Baaghi TV

Author: +9251

  • کشمیرہاتھ سےگیا:جیش محمدکےسربراہ نےطالبان قیادت سےملاقات کرکےمددمانگ لی:بھارتی پراپیگنڈہ

    کشمیرہاتھ سےگیا:جیش محمدکےسربراہ نےطالبان قیادت سےملاقات کرکےمددمانگ لی:بھارتی پراپیگنڈہ

    نئی دہلی :کشمیرہاتھ سےگیا:جیش محمدکےسربراہ نےطالبان قیادت سےملاقات کرکےمددمانگ لی:بھارت نے پھرپراپیگنڈہ شروع کردیا ، ادھراطلاعات کے مطابق پاکستان کے خلاف پراپیگنڈہ کرتے ہوئے بھارتی میڈیا نے جھوٹ پرجھوٹ بول کراپنے ماضی کا قصہ دہرا دیا ،

    بھارتی میڈیا نے الزام تراشی کرتے ہوئے کہا ہےکہ پاکستان میں قائم دہشت گرد تنظیم جیش محمد کے سربراہ مسعود اظہر نے ملا عبدالغنی برادر سمیت طالبان رہنماؤں سے وادی کشمیر میں کارروائیوں کے لیے "مدد” حاصل کرنے کے لیے ملاقات کی۔

    پاکستان کے خلاف پراپیگنڈہ کرنے میں ہمیشہ سرفہرست بھارتی چینل انڈیا ٹوڈے نے الزام لگایا ہے کہ پاکستان میں قائم دہشت گرد تنظیم جیش محمد کے سربراہ مولانا مسعود اظہر اگست کے تیسرے ہفتے میں قندھار میں تھے جب طالبان نے جموں و کشمیر میں دہشت گردی کو ہوا دینے کے لیے ان کا تعاون حاصل کرنے کے لیے افغانستان کا کنٹرول سنبھال لیا۔

    مسعود اظہر نے پولیٹیکل کمیشن کے سربراہ ملا عبدالغنی برادر سمیت طالبان رہنماؤں سے ملاقات کی۔ مسعود اظہر نے وادی کشمیر میں جیش محمد کی کارروائیوں کے لیے طالبان سے مدد مانگی۔

    اس سے قبل مسعود اظہر نے 15 اگست کو کابل پر قبضہ کرنے کے بعد طالبان کی "فتح” پر خوشی کا اظہار کیا تھا اور انہوں نے "امریکی حمایت یافتہ افغانستان حکومت” کے خاتمے کے لیے دہشت گرد گروپ کی تعریف کی تھی۔ 16 اگست کو اپنے منزل مقصود کے عنوان سے (منزل کی طرف) ، جیش محمد کے سربراہ نے افغانستان میں "مجاہدین کی کامیابی” کو سراہا۔

    پاکستان میں بہاولپور میں واقع مرکز میں جیش محمد کے کارکنوں کے درمیان ایک پیغام بھی جاری کیا جا رہا ہے جو ایک دوسرے کو طالبان کی فتح پر مبارکباد دے رہے ہیں۔

    بھارتی میڈیا نے پراپیگنڈہ کرتے ہوئے کہا کہ دیوبندی مکتب سنی اسلام کی پیروی کرتے ہوئے طالبان اور جیش محمد کو شریعت ، اسلامی قانون کی تشریح کرنے میں نظریاتی ساتھی سمجھا جاتا ہے۔ جیش محمد جموں و کشمیر میں دہشت گردی کی سرگرمیوں کو انجام دینے کے لیے سرگرم ہے کیونکہ مسعود اظہر نے 1999 میں اس کی رہائی کے بعد سے اس کی بنیاد رکھی تھی۔

    بھارتی میڈیا نے حسب روایت پرانے الزامات کوپھرسے حقیقت کا رنگ دینے کی کوشش کی ہے اورکہا ہےکہ مسعود اظہر کو انڈین ایئرلائن کی پرواز آئی سی 814 میں مسافروں کی حفاظت کے بدلے بھارتی جیل سے رہا کیا گیا جسے پاکستانی دہشت گردوں نے ہائی جیک کر لیا تھا۔ پرواز کو کھٹمنڈو سے لکھنؤ جاتے ہوئے ہائی جیک کر لیا گیا تھا۔

    اس پرواز کو پھر افغانستان کے قندھار لے جایا گیا ، جہاں اس وقت طالبان کی حکومت تھی۔ ہائی جیک ہونے والا طیارہ قندھار میں اترنے کے فورا بعد ، طالبان نے ایئربس کے گرد ایک دائرہ بنایا تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ جب تک مسعود اظہر سمیت دہشت گردوں کو بھارتی حکومت کی طرف سے رہا نہیں کیا جاتا وہ حالات کو کنٹرول میں رکھیں۔

