نے طالبان کو دی گئی 31 اگست کی انخلا کی ڈیڈ لائن پر عمل کیا اگر اس تاریخ کے بعد بھی کابل ایئرپورٹ خالی نہ کرتے تو دو طرفہ تناؤ میں اضافہ ہوتا۔

    انھوں ںے کہا کہ میں نے افغانستان چھوڑنے کے فیصلے پر عمل درآمد کے لیے چھ ہزار فوجی کابل ایئرپورٹ بھیجے جنھوں نے امریکی اور غیر ملکی سفارت کاروں، امریکی شہریوں اور افغان باشندوں کا باحفاظت انخلا کا چیلنج مکمل کیا، میں کامیاب انخلا پر سفارت کاروں اور فوجیوں کا شکر گزار ہوں۔

    امریکی صدر جوبائیڈن نے کہا ہے کہ ہم نے ایک لاکھ افغانوں کو فضائی پروازوں کے ذریعے افغانستان سے نکالا جو تاریخ میں پہلی مرتبہ ممکن ہوا ہے، یہ بہت مشکل اور خطرناک مشن تھا لیکن ہم نے اسے مکمل کیا۔

    انہوں نے کہا کہ ہم 90 فیصد امریکی شہریوں کو افغانستان سے نکال چکے ہیں، مجھے یقین ہے کہ افغانستان میں اب بھی سو سے 200 امریکی شہری موجود ہیں جو افغانستان سے نکلنا چاہتے ہیں ہم ان کی مدد کریں گے۔

    انہوں نے کہا کہ جو امریکا پر حملہ کرنا چاہتے ہیں اور ان کے اتحادیوں کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں وہ سن لیں کہ ہم آرام سے نہیں بیٹھے ہوئے، ہم زمین کے آخری کنارے تک ان کا مقابلہ کریں گے، میں اپنے لوگوں سے کہنا چاہتا ہوں کہ اب افغان جنگ ختم ہوچکی ہے اور میں نے اس جنگ کو ختم کرنے کا وعدہ کیا تھا، 20 سالہ طویل جنگ کے بعد میں نے اگلی نسل کو افغان جنگ میں جھونکنے کا انکار کردیا تھا اور اب میں نے اس پر عمل کر دکھایا ہے۔

    طالبان کی حکومت کے معاملے پر انہوں نے کہا کہ ہم طالبان کے الفاظ پر یقین نہیں کریں گے ہم ان کے عمل کو دیکھیں گے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہمیں اندازہ نہیں تھا کہ سابق افغان صدر اشرف غنی ملک سے فرار ہوجائے گا۔

    اس موقع پر انہوں نے افریقہ میں شدت پسند تنظیم الشباب اور دیگر ممالک میں داعش کا بھی ذکر کیا کہ ان سے امریکا کو بچایا جائے گا۔ انہوں نے روسی سائبر حملوں، ایٹمی پھیلاؤ اور چین کے بڑھتے ہوئے اثرورسوخ کو بھی امریکا کے لیے چیلنج قرار دیا جسے انہوں نے اکیسویں صدی کے بدلتے ہوئے چیلنجز قرار دیا۔

    واضح رہے کہ امریکی فوج نے گزشتہ رات افغانستان سے اپنا انخلاء مکمل کر لیا تھا۔ امریکا کی تاریخ کی طویل ترین جنگ کے دوران تقریبا ڈھائی ہزار امریکی فوجی، 2 لاکھ 40 ہزار افغان شہری ہلاک ہوئے اور اس پر 20 کھرب ڈالر لاگت آئی۔ امریکا اور اس کے اتحادی گزشتہ 2 ہفتوں کے دوران ایک وسیع مگر افراتفری والی ایئرلفٹ کے ذریعے کابل سے ایک لاکھ 22 ہزار سے زائد افراد کو نکالنے میں کامیاب رہے۔

  • افغانستان میں تبدیلی کے بعد تمام ائر لائنز نے افغانستان کی فضائی حدود کے روٹس تبدیل کر لئے

    افغانستان میں تبدیلی کے بعد تمام ائر لائنز نے افغانستان کی فضائی حدود کے روٹس تبدیل کر لئے

