Baaghi TV

Author: +9251

  • گورنر سندھ عمران اسماعیل کا اپنا نیا گانا’مجھے کیوں نکالا‘ ریلیز کرنے کا اعلان، نیا گانا نواز شریف کے نام

    گورنر سندھ عمران اسماعیل کا اپنا نیا گانا’مجھے کیوں نکالا‘ ریلیز کرنے کا اعلان، نیا گانا نواز شریف کے نام

    ’تبدیلی آئی رے‘گانے کے بعد پیش خدمت ہے، ’مجھے کیوں نکالا؟‘ ، حکومت کی 3سالہ کارکردگی کے حوالے سےتقریب سے خطاب میں گورنر سندھ عمران اسماعیل کا اپنا نیا گانا’مجھے کیوں نکالا‘ ریلیز کرنے کا اعلان، نیا گانا نواز شریف کے نام کرنے کا فیصلہ۔ تفصیلات کے مطابق گورنر سندھ عمران اسماعیل نے اعلان کیا ہے کہ وہ ’مجھے کیوں نکالا‘ کے نام سے نیا گانا بنانے جا رہے ہیں۔
    تحریک انصاف حکومت کی تین سالہ کارکردگی پیش کرنے کے حوالے سے خصوصی تقریب کے دوران عمران اسماعیل نے گلوکار شاہ زمان کے ساتھ اپنا مقبول گانا ’تبدیلی آئے رے‘ گایا۔اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس گانے کو چار سال مکمل ہو چکے ہیں اور یہ ایک سپر ہٹ گانا ہے۔
    ان کا کہنا تھا کہ اب میں شاہ زمان کے ساتھ مل کر نئے گانے پر کام کر رہا ہوں جس کا نام ہے مجھے کیوں نکالا۔

    میں یہ گانا نواز شریف کے نام کروں گا۔عمران اسماعیل نے اس موقع پر نئے گانے کی کچھ لائنیں اور دھن گن گنا کر بھی سنائیں جسے سن کر تقریب میں موجود لوگ ہنس پڑے۔خیال رہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے 3 سال مکمل ہوچکے ہیں ، اس حوالے سے وزیراعظم عمران خان آج قوم سے اہم خطاب کریں گے جس میں حکومت کی 3 سالہ کارکردگی قوم کے سامنے رکھیں گے ، وزیراعظم کا خطاب ملک بھرمیں عوامی مقامات پربراہِ راست دکھانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
    وزیراعظم کا خطاب ملک بھر میں دکھانے کے لیے ٹیمیں تشکیل دے دی گئیں ہیں ، انصاف یوتھ ونگ کے نوجوان خطاب عوام کودکھانےکےانتظامات کریں گے ، خطاب نشر کرنے کیلئے لاہور ، کراچی ، پشاور ، کوئٹہ سمیت گلگت ، ملتان اور حیدرآباد میں بڑی اسکرینیں نصب ہوں گی .

  • پی ڈی ایم کو کراچی جلسے کی اجازت مل گئی

    پی ڈی ایم کو کراچی جلسے کی اجازت مل گئی

    پی ڈی ایم کو کراچی میں جلسے کی اجازت مل گئی ہے۔

    ترفصیلات کے مطابق سندھ حکومت نے جلسے کی اجازت دے دی، ڈی سی شرقی کراچی نے جلسے کا اجازت نامہ جاری کردیا ہے۔

    واضح رہے کہ پی ڈی ایم کا جلسہ 29 اگست کو مزار قائد سے متصل باغ جناح میں ہوگا۔

  • محکمہ صحت سندھ کا 9 کلاس تا 12 کلاس تک کے طلبہ کی ویکسینیشن کا فیصلہ

    محکمہ صحت سندھ کا 9 کلاس تا 12 کلاس تک کے طلبہ کی ویکسینیشن کا فیصلہ

    محکمہ صحت سندھ نے 9 کلاس تا 12 کلاس تک کے طلبہ کی ویکسینیشن کا فیصلہ کیا ہے۔

    تفصیلات کے مطابق ڈی جی ہیلتھ سندھ نے ضلعی افسران کو 6 روزہ پلان بنانے کی ہدایت کی ہے۔

    ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ سندھ ڈاکٹر ارشاد میمن نے بتایا ہے کہ محکمہ صحت سندھ کا عملہ تمام نجی و سرکاری اسکول و کالجز میں جا کر طلبہ کی ویکسینیشن کرے گا۔

    واضع رہے کہ محکمہ تعلیم کی جانب سے 30 اگست سے اسکول کھولنے کا کہا گیا ہے۔

  • کراچی پولیس نے افغان شہریوں کا ڈیٹا جمع کرنا شروع کردیا

    کراچی پولیس نے افغان شہریوں کا ڈیٹا جمع کرنا شروع کردیا

    شہر قائد میں پولیس نے پہلے سے مقیم افغان شہریوں کا ڈیٹا جمع کرنا شروع کردیا ، اس سلسلے میں ہنگامی بنیادوں پر ایک فارم کا اجراکیا جارہا ہے۔

    تفصیلات کے مطابق کراچی پولیس نے افغان باشندوں کے ممکنہ طور پر بڑے پیمانے پر انخلا خدشات کے پیشِ نظر افغان شہریوں کا ڈیٹا جمع کرناشروع کردیا اور آبادیوں کا فوری سروے کرانے کی ہدایت کردی ہے۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ پہلے سے مقیم افغان باشندوں کا ڈیٹا فوری جمع کرانے کا حکم دیا ہے ، اس سلسلے میں ہنگامی بنیادوں پر ایک فارم کا اجراکیا جارہا ہے.

    فارم میں افغانیوں کا شمار، خاندان کے افراد کی تعداد، رہائشی تفصیلات ہوں جبکہ قیام کی مدت، قیام کے اسٹیٹس وغیرہ سے متعلق سوالات شامل ہوں گے۔

    یاد رہے گذشتہ روز مرادعلی شاہ نے امن و امان سے متعلق اجلاس میں کہا تھا کہ افغان صورتحال کےپیش نظر پولیس ضروری اقدامات کرے، ہم نے بڑی محنت سے صوبے خاص طور پر کراچی میں امن قائم کیا ، اب امن کو کسی صورت خراب کرنے کی اجازت نہیں دیں گے، اس کےلیے پولیس اپنا ہوم ورک کرے۔

    خیال رہے چند روز قبل ملک میں رہنے والے تارکین وطن کو8 سال بعد نادراکارڈ کے پراسیس کا آغاز کیا گیا ہے ، ذرائع نادرا کا کہنا تھا کہ 15 دن بعد پہلا نارا کارڈ پرنٹ ہو کر شہری کو مل جائے گا۔

    ذرائع نے بتایا تھا کہ کراچی کے تینوں میگاسینٹر میں نارا کارڈ پراسیس کیا جارہا ہے ، 8 سال بعد اورنگی کے رہائشی کا نادرا کے رجسٹریشن کارڈ کا پراسیس کیا گیا۔

  • جامعہ کراچی میں طلبا کی کورونا ویکسینیشن کا آغاز

    جامعہ کراچی میں طلبا کی کورونا ویکسینیشن کا آغاز

    وائس چانسلر جامعہ ڈاکٹر خالد عراقی اور ڈایریکٹر صحت ڈاکٹر اکرم سلطان نے جامعہ کراچی میں کورونا ویکسینیشن سینٹر کا افتتاح کردیا۔

    تفصیلات کے مطابق جامعہ کراچی میں کورونا ویکسینیشن کاآغاز کردیا گیا، وائس چانسلر جامعہ ڈاکٹر خالد عراقی اور ڈایریکٹر صحت ڈاکٹر اکرم سلطان نے ویکیسشن سینٹر کاآفتتاح کیا۔

    اس موقع پر وائس چانسلر جامعہ ڈاکٹر خالد عراقی نے سندھ حکومت اور ڈاکٹر اکرم سلطان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا ہمارا ایک ویکسینیشن سینٹر اسٹاف کے لئے ہے، اب طلبا کی ویکسینیشن کا بھی آغاز کررہے ہیں ، ہماری کوشش ہے کہ اس بارے میں آگاہی دی جائے

    ڈائریکٹرہیلتھ ڈاکٹر اکرم سلطان نے بتایا کہ سندھ اور کراچی کے لوگوں جو مبارکباد دیتا ہوں ، کراچی یونیورسٹی ایک بہترین یونیورسٹی ہے ، یہاں ایک صحتمندانہ ماحول ہے ، مارننگ شفٹ میں دو ٹیمیں کام کریں گی، شام کی شفٹ میں ایک ٹیم کام کرے گی۔