    یہ قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں کہ طالبان کی افغانستان میں امور کی سربراہی میں واپسی جموں و کشمیر میں دہشت گردانہ سرگرمیوں کو جیش محمد کے ساتھ ان کے ماضی کے تعلق کی وجہ سے دھکیل سکتی ہے۔ تاہم ، طالبان نے حال ہی میں کہا تھا کہ وہ افغان سرزمین کو کسی بھی ملک کے خلاف دہشت گردی کی سرگرمیوں کے لیے استعمال نہیں ہونے دیں گے۔

  • افغان لڑکیاں‌ اسلام چھوڑ کر ہندو مذہب اختیار کر لیں اور ہندو لڑکوں سے شادی کرلیں:ڈاکٹرفوزیہ  رؤوف

    افغان لڑکیاں‌ اسلام چھوڑ کر ہندو مذہب اختیار کر لیں اور ہندو لڑکوں سے شادی کرلیں:ڈاکٹرفوزیہ رؤوف

    نئی دہلی: افغان لڑکیاں‌ اسلام چھوڑ کر ہندو مذہب اختیار کر لیں اور ہندو لڑکوں سے شادی کرلیں:ڈاکٹرفوزیہ رؤوف نے افغان مسلمان لڑکیوں کومرتد بنانےکیے سرعام پراپیگنڈہ کردیا ہے

    اطلاعات کے مطابق اس وقت بھارت میں ایک طوفان بدتمیزی بپا ہوا ہے، اوراس طوفان بدتمیزی کا شکارمسلمان ہی ہیں ، ذرائع کےمطابق اس وقت بھارتی میڈیا پر ایک ایسا انٹریووائرل کیا گیا ہے کہ جس نے ہرطرف ایک پریشان کن صورت حال پیدا کردی ہے

     

     

    https://twitter.com/No1Mariya/status/1431301078465892355

    پی ٹی ایم کی افغان ایکٹیویسٹ ڈاکٹر فوزیہ رؤوف بھارتی چینل پر کہہ رہی ہے کہ میں نے افغان لڑکیوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اسلام چھوڑ کر ہندو مذہب اختیار کر لیں اور ہندو لڑکوں سے شادی کر کے بھارت میں سیٹل ہو جائیں۔ بھارت اُنہیں نیشنیلٹی دے گا۔

    دوسری طرف بھارت میں رہنے والے مسلمان اورافغان مسلمانوں نے پی ٹی ایم کی ایکٹویسٹ ڈاکٹرفوزیہ رووف کے بیان کی سخت مذمت کی ہے اورکہا ہےکہ وہ مرتد ہوچکی ہیں اوراب دوسری سادہ لوح مسلمان خواتین کو مرتد کرنا چاہتی ہیں ، جس کی شدید مذمت کی جاتی ہے

  • ہم بحیثیت مجموعی بد عہدی کرکے معاشرے میں فساد کا سبب بن رہے ہیں۔امیر عبدالقدیر اعوان

    ہم بحیثیت مجموعی بد عہدی کرکے معاشرے میں فساد کا سبب بن رہے ہیں۔امیر عبدالقدیر اعوان

    لاہور:بعثت عالی ہو یا خانوادہ رسول ﷺ کی شہادت ہو یا حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قربانی ہو ہمارا ہر دن ہر ماہ ان قربانیوں سے مزین ہے اس لیے کسی واقعہ کو ایام اور ماہ وسال کے منسلک کر کے منانے کے بجائے ہر لمحہ ان کو یاد کیا جائے اور ان سے حاصل کیا گیا سبق اپنے کردار کا حصہ بنایا جائے۔سب سے پہلے بحیثیت مسلمان اس کے بعد بحیثیت قوم اپنے اس وطن عزیزکی تعمیر و ترقی میں ہمیں اپنے کردار کو دیکھنا ہوگا۔