    کابل :افغانستان میں تبدیلی کے بعد تمام ائر لائنز نے افغانستان کی فضائی حدود کے روٹس تبدیل کر لئے ،اطلاعات کے مطابق دنیا بھرکی ایئر لائنز افغانستان کی فضائی حدود میں پروازوں سے گریز کر رہی ہیں بلکہ اکثرنے تواپنے روٹس ہی تبدیل کرلیے ہیں،

    اس حوالے سے معلوم ہوا ہے کہ کیونکہ افغان طالبان کی طرف سے کہہ دیا گیا تھا کہ کابل کی فضائی حدود فوج کو دیدی گئی ہے اور ایئرلائنز نیا راستہ استعمال کریں۔برٹش ایئرویز ، لفتھانزا ، سنگاپور ایئرلائنز ، ایئر فرانس اور ورجن اٹلانٹک نے اعلان کیا کہ طالبان کے کابل پر قبضے کے بعد اب وہ افغانستان کی فضائی حدود میں آئندہ نوٹس تک پرواز نہیں کریں گی۔

    طالبان کی جانب سے ملک پر قبضہ کرنے کے بعد بین الاقوامی ایئرلائنز افغانستان پر فضائی حدود سے بچنے کے لیے پروازیں دوبارہ روٹ کر رہی ہیں۔

    باغی ٹی وی کے مطابق یوکے کیریئرز برٹش ایئرویز اور ورجن اٹلانٹک دونوں نے کہا ہے کہ وہ یونائیٹڈ ایئرلائن کے ساتھ مل کر اپنی پرواز کے راستے تبدیل کر رہے ہیں۔

    ایئر لائنز اس کے بجائے پاکستان اور ایران کے اوپر پرواز کرنے کا انتخاب کر رہی ہیں۔امریکہ اور بھارت کے درمیان پرواز کا راستہ خاص طور پر اس اقدام سے متاثر ہوا ہے۔

    کمرشل ایئرلائنز گزشتہ چند دنوں سے حامد کرزئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر پرتشدد مناظر کے بعد افغان دارالحکومت کابل کے لیے پروازیں بھی معطل کر رہی ہیں۔

    امارات نے اگلے اطلاع تک افغانستان جانے اور جانے والی تمام پروازیں منسوخ کر دی ہیں۔متحدہ عرب امارات کے پرچم بردار جہاز نے 15 اگست کو دبئی سے کابل جانے والی اپنی باقاعدہ سروس کے بعد ساڑھے پانچ گھنٹے کی پرواز چلائی۔

  • جرمن وزیرخارجہ کی وفد کے ہمراہ وزیراعظم عمران خان سے اہم ملاقات

    جرمن وزیرخارجہ کی وفد کے ہمراہ وزیراعظم عمران خان سے اہم ملاقات

    اسلام آباد: جرمن وزیرخارجہ کی وفد کے ہمراہ وزیراعظم عمران خان سے اہم ملاقات ،اطلاعات کے مطابق جرمن وزیرخارجہ اہم مشن پرپاکستان میں موجود ہیں اورجرمن وزیرخارجہ نے اہم ملاقاتیں کی ہیں ،

    ایسی ہی ایک اہم ملاقات جرمن وزیرخارجہ کی وزیراعظم پاکستان سے ہوئی، اس اہم ملاقات میں وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ مستحکم افغانستان پاکستان اورخطےکیلئےبہت ضروری ہے۔

    وزیراعظم عمران خان سے جرمن وزیر خارجہ نے وفد کے ہمراہ ملاقات کی، ملاقات میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، مشیر قومی سلامتی ڈاکٹر معید یوسف بھی شریک تھے۔ملاقات کے دوران جرمن وزیرخارجہ نے افغانستان سے انخلا کی کوششوں پر پاکستان کے تعاون کو سراہا۔

    ملاقات کے دوران افغانستان سمیت پاکستان اور جرمنی کے تعلقات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیراعظم نے جرمن چانسلر اینجلا مرکل کیساتھ ہونے والی بات چیت کے دہرایا، جس میں دونوں رہنماؤں نے افغانستان کی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا تھا۔