    ڈاکٹر اکرم سلطان کا کہنا تھا کہ اگر ضرورت پڑی تو موبائل ویکسینیشن کا بھی آغاز کریں گے ، پردے کا مسئلہ ہوتا ہے اس لئے ہر ٹیم میں ایک خاتون بھی ہوں گی ، ہم سو فیصد ویکسنیشن چاہتے ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ وزیر صحت عذرا پیچوہو کی خصوصی ہدایت پر یہاں آیا ہوں ، کوشش ہے کہ تمام سرکاری اور نجی جامعات میں ویکسینیشن سینٹر بنائے جائیں۔

  • کراچی کے ساحل پر پھنسے بحری جہاز کو نکالنے میں پھر ناکامی، آپریشن آئندہ ماہ تک ملتوی

    کراچی کے ساحل پر پھنسے بحری جہاز کو نکالنے میں پھر ناکامی، آپریشن آئندہ ماہ تک ملتوی

    سی ویو پر پھنسے بحری جہاز کو نکالنے کا آپریشن آج پھر ناکام ہوگیا ، جس کے بعد آپریشن آئندہ ماہ تک ملتوی کردیا گیا ، سمندری موجوں کی صورت حال دیکھتے ہوئے حتمی تاریخ دی جائے گی۔

    تفصیلات کے مطابق کراچی کے ساحل پر پھنسے بحری جہاز کو نکالنے کیلئے آج آپریشن کا آغاز کیا گیا تاہم اپریشن ناتجربہ کاری اور ناقص رسیوں کے سبب ایک بار پھر مشکلات کا شکار ہوگیا۔

    تیسرے آپریشن کے چوتھے اور آخری روز بھی لوہے اور پولی پراپلین کی پرانی رسیاں ٹوٹ گئی، اس دوران جہاز کے سینٹر پوائنٹ دائیں اور بائیں جانب سے دو رسے باندھے گئے تھے جبکہ جہاز کی ٹیل پر ایک رسہ سپورٹ کے لئے باندھا گیا تھا، جو ٹوٹ گیا۔

    آپریشن کے دوران جہاز کو 12 سے 15 میٹرکھینچا گیا تاہم رسیاں ٹوٹنے پر واپس اپنی پہلی پوزیشن پرآگیا، جس کے بعد سی ویو پر پھسے بحری جہاز کو نکالنے کا اپریشن اگلےماہ تک ملتوی کردیا گیا۔

    ملتوی آپریشن 6 یا 8 ستمبر سے شروع ہونےکاامکان ہے تاہم سمندری موجوں کی صورت حال دیکھتے ہوئے حتمی تاریخ دی جائے گی۔

    خیال رہے ڈی جی پورٹ پورٹ اینڈ شپنگ پہلے ہی جہاز نکالنے کی عمل پر تحففظا ت کا اظہار کر چکے ہیں ، ہینگ ٹینگ 77کو ساحل پر پھنسے ایک ماہ 4 دن کا وقت گزرگیاہے ، متعلقہ انتظامیہ کی جانب سے مسلسل جہاز نکالنے کی کوششیں جاری ہے تاہم ابھی تک کامیابی حاصل نہ ہوسکی۔