    انھوں نے کہا کہ یاد رکھیں کہ سب سے بڑی تبلیغ ہمارے نزدیک ایام نہیں ہیں، ماہ و سال نہیں ہیں۔ سب سے بڑی جو تبلغ ہے وہ ہمارا کردار ہے۔آپ ساری زندگی تبلیغ پر صرف کردیں لیکن آپ کے کردار میں جو جھوٹ ہو گا اس سے معاشرے میں خرابی پیدا ہوگی۔آپ کہیں ایک قدم نہ اٹھائیں مگر آپ کے کلام میں سچ ہو تو وہ سچ جھوٹ پر غالب آجائے گا۔ہمیں اپنے کرداراور گفتار میں سچ کے ساتھ معاشرے میں تبلیغ کرنی ہوگی۔ہماری گفتار حق اور سچ ہو،ہمارا کردار صالح ہو۔ اس کے لیے ہمیں ان کیفیات قلبی کو حاصل کرنا ہو گا جو سینہ اطہر ﷺ سے آرہی ہیں جو ہمارے اندر وہ تبدیلی لائیں گی جو انفرادی طور پر اور بحیثیت مجموعی مقصود ہے سالکین اپنے لطائف پر محنت کریں مراقبات پر وقت دیا کریں ہمارے مشائخ کرام نے ساری زندگی اس کے حصول اور آگے منتقل کرنے میں گزار دی۔

    انھوں نے مزید کہا کہ ہم اپنی انا کو ختم کرکے عاجزی اختیار کرتے ہوئے اپنی تخلیق اور آخرت کو سامنے رکھیں پھر یہ احساس ہوگا کہ میں کیا ہوں اور میر ا مقام کیا ہے۔ دین اسلام دنیا کو چھوڑنے کا حکم نہیں دیتا بلکہ دنیا کے کام دین کے دائرے میں رہتے ہوئے کرنا عین اسلام ہے دنیا کو چھوڑنے کی ضرورت نہیں ہے۔ دنیا اور زندگی کی مثال کشتی اور پانی کی ہے کشتی جب تک تیرتی ہے کنارے پر پہنچ جاتی ہے مگرجیسے ہی اس میں پانی آجاتاہے تو کشتی ہچکولے کھانا شروع ہوجاتی اور اس کا پانی کے اوپر تیرنا مشکل ہوجا تا ہے۔ اسلام ایثار کا درس دیتا ہے،اسی جہان فانی میں زندگی بسر کرو گے تو کسی کا حق ادا ہو گا،کسی کی مدد ہوگی،ہمیں دنیا میں ایک باعمل مسلمان جو کہ اتباع رسالت ﷺ سے مزین ہو اور اس کا اٹھایاگیا ہر قدم معاشرے میں بہتری کا سبب بنے۔

     

     

     

     

    یاد رہے کہ آج جامع مسجد اویسیہ لاہور میں جمعہ کا خطاب ہوا یہ سوسائٹی1978ء میں حضرت مولانا اللہ یار خان ؒ کے زیر سایہ معرض وجود میں آئی۔گیارہ ستمبر1987ء میں حضرت مولانا امیر محمد اکرم اعوانؒ نے اویسیہ سوسائٹی کا سنگ ِ بنیاد رکھا۔1987ء میں قرعہ اندازی کے ذریعے سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ کے بیعت شدہ ساتھیوں کو پلاٹ الاٹ کیے گئے۔ حضرت امیر محمد اکرم اعوان ؒ کے زیرسایہ 1990ء میں صقارہ کالج کی تعمیر مکمل ہوئی۔

    حضرت امیر محمد اکرم اعوان ؒ کا نظریہ تھا کہ ہم ایک ایسا تعلیمی نظام رائج کریں جس میں بچے جدید طرزپر تعلیم حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ دین کا بھی مکمل علم حاصل کریں ان کےنظریے کےمطابق ہمارے تعلیمی نظام میں یہ دونوں علوم یکجا ہونے چاہئیں تاکہ ہمارے بچے جب تعلیم سے فارغ ہو ں تو وہ انجیئیرز،ڈاکٹرز، سائنسدان اور بزنس میں ہونے کے ساتھ ساتھ دین اسلام کا بھی مکمل علم رکھتے ہوں۔اس نظریے کے ساتھ ہمارا کردار قرآن وسنت میں ڈھل جاتا ہے۔اس کے ساتھ ساتھ اویسیہ سوسائٹی میں علاقے کی فلاح و بہبود کے لیے مولانا اللہ یار ؒ خان ٹرسٹ قائم کیا جہاں آج بھی ہر مہینے کی آخری اتوار کو فری میڈیکل کیمپ لگتا ہے جس سے ہزاروں لوگوں کا فری چیک اپ ہونے کے ساتھ فری ادویات بھی فراہم کی جاتی ہیں۔

    سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و تنظیم الاخوان لاہور ڈویژن کے تمام اضلاع سے نمائندگان نے بھرپور شرکت کی۔شرکت کرنے والوں میں مرکزی سیکرٹری نشرواشاعت امجد محمود اعوان، رحمت اللہ ملک انچارج ڈیجیٹل میڈیا، مخدوم الطاف احمد صاحب مجاز سلسلہ عالیہ لاہور، تاج محمود چشتی صدر تنظیم الاخوان لاہورڈویژن، عامر ندیم جنرل سیکرٹری لاہور ڈویژن، محمد اکرم سیکرٹری نشرواشاعت لاہور، راشد عبدالقیوم صدر تنظیم الاخوان لاہور،عبدالرحمن جج جنرل سیکرٹری لاہور، عبدالمالک منصوری سیکرٹری نشرواشاعت لاہورکے علاوہ علاقے کی سماجی و سیاسی شخصیات نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔

  • پاکستان کا افغانستان میں کوئی فریق پسندیدہ نہیں،آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ

    پاکستان کا افغانستان میں کوئی فریق پسندیدہ نہیں،آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ

    راولپنڈی:پاک فوج کے سربراہ جنرل قمرجاوید باجوہ سےامریکی ناظم الامورکی اہم ملاقات ،اطلاعات کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے امریکی ناظم الاامور انجیلا ایکلر نے ملاقات کی ہے ، اس اہم ملاقات میں افغان صورتحال اور علاقائی سکیورٹی پر بات چیت کی گئی،

    پاک فوج کے ترجمان ادارے آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ پاکستان کا افغانستان میں کوئی فیورٹ نہیں، ہمارا واحد مقصد امن کیلئے مدد کرنا ہے،آرمی چیف نے دہشتگردی اور انتہاپسندی کیخلاف مشترکہ لڑنے کے عزم کا اعادہ بھی کیا۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ سے امریکی ناظم الاامور انجیلا ایکلر نے ملاقات کی، ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور اور علاقائی سکیورٹی صورتحال پر بات چیت کی گئی۔ ملاقات میں افغانستا ن کی حالیہ صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا ۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق ملاقات میں آرمی چیف نے کہاکہ پاکستان کا افغانستان میں کوئی فریق پسندیدہ نہیں، افغانستان میں پائیدار امن استحکام اور ترقی بنیادی مقصد ہیں۔ پاکستان دہشتگردی اور انتہا پسندی کے مکمل خاتمے کے لیے پُرعزم ہے۔

    جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ افغانستان میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر گہرا رنج ہوا۔ امریکی ناظم الامور نے خطے میں امن واستحکام کے لیے پاکستان کی کوششوں کو سراہا اور کابل سے انخلا میں تعاون پر آرمی چیف کا شکریہ ادا کیا۔

    امریکی ناظم الاامور انجیلا ایکلر نے علاقائی امن اور استحکام کے فروغ میں پاکستان کی کوششوں کی تعریف کی۔

  • ہمارا وزیراعظم عمران خان جھوٹا ہے، بلاول بھٹو

    ہمارا وزیراعظم عمران خان جھوٹا ہے، بلاول بھٹو

    ٹھٹھہ :ہمارا وزیراعظم عمران خان جھوٹا ہے، اطلاعات کے مطابق چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ عمران خان کہتا ہے کہ وہ تبدیلی اور ترقی لے کر آیا ہے۔ اپنے 3 سال کے دورمیں عوام کو نا تو ایک گھر دیا اور نا ہی کسی کو روزگار۔ عمران خان ایک جھوٹا وزیراعظم ہے۔

     

     

    https://twitter.com/MediaCellPPP/status/1431218480330772482

     

    “عمران خان کہتا ہے کہ وہ تبدیلی اور ترقی لے کر آیا ہے۔ اپنے 3 سال کے دورمیں ٹھٹھہ کی عوام کو نا تو ایک گھر دیا اور نا ہی کسی کو روزگار۔

    رپورٹ کے مطابق ٹھٹہ میں عوام سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو نے کہا ہے عمران خان تبدیلی لاسکے ہیں نہ انقلاب ساری حکومت جھوٹ پر کھڑی ہے۔

     

     

    یاد رہےکہ آج جب پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری مکلی بائی پاس پہنچے تو ان کا فقید المثال استقبال کیا گیا۔ علاقہ جئے بھٹو کے نعروں سے گونج اٹھا، خواتین اور بچوں سمیت ہزاروں افراد اس اجتماع میں موجود تھے

    قبل ازیں چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا دھابیجی اور گھارو آمد پر بھی ہزاروں افراد نے فقید المثال استقبال کیا ۔ دھابیجی سے ٹھٹہ تک ہائی وے کے دونوں اطراف جگہ جگہ استقبالی کیمپ لگائے گئے۔ بلاول بھٹو پر پھولوں کی پتیاں نچھاورکی گئیں اور زبردست نعرے بازی کی گئی ۔