    اس موقع پر وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ پر امن اور مستحکم افغانستان پاکستان اور خطے کیلئے بہت ضروری ہے۔ افغانستان کی تاریخ کے اس اہم لمحے میں عالمی برادری کیلئے افغانوں کے ساتھ تعاون ضروری ہے۔

    ملاقات کے دوران وزیر اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ افغانستان کی سکیورٹی صورتحال کو مستحکم کرنے، انسانی ضروریات کو پورا کرنے اور افغان معاشی استحکام کو یقینی بنانے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔

    انہوں نے کہا کہ افغانستان کے ساتھ مسلسل رابطہ رکھنا بہت ضروری ہے۔عمران خان نے کہا کہ پاکستان اور جرمن کو خطے میں امن اور استحکام کے لیے مل کر کام کرنا چاہیے۔

  • دودھ کی قیمتوں میں اضافہ کے فیصلے نے کراچی والوں کوغمگین کردیا

    دودھ کی قیمتوں میں اضافہ کے فیصلے نے کراچی والوں کوغمگین کردیا

    کراچی : دودھ کی قیمتوں میں اضافہ کے فیصلے نے کراچی والوں کوغمگین کردیا .اطلاعات کے مطابق ڈی سی ایف اے پاکستان کے آفس میں ڈیری فارمرز کا اجلاس کیٹل کالونی سرکل کے صدر گل حسن سیٹھار کی صدارت میں منعقد ہوا

    کراچی سے ذرائع کے مطابق اس اہم اجلاس میں‌ دودھ کی بڑھتی ہوئی کاسٹ آف پروڈکشن جس میں اجناس کی قیمتیں جانوروں کی نسل کشی کے باعث ان کی بڑھنے والی قیمت اور دیگر اخراجات کے بڑھنے کے باوجود کمشنر کراچی کی جانب سے نوٹیفکیشن نہ کئے جانے پر ایک مرتبہ پھر ڈیری فارمرز کی متفقہ رائے کے مطابق دودھ کی قیمتوں میں ازخود اضافے کا فیصلہ ہوا جس پر صدر کیٹل کالونی سرکل گل حسن سیٹھار نے ڈیری فارمرز کی ایکشن کمیٹی تشکیل دی جس
    میں
    1) گل حسن سیٹھار صدر
    (کیٹل کالونی سرکل)
    2) عرفان قریشی (آفریدی کیٹل)
    3) ملک سلیم
    (ایم ایس کیٹل ہائی وے)
    4) ذوالفقار بھٹو
    (بھٹو ڈیریز)
    5) ساجد بیگ
    (بیگ ڈیری فارم)
    6) عمران قریشی
    (چودھری ڈیری فارم)
    7)عبدالحمید گجر
    (عثمان ڈیری)
    کمیٹی تمام اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لے گی اور سب کی رائے کے بعد مورخہ 5 ستمبر کو دودھ کی قیمتوں کا 20 روپیہ فی لیٹر کے اضافے کا اعلان کیا جائے گا

  • اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ میں داخل ہونے والی گاڑی سے غیرقانونی اسلحہ پکڑا گیا

    اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ میں داخل ہونے والی گاڑی سے غیرقانونی اسلحہ پکڑا گیا

    اسلام آباد :انٹرنیشنل ایئرپورٹ میں داخل ہونے والی گاڑی سےبڑی مقدارمیں غیرقانونی اسلحہ پکڑا گیا ،اطلاعات کے مطابق اسلام آاباد کے انٹرنیشنل ایئرپورٹ میں داخل ہونے والی گاڑی سے کلاشنکوف برآمد ہوئی ہے۔

    ایئرپورٹ سیکیورٹی فورس کے ترجمان کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق نیو اسلام آباد انٹرنیشنل ائیر پورٹ پر اے ایس ایف نے کارروائی کی جس میں اسلحہ برآمد کیا گیا۔