  • آزادی ،تحریر:ارم شہزادی

    آزادی ،تحریر:ارم شہزادی

    لفظ آزادی بے پناہ وسعت رکھتا ہے اور آزادی کی تعریف زمانہ قدیم سے لے کر زمانہ جدید تک مختلف افکار کے مطابق مختلف رہی۔ آزادی کہتے کسے ہیں؟ آج کا یہ اہم موضوع ہونا چاہیئے تھا لیکن بدقسمتی سے اس پر اس طرح کام نہیں ہورہا جس کی وجہ سے معاشرہ بجائے محفوظ ہونے کے انتشار کا شکار ہے۔ کیا آزادی کا مطلب مدر پدر آزادی ہے؟ کیا آزادی دین سے بیزاری کا نام ہے؟ کیا آزادی کا مطلب اپنے مقاصد کے حصول کے لیے کسی کی جان مال کو غصب کرنے کا نام ہے یا پھر آزادی معاشرے میں رہتے ہوئے جیو اور جینے دو کی پالیسی کا نام ہے؟ ہم مسلمان ہیں اور بحثیت مسلم ہمارے ہاں آزادی کا تصور زرا مختلف ہے لیکن یہاں دیکھیں گے کہ مغرب آزادی کی تعریف کیسے کرتا ہے؟ اسکے قدیم اور جدید مفکرین کیسے بیان کرتےہیں؟
    ہیگل مغربی مفکرین میں ایک اہم نام سمجھا جاتا ہے۔ وہ آزادی کے متعلق لکھتا ہے "دنیا کی تاریخ سوائےاس امر کے اور کسی واقعہ سے بھرپور نہیں کہ انسان ارتقائی لحاظ آزادی کے تحفظ میں مسلسل کوشش جاری رکھی اور وہ آج تک تحفظ آزادی کے لیے سرکرداں ہے، البتہ آزادی کی نوعیت میں فرق ضرور پڑتا رہا ہے۔ کبھی یہ آزادی زاتی نوعیت کی رہی کبھی مجموعی نوعیت کی، کبھی شخصی حکومت کی آزادی کا تحفظ رہا ہے، کبھی جمہوری طرز کا بچاؤ ہوتا رہا ہے۔ بہرحال حقوق کے تحفظ کی آزادی کی بنا پر تاریخ ارتقائی مراحل طے کرتی رہی ہے۔ جہاں تک مشرقی اقوام کا تعلق ہے انکے زہن میں انفرادی آزادی، سماجی آزادی کے علاوہ روحانی آزادی بھی سمائی رہی ہے۔” ہیگل کے نزدیک فرد کی آذادی کی ضامن صرف ریاست ہے ۔اگر فرد کو ریاست کی پشت پناہی حاصل نا ہو تو فرد کی آزادی کیا اسکی جان مال کو بھی خطرہ ہے۔اسکا مطلب ہیگل انسان کی انفرادی آزادی کے ساتھ اسکی قومی آزادی کا خواہاں ہے۔اسکے نزدیک انفرادی آزادی کا راز رائج الوقت قوانین کی اطاعت اور اپنے حقوق کی اسانی سے جڑا ہے۔ ایسے حقوق جن کی بنیاد خوش اخلاقی پر قائم ہو۔اخلاقی قدروں کے تقاضے کے مطابق اگر کوئی فرد کچھ وقت کے لیے ریاست کے دوسرے حصے یا دوسری ریاست چلا جاتا ہے تو بھی اپنی ریاست کے قوانین کی پاسداری اسکے فرائض میں ہے۔ اگر وہ ایسا کرتا ہے تو دوسری ریاست بھی اسکی عزت کرےگی اسکے وقار میں اضافہ ہوگا۔ کیا اجکل ایسا ہورہا ہے؟ کیا آزادی کا یہ کانسیپٹ متصادم نہیں ہے موجودہ دور کے لفظ آزادی کی تشریح میں؟ ایک اور مغربی مفکر ہےفشے (Fachte) کا کہنا بھی یہی ہے کہ دنیا کے مختلف حصوں میں مختلف ریاستوں میں رہنے والے لوگوں کے مزاج اطوار مختلف ہیں اور اس اختلاف نے انفرادی آزادی کی مختلف اقسام کو جنم دیا۔اور اسی لیے دنیا میں ثقافت کے بھی کہئ رنگ ہوتے ہیں۔جو بالآخر افراد کی نفسیات، خیالات، اور مطمع ہائے نظر پر اثر انداز ہوتے ہیں۔فرد بنیادی طور پر اطاعت کے لیے پیدا ہوا ہے چاہے یہ اطاعت ریاست کی ہو، یا مقتدر اعلیٰ کی، اخلاقی نوعیت کی ہو یا روحانی۔ ہرفرد کو اطاعت شعار ہونا پڑتا ہے، لیکن اس اطاعت کے باوجود اسکے کچھ حقوق ہیں، ان حقوق کا آسانی سے حاصل ہوجانا آزادی کی دلیل ہے۔کسی بھی فرد کو حقوق اس وقت تک حاصل نہیں ہوسکتے جب تک اسکا تعلق براہ راست کسی ریاست سے نہیں ہوتا۔