  • تمباکو نوشی کا بڑھتا رجحان  تحریر: حمزہ بن شکیل

    تمباکو نوشی کا بڑھتا رجحان تحریر: حمزہ بن شکیل

    عالمی ادارہ صحت کی ایک رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں تمباکو نوشی کا استعمال کرنے والے افراد کی مجموعی تعداد ایک ارب سے زائد ہو چکی ہے یعنی ہر پانچواں فرد اس بری لت میں مبتلا ہے۔ اس کے علاوہ دنیا بھر میں سالانہ ساٹھ لاکھ افراد تمباکو نوشی سے ہونے والی بیماریوں میں مبتلا ہوکر زندگی کی بازی ہار جاتے ہیں۔

    افسوس کے ساتھ دن بدن تمباکو نوشی کرنے والے افراد کی تعداد میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور اس پر قابو پانے کے لئے کوئی حکومتی حکمت عملی نظر نہیں آرہی۔

    نشہ ایک ایسی لعنت ہے جو ہمارے پورے معاشرے کو دیمک کی طرح چاٹ رہا ہے۔ حضرتِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ہر نشہ آور چیز کو حرام قرار دیا ہے اور اس کے استعمال سے منع فرمایا ہے۔

    تمباکو نوشی سے صحت پر بہت برا اثر پڑتا ہے۔ تمباکو نوشی کرنے والے اکثر افراد گلے اور منہ کے سرطان سمیت سانس کی جان لیوا بیماریوں میں مبتلا ہو کر جان کی بازی ہار جاتے ہیں۔

    عالمی ادارہ صحت (WHO) کے مطابق تمباکو نوشی دنیا بھر میں موت کا سبب بننے والی آٹھ اہم وجوہات میں سے چھ میں سب سے زیادہ خطرے کی وجہ سمجھی جاتی ہے اور اگر مستقبل میں بھی یہی رجحان جاری رہا، تو 2030ء میں تمباکو نوشی سے منسلک وجوہات کی بنا پر مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر کم از کم 80 لاکھ تک پہنچ جائے گی۔

    ہمیں اس بگڑتی صورت حال پر قابو پانے کے لئے میڈیا کے ذریعے عوام الناس اور نوجوان نسل میں آگاہی مہم، خود اعتمادی کے لئے کونسلنگ سیشن اور دیگر اقدامات اٹھانے پڑیں گے تا کے اس لعنت سے خود کو اور اپنے پیاروں کو دور رکھ سکیں۔ اس کے لئے جہاں حکومتی لیول پر کام کرنے کی ضرورت ہے وہیں ہمیں خود بھی انفرادی اور اجتمائی طور پر ایسے قدم اٹھانے ہوں گے جس سے ہمارا معاشرہ محفوظ اور صحت مند رہ سکے۔

  • مراد علی شاہ نے کورنگی فیکٹری میں آگ لگنے کا نوٹس لے لیا

    مراد علی شاہ نے کورنگی فیکٹری میں آگ لگنے کا نوٹس لے لیا

    وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے کورنگی مہران ٹاؤن میں کیمیکل فیکٹری میں آتشزدگی کا نوٹس لے لیا۔سید مراد علی شاہ نے واقعے پر گہرے دکھ کا اظہار کیا اور کمشنر کراچی اور لیبر ڈپارٹمنٹ سے رپورٹ طلب کرلی۔
    وزیراعلی نے کمشنر کراچی اور لیبر ڈپارٹمنٹ سے پوچھا کہ واقعہ کیسے پیش آیا اور حفاظتی تدابیر کیا تھیں، اتنا زیادہ جانی نقصان کیسے ہوا مراد علی شاہ نے جاں بحق مزدوروں کے خاندان کی بھرپور مدد کرنے اور زخمیوں کا علاج کرانے کی ہدایت دے دی۔

    واضح رہے کہ کراچی کے علاقے کورنگی مہران ٹان میں کیمیکل فیکٹری میں آگ لگنے سے 15 مزدور موقع پر ہی جھلس کر جاں بحق ہوگئے۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ فیکٹری عملہ کے مطابق اندر پچیس کے قریب لوگ موجود تھے۔ریسکیو ذرائع کا کہنا ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد بیس سے زائد ہونے کا امکان ہے۔ آگ سے اندر کسی کے زندہ بچ جانے کے امکانات انتہائی معدوم ہیں، کوئی معجزہ ہی شاید کسی کو بچا سکے گا۔