    ترجمان کے مطابق اے ایس ایف اہلکار نے ائیر پورٹ کے داخلی دروازے پر چیکنگ کے دوران گاڑی سے اسلحہ برآمد کیا۔اے ایس ایف کے مطابق گاڑی سے 222 گن، ایک میگزین اور 10 گولیاں برآمد کی گئیں ہیں۔

    اے ایس ایف اہلکار کو گاڑی ڈرائیور نے بتایا کہ اسلحہ غیر لائسنس شدہ ہے۔ترجمان کے مطابق اے ایس ایف نے ابتدائی پوچھ گچھ کے بعد مزید قانونی کارروائی کے لیے ملزم ضمیر خان کو پولیس کے حوالے کردیا۔

    یاد رہے کہ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب اسی ایئرپورٹ پر40 سے زائد افغانستان سے فرارہونے والے امریکی اورنیٹو افواج کے فوجی چپھے ہوئے ہیں ،

  • اسلام آباد: قومی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی کورونا کی وجہ سےطبیعت انتہائی ناساز،قوم سے دعاوں‌ کی اپیل

    اسلام آباد: قومی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی کورونا کی وجہ سےطبیعت انتہائی ناساز،قوم سے دعاوں‌ کی اپیل

    اسلام آباد: قومی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو طبیعت ناساز ہونے پر اسپتال منتقل کردیا گیا۔اطلاعات کے مطابق قومی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو کورونا ٹیسٹ مثبت آنے پر 26 اگست کو کے آر ایل اسپتال منتقل کیا گیا۔

    ترجمان کے مطابق طبعیت میں بہتری نہ آنے پر ان کو ملٹری اسپتال میں کووڈ وارڈ میں منتقل کر دیا گیا ہے۔قومی ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبد القدیر خان کی طبیعت بگڑ گئی ۔ دوسری طرف ان کی جلد صحت یابی کے لیے دعاوں کی درخواست بھی کی گئی ہے

  • غربت کا خاتمہ،امن اورمعیشت کی بحالی ہماری ترجیحات ہوں  گی :سہیل شاہین

    غربت کا خاتمہ،امن اورمعیشت کی بحالی ہماری ترجیحات ہوں گی :سہیل شاہین

    اسلام آباد:غربت کا خاتمہ، امن اورمعیشت کی بہتری ہے، اگر داعش نے کوئی حملہ کیا تو اسلامی حکومت پر حملہ تصور ہوگا،اطلاعات کے مطابق ترجمان افغان طالبان سہیل شاہین نے کہا ہے کہ ہمارا چیلنج داعش نہیں، غربت کا خاتمہ، امن اورمعیشت کی بہتری ہے، اگر داعش نے کوئی حملہ کیا تو اسلامی حکومت پر حملہ تصور ہوگا، افغانستان آزاد ہوگیا اورایک اسلامی نظام کیخلاف جہاد جائز نہیں۔

    انہوں نے پاکستان کے ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اب افغانستان آزاد ہوگیا اورایک اسلامی نظام کےخلاف جہاد جائز نہیں ہے، داعش ہمارے لیے چیلنج نہیں، غربت کا خاتمہ، معیشت کی بہتری اور قیام امن ہمارے لیے چیلنجز ہیں، اگر داعش نے کوئی حملہ کیا تو وہ اسلامی حکومت کےخلاف اقدام تصور ہوگا،

    افغانستان میں غیرملکی فوجیوں کے انخلا سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ دوحہ معاہدے اس لیے کیا کہ غیرملکی قبضہ ختم ہو، غیرملکیوں کو نکالنے کیلئے ہم نے جہاد اورسیاسی راستہ بھی اختیار کیا، دوحہ معاہدے کے تحت غیرملکی افواج نے نکلنے کا فیصلہ کیا،

    حکومت کے قیام کے بعد قومی فوج کی تیاری پر بھرپور توجہ دینگے، دوحہ معاہدہ اس لیے کیا کہ غیرملکی قبضہ ختم ہو، اب کوئی جواز نہیں کہ کوئی اسلامی حکومت کےخلاف بغاوت کریں۔