    ایک اور مفکر جان سٹورٹ مل ہے ۔اسکا نظریہ آزادی تھوڑا مختلف ہے ہیگ اور فشے سے یہ شخصی آزادی کو اہمیت زیادہ دیتا ہے ریاست کے اختیارات محدود کرتا ہے یہ کہتا ہے کہ ریاست اس وقت دخل دے سکتی ہے جب کسی دوسرے کے مفاد عامہ کو نقصان ہو۔ ورنہ شخص جہاں چاہے جائے جو مرضی کرے کسی کو حق نہیں کہ وہ اسکی آزادی کو سلب کرے اگر یہ بات مان لی جائے تو بات وہی ہے جو اس سے پہلے والے مفکرین کر چکے کہ آزادی کا مطلب دوسروں کو روند دینے کا نہیں بلکہ اخلاقی اقدار اپناتے ہوئے معاشرے میں امن قائم کرنا ہے۔ مل ایک قدم اگے ضرور بڑھتا ہے وہ خواتین. کی آزادی کو بھی شامل کرتا ہے۔ وہ خواتین کو تمام حقوق مردوں کے برابر نا سہی لیکن کچھ حقوق ضرور ملنے چاہیئں۔ مل کا خیال ہے فرد کو نجی ملکیت کا حق ہونا چاہیئے کیونکہ نجی املاک افرادمعاشرہ کی نشوونما میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔

    ٹامس ہل گرین آزادی کا مداح ہے لیکن ساتھ وہ اس حقیقت کو بھی تسلیم کرتا ہے کہ آزادی کا مطلب یہ نہیں کہ فرد کے جو دل میں آئے وہی کرتا پھرے چاہے اس سے دوسرے کو نقصان ہی کیوں نا پہنچے بلکہ وہ آزادی کو کی حد مقرر کرنے پر زور دیتا ہے۔آزادی اسی وقت تک مستحسن ہوسکتی ہے جب وہ کسی دوسرے کے نقصان کا موجب نا بنے۔ اسک کہنا ہے کہ آزادی کا مطلب. معاشرے کی فلاح ہے ناکہ مزاحمت۔ ایک اور مفکر ہر برٹ اسپنسر ہے کا کہنا ہے۔”ہرایک انسان اپنی مرضی اور عمل میں ازاد ہے، بشرطیکہ وہ دوسرے انسانوں کی آزادی پر دست درازی نا کرے جو اسی کی طرح انہیں حاصل ہے۔”ان تمام مفکرین کی اراء میں بھی کہیں ازادی کا مطلب دوسروں کو تہس نہس کرنا نہیں بلکہ آزادی کوریاست کے تابع کرنا ہے دوسروں کی آزادی کا اتنا ہی خیال رکھنا ہے جتنا کہ اپنی آزادی پھر یہاں کیوں لوگ چند دنیوی فائدے کے لیے ملکی اقدار کو داؤ پے لگا دیتے ہیں کیسے وہ اسائلم کے لیے یا روپے پیسے کے لیے ملکی اداروں کی ساکھ داؤ پے لگا دیتے ہیں؟ ریاست زمہ دار ہے اپکی تو کیوں اسکے خلاف برسرپیکار ہیں؟ اپنی ریاست یا اپنا ملک اپکی پہچان ہے اسکے نام کو وقار کو داؤ پے لگاؤگے تو عزت خود بھی کہیں نہیں پاؤگے۔ شخصی آزادی یا اجتماعی آزادی ہو ریاست سے وفاداری کا تقاضا کرتی ہے۔ اللہ پاک ہمیں ہمارے ملک کے ساتھ وفادار رہنے کی توفیق عطاء فرمائے۔ امین
    جزاک اللہ
    تحریر تحقیق ارم رائے