  • حیاء کا کلچر عام کرو تحریر: سحر عارف

    حیاء کا کلچر عام کرو تحریر: سحر عارف

    شرم و حیاء کو اسلام میں خصوصی اہمیت حاصل ہے۔ آج کچھ لوگوں نے حیاء لفظ کے معنی ہی بدل دیے ہیں اور اس لفظ کو عورت کی ذات تک محدود کردیا ہے۔ جبکہ حقیقت کچھ یوں ہے کہ حیاء کا تعلق صرف عورتوں سے ہی نہیں بلکہ مردوں سے بھی ہے۔ آج کے دور کے مردوں نے اس لفظ سے ناواقفیت اختیار کر لی یے۔ کچھ بھی ہو جائے کہیں کوئی عورت جنسی زیادتی کا نشانہ بنے یا اسے حراساں کیا جائے تو بہت سے مونہوں سے ایک بات نکلتی ہے کہ عورت پردہ کرے۔

    جب عورت پردہ نہیں کرے گی اور گندے سے گندہ لباس پہنے گی تو مرد کی نظریں تو خود ہی اٹھیں گی۔ جیسے حیاء دار ہونا صرف عورت کے لیے ضروری ہے مرد کا تو اس لفظ سے دور دور تک کوئی تعلق ہی نہیں ہے۔ ایسے ذہن کے مالک مردوں کے لیے میں بتاتی چلوں کہ ہمارے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم خود بہت شرم و حیاء والے تھے اور وہ ہمیشہ دوسروں کو بھی اس کا درس دیتے تھے۔

    اس میں کوئی شک نہیں کے اسلام میں عورتوں کو حکم ہے کہ وہ پردہ کریں اپنے چہرے اور جسم کو نامحرموں سے چھپائے تاکہ کوئی اس پر بری نگاہ نا ڈال سکے۔ اسی طرح مردوں کے لیے بھی حکم ہے کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھتے ہوئے ان کی حفاظت کرے تاکہ کسی عورت کے لیے تکلیف کا باعث نا بن سکے۔ قرآن پاک میں ارشاد ہوا ہے کہ:
    "مسلمان مردوں کو حکم دو کہ اپنی نگاہیں کچھ نیچی رکھیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کری، یہ ان کے لیے زیادہ پاکیزہ ہے بے شک اللّٰہ ان کے کاموں سے خبردار ہے” (النور: 30)

    اس آیت سے واضح ہوتا ہے کہ کس طرح مردوں کے لیے بھی شرم و حیاء کے احکامات موجود ہیں۔ پر افسوس آج کے دور میں بےحیائی عام سے عام ہوتی چلی جارہی ہے۔ عورت مرد سے بڑھ کر جبکہ مرد عورت سے بڑھ کر بےحیائی کا دلدادہ ہوتے ہوئے تمام حدیں پار کررہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ شرم و حیاء کا جو درس قرآن وحدیث میں دیا گیا ہے کیا آج ہم اس پر عمل کررہے ہیں؟ تو جواب ہے نہیں۔

    کیونکہ اسلام میں مردوں اور عورتوں کو یہاں تک حکم دیا گیا ہے کہ عورت نامحرم مردوں اور مرد نامحرم عورتوں کو ایک نگاہ تک نا ڈالیں اور اگر پہلی نگاہ غلطی سے اٹھ بھی جائے تو معافی ہے پر دوسری بار نگاہ ڈالنے سے منع کیا گیا یے۔ حضرت جریر بن عبداللّٰہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضور اکرم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ اگر اچانک سے کسی نامحرم عورت پر نظر پڑھائے تو کیا حکم ہے۔ آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنی نظر پھیرلو، اگر اچانک نظر پڑھ جائے تو معافی ہے لیکن اگر جان بوجھ کر نگاہ اٹھائی تو گناہ ہے۔

    اسی طرح کا ایک واقعہ جو خواتین کو ان کی نگاہوں کی حفاظت کا درس دیتا ہے۔ حدیث پاک میں آتا ہے کہ ” حضرت ام سلمہ فرماتی ہیں کہ میں رسول اکرم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے پاس تھی اور آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے پاس حضرت میمونہ بھی تھیں تو سامنے سے حضرت عبداللّٰہ بن ام مکتوم (جو نابینا تھے) تشریف لائے یہ واقعہ پردے کے حکم سے بعد کا ہے۔ آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا تم دونوں پردہ کرو، میں نے عرض کیا یا رسول کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کیا یہ نابینا نہیں؟ رسول پاک نے فرمایا کہ کیا تم دونوں بھی اندھی ہو انہیں نہیں دیکھتی ہو” (امن ابو داؤد، جلد نمبر سوم، حدیث نمبر 720)