    ترجمان طالبان نے کہا کہ اگر ہم سپر پاورز کو ہرا سکتے ہیں تو کوئی گروپ بھی ہمارے لیے مسئلہ نہیں، کابل سے جوحکم جاری ہوگا وہ پورے افغانستان پرلاگو ہوگا، پہلے ہم بات چیت سے مسئلہ حل کرنا چاہتے ہیں ورنہ ہم میں ملٹری صلاحیت ہے، حقانی صاحب امارت اسلامی کے ڈپٹی امیر ہیں۔ ترجمان طالبان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ امریکا افغانستان میں بری طرح ناکام ہوا، افغانستان پر بری نظر رکھنے والے امریکی انجام کو دیکھیں۔

    دوسری جانب نیٹوچیف اسٹولٹن برگ نے غیرملکی خبرایجنسی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ افغانستان کو کبھی نہیں بھولیں گے، افغانستان سے متعلق نیٹو اتحادیوں کو سخت سوالات کا سامنا ہے، طالبان افغانستان چھوڑنے والوں کے معاملے میں مداخلت نہ کریں،

    20سال لڑنے کے بعد افغانستان میں طالبان فتح کا جشن منا رہے ہیں، نیٹو نے افغانستان میں رہ کر دہشتگردی کو روکا، دنیا کے کئی ممالک میں ہونے والے دہشتگردی کے حملے روکے گئے، کابل کے رہنما بین الاقوامی برادری سے مل کر اپنے ہوائی اڈے دوبارہ کھولیں،

    طالبان کو افغانستان چھوڑنے والوں کو محفوظ راستہ دینا ہوگا، طالبان ہوائی اڈے چلانے کیلئے قطر اور ترکی سے بات چیت کررہے ہیں۔

  • ڈی پی او محمد فیصل کامران نے ضلع بھر میں پولیس چوکیات کی حوالات ختم کر دیں

    ڈی پی او محمد فیصل کامران نے ضلع بھر میں پولیس چوکیات کی حوالات ختم کر دیں

    بہاولپور:غلام محمد قریشی باغی نیوز رپورٹر کے مطابق ڈی پی او محمد فیصل کامران نے ضلع بھر میں پولیس چوکیات کی حوالات ختم کر دیں۔کسی بھی شخص کو پولیس چوکی پر حراست میں نہیں رکھا جائے گا۔ملزمان کو صرف تھانہ کی حوالات میں مربوط قانونی طریقہ کار کے مطابق بند کیا جائے گا۔

    جہاں پر حوالات کی سی سی ٹی وی کیمروں کے ذریعے مانیٹرنگ کی جاتی ہے۔تمام پولیس چوکیات کی حوالات کے کنڈے اور تالے مستقل طور پر ہٹا دیے گئے۔ڈی پی او کی جانب سے تمام متعقلہ افسران کو عملدرآمد کیلئے سخت احکامات جاری کر دیے گئے۔

  • افغانستان خود کو غیر ملکی فوجی تسلط سے آزاد کرانے میں کامیاب ہوگیا ہے:چین

    افغانستان خود کو غیر ملکی فوجی تسلط سے آزاد کرانے میں کامیاب ہوگیا ہے:چین

    بیجنگ :افغانستان خود کو غیر ملکی فوجی تسلط سے آزاد کرانے میں کامیاب ہوگیا ہے۔چین کا ردعمل آگیا ،اطلاعات کے مطابق امریکی فوج کے انخلا کے بعد افغانستان سے متعلق چین کا بیان سامنے آگیاچین کا کہنا ہے کہ امریکی فوج کا انخلا مکمل ہونے کے بعد افغانستان میں ایک نئے دور کا آغاز ہوگیا ہے۔

    چین نے امریکا کی جلد بازی اور منصوبہ بندی کے بغیر انخلا کو بار ہا تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور طالبان کے افغانستان میں قبضے کے بعد ان سے دوستانہ اور تعاون پر مبنی تعلقات کو گہرا کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔

    چین کا کہنا ہے کہ 20 سال سے جاری جنگ کے بعد امریکی فوجیوں کے انخلا نے اس بات کا اشارہ دیا ہے کہ افغانستان میں ایک نئے دور کا آغاز ہوگیاہے ۔منگل کو چینی وزارت خارجہ کے ترجمان ‘وانگ وین بن’ نے معمول کی پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ افغانستان خود کو غیر ملکی فوجی تسلط سے آزاد کرانے میں کامیاب ہوگیا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ افغان عوام نے قومی امن اور تعمیر نو کیلئے ایک نئی شروعات کی ہے اور افغانستان میں ایک نئے دور کا آغاز ہوگیا ہے۔

    خیال رہے کہ افغانستان میں طالبان کے قبضے کے بعد کابل میں چین کا سفارت خانہ کھلا ہوا ہے جبکہ کئی ماہ قبل چین نے افغانستان میں سکیورٹی کے حالات خراب ہونے کی وجہ سے اپنے شہریوں کو وہاں سے نکالنا شروع کردیا تھا۔ چین نے دیگر ممالک کی طرح ابھی تک طالبان کو افغانستان کے حکمران کے طور پر باضابطہ طور پر تسلیم نہیں کیا ہے۔

    چینی وزارت خارجہ کے ترجمان کا مزید کہنا ’ہمیں اُ مید ہے کہ افغانستان میں ایک ایسی حکومت قائم ہوگی جو جامع، قابل رسائی اور وسیع نمائندگی کی حامل ہوگی اور افغانستان ہر قسم کی دہشت گرد قوتوں کے خلاف سختی سے کریک ڈاؤن کرے گا۔

    خیال رہے کہ طالبان کے ایک اعلیٰ سطح کے وفد نے گزشتہ ماہ چین کے وزیر خارجہ سے تیانجن میں ملاقات کی تھی اور وعدہ کیا تھا کہ افغانستان کو عسکریت پسندوں کے اڈے کے طور پر استعمال نہیں کرنے دیا جائے گا۔

    تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ چین کیلئے کابل میں ایک مستحکم اور معاون حکومت بیرون ملک انفراسٹرکچر کی توسیع کی راہ ہموار کرے گی جبکہ طالبان چین کو سرمایہ کاری اور معاشی مدد کا ایک اہم ذریعہ سمجھ سکتے ہیں۔

    یاد رہے کہ امریکا نے پیر کی رات کو 31 اگست کی ڈیڈلائن مکمل ہونے سے پہلے ہی افغانستان سے اپنا انخلا مکمل کرلیا ہے جس کے بعد سب کو اب افغانستان میں طالبان کی حکومت کے قیام کا انتظار ہے۔

  • جرمن وزیرخارجہ کی وفد کے ہمراہ آرمی چیف سے ملاقات:علاقائی صورت حال پرتبادلہ خیال

    جرمن وزیرخارجہ کی وفد کے ہمراہ آرمی چیف سے ملاقات:علاقائی صورت حال پرتبادلہ خیال

    راولپنڈی :جرمن وزیرخارجہ کی وفد کے ہمراہ آرمی چیف سے ملاقات:علاقائی صورت حال پرتبادلہ خیال ،اطلاعات کے مطابق آج جرمنی کے وفاقی وزیر خارجہ ہائیکو ماس نے جی ایچ کیو میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقات کی۔

    ملاقات کے دوران باہمی دلچسپی کے امور ، علاقائی سلامتی کی مجموعی صورتحال بشمول افغانستان میں تازہ ترین پیش رفت اور مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

     

     

    پاک فوج کے ترجمان ادارے آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف نے کہا کہ پاکستان جرمنی کے ساتھ اپنے تعلقات کو بہت اہمیت دیتا ہے اور باہمی فائدہ مند دوطرفہ تعلقات کو بڑھانے کی خواہش کا اظہار کیا۔

    جرمن مہمان نے خطے میں امن اور استحکام کے لیے پاکستان کی مسلسل کوششوں کا اعتراف کیا اور کابل سے انخلاء کے دوران پاکستان کی جانب سے دی گئی مدد پر آرمی چیف کا شکریہ ادا کیا۔

    یاد رہےکہ اس سے پہلے جرمن وزیرخارجہ پاکستانی وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی اوروزیراعظم عمران خان سے وفد کے ہمراہ ملاقات کرچکے ہیں‌