  • پاکستان پر معاشی جنگ مسلط اور ریاست کے اقدامات .تحریر: امان الرحمٰن

    پاکستان پر معاشی جنگ مسلط اور ریاست کے اقدامات .تحریر: امان الرحمٰن

    ففتھ جنریشن وار میں انوائرنمٹ یعنی کہ ماحول اور جتنی بھی اُس سے متعلق جزیات ہیں یہ سب اِ س نہ نظر آنے والی جنگ کا بہت بڑا حصہ ہوتی ہیں، مثلاَ اگر کسی فرقہ کے خلاف نفرت پائی جاتی ہے تو اُس نفرت کو استعمال کر کے دُشمن اپنا کام نکالتا ہے اِسی طرح اگر کسی کیلئے کسی کی محبت پائی جاتی ہے تو محبت کو استعمال کر کہ اپنا کام کیا جاتا ہے۔
    ہائبرڈ وار فیئر میں دشمن ملک کی معیشت کو گرانا بھی ایک ہتھیار ہےجیسے اِس وقت پاکستان میں دن بہ دن بڑھتی مہنگائی جس طرح کنٹرول سے باہر ہوتی نظر آرہی ہے ، ایسی حالت میں موجودہ حکومت کو ایک وقت میں کئی محاذ پر مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہاہے ۔

    ہر سرکاری اِدارے کا نظام متاثر ہوتا ہے ، عوام میں غصہ، بے یقینی بڑھتی ہے حکومت پر اعتماد کم ہونے کے ساتھ ساتھ موجودہ حکومت کیلئے ہمدردی کی بجائے مخالفت پیدا ہو رہی ہے ، یہ معاشی جنگ انتہائی خطرناک ہے اور اِس وقت پاکستان جیسے ہی افغانستان کی بدلتی صورتحال اچھے سے سنبھالنے کے ساتھ اپنی مغربی سرحدوں کو محفوظ بنا رہا ہے ۔
    ساتھ ملک کی معاشی صورتحال کو خراب کرنے والےدشمن پاکستان پر مسلط معاشی جنگ کو تیز کرتے نظر آرہے ہیں ایسے حالات میں حکومت کو چاہئے کہ اپنی عوام میں آگہی کے ساتھ مکمل لائحہ عمل ترتیب دیتے ہوئے وزیرِ اطلات کی ذمہ داری لگائے میڈیا پر جس طرح پبلک سروس میسیج دیا جاتا ہے بالکُل اُسی طرح اپنی عوام کو بتائے کے ہم حالتِ جنگ میں ہیں اور اِس جنگ میں کیا کیا مشکلات آسکتی ہیں اور ہمیں کیسے اِن آنے والی مشکلات کا مقابلہ کرنا ہے ،

    یہ صرف سوشل میڈیا پر ٹرینڈز چلانے سے عام آدمی پر کوئی اثر نہیں پڑنے والا ، وزیراعظم جناب عمران خان صاحب کو گراؤنڈ کے حالات بتانے والے اُنہی کے وزیر اور مشیر ہی ہیں ناں۔۔۔! جو پہلے اُنہیں دو خاندانی سیاسی پارٹیوں میں سے پی ٹی آئی میں شامل ہوئے ہیں تو کیا تحریکِ انصاف اِن کرپٹ سیاسی رہنماؤں کو صاف سُتھرا بنانے کی لانڈری ہے ؟ جبکہ عمران خان صاحب کو علم ہے مگر جیسا کے کئی بار وہ اپنی لاتعداد تقاریر میں خُود بھی کہہ چُکے ہیں مجھے معلوم ہے کون کیا کر رہا ہے مگر نظام خراب ہے ، تو وزیرِاعظم صاحب یہی صحیح وقت ہے ایکشن لینے کا اور عوام کو تیار کرنے کا کے آپ22 کروڑ لوگوں کو حقائق سے اگاہ کریں ، آپ کی ٹویٹ 22کروڑ لوگ نہیں دیکھتے وہ کیا سمجھیں گے پاکستان پر معاشی جنگ مسلط ہے ، یہ بات عام پاکستانی تک پہنچانا بہت ضروری ہے ، پچھلی 3 سالہ کارکردگی میں عوام کو ترقیاتی کام نظر نہیں آئیں گے اُنہیں نظر آئے گا تو گھی، چینی، دال، آٹا ، یہ مہنگائی یہ معاشی جنگ کا شکار پاکستانی کیا جانے پاکستانی کرنسی کیوں گری کیسے گری ، اسٹیٹ بینک ڈالر کیوں گرنے دے رہا ہے ایک عام پاکستانی جو ریڑھی چلاتا ہے روزانہ دھاڑی کر کے شام کو گھر جاتا ہے اُسے کیسے بتائیں گے کہ ہم معاشی جنگ کا سامنا کر رہے ہیں کس وجہ سے یہ مہنگائی ہو رہی ہے۔؟ نہیں ایسے نہیں آپ کو اِس معاشی جنگ کو شکست دینے کیلئے ایک اور حل بھی ہے مگر اُس کے لئے بہت بڑا جگر چاہئے بلکہ یوں کہا جائے کے تاریخ رقم کرنا ہوگی آپ کو ایک مثال قائم کرنا ہوگی اور وہ دیکھا جائے تو مشکل بھی نہیں لیکن اُس کے لئے آپ کو ایک دلیر ٹیم درکار ہے جو کہ آپ کے پاس اِس وقت ساتھ نہیں ۔ اور وہ ہے آپ کا معاشی نظام آج اگر آپ اپنی تجارت ڈالر کی بجائے سونے میں کریں تو آپ چند دنوں میں اپنی معیشت بہتر کر سکتے ہیں لیکن ایسا کرنے کے لئے آپ کے ساتھ ساتھ آپ کی ٹیم کا ہر ممبر ایک سوچ ایک نظریئے کا مالک ہو تب ممکن ہو سکتا ہے اِس کہ علاوہ اور کوئی حل نظر نہیں آتا آپ لاکھ چین، ترکی، ایران، سعودی عرب ، کا بلاک بناتے رہیں دشمن آپ کو اسلحے سے نہیں اِس وقت معیشت کی مار ،ماررہا ہے اور اِس کے لئے دفاعی حکمتِ عملی کے ساتھ مستند اور جری ،دلیر رہنماؤں کی ضرورت ہے جو آپ کی ٹیم میں دور دور تک نظر نہیں آرہے،