    اب مرد و عورت کے لیے شرم و حیاء کو اپناتے ہوئے اپنی نگاہوں اور اپنی ذات کی خود حفاظت کرنا کس قدر ضروری ہے اس میں کوئی دو رائے ہے ہی نہیں۔ ہم جس ملک میں رہتے ہیں اسے اسلام کی بنیاد پر حاصل کیا گیا لیکن کیا آج ہم لوگ یہاں اسلام کے مطابق زندگیاں گزار رہے ہیں؟ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمیں ہمارے ملک سے بےحیائی کا خاتمہ کرنا ہوگا اور یہ صرف ایک دو چار لوگوں سے ممکن نہیں اب سب کو مل کر اس بےشرمی اور بے حیائی کلچر کے خلاف اپنے حصے کی شمع جلانی ہوگی۔

    @SeharSulehri

  • رضا کار میتیں‌ لے جانے کے لیے آپس میں‌ الجھ پڑے

    رضا کار میتیں‌ لے جانے کے لیے آپس میں‌ الجھ پڑے

    صوبہ سندھ کے دارالحکومت کراچی میں کیمیکل فیکٹری میں آتشزدگی کے واقعے کے دوران رضا کار میتیں‌ لے جانے کے لیے آپس میں‌ الجھ پڑے۔ تفصیلات کے مطابق شہر قائد میں کورنگی کے علاقہ مہران ٹاؤن کی کیمیکل فیکٹری میں‌ آتشزدگی میں‌ 16 افراد جاں بحق ہوگئے تاہم اس دوران ایک اور افسوس ناک واقعہ یہ بھی دیکھنے میں آیا ، جہاں ایدھی اور چھیپا کے رضاکار میتیں‌ لے جانے کے لیے آپس میں‌ الجھ پڑے۔
    ذرائع کے مطابق فیکٹری کے ہولناک واقعے کے بعد ریسکیو آپریشن کے دوران ریسکیو ٹیم نے فیکٹری سے ایک لاش نکال کر نیچے اتاری ہی تھی کہ ایدھی اور چھیپا کے رضا کار اسے لے جانے کے لیے آپس میں لڑنے لگے .
    رضاکار جھلس کر جاں بحق ہونے والے ایک مزدور کی میت کے لیے کھینچا تانی کر رہے ہیں ، اس کھینچا تانی کی وجہ سے لاش بھی نیچے گر گئی لیکن میتوں کی بے حرمتی کے باوجود ایدھی اور چھیپا کے رضاکار آپس میں لڑتے رہے۔
    دوسری جانب کورنگی کے علاقہ مہران ٹاؤن میں کیمیکل فیکٹری میں آگ لگنے سے ایک خاندان پر قیامت ٹوٹ پڑی ، فیکٹری میں آتشزدگی کے واقعے میں جاں بحق ہونے والے افراد میں 2 سگے بھائیوں سمیت ایک ہی خاندان کے 5 افراد شامل ہیں ، علاوہ ازیں مہران ٹاؤن میں کیمیکل فیکٹری میں آتشزدگی کے حوالے سے اہم انکشافات سامنے آگئے ، ریسکیو ذرائع نے بتایا کہ فیکٹری سے باہر نکلنے کا ایک ہی راستہ تھا جب کہ چھت کی طرف جانے والے دروازوں پر بھی تالے لگے ہوئے تھے ، اسی حوالے سے علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ فیکٹری میں صبح 10 بجے آگ لگی لیکن فائر بریگیڈ کی گاڑیاں تاخیر سے پہنچیں جب تک آگ پھیل چکی تھی۔
    خیال رہے کہ کراچی مہران ٹاؤن میں واقع کیمیکل فیکٹری میں آگ لگ گئی جہاں اب تک فیکٹری سے 13 مزدوروں کی لاشیں نکالی جا چکی ہیں ، فیکٹری سے مزدوروں کی جھلسی ہوئی لاشیں ملی ہیں ، جن میں سے پانچوں مزدوروں کی لاشیں فیکٹری کی دوسری منزل سے نکالی گئیں ، جب کہ آتشزدگی کے باعث 5 افراد زخمی بھی ہوئے ، پولیس کے مطابق فیکٹری میں 20 سے زائد افراد کے موجود ہونے کا خدشہ ہے ، فیکٹری میں متعدد افراد کے پھنسے ہونے کی اطلاعات ہیں۔
    محکمہ فائر بریگیڈ کے مطابق کیمیکل فیکٹری میں لگنے والی آگ تیسرے درجے کی ہے ، آتشزدگی کی اطلاع ملتے ہی فائر بریگیڈ کی گاڑیاں موقع پر پہنچ گئیں جہاں فائر بریگیڈ کی 8 گاڑیاں اور واٹر ٹینکر آگ بھجانے میں مصروف ہیں ، ساڑھے تین گھنٹے گزر نے کے بعد آگ پر قابو پالیا گیا۔

  • نشہ ایک لعنت یا فیشن تحریر : شاہ زیب

    نشہ ایک لعنت یا فیشن تحریر : شاہ زیب

    منشیات انسان کو سکون دینے کے دھوکے میں رکھ کر بربادی تک لے جاتا ہے، نشے کے استعمال سے انسان ذہنی طور پر مفلوج ہو کر رہ جاتا ہے۔ جس سے مختلف نفسیاتی مسائل جنم لیتے ہیں۔۔
    گزرتے وقت کے ساتھ نشے کے استعمال میں نہ صرف دنیا میں بلکہ پاکستان میں بھی بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔ایک اندازے کے مطابق دس ملین افراد اس لعنت کا شکار جن میں زیادہ تعداد نوجوان نسل کی ہے سب سے زیادہ 25 سے 30 سال کے افراد اس کے بعد 15 سے 24 سال تک کے افراد ہیں۔ جن میں ابھی اَسی مرد اور بیس فیصد خواتین کی ہے۔نہایت افسوس کی بات ہے کہ 350 ٹن سے زائد افغان منشیات پاکستان میں سالانہ کے حساب سے استعمال ہو رہی ہے جو کہ ایک بڑی مقدار ہے۔
    پہلے لوگ محبت یا پریشانیوں سے تنگ آکر نشے میں پناہ ڈھونڈتے تھے ان کے خیال میں وہ اس دنیا سے کٹ کر سکون حاصل کرتے تھے لیکن اج حالات بلکل مختلف ہیں آج نشہ ایک فیشن یا سٹیٹس سمبل بن گیا ہے ہائی کلاس کے لوگ اس کو ایڈونچر کے طور پر لینا شروع کرتے ہیں اور پھر اس کے عادی بن جاتے ہیں۔
    ہمارے تعلیمی ادارے بھی اس لعنت سے محفوظ نہیں ہیں نشے کی عادت ہماری نوجوان نسل میں بہت تیزی سے بڑھ رہی ہے مستقبل کے معماروں کو منشیات کے شکنجے میں جکڑ کر ان کو تعلیم سے دور اور پاکستان کو ترقی سے دور کیا جارہا ہے
    طلباء طالبات کو مختلف منشیات جیسے کہ چرس ہیروئن، افیم، شیشہ ، آئس جیسے مہلک نشے میں مبتلا کیا جا رہا ہے
    نشہ کو ایک برائی یا ایک لعنت سمجھنے اور اس سے دور رہنے کی ترغیب دینے کی بجائے اس کو فیشن بنا کر پیش کیا جاتا ہے اور وہ ذہین لوگ جنہوں نے اعلیٰ تعلیم حاصل کر کے ملک کی ترقی میں حصہ لینا ہوتا ہے وہ اس جال میں پھنس جاتے ہیں
    اور پھر نہ صرف اپنی زات اپنا کیرئیر اپنی زندگی تک کو برباد کر لیتے بلکہ مختلف قسم کے جرائم میں ملوث ہو کر اپنے ساتھ جڑے دوسرے لوگوں کو بھی نقصان پہنچاتے ہیں۔
    والدین کو چاہیے کہ اپنے بچوں پر نظر رکھیں ان کی سرگرمیوں پر دھیان دیں حکومت کو منشیات فروشوں کے خلاف سخت کارروائی کرنی چاہیے بلکہ ایک قانون بنائیں کیونکہ اس کی اشد ضرورت ہے نشے میں مبتلا افراد کی مدد کرنا صرف ان کے والدین یا حکومت کی ہی نہیں ہماری بھی زمہ داری ہے ہمیں چاہیے کہ ہمیں اپنے اردگرد رہنے والوں کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آئیں تاکہ ان کو با اختیار بنائیں تاکہ لوگ اس لعنت کی جانب کم سے کم متوجہ ہوں اور جو اس کا عادی ہو اس کو پیار سے سمجھائیں تاکہ وہ اس نشہ سے چھٹکارا پا سکے نہ کہ ان سے نفرت کریں اس طرح وہ مزید اس دلدل میں پھنستا چلا جائے بطور شہری ہم سب کو اس کی روک تھام کے لیے زمہ داری ادا کرنی چاہیے شکریہ

    @shahzeb___