    تو بجائے اِس کے کہ آپ اِن ویزروں مشیروں سے پلان بناتے بگاڑتے رہیں آپ عوام کے درمیان آئیں اپنے ویڈیو کلپ بنائیں خاص طور پر مہنگائی کی وجہ بتائیں اگاہی مہم چلائیں نوجوان آپ کے ساتھ ہیں آپ یہ مہم چلانے کے ساتھ ساتھ اِس نظام کی خرابی بھی بتائیں اِس لنگڑے لولے جمہوری نظام میں اب دم خم نہیں یہ نظام ہائبرڈ وار فیئر اور ففتھ جنریشن وار جیسی نہ نظر آنے والی جنگوں کا مقابلہ نہیں کر سکتا اِس میں کمزوریاں ہیں جو دشمن کو فائدہ اور اِس ملک کو مسلسل نقصان پہنچا رہی ہیں ۔
    اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو آمین
    پاکستان زندہ باد
    @A2Khizar

  • شوہر کی خدمت کرنا بیوی کی ذمہ داری نہیں، نادیہ حسین

    شوہر کی خدمت کرنا بیوی کی ذمہ داری نہیں، نادیہ حسین

    معروف پاکستانی اداکارہ و ماڈل نادیہ حسین کا کہنا ہے کہ شوہر کی خدمت کرنا بیوی کی ذمہ داری نہیں ہے۔نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے ماڈل نادیہ حسین نے کہا کہ ہمارے معاشرے میں عورت پر والدین کی مرضی سے شادی کرنے کے لیے دباؤ ڈالا جاتا ہے، شادی اور طلاق کا حق صرف عورت کے پاس ہونا چاہیے۔
    نادیہ حسین نے کہا کہ بحیثیت ایک بیٹی میرے حقوق ہیں، مجھے گاڑی چلانے اور تعلیم حاصل کرنے کا حق ہے اور اپنی مرضی سے شادی کرنے کا بھی حق ہے۔ اگر عورت کی شادی اس کی مرضی سے نہیں ہوتی تو یہ بڑا مسئلہ ہے تاہم یہ الگ بات ہے کہ عورت شادی کا اختیار خود والدین کو دے، میں اس کے خلاف نہیں ہوں۔پروگرام میں میزبان نے پوچھا کہ کیا آپ گھر میں اپنے شوہر کے لیے کام کرتی ہیں اس پر نادیہ حسین نے جواب دیا کہ مجھے ایسا کیوں کرنا چاہیے، وہ میرا بچہ نہیں میرے شوہر ہیں۔
    اداکارہ سے پوچھا گیا کہ اگر شوہر کھانا اور پانی لانے کا کہے تو یہ کیسا ہی اس پر نادیہ حسین نے جواب دیا کہ یہ بالکل درست ہے لیکن بیوی کو حکم دینے کہ شوہر کی خدمت کرے، یہ غلط ہے، شادی کے بعد کام کرنے میں عورت کا اپنا حق نہیں رہتا وہ شوہر کے حق پر انحصار کرتا ہے۔نادیہ حسین نے یہ بھی کہا کہ ہمارے معاشرے میں ایک باپ اپنے بچوں کو مناسب وقت نہیں دیتا جو کہ بہت غلط ہے، باپ کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کے ساتھ زیادہ سے زیادہ وقت گزارے کیونکہ جتنا اہم کردار ماں کا ہوتا ہے اتنا ہی باپ کا بھی ہے۔

  • مفتاح اسماعیل کے بعد استعفوں کی لائن لگ گئی

    مفتاح اسماعیل کے بعد استعفوں کی لائن لگ گئی

    پاکستان مسلم لیگ(ن)سندھ کے جنرل سیکرٹری اورسابق وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل پارٹی عہدے سے مستعفی ہوگئے تھے جس کے بعد استعفوں کی لائن لگ گئی ہے۔میڈیا رپورٹ کے مطابق مفتاح اسماعیل سے اظہارِ یکجہتی کے لیے ن لیگ کے 9 عہدیدار مستعفی ہو گئے۔چار استعفے آنے کے بعد اب تک مستعفی ہونے والوں کی تعداد 9 ہو گئی ہے۔
    مفتاح اسماعیل سے اظہارِ یکجہتی کے لیے وائس چئیرمین عبدالطیف نیازی عہدے سے مستعفی ہو گئے۔جنرل سیکرٹری ضلع غربی سردار محمد نذیر نے بھی استعفیٰ دےد یا۔صدر ڈسٹرکٹ کیماڑی ظہر جہانگیر مستعفی ہو گئے جبکہ ایڈیشنل سیکرٹری کیماڑی راجہ عمران بھی مستعفی ہو گئے۔اس سے قبل ن لیگ کے پانچ رہنما مستعفی ہو چکے تھے .
    واضح رہے کہ مفتاح اسماعیل جو کہ مسلم لیگ ن سندھ کے جنرل سیکرٹری ہیں، نے پارٹی قیادت سے ناراض ہو کر خود پارٹی عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔

    ذرائع نے بتایا کہ مفتاح اسماعیل نے کارساز ہاؤس میں ہنگامہ آرائی کے خلاف ایکشن نہ لینے اور کوئی کارروائی نہ کرنے پر پارٹی عہدہ چھوڑا۔ اعلیٰ قیادت کو اپنا استعفیٰ بھجوا کر مفتاح اسماعیل نے پیغام دیا کہ بدمعاش ٹولے کے ہوتے ہوئے کراچی میں کام کرنا بہت مشکل ہے۔ واضح رہے کہ گذشتہ ماہ کنٹونمنٹ انتخابات کے ٹکٹ پیسوں کے عوض تقسیم کرنے پر کارکنان نے ہنگامہ آرائی کی تھی جب کہ شہباز شریف نے ہنگامہ آرائی کے واقعے کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل دی تھی۔
    مفتاح اسماعیل کے اس فیصلے پر رد عمل دیتے ہوئے میر صوبہ خان بھنگر کراچی نے کہا کہ مفتاح اسماعیل صاحب کا یہ فیصلہ کافی حد تک درست ہے۔ اگر ایسے گروپ بندی چلتی رہی تو مسلم لیگ ن کو مزید نقصان ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ اُمید ہے کہ اعلٰی قیادت فورأ نوٹس لے گی اور پوری نئی باڈی کا اعلان کرے گی۔ مسلم لیگ ن کے رہنما اور سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کے پارٹی عہدے سے استعفے کے بعد نئی بحث چھڑ گئی ہے کہ آیا یہ استعفیٰ بیانیے کی جنگ کی وجہ سے دیا گیا ہے یا پھر وجہ کچھ اور ہے تاہم مفتاح اسماعیل کی جانب سے تاحال اس حوالے سے کوئی حتمی بیان سامنے نہیں آ سکا